Jump to content
URDU FUN CLUB

Recommended Posts

چراغِ دِل۔۔۔

ایک کہانی دو انجان روحوں کے میل کی۔۔۔

دو کردار۔۔۔دو پہلو۔۔۔ ایک خواب۔۔۔۔ ایک حقیقت ۔۔۔

دیکھتے ہیں آخر کیا انجام ہوتا ہے اس کہانی کا۔۔۔

تعارف کرداروں کا: مومنہ امیر باپ کی بیٹی جس کے پاس ہر قسم کی آسائش موجود ہے پڑھی لکھی سیر و سیاحت کی شوقین دو بھائیوں کی اکلوتی بہن۔۔۔

ولی: ایک غریب لڑکا عجیب و غریب خواب و خیال کا مالک جو اکثر خوابوں کی دُنیا میں مگن رہتا تھا۔۔۔

مومنہ: مومنہ کا کافی دنوں سے دل کر رہا تھا کہ وہ لانگ ڈرائیو کو جائے مگر اُسے کچھ سُجھائی نہیں دے رہا تھا کہ کہاں جائے اور کچھ موسم بھی بارشوں کے تھے تو وہ انتظار میں تھی کہ کب موسم صاف ہوں اور وہ سیر و سیاحت کا پروگرام بنائے۔۔۔

ولی: اپنے کام میں مگن دن بھر کام کرتا اور شام کو تنہائی میں اپنے چھوٹے سے کمرے میں ایک چراغ روشن کر کے بیٹھا رہتا جہاں اُس کو ڈسٹرب کرنے والا کوئی نہیں ہوتا تھا۔۔۔ بس ذکر اذکار اور تصوروں کی دنیا میں رہتا تھا۔۔۔ کچھ دنوں سے ولی کو کچھ ایسے خواب و خیال نظر آ رہے تھے جو اسے بڑے عجیب سے محسوس ہو رہے تھے۔۔۔

مومنہ: آخر کار موسم بدل ہی گیا اور اُس نے کچھ سامان گاڑی میں رکھا جائے سفر کے لیے (پوچھنے والا روکنے والا کوئی تھا نہیں سب امریکہ میں ہوتے ہیں بس مومنہ ایک موسم کے لیے آ جاتی تھی اپنے مُلک۔۔۔ ) گھر کی ملازمہ کو کہا کہ وہ شام تک آ جائے گی واپس۔۔۔

کافی دیر وہ ڈرائیونگ سے مستفید ہوتی رہی بالآخر اُس نے کار کو ایک سائیڈ پر چھوٹی سی چٹان کے پاس پارک کیا۔۔۔ دن کا آخری پہر چل رہا تھا اُس نے کیمرہ ہاتھ میں تھاما اور ڈھلتے سورج کے دلکش مناظر کو کیچ کرنے لگی۔۔۔

کبھی جھاڑیوں کی اوٹ سے کبھی چھوٹی چھوٹی چٹانوں کی بیچوں بیچ مٹی کے ڈھیلوں سے منظروں کو کیمرے کی آنکھ میں قید کر رہی تھی۔۔۔ اُسی چہل قدمی میں وہ کار سے کافی دور نکل گئی تھی۔۔۔

اچانک اُس کی نظر ایک شخص پر پڑی جو ایک درخت کے نیچے ٹیک لگائے بیٹھا ہوا تھا اُس کو عجیب سا تاثر محسوس ہوا وہ اُس طرف چل دی قریب پہنچی دیکھا وہ آنکھیں بند کیے یاد میں محو تھا۔۔۔

ولی:پیروں کی آواز جو سوکھے تنکوں کی وجہ سے بڑھ چکی تُو اُس کی آنکھ کھل گئی۔۔۔ولی نے نظر اُٹھا کر دیکھا تو ایک لڑکی اُس کے پاس کھڑی اور تصویر بنا رہی تھی۔۔۔

مومنہ: جیسے ہی اُس نے دیکھا کہ اس کی آنکھ کھل گئی ہے تو وہ گھبرا سی گئی اور پیچھے کو ہٹی۔۔

ولی: گھبراؤ نہیں کون ہو تم؟

مومنہ: میرا نام مومنہ ہے آپ کو یہاں سُدھ بُدھ بیٹھے دیکھا تو بڑا عجیب سا محفوظ ہوا مجھے تو تصویر لینے آ گئی۔۔

ولی: مسکرا کر مومنہ کی طرف دیکھا اور کہا کہ کوئی بات نہیں۔

مومنہ: آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ایسے بیٹھے ویران جگہ پر؟

ولی: اِدھر اُدھر دیکھتے خاموش نظر کے ساتھ۔۔۔ اچھا تم یہاں کیا کر رہی ہو؟

مومنہ: میں ان خوبصورت مناظر کو کیمرے کی آنکھ میں قید کر رہی ہوں۔۔

ولی: مسکرا دیا اور کہا میں بھی یہی کر رہا ہوں قدرت کے ان رنگوں کو مَن کی آنکھ سے قید کر رہا ہوں اور حمد و ثنا کر رہا ہوں مالک کی۔۔۔

مومنہ: مومنہ کو یہ بات بڑی عجیب سی لگی اور ہلکا سا مسکرا دی اور کہا کہ سَر میں چلتی ہوں۔۔۔

ولی: ولی نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔

مومنہ: مومنہ وہاں سے چل دی واپس کار کی طرف سورج غروب ہو رہا تھا وہ واپس کار میں پہنچی کمیرہ پیچھے کی سیٹ پر رکھا اور کار یوٹرن لے لی اور واپس چل پڑی۔۔او یہ کیا تھوڑی ہی دیر چلی کے گاڑی خراب ہوگئی۔۔ مومنہ گھبراہٹ کے عالم میں کہ اس کو اب کیا ہوگیا۔۔ وہ گاڑی سے اتری اور گاڑی کو چیک کرنے لگی۔۔

اچانک مومنہ کو محسوس ہوا کہ اُس کے پیچھے جو جھاڑی ہے وہاں کوئی ہے جو اُسے دیکھ رہا۔۔۔ مومنہ نے یکدم منہ پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔۔۔ پھر وہ گاڑی سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگی مگر پھر اس کے خیال میں آیا کوئی ہے مگر دیکھنے پر کوئی نہیں۔۔۔ ایسا تین چار بار ہوا تو مومنہ گھبرا کر گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی اور ڈور لاک کر دئیے اور ٹک ٹکی باندھے دیکھتی رہی۔۔۔

ولی: جب سورج غروب ہو چکا تو ولی بھی اُٹھا اور اونچی اونچی آواز سے ذکر کرتا چل پڑا ڈھیلوں اور جھاڑیوں کے بیچ سے وہ اتنی بلند آواز سے ذکر کر رہا تھا کہ آس پاس کی چٹانیں اور جھاڑیاں بھی سُن رہی تھی وہ اپنی یاد میں مگن ہاتھ میں ایک چھڑی پکڑے چل رہا ہے۔۔۔

مومنہ: مومنہ جو خوف کے عالم سے دوچار ہوچکی تھی اچانک اُس کی نظر دائیں طرف سے نمودار ہوتے ولی پر پڑی۔۔ وہ اوچھل کر گاڑی سے باہر آئی اور زور سے آواز دی سَر۔۔۔

ولی : ولی ذکر میں محو جارہا تھا مگر مومنہ کی آواز نے روک لیا اُس نے دیکھا کہ گاڑی کے پاس وہی لڑکی کھڑی ہے جو اُس کے پاس آئی تھی۔۔۔ وہ مومنہ کی طرف گیا

مومنہ: مومنہ کو تھوڑی سی ہمت ملی تھی اس کے آنے سے۔۔۔ مومنہ تیزی سے بول پڑی میری گاڑی خراب ہوگئی ہے اور مجھے بہت خوف بھی محسوس ہو رہا ہے اور ایسے لگ رہا ہے وہاں کوئی ہے۔۔۔

ولی: ولی نے مومنہ کی بات سُنی اور خاموش رہا جھاڑی کی طرف دیکھا اور کہا کہ تم ایسے ہی ڈر رہی ہو وہاں کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔ اور گاڑی کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔ جہاں تم کھڑی ہو یہ ایک کچا دیہاتی راستہ ہے یہاں تو شام کے بعد کوئی گزرتا بھی نہیں ہے کہ کسی کی مدد لی جا سکے۔۔۔

مومنہ: یہ سننے کے بعد اور پریشان ہوگئی اور اُس کے منہ سے بس اتنا نکلا کہ اب میں کیا کرونگی۔۔۔

ولی: پڑھ چکا تھا اس کے چہرے کے تاثر کو اور بولا کہ تم کو اچھا لگے تو میرے ساتھ چلو میرا مکان یہاں پاس ہی ہے۔۔۔

مومنہ: ہچکچاتے ہوئے ڈر سے بولی گھر پہنچنا بہت ضروری ہے اور انجان جگہ انجان راہ میں انجان شخص کے ساتھ ۔۔ اس کے دل میں بے شمار وہم اور خیال جنم لے رہے تھے۔۔۔

ولی: خاموش رہاکچھ دیر پھر بولا اندھیرا بڑھ رہا ہے اور سردی بھی مزید بڑھ رہی دور دور تک کوئی مدد کی امید نہیں۔۔۔ میرے ساتھ چلو صبح دیکھیں گے کسی کو کوئی مدد مل جائے تو۔۔

مومنہ: اب کوئی چارہ بھی نہیں تھا سوائے اس کے کہ وہ اس انجان شخص کے ساتھ چل پڑتی۔۔۔ اس نے گاڑی لاک کی اور اس کے پیچھے پیچھے چل دی۔۔۔ کچھ دور تک چلے کہ سامنے ایک ہی کمرے کا مکان تھا۔۔۔

ولی: ولی نے لکڑی کا دروازہ کھولا اور اندر چلا گیا مومنہ کو آواز دی آ جاؤ تم بھی۔۔ولی نے چراغ جلائے اور آتش دان میں لکڑیاں رکھ کر آگ جلا دی۔۔۔ کمرہ روشن ہو چکا۔۔۔

مومنہ: یہ سب انہماک طریقے سے دیکھ رہی سب۔۔ ڈری بھی سہمی بھی۔۔۔۔آخر کچھ بھی ہے انجان جگہ انجان شخص۔۔۔

ولی: ولی نے لکڑی کا صندوق کھولا اس میں موٹا کمبل تھا جو اس نے آدھا دھری پر بچھا دیا اور مومنہ سے سےبولا اس پر بیٹھ جاؤں اور آدھے سے خود کو ڈھانپ لو۔۔۔

مومنہ: خاموش زبان کے ساتھ صرف اتنا بول سکی کی جی۔۔

ولی: میں کچھ کھانے کا بندوبست کرتا ہوں وہ بھی ضروری۔۔۔ ولی نے ایک چھوٹا سا باکس کھولا وہاں سے ایک کیتلی نکالی پانی سے بھرا سبز پتی کے کچھ پتے ڈالے چینی ڈالی اور آگ کی ایک سائیڈ پر رکھ دی۔۔

پھر لوہے کی ایک بڑی پلیٹ نکالی اور آگ پر رکھ دی۔۔ ایک پیالے میں آٹا پڑا ہوا تھا اس کے دو پیڑے بنا کر روٹی پکا لی اور کچھ سبزیوں کا مکس صالن تھا گرم کر لیا۔۔

مومنہ: مومنہ یہ سب اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھ رہی تھی ہوتا اسے سب عجیب سا لگ رہا تھا وہ چٹ پٹی چیزیں کھانے کی شوقین تھی بس۔۔۔

ولی: ولی نے روٹی اور صالن چھوٹے سے لکڑی کے تختے پر رکھا اور مومنہ کے پاس لے آیا ساتھ میں گھڑا پانی کا تھا اور مٹی کا پیالہ۔۔۔ سب مومنہ کے پاس رکھ کر بیٹھ گیا اور بولا تم کو تو ان سب کی عادت نہیں ہوگی مگر اس غریب کی کُٹیا میں اس سے بہتر کچھ نہیں ہے۔۔۔ ایک روٹی ولی نے مومنہ کی طرف بڑھائی

مومنہ: پہلا نوالہ منہ میں ڈالتے ہی مسرورکن لذت محسوس کرنے لگی اور مزے سے چبھانے لگی۔۔ مومنہ بولی مزے دار ہے اور کھانے لگ گئی۔۔۔

ولی : مسکرا کر دیکھ رہا تھا سب اور خود بھی کھا رہا تھا۔۔۔ کھانے فارغ ہوگئے ولی نے برتن اُٹھا لیے۔۔۔ دو پیالیوں میں قہوہ ڈالا اور مومنہ کے پاس رکھ دیا اور خود برتن صاف کرنے کے لیے باہر نکل گیا۔۔

مومنہ: خاموش آنکھوں سے پورے کمرے کو دیکھ رہی اور ایسی زندگی کو دیکھ رہی جس کا کبھی اس نے تصور تک نہیں کیا تھا۔۔۔

ولی: کمرے میں داخل ہوا برتن بکسے میں رکھے پیالہ پکڑ کر آتش دان کے قریب بیٹھ گیا۔۔ ولی بولا یہ اس غریب کی کُٹیا ہے جہاں اس کا سارا جہاں بسا ہوا ہے۔۔۔ آج پہلی بار کوئی باہر کا اس گھر میں مہمان بسا ہے۔۔۔

مومنہ: آپ کو اس ویرانے سے ڈر نہیں لگتا؟

ولی: ویرانہ دراصل اصل میں انسان کے اندر موجود ہوتا ہے جب اندر آباد ہو تو باہر کا ویرانہ حسین لگتا ہے۔۔۔

مومنہ: مومنہ کو یہ بات بڑی عجیب سی محسوس ہوئی مگر وہ خاموش رہی کچھ نہ بولی۔۔۔

ولی: تم اسی کمبل میں سو جانا ہے تو عجیب مگر تم کو راحت سے نیند آئے گی۔۔۔

مومنہ: اور آپ؟

ولی: میں یہ آتش دان کے پاس آرام کرونگا۔۔۔

مومنہ: آپ کو بھی تکلیف ہی ہوئی میری وجہ سے اور اورسہمے ہوئے دل کے ساتھ لیٹ گئی۔۔ عجیب و غریب خیالات میں پتہ ہی نہیں چلا کب آنکھ لگ گئی۔۔۔

ولی: آتش دان کے پاس بیٹھا دل سے اپنے رب کو یاد کرنے میں محو ہوگیا۔۔۔ اس کے وجود کے ایک ایک پور سے اللہ کی صدا گونج رہی تھی۔۔۔

ولی کو محسوس ہوا کہ جیسے کمرے کے باہر کوئی ہے۔۔۔ وہ اُٹھ کھڑا ہوا اور باہر گیا۔۔۔ اس نے دیکھا کہ باہر کوئی بھی نہیں مگر ایک احساس تھا کہ کوئی تو ہے۔۔ اُس نے نےایک صدا لگائی۔۔۔ اللہ کے حکم سے بول رہا ہوں جو بھی یہاں موجود ہے ظاہر ہو۔۔۔

اچانک ایک ہیولہ سا ظاہر ہوا اور جن کی شکل نمودار ہوئی۔۔۔

ولی بولا کون ہو ہوتم کیا کر رہے ہو یہاں ؟

جن: میں اقتباش ہوں اور میں اس لڑکی سے بدلہ لینے آیا ہوں۔۔۔

ولی: کیسا بدلہ کس چیز کا بدلہ اس نے کیا کیا تمہارے ساتھ؟

جن: وہ وہاں ڈھیلوں کے پاس تھی وہاں اس نے ایک ڈھیلے پر پاؤں رکھا جو ٹوٹ کر نیچے گرا اور ہمارا گھر تباہ ہوگیا

ولی: اِس میں لڑکی کا کوئی قصور نہیں وہ بے گناہ ہے

جن: میں تو بدلا لوں گا میرے بچے میری بیوی تھے انہیں کچھ ہو جاتا تو؟

ولی: کیا لڑکی نے دیکھا تھا تمہارے گھر کو؟

جن: نہیں

ولی: کیا وہ جانتی تھی؟

جن: نہیں

ولی: یہ ایک پردہ ہے انسان و جنات کے درمیاں یہ پردہ پڑا ہی رہے تو بہتر ہے۔۔

جن: میں تو بدلا لینے آیا ہوں بدلہ ہی لونگا۔۔

ولی: میں پیار سے بول رہا ہوں کہ چلے جاؤ تمہاری بیوی اور بچے انتظار میں ہیں تم ایک اچھے جن ہو اچھا بنو بُرے نہیں۔۔۔ گھر بنانا مشکل نہیں مگر بُرے بن کر جینا مشکل ہے۔۔۔

جن: اس بات سے قائل ہوتے ہوئے خاموش ہوگیا پھر بولا دوبارہ وہ اِدھر آ کر ایسا نہ کرے۔۔۔

ولی: ٹھیک ہے وہ نہیں آئے گی اب اُس کا پیچھا نہیں کرنا۔۔۔جن چلا گیا۔۔۔

مومنہ: آواز سن کر اُٹھ چکی تھی وہ صرف ولی کی آواز سُن رہی تھی کہ وہ کسی سے بات کر رہا ہے بات اسی کی ہو رہی ہے اور وہ ڈھیلا بھی یاد آگیا اُس کو جس کو خوشی خوشی سے ٹھوکر ماری تھی۔۔۔ وہ اور پریشان کہ یہ باتیں اس کو مارنے اور بچانے کی ہو رہیں تھیں۔۔۔

ولی: دروازہ کھولتا ہے تو سامنے مومنہ سوالیہ نظروں کے ساتھ ولی کو دیکھ رہی ہے۔۔۔

مومنہ: کس سے باتیں کر رہے تھے کون تھا وہ کون ہو تم؟

ولی: مسکرا دیا کوئی نہیں تھا تم سو جاؤ۔۔

مومنہ: میں سب سن چکی ہوں۔۔

ولی: اک نظر اُٹھا کر دیکھتا ہے۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ تاکہ یہ گناہ جاریہ نہ بنے ۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر سے بھی شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین بھی ہو سکتا ہے۔ ڈیٹا شیئر کرنے والہ ممبراس بات کا عملی اقرار کرے گا کہ وہ بروز قیامت فورم انتظامیہ، سٹوری رائیٹر اور فورم ایڈمن کے تمام گناہوں کا اکلوتا وارث ہو گا ۔ اور بروز قیامت اپنی تمام نیکیاں (جو بھی اس کے نامہ اعمال میں ہوئیں ) بروز قیامت مجھے دینے کا پابند ہو گا۔ اگر کوئی ممبر اب بھی ایسا کرتا ہے اور گناہ جاریہ کا سبب بنتا ہے ۔ تو اس شرط کو ایگری کرتے ہوئے شیئر کر سکتا ہے ۔ فورم کو اس ایگری منٹ پر اجازت دینے میں کوئی اعتراض نہیں ۔ ایڈمن اردو فن کلب

چراغِ دل: پارٹ 2

ولی: ایک نظر اُٹھا کر مومنہ کو دیکھتا ہے اور خاموش رہتا ہے کچھ نہیں کہتا،

مومنہ: پھر تذبذب سے پوچھتی ہے پلیز مجھے بتائیں کون تھا وہ جس سے آپ بات کر رہے تھے؟

ولی: آتش دان کے قریب بیٹھ کر مومنہ کو اشارہ کرتا ہے یہاں آؤ آگ کے پاس بیٹھو،

مومنہ: مومنہ اپنی جگہ سے اُٹھتی ہے اور آتش دان کے پاس ولی کے پاس بیٹھ جاتی ہے،

ولی: تم جب وہاں ٹیلوں کے پاس تصویریں بنا رہی تھی وہاں ایک حادثہ ہوا تم بے خبر ہو اُس سے مگر جنات کا نقصان ہوا۔۔ بس انہی میں سے ایک جن بدلہ لینے آیا تھا۔۔ تو اُسی سے تکرار کر رہا تھا۔۔۔

مومنہ: حیرت سے ولی کو دیکھ رہی تھی اور جن کا سُن کر سہم سی گئی ایسے جیسے کسی معصوم سی گُڑیا کو کسی کونے میں بیٹھا دیا جائے،

ولی: خاموشی سے مومنہ کو دیکھ رہا تھا

مومنہ: دھیمی سی آواز سے بولی، اب اب میرا کیا ہوگا؟ کیا وہ مجھے تنگ نہیں کرے گا

ولی: نہیں وہ تم کو تنگ نہیں کرے گا میری اُس سے بات ہو چکی۔۔۔ بس اب تم دوبارہ کبھی اُس جگہ نا جانا کہ جانے انجانے میں پھر کچھ ہو نا جائے۔۔۔

مومنہ: جی ٹھیک ہے مگر آپ کیسے بات کر لیتے ہیں؟ کیا آپ کو ڈر نہیں لگتا ان سے؟

ولی: ہلکی سی مسکراہٹ لب پر سجا کر بولتا ہے، یہ تو ہمیں بھی نہیں پتہ کہ ہم کیسے کر لیتے بات یا کیوں ڈر نہیں لگتا۔

مومنہ: کچھ تو ہے پلیز کیا آپ مجھے نہیں بتا سکتے کیا؟

ولی: بتانے والی کوئی چیز ہے نہیں بس اللہ کر ذکر کرتے ہیں اُسی ذکر کا یہ دوام ہے۔۔۔ خُود کو اس قدر ذکر میں ضم کر دو کے آپ کا اپنا وجود ہی نہ رہے۔۔۔ یہ کہہ کر ولی خاموش ہو گیا۔۔۔

مومنہ: کیا میں بھی اللہ کو یاد کر سکتی ہوں؟

ولی: سب کو چاہیے کہ اُس کو یاد کریں کبھی غفلت میں نہ پڑیں۔۔۔

مومنہ: میں مشکور ہوں آپ کی کہ آپ نے میری مدد کی۔۔۔

ولی: شکر اُس ذات کا جو اپنے بندوں کو پابند کرتا ہے مخلوق کی مدد کے لیے۔۔

اب تم سو جاؤ آرام کرو۔۔

مومنہ: اُٹھی اور اپنی جگہ پر جا کر لیٹ گئی مگر اب کے نیند اُس سے بہت دور تھی۔۔

ولی: ولی واپس آنکھیں بند کیے دھیان باندھ کر بیٹھ گیا اور ذکر میں محو ہو گیا۔۔

مومنہ: اب ولی کو ہی دیکھ رہی تھی اور سوچوں میں گُم سی سو گئی

صبح ہو چکی تھی۔۔۔

مومنہ: آنکھ بیدار ہوئی دیکھا تو سامنے ولی نہیں تھا وہ اُٹھی اور خود کو سیٹ کر کے باہر نکلی تو دیکھا ولی آگ جلائے ہوئے باہر بیٹھا ہے اور کچھ پکا رہا ہے۔۔۔

ولی: اُٹھ گئی تم؟ کیسی گزری رات؟

مومنہ: جو اب بالکل مطمین تھی ولی کے پاس کھڑی ہو کر بولی بہت اچھی گزری، آپ یہ کیا بنا رہے ہیں؟

ولی: کیتلی سے ڈھکن اُٹھاتے ہوئے قہوہ بنا رہا ہوں ٹھنڈے وجود کو گرمی دیتا ہے اور معدے کو تقویت۔۔

مومنہ: جی اچھی بات ہے،

دونوں نے قہوہ پیتے کافی باتیں کی۔۔۔

ولی: چلیں ابھی آپ کی کار کا کچھ کرتے ہیں

مومنہ: جی ٹھیک ہے

وہ دونوں کار کی طرف چل دئیے گاڑی کے پاس پہنچ کر۔

مومنہ: میں ایک بار دیکھتی ہوں سٹارٹ کر کے شاید کچھ ہو جائے۔۔۔ مومنہ گاڑی میں بیٹھی سوئچ آن کیا گاڑی سٹارٹ ہو گئی مومنہ کی حیرت کبھی آئے کبھی جائے۔۔۔

وہ گاڑی کے باہر آئی اور بولی سَر گاڑی تو بالکل ٹھیک ہے پتہ نہیں رات کو کیا ہو گیا تھا اس کو۔۔۔

ولی: مسکرایا اور گاڑی کو دیکھ کر بولا ہر چیز کسی مقصد کے تحت ہوتی ہے۔۔اب تم جلدی سے گھر جاؤ،

مومنہ: مسکراتے ہوئے جی سَر، ہاں میں چلتی ہوں کافی پریشان ہو چکی یہ سفر میری زندگی کا ایک خطرناک سفر رہا۔۔۔

مومنہ اللہ حافظ بول کر گاڑی میں بیٹھ جاتی ہے

ولی: مسکراتے ہوئے اسے اللہ حافظ کہتا ہے اور مومنہ کو الوداع کر دیتا ہے۔۔۔۔

مومنہ: سارے راستہ میں پچھلے دن کا اور گزشتہ رات کا سوچ سوچ کر کبھی مسکراتی ہے اور کبھی اُداس ہو جاتی ہے۔۔۔ اسی حال میں اُسے پتہ ہی نہیں چلتا کب گھر پہنچ گئی۔۔۔

ملازمہ: بیٹا آپ کہاں تھیں رات کو میں اتنی پریشان رہی ہوں کہ ساری رات نہیں سو سکی۔۔۔

مومنہ: بس اتنے بولتے ہوئے کسی کا فون تو نہیں آیا تھا بھائی ممی پاپا کا؟

ملازمہ: بیٹا نہیں کسی کا فون نہیں آیا تھا، ملازمہ پھر پوچھتے ہوئے بیٹا مگر تم تھی کہاں؟ یہ تو بتاؤ

مومنہ: آنٹی کیا بتاؤں بہت بُری پھنس گئی تھی میں گاڑی خراب ہوگئی اور ہوئی بھی ایسی جگہ جہاں نا تو کوئی آنے جانے والا نہ سروس تھی۔۔۔

ملازمہ: اہ اللہ تیرا شکر تُو نے با حفاظت بیٹی کو واپس گھر پہنچا دیا۔۔

مومنہ: خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی گئی

کچھ دن تک مومنہ ایسے ہی چپ چاپ رہتی اور سوچوں میں گُم رہتی رہی۔۔

کہ آخر یہ سچ ہے سب کہ ایک خواب تھا اُس کا؟ کیا سچ میں ولی کسی جن سے باتیں کر رہا تھا یا مجھ سے جھوٹ بولا گیا؟ اگر ایسا کچھ ہے تو ولی نے کیسے کیا یہ سب؟ کیونکر کیا؟ یا اس کے پیچھے اُس کا کوئی مقصد تو نہیں؟

یہ کچھ سوالات تھے جو اندر ہی اندر اُسے بے چین کیے جا رہے تھے۔

مومنہ: ایک دن اُس کا دل کیا کہ وہ دوبارہ وہاں جائے اور ولی سے مل کر آئے۔۔۔ اُس نے گاڑی نکالی اور نکل پڑی اُسی راہ پر۔۔۔

کچھ ہی دیر بعد وہ وہاں پہنچ گئی جہاں ولی رہتا تھا۔ اُس نے گاڑی سڑک کے ایک سائیڈ پر کھڑی کی اور پیدل ہی وہاں پہنچ گئی۔۔

وہاں پہنچ کر مومنہ کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ وہاں تو کوئی گھر ہی نہیں ہے۔۔ بلکہ مکان کا نام و نشان تک نہیں وہاں۔۔۔

مومنہ اس قدر خوفزدہ اور حیرتوں میں گُم ہوگئی اور بُڑبُڑانے لگی کہ یہ گھر کہاں گیا ولی کا بھی کوئی اتہ پتہ نہیں۔۔۔

مومنہ اس حیرت میں گُم کے اُس دن وہ یہاں ایک رات رہ کر گئی ہے وہ جگہ کو ہاتھوں سے ٹٹول رہی تھی اور بار بار خُود کو یقین دِلا رہی تھی کہ وہ کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہی۔۔

مومنہ: یا یہ خواب ہے یا پہلے خواب تھا کہ کیسے بندہ اچانک گُم ہو جائے۔۔۔

مومنہ وہاں سے گاڑی کی طرف آئی اور گاڑی کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔۔۔وہ انتظار میں تھی کہ کوئی اِدھر سے گزرے تو پوچھ سکوں کہ یہاں کوئی مکان تھا کہاں گیا۔۔۔ مگر کوئی اُس کو نظر نہیں آیا۔۔

پھر اچانک مومنہ کے ذہن میں وہ جن والی بات اور وہ جگہ یاد آگئی جہاں کا ذکر ولی اور جن کی گفتگو میں تھا۔۔

ولی نے منع بھی کیا تھا کہ وہاں دوبارہ نہیں جانا، یہ بات بھی مومنہ کے دل میں آ رہی تھی مگر اُسے یہ پریشانی بھی تھی کہ آخر یہ ماجرہ کیا ہے؟

مومنہ نے اپنے اندر بہت زیادہ طاقت سمیٹی اور اُس طرف چل دی جہاں جن کے ساتھ حادثہ پیش آیا تھا۔۔

اُن ٹیلوں کے قریب پہنچ کر مومنہ اونچی اونچی آوازیں لگانے لگی کوئی ہے یہاں اگر کوئی ہے تو میری بات سُنے، مگر ہر طرف سُناٹا تھا اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔۔

مومنہ رونے لگ گئی او میرے خُدایا یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ کچھ دن پہلے یہاں سب تھا آج کوئی بھی نہیں ہے یہ کیا کھیل ہے میرے ساتھ۔۔

دن ڈھل رہا تھا شام کے سائے بڑھ رہے تھے مومنہ نے پھر دُہائی دی کہ کوئی ہے تو میری آواز کا جواب دے۔۔۔

اچانک ایک زور دار آواز گونجی، جس نے لرزہ طاری کر دیا ماحول پر " میں نے کہا بھی تھا کہ یہ لڑکی دوبارہ اِدھر نہ آئے پھر تُم کیوں آئی ہو یہاں؟"

یہ اقتباش جن کی آواز تھی۔۔

مومنہ: جو آواز کے ساتھ بالکل ڈر چکی تھی۔۔ سہمی سی آواز سے بولی، " ولی کہاں ہے"

جن: کون ولی؟

مومنہ: جس نے مجھے آپ سے بچایا تھا وہ ولی،

جن: اگر وہ کوئی انسان ہوتا تو بتا بھی دیتا مگرـــ

مومنہ: کیا مگر پھر کون تھا وہ؟

جن: وہ ایک روح تھی بس اُس کا وجود وہاں نہیں تھا ایک عکس تھا تمہارے ساتھ

مومنہ: نہیں یہ جھوٹ ہے وہ انسان ہی تھا۔۔۔

جاری ہے.......

Share this post


Link to post

چراغِ دل: پارٹ 3

مومنہ: مومنہ وہیں یہ بات سُن کر بیٹھ جاتی ہے ٹیلے کے پاس، اور خُود سے باتیں کرنی لگتی ہے، کہ اگر وہ انسان نہیں تھا تو پھر کون تھا، اُس کی آنکھوں کے سامنے ایک ایک سین گردش کر رہا تھا وہ وہاں سے اُٹھی تو اُس درخت کے پاس پہنچی جہاں ولی کو اُس نے پہلی بار دیکھا تھا،

مومنہ وہاں بیٹھ کر بھی سوچتی رہی پھر اچانک اُس کے ذہن میں آیا کہ اُس نے تو کیمرے سے ولی کی تصاویر کیچ کی تھیں۔

یہ خیال بجلی کی سی طرح اُس کے وجود میں حرکت کر گیا، اور وہ بھاگی گاڑی کی طرف گاڑی سٹارٹ کی اور سیدھا گھر،

ملازمہ: ملازمہ نے دروازہ گیٹ کھولا گھر کا،

مومنہ:؛ تیزی سے گاڑی سے اُتری

ملازمہ: پوچھتے ہوئے بیٹا آ گئی آپ؟

مومنہ: مومنہ نے کوئی توجہ نہ دی نا بات کا جواب دیا اور سیدھا بھاگتی ہوئی اپنے روم جا پہنچی،

تیزی تیزی سے کیمرہ ڈھونڈ کر اس میں کیچ تصویروں کو دیکھنے لگی۔۔۔

ملازمہ: مومنہ کی اس گھبراہٹ کو دیکھ کر وہ بھی پیچھے پیچھے کمرے میں پہنچ گئی اور پوچھنے لگی، بیٹا کیا ہوا آپ کو؟ اتنی پریشان کیوں ہیں؟

مومنہ تیزی تیزی سے کیمرے کی سکرین پر انگلیاں مار رہی تھی کہ اچانک اُس کی آنکھیں کُھلی کی کُھلی رہ گئی، کیونکہ جو تصویر اُس نے ولی کی بنائی تھی اُس میں سوائے درخت کے وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔۔

مومنہ: کے ہاتھ سے کیمرہ بیڈ پر گِر گیا اور خُود وہ سکتے کے عالم میں چلی گئی،

ملازمہ: پریشانی کے عالم میں مومنہ کو جھنجوڑتے ہوئے، میری بیٹی میری بچی ہو کیا گیا ہے تم کو پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا۔۔۔

مومنہ: مومنہ چُپ ساکت جیسے جان نہیں جسم میں اور آنکھوں سے بس دیوار کو گھورے جا رہی ہے۔۔

ملازمہ: مومنہ کو جھنجھوڑتے ہوئے سینے سے سر لگا لیتی ہے کیا ہو گیا میری بچی کو؟

مومنہ: اچانک ملازمہ کا کندھے ہلانے سے مومنہ ہوش میں آتی ہے اور کہتی ہے کچھ نہیں ہوا کیا ہونا ہے مجھے۔۔۔

ملازمہ: سوالیہ نظروں سے مومنہ کو دیکھ رہی ہے۔۔

مومنہ: مومنہ محسوس کر چکی تھی کہ اماں پریشان ہیں تو انہوں نے ہاتھ پکڑ کر پاس بیٹھا لیا اماں کو۔۔۔۔ (مومنہ ملازمہ کو اماں کہہ کر پکارتی تھی) اور بچوں کی طرح پوچھنے لگی کہ اماں کیا جن ہوتے ہیں؟

ملازمہ: ہاں بیٹا جِن ہوتے ہیں وہ بھی اللہ کی ایک مخلوق ہیں۔۔۔ پر کیوں پوچھ رہی ہو تم؟

مومنہ: اور کیا روح انسان کی شکل میں دیکھ سکتے ہم؟

ملازمہ: جی بیٹا یہ جو اللہ کے ولی ہوتے ہیں نہ یہ اختیار رکھتے ہیں اور مدد کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتے۔۔۔

مومنہ: گہری سانس بھرتے ہوئے، مگر وہ مطمئین نہیں ہو پارہی تھی نہ خُود سے نہ آج کے واقعہ سے نہ ہی گزشتہ واقع سے، باقی سارے دن اس کے نارمل گزر رہے تھے بس یہ دو واقعات اُس کی زندگی میں عجیب تھے۔۔

مومنہ: اس دن کے بعد اکثر خاموش رہنے لگ گئی جیسے اُس کی زندگی میں کوئی بدلاؤ آ گیا ہو،

ایک شب مومنہ ولی کو بے اختیار سوچنے پر مجبور ہو گئی، اُس شب وہ بس یہی سوچ رہی تھی کہ اُس نے ایک ہاتھ مجھ کو چُھوا بھی نہیں اور نہ مجھے غور سے دیکھا۔۔ آخر وہ ایک بارعب لڑکا تھا اور میں لڑکی تھی، مگر کہیں بھی ولی نے ایسا تاثر نہیں دیا کہ ایک لڑکی اس کے ساتھ ہے، اور اُس کا روٹی پکانا اور روٹی کا عجیب مزے دار ذائقہ۔۔۔

مومنہ ولی کی صورت کو ذہن میں پکا رہی تھی بار بار جھٹکنے پر بھی ولی کی تصویر اس کے ذہن پر سوار ہو جاتی تھی،

(شاید ولی بھی اُس کے دل پر چوٹ لگانا چاہتا تھا، مگر یہ کیسی چوٹ ہے جس میں درد نہیں ہے)

انہیں سوچوں میں گُم مومنہ کی آنکھ لگ جاتی ہے،

مومنہ خواب میں دیکھتی ہے کہ وہ اپنے گھر کے صحن میں بیٹھی ہوئی ہے کہ اُس کو ولی نظر آتا ہے وہ دیکھتی ہے کہ ولی اُس کی طرف ہی آرہا ہے اور اس سے بات کرتا ہے،

ولی: ولی مسکراتے ہوئے کہتا ہے مجھے کیوں یاد کر رہی ہو مجھے کیوں تلاش کر رہی ہو؟ ہواؤں کا وجود ہو کر بھی وہ نظر نہیں آتی آپ تلاش کرنا بھی چاہیں پا نہیں سکتے۔۔۔ مگر وہ ہر جگہ موجود بھی ہے،

مومنہ: میں جاننا چاہتی ہوں آپ کون ہیں، کیوں آئے ایسے؟

ولی: مسکرا کر مومنہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا، میں بھی تمہاری طرح اللہ کا ایک بندہ ہوں، مجھے نہیں پتہ میں کیوں آیا تھا یا بھیجا گیا تھا بس جو چیز مقدر میں ہونی ہو ہو کر رہتی۔ بس تمہاری حفاظت منظور تھی رب کو سو اُس نے مجھے ذریعہ بنا کر سامنے کھڑا کر دیا،

مومنہ: کیا رب مجھ سے اتنا پیار کرتا ہے؟

ولی: بہت زیادہ پیار کرتا ہے، تم اُس کی بہت پیاری، اچھی اور نیک بندی ہو،

مومنہ: ہلکا سا ہنستے ہوئے، میں اور نیک اور اچھی بندی رب کی۔۔۔ جس نے کبھی رب کو ایسے جانا ہی نہیں جیسے جاننے کا حق اُس کا، کبھی مانا نہیں جیسے ماننے کا حق اُس کا، میں گنہگار نافرمان ہوں۔۔۔ پیاری کیسے؟

ولی: مسکراتے ہوئے، یہ راز بھی ایک دن کُھل جائے گا وہ قادر ہے سب کچھ کرنے پر،

ولی بولا راز کے اندر راز ہے۔۔۔۔ اور غائب ہو گیا۔۔

مومنہ: اچانک مومنہ کی آنکھ کُھل گئی اور اُس کی زبان پر پہلا لفظ، "ولی" تھا

مومنہ نے اِدھر اُدھر دیکھا کوئی نہیں تھا اُٹھی اپنے بیڈ سے کھڑکی سے باہر جھانکا باہر بھی کوئی نہیں تھا، وہ واپس آکر بیڈ پر بیٹھ گئی، اور سوچنے لگی کیا میں اللہ کی نیک بندی ہوں؟ خود سے پوچھے خود سے جواب دے، کافی ٹائم گزر گیا اُس کے کان میں اذان کی آواز گونجی۔ اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

جیسے جیسے صدا مومنہ کے کان میں پڑ رہی تھی ویسے ویسے اُس کا دل عجیب سی کیفیت میں بدل رہا تھا، پہلی بار اُس نے اذان کو اتنے غور سے سُنا، جب موؤذن نے صدا دی، "لا الہ الا اللہ" تو مومنہ کے دل میں بات آئی کے ولی بھی تو یہی ذکر کر رہا تھا۔۔۔ وہ وہیں بیڈ پر بیٹھ گئی دو زانوں ہو کر اور ہلکی ہلکی آواز میں " لا الہ الا اللہ" لا الہ الا اللہ" کا ذکر کرنے لگ گئی، مومنہ کی زبان پر سرور اور دل میں ترنم پیدا ہو رہی تھی، اُسے سچ میں آج احساسِ بندگی ہو رہا تھا وہ جھوم جھوم کر ذکر کرنے لگ گئی اُسے احساس ہی نہیں ہوا کتنا وقت گزرا کب اماں اُس کے کمرے میں آ گئی،

ملازمہ: آواز سن کر مومنہ کے کمرے کی طرف آئی دروازہ کھول کر دیکھا تو مومنہ بیڈ کے سینٹر میں دو زانو ہو کر ذکر کر رہی ہے۔۔ ملازمہ نے پاس جا کر مومنہ کے کاندھے پر ہاتھ رکھا تو مومنہ ڈر سی گئی۔۔۔

مومنہ: آنکھیں کھولتے ہوئے اماں آپ؟

ملازمہ: بیٹا یہ تُجھ کو ہو کیا گیا ہے؟

مومنہ: خوشی سے اماں دیکھ نہیں رہی آپ کے ذکر کر رہی ہوں۔۔۔ اللہ کی اچھی بندی بن رہی ہوں،

ملازمہ: بیٹا بات تو ٹھیک ہے تیری مگر اچانک سے سب کچھ کیسے؟

مومنہ: اماں رب جب چاہے دل میں اپنی یاد ڈال دے، اچھا ابھی ہٹیں مجھے نماز پڑھنی ہے وضو کرنے دیں۔۔

ملازمہ: ٹھیک ہے بیٹا میں بھی پڑھ لوں جا کر۔۔۔

مومنہ: اُٹھی اچھے سے وضو کیا خود کو اچھے سے کور کر کے نماز کے لیے کھڑی ہوگئی، پہلے بھی مومنہ کبھی کبھی پڑھ لیتی تھی مگر اتنے اہتمام سے نہیں، لگتا تھا آج اور ہی روح مومنہ میں پروان چڑھ رہی ہے،

اُس نے خُوب اچھے سے نماز پڑھی پھر کچھ دیر بیٹھی رہی پھر دعا کی اور بیڈ پر آ کر لیٹ گئی۔۔۔

مومنہ رات کے خواب کے بارے میں سوچنا شروع ہو گئی، ولی کے آخری الفاظ " راز کے اندر راز ہے" اس کو سوچنے لگی، اور اپنے دل کے اندر پیدا ہوتے مُحبت کے جذبات کو محسوس کرنے لگی،

مومنہ یہ سوچ رہی تھی کہ یہ محبت کا احساس کس کے لیے ہے ولی کے لیے کہ ولی کے خُدا کے لیے؟

جاری ہے۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post

چراغِ دل: پارٹ 4

مومنہ: مومنہ کی زندگی میں ایک بدلاؤ آ رہا تھا جس کو وہ خُود تو محسوس نہیں کر رہی تھی مگر آس پاس والوں نے محسوس کر لیا کہ یہ لڑکی یکسر کیسے بدل گئی؟ـــ

ملازمہ: بیٹا تم پہلے سے کافی بدل گئی ہو؟

مومنہ: وہ کیسے اماں؟

ملازمہ: بیٹا پہلے تم گھومتی پھرتی تھی گھر میں بھی چپ کر کے نہیں بیٹھتی تھی ہر وقت کچھ نہ کچھ کرنے کی لگن کھانا پینا یہ تیرے شوق تھے۔۔۔۔ اب جب سے تم گھوم کر آئی ہو اپنے کمرے سے باہر ہی نہیں نکلتی ہو۔۔

مومنہ: اماں تھک گئی ہوں میں بھاگ بھاگ کر بول بول کر یہ ہَلا غُلا اب مجھے ایک الجھن سی محسوس ہوتی ہے۔۔ اب میں خود کو تنہا پا کر بہت سکون محسوس کرتی ہوں۔۔۔

ملازمہ: آہ میری بیٹی کو کچھ ہو تو نہیں گیا، اگر تمہارے ممی پاپا نے یکسر یہ بدلاؤ دیکھ لیا تو وہ پوچھیں گے نہیں کیا مجھ سے ؟ کہ کیا ہوا ہماری بیٹی کو خیال نہیں رکھا تم نے اس کا۔۔

مومنہ: اماں وہ کیوں پوچھیں گے کیا میں بُری بن رہی ہوں کہ اچھی۔۔۔ مجھے کسی سے عشق تو نہیں ہُوا جو جو ( مومنہ کی آواز مدھم سی ہوگئی عشق پر آ کر اور وہ گہری خاموشی میں جانے لگی سوچ کے ایک محور میں) مجھ سے کچھ کہیں گے۔۔۔

اس پر ملازمہ کو بھی حیرت ہوئی کہ عشق لفظ پر مومنہ کی زبان لڑکھڑا سی گئی تھی۔۔

ملازمہ: نا بیٹا نا یہ عشق و محبت کی بات نہ کرنا۔۔۔ یہ اُجاڑ دیتے ہیں۔۔۔۔

مومنہ: مومنہ کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا کیوں کے وہ ایک گہرا سُناٹا اپنے اندر محسوس کر رہی تھی۔۔۔ مگر پھر بھی اُس نے اماں کو جواب دیا۔۔۔۔ اماں عشق اور مجھے کبھی ہو نہیں سکتا۔۔۔

(ملازمہ اُٹھ کر باہر آگئی کھانے بنانے کا بول کر اور مومنہ اپنے بیڈ پر ہی ٹیک لگا کر کھڑکی کی طرف خاموشی سے دیکھنے لگی)

مومنہ: خود سے ہی باتیں کرنے لگی کیا سچ میں مجھے عشق ہوگیا ہے مگر کس سے؟ کس سے ہو سکتا ہے مجھے عشق؟ کیا خود سے؟ یا ولی سے؟ یا اللہ سے؟ آہ اُس نے ایک جھٹکا سا دیا سر کو اور اُٹھ کر باہر آگئی۔۔۔۔

(جیسے جیسے دن گزر رہے تھے مومنہ کی زندگی میں بدلاؤ آ رہا تھا وہ تنہا سے تنہا تر ہوتی جارہی تھی ”اُسے ولی کی ایک بات یاد آگئی کہ جب انسان کا اندر آباد ہو تو پھر اُسے تنہائیوں سے ڈر نہیں لگتا" کیا میرا اندر آباد ہو رہا ہے اُس نے گہری سانس لی اور خود کو محسوس کرنے لگی۔۔۔ ایسے ہی وہ خود کو سوچتے سوچتے گہری نیند میں چلی گئی)

مومنہ: ایک خواب مومنہ کو اپنی آغوش میں لینے کو تیار تھا۔۔ مومنہ دیکھ رہی ہے کہ ایک کمرہ ہے جس میں ہلکی ہلکی روشنی کی کرنیں پڑ رہی ہیں شاید یہ کُھلا کمرہ ہے جس پر صرف ایک چھت ہے اور ستون ہیں دیواریں نہیں ہیں ہلکی ہلکی روشنی کے ساتھ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا بھی چل رہا ہے اور وہ اس میں کھڑی دیکھ رہی ہے اِدھر اُدھر۔۔۔ اچانک اُس کے کان میں ایک آواز پڑتی ہے۔۔۔۔"مومنہ کیا ڈھونڈ رہی ہو؟"

یہ ولی کی آواز تھی مومنہ یکدم گھوم سی گئی۔۔۔

مومنہ: ولی آپ؟

ولی: جی میں، میں نے محسوس کیا تم کسی چیزکی تلاش میں ہو؟

مومنہ: مجھے نہیں پتہ میں کس تلاش میں ہوں؟

ولی: ہلکا سا مسکراتے ہوئے بولا " آؤ یہاں بیچ و بیچ بیٹھ جاؤ دو زانو ہو کر۔۔۔

مومنہ: اثبات میں سَر ہلاتے ہوئے بیٹھ گئی۔۔۔

ولی مومنہ کے اردگرد ٹہل رہا تھا اور بول رہا تھا۔۔

ولی: اپنی آنکھیں بند کر لو محسوس کرو تمہیں کچھ سنائی نہیں دے رہا۔۔۔

مومنہ: آنکھیں بند کر کے خاموشی کو خود میں سماتے ہوئے۔۔۔

ولی: گہری سانسیں لو۔۔۔

مومنہ: لمبی لمبی سانسیں بھرتے ہوئے۔۔

ولی: اب محسوس کرو تمہارے اندر تمہارے دل سے کوئی آواز آرہی ہے۔۔

مومنہ: گہری خاموشی میں اترتے ہوئے۔۔۔ ہاں دل کی دھک دھک کی تیز آواز اور یہ بڑھ رہی ہے۔۔۔

ولی: اور محسوس کرو کیا یہ آواز بڑھ رہی ہے اور گرمائش دے رہی۔۔۔

مومنہ: ہاں جیسے جلن سی ہو رہی

ولی: کیا دھک دھک اللہ ھو اللہ ھو میں نہیں بدل رہی۔۔

مومنہ: ہاں ایک سفید ہاتھ میرے سینے میں داخل ہوا ہے اور اس نے شہادت کی انگلی سے میرے دل کو چُھوا اور میرا دل اللہ ھو اللہ ھو کر رہا ہے۔۔۔

(ایک خاموشی کوئی جواب نہیں آ رہا آگے سے)

مومنہ نے آنکھیں کھول دیں دیکھا تو وہ اپنے بستر پر لیٹی ہوئی تھی ، اُس کی زبان پر ایک لفظ"ولی" پھر اچانک اُس کو محسوس ہوا کہ اُس کا دل زور زور سے ڈھڑک رہا ہے اور ایک تپش سی پیدا ہو رہی ہے دل میں، اُس نے آنکھیں بند کر کے محسوس کیا کہ اُس کے اندر سے اللہ ھو اللہ ھو کی آواز بلند ہو رہی ہے۔۔۔

مومنہ وہیں بیڈ پر دو زانوں ہو کر بیٹھ گئی اور آنکھیں بند کیے دل پر دھیان رکھ کر بس سنتی رہی۔۔

ایک ماہ ایسے ہی گزر گیا۔۔۔ اب مومنہ کی زبان پر کلمہ جاری رہتا اور دل میں اللہ اللہ کی صدا۔۔۔

وہ خود کو بہت خوش محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔ پھر ایک دن وہ اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی کہ باہر گیٹ پر گاڑی کے ہارن کی آواز آئی۔۔۔ ملازمہ نے گیٹ کھولا۔۔۔ مومنہ اپنے کمرے کی کھڑکی سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔گاڑی اندر پارک ہوئی تو گاڑی میں سے اُس کی کزن نِدا باہر نکلی۔۔۔۔ (نِدا مومنہ کی خالہ زاد کزن ہے) مومنہ نے دیکھا تو خوش ہوئی اور باہر کو نکلی روم سے۔۔۔

نِدا: ملازمہ سے آنٹی مومنہ کہاں ہے؟

مومنہ: دور سے آواز دیتے ہوئے، مومنہ کی جان مومنہ یہاں ہے۔۔۔( نِدا مومنہ کو دیکھتے ہی بھاگ کر مومنہ کے گلے سے لگ گئی اور گلے لگتے ہی گِلے شکوے بھی شروع)

نِدا: مومنہ یہ کیا بات ہوئی اس بار تم آئی اور ہمیں خبر ہی نہ دی۔۔ یہ کیسی بے وفائی ہے؟

مومنہ: نِدا کو سینے کے ساتھ زور سے دباتے ہوئے سوری یار اس دفعہ بتا نہ سکی تم کو۔۔۔

نِدا: الگ ہوتے ہوئے چلو کوئی نہیں یار اب باقی مانندہ دن تیرے اور میرے۔۔۔۔

مومنہ: نِدا کا ہاتھ پکڑ کر ڈرائنگ روم میں صوفے پر بیٹھتے ہوئے۔۔۔ اماں آپ کہتی تھی نہ کہ کوئی کھانا پینا نہیں کوئی ہلا غلا نہیں اب آپ نے تنگ آ جانا ہم سے۔۔۔۔

ملازمہ: بیٹا مجھے تو خوشی ہوئی کہ رونق لگی گھر میں۔۔ میں ابھی بیٹی کے لیے پانی لاتی ہوں۔۔

نِدا: مومنہ سے مخاطب ہوتے ہوئے۔۔۔ ویسے یار تم نے اتنے دن اکیلے میں گزارے یاد نہیں آئی تم کو ہماری۔۔۔۔ شرارتی انداز میں" یا پھر کسی اور کو یادوں میں بسا لیا ہے۔۔۔

مومنہ: مسکراتے ہوئے ندا کا ہاتھ پکڑ کر۔۔۔ لے میری جان کے علاوہ کوئی اور ہو سکتا جس کو یاد کروں۔۔۔

نِدا: اچھا جی اتنا پیار۔۔۔

مومنہ: کوئی شک۔۔۔

نِدا: ویسے مومنہ اتنے دن تم کیا کرتی رہی۔۔۔۔

مومنہ: بڑی لمبی کہانی ہے پھر کبھی سناؤں گی ابھی تم پانی پیو اور کمرے میں چلتے ہیں۔۔

مومنہ اور نِدا روم میں جاتے ہوئے۔۔۔ مومنہ نے نِدا کے ہاتھ زور سے پکڑے ہوئے تھے جو نِدا کو احساس دِلا رہے تھے کہ اس کی کزن دوست نے مِس کیا ہو اُس کو بہت، اور یہ تھا بھی سچ کیونکہ کوئی ایسا نہیں تھا جس کو مومنہ اپنے دل کی بات کہتی سوائے نِدا کے کیونکہ وہ دونوں کزن بھی تھیں اور بہت کلوز فرینڈ بھی۔۔۔۔

نِدا: مومنہ کے روم میں انٹر ہوتے ہی، اب بتاؤ کیا باتیں ہیں جو میری دوست کو اندر ہی اندر بے چین کر رہی ہیں۔۔

مومنہ: نِدا کی گود میں اُس نے اپنا سَر رکھ لیا اور اپنی سفر کی روداد نِدا کو سنانے لگی۔۔۔

ولی کو دیکھنا پھر جن والا حادثہ پھر ولی کا ملنا اور بچانا اس کا رات گزارنی وہاں۔۔۔۔ اور دوبارہ جانا اور وہاں کچھ بھی نہیں۔۔۔ یہ سب بتاتے بتاتے مومنہ کی آنکھیں بھر آئیں تھی۔۔۔

نِدا: حیرت سے مومنہ کو اُٹھا کر سامنے بٹھاتے ہوئے۔۔۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے ناممکن تم مذاق کر رہی ہو میرے ساتھ۔۔۔

مومنہ: مومنہ کی آنکھ سے ایک آنسو تیزی سے نکلتا ہوا۔۔۔ نہیں یار یہ سچ ہے۔

نِدا: مومنہ کے اُس آنسو کو اپنی انگلی پر لیتے ہوئے، ہاں تمہارا آنسو بتا رہا یہ سچ ہی ہے۔۔۔۔

یہی وجہ ہے کہ تم گُم سُم سی ہو کر پڑی رہی۔۔۔۔

مومنہ: ہاں اس واقعہ نے مجھے یکسر بدل کر رکھ دیا تھا۔۔۔ نہ میں کسی کو بتا سکتی تھی نا کوئی یقین کرتا مجھ پر۔۔

نِدا: مومنہ کو سینے سے لگاتے ہوئے اچھا سب ٹھیک ہو جائے گا کبھی کبھی تنہائی میں انسان اکثر ایسا ویسا سوچتا رہتا ہے۔۔۔ اب میں ہوں نا اب سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔

مومنہ: مسکراتے ہوئے نِدا کے سینے سے لگ گئی۔۔

نِدا بھی یہ سارہ واقعہ سُن کر حیران سی ہوگئی کہ کیسے کوئی انسان موجود ہو اور پھر غائب ہو سکتا ہے۔۔۔۔

کچھ دن دونوں نے ساتھ گزارے۔۔۔پھر نِدا نے مومنہ کو ساتھ لیا اور اپنے گھر کراچی لے آئی کہ اب تم یہاں رہو گی میرے ساتھ۔۔۔

اِس دوران مومنہ کو کبھی کبھی ہی ٹائم ملتا تو وہ ذکر کر لیتی یا پھر خاموش دل کی دھڑکنوں کو محسوس کرتی۔۔

ایک دن نِدا کی یونیورسٹی میں ایک فیسٹیول تھا۔۔ جس میں مُختلف اضلاع کے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ بھی شامل ہوئے تھے۔۔۔

نِدا: مومنہ کل تم میرے ساتھ یونی چلو گی وہاں فیسٹیول ہے بہت کچھ سُننے کو ملے گا۔۔۔۔ مختلف موضوعات پر تقریر بحث مباحثے ہوں گے۔۔۔ مزہ آئے گا۔۔

مومنہ: اثبات میں سَر ہلاتے ہوئے ٹھیک ہے۔۔

اگلی صبح نِدا اور مومنہ دونوں یونی پہنچ گئے۔۔۔ ہال میں بیٹھ کر کبھی مستفید ہوتے رہے کبھی بور۔۔۔ تقاریر مشاعرے اور مباحثے ہوتے رہے۔۔۔۔

پھر ایک کینڈیڈیٹ آیا۔۔۔۔ اُس کی تقریر کا موضوع تھا "خواب اور حقیقت”

جیسے ہی یہ الفاظ مومنہ کے کانوں میں پڑے۔۔۔۔ مومنہ چوکس سی ہو گئی۔۔۔۔

کینڈیڈیٹ: میرا نام وقار ہے اور میں آج آپ کو خواب اور خوابوں کی حقیقت پر اپنا نکتہءِ نظر پیش کرونگا۔۔۔ دراصل یہ خواب میرے نہیں میرے دوست "ولی" کے ہیں۔۔۔

ولی کا نام سُنتے ہی مومنہ پر سکتہ طاری ہو گیا اور نِدا بھی مومنہ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔مومنہ کو جیسے ہوش نہیں نِدا مومنہ کو مخاطب کرتے ہوئے مومنہ ہلکا سا منہ کو ہلاتے ہوئے۔۔

مومنہ: سکتے سے باہر آئی اور کہا۔۔ ہاں میں ٹھیک ہوں۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post

چراغِ دل: پارٹ 5

مومنہ: اپنی جگہ پر محتاط سی ہو کر بیٹھی رہی۔۔۔ نِدا بھی اسی کے پاس تھی۔۔

کینیڈیڈیٹ وقار: میرے دوست نے ایک دفعہ مجھے ایک خواب سُنایا۔۔۔ اُس نے کہا کہ ایک دن وہ سڑک کے کنارے کنارے چل رہا ہے وہاں ایک گاڑی ہے اُس میں ایک پوری فیملی پکنک منانے کے لیے جارہی تھی۔۔۔ ساری فیملی گاڑی کی دوسری طرف کھڑی تھی۔۔۔ ایک بچی جس کی عُمر کوئی 13 سال ہے وہ گاڑی کی اس طرف کھڑی ہے جِدھر روڈ ہے۔۔۔ ولی کہتا ہے اُسے ایک گاڑی روڈ پر تیزی سے اُس طرف آتی نظر آتی ہے وہ بھاگ کر بچی کے پاس جاتا ہے اور اُس کا ہاتھ پکڑ کر سائیڈ پر کر دیتا ہے۔۔

( مومنہ انہماک انداز میں سُن رہی ہے)

بچی آآآآآ ہی بس بول پاتی ہے۔۔ یعنی وہ گونگی تھی بول نہیں سکتی تھی۔۔۔ ولی کہتا ہے میں اُس بچی کے حلق میں انگلی ڈالتا ہوں اور ضرور سے اللہ کہتا ہوں اور آسمان کی طرف دیکھتا ہوں۔۔۔ کہ بچی کے حلق سے آواز نکلتی ہے۔۔ اور وہ چلاتی ہوئی اپنی فیملی کےپاس چلی جاتی ہے۔۔۔۔

اس خواب کو گزرے چند دن ہی ہوئے تھے کہ میں ولی کے ساتھ روڈ پر پیدل واک کر رہا تھا کہ ایک گاڑی ہمارے پاس سے گزری۔۔۔ تھوڑا آگے جا کر رُک گئی۔۔ اور اُس سے ایک بچی اُتری اور بھاگ کر ولی کی ٹانگوں سے لپٹ گئی۔۔۔۔ ولی اُسی جگہ پر بیٹھا اور بچی کے سر سے بوسہ لیا۔۔ اُس بچی کے ممی پاپا بھی باہر آچکے تھے۔۔۔

وہ بولے کہ ہماری بچی تم کو دیکھتے ہی شور مچانے لگ گئی تھی کہ پاپا ماما یہی ہے وہ۔۔۔ولی مسکرا دیا۔۔۔ آپ کی بچی کو غلط فہمی ہوئی ہے شاید کوئی۔۔۔۔

ولی یہ کہہ کر آگے چل دیا۔۔۔ میں نے پوچھا کیا یہ وہی بچی نہیں جو خواب تم نے سنایا تھا۔۔

ولی کی آنکھیں نم تھی بولا ہاں وہی بچی ہے۔۔

پر تم نے بتایا کیوں نہیں۔۔۔۔ ولی بولا کیا بتاتا۔۔۔۔ ہیں؟

وقار: یہ تھا میرے سامنے ولی کے خواب کی ایک حقیقت کا کُھلنا۔۔۔۔ دوسری حقیقت اُس وقت کُھلی جب ولی کی بھابی کو دل کا اٹیک ہوا اور وہ 3 دن تک آئی سی یو میں رہی۔۔۔۔

اس اٹیک کے بعد ولی نے پھر ایک خواب دیکھا: ولی کہتا تھا کہ وہ اپنے گھر گیا سامنے کمرے میں اس کی بھابی لیٹی ہوئی ہے۔۔۔ ولی اُس کے پاس جاتا ہے اور پوچھتا ہے کیسی ہیں آپ؟ ولی کی بھابی کہتی ہے سب نے میرا حال پوچھا پتہ لینے آئے بس ایک تم نہیں آئے۔۔۔۔ ولی مسکرایا اور جواب دیا۔۔۔ عیادت مریضوں کی کی جاتی ہے صحت مندوں کی نہیں اُٹھیے آپ بالکل ٹھیک ہیں وہ دیکھیں باہر بچے پریشان حال ہیں اُٹھو اُن کو تیار کرو کھانا کھلاؤ۔۔۔۔

وقار: ڈاکٹروں نے کچھ ٹیسٹ تجویز کیے ہوئے تھے ان کے لیے۔۔۔۔وہ گئے چیک اپ ہوا مگر یہ کیا تمام کی تمام روپورٹ بالکل کلیئر ہیں۔۔ ڈاکٹر بھی حیران کے یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کچھ دن پہلے ہی اٹیک ہوا تھا اور آج یہ کنڈیشن ہے کہ سب روپورٹ کلیئر ہیں دل کو کوئی مرض ہی نہیں۔۔۔۔

وقار: یہ تھی ولی کے خواب کی دوسری حقیقت جو ہم نے خود دیکھی۔۔۔

(مومنہ بڑے دھیان سے سُن رہی تھی سب)

اور بھی بہت سے خواب ہیں جو حقیقت بن کر آشکار ہوتے ہیں۔۔۔ بات لمبی ہو جاۓ گی اس لیے سمیٹ رہا ہوں مضمون کو اس پر کہ ایک خواب کی حقیقت کا بذاتِ خود بھی مجھے بے صبری سے انتظار ہے۔۔۔

ولی نے مجھ سے کہا تھا قدرت اپنے نظام کو حرکت دے گی اور تم ضرور اس خواب کی حقیقت کو بھی پاؤ گے۔۔۔

نِدا: نِدا سے نہ رہا گیا وہ ہال میں اپنی سیٹ سے اُٹھی اور بولی" اور وہ خواب کیا ہے؟

وقار: نِدا کی آواز سُن کر خاموش ہوتے ہوئے پھر بولا۔۔۔۔

وہ خواب ہے ایک لڑکی کو ایک جن سے بچانا خواب میں اور اُس لڑکی کا نام مومنہ ہے۔۔۔

یہ کچھ عرصہ پہلے ہی کا خواب ہے کہ کیسے وہ ایک جگہ موجود تھا وہاں یہ یہ واقع پیش آیا۔۔ وقار نے ساری کہانی سنائی۔۔۔

( یہ خواب کا ذکر مومنہ کے چہرے پر چمک لا رہا تھا اور نِدا کو پریشان کر رہا تھا اور وہ حیرتوں میں ڈھل رہی تھی۔۔۔ کہ مومنہ کی اور اس کی باتیں کس قدر مماثلت رکھتی ہیں۔۔۔)

وقار: میرا بات کرنے کا مقصد یہ تھا کہ کچھ لوگ سِرے سے ہی خوابوں کو بے جا مانتے ہیں اور کچھ اس کو جسمانی تھکاوٹ اور دباؤ کی وجہ بتاتے ہیں اور کچھ خوابوں کو با تعبیر مانتے ہیں مگر کچھ خواب ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی ایک حقیقت رکھتے ہیں۔۔۔

مومنہ: مومنہ بڑی بے صبری سے بولنا چاہ رہی تھی کہ ولی کے اس خواب کی حقیقت وہ ہے۔۔۔ مگر ایک ہیجان اُس کو روک رہا تھا۔۔ پھر اُس سے رہا نا گیا:

مومنہ اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔۔ اور بولی کے ولی کے اس خواب کی حقیقت میں ہوں مومنہ۔۔۔۔۔

مومنہ کی زبان سے یہ الفاظ نکلنا تھے کہ سب مومنہ کو دیکھنے لگ گئے۔۔۔

وقار: جو سٹیج پر کھڑا تھا بڑی بڑی آنکھیں کھول کر مومنہ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ اور ولی کے لفظوں پر غور کر رہا تھا کہ "قدرت اپنے نظام کو حرکت دےگی اور تم خود حقیقت کو دیکھو گے"

سارے ہال میں ایک سناٹا تھا۔۔۔

پھر کچھ دیر چہ مگوئیاں شروع ہو گئی کہ شاید یہ کوئی ڈرامہ ہے۔۔ یا بے وقوف بنایا جا رہا۔۔۔ وقار اپنی جگہ کھڑا حیرت کا باب بنا ہوا اور مومنہ اپنی جگہ کھڑی سب کے چہروں کو دیکھ رہی۔۔۔ نِدا خاموش مومنہ کے پاس کرسی پر بیٹھی اپنی سوچ میں گُم۔۔۔۔

اتنے میں ہال میں آگے سے ایک آواز آئی کہ ہم کیسے مان لیں کے یہ سب اس خواب کا ایک لنک ہے۔۔۔۔

ہال پر پھر ایک خاموشی طاری ہے۔۔۔

نِدا: اچانک نِدا اُٹھی اور بولی کہ ہاں یہ سچ ہے۔۔۔ ولی کا خواب اور میری کزن مومنہ کا واقعہ سچ میں ملتا جلتا ہے۔۔

ہال میں ایک تجسس بڑھ گیا اور کہا کہ کیا مومنہ اسٹیج پر آ کر اپنا واقعہ شئیر کر سکتی ہے،

مومنہ: اسٹیج کی طرف جاتے ہوئے ساتھ نِدا بھی چل پڑی۔

مومنہ: نے اپنی ساری کہانی امریکہ سے پاک آنے گھر سے وہاں سیر کو جانے تک ولی کو دیکھنا جن والا واقعہ اور گاڑی کا خراب ہونا پھر ولی اور جن کے معاملات اور وہ کمرہ۔۔ اور دوبارہ جا کر دیکھنا وہاں کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔

یہ سب وہ سُنا رہی اور اس کی آنکھ سے آنسو ٹپک پڑے۔۔۔۔

سارا ہال اُٹھ کھڑا ہوا اور وقار کے خواب اور حقیقت کے موضوع کو بہت پذیرائی ملی۔۔۔

نِدا: ندا وقار سے مخاطب ہوتے ہوئے کیا تمہارے پاس تمہارے دوست کی کوئی تصویر ہے؟

وقار: وقار اپنے موبائل کو نکالتے ہوئے جی باکل ہے اور گیلری سے ایک تصویر نکال کر دکھائی۔۔۔

مومنہ: مومنہ نے موبائل وقار سے پکڑ لیا اور تصویر کو دیکھنے لگ گئی اور بولی ہاں یہی تو ولی ہی ہے۔۔۔۔

اس فنکشن کے اختتام پر وقارکے موضوع کو سب سے بہترین پذیرائی ملی۔۔۔ جب کہ وہ خواب اس کے نہیں تھے مگر بیان کرنے کی بنا پر اُسے بیسٹ مضمون قرار دیا گیا۔۔۔

اور بہت سے طلبہ نے وقار سے ولی کو ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔۔۔۔

نِدا نے وقار سے فنکشن کے بعد ملنے کا کہا تو وقار نے کہا ٹھیک ہے۔۔۔

نِدا اور مومنہ کینٹین میں وقار کا انتظار کر رہی تھیں۔۔۔ کچھ دیر بعد وقار آیا اور اُن کے پاس بیٹھ گیا۔۔۔

وقار: حیرت سے مومنہ کو دیکھتےہوئے۔۔۔مجھے تو اب بھی یقین نہیں ہو رہا کہ آپ ولی کے خواب کی حقیقت ہیں۔۔

مومنہ: ہاں میں ہی ہوں۔۔

نِدا: ولی کیا کرتا ہے۔۔۔

وقار: وہ کھیتی باڑی کرتا ہے بس۔۔۔

نِدا: وہ ایسے کیسے کر لیتا ہے؟

وقار: اس کا جواب میرے پاس بھی نہیں ہے بس ولی کا یقین ہے کہ اُس کے خواب اللہ کی طرف سے ہی ہوتے ہیں۔۔۔ اِس میں اُس کا بھی کوئی عمل دخل نہیں ہے۔۔۔ بس اللہ ذریعہ بناتا ہے اپنے بندوں کو۔۔۔ وہ کوئی بھی ہو سکتا ہے۔۔

مومنہ: کیا میں ولی سے بات کر سکتی ہوں؟

وقار: جی کیوں نہیں میں ابھی کال کرتا ہوں۔۔۔ وقار ولی کو کال ملاتا ہے۔

ولی: کال اُٹھاتے ہوئے، السلام عليكم ورحمة الله جی وقار بھائی کیسے ہو؟

وقار: مجھے کیسا ہونا چاہیے تھا بالکل اچھا ہوں۔۔ کوئی تم سے بات کرنا چاہتا ہے،

ولی: کون ہے جو مجھ ناچیز سے بات کرنا چاہتا ہے۔

وقار: مومنہ کو موبائل پکڑاتے ہوئے۔۔۔خُود ہی پوچھ لو۔

ولی: جی اچھا

مومنہ: السلام عليكم ورحمة الله

ولی: وعلیکم السلام ورحمة الله

مومنہ: میں مومنہ بات کر رہی ہوں۔۔۔ دھیمے سے لہجے میں مومنہ بولتے ہوئے۔۔۔

ولی: ایک سوالیہ نشان چہرے پر سجائے ہوئے۔۔ کون مومنہ؟

مومنہ: وہی آپ کے خواب والی مومنہ

ولی: وقار کی ایک شرارت سمجھتے ہوئے۔۔۔ وقار باز نہیں آئے گا میری ٹانگ کھینچنے کے لیے ڈرامہ کر رہا میرے ساتھ۔۔۔

مومنہ: نہیں ایسا کچھ نہیں ہے میں سچ میں مومنہ بات کر رہی ہوں۔۔

ولی: یہ ممکن نہیں ہو سکتا۔۔۔

مومنہ: کیا آپ نے مجھ سے خواب میں پوچھا نہیں تھا۔۔ مومنہ کیا تلاش کر رہی ہو؟

ولی: تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد، ہاں "اور یہ وہ حصہ تھا جس کا ابھی وقار کو بھی علم نہیں تھا کیونکہ وہ یونی چلا گیا تھا"

مومنہ: ہیلو

ولی: جی جی سُن رہا ہوں اور حیرت میں بھی کہ ایک اور خواب حقیقت بن کر سامنے آ گیا۔۔۔کیسی ہیں آپ مومنہ؟

مومنہ: میں ٹھیک ہوں یہ سب کیا ہے؟

ولی: اللہ کی قدرت اور کچھ نہیں۔۔

مومنہ: کیسی ہے یہ اُس کی قدرت؟ آپ کا خواب میری حقیقت کیسے بن سکتا؟

ولی: اللہ جو چاہے کر سکتا ہے وہ قادر ہے سب کچھ کرنے پر۔۔۔

مومنہ: خاموش رہتے ہوئے۔۔۔۔

مدہم سی آواز میں۔۔۔ جی

ولی: کیا آپ محسوس نہیں کر رہیں خُدا کی قدرت کو؟

مومنہ: جی کر رہی ہوں بہت قریب سے محسوس۔۔۔

ولی: ہر راز کے اندر ایک راز ہے۔۔۔

مومنہ: جی دیکھ رہی ہوں۔۔میں آپ سے رابطہ میں رہنا چاہتی ہوں کیا یہ ممکن ہے؟

ولی: ہمارا رابطہ ہے۔۔ کبھی ٹوٹا نہیں۔۔۔

مومنہ: موبائل پر یا حقیقت میں مل سکتے۔۔۔

ولی: تمہاری تو حقیقت ہی ہے خواب تو میں ہوں۔۔۔ پھر بھی ہم ضرور ملیں گے اگر قدرت نے چاہا تو۔۔

مومنہ: اجازت لیتے ہوئے موبائل وقار کو پکڑا دیا۔۔۔

وقار: دوست میں تم سے بعد میں بات کرونگا ابھی واپس جانا ہم کو۔۔۔ کال بند

مومنہ: پلیس مجھے ولی کا نمبر دے دیں۔۔۔

وقار کاپی پر نمبر لکھ مومنہ کو دے دیتا ہے۔۔

وقار اپنے شہر کے طرف روانہ اور نِدا اور مومنہ اپنے گھر کی طرف۔۔۔ یہ دن نِدا اور وقار کے لیے حیران کن اور مومنہ کے لیے خوبصورت دن تھا۔۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post

چراغِ دل: پارٹ 6

مومنہ اور نِدا یونی سے گھر پہنچ چکے تھے دونوں کے درمیاں سارے راستے میں کوئی بات نہ ہوئی۔۔۔

مومنہ ان خیالات میں گُم کہ وہ ولی سے کیا بات کرے گی کیسے بات کرے گی اور کیا ضروری ہے ولی سے بات کرنا۔۔۔ کیا کبھی ولی سے مل سکوں گی یا نہیں یا ولی مجھ سے مِلنا چاہے گا۔۔۔ایک نا ختم ہونے والی سوچوں کے محور میں گُم مومنہ خاموش تھی تمام راستے میں۔۔۔

اور نِدا مومنہ کے ساتھ پیش آئے واقعے کو لے کر تذبذب کا شکار تھی، اُسے ابھی بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ ایسا سچ میں ہو سکتا ہے،

نِدا: گاڑی گھر میں پارک کر کے مومنہ سے، مومنہ تم روم میں چلو میں ابھی آئی۔۔۔

مومنہ: اثبات میں سَر ہلاتے ہوئے ٹھیک ہے

مومنہ گاڑی سے اُتری اور روم میں چلی گئی اور نِدا باہر ہی ٹہلنے لگی اور لان میں بیٹھ گئی، شاید وہ خود کو ریلیکس کرنے کی جدوجہد میں تھی۔۔۔ کافی ٹائم نِدا باہر ہی بیٹھے آج کے پروگرام میں وقار کے موضوع پر غور و فکر کر رہی تھی۔۔۔ اُسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیسے ایک کا خواب دوسرے کی حقیقت بن سکتا ہے، اُسے تو آج کا دن ہی ایک خواب لگ رہا تھا۔۔۔

مومنہ: اس کے برعکس مومنہ روم میں بیٹھے موبائل میں ولی کا نمبر سیو کرتے کرتے بے شمار باتیں ولی سے خیال ہی خیال میں کر چکی تھی، اُس کے لیے آج ایک یادگار دن تھا اُس کے لیے۔۔۔ بس اُس کے دل میں ایک ہیجان سا بڑھ رہا تھا۔۔۔

اُس نے تنہائی کے ان پلوں کو قیمتی جانا اور آنکھیں بند کیے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اور ساری توجہ دل پر جمائے اِس تصور میں گُم ہونے لگی کہ اُس کے دل سے اللہ اللہ کی آواز آرہی ہے۔۔۔ کافی ٹائم لگا اُس کو تصور قائم کرنے میں پھر وہ چہرے پر مسرور کن سمائل سجائے ہوئے تھی۔۔۔ جس کا مطلب کے اُس کے دل نے اللہ اللہ کہنا شروع کر دیا تھا۔۔۔

ولی: ولی کی جس وقت وقار سے بات ہوئی پھر مومنہ سے بات ہوئی وہ باہر کھیتوں میں گھوم پِھر رہا تھا۔۔۔ بات کرنے کے بعد اُس نے محسوس کیا کہ اُس کے دل و دماغ میں بے شمار خیالات گھر کر رہے ہیں اُس نے خود کو ان خیالات سے آزاد کرنے کے لیے کھرپہ پکڑا اور زمین سنوارنے بنانے میں مصروف ہو گیا۔۔۔

وہ جتنے زور سے کام کرتا دل کی دھڑکن بڑھ جاتی اُس کی اور دل سے آنے والی آواز اللہ ھو اللہ ھو میں محو ہو جاتا تھا۔۔۔ پھر وہ گھنٹوں اسی عالم میں محو رہتا، ہر خیال سے پاک بس اپنے کام میں مگن رہا۔۔۔

نِدا: لمبی سانس بھرتے ہوئے کمرے کی طرف چل دی، اُس نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا پہلی نظر مومنہ پر پڑی، وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی تھی آنکھیں بند کیے مسرور کن مسکراہٹ چہرے پر سمائے ہوئے اپنے ہی آپ میں گُم تھی،

نِدا: دروازہ بند کر کے کھانستے ہوئے، ارے یہ ہماری مومنہ کن خیالات میں مُسکرا رہی ہے؟

مومنہ: نِدا کی موجودگی کو پا کر خود کو سنبھالتے ہوئے، کسی خیال میں نہیں بس ٹیک لگائے خود کو ریلیکس کر رہی تھی،

نِدا: شرارتی موڈ میں، ہاں جی ہاں جی وہ تو پتہ چل ہی رہا ہے،

سورج غروب ہو چکا تھا رات سورج کو اپنی آغوش میں لے چکی تھی۔۔۔

کھانا لگ چکا تھا اور سب فیملی ممبر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے، کھانے سے فارغ ہونے کے بعد سبھی اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔۔۔

ندا اور مومنہ ایک ہی کمرے میں رہتی تھیں۔

مومنہ: مومنہ نِدا سے صبح میں واپس جانے کا سوچ رہی ہوں

نِدا: نہیں فی الحال تو ابھی کہیں بھی نہیں جانا تم کو۔۔۔اور خاص کر کے اس صورتحال میں میں تم کو تنہا نہیں رہنے دونگی۔۔۔

مومنہ: میں ٹھیک ہوں اور دراصل مجھے تنہائی سے اب کوئی خوف محسوس نہیں ہوتا۔۔

نِدا: کیا تم ولی سے بات کرو گی؟

مومنہ: ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے، میں بھی اسی کشمکش میں ہوں کہ ولی سے بات کروں یا کہ نہ کروں، نِدا تم کیا کہتی ہو مجھے بات کرنی چاہیے کہ نہیں؟

نِدا: مجھ سے پوچھتی ہو تو بالکل نہیں، اُس کے خواب اور خوابوں کی حقیقت کی دنیا میں مداخلت، مجھے تو وہ عجیب سا لگتا ہے جیسے کوئی جِن ہو یا کوئی اور مخلوق۔۔۔ میرے خیال میں تو تمہیں یہ چیپٹر یہی بند کر دینا چاہیے۔۔

مومنہ: نہیں یار وہ انسان ہی ہے وقار نے بتایا نہیں تھا کہ اُس کا دوست ہے۔۔۔ اور ہو سکتا ہے یہ صلاحتیں اُس کے اندر خُداداد ہوں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارا ایسے ملنا کسی وجہ سے ہو، ویسے بھی ولی نے ایک بات کی تھی " راز کے اندر راز ہوتا ہے"

کیا یہ بات میرے لیے تو نہیں؟ خواب ایک راز اور خواب کے اندر حقیقت یعنی میں اِک راز" کیا میں ایک راز ہوں کیا؟"

نِدا: آہ تمہاری باتیں تو میری سمجھ سے باہر ہیں۔۔۔ جیسے تم کو اچھا لگے کرو اور ہاں جانے والا فیصلہ ابھی کینسل۔۔۔

مومنہ: مسکراتے ہوئے ٹھیک ہے۔۔۔

نِدا: اب سو جاؤ گُڈ نائٹ

مومنہ: گُڈ نائٹ میری جان

کچھ دن گزر گئے نِدا اور مومنہ بس گھومتے رہتے اور خوش گپیوں میں وقت گزرتا گیا کوئی دو ہفتے گزر گئے ۔۔

نا مومنہ نے ولی کو کال کی نا دوبارہ کبھی اس موضوع پر بات ہوئے دونوں میں۔۔۔

شاید مومنہ نے بھی سوچ لیا تھا کہ جو ہوگیا سو ہو گیا مجھے بھول جانا چاہیے اس واقعہ کو اور کچھ ہی دن باقی رہ گئے تھے اُسے واپس امریکہ جانا تھا۔۔۔

مومنہ: وقت کا پتہ ہی نہیں چلا کیسے گزر گیا۔

نِدا: ہاں یار دیکھو اب تم نے کل امریکہ بھی چلے جانا ہے۔۔۔

مومنہ: ہاں یار تم نہ ہوتی تو میرے لیے کافی مشکل ہو جاتی۔۔۔

نِدا: سب کچھ بھول کر اپنی تیاری پر توجہ دو۔۔۔

مومنہ: اپنا سامان پیک کرتے ہوئے اُسے وہ پرچی ملی جس پر ولی کا نمبر تھا اُس کو یکدم یاد آگئی،

نِدا: نِدا دیکھ چکی تھی اُس نے پرچی پکڑ لی اور مومنہ سے کہا، مومنہ بھول جانا ہی بہتر ہے،

دوسرے دن مومنہ امریکہ کے لیے روانہ ہوگئی اور نِدا مومنہ کو ائیرپورٹ پر چھوڑ کر واپس گھر آگئی۔۔۔

وقار: وقار بھی کراچی سے واپس اپنی یونی آ چکا تھا وہاں ہاسٹل ہی میں رہتا تھا بس کبھی کبھار وہ گاؤں جاتا تھا۔۔۔

وقار: ایک ماہ بعد گاؤں گیا وہاں ولی سے ملا اُس کے ٹیوب ویل پر جا کر۔۔۔

وقار: کیسے ہو میرے بھائی

ولی: ٹھیک ہوں بھائی تم سناؤ کافی دن لگا دیئے اس بار آنے میں۔۔۔

وقار: بس یار کراچی گیا تھا ایک فنکشن میں اور وہاں ہی تو میری ملاقات ہوئی تھی مومنہ سے۔۔۔

ولی: اچھا جناب تو کیسے یہ بھید کُھلا تھا؟

وقار: یار مجھے چُنا گیا تھا اپنی یونی کی طرف سے وہاں تقریر کرنے کے لیے اور مجھے موضوع چاہیے تھا۔۔۔ بہت سے موضوع زیر غور رہے مگر سب پھیکے محسوس ہوئے۔۔۔

پھر میں نے تمہارے وہ خواب جن کی حقیقت کُھلی مجھ پر اُن کو مرتب کیا مضمون بنایا، اور موضوع دیا خواب اور حقیقت، بس اسی بیان میں وہ راز عیاں ہو گیا۔۔۔

ولی: یہ خواب سنانے کے نہیں ہوتے بھائی لوگ مذاق بنا لیتے ہیں۔۔۔ بھلا جن خوابوں کا نہ کوئی سَر ہو نہ پیر کوئی بھلا کیونکر یقین کرے گا۔۔۔

وقار: اس کے برعکس مجھے پذیرائی ملی اور انعام وصول کر کے آیا۔۔۔

ولی: تمہاری قسمت اچھی تھی کہ مومنہ کی موجودگی میں تمہارا موضوع دلچسپ بن گیا تھا، ورنہ ایسا نہیں ہوتا۔۔۔

وقار: ہاں یار یہ بات بھی سچ کہی تم نے

ولی: خیر ہر چیز کے ہونے نہ ہونے میں کوئی حکمت ہوتی میرے پروردگار کی۔۔۔

وقار: تو کیا پھر مومنہ نے بات کی تم سے؟

ولی: نہیں، بھلا وہ کیوں مجھ سے بات کرئے گی۔۔۔

وقار: متعجب ہو کر یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔مومنہ نے تو بڑے تجسس سے مانگا تھا تمہارا نمبر۔۔۔

ولی: ہر چیز اپنے وقت کے ہونے کا انتظار کرتی ہے۔۔۔ وقت سے پہلے اور وقت کے بعد کچھ بھی حاصل لاحاصل نہیں رہتا۔۔۔

زندگی کو ایسے جیو کہ تمہارے پاس بس یہی ایک پل موجود ہے۔۔۔ نہ گزرے پل کو سوچو نہ آنے والے پل کی فکر کرو۔۔۔" لمحہِ موجود" میں خود کو دیکھو اور پاؤ۔۔

کافی عرصہ گزر چکا تھا۔۔۔ مومنہ امریکہ چلی گئی اور وہاں اپنی زندگی میں مصروف ہو گئی اور نِدا اپنے گھر اور پڑھائی میں ہر چیز کو بھول چکی تھی۔۔وقار یونی میں مصروف اور ولی ہر ایک سے بے خبر اپنے کام اور اپنے پروردگار کی یاد میں گُم۔۔۔۔

مومنہ: آج اُسے پاک سے آئے دو ماہ گزر چکے تھے، وہ یہاں اپنی پڑھائی کرنے میں مصروف تھی۔۔۔

ایک روز اُس کی کلاس کے لیکچرار نے ایک واقعہ سنایا۔۔۔

ایک لڑکی تھی جس کا نام سئیر تھا۔۔۔ وہ ایک دفعہ اپنی گاڑی میں بیٹھے سفر کر رہی تھی۔۔۔ راستے میں ایک جنگل تھا اچانک موسم خراب ہوا تیز آندھی اور بارش برسنا شروع ہو گئی۔۔۔سئیر گاڑی میں تھی اور گاڑی کی رفتار اُس نے کم کر دی تھی۔۔۔اچانک ایک بہت بڑا درخت ٹوٹا اور سڑک پر آن گِرا سئیر نے بریک لگائی اور گاڑی روک لی۔۔۔ اب راستہ بند اوپر سے وہاں اور کوئی بھی نہیں تھا۔۔۔

سئیر گاڑی میں ہی بیٹھی رہی اور بارش اور طوفان کے تھمنے کا انتظار کرنے لگی، اور اس یقین کے ساتھ کہ کوئی اور بھی آ جائے گا اُس راستے پر۔۔۔ وہ ٹیک لگائے بیٹھی تھی پتہ ہی نہیں چلا کب اُس کی آنکھ لگ گئی، اور اندھیرہ چھا گیا۔۔۔جب سئیر اُٹھی ہر طرف اندھیرہ تھا، اُس نے گاڑی اسٹارٹ کرنا چاہی مگر گاڑی اسٹارٹ نہ ہوئی۔۔۔ بارش اور طوفان تھم چکا تھا موسم بالکل صاف تھا۔۔۔ وہ باہر نکلی اور چاروں طرف دیکھنے لگی کہ کوئی مل جائے ہیلپ کے لیے، اچانک اُس کی نظر ایک ہلکی سی روشنی پر پڑی۔۔ وہ اُس طرف چل دی، اُس نے دیکھا وہاں ایک جھونپڑی ہے جس میں سے آگ کی روشنی باہر نکل رہی ہے۔۔۔

وہ اس جھونپڑی کی طرف چل دی۔۔۔ اُس نے اندر جا کر دیکھا ایک شخص آگ جلائے اُس کے پاس بیٹھا ہوا ہے،

سئیر نے اُس سے اجازت لی رات گزارنے کی اُس نے دے دی اجازت۔۔۔ سئیر ایک طرف بیٹھ گئی اور ٹیک لگائے سو گئی۔۔۔۔ صبح ہوئی آنکھ کُھلی۔۔۔دیکھا نہ وہاں جھونپڑی ہے اور نہ آگ نہ کوئی شخص موجود۔۔اور وہ اتنی سردی میں ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگائے سو رہی تھی۔۔۔

سئیر اُٹھی اُس کی حیرت کی انتہا نہ رہی وہ بھاگی اپنی کار کی طرف گاڑی میں بیٹھی گاڑی اسٹارٹ ہوگئی۔۔ جو درخت سڑک پر گِرا ہوا تھا وہ بھی نہیں تھا۔۔۔ اُس نے گاڑی کو آگے بڑھایا کچھ ہی دور گئی تھی کہ اُسے بریک لگانا پڑ گئیں۔۔۔ کیونکہ آگے ایک بہت بڑی چٹان سڑک پر گِری ہوئی تھی۔۔۔

بچو اب بتاؤ سئیر کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ سے ہمیں کیا حاصل ہوتا ہے۔۔۔

مومنہ: خاموشی سے سارا واقعہ سُن رہی تھی اور اُسے اپنی اور جن کی اور ولی کی روداد یاد آ رہی تھی۔۔۔ جیسے کہ سب تازہ ہو رہا تھا۔۔۔

مومنہ: کھڑے ہوتے ہوئے۔۔۔ سر سئیر کی وہاں اللہ نے مدد کی تھی اپنے کسی بندے کے ذریعے اور درخت کا گِرنا بھی اسی لیے تھا اور گاڑی کا بند ہونا بھی۔۔۔ کیونکہ اگر یہ دو کام نہ ہوتے تو شاید سئیر آگے جاتی اور چٹان کے نیچے گاڑی آ جاتی اور اُس کی موت واقع ہو جاتی۔۔۔

جیسے ہی مومنہ کے منہ سے لفظ موت نکلا وہ چلملا اُٹھی۔۔۔ کہ ولی نے بھی تو موت سے بچایا تھا اُس کو۔۔۔ اگر وہ وہاں سے چلی آتی تو جن نہیں چھوڑتا اُس کو۔۔۔ وہ گہری سوچ میں چلی گئی کہ میں احسان فراموش رہی اور اپنے محسن کو بھول گئی۔۔۔

لیکچرار: اُس کی خاموشی کو توڑتے ہوئے، لگتا ہے مومنہ تم نے بہت قریب سے محسوس کیا ہے اس واقعہ کو۔۔۔ ورنہ کوئی اتنی گہرائی سے جواب نہیں دے سکتا تھا۔۔۔

مومنہ: گھر آکر خود کو تنہا کر لیتی ہے اپنے روم میں۔۔۔ وضو کرتی ہے کافی دِنوں کے بعد۔۔۔ بیٹھ جاتی ہے فرش پر مگر اُس کا دھیان نہیں لگ رہا، بارہا کوشش کے بعد بھی مومنہ کا دھیان نہیں لگتا، وہ تصور بھی نہیں کر پاتی۔۔۔ وہ وہی رونا شروع کر دیتی ہے کہ ایک چنگاری محبت کی اُس کے دِل میں جلی تھی مگر اُس نے بُجھا دی۔۔۔۔

کافی دیر وہ روتی رہی مگر کچھ حاصل نہ ہوا۔۔۔ پھر اُس نے خود سے عہد لیا کہ وہ اب خود کو بدلے گی چاہےکچھ بھی ہو جائے۔۔۔

اُس کا دل کر رہا تھا کہ ابھی ولی سے بات کرے مگر نہ کر سکی۔۔۔

وہ نماز کی پابند ہوگئی قرآن پڑھنا شروع کر دیا اور زیادہ تر وقت یا تو روتے یا سوچتے گزار دیتی۔۔۔

ایک ماہ سے کچھ دن زیادہ گزر گئے وہ پابند ہوگئی تھی عبادات کی۔۔۔ اور دعا مانگتی تھی کہ یا رب وہ چنگاری پھر سے جلا دے۔۔۔ وہ چنگاری اپنے نام کی پھر سے جلا دے۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔

Share this post


Link to post

چراغِ دل: پارٹ 7

مومنہ: مومنہ ہر گزرتے دن کے ساتھ خُود میں ایک بدلاؤ دیکھ رہی تھی، وہ جو دُنیا کی رنگینیوں میں پلی بڑی تھی اب انہیں رنگینیوں سے اُسے کوفت سی محسوس ہوتی تھی۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت تنہا گزارتی، نماز میں، قرآن کی تلاوت میں، اور ذکر کرنے میں، مگر وہ سرور جو دل میں تھا نہیں مل رہا تھا۔۔۔

ایک شب مومنہ نماز پڑھ کر اپنے بستر پر لیٹی اور ذکر کرتے کرتے سو گئی۔۔۔

مومنہ نے دیکھا کہ ایک وسیع و عریض میدان ہے وہاں لوگوں کا جمِ گفیر ہے اور سب کے سب ایک دائرے کی شکل میں بیٹھے ہوئے ہیں لائن در لائن اور بیچ میں ایک ہستی جلوہ نما ہے نورانی چہرے کے ساتھ۔۔سب اپنے سر جھکائے بیٹھے ہیں،

مومنہ نے خُود کو دیکھا سفید لباس پہنا ہوا ہے اور سر پر ایک چادر ہے وہ سبز رنگ کی ہے۔۔۔

مومنہ کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کہاں بیٹھے، اچانک ایک ہاتھ اُٹھا اور خود ہی وہاں تک راہ بن گئی، مومنہ کو ایسے لگا جیسے وہ اُس کے پاس جا کر بیٹھ جائے۔

مومنہ وہاں جا کر بیٹھ گئی مومنہ نے ایک نظر دیکھا تو وہ ولی تھا جس کے پاس وہ بیٹھی تھی،

مومنہ نے آنکھیں بند کی اور گردن جُھکا کر بیٹھ گئی وہ بھی۔۔۔

کچھ ہی ٹائم کے بعد سب کچھ غائب ہو چکا تھا، وہاں بس ولی موجود تھا،

ولی: مومنہ کو آواز دیتے ہوئے، بُھولے ہوئے مسافر آخر ایک دن اپنی راہ کو پا ہی لیتے ہیں۔۔۔

مومنہ: آنکھیں کھولتے ہوئے ۔۔۔۔۔ اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے شاید شرمندگی کے۔۔۔ ولی آخر ایسا کیوں ہوا۔۔۔؟

ولی: سچائی کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ دل کا راستہ ہے عقل کا نہیں، اپنے دل کو اپنا اولین مُرشد بناؤ، نفس کے خلاف لڑنا چاہتی ہو تو روح کا راستہ اپناؤ، اپنے دل کا چراغ روشن کرو کیونکہ روح ہی رب کی معرفت کو پا سکتی ہے عقل نہیں۔۔۔

مومنہ: مگر میں اپنا چراغ بُجھا چکی۔۔۔

ولی: یہ چراغ ایک دفعہ جل جائے تو پھر نہیں بُجھتا۔۔۔ بس غفلت کے پردے ہماری آنکھوں کو سوچ کو نابینا کر دیتے ہیں، آنکھیں دیکھ نہیں پاتی تصور محسوس نہیں کر پاتا۔۔

مومنہ: اب میں کیسے محسوس کروں اس کو۔۔

ولی: مومنہ کو ایک کھجور کا ٹکڑا دیتے ہوئے۔۔ لو یہ کھا لو یہ سارے زنگ دھو دے گا۔۔۔

مومنہ: کھجور کا ٹکڑا پکڑتے ہوئے۔۔۔۔

ولی: اور ہاں آج سے تم چلتے پھرتے ایک ورد کرو گی۔۔۔۔

مومنہ : وہ کیا

ولی: ایاک نعبد و ایاک نستعین یا سلام یا وارث

عبادات ذکر و اذکار کے بعد یہ تمہاری زبان پر رہنا چاہیے۔۔۔

ولی اچانک غائب ہو جاتا ہے اور مومنہ کی آنکھ کھل جاتی ہے اُسے محسوس ہوتا ہے کہ اُس نے ابھی کچھ کھایا ہے کہ اُس کے منہ میں کھجور کا ذائقہ موجود ہے وہ ٹائم دیکھتی ہے تو رات کا آخری پہر چل رہا ہے وہ اُٹھتی ہے وضو کرتی ہے اور نوافل پڑھ کر سر سجدے میں رکھ کر روتی ہے،

اچانک اُسے اپنے دل کے مقام پر حرکت محسوس ہوتی ہے اور وہی تپش اُسے محسوس ہوتی ہے، وہ اور گہرائی میں سر سجدے میں ٹکائے رکھتی ہے اور ایک ہی لفظ بول رہی۔۔ یا اللہ رحم فرما یا اللہ رحم فرما۔۔

پھر وہ تپش زیادہ ہوتی جاتی ہے اور اُس کے دل سے آواز آنا شروع ہو جاتی ہے اللہ ھو اللہ ھو۔۔۔۔

مومنہ سیدھا ہوتی ہے وہی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھ جاتی ہے۔۔۔ اُس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی جاری ہے جیسے اُس کا دِل دُھل رہا ہے اور سارا غُبار آنسوؤں کے ذریعے بہہ رہا ہے۔۔۔

صبح ہوتی ہے تو مومنہ کا بڑا دل کرتا ہے کہ ابھی ولی کو کال ملائے اور بات کرے۔۔۔

مومنہ نے اپنا موبائل پکڑا اور ولی کا نمبر ملا دیا۔۔

ولی: موبائل پر ایک انجان سا نمبر دیکھتے ہوئے کال اُٹھاتا ہے۔۔۔

مومنہ: السلام عليكم ورحمة الله

ولی: وعلیکم السلام ورحمة الله ۔۔

مومنہ: میں مومنہ بول رہی ہوں، کیسے ہیں آپ؟

ولی: جی آواز سے ہی پتہ چل گیا تھا کہ مومنہ ہے۔۔۔

مومنہ: کیا آپ کو اب بھی یاد میری آواز

ولی: مسکراتے ہوئے، ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو بات ہوئی تھی یاد نہیں؟

مومنہ: مُسکرا دی اور بولی ہاں، مگر خواب تو خواب۔۔۔

ولی: کیا تم اب بھی خواب کی حقیقت سے نا آشنا ہو۔۔

مومنہ: اب یقین سے نہیں کہہ سکتی مگر کچھ تو عجیب ہے۔۔۔

ولی: کیا عجیب

مومنہ: میرے ساتھ ہی ایسا کیوں؟

ولی: یہ بھی ایک راز ہے ایک دن کُھل جائے گا۔۔

مومنہ: ابھی کیوں نہیں۔۔

ولی: ہر چیز کے ہونے نا ہونے کا ایک وقت مقرر۔۔ کبھی چیز سامنے ہوتی ہے ہم پا نہیں سکتے اور کبھی چیز خود آکر کہتی ہے ہمیں لے لو تب ہمیں طلب نہیں ہوتی۔۔۔۔ کیا ہم وقت سے پہلے چیز کے پانے کی آرزو نہیں رکھتے اور کیا وقت آنے پر وہ جستجو ختم نہیں ہو چکی ہوتی۔۔۔۔

ہر چیز ایک وقت معین پر مقرر ہے بس انسان کے بس میں جو ایک فیصد اختیار ہے اُسی میں وہ جلد بازی کر جاتا ہے یا پھر کوتاہی کر جاتا ہے۔۔۔ اس کے برعکس انسان کو اپنے رب کی یاد میں محو رہنا چاہیے بس۔۔۔

مومنہ: جی ٹھیک ہے میں کوشش کرونگی۔۔۔

ولی: بس وہ آیت وردِ زبان رکھنا۔۔۔۔ راستہ خود بخود کُھلتا جائے گا اور اپنے قلب میں دوام پکڑو۔۔۔۔ وسوسے آئیں گے مگر تم نے اپنے دل پر متوجہ رہنا ہے۔۔۔

مومنہ: جی ان شاء اللہ۔۔۔ پھر بات ہوگی۔۔۔ اللہ حافظ۔۔

ولی: اللہ حافظ۔۔۔ اور آسمان کی طرف ایک نظر اُٹھا کر دیکھتے ہوئے۔۔۔۔ ہاتھ بلند کیے اور دعا کی۔۔۔۔ یا اللہ استقامت نصیب فرما، اپنے بندوں کو صحیع راستہ دِکھا، وہ راستہ جس پر تیرے انعام یافتہ بندے چلے اور تُجھ تک پہنچے، نا کہ اُن کا جن پر تیرا عذاب نازل ہوا۔۔۔ آمین

وقت گزرتا گیا مومنہ کی زندگی میں ایک انقلاب بھرپا ہوتا گیا، اُس کے والدین نے اور بھائیوں نے بھی محسوس کر لیا کہ مومنہ بہت بدل چکی ہے، کیا اِسے کچھ ہو تو نہیں گیا، نہ کسی پارٹی میں جاتی ہے نہ فیشن نہ کھانے پینے کا شوق۔۔

ایک شب شام کے کھانے پر سب جمع ہیں، آج کا موضوعِ بحث مومنہ تھی۔۔۔۔

والد: مومنہ جو ان کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔ مومنہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بیٹا کیا کوئی پریشانی ہے ہماری بیٹی کو؟

مومنہ: نہیں تو بابا میں بالکل ٹھیک ہوں

والد: پھر بھی بتاؤ تم پہلے جیسی نہیں رہی یہ ہم نوٹ کر رہے۔۔۔

مومنہ: نہیں بابا ایسی کوئی بات نہیں ہے بس دل دنیا سے اُکتا رہا ہے لوگ چہروں پر کئی بناوٹیں سجا کر پِھر رہے ہیں۔۔۔ سب جھوٹ ہے سب جھوٹ۔۔۔

والدہ: بیٹی کیا کسی نے کچھ کہا تم کو؟

مومنہ: نہیں امی جان کسی نے کچھ نہیں کہا مجھے بس مجھے اب اللہ کی یاد میں رہنا اچھا لگتا ہے۔۔۔۔ میرا دل کرتا ہے میں اب پاکستان چلی جاؤں بس وہاں رہوں ہمیشہ کے لیے۔۔۔

والدہ: یہ بات ہے کہیں پیار تو نہیں ہو گیا کسی سے؟

مومنہ: ہاں وہ تو ہوگیا ہے اپنے رب سے اب بس اُسے پانے کی جُستجو ہے۔۔۔

کھانے کے بعد مومنہ روم میں چلی گئی اور باقی فیملی ممبر وہیں بیٹھے رہے۔ سب کا یہی خیال تھا کہ مومنہ کی شادی کر دینی چاہیے۔۔

مومنہ کا والد اپنی بیگم سے بولتے ہوئے۔۔تم ماں ہو ایک بار پوچھ لو اگر اُسے کوئی پسند ہے تو ہم کر دیں گے شادی۔۔۔ شاید ہمارے سامنے بتانے سے شرما گئی ہو۔۔۔

کچھ دیر بعد مومنہ کے کمرے کا دروازہ کھول کی اُس کی امی اندر آئی۔۔۔۔

مومنہ: امی خیریت سے آنا ہوا؟

امی: بس ایسے ہی آ گئی کہ اپنی بیٹی کے ساتھ کچھ وقت گزار لوں۔۔۔

مومنہ: جی امی جان بیٹھیے۔۔۔

امی: تو تم کیا سوچ رہی ہو آجکل۔۔۔

مومنہ: کچھ بھی تو نہیں

امی: کوئی لڑکا پسند ہے کیا؟

مومنہ: تو کیا آپ اس لیے آئی ہیں کہ میرے دل کا جان سکیں۔۔

امی: جی بیٹا ماں ہوں تمہاری اتنا تو سمجھ سکتی۔۔

مومنہ: امی ایسی کوئی بات نہیں ہے اگر ہوئی تو آپ کو ضرور بتاؤں گی۔۔

امی: تمہارے پاپا تمہاری شادی کی بات کر رہے تھے۔۔۔۔

مومنہ: شادی کا سُن کر حیرت سے۔۔۔ امی یہ آپ کیا بول رہی ہیں۔۔۔ مجھے ابھی کوئی شادی نہیں کرنی۔۔۔ مومنہ گہری سوچ چہرے پر سجھاتے ہوئے۔۔

امی: بیٹا ایک نا ایک دن تو کرنی۔۔

مومنہ: جب وہ وقت ہی نہیں آیا تو اُس سے پہلے اُس وقت کا سوچنا ہی کیوں، یہ جملہ ادا کرتے مومنہ کو ولی کی بات یاد آگئی۔۔۔

امی: اچھا ٹھیک ہے اب تم سو جاؤ

مومنہ: میں پاکستان جانا چاہتی ہوں کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم سب چلے جائیں۔۔

امی: یہاں سب کاروبار سیٹ ہے کیسے جا سکتے ہیں؟

مومنہ: تو پھرمجھے جانے دیں۔۔ میرا دل اب یہاں نہیں لگتا میں کبھی کبھی آ جایا کرونگی یہاں۔۔۔ مگر زیادہ وقت اپنے ملک میں گزارنا چاہتی ہوں۔۔۔

امی: ٹھیک ہے میں تمہارے پاپا سے بات کرونگی۔۔۔

کچھ دن گزر گئے اور ایک دن مومنہ کو گرین سگنل مل گیا کہ وہ پاکستان جا سکتی ہے۔۔

مومنہ کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔۔۔اُس نے اُسی وقت نِدا کو کال ملائی اور کہا کہ وہ پاک آرہی ہے ہمیشہ کے لیے۔۔۔

نِدا کو بھی سُن کر بڑی خوشی ہوئی اور بے صبری سے انتظار کرنے لگی اُس وقت کا۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

 

Share this post


Link to post

چراغِ دل: پارٹ 8

مومنہ پاک آ کر بہت خُوش تھی اب وہ یہاں خود کو تنہا وقت دے سکتی تھی۔۔۔۔ پورے گھر میں ایک وہ اور دوسری ملازمہ تھی بس۔۔

وہ معمول کے مطابق اپنی زندگی گزار رہی تھی۔ نِدا سے اُس کی روزانہ فون پر بات ہوتی تھی،

مومنہ کی ایک دلی خواہش تھی کہ ایک بار حقیقت میں ولی سے ملاقات ہو جائے۔۔۔ کہ روبرو بیٹھ کر ولی کو دیکھ سکے اُسے سُن سکے۔۔۔ شاید وہ دل کے کسی کونے میں ولی کی محبت کو بھی محسوس کر رہی تھی۔۔۔ مگر اس شعلے کو وہ دبا دیتی تھی اظہار نہیں کرتی تھی،

ہر شب وہ اِس امید کے ساتھ سوتی تھی کہ آج خواب میں ولی آئے گا اور اس سے بات کرے گا۔۔۔۔

دن گزرتے گئے مومنہ ولی کے بتائے ہوئے ذکر کو کرتی رہتی چلتی پھرتی اور رات کو خاموشی کے ساتھ بس اپنے دل کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھی رہتی۔۔۔

ایک شب مومنہ نے ایک خواب دیکھا، جس میں وہ ایک گھر میں کھڑی ہے گھر بڑا خوبصورت ہے اور وہ خود بھی بڑا حسین و جمیل لباس پہنے ہوئے ہے وہاں نعمتوں کی بُہتات ہے رنگ برنگے پھل وہاں موجود ہیں اور وہ اُن میں سے اپنی مرضی کے پھل اُٹھا اُٹھا کر کھا رہی ہے۔۔۔

اچانک وہ دیکھتی ہے کہ سب خود بخود ختم ہو گیا اور ایک کھولتا ہوا اُبلتا ہوا چشمہ بہہ کر اُس کی طرف آ رہا ہے مومنہ خود کو بچانے کے لیے بھاگتی ہے کبھی گِرتی ہے کبھی اُٹھتی ہے مگر وہ چشمہ بڑھتا جا رہا ہے۔۔۔ پھر اچانک اُسے ایک ہاتھ اپنی طرف بڑھتا دیکھائی دیتا ہے وہ پکڑ لیتی ہے اور وہ ہاتھ اُسے اوپر کھینچ کر نکال دیتا ہے۔۔۔۔

ساتھ ہی مومنہ کی آنکھ کھل جاتی ہے وہ محسوس کرتی ہے کہ اُسے بہت شدت کی پیاس لگی ہے وہ اُٹھتی ہے پانی پیتی ہے اور پھر خواب کا سوچنے بیٹھ جاتی ہے۔۔۔۔مومنہ دل میں کہتی ہے صبح میں ولی سے پوچھوں گی اس خواب کا۔۔۔

دوسرے دن صبح ناشتے کے بعد مومنہ ولی کو کال ملاتی ہے۔۔۔

ولی: السلام عليكم ورحمة الله

مومنہ: وعلیکم السلام ورحمة الله

کیسے ہیں آپ؟

ولی: الحمدللہ، تم کیسی ہو؟ اور خیریت ہے سب کیونکر اتنی صبح یاد کیا؟

مومنہ:جی سب خیریت ہے بس ایک خواب دیکھا اُس کا پوچھنا تھا۔۔۔

ولی: جی بولیے میں سُن رہا ہوں

مومنہ سارا خواب ولی کو سُنا دیتی ہے اور خواب کے بعد کی اپنی کیفیت کا بھی۔۔۔

ولی: خواب سُن کر مسکرا دیتا ہے اور کہتا ہے ہاں سمجھ گیا کیونکر یہ خواب تم کو آیا۔۔۔

مومنہ: کیوں اور کیسے؟

ولی: آج کے دور کے مسلمان کی دو ہی خواہشیں ہیں ایک جنت کا متلاشی ہے اور دوسرا جہنم کا خوف ہے۔۔۔ جہنم سے بچنے کے لیے اور جنت کو پانے کے لیے وہ ساری عبادات ساری ریاضت اور کوشش صرف اور صرف ثواب کے حصول کے لیے کرتا ہے۔۔۔۔

مومنہ: ثواب ملے گا تو اللہ راضی ہوگا نا؟

ولی: اس سے برعکس اللہ نے پوچھ لیا کہ اے مومنہ تُو میرے لیے کیا لائی ہے؟ تو کیا جواب ہو گا؟

مومنہ: خاموش

ولی: یہ نماز روزے عبادات ذکر اذکار جنت کے شوق اور جہنم کے خوف کے لیے ہے تو پھر ہم اللہ کے لیے کچھ نہیں لے کر گئے۔۔۔

وہ بول دے گا یہ تیری ساری عبادت جنت کے لیے ہے جاؤ اس میں رہو۔ میرے لیے تو تم کچھ نہیں لائے۔۔۔

مومنہ: تو پھر کیا کرنا چاہیے۔۔۔

ولی: میری بات غور سے سنو۔۔

مومنہ: جی

ولی: جب اللہ نے تمام ارواح کو وجود بخشا تھا اور روحوں سے عہد و پیماں ہوا تھا، جب تمام روحیں ایک میدان میں جمع تھیں۔۔۔

ایک نِدا آئی: تمہارا رب کون ہے؟ تمام روحوں نے جو پہلی آواز سُنی تھی وہ رب کی تھی۔۔۔ روحوں کو سماعت ملی تو آواز سُنی نور ملا آنکھیں کھولی اور یک زبان سب ارواح نے کہا کہ آپ ہمارے رب ہیں۔۔۔

اللہ نے پھر پوچھا تم کس کی عبادت کرو گی۔۔۔ سب نے کہا یا اللہ آپ کی۔۔۔ کس کی طلب کرو گی۔۔۔ یا اللہ آپ کی۔۔۔

اللہ نے دنیا کو کھولا، شیطان نے دنیا میں جا کر 24 قسم کے نعرے بلند کیے۔۔۔100 میں سے 99% روحیں اُن نعروں کو سُن کر دُنیا میں داخل ہوگئیں۔۔۔

پھر اللہ نے باقی روحوں سے پوچھا کیا تم میری ہی ہو؟۔۔۔ سب نے کہا ہاں رب ہم تیری ہی ہیں۔۔۔

پھر اللہ نے جنت کو کھولا۔۔۔ جنت کی نعمتیں خوبصورتی دیکھ کر باقی بچ جانے والی روحوں میں سے بھی 99% روحیں جنت میں چلی گئیں۔۔۔اور ایک فیصد روحیں باقی رہ گئی۔۔۔ جنہوں نے نہ دنیا کی طرف دیکھا نہ جنت کی طرف دیکھا۔۔۔ وہ اپنے رب کی طرف ہی متوجہ رہیں۔۔۔

اسی پر قرآن میں اللہ فرماتا ہے۔۔۔ دائیں ہاتھ والے اور کیا کہنے دائیں ہاتھ والوں کے جو نعمتیں لے گئے۔۔ بائیں ہاتھ والے اور دیکھو بائیں ہاتھ والوں کو کس قدر عذاب میں مُبتلا ہے اور اس سے بڑھ کر آگے بڑھنے والے اور آگے بڑھ گئے اور اپنے رب کو پا لیا۔۔۔۔۔

(یہ قرآن کی ایک آیت کا مفہوم ہے)

ولی: مومنہ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔۔۔۔ دُنیا داروں کی صف میں؟.... جنت کو پانے والوں کی صف میں؟۔۔۔۔ کہ آگے بڑھنے والوں کی صف میں؟

یہ آئینہ ہے ہمارا ہماری نیتوں کا ہمارے اعمال کا۔۔۔۔

اب سُنو خواب کا۔۔۔ تم کو جنت دکھائی گئی کہ تم اس میں گُم ہو جاؤ اور اس کی طلب کے لیے عبادت کرو۔۔ پھر جہنم دکھائی گئی کہ اس سے خوف کھاؤ اور اس کے ڈر سے تم عبادت کرو۔۔۔

مومنہ: تو پھر میں کیا کروں؟

ولی: ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے۔۔۔ میں کہتا ہوں نہ جنت کے شوق میں نہ جہنم کے خوف سے۔۔۔۔ مومنہ یہ بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور انسان اشرف المخلوقات ہے۔۔۔ یعنی جنت سے بھی اشرف انسان ہے۔۔۔ تو اشرف کو چاہیے کہ خود سے اعلی کی جُستجو کرے آرزو کرے۔۔۔

جنت جہنم دنیا زمیں آسمان لوح قلم عرش فرش جن و فرشتے سب مخلوق ہیں اور انسان اشرف المخلوقات ہے اگر وہ خود کو پہچان لے تو۔۔۔ نہیں تو پھر حیوان سے بھی بدتر ہے کہ حیوانوں کو شعور نہیں اور انسان شعور رکھ کر بھی رب کو نا پا سکا۔۔۔۔

مومنہ: خاموشی سے سب سُن رہی ہے۔۔۔ پھر بولی اب میں خُود کو اِس آئینے میں دیکھوں گی۔۔۔ تلاش کرونگی کہ میں کہاں کس صف میں کھڑی ہوں۔۔۔

ولی: اور اس کے لیے تمہیں ایک کام کرنا ہے آج سے تم روزانہ ایک رکوع قرآن کا ترجمعہ و تفسیر کے ساتھ پڑھو گی۔۔۔۔ پڑھنا ایسے ہے اس دعا کے ساتھ۔۔۔

" یا اللہ میں تیرا کلام پڑھنے لگی ہوں تیرے حکم سے اور غلام بالکا کی زبان سے یا اللہ کلام تیرا ہے زبان غلام بالکا کی ہے اس کلام کی برکت سے مجھے دیکھنے والی نظر عطا فرما میری زبان میں تاثیر پیدا فرما اور اے میرے رب جو کلام میں پڑھوں اس پر عمل کرنے والی اور اس کو سمجھنے والی بنا۔۔۔۔۔ آمین "

اور رکوع پڑھ کر وہیں بیٹھ کر غوروفکر کرنا کلام پر۔۔۔

مومنہ: جی ان شاء اللہ میں شروع کر دونگی۔۔۔

ولی: اور کوئی سوال یا کوئی بات؟

مومنہ: مجھے ایک خیال بہت آتا ہے کہ میں پہلے کیوں نہیں تھی ایسی اور اب کیوں ہوں یہاں؟

ولی: مسکراتے ہوئے اس کا جواب بھی تمہیں مل جائے گا۔۔۔ یہ قرآن تمہیں وہ دے گا جو تم اس سے چاہو گی۔۔۔ ہدایت مانگو کی ہدایت دے گا۔۔۔ دنیا مانگو گی دنیا دے گا۔۔۔۔ جنت مانگو گی جنت دے گا جہنم مانگو گی جہنم بھی دے گا اور اگر اللہ کو مانگو گی تو اللہ بھی ملے گا۔۔۔ قرآن ایک ہے مانگنے والے الگ الگ ہیں۔۔۔

بس تم دل جمعی سے کلام پڑھو سمجھو۔۔۔ راستہ خود کھلتا جائے گا۔۔۔

بس اس خیال کو دل سے نکال دو کہ میں کیا تھی کیوں تھی اور اب کیا ہوں۔۔۔ جو بھی ہے سب پروردگارِ عالم کے علم و حکمت میں ہے۔۔۔

مومنہ:جی ٹھیک ہے میں سمجھ گئی۔۔۔ پھر بات ہوگی۔۔۔

ولی: فی امان اللہ

مومنہ: اللہ حافظ

ولی:کال بند کر کے آسمان کی طرف دیکھ کر یارب تُو ہے راستہ بتانے والا تُو ہی چلانے والا تُو ہی مالک و مولا ہمارا۔۔۔ ہم عاجز ہیں ایک تنکا نہیں ہلا سکتے تیرے حکم کے بغیر، یا رب ہمیں استقامت نصیب فرما، جن و انس کے حسد سے بچا، شیاطین و نفس کے وسوسوں سے بچا ہم کو یا رب۔۔۔ میں سب اچھی اور بُری چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں ہمیں اپنی پناہ میں رکھ۔۔۔۔آمین یا رب العالمین

مومنہ: ولی سے بات کرنے کے بعد خُود میں روشنی کی ایک کِرن محسوس کر رہی تھی، جیسے اُس کے ایمان کو ابھی تازگی ملی ہو۔ اُسے خود کو دیکھنے کے لیے ایک اصول بھی مل گیا تھا اور سمجھنے کا ذریعہ بھی۔۔۔ وہ سر سجدے میں جُھکا کر پروردگار کا شکر ادا کرنے لگ گئی۔۔۔ کہ یا اللہ تیرا شکر کہ تُو نے میری اصلاح کی ورنہ تیری یہ بندی بڑی گنہگار ہے یہ سب تیرا کرم ہے میرے مالک سب تیرا کرم ہے۔۔۔۔

ولی:

(ہم خُدا کے بارے میں جو گُمان رکھتے ہیں، وہ دراصل ہماری اپنی شخصیت کے بارے میں ہمارے گُمان کا ایک عکس ہوتا ہے، اگر خُدا کے ذکر سے ذہن میں محض الزام اور خوف اور الزام تراشی جنم لے تو یہ ہمارے اپنے سینے کی گُھٹن میں پنپ رہی ہے، اور اگر خُدا ہمیں محبت اور شفقت سے چھلکتا ہوا دِکھائی دے تو یقیناً ہم بھی محبت اور شفقت سے چھلک رہے ہیں)

جاری ہے۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post

چراغِ دل: پارٹ 9

ایک شب ولی نے ایک خواب دیکھا،

وہ اپنے گاؤں سے باہر کھڑا ہے کہ آسمان پر سبز رنگ کا نور برستا ہے اور وہ نور گولائی میں گردش کرتا ہے، اس قدر تیز گردش ہوتی ہے کہ ولی دیکھتا ہے کہ اُس کے گاؤں کے عین اوپر سبز گنبد اُس نور کے ہالے سے واضع ہو رہا ہے دیکھتے ہی دیکھتے وہ نور سبز گنبد میں بدل جاتا ہے اور پھر آسمان سے سفید نور نمودار ہوتا ہے جو مینار کی شکل میں زمیں سے آسمان تک کھڑا ہو جاتا ہے۔۔۔

ولی کی زبان سے بے ساختہ نکل آتا ہے، " قلبِ مدینہ"

اور ساتھ ہی ولی کی آنکھ کُھل جاتی ہے۔۔۔ولی بیداری کے بعد بہت مسرورکن انداز میں چاروں طرف دیکھتا ہے۔۔۔اور اللہ سے کہتا ہے اے میرے مالک، تُو نے اپنے حبیب ﷺ کا گنبد دکھایا اور مینار بھی اور تُو نے ہی بے ساختہ زبان سے نکلوایا قلبِ مدینہ، میرے مولا اس زبان کی لاج رکھ لینا اور حقیقت میں مدینے کا دل بنا دے۔۔۔ کہ ایمان کے مینار روشن ہوں یہاں سے۔۔۔۔ آمین۔۔۔

اُدھر مومنہ کی کزن نِدا اپنے امتحان ختم کر کے مومنہ کے پاس آچکی تھی، دن بھر کی مصروفیات تو دونوں کی خوش گپیوں میں گزر جاتی تھی کبھی سیر و تفریح کبھی کو نکل جاتیں تھی۔۔۔

مگر رات مومنہ کی اپنی تنہائی میں ہوتی تھی۔۔۔وہ اکثر و بیشتر اپنی باتیں نِدا سے شئیر کر لیتی تھی۔۔۔ مگر اب تک اُس نے نِدا کو اپنی باطنی معاملات کا نہیں بتایا تھا۔۔۔

نِدا بیشک یہ بات نوٹ کر رہی تھی کہ مومنہ پہلے سے بہت کم باتیں کرتی ہے اور زیادہ شوق و ذوق سے بھی اب سیرو تفریح کو نہیں جاتی۔۔۔ورنہ پہلے تو مومنہ جانے اور اُس کی گاڑی لانگ ڈرائیو جانا فیورٹ مشغلہ تھا مومنہ کا۔۔۔

ایک دن نِدا مومنہ سے پوچھتی ہےـ

نِدا: مومنہ کیا دوبارہ کبھی کوئی ایسا واقع پیش آیا جو خواب اور حقیقت سے قریب تر ہو،

مومنہ: کچھ سوچنے کے بعد۔۔۔۔ نہیں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اُس کے بعد۔

نِدا: کیا ولی سے بات ہوتی ہے تمہاری؟

مومنہ: ہاں ایک دو بار فون پر بات ہوئی اور ایک دو بار خواب میں آیا۔۔۔

نِدا: خواب میں، کہیں تمہیں ولی سے محبت تو نہیں ہوگئی؟

مومنہ: ہلکا سا مسکراتے ہوئے اس کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے، محبت مجھے ہے مگر کس سے ہے یہ مجھے نہیں پتہ۔۔۔

نِدا: کس سے کا کیا مطلب، یعنی کوئی اور بھی ہے خیالوں میں؟

مومنہ: اللہ، پتہ نہیں کیوں میرے دل میں ایک احساس پیدا ہوتا ہے کہ مومنہ آگے بڑھو مومنہ اور آگے آؤ

نِدا: تمہارا کہنے کا مطلب ہے کہ تمہیں اللہ سے محبت ہوگئی ہے۔۔۔

مومنہ: اس کے برعکس اللہ سے محبت کا اقرار سب کرتے ہیں مگر سچا کون اپنے اقرار میں یہ کوئی نہیں جانتا۔۔۔اس پر مجھے ولی کی ایک بات بہت یاد آتی ہے،

نِدا: وہ کیا؟

مومنہ: انسان کی محبت کا زاویہ پرکھنا ہو تو دیکھو کہ اُس کو دیکھ کر تمہیں کیا یاد آتا ہے،

جو جس دا عاشق ہوؤے ، او گل اوسے دی کردا

سو سو مکر بہانے کر کے اودھے ای مرنے مردا

جو جس کا عاشق ہوتا ہے وہ بات بھی اُسی کی کرتا ہے، چاہے آپ ہزار کوشش کر لیں وہ کسی نہ کسی طریقے سے اپنی محبوب ترین چیز پر ہی آ جائے گا،

مال و دولت کے شوقین کو ہر وقت پیسہ بنانے کی فکر رہتی ہے۔۔۔۔ اس کے منصوبوں میں سوائے دولت کمانے کے کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ ایک محبوب اپنے محب کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے ہزار جتن کرتا ہے اور پھر اس کے سامنے اس کے محبوب کا نام لے لو تو نکھر جاتا ہے اور بس وہ یہی چاہتا ہے کہ مجھ سے کوئی بھی بات کرے تو بس میرے محبوب کی کرے۔۔۔

اس لیے مجھے ابھی اپنی محبت میں فرق نظر نہیں آرہا۔۔ کیونکہ جتنا مجھے ولی سے بات کرنے کا شوق ہوتا اُتنا ہی دل اللہ کی یاد میں رہنے کو کرتا ہے۔۔۔

نِدا: حیرت سے مومنہ کو دیکھ رہی ہے۔۔۔ مومنہ سچ میں تمہیں محبت ہوگئی ہے۔۔ اتنی گہری باتیں کب سے کرنے لگی۔۔۔

مومنہ: جب سے ہوش میں آئی ہوں۔۔۔

نِدا: کیا رب سب سے محبت کرتا ہے کیا مجھ سے بھی محبت کرتا ہے،

مومنہ: ہاں بالکل وہ سب سے محبت کرتا ہے بس ہم ہی ہیں جو اُس سے بھاگتے ہیں۔۔۔

نِدا: مجھ سے کیسے محبت کر سکتا ہے میں نہ تو نماز پڑھتی ہوں نہ قرآن نہ اُس کو یاد کرتی ہوں۔۔۔ میں تو نافرمان بندی ہوں اُس کی گنہگار سی۔۔۔ یہ بات کرتے کرتے نِدا کا چہرہ اُتر چکا تھا،

مومنہ: نِدا کا ہاتھ پکڑتے ہوئے، یہ ندامت کا احساس بھی اُس کی محبت کی دلیل ہے، میری طرف دیکھو میں کیا تھی تمہارے سامنے تھا سب۔۔۔ ہم کہتے تھے کہ دنیا کی رنگینیاں ہی سب کچھ ہیں۔۔۔ اور ہماری نظر میں دین دار لوگوں کی کچھ اہمیت نہ تھی بلکہ باتیں کرتے تھے۔۔۔سچ ہے یہ۔۔۔ مگر اب دیکھو مجھے اپنی آج کی زندگی اپنی گذشتہ زندگی سے زیادہ حسین لگ رہی ہے۔۔۔

نِدا: ہاں تمہاری اصلاح کے لیے تو ولی تمہارا محسن بن کر آیا بدل دیا اُس نے تم کو۔۔۔ مگر ہماری قسمت اتنی اچھی کہاں مومنہ۔۔۔

نِدا کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر چکی تھی۔۔۔ آج اُس کے دل میں احساس اُبھر رہا تھا کہ وہ غفلت میں ہے کب تک رہے گی کیوں اللہ نے اُس کی اصلاح نہ چاہی۔۔۔ بے شمار خیال دل میں بھرتے نِدا وہیں مومنہ کی گود میں سر رکھے رونے لگ گئی۔۔۔۔

مومنہ: ارے پاگل تُو تو میری جان ہے میری سب سے عزیز میری ہمراز میرا دل ہے تُجھ میں۔۔۔ بھلا کیونکر تم ایسا سوچو گی۔۔۔

مومنہ نِدا کے سر کو اپنی گود میں لیے سوچتی رہی کہ اللہ جب چاہے کسی کے دل کو بدل دے۔۔۔

نِدا مومنہ کی ہی گود میں سو گئی تھی۔۔۔ مومنہ نے بھی اس کو نہیں ہلایا اور وہیں بیٹھی ذکر کرنے لگ گئی۔۔۔

ذکر چلتے پھرتے کرنا مومنہ کا معمول بن چکا تھا۔۔ قرآن کا ایک رکوع وہ روزانہ پڑھ رہی تھی ۔۔۔ آج اُس نے نِدا کے بدلتے دل کو دیکھ کر چاہا کہ ولی سے بات کرے اور دعا کے لیے کہے شاید اللہ ولی کی دعا کو قبول کرتا ہے۔۔۔

مومنہ نے ولی کو کال ملائی۔۔۔

ولی: کال اُٹھاتے ہوئے۔۔۔ السلام عليكم ورحمة الله

مومنہ: وعلیکم السلام ورحمة الله

ولی: کیسی ہو مومنہ تم؟

مومنہ: میں ٹھیک ہوں بس میری کزن آج پریشان ہوگئی تھی۔۔

ولی: ایسا کیوں۔۔

مومنہ: بس ندامت نا فرمانیوں کی۔۔۔

ولی: یہ تو اچھی بات ہے ندامت کا ایک آنسو عبادت کی ریا سے بہتر ہوتا ہے۔۔

مومنہ: جی میں چاہتی تھی آپ اللہ سے دعا کرتے اُس کے لیے۔۔۔

ولی: مسکراتے ہوئے، دعا۔۔۔ میں تم کو ایک روداد سُناتا ہوں۔۔۔

ایک لڑکی تھی بہت حسین اور اُس کے چہرے پر کمال کی معصومیت تھی۔۔۔ مگر تھی وہ ایک ایکٹریس۔۔۔ ایک دن میرے دل میں خیال آیا کہ اتنا خوبصورت معصوم چہرہ، یہ یہاں کیا کر رہا ہے اس کو جنت میں ہونا چاہیے یہ ایسے کام کیوں کر رہی ہے کہ دوزخ میں جلے گی۔۔ بس ایک احساس تھا قدرت کی مصوری کو دیکھ کر۔۔۔

مومنہ: پھر کیا ہوا؟

ولی: اُسی پل میرے مُرشد حاضر ہوگئے اور انہوں نے لکڑیوں کی ایک گانٹھ مجھے تھما دی اور کہا کہ یہ جنت میں لے جاؤ، میں گانٹھ پکڑ لی سب سبز لکڑیاں تھیں، کچھ فاصلے پر میں نے اُن لکڑیوں کو کھول کر بیچھا دیا، اور وہ سوکھ گئی۔۔۔ اُن کے سوکھنے کی دیر تھی کہ بَلا کی سردی کی لہر آئی اور میں وہی لکڑیاں اکٹھی کی اور جلا دیں آگ سیکنے کے لیے۔۔۔ اب پھر مُرشد آگئے کہ کیا یہ آگ جنت ہے ان کی۔۔۔۔؟

میں سمجھ نہ سکا، پھر انہوں نے کہا لکڑی کی جنت آگ ہی ہے کیوں کہ وہ بنی ہی اسی لیے ہے جلنے کے لیے۔۔۔ اللہ کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کرتا۔۔۔ جس نے جو اُس سے مانگا اُس نے وہ دے دیا۔۔ دولت مانگی دولت مل گئی۔۔۔ جنت مانگی جنت مل گئی دوزخ مانگی دوزخ مل گئی اللہ کو مانگا اللہ مل گیا۔۔

مومنہ: گہرائی میں سوچتے ہوئے۔۔۔ ہاں جس نے جو مانگا تھا اُسے وہی مل رہا وہ وہی پا رہا۔۔۔

ولی: تمہاری کزن تمہاری صحبت میں ہے یہ صحبت کا اثر ہے کہ وہ ندامت کے آنسو بہا رہی ہے۔۔۔ اُس کو خود سے دور کرو وہ پھر وہی دنیاداری میں مگن ہو کر خوش رہے گی اور یہ آنسو اُسے مذاق لگیں گے۔۔

مومنہ: نہیں میں ایسا نہیں چاہتی۔۔ میں اُس کو اپنے ساتھ ہی رکھوں گی اگر صحبت سے فرق پڑتا ہے تو میں اپنے ساتھ رکھوں گی اُس کو۔۔۔

ولی: صحبت کا بھی ایک اصول ہے۔۔

مومنہ: وہ کیا؟

ولی: انسان یا صحبت کا اثر لیتا ہے یا صحبت کا اثر دیتا ہے۔۔۔

مومنہ: وہ کیسے

ولی: یہ تمہاری نیت پر ہے اگر تم صحبت کا اثر دینے کی نیت کرو گی تو وہ اثر پائے گی۔۔۔نہیں تو نِدا کی صحبت کا اثر تم پر آ جائے گا، جیسا پہلے ہوا تھا۔۔

مومنہ: کیا ہوا تھا پہلے؟

نِدا: جب تمہارے سینے کا چراغ روشن ہوا تھا اور تم غفلت میں چلی گئی تھی کیونکر گئی تھی؟

مومنہ: وہ تو وہ تو نِدا کی باتوں میں آکر۔۔۔۔

ولی: اللہ کرم فرمائے گا تم پر بھی نِدا پر بھی۔۔۔آمین

مومنہ: میں بھی تو ایسے ہی تھی پہلے۔۔۔

ولی: ہو سکتا ہے۔۔۔ کہا تو تھا کہ راز کے اندر راز ہے۔۔۔ ہم راستہ متعین نہیں کرتے ہم صرف خواہش کر سکتے ارادہ نیت کر سکتے۔۔ اللہ کو سب پتہ ہمارے حال کا بھی قال کا بھی۔۔۔ وہی کارساز ہے ساری کائنات کا بہترین کارساز کہ ہر چیز اپنے وقتِ مقرر پر ظہور پذیر ہوتی ہے۔۔۔۔ کائنات کا نظام۔۔۔۔ وہ قادر ہے مومنہ جب چاہے جس وقت چاہے جو کر دے۔۔ تم مانگو اُس سے وہ دے گا ضرور دے گا۔۔۔

مومنہ: جی اور کال بند کرتے ہوئے۔۔۔۔

مومنہ گہری سوچ میں گُم اور خود سے بولنے لگی، کاش ولی بولتا رہے اور میں سُنتی رہوں اور خُود کو اُس میں گُم کر لوں۔۔۔ پتہ نہیں کیا ولی بھی میرے بارے میں سوچتا ہوگا؟ کیا ولی کو محبت ہو سکتی ہے کسی سے؟

خود ہی خود کو جواب دیتے ہوئے۔۔۔۔ کیوں نہیں ہو سکتی آخر وہ بھی ایک لڑکا ہے انسان ہے میری مدد کے لیے آیا۔۔۔ میری محبت اُس کے دل میں ہوگی تو آیا نا۔۔۔ اے کاش کے ولی خود مجھ سے بول دے کہ مومنہ مجھے تم سے محبت ہے۔۔۔ تو میں اپنا دل ولی کے سامنے کھول کر رکھ دونگی کہ دیکھو اس میں آپ کی محبت کے سوا رہا کچھ نہیں۔۔۔

دوسری طرف ولی اپنے دوست وقار کو محبت کی ایک نصیحت کر رہا تھا۔۔۔

ولی: اگر ہم محبت کرنے کے بعد بھی نہ بدلیں تو گویا ہم نے سچی محبت کی ہی نہیں۔۔۔

یہ بات کرتے ہوئے ولی ایک گہری سوچ میں تھا ایسے کہ وہ اتنی دور سے مومنہ کے دل کو پڑھ رہا تھا جو وہ سوچ رہی تھی۔۔۔۔

جاری ہے

Share this post


Link to post

چراغِ دل: پارٹ 10

مومنہ: مومنہ اپنے دل میں بھڑکتی ہوئی آگ کو محسوس کر رہی تھی، اور یہ ولی کے لیے محبت کی آگ تھی جو اُس کو ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنے حِصار میں جَھکڑ رہی تھی۔۔۔

مومنہ نا چاہ کر بھی اس جذبے کو پروان چڑھتا دیکھ رہی تھی، نا وہ کسی کو بتا سکتی تھی نہ ولی سے اظہار کر سکتی تھی، کیونکہ کبھی بھی اُس کی باتوں میں مومنہ سے لگاؤ کی جھلک محسوس نہیں ہوئی۔۔۔

نِدا: مومنہ کو مغموم بیٹھا دیکھ کر اس کے پاس آ بیٹھی اور مومنہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا، مومنہ کیا چیز ہے جو تم کو اندر ہی اندر سوچنے پر مجبور کر رہی ہے۔۔۔

مومنہ: ایک آنسو مومنہ کی آنکھ سے لڑی کی طرح بہہ کر گالوں کی گرمی کو محسوس کرتا ہوا دامن میں جا گِرا۔۔۔ اور بس اتنا کہا۔۔۔ " محبت" محبت وہ جذبہ ہے جو مجھے مغموم کر رہا ہے۔۔۔ نِدا یہ محبت انسان کو کیوں جھکڑ لیتی ہے اور یاد کے ایک پنجرے میں قید کر لیتی ہے۔۔۔ انسان پھڑ پھڑاتا ہےمگر کر کچھ نہیں پاتا۔۔۔

نِدا: تو اس آگ میں جلنا ہی کیوں؟ بہتر نہیں انسان اس جذبے سے دور ہی رہے۔۔

مومنہ: یہ وہ آگ ہے جو لگائی نہیں جاتی، محبت ایک عطیہ ہے جس کو عطا ہوتا ہے وہ جل کر راکھ بنتا ہے یا پھر کندن بن جاتا ہے۔۔۔

نِدا: تمہاری باتیں تم ہی جانو۔۔۔

مومنہ: ایک گہری نظر آسمان کی بلندیوں میں گاڑھتے ہوئے۔۔۔ اب پتہ نہیں میں جل کر راکھ بنتی ہوں کہ کندن۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسری طرف ولی اپنے کھیتوں میں زمیں کی سطح ہموار کر رہا تھا اور مٹی کو بُھربُھرا کر رہا تھا۔۔ ایک مُٹھ مٹی ہاتھ میں پکڑ کر اُس کو آہستہ آہستہ زمین پر گِراتے ہوئے انسان اِسی مٹی سے اُٹھا اور اِسی مٹی میں سما جائے گا، ہم کیا لے کر جاتے ہیں ساتھ، مٹی اپنے وجود کو ڈھانپنے والی ہر چیز کو اپنے اوپر ہی چھوڑ کر بس ایک ڈھیلے کو قبول کرتی ہے۔۔۔ پھر انسان اس قدر کیوں اپنے وجود کو ڈھانپنے کی جدوجہد میں لگا رہتا ہے۔۔۔

پھر ایک گہری سوچ کے بعد۔۔۔ ہم زمین کو نرم کرتے ہیں اس میں کھاد ڈالتے ہیں پانی سے تَر رکھتے ہیں کہ زمیں نرم رہے اور فصل اچھی پیدا ہو۔۔۔ کیا سخت اور بنجر زمین جس پر محنت نہ کی ہو کیسے سر سبز ہو سکتی ہے۔۔۔

ہمارا دل بھی اِسی زمین کی طرح ہے۔۔۔ دل پر بھی اگر محنت نہ کی جائے تو وہ بنجر ہو جاتا ہے۔۔۔اِس لیے ہر حال میں محنت کرنی ہے کہ دل گُداز رہے نرم رہے کہ جب فصل پروان چڑھے تو کاشت کار اپنی فصل کو دیکھ کر مسکرا سکے۔۔۔

ولی کہیں نہ کہیں ساری باتیں مومنہ کے اندر پیدا ہونے والے ارتعاش کو پڑھ کر کر رہا تھا۔۔۔ اور وہ محسوس کر رہا تھا کہ مومنہ مشکل ترین لمحات سے گزر رہی ہے۔۔۔ کہ دل اور محبت کا راستہ بڑا کٹھن ہوتا ہے اور مشکل راستوں کو طے کر کے ہی خوبصورت منزل ملتی ہے۔۔۔ منزل پر پہنچ کر کوئی پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھتا کہ وہ کس حال میں یہاں پہنچا۔۔۔منزل کا حصول ہی اُس کی تمام تکلیفوں کا مداوہ کر دیتی ہے۔۔۔

مومنہ: رات کو گہری نیند میں سو رہی تھی وہ خوابوں کی دنیا میں غوطہ زن ہو گئی۔۔۔

وہ دیکھتی ہے کہ وہ ننگے پاؤں ننگے سَر ہے اور ایک ویران جنگل میں سوکھے درختوں کے بیچ ہے زمین اس قدر سخت ہے کہ اس کی سختی سے پھٹی ہوئی ہے جگہ جگہ سے، اور بہت زیادہ گرم ہے وہ جگہ۔۔۔ جگہ جگہ سے دُھواں نکل رہا ہے، مومنہ بھاگ رہی ہے اِدھر اُدھر زمین کی سختی اور گرمی سے مومنہ کے پاؤں جل رہے ہیں وہ بھاگ رہی کے کوئی راستہ مل جائے کہ وہ نِکل سکے یہاں سے۔۔ مگر ہر طرف ایک سا منظر ہے وہ تھک جاتی ہے بھاگ بھاگ کر اُس کےپاؤں زخمی ہیں جل رہے ہیں گلہ اور زبان خشک ہو رہے ہیں پیاس سے اور مومنہ کبھی ایک درخت سے ٹیک لگاتی ہے کبھی دوسرے سے مگر رکتی نہیں۔۔۔ اچانک ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگاتی ہے مگر وہ گِر جاتی ہے اور بے ہوش ہو جاتی ہے اچانک وہ دیکھتی ہے ایک ہاتھ نمودار ہوا اس نے مومنہ کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا مومنہ کو۔۔۔ ساتھ ہی مومنہ کی آنکھ کُھل گئی اُس کا وجود پسینے سے شرابور تھا پیروں میں جلن محسوس ہو رہی تھی گلا پیاس سے خُشک تھا۔۔۔ مومنہ اُٹھی پانی پیا اور واپس آ کر بیٹھ گئی اور ولی کا بتایا ہوا ذکر پڑھنے لگ گئی۔۔۔

اُس کو پھر نیند کا غلبہ محسوس ہوا تو وہ لیٹ کر سو گئی۔۔۔

آنکھ لگتے ہی اُس نے خواب دیکھا کہ وہ ایک جھیل کے کنارے ہے اور اُس کے کنارے سے ذرا ہٹ کے ایک درخت ہے جس کے نیچے کوئی بیٹھا ہوا ہے رات کا سماں ہے اور نورانی روشنی آسمان کو خوبصورت بنائے ہوئے ہے چاند اور تارے جگ مگا رہے اور جھیل سے ٹھنڈی ہوا وجود کو سیراب کر رہی ہے۔۔۔

مومنہ اُس درخت کی طرف چل دیتی ہے۔۔ قریب جاتی ہے تو دیکھتی ہے کہ بیٹھی ہوئی شخصیت ولی کی ہے۔۔۔ مومنہ ولی کو دیکھتے ہی پاس جا کر بیٹھ جاتی ہے۔۔۔

ولی: مومنہ کو دیکھ کر مسکرا رہا ہوتا ہے اور کہتا ہے پہنچ گئی تم یہاں؟

مومنہ: آپ کو کیسے پتہ کہ میں یہاں آنا تھا

ولی: مسکراتے ہوئے جیسے مجھے یہ پتہ کہ تم ابھی ایک ویران اور بنجر جگہ سے گزر رہی تھی۔۔۔

مومنہ: یہ کیسی حالت ہے؟

ولی: یہ محبت کی جنگ ہے جو تم لڑ رہی ہو۔۔۔ اب دیکھتے ہیں کون جیتتا ہے کون ہارتا ہے

مومنہ: تو کیا آپ مجھے ہارنے دو گے؟

ولی:ایک لمبی چُپ کے بعد، میں فقط ایک روشنی ہوں ادنٰی سی اُس چراغ کی جس کو اللہ نے اپنے حبیب حضرت محمدﷺ کی صورت میں روشن کی جلایا جو نُور عطا کر رہے سارے جہان کو۔۔

وہ جس پر چاہے اپنے نور کی کرنیں ڈال دیں اور منور کر دیں۔۔۔ راستے کو روشن کرنا کام ہے ہمارا۔۔۔ گرنے والوں کو سنبھالنا اُن کو پانی پلانا بس اتنا سا کام ہے باقی کا سفر انسان خود طے کرتا ہے،

مومنہ: یعنی میں تنہا نہیں ہوں

ولی: ایک پیالہ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اُٹھتا ہے اور جھیل کے کنارے پر بیٹھ کر پانی سے بھرتا ہے اور لا کر مومنہ سے کہتا ہے یہ لو اس کو پی لو۔۔ پی لو کہ تمہارے دل کو تسکین ملے جو آگ بھڑک رہی ہے وہ بُجھ جائے جو زمین سخت ہوگئی ہے وہ سیراب ہو کر نرم ہو جائے اور سوکھے ہوئے درخت سر سبز ہو جائیں اور زمین سبزہ اُگا دے تاکہ چلنے والوں کے پیروں کو کوئی تکلیف نہ پہنچیں۔۔۔

مومنہ: پیالہ ولی سے پکڑ کر پانی پیتے ہوئے محسوس کرتی ہے کہ پانی وجود میں ایک تازگی بخش رہا ہے۔۔ مومنہ پانی پی کر پیالہ ہٹاتی ہے تو دیکھتی ہے کہ ولی وہاں موجود نہیں ہے۔۔۔

مومنہ مُسکرا دیتی ہے اور رب کا شُکر ادا کرتی ہے کہ اُس نے ولی کی صورت میں ایک مُحسن عطا کیا اُس کو۔۔

صبح مومنہ بیدار ہوتی ہے تو ہشاش بشاش سی صورت اور چمکتی آنکھوں کے ساتھ مہک رہی ہوتی ہے۔۔۔

اُسے محسوس ہوتا ہے کہ پانی نے اُسے سیراب کر دیا اور وہ اب سر سبز ہے۔۔۔

نِدا: نِدا بھی مومنہ کے اس چمکتے چہرے کو دیکھ کر کہتی ہے واہ جی آج تو آپ دنیا کی حسین ترین لڑکی لگ رہی ہیں۔۔۔

مومنہ: مسکراتے ہوئے بات ہی کچھ ایسی ہے۔۔

پھر مومنہ ولی کو کال کر کے رات کے خواب کا بتاتی ہے۔۔۔

ولی: مسکراتے ہوئے بس ایک ہی بات کہتا ہے۔۔۔شکر الحمدللہ اللہ نے کرم کیا تم پر اور اپنی رحمت سے نوازہ تم کو۔۔۔

مومنہ: جی صحیع فرما رہے آپ۔۔۔

ولی: سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ دُنیا میں دو قوتیں کارفرما ہیں ایک روحانی قوت ایک شیطانی قوت۔۔۔

انسان پر دونوں قوتیں ہر وقت کارفرما ہوتی ہیں۔۔ روحانیت بھی شیطانیت بھی۔۔۔ بس جو قوت جیت جائے انسان اُس کا پیرو کار ہو جاتا ہے۔۔۔

مومنہ: یہ ایسا کیوں ہے رب سب کو ایک سا بنا دیتا۔۔۔

ولی: اس میں بھی رب کا علم اور حکمت شامل ہے۔۔۔

اگر دنیا میں سبھی نیک ہو جائیں گے تو کوئی کیسے کسی کو کہے گا کہ میں نیک ہوں۔۔۔۔ بُرے انسان ہوں گے تو نیکوں کی پہچان رہے گی۔۔۔ انسان دوئی میں زندگی گزار رہا ہے۔۔۔

ہم ناموں سے پہچانے جاتے ہیں کہ یہ مومنہ ہے یہ ولی ہے یہ صفدر ہے یہ رام داس ہے۔۔۔ اگر نام نہ ہوں تو پھر مذہب پہچان ہے یہ ہندوں ہے یہ مسلم ہے یہ عیسائی ہے۔۔۔ اگر ہم مذہب کو بھی ختم کر دیں تو ایک مرد اور ایک عورت پہچان رہ جاتی ہے اگر ہم اس کو بھی ختم کر دیں تو بابا آدم علیہ السلام کا پُتلا رہ جاتا ہے اگر ہم اُس کو بھی ختم کر دیں تو باقی بس ایک اکائی بچتی ہے وہ واحدہ لا شریک ذات۔۔

جب تک ہم دوئی کے سفر پر ہیں ہم خیر و شَر سے لڑ رہے ہیں۔۔۔

ہم دنیا میں سب الگ الگ جان نظر آتے ہیں مگر آسمان سے دیکھو تو ساری زمین ایک جان نظر آتی ہے۔۔۔

بس اِسی ایک جان کو پانے کا سفر ہے یہ۔۔۔

مومنہ: ایک لمبی آہ بھرتے ہوئے اِس نُقطے کو سمجھنے کے لیے ایک طویل سفر درکار ہے۔۔۔

ولی: بس اپنے دل کا راستہ اپناؤ سفر طویل بھی پلوں میں گزر جاتا ہے۔۔

کیا رب یہ نہیں کہتا، کہ میں تمہاری شہء رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں۔۔۔۔

اب انسان ہی اپنا فاصلہ بڑھا لے تو اُس کی مرضی۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

Share this post


Link to post

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...