Jump to content
URDU FUN CLUB
Story Maker

کلی اور کانٹے از زاہد ملک

Recommended Posts

کلی اور کانٹے 
قسط نمبر 1
تحریر زاہد ملک۔۔۔۔
دیہاتی لڑکی کی انہی ابتدائی قسطوں کی اشاعت میں جب کہانی میں سائقہ کی انٹری نے رنگ بھر دئیے مجھے انباکس میں سینکڑوں مسیج موصول ہو رہے تھے جن کو چیک کرنا اور ان کا ریپلائی دینا ممکن نہیں رہا تھا آنے والے مسیجز میں اکثریت لڑکیوں کی تھی اور میں اکثر اوقات مسینجر کو نظرانداز کر رہا تھا کیونکہ میسجز میں الجھ جاتا اور میں دیہاتی لڑکی کی اقساط ٹائپ نہیں کر سکتا تھا مسینجر پر مسلسل آنے والے ایک آئی ڈی سے میسج چیک کئے یہ دو روز میں اس کا 21 میسج تھا جس میں  plz bat sunen., لکھا تھا میں نے اس کو ریپلائی دے دیا اور اس کے جواب کا انتظار کرنے لگا رات گئے اس نے میسج آنا شروع ہو گئے میرا ضروری ڈیٹا معلوم کرنے کے بعد اس نے بتایا کہ میرا نام ارم ہے ۔۔ارم کی عمر 25 برس تھی وہ ایک غریب گھر سے تعلق رکھتی تھی اور اپنے باپ بھائیوں کی مالی معاونت کرنے کے لئے سلائی کا  کام کرتی تھی ارم نے میٹرک کے بعد سے ہی سکول چھوڑ دیا تھا ارم احساس سے بھرپور ایک سنجیدہ لڑکی تھی ارم نے مجھے ایک لڑکی کے بارے میں بتانا شروع کر دیا تھا یہ نازیہ تھی ارم کے ساتھ والے گھر میں تقریباً چھ ماہ سے قید تھی نازیہ کی عمر 17 سال تھی ارم کے مطابق نازیہ بربادیوں کا سامنا کرتے ہوئے آج بھی کانچ کی گڑیا تھی ارم نے بتایا کہ ایک پچاس سال کا نصیر نامی شخص اس کو یہیں رکھ کر اس کو گزشتہ چھ ماہ سے زیادتی کا نشانہ بنا رہا ہے یہ مکان نصیر نامی اس شخص کا ہی ہے جہاں پہلے کرایہ دار آتے رہتے تھے ارم کا گھر اس کے ساتھ تھا جبکہ اس کوچے میں باقی گھروں میں بھی چھوٹے مکان تھے اور ان سب میں کرایہ دار رہتے تھے نصیر ایک بدمعاش ٹائپ کا بندہ تھا اور علاقے میں کوئی اس کا سامنا نہیں کرتا تھا ارم اپنے گھر کے باتھ روم میں لوہے کی بالٹی الٹی رکھ کر اس پر کھڑی ہو کر اس خاص وقت میں ہاتھی کے نیچے مسلتی کلی کو دیکھتی رہتی تھی اور چار ماہ بعد ہر وقت روتی نازیہ کو دیکھ ایک دن ہمت کر کے کاغذ پر لکھی ایک تحریر اسی سوراخ سے اس وقت نصیر نامی اس شخص کے گھر میں ڈال دیا جب نازیہ اسی بڑی دیواروں والے مکان کے صحن میں ٹہل رہا تھی ۔۔ سوراخ میں گولائی میں لپٹے اس کاغذ کو آگے کیا اور جھاڑو سے لمبی تیلی نکال کر اسے آگے کر کے صحن میں گرا دیا نازیہ نے گرتے کاغذ اور دیوار سے آگے آنے والی جھاڑو کی تیلی کو دیکھ لیتا تھا اور مکان کے گیٹ کو اور اس سوراخ کو دیکھتی خوفزدہ انداز میں کاغذ کی جانب لپکی تھی وہ کاغذ اٹھ کر پیچھے اس دیوار کے پاس جا کھڑی ھوئی جہاں پہلے کھڑی تھی ارم نے جب دیکھا کہ وہ کاغذ لکھی تحریر پڑھ رہی ہے ارم نے ایک سفید کاغذ اور بال پین سے ریفل نکال کر پہلے کی طرح اسی سوراخ سے گرا دیا ۔۔۔۔ پلستر کے بغیر دو اینٹوں کے درمیان تقریباً آدھے انچ کے قریب اس سوراخ نے ارم اور نازیہ کا رابطہ بحال کر دیا تھا میں دن میں اپنی رائل سٹوری دیہاتی لڑکی کی قسط ٹائپ کر سکتا تھا اور زیادہ وقت ارم کو دے رہا تھا وہ مجھے لمحہ با لمحہ آگاہ کر رہی تھی ارم اور میرا رابطہ صرف میسنجر پر چل رہا تھا اور اسی دوران میری chach chudaku کے نام کی آئی ڈی بلاک ہو گئی جس سے میں دیہاتی لڑکی کی اقساط شئیر کر رہا تھا میں بہت پریشان ہو گیا تھا کہانی سے زیادہ مجھے ارم سے رابطہ منقطع ہونے کا بہت افسوس تھا نازیہ ایک کلی تھی جو اذیتوں کا شکار ہو گئی تھی میں نے اس کی مدد کرنے اور اس بدمعاش نصیر سے ٹکرا جانے کا عہد کر لیا تھا شاکرہ اور سائقہ مجھے اپنی صحت پر توجہ دینے کی ہدایات دے رہی تھی لیکن میں بہت اپ سیٹ ہو چکا تھا اس آئی ڈی کے بلاک ہو جانے والا دن میرے لئے شفقت کے تھپڑ سے بھی زیادہ بھاری تھا سائقہ کی ایک کلاس فیلو شانزہ جو کہانی سے پہلے ہی واقف تھی مجھے ایک آئی ڈی واٹس ایپ پر گفٹ کر دی تاکہ میں دیہاتی لڑکی کی باقی اقساط شئیر کر سکوں مجھے ارم کی آئی ڈی نہیں مل رہی تھی بہرحال میں پہلے والے گروپ میں اپنی کہانی کی باقی اقساط شئیر کرنا شروع کر دیں اور ارم نے مجھے ڈھونڈ لیا تھا اس سے پہلے کہ میری یہ آئی ڈی بلاک ہو میں فوری طور پر اپنا واٹس ایپ نمبر اسے سنڈ کر دیا ۔۔۔۔ میں ارم سے مسلسل رابطے میں تھا باقی کے حالات بتانے سے قبل میں نازیہ کی کہانی اسی کی زبانی سنانے چلا ہوں اس عرض کے ساتھ کہ کہانی پر تبصرے کے کمنٹس مجھے اچھے لگتے ہیں کہانی شئیر کرنے کا مقصد محبتوں کو عام کرنا مصائب سے سب کو آگاہ کرنا اور کسی کی صحیح رہنمائی کرنے میں خوشی محسوس کرتا ہوں کہانی کی قسط اپنے وقت پر شئیر کرتا ہوں اور مجھے وہ شخص بہت برا لگتا جو کہانی پڑھنے کے فوراً بعد صرف next کا کمنٹ کرتے ہیں ۔۔۔ نازیہ کی زبانی کہانی کی طرف بڑھتے ہیں ۔۔۔۔ میں ایک پرائیویٹ سکول میں کلاس 8th کی سٹوڈنٹ تھی اس وقت میری عمر 13 برس تھی میں نہ صرف اپنی فیملی بلکہ سکول میں بھی سب سے پیاری لڑکی سمجھی جاتی تھی میرے ابو جنوبی کوریا میں کافی عرصے سے کام کرتے تھے میرا ماموں اور انکی اہلیہ ہمارے گھر رہتے تھے میرے ماموں کا کوئی خاص کاروبار نہیں تھا اور انکی اولاد بھی نہ ہو سکی تھی ماموں مجھے موٹرسائیکل پر سکول پہنچاتے اور وہاں سے لے جانے کے ساتھ گھر کے دیگر کام بھی سرانجام دیتے تھے یہ مارچ 2016کا آخری ہفتہ تھا جب میرے والد کچھ ماہ کے لئے گھر آئے تھے اور میرے لئے سامسنگ کا ایک سل فون لائے تھے میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی وہ میرا ہر لحاظ سے خیال رکھتے تھے ابو کے موبائل لانے کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ میسنجر یا وائس ایپ پر کال کے ذریعے ہم سے رابطے میں رہیں گے ابو نے مجھے میسنجر اور واٹس ایپ پر کال کرنا سکھا دیا تھا میں گھر آ کر موبائل کو زیادہ وقت دینے لگی تھی ابو کی جہاں موجودگی تک میں گیمز تک محدود رہی تھی اور ان کے جانے کے بعد میں فیسبک پر آگے بڑھنے لگی تھی سکول میں شکیلہ میری سب سے اچھی دوست تھی وہ بھی فیسبک کے ساتھ واٹس ایپ بھی استعمال کرتی تھی اور مجھے بھی جہاں بہت کچھ سکھا رہی تھی میرے ساتھ بہت سے انجان فرینڈز ایڈ ہو گئے تھے اور سیکنڑوں فرینڈز کے ساتھ شکیلہ اور سکول کی چند لڑکیوں کے ساتھ بلال بھی ایڈ ہو گیا تھا بلال ہمارے سکول میں کلاس 10 میں تھا اس کی شکیلہ سے بھی دوستی تھی اور شاید شکیلہ کی نشاندہی پر ہی اس نے مجھے فرینڈ ریکوسٹ بھیجی تھی کیونکہ میری آئی ڈی فرضی نام سے تھی اور بلال کبھی نہ جان پاتا کچھ عرصہ قبل تک بلال نے مجھ پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کی تھی اور میرے مسلسل رد کرنے پر وہ کچھ عرصے سے دوسری لڑکیوں کی طرف متوجہ ہو گیا تھا سکول میں اس کے بہت سی لڑکیوں کے ساتھ دوستی تھی میں نے کبھی کسی کو سیکس کرتے یا سیکس موویز کبھی نہیں دیکھی تھی شکیلہ میرے سے شاید چھ ماہ چھوٹی تھی اور سمارٹ تھی جبکہ میرا جسم بھرا بھرا تھا شکیلہ کچھ عرصے سے مجھے بلال کے ساتھ سیکس کے مزے لینے کی داستانیں سناتی رہی تھی مجھ میں تھوڑا شوق پیدا ہو گیا تھا لیکن کسی خوف کی وجہ میں اس خیال کو ذہن سے نکال چکی تھی شکیلہ نے مجھے ایک دو بار بولا کہ آپ مزہ لینا چاہو تو میں بلال سے بات کر لیتی لیکن میں نے اسے منع کر دیا رات دیر تک میں مسینجر پر شکیلہ سے چیٹنگ کرتی رہتی تھی کل سنڈے تھا اور میں امی سے دو فٹ کے فاصلے پر بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی میں نے ہینڈ فری لگایا ہوا تھا اور شکیلہ کا وائس میسج سننے کے بعد میں اس کو میسج ٹائپ کر رہی تھی امی کے ساتھ سونے کی وجہ سے میں اسے وائس نہیں کر رہی تھی مجھے نیند آنے لگی تھی اور شکیلہ نے بھی کہا کہ میں سونے لگی ہوں ایک مزے کی چیز سنڈ کر رہی ہوں اسے دیکھ کر آپ سو جانا ۔۔۔ آنے والی ویڈیو میں ایک بلیک اور جسامت میں کافی بڑا ٹیچر کلاس میں بوائز گرلز کو پڑھا رہا تھا پھر کلاس کے تمام سٹوڈنٹ چھٹی ہونے پر کلاس سے جانے لگے ٹیچر بھی اپنا سامان اٹھانے لگا تھا کلاس روم کی آخری کرسیوں پر ایک لڑکی اپنا سامان سنبھال رہی تھی جبکہ باقی سٹوڈنٹ کلاس سے جا چکے تھے لڑکی جیسے کلاس روم سے نکلنے لگی تھی اس بلیک ٹیچر کی نظر اس کے مٹکتے ہپس پر پڑی اور پھر اس نے لڑکی کو آواز دے کر بلا لیا تھا اور اس سے کوئی بک نکالنے کا بولا رفتہ رفتہ ٹیچر اس کی ران پر مساج کرنے کے بعد بڑھنے لگا تھا وہ کسنگ کرنے لگا تھا اور میرا دل آواز سے دھڑکتے لگا میں نے اپنا سر اوپر اٹھا کر امی کو دیکھا وہ سو رہی تھی یہ سب میں پہلی بار دیکھ رہی تھی جس پر میری حیرت کے ساتھ میری بےتابی بڑھنے لگی تھی ٹیچر نے اس گوری چھوٹی لڑکی کے سارے کپڑے اتار دئیے تھے اور اسے اپنی ٹیبل پر لٹا دیا تھا ٹیچر ٹیبل کے ساتھ بیٹھ کر اس لڑکی کی ٹانگیں کھولتا ہوا اس کی  ببلی پر اپنے ہونٹ رکھ کر اسے چوسنے لگا تھا اور اسی لمحے میں بےقابو ہو چکی تھی میرا بدن لرزنے لگا تھا اور میری ببلی پھٹک پھٹک کرکے اندر باہر ہونے لگی تھی میری آنکھوں کے آگے کچھ لہرا رہا تھا میں کبھی اپنی آنکھیں بند کرتی تو کبھی سر اٹھا کر امی کو دیکھنے لگتی مجھے احساس ہو گیا کہ میرا جسم بری طرح لرز رہا ہے اور شاید امی اٹھ جائے میں نے ایک دم موبائل کو بند کر دیا اور خود کو سنبھالنے لگ گئی لیکن مجھ میں بےتابی بڑھ چکی تھی اس سے آگے ٹیچر کیا کرتا ہے اسی جستجو میں میں نے ایک بار پھر سے موبائل کو لیکر صوفے پر چلی گئی تاکہ میرے لرزنے سے امی نہ اٹھ جائے ۔۔ میں نے ایک بار پھر سے شکیلہ کی سنڈ کی گئی مووی دیکھنی شروع کر دی ٹیچر نے اپنے کپڑے بھی اتار لئے اس کا بڑا کالا ببلو سخت ہو رہا تھا گوری اس کا ببلو اپنے ہاتھوں میں بھر کر کسی میٹھی چیز کی طرح چوسنے لگی تھی میں بےحال ہو چکی تھی میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ میں روم سے نکل کر اڑتی ہوئی سر امجد کے پاس جا پہنچو مووی میں نظر آنے والی لڑکی کو میں خود اور اس ٹیچر کو سر امجد تصور کر رہی تھی سر امجد بھی اس ٹیچر کی طرح کالے اور بڑی جسامت کے ٹیچر تھے اور وہ ہمیں انگلش پڑھاتے تھے بلیک ٹیچر نے اپنا ببلو گیلا کر کے آرام سے اس چھوٹی گوری لڑکی کے اندر اتار دیا تھا حقیقت میں یہ کیسا مزہ ہو گا جسے دیکھ کر ہی میں اس حال تک پہنچ گئی تھی کہ میں صوفے پر اسی گوری کی طرح لیٹ کر اس کے جیسے اپنی ٹانگیں اٹھا چکی تھی اور اپنی ٹانگوں کو حرکت دے کر اپنے ہپس پر مارنے لگی تھی۔۔۔ مووی کے اینڈ ہونے سے قبل میرا موبائل بیٹری ڈاؤن کا آپشن دیتا آف ہو گیا تھا میں کافی دیر بےجان سی ساکت پڑی رہی میں بھی فوری طور پر ایسا کرنا چاہتی تھی میرے ذہن میں صرف سر امجد کا چہرہ گھول رہا تھا ۔۔ بہت دیر بعد امی نے کروٹ لی اور میں آہستہ سے اٹھ کر موبائل چارجنگ پر لگاتے ہوئے واش روم سے ہو کر امی کے ساتھ سو گئی سر امجد کے خیالوں میں جانے کب آنکھ لگ گئی صبح میری آنکھ ایسے کھلی جیسے سر امجد نے مجھے کلاس روم سے نکلتے ہوئے پیچھے سے آواز دی ہو ۔۔۔ میرا بدن ٹوٹ رہا تھا امی روم سے جا چکی تھی میں نے فوراً موبائل اٹھایا اور ایک بار پھر مووی دیکھنے لگی دروازہ کھلنے پر میں نے موبائل کو سائیڈ پر رکھ دیا امی کمرے میں آتی ہوئی بولی نازی خیر تو ہے آج کیوں دیر تک سو رہی ہو پھر امی نے میرے ماتھے پر ہات رکھا اور اوہ ہ ہ ہ میری گڑیا کو تو بخار ہوا ہے ۔۔۔ واقعی مجھے احساس ہوا کہ میرا جسم تپ رہا ہے اور مجھے اپنا جسم ٹوٹا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔ امی نے مجھے بخار کا سیرپ پلا دیا اور آرام کا کہہ کر باہر چلی گئی میں بار بار اس مووی کو دیکھ کر پاگل ہو رہی تھی مجھے آج کا سنڈے بہت بھاری لگ رہا تھا میں چاہتی تھی کہ سکول جاؤں اور کلاس روم سے نکلتے وقت سر امجد مجھے آواز دے کر بلا لے اور اس گوری کی طرح سارا دن ایسا کرتا رہے ۔۔شکیلہ دو بجے کے بعد آن لائن ہو گئی اور بتانے لگی کہ آج گھر والے نہیں تھے اور اپنے گھر کے گارڈ کو لفٹ دیکر اس کے موٹے ببلو کا مزہ لے لیا ہے میں کچھ زیادہ بے چین ہو گئی تھی شکیلہ مجھے انگریز لڑکی لگنے لگی تھی اور میں افسوس کر رہی تھی کہ میں نے شکیلہ کو بلال کے ساتھ سیکس کرنے کی بات پر منع کیوں کیا تھا میں اب شکیلہ سے کیسے کہوں کہ مجھے کرنا ہے میں شکیلہ سے چیٹینگ کرتے ہوئے اس میسج کے انتظار میں تھی کہ شکیلہ بولے کہ ابھی ماموں کے ساتھ میرے گھر آ جاؤ اور ہمارے گارڈ کا مزہ لو ۔۔ گو کہ میں کلاس میں سب سے ذہین لڑکی  تھی لیکن آج میں خود کو بے عقل اور شکیلہ کو تیز لڑکی سمجھ رہی تھی رات گئے شکیلہ نے ایک اور مووی سنڈ کر دی تھی میری ببلی گیلری ہونے کے ساتھ مسلسل مچل رہی تھی صبح میں نے وقت سے پہلے سکول کی تیاری کر چکی تھی میرا دل چاہتا تھا کہ میں جاتے ہی سر امجد کو خود بول دوں اور اسے پکڑ لوں ۔۔۔ سکول جا کر میں اپنے ہر ٹیچر کو اس امید پر دیکھ رہی تھی کہ کوئی مجھے اپنے پاس بلا لے گا میں بےتابی سے سر امجد کو دیکھتی تھی اور وہی پہلی سیکس مووی میرے حواس پر چھائی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ (جاری ہے )

Share this post


Link to post

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ تاکہ یہ گناہ جاریہ نہ بنے ۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر سے بھی شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین بھی ہو سکتا ہے۔ ڈیٹا شیئر کرنے والہ ممبراس بات کا عملی اقرار کرے گا کہ وہ بروز قیامت فورم انتظامیہ، سٹوری رائیٹر اور فورم ایڈمن کے تمام گناہوں کا اکلوتا وارث ہو گا ۔ اور بروز قیامت اپنی تمام نیکیاں (جو بھی اس کے نامہ اعمال میں ہوئیں ) بروز قیامت مجھے دینے کا پابند ہو گا۔ اگر کوئی ممبر اب بھی ایسا کرتا ہے اور گناہ جاریہ کا سبب بنتا ہے ۔ تو اس شرط کو ایگری کرتے ہوئے شیئر کر سکتا ہے ۔ فورم کو اس ایگری منٹ پر اجازت دینے میں کوئی اعتراض نہیں ۔ ایڈمن اردو فن کلب

کلی اور کانٹے 
قسط نمبر 2
تحریر ۔۔ زاہد ملک
کتابوں کے ورق پر وہی مووی چلنے لگتی میرے ہاتھ بےاختیار اپنے چھوٹے بوبز اور ببلی کی طرف چلے جاتے کلس روم کے فرنٹ پر پڑی ٹیچر ٹیبل مجھے اپنے سکون کا مسکن دکھنے لگی تھی میں بہت بے چین تھی سر امجد کو دیکھ میری ببلی۔پھٹک پھٹک کرتی خود بخود اندر باہر ہونے لگتی تھی میرا قد اس وقت چار فٹ تھا اور سر امجد چھ فٹ سے بھی زائد کے تھے اور مجھے سر امجد کے ساتھ مووی والا سین بنتا دیکھائی دے رہا تھا اس وقت میرے بوبز چھوٹے تھے اور میں بریزر نہیں پہنتی تھی آج میں شکیلہ کے بریزر میں بند بوبز اور پیچھے کو نکلے ہپس بہت اچھے لگ رہے تھے شکیلہ مجھے گارڈ سے گزشتہ روز سیکس کرنے کی کہانی سناتی اور مجھے بےتاب کرتی رہی اسے گارڈ کے ساتھ زیادہ مزہ آیا تھا بولتی بلال سے بہت بڑا ہے گارڈ کا اور موٹا بھی ہے میں شکیلہ سے کہنا چاہتی تھی کہ میرا بھی کچھ کرو لیکن میں ایسا کہہ نہیں سکی آخری پریڈ سر امجد کا تھا میں سر جھکا کر اس کی پاورفل باڈی کو دیکھ کر بےتاب ہو رہی تھی شکیلہ کی کہانیاں سننے کے بعد بھی میرا دل بلال کے بجائے سر امجد کی طرف تھا میں اب تک تین موویز دیکھ چکی تھیں جو مجھے شکیلہ سنڈ کر چکی تھی لیکن میرے حواس پر وہی پہلی بلیک ٹیچر والی مووی قابض تھی میرا دھیان سٹڈی کی طرف بالکل نہیں تھا سر امجد کیا بو رہا مجھے معلوم نہیں تھا اس کے انگلش بولتے لب مجھے اپنی ببلی پر کسنگ کرتے محسوس ہو رہے تھے میں اندر باہر ہونے والی اپنی ببلی پر ہاتھ رکھے صرف سر امجد کے ہلتے لب دیکھ رہی تھی ۔۔۔ چھٹی کی گھنٹی بج چکی تھی سب کلاس روم سے چلے گئے تھے میں سامان سمیٹنے میں تاخیر کر رہی تھی سر امجد کرسی پر بیٹھے موبائل پر اپنا انگوٹھا سویپ کر رہے تھے میرا دل آؤاز سے دھڑک رہا تھا مجھے لگا سر امجد وہی مووی دیکھ رہے ہیں میں آہستہ سے قدم اٹھاتی سر کی ٹیبل سے رگڑ کر گزرتی ہوئی ان کو دیکھتی جا رہی تھی وہ سر جھکائے موبائل پر نظریں جمائے اپنی مستی میں مست تھے میں روم سے باہر جانا نہیں چاہتی تھی دروازے کے پاس پہنچی تو سر امجد کے آواز میرے کانوں میں گونجی ۔۔۔۔ نازیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں بھاگ کر سر کے پآس جا پہنچی ۔۔ جی جی ۔۔سر۔۔۔۔۔۔ ۔۔ سر امجد حیرت سے سر سے پاؤں تک میرے لرزتے وجود کو دیکھتے بولے ۔۔۔ کیا ہوا نازیہ بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سر آپ نے مجھے بلایا ۔۔۔۔۔۔۔ سر امجد بولے نہیں نازیہ بیٹا ۔۔۔ میں نے نہیں بلایا ۔۔۔ میں نے اپنا سر جھٹکا اور آہستہ سے چلتی باہر آنے لگی سکول سے تقریباً تمام سٹوڈنٹ نکل چکے تھے میں میل ٹیچرز کو غور سے دیکھتی باہر آ گئی تھی میرے ماموں گیٹ کے پاس آ کر چوکیدار سے پوچھ رہے تھے ۔۔ مجھے دیکھتے ہوئے بولے بیٹا آج لیٹ آئی ہو ۔۔۔  طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی آپ کی ۔۔۔۔۔ میں نے اپنا سر جھٹکا اور آہستہ سے بولا بخار  ۔۔۔۔۔ شام کو امی مجھے ڈاکٹر کے پاس لے گئی اور مجھ سے موبائل لےکر مجھے سلا دیا صبح میں قدرے فریش ہو چکی تھی امی نے سکول جانے سے منع کیا لیکن میں چلی گئی اگلے دؤ روز میں شکیلہ نے مجھے کچھ اور موویز سنڈ کر دیں میں مکمل طور پر پاگل ہو چکی تھی میرا دل چاہتا تھا میں کسی کو پکڑ لوں اور اس کا ببلو خود سے چوسنے لگوں اور زور سے اپنے اندر اتار دوں ۔۔۔۔۔۔ لیکن مکمل طؤر پر بےبس تھی سر انجد بھی اس کالے انگریز جیسے اچھے ٹیچر ثابت نہیں ہو رہے تھے میں ہر وقت اپنے بوبز اور ببلی کو مسلتی رہتی اور امی مجھے کئی بار ٹوک چکی تھی رات کو شکیلہ نے باتوں باتوں میں کہہ دیا نازیہ میں کل آپ کو بلال سے سیکس کراتی ہوں میں نے فوراً اوکے کہہ دیا پھر پوچھا کچھ ہو گا تو نہیں ۔۔۔بولی کچھ ہوتا اسے کہوں گی آپ کو پیچھے کرے مزا بھی آئے گا اور خطرہ بھی نہیں ہو گا ۔۔۔ میں نے شکیلہ کی سنڈ کی گئی اس مووی کو دیکھا جس میں ایک آدمی لڑکی کو گھوڑی بنا کر پیچھے سے کر رہا تھا میں خود کو بلال کے آگے بنی گھوڑی تصور کرتی مووی دیکھتے ہوئے بیڈ پر گھوڑی بن گئی تھی اور اپنے ہپس اس گوری کی طرح پیچھے کو ہلاتی رہی آج۔مجھے بلال بہت پیارا لگ رہا تھا مووی دیکھنے کے بعد میں نے دیکھا تو بلال کے میسج آئے ہوئے تھے میں نے ہائے کہہ دیا ۔۔۔ بولا شکیلہ نے آپ کا پیغام دے دیا ہے ۔۔۔۔۔۔ میں تو تم کو پہلے ہی کہہ رہا تھا اور تم سے بہت پیار کرتا ہوں لیکن تم مجھے لفٹ نہیں کرا رہی تھی ہماری چیٹنگ چلنے لگی شکیلہ آف لائن ہو گئی تھی بلال نے مجھے اپنے ببلو کی تصویر سنڈ کر دی اس کا سائز چھوٹا تھا لیکن بہت کیوٹ تھا بالکل گورا ۔۔۔۔ پھر اس نے بھی فرمائش کی کہ میں اپنی ببلی اور بوبز دیکھاؤں ۔۔۔ میں واش روم جا کر بہت سی تصاویر بنا لائی بلال مجھے دیکھ کے پاگل ہو رہا تھا بولا آپ کے ہپس بہت مزے کے ہیں میں آپ کو پیچھے سے کرونگا اور پانی بھی اندر ڈالوں گا تو آپ کے بوبز بھی بڑے ہو جائیں گے ۔۔۔ مجھے کچھ پتا نہیں تھا کہ کیا ہوتا ہے لیکن میں چاہتی تھی کہ جیسے بھی ہو مجھے وہ جلدی کرے وہ بھرے سکول میں مجھے کہاں کرے گا مجھے معلوم نہیں تھا ہاف ٹائم کے دوران کنٹین میں بلال ایک دروازے سے داخل۔ہوا اور میرے ساتھ شکیلہ کو دیکھتا ہوا دوسرے دروازے سے باہر چلا گیا شکیلہ محھے بولی بس جوس کو رکھ دو آؤ تمہیں رائل جوس پلاتی ہوں میرا جسم لرزنے لگا تھا شکیلہ مجھے واش رومز کی طرف لے گئی واش رومز کی ایک لمبی لائن تھی جس کے درمیان ایک دیوار سے اسے بوائز اور گرلز کے لئے تقسیم کیا گیا تھا شکیلہ مجھے اس آخری واش روم کے پاس لے گئی اس نے ڈراپس والی ایک چھوٹی شیشی مجھے دی جس میں سر پر لگانے والا تیل تھا آہستہ سے بولی اس واش روم میں جاؤ اور کنڈی بند کر دو وہ آ جائے گا اور تیل بلال کو دے دینا ۔۔۔ میں لرزتے بدن کے ساتھ واش روم کا ڈور بند کر کے واش روم کی دیواریں میرے ہاتھوں سے بہت اوپر تھی بس ایک منٹ بعد ہی بوائز واش روم والی سائیڈ سے بلال کے ہاتھ دیوار پر آئے اور پھر اس نے اندر جھانکا اور دیوار پر چڑھ کر نیچے اترنے لگا ہاٹ ٹائم کے شروع کے وقت میں یہاں رش ھوتا تھا اور پھر سب کنٹین کی طرف چلے جاتے تھے بلال نیچے اتر کر مجھے اپنی باہوں میں بھر گیا مجھے سکون ملنے لگا میں نے بھی اسے اپنی باہوں میں بھر لیا بلال کا قد میرے سے تقریباً ایک فٹ بڑا تھا اور وہ 16 سترہ برس کی ایج میں تھا وہ کسنگ کرتے ہوئے میری پیٹھ اپنی طرف پھیرتے ہوئے آہستہ سے بولا بس جلدی کرتے ہیں ٹائم کم ہے ۔۔۔ میں بھی یہی چاہتی تھی اس نے خود میرے ہاتھ سے تیل کی بوتل لے لی اور مجھ جھکا دیا میں نے پانی کے نل کو پکڑ لیا تھا اور ہپس اوپر اٹھا لئے تھے اور یہ سٹائل میں رات کو مووی دیکھ کر سیکھ چکی تھی بلال نے مجھے کھڑا کرتے ہوئے میرے ٹائٹ پاجامے جیسی شلوار کو گھٹنوں تک اتار کے مجھے پھر جھکا گیا اور ہلکی وش وش کی آواز سے میرے ہپس کو کسنگ کرنے لگا پھر وہ کھڑا ہو گیا اور تیل لگاتے ہوئے اپنے ببلو کو میرے ہپس کے درمیانی لکیر میں اتارنےگا گرم ببلو نے میرے پورے وجود میں کرنٹ دوڑا دئیے تھے ببلو کو میرے ہول کے منہ پر رکھا اور میرے ہپس کو پکڑ کر اپنی طرف زور سے کھینچا افففففففففف میرا ہول کٹنےگا تھا میری آواز نکلی تو بلال نے میرے ہپس پر مکا مار کر مجھے چپ رہنے کا اشارہ دیا میں نے اپنا دوپٹہ دونتوں تلے دبا دیا ببلو آگے آ رہا تھا اور میری کیفیت کچھ عجیب ہونے لگی تھی میری آنکھیں اور زبان باہر کو آنے لگے تھے اور میرا ہاتھ تڑپتی ببلی کی طرف چلا گیا تھا شاید وہ احتجاج کر رہی تھی کہ میرا حق اتھے رکھ۔۔۔۔ میں ببلی کو مسلنے لگی تھی مجھے کوئی ہوش نہیں رہا تھا میں رونا چاہتی تھی لیکن دوپٹے کو اپنے دانتوں تلے دبائے صرف خاموش آنسو ٹپکا گئی میرا اندر کٹ چکا تھا بلال نے اپنا جسم میرا ساتھ ٹکرا دیا اور آہستہ سے بولا واو نازی تیری تو بہت ٹائٹ ہے وہ میری قمیض کے اندر سے ہاتھ گزار کر میرے بوبز پر لے آیا اور ببلو کو آہستہ سے اندر باہر کرنے لگا کچھ دیر بعد مجھے اپنے اندر ریشم جیسے احساس کے ساتھ مزہ آنے لگا لیکن میں اپنی ببلی کو مسل رہی تھی بلال میرے بوبز کو کھینچ کر جھٹکے مار رہا تھا میں بھی مووی والی گوری کی طرح اپنے ہپس پیچھے دھکیلنے لگی تھی ۔۔۔ بولا واو تم تو بہت سیکسی ہو آ لو یو ۔۔۔۔کوئی دس منٹ بعد ہاف ٹائم ختم ہونے کی بل بج گئی جس کے ساتھ بلال نے اپنی سپیڈ بڑھا دی تھی اب وہ میرے ہپس کو پکڑ کر ذرا زور سے جھٹکے مار رہا تھا اور ہلکی تالی جیسی آواز مجھے مذید مدہوش کرنے لگی تھی بلال ببلو کو پورا اندر کر کے رک چکا تھا اس کی لمبی سانسوں کی آواز میرے کانوں تک آ رہی تھی ببلو اس وقت ڈنڈے کی طرح سخت ہو چکا تھا اور پھر گرم لاوا میرے اندر گرنے لگا تھا میری ببلی گیلی ہو چکی تھی مجھے بلال کا رک جانا اچھا نہیں لگ رہا تھا میں خود سے جھٹکے مارتی بولی ۔۔۔کرو۔۔۔ بلال نے اپنا ہاتھ میرے نیچے لے جا کر اپنے بائیں ہاتھ کی درمیانی فنگر میری ببلی کے ہونٹوں میں تیز تیز چلانے لگا تھا چپ چپ چپ کی ہلکی آواز میں میری آنکھیں بند ہونے لگی اور میرا جسم اکڑنے لگا دوپٹہ میرے دانتوں سے نکل گیا بلال نے اپنا دوسرا ہاتھ میرے لبوں پر رکھ کر میری آوازیں بند کر دیں تھی مجھے اب مزا آیا تھا میں سوچ رہی تھی کہ ببلو یہیں آگے ڈالنا تھا ۔۔۔۔ میں نارمل ہونے لگی تو بلال نے اپنا ببلو باہر نکالا لیا اور میری شلوار کو اوپر کرتے اور پینٹ پہن کر پانی کے نل پر پاؤں رکھ کر دیوار پھلانگ گیا میں نے اپنا لباس درست کیا اور دوپٹے سے اپنا پسینہ خشک کرتے جی چاہا رہا تھا کہ میں قہقہے لگاؤں مجھے بہت مزہ آ گیا تھا اور میں پرسکون ہو گئی تھی ۔۔۔۔ میں باہر آنے لگی مجھے اپنے ہپس کے درمیان چپک محسوس ہو رہی تھی اور چلنے میں تھوڑی دشواری بھی لیکن میں خود کو نارمل رکھتے ہوئے کلاس روم کی طرف آ گئی کلس کب کی شروع ھو چکی تھی مس طاہرہ کی ڈانٹ کھانے کے بعد میں نے بک نکال لی تھی اور آج تقریباً ایک ہفتے بعد مجھے بک پر کچھ الفاظ نظر آنے لگے تھے ۔۔۔۔۔ رات کو میں بلال کے میسج کے انتظار میں تھی اس نے آن لائن ہوتے ہی پہلا میسج کیا کہ آج تک میں 25 لڑکیوں کو کر چکا لیکن تیرے جیسا مزہ کسی نے نہیں دیا پھر اس نے مووی سنڈ کی یہ میری مووی تھی جو وہ پیچھے سے بناتا رہا اس وقت مجھے ہوش نہیں تھا مووی دیکھ کر مجھے بھی معلوم ہوا کہ واقعی میں بہت خوبصورت جسم کی مالک ہوں ۔۔۔۔۔۔ بلال بولا پھر کب کرو گی ؟؟ میں نے کہا جیسے تم بولو۔۔۔ بولا کل ؟؟؟ میں نے یس کہہ دیا وہ بہت خوش ہو گیا ۔۔۔ اگلے روز میں واش روم سے ہو خر باہر لان میں کھڑی ہو گئی تیل میں ساتھ لے آئی تھی سب کنٹین کی طرف چلے گئے تو بلال اپنے کلاس روم سے نکل کر ادھر آنے لگا میں جلدی سے واش روم میں چلی گئی کل کی نسبت آج اس نے زیادہ وقر لگایا تھا ببلو بھی آسانی سے اپنا سفر کرتا رہا بلال نے خود ہی انگلی سے ببلی کو مست کرنا شروع کر دیا تھا میں آگے پیچھے مزے کے وادیوں میں تھی اور بلال سے پہلے ڈسچارج ہو گئی اور جیسے بلال نے اپنا لاوا میرے اندر انڈیلا مجھے لگا کہ مجھے اس پانی کی بھی پیاس تڑپا رہی تھی میں پرسکون ہو گئی اور وقت پر کلاس روم آ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک ہفتے میں ہم نے چار بار شاندار سیکس کیا اور مجھے بلال سے محبت ہو گئی تھی کوئی لڑکی اس کی طرف دیکھتی تو مجھے آگ لگ جاتی ۔۔۔۔ ایک ہفتے بعد گرمیوں کی چھٹیاں ہو گئیں تھی اور میں بہت روئی تھی ۔۔۔۔ بلال سے دن رات چیٹنگ ہوتی تھی میں دو دن بعد ہی بےقرار ہو گئی تھی کسی جگہ سکون نہیں مل رہا تھا شکیلہ اپنے گارڈ سے ڈیلی سیکس کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ پانچ روز بعد میں گھر سے بھاگ جانا چاہتی تھی پچھلا حصہ بہت بےتاب تھا وہ گرم لاوا پینا چاہتا تھا بلال بھی بہت بےتاب تھا اسے بھی مجھ سے پیار ہو گیا تھا اور ہمہ وقت آن لائن ہو کر مجھ سے باتیں کر رہا تھا بلال نے عہد کر لیا تھا کہ وہ شادی صرف مجھ سے کرے گا یہ میرے لئے بہت بڑی خوشخبری تھی کیونکہ اس دنیا میں بلال سب سے عزیز تر تھا اور بلال کے سوا مجھے کچھ نظر نہیں آتا تھا لیکن میرے ساتھ بلال کے بھی بہت سے مسائل تھے اور ہم شادی کر کے محبت کو پروان نہیں چڑھا سکتے تھے ہم دونوں بچے تھے اور جذبات میں آگے بڑھتے جا رہے تھے ہم کسی سے کوئی بات شئیر نہیں کر رہے تھے اور اپنی مرضی کے فیصلوں کی طرف بڑھ رہے تھے ایک روز بلال بولا نازیہ ہم لو میرج کر لیتے ہیں میں نے پوچھا تو بولا بس جس دن میرے ہاتھ زیادہ پیسے لگ گئے ہم دونوں یہاں سے بھاگ جائیں گے ۔۔ بہت دور گاؤں میں میرا دوست رہتا ہے بس وہاں جا کر شادی کرکے اپنی الگ سی زندگی گزاریں گے میں نے بلا سوچے  سمجھے اسے ہاں کر دی کراچی جیسے بڑے شہر میں زندگی گزارتے ہوئے میں اس شہر سے باہر کبھی نہیں گئی تھی اور ٹی وی ڈراموں میں گاؤں کی زندگی مجھے بہت اچھی لگتی تھی ۔۔۔( جاری ہے)

Share this post


Link to post

کلی اور کانٹے

قسط نمبر 3

تحریر زاہد ملک

اگلے ایک ہفتے تک بلال مجھے ایسی باتیں بتاتا رہا جو بہت آسان سا کام تھا اور ہم زندگی بھر شہر سے دور محبت بھری زندگی گزار سکتے تھے اور میں مکمل طور پر تیار ہو چکی تھی اس گھر کی کوئی چیز حتیٰ کہ امی ابو بھی مجھے اچھے نہیں لگتے تھے مجھے بلال سے آخری بار سیکس کئے 15:روز سے زیادہ گزر چکے تھے اور میں بہت بےتاب تھی ابھی تک میری ببلی ورجن تھی اور ببلو میرے پیچھے ڈالنے کے ساتھ اپنی انگلی سے میری ببلی کے لبوں کو مسل کر میرا پانی نکال دیتا تھا بلال کا ببلو میرے پیچھے ریشمی احساس دیتے ہوئے جب اپنا لاوا اندر ڈالتا تھا تو مجھے سکون مل جاتا اور میں نہال ہو جاتی تھی اب بہت دنوں سے مجھے اس میں خوراک نہیں ملی تھی اور میں بہت بےچین تھی میں جلد سے جلد بلال کے ساتھ جانا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔ بلال کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے وہ کہتا تھا کہ اتنے پیسے لازمی ہوں کہ ہم اس بستی میں اپنا مکان لے سکیں مکان خریدنے کے علاوہ کیا کرنا ہے اور زندگی کیسے گزاریں گے ہم دونوں کو معلوم نہیں تھا بلال مطمئن تھا کہ اس کا دوست اسد اس کے لئے سب کچھ کرے گا اسد کراچی میں ہی کچھ عرصہ قبل کسی فیکٹری میں جاب کرتا تھا اور بلال کے محلے میں ہی ایک کرانے کے کوارٹر میں رہائش پزیر رہا تھا اب کچھ عرصہ قبل سے وہ گاؤں چلا گیا تھا اور وہیں کوئی کاروبار کرتا تھا ۔۔ میں بے دلی سے گھر کے کاموں میں مصروف تھی الماری سے کچھ سامان نکالتے ہوئے میرا دل ایک دم اچھل پڑا الماری کے دراز میں پڑی ساری رقم میری دسترس میں ہوتی تھی میں نے دراز کھول کے دیکھا اس میں کافی ساری رقم پڑی تھی ابو کوریا سے بھیجتے رہتے تھے اور چند ماہ قبل جب وہ آئے تو بینک سے کرنسی تبدیل کرا کر گھر میں رکھ کے گئے تھے میں بہت مطمئن ہو گئی اور الماری کو بںد کرتے بیڈ روم میں آ گئی تھی میں صوفے پر بیٹھی کافی دیر سوچتی رہی پھر مطمئن ہو گئی کہ میں اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہوں اور میں اس رقم کو اپنی خوشیوں پر خرچ کر سکتی ہوں بلال بھی تو میری محبت میں اتنا کچھ کر رہا تھا میں نے موبائل اٹھا کر ڈیٹا آن کیا تو بلال کا مسیج فٹ سے سامنے آ گیا ۔۔۔ جانوں میں نے گھر سے ایک لاکھ روپے چرا لئے ہیں ۔۔۔ بس کچھ اور ہاتھ مار لوں تو اپنا سفر شروع ہو جائے گا ۔۔۔۔ میں نے فورا اسے مسیج کیا کہ مذید کتنے چاہیں پیسے ؟؟۔ بولا پانچ لاکھ تک مکان مل جائے گا گاؤں میں ۔۔۔۔ میں نے کہا بس آپ تیاری کرو پیسے ہیں میرے پاس۔۔۔۔۔ اگلے روز امی ماموں کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس چلی گئی میں نے بلال کو کال کر لی کہ بس آ جاؤ ۔۔ میری ممانی سو رہی تھی میں نے الماری سے پانچ ہزار کے نوٹوں والی گڈی کے ساتھ کچھ اور پیسے بھی اٹھا لئے اور امی کا سارا زیور ایک بلیو کلر کے شاپر میں ڈالے اور چھوٹے ہینڈ بیگ میں جس میں میرے تین سوٹ رکھے ہوئے تھے اسی میں ڈال کر بلال کا انتظار کرنے لگی ۔۔۔ بلال کی کال آ گئی تھی کہ میں ٹیکسی پر ہوں اور پانچ منٹ میں پہنچ رہا آپ گلی کی نکر پر پہنچو ۔۔۔ میں نے موبائل کو آف کر کے امی کے تکیہ کے نیچے رکھا اور ممانی کے کمرے کا دروازہ کھول کر تسلی کی اور سکن کلر کے چادر لپیٹ کر ہینڈ بیگ اٹھا کر گھر سے باہر آ۔گئی میں گلی کے نکر کی طرف بڑھ رہی تھی کہ ایک ٹیکسی رکی اور بلال نے جلدی آنے کا اشارہ دیا میں اس کے ساتھ بیک سیٹ پر بیٹھ گئی میرے دل چاہا رہا تھا کہ میں بلال سے لپٹ جاؤں لیکن ایسا ٹھیک نہیں تھا اور ہم ویسے بھی اب ایک ہو چکے تھے اور زندگی بھر کا عہد نبھانے نکل پڑے تھے ۔۔۔۔۔ سہراب گوٹھ کے ایک بس ٹرمینل میں بلال ایک بس کے سامنے لگا رحیم یار خان کا بورڈ دیکھ کر رک گیا ٹکٹ خریدی اور ہم دونوں ایک سیٹ پر بیٹھ گئے ۔۔دن کے تین بجے گاڑی وہاں سے نکل پڑی تھی شہر سے نکلنے کے بعد کے نظارے میرے لئے سحر انگیز تھے بلال نے اپنا ایک ہاتھ میری کمر کے گرد لپیٹ رکھا تھا اور میں بہت خوشی سے یہ۔سب کچھ انجوائے کرتی جا رہی تھی ایک جگہ پولیس والا گاڑی کی تلاشی کے دوران ہمارے پاس ٹھہر گیا اور پوچھا آپ کون ہیں ۔۔۔ بلال نے اعتماد سے کہا کہ یہ میری بہن ہے اور ہم رحیم یار خان ماموں کے گھر جا رہا پولیس مین بلال کا سٹوڈنٹ کارڈ دیکھنے کے بعد چلا گیا اور ہم مطمئن ہو گئے بلال اپنے دوست سے مسلسل رابطے میں تھا ۔۔ بلال کے پاس نیا موبائل فون دیکھ کر میں نے پوچھا تو بتایا یہ کچھ دن پہلا لیا ہے اور اس کی سم بھی اسی دوست کے نام پر ہے اور دوست سے اس نمبر سے بات کرتا ہوں اپنا موبائل میں نے بند کر کے چھپا دیا ہے ۔۔۔ میں بھی اپنے موبائل سے بلال کی چیٹنگ ڈیلیٹ کرکے اور باقی چیزیں جو میری سمجھ میں آتی تھی ڈیلیٹ کرکے موبائل امی کے تکیہ کے نیچے چھپا آئی تھی ۔۔۔۔ ہم مختلف شہروں سے گزرتے آگے بڑھ رہے تھے شام کے سائے گہرے ہونے لگے تھے میں نے بلال سے پوچھا تو اس نے اپنے دوست کو کال ملا لی اور اس سے بات کرکے اپنی بتانے لگا ۔ پھر کال کرکے بولا ہمیں اور آگے جانا ہے ۔۔۔ رات کے کسی پہر ہم گاڑی سے اتر چکے تھے اس مین روڈ سے ایک کچہ رستہ بائیں جانب جا رہا تھا جہاں ایک سائن بورڈ لگا تھا لیکن اندھیرے کی وجہ سے اس پر کچھ پڑھنا ممکن نہیں تھا ایک آدمی اپنے منہ پر کپڑا لپیٹے بیٹھا تھا اس نے بلال سے رسمی کلمات ادا کئے اور ہم دونوں سے ہاتھ ملا کر اپنے پیچھے بیٹھنے کو کہا اس کا ہاتھ بہت بڑا اور سخت سا تھا میں اس کے پیچھے بیٹھ گئی اور بلال میرے پیچھے یہ بڑی جسامت کا۔ملک تھا اور اس کی باڈی بہت سخت تھی ہم دس منٹ میں ایک الگ تھلگ کچے مکان کے سامنے رک چکے تھے یہاں سے کچھ فاصلے پر مدھم سے لائٹس دکھ رہی تھی شاید یہ کوئی بستی تھی مکان میں ایک کچہ کمرہ اور اس کے ایک کونے میں باتھ روم بنا ھوا تھا اور دوسرے کونے میں ایک بڑا درخت تھا جہاں گرمی بہت زیادہ تھی دو چارپائیاں صحن میں بچھی ہوئی تھی اور ایک پنکھے کے ساتھ بیٹری لگی ہوئی تھی اس آدمی نے بیٹری سے تاریں جوڑ دیں اور پنکھے کے ساتھ ایک لائٹ بھی روشن ہو گئی بلال کا دوست ساڑھے چھ فٹ کا کو چالیس سال کا سخت قسم کا مرد تھا اس کا رنگ سیاہ تھا اور بڑی بڑی موچھیں رکھی ہوئی تھی روشنی میں اسے دیکھ کر مجھے وہ پہلی مووی والا بلیک ٹیچر یاد آ گیا وہ ہمارے ساتھ بیٹھتے ہوئے میری طرف دیکھ کر بولا ۔۔بلال یہ تم بہت چھوٹی ہے ۔۔۔ کتنی عمر ہے اس کی؟؟۔ بلال نے بولا اسد یہ 14 سال کی ہے وہ مجھے غور سے دیکھتے ہوئے اپنے ہونٹوں پر بار بار زبان پھیر رہا تھا ۔۔ بولا ہممممم کورٹ میرج نہیں ہو سکتی ۔۔ آپ دونوں کی عمر کم ہے ۔۔۔ بہرحال کوئی اور رستہ نکالتے ہیں ۔۔۔ اس نے ٹیفن ہمارے سامنے کھول دی اور بولا کھانا کھاؤ۔۔۔ ہم نے کچھ کھانا کھا لیا اسد نے پوچھا مکان کا۔کیا کرو گے میں نے کہا ہم اپنا مکان لیں گے ۔۔۔ بلال نے میرے اور اپنے پیسے اسد کو دے دئیے اور ساتھ زیور بھی میں سارا زیور اٹھا کر لائی تھی یہ پتا نہیں کتنا تھا کبھی امی سے کسی کے ساتھ بات کرتے ہوئے سنا تھا کہ میں نے اپنا دس تولے سونا اپنی بیٹی کے لئے رکھا ہے ۔۔۔۔ اسد بولا یار توں نے لڑکی بہت پیاری چن لی ہے اس جیسی میں نے آج تک نہیں دیکھی ۔۔۔۔ کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد اسد جانے لگا اس نے شاپر اٹھا لیا تھا بولا آپ کنڈی لگا کر سو جاؤ اور بےفکر ہو جاؤ یہاں کوئی نہیں آتا اور بلال کل سے آپ ایک فرنیچر شاپ پر کام کے لئے جاؤں گے میں نے بات کر لی ہے پہلے آپ کا روزگار بھی سٹ کر لیں ساتھ میں کوئی مکان ڈھونڈ لیتا ہوں پھر کسی مولوی کو وہیں بلا کر آپ کا نکاح پڑھ لیں گے ۔۔۔ اسد چلا گیا تھا اور ہم پیار میں گم ہوتے گئے بلال نے مجھے چارپائی پر الٹا لٹا دیا تھا اور ہپس پر بیٹھ کر میری سواری کرنے لگا تھا بہت دنوں بعد ریشمی ببلو میرے اندر مزے کی لہریں چھوڑ رہا تھا ۔۔۔۔ میں نے بلال کو آواز دی کہ زور سے کروں چارپائی کی چیں چیں کے ساتھ بجتی تالی اور بلال کی انگلی نے مجھے جلدی ڈسچارج کر دیا بلال مسلسل زور کے جھٹکے مار رہا تھا پھر وہ پورا ببلو میرے اندر کر۔کے اکڑ کر زور لگاتا میرے اندر لاوا بھرنے لگا۔۔۔۔۔ مجھے سکون ملنے لگا لاوا میرے اندر کی خوراک بن چکا تھا مجھے سکون کی لہروں میں نیند آ گئی ۔۔۔۔ کائیں کائیں کی آواز پر میری آنکھ کھل گئی بلال ابھی سو رہا تھا درخت پر دو کوے کائیں کائیں کرتے ہمیں دیکھ رہے تھے ۔۔۔ میں باتھ روم چلی گئی جہاں ہینڈ پمپ لگا ھوا تھا اور میں نے پہلی بار ہینڈ پمپ چلایا تھا جس سے میرے کندھے میں درد ہونے لگا تھا ۔۔۔۔ آٹھ بجے اسد آ گیا تھا وہ ناشتہ ساتھ لایا تھا بلال بھی نہا کر آ گیا تھا اسد کی نگاہیں مجھے اپنے وجود پر چبھتی محسوس ہو رہیں تھیں ۔۔۔۔ ناشتہ کرنے کے بعد اسد نے مجھے کہا کہ بلال کو میں کام پر لے کے جا رہا تاکہ آپ کے معاملات جلدی سیٹ ہو جائیں آپ نے اتنا بڑا کام کر لیا اب واپس بھی نہیں جا سکتے کہ تم دونوں کو۔مار ڈالیں گے اور نئی زندگی کے لئے تھوڑی محنت کرنی پڑتی ۔۔۔ میرے ساتھ بلال بھی خاموش رہا اور کچھ غمزدہ تھا ۔۔۔ پھر اسد بلال کو ساتھ لے کر چلا گیا اور اس لکڑی کے چھوٹے گیٹ کے آگے تالہ لگا گئے ۔۔۔ میں اس بڑے درخت کے نیچے چارپائی پر بیٹھی بہت کچھ سوچ رہی تھی لیکن کیا سوچ رہی مجھے یاد نہیں ۔۔۔۔۔۔ کوئی ایک گھنٹے بعد گھر کا دروازہ کھلا اور اسد موٹرسائیکل سمیت اندر آ گیا ۔۔ اس نے مین دروازے کو بند کر دیا اور سنجیدہ چہرے کے ساتھ میرے پاس آ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔ بولا پریشان تو۔نہیں ہو۔۔۔ میں نے مسکرانے کی کوشش کہ ساتھ کہا نہیں انکل ۔۔۔ بولا اوہ ہ ہ انکل نہیں ہوں میں بلال میرا دوست ھے اور آپ بھی میری دوست ہو۔۔۔۔ میں نے بلال کا پوچھا تو بولا وہ اب کام کرے گا ۔۔۔۔ آپ نے ایک بچے پر اتنا بڑا اعتماد کرکے غلطی کے ہے۔۔۔۔ بہرحال اب آپ کے پاس دوسرا رستہ نہیں ہے ۔۔۔۔ اسد چارپائی پر لیٹتے ہوئے بولا ذرا مجھے ٹانگیں دبا دو۔۔میرے دماغ میں ہتھوڑے جیسا وار ہوا لیکن میں سمجھ گئی تھی کہ بلال کا دوست کس طرح بلال کی دوستی نبھانا چاہتا ہے میرے پاس کوئی رستہ نہیں تھا اب عقل واپس پیچھے کو لوٹنا چاہتی تھی لیکن اس وقت کیا کرنے ہے یہ ضروری تھا ۔۔۔ اسد اٹھتے ہوئے بولا اندر چلتے ہیں کمرے میں۔۔۔۔۔ وہ چارپائی اٹھا کر اندر چلا گیا اور مجھے بھی بلا لیا میں لرزتے بدن کے ساتھ گہری سوچوں میں اندر جانے لگی ۔۔۔ دوسری طرف میرے دماغ کی سکرین پر پہلی بلیک ٹیچر والی مووی بھی چلنے لگی تھی اسد چارپائی پر۔لیٹ گیا اس کے پاؤں چارپائی سے کافی آگے لٹک آئے تھے اور پوری چارپائی بھر آئی تھی میں چارپائی کے ساتھ سر جھکائے کھڑی تھی وہ تھوڑا سائیڈ پر ہوتے ہوئے بولا بیٹھو ادھر ۔۔۔ میں بیٹھ کر اپنے کانپتے ہاتھ اس کی پنڈلیوں پر رکھ دئیے اس کا جسم بہت سخت تھا ۔۔۔ بولا تیرے ہاتھوں میں بہت سکون اور مزہ ہے ۔۔۔ آہستہ سے دباتی رھو۔۔۔۔ میں اپنے ہاتھ تھوڑے ہلانے لگی تھی اس کا ببلو کھڑا ہوتے ہوئے تنبو بنانے لگا ۔۔۔۔ بولا اپنی قمیض اتار دو۔۔۔ میں نے ٹوٹے الفاظ میں کہا پلیز ایسا نہیں کرو۔۔۔۔ میں بلال ۔۔۔۔۔۔۔ ہاں ہاں بلال تیرا معشوق ہے تمھاری شادی اس سے ہو گی لیکن میں نے اتنا خطرہ لے رہا ۔۔۔۔ پولیس پہنچ گئی تو میں بھی جیل جاؤں گا ناں ۔۔۔۔ میرے ساتھ بھی چلنا ہے آپ کو ۔۔۔ ویسے بھی آج کل کی لڑکیوں کا پیٹ ایک ل سے نہیں بھرتا ۔۔۔۔۔ وہ کچھ دیر مجھے دیکھتے ہوئے پھر بولا قمیض اتار دو۔۔۔ میں کانپتے ہاتھوں سے قمیض اتارتے ہوئے سر جھکا گئی ۔۔۔۔۔ وششششششش کتنے فریش بوبز ہیں تیرے ۔۔۔بریزر نہیں پہنتی ؟؟؟ میں نے نفی میں سر ہلا دیا اس نے اپنے بڑے سخت ہاتھ میں باری باری میرے دونوں بوبز کو بھرا۔۔۔۔۔ میرے وجود میں بجلیاں دوڑ گئی بولا ٹانگیں دباتی رہوں ۔۔۔ میری نظر اس بڑے تنبو پر تھی اور مجھے مووی والے بلیک مین سے بھی اسد کا ببلو بڑا۔لگ رہا تھا ۔۔ وہ میری کمر پر ہاتھ پھیر رہا تھا میری ببلی پھڑکنے لگی تھی ۔۔۔ بولا اس چھوٹے مست جسم کا مزہ کتنے لوگوں کو دیا ؟؟؟ میں نے نفی میں سر ہلا دیا بولا سچ سچ بولو اب تم نے بس ادھر رہنا ہے میں نے مدھم آواز میں بولا بس بلال ۔۔۔۔ بولا کام تو بڑی رنڈیوں والا کیا ۔۔۔۔۔ پھر بولا میری شلوار اتار دو۔۔۔ میں کچھ لمحے رکی تو اسد نے میرے بالوں کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور بولا ۔۔۔ میں پھر سے بولوں گا۔۔۔۔۔۔ میرا دل دھڑک سے باہر آنے لگا میں نے جلدی سے اس کی شلوار اتار دی بہت بڑا کالا ببلو جس پر گوشت نہیں تھا اور ہڈیوں سے بھرا تھا وہ اس چارپائی کے بازو کی طرح چوکور سا تھا بہت زیادہ سخت سیدھا کھڑا تھا ۔۔۔۔۔۔ اسد بولا ۔۔۔ اب اس کو چوسو اور اس سے کھیلو۔۔۔۔ میں اس کے پچکی سی ٹوپی پر اپنے لب رکھ گئی ۔۔۔۔۔ (جاری ہے )

Share this post


Link to post

کلی اور کانٹے

قسط نمبر 4

تحریر زاہد ملک

اسد کا ببلو حد سے زیادہ سخت تھا یہ موٹائی میں بلال سے تین گنا اور لمبائی میں تقریباً ڈبل تھا میں کسی طور بجھ چکی تھی لیکن سیکس کی میری پہلی خواہش اس طرح کے ببلو کو دیکھ کر پیدا ہوئی تھی اور میں ایسا ہی ببلو چاہتی تھی لیکن اس کے دستیاب نہ ہونے پر مجھے پہلا ببلو بلال کا ملا تھا اور میں اسی کو اصل مزہ سمجھ گئی تھی میری دماغ میں وہی پہلی مووی چلنے لگی تھی اور میں اس گوری کی طرح اپنا دونوں ہاتھوں میں ببلو کو بھر کر اس کی ٹوپی کو اپنے منہ میں بھر گئی اسد کہ ببلو کی ٹوپی اس بلیک ٹیچر کی طرح لمبی نہیں تھی بلکہ آگے سے ایسے پچکی ہوئی تھی جیسے کسی نے کا پر کوئی چیز مار کے دبا دیا ھو ببلو بہت گرم تھا لیکن منہ میں لینے پر مجھے کچھ کراخت کا احساس ہوا اور اور میرا مںہ ایسے کھلا جیسے اندر سے سب کچھ باہر نکل رہا ہو ۔۔۔۔ اسد بولا بہن کی لوری تیرے ہاتھوں میں ایسا سیکس بھرا ہے کہ تو مجھے ادھر فارغ کر دے گی ۔۔۔ شلوار اتار اپنی میں نے چارپائی سے نیچے اتر کر جلدی سے اپنی شلوار اتار گئی ۔۔۔ اس نے اٹھ کر اپنی قمیض اتار دی اور پوچھا کنڈوم لگاتا تھا بلا۔۔۔۔۔ میں سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔ بولا ل پر غبارہ چڑھاتا تھا ۔۔۔ میں نے کہا نہیں ایسے ہی پیچھے سے کرتا ۔۔۔۔ اسد کی آنکھیں چمک اٹھی ۔۔ بولا آگے کبھی نہیں ڈالا ؟؟ میں نے نفی میں اپنا سر ہلا دیا ۔۔۔ اسد نے مجھے اٹھا کر چارپائی پر لٹا دیا اور میری ٹانگیں کھول کر اپنی انگلیوں ببلی کے ہونٹوں کو کھول کر اسے دیکھنے لگا پھر وہ قہقہے لگاتے بولا بہت جاہل سے بندے کو یار بنا لیا اسد نے ببلی کو چومنا شروع کر دیا اور میں بےاختیار اس کا سر پکڑ گئی مجھے اسد اچھا لگ رہا تھا پھر وہ اٹھ کر ادھر ادھر دیکھنے لگا اور اس کمرے کے ایک کونے کی طرف چلا گیا اس کا کالا بدن بالکل بلیک ٹیچر جیسا تھا ببلو بالکل سیدھا کھڑا تھا اور اس کے چلنے پر پورا ہلتا تھا وہ مٹی سے بھری ایک پلاسٹک کی بوتل اٹھا لایا جس میں تیل تھا بوتل کو کپڑے سے صاف کرتا وہ میری ٹانگوں کے بیچ بیٹھ گیا اسد میری ببلی کو دیکھ کر اپنا کالے ہتھیار کو چکنا کر رہا تھا میرے لب قدرے کھلے ھوئے تھے اور میں لمبی سانسوں کے ساتھ اس کو دیکھ رہی تھی میں سر امجد سے ایسا چاہتی تھی لیکن بس بلال کو سب کچھ سمجھ بیٹھی تھی اسد نے تیل کی ایک لکیر میری ببلی کے ہونٹوں پر گرائی اور اپنی انگلی سے اسے اندر تک پھیلانے لگا میری سسکیاں نکل گئی وہ مسکرایا اور اپنے ببلو کو پکڑ کر ببلی کے ہونٹوں میں برش کی طرح چلانا شروع کر دیا میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور میں اپنے بوبز کو مسلنے کے ساتھ اپنے ہپس کو مڑوڑنے لگی اسد کے ہاتھ میری رانوں کو پکڑ کر ان کے گرد پورے لپٹ گئے ۔۔۔۔ بہت سخت اور گرم لوہے کے راڈ جیسی چیز میں نازک ببلی پر چبھنے لگی میں اس وقت پورا ببلو اپنے اندر لے جانا چاہتی تھی میں نے اپنے ہپس تھوڑے اوپر اٹھانے کی کوشش کی درد کے ساتھ مزے کی لہریں میرے پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھیں میری آنکھیں بند ہونے لگی تھی اور میرے لبوں سے آئی اؤووو۔ آآآآ اندر ۔۔۔۔ آہ ہ ہ ام۔ ۔ ۔ ی ۔ ۔ میرا وجود کٹ گیا تھا ۔۔۔۔ میرے کانوں پر ڈب سا آ گیا تھا میرا سر اندھیرے میں خود سے ہلنے لگا تھا ۔۔ میں تازہ ہوا لینا چاہتی تھی مجھے اپنے پیرنٹس روتے دیکھائی دینے لگے تھے ۔۔۔ پتا نہیں کتنی دیر بعد میں نے اپنا اوپر بہت وزن محسوس کیا مجھے اپنے اوپر کہانیوں جیسے سیاہ بھوت نظر آیا ۔۔ وائی ی ی کی آواز کے ساتھ مجھے اپنے کٹے اندر میں سے کوئی ہلکی مزے کی لہریں محسوس ہونے لگی میں دھندلے سے سائے کو اپنا سر کی طرف آنکھیں پھیر کر دیکھتی جا رہی تھی اففففف افففف کرتا اسد اپنے نچلے دھڑ کو تیزی سے ہلا رہا تھا اسد کا سینہ میرے چہرے کے سامنے سے اوپر جا رہا تھا اور میں اس کے پیٹ کے نیچے دبی ہوئی تھی مجھے شدید درد میں مزہ محسوس ہونے لگا تھا اور ساتھ میرا جسم اکڑنے لگا مجھے اپنے اندر ہڈی محسوس ہو رہی تھی میں نے بےاختیار اپنے ہپس سکیڑنے کے ساتھ آئی آئی آئی کے ساتھ اپنا پانی چھوڑ دیا ۔۔۔ اس کی مونچھیں کچھ اور اکڑ گئیں اور وہ رک گیا ۔۔۔۔۔ اس کی الجھی تیز سانسوں کے بیچ کہیں دور سے مجھے ٹوٹے الفاظ سنائی دئیے ۔۔ بلا پیچھے کرتا ہے ؟؟۔ پتا نہیں میرے لبوں سے کیا الفاظ نکلے اس نے اپنا ببلو باہر نکال لیا میں اپنی نیچے کی حالت دیکھنا چاہتی تھی لیکن میرا سر نہیں اٹھ رہا تھا اسد نے مجھے اٹھا کر الٹا لٹا دیا وہ بری طرح ہانپ رہا تھا تیل کی بوتل اس نے تکیہ کے پاس رکھی اور اپنے بڑے اور سخت ہاتھوں سے میرے ہپس کو کھولتا ہوا ایک دم سے درد بھرا جھٹکا مار گیا ساتھ ہی اس کے لاوے نے مجھے کچھ سکون فراہم کر دیا ۔۔۔ وہ بری طرح ہانپتا ہوا بیٹھا رہا اور پھر ببلو کو نکال کر میرے ساتھ سائیڈ پر سو گیا اور اپنی ٹانگ میرے اوپر رکھ دی میں درد سے مری پڑی تھی میری بولنے اور ہلنے کی ہمت اب بھی باقی تھی وہ اب مجھے بہت پیار کر رہا تھا بولا اتنی پیاری اور سیکسی لڑکی ایک اناڑی کے ہاتھ لگ گئی ہو۔۔۔ میں کچھ نہیں بولی ۔۔۔۔ بہت دیر بعد وہ بولا درد ہے ابھی بھی ۔۔۔ میں نے سیدھا لیٹتے ہوئے اثبات میں اپنے سر کو ہلکا سا ہلا دیا ۔۔۔میں مووی والی اس گوری کا سوچ رہی تھی کہ اس نے بغیر کسی تکلیف کے انتا بڑا آسانی سے کیسے لے لیا تھا میں نے مووی دیکھ کر اس کو۔بہت آسان سمجھ لیا تھا اسد بولا پہلی بار ایسا درد ہوتا ہے بلال نے آپبکو پورا مزہ نہیں دیا تھا اور آپ کنواری تھی بس اب آپ کو پورا مزہ دونگا میں ۔۔۔۔۔ وہ باتیں کرتا رہا مجھ سے چلا نہیں جاتا تھا اسد میری مدد کرتا رہا اور اس روز پہلی بار اسد نے مجھے باتھ روم لے جا کر بتایا کہ ایسے غسل کرنا پڑتا ہے ورنہ اس سے پہلے مجھے علم نہیں تھا اور میں سیکس۔کرنے کے بعد نہیں بلکہ اپنے معمول کے مطابق نہاتی تھی وہ صبح آتے ہوئے کچھ چیزیں لایا تھا جو ہم نے دو بجے کھا لیں تھیں ۔۔۔ اسد چار بجے یہ کہتے ہوئے چلا گیا کہ میں آپ کے لیے سلنڈر برتن اور کچھ دوسری چیزیں لےکر آتا ہوں اور آپ کے لئے ایک مکان دیکھنے بھی جانا ہے اسد کے جانے کے بعد میں مایوس سے انداز میں کبھی لیٹ جاتی اور کبھی اس صحن میں ٹہلنے لگتی تھی۔۔۔ میں نے ایک بار سوچا کہ بلال کو سب بتا دونگی لیکن پھر اس ارادے کو ترک کر دیا کہ اگر اس کے بتانے کے بعد اگر کوئی مسئلہ بن گیا تو ہم کہاں جائیں گے مجھے امی کا سچا پیار بھی بہت ستا رہا تھا میرے دل میں آیا کہ میں یہاں سے بھاگ جاؤں اور امی سے بس معافی مانگ لونگی لیکن یہاں سے کدھر جانا ہے اور کیسے جانا ہے میں نہیں جانتی تھی ۔۔۔۔ شام کے فوراً بعد بلال اور اسد آ گئے تھے وہ بہت سا سامان اور کھانا بھی ساتھ لائے تھے بلال بہت مایوس اور تھکا ہوا تھا رات دس بجے تک اسد بیٹھا باتیں کرتا رہا پھر وہ چلا گیا بلال میرے ساتھ لیٹ گیا اور بولا جانوں بہت تھک گیا ہوں کام بہت مشکل ہے ۔۔۔ میں نے کہا بلال مشکل ہے تو نہیں کرو بس ادھر گھر میں رہو۔۔۔ بولا نہیں جانوں جو ہم نے اس کو اتنا آسان سمجھ لیا ہے ایسا نہیں ہے اب نئی اور ان دیکھی زندگی کو سیکھنا پڑے گا یہاں کے علاوہ ہم کہیں کے نہیں ہیں ۔۔۔ وہ باتیں کرتا سو گیا تھا اور مجھے بھی نیند آ گئی تھی میرے وجود کا درد کچھ ٹھیک ہو چکا تھا لیکن اٹھنے کی ہمت باقی نہیں تھی دھوپ درخت کے اوپری حصے تک آ چکی تھی بلال کو میں نے جگا دیا اور خود باتھ روم چلی گئی میں نے اپنے لائے ہوئے کپڑوں میں سے ایک سوٹ نکال کے پہن لیا بلال کو بھی ایک پینٹ شرٹ نکال دی ہم باتیں کر رہے تھے کہ اسد چائے کا تھرماس اور پراٹھے لے کر آ گیا ناشتے کے بعد وہ بلال کو لے کر چلا گیا اور بیس منٹ بعد ہی واپس آ گیا میرا وجود کانپنے لگا ۔۔۔ وہ کھانے کی کچھ چیزوں کے ساتھ ایک شاپر میں دودھ بھی لایا تھا مجھے بولا ایک گلاس دودھ گرم کر دو میں نے برتنوں کا شاپر کھولا اور ایک برتن نکال کا اس میں دودھ گرم کیا اور گلاس بھر کر اسد کو دیا اس نے اپنی جیب سے چار ٹیبلیٹس کا پتا نکالا اور اس میں سے ایک نیلے رنگ کی گولی دودھ کے ساتھ کھا لی ۔۔۔ وہ بہت دیر تک مجھ سے باتیں کرتا رہا میں مطمئن ہو چکی تھی کہ آج مصیبت نہیں پڑنے والے اسد کا چہرہ بہت گرم لگ رہا تھا اور اس کی آنکھوں میں بھی عجیب سی وحشت دکھنے لگی تھی بولا اندر چارپائی لگا دو اور پنکھا بھی میں خاموشی سے اٹھ گئی اور میرا جسم کپکپانے لگ گیا وہ کچھ دیر بعد اندر آ گیا اس کی قمیض تنبو بنی ہوئی تھی گزشتہ روز کا درد اب اور شدت اختیار کرنے لگا اس نے کمرے میں آتے ہی اپنے کپڑے اتار دئیے میں سر جھکائے کھڑی تھی بولا کپڑے اتارو نازی ۔۔۔۔ میں نے بہت مدھم لہجے میں التجا کرتے ہوئے بولا مجھے ابھی بھی بہت درد ہے ۔۔۔۔ بولا جلدی اتارو کپڑے کچھ نہیں ہوتا اب یہ تو روز کا کام ہو گا۔۔۔۔میں خامشی سے کپڑے اتار کر کچی دیوار پر لگے کیل پر لٹکانے لگی ۔۔ بولا بریزر پہنا کرو ابھی چھوٹی سائز والا بلال کو ب دینا لے آئے گا وہ مجھے پکڑ کر چارپائی کی کی طرف لے آیا اور چارپائی کے بازو پر بیٹھتے ہوئے مجھے اپنے گود میں بٹھا لیا اس کا اکڑا ببلو میری رانوں کے درمیان سے اوپر نکلا ہوا تھا جو آج بہت گرم اور ضرورت سے زیادہ سخت ہو رہا تھا اسد میرے بوبز کو جانوروں کی طرح منہ بھر بھر کے چوس رہا تھا اور ساتھ میرے ہپس اور کمر پر اپنے ہاتھ پھیر رہا تھا میرے بوبز پہلی بار کسی نے اس جوش سے جوسے تھے میں بہت گرم ہو چکی تھی اور اگلے پیچھے سے کل سے جاری درد کی لہروں میں وششششش وشششش بھی کر رہی تھی ۔۔۔ اسد نے مجھے چارپائی پر لٹا دیا اور تیل کی بوتل اٹھا کر میری ٹانگوں کے بیچ آ گیا اس نے اپنے ببلو کے ساتھ میری ببلی پر بھی تیل لگایا اور مجھے ہپس سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا اور بغیر کسی وقفے کے ببلو میرے اندر بھرنے لگا میری میری درد بھری آوازوں پر اس نے مسکرا کر بولا اصل مزہ یہ ہوتا ہے ۔۔۔۔ بہن کی لوری۔۔۔ ایک چھوٹی للی کے لئے بھاگ رہی تھی توں۔۔۔۔ میں درد سے کڑاہ رہی تھی اور مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی لیکن وہ بغیر رکے ببلو کو آگے کرتا جا رہا تھا اسد نے اپنا جسم مجھے سے ٹکرایا اور میرے چھوٹے وجود پر لیٹ گیا ۔۔۔ اس نے میرے گال پر اپنے دانتوں سے کاٹا اور بولا ایسا ستھرا مال پہلی بار ملا ہے مجھے ۔۔۔۔ وہ ایک دم سے اپنے نچلے دھڑ کو ہلانے لگا چارپائی کی چیں چیں کے درمیان میں نے بھی چنگھاڑنا شروع کر دیا تھا اس کا بہت سخت تھا جو ہڈی کی طرح میرے اندر کو چیڑتا اندر باہر ہو رہا تھا آہ ہ ہ ہ آآ وووی ۔ اونھھھححح اونھھھھھح ۔۔۔۔ میری ٹانگیں بہت زیادہ کھل چکی تھی اور ببلی کے آس پاس بہت درد ہو رہا تھا ۔۔۔ میں وقت سے پہلے درد بھرے مزے میں پانی چھوڑ گئی اور اب ببلو میرے اندر کو مذید چھیل رہا تھا لیکن اسد ایک ہی سپیڈ سے جھٹکے مار رہا تھا میرے آوازیں اور سسکیاں بلند ہو رہی تھی ۔۔۔۔ اور وہ کبھی کبھی میری آنکھیں صاف کر کے مسکرا دیتا تھا ۔۔۔ پھر وہ اٹھ گیا میں نے اپنا سر اٹھا کر ببلی کو دیکھا اور اس کر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اپنی رانوں میں دبا لیا اسد چارپائی سے نیچے اتر کر مجھے اٹھا کر الٹا کر گیا اور چارپائی پر گھوڑی بنا کر پیچھے آ گیا اس نے ایک بار پھر تیل کی بوتل اٹھائی اور ببلو کو میرے پچھلے ہول پر رکھ کر مجھے پیچھے کھینچتا گیا ببلو سلپ ہوتا آگے بڑھا درد نے میرے وجود کو بےحال کر دیا کل اس نے یہیں پر اپنا پانی چھوڑ دیا تھا لیکن آج وہ آگے بڑھ رہا تھا میرے منہ سے بےاختیار نکلا بسسسسس اسد نے چٹاخ سے میرے ہپس پر تھپڑ مارا اور بولا بس کا کیا مطلب ابھی تو آدھا بھی نہیں گیا ۔۔۔ وہ آہستہ سے آگے کر رہا تھا میری آنکھیں اور زبان بیک وقت باہر آنے لگی میری آوازیں گلے میں دب گئیں مجھے یوں لگا جیسے ببلو میں اندر کی ہو چیز باہر نکال رہا ہے میں بےحال ہوکر آگے گرتی گئی لیکن ہپس سے پکڑے اسد نے مجھے آرام سے لیٹنے دیا اور پھر میرے ہپس پر بیٹھ کر ببلو کو اور آگے کرتا گیا میرا ایک ہاتھ اس کر طرف اٹھ کر اس سے رحم کی بھیک مانگنے لگا لیکن وہ نہیں رکا مجھے پتا نہیں پھر بس میرے ہپس دبتے اور میں بھی چارپائی کے اس بان میں دب جاتی کچھ دیر بعد اس کا بہت گرم لاوا میرے اندر میں بہت آگے گرا رہا تھا ۔۔۔۔۔ دن ایک بجے اس نے مجھے اپنے ببلو پر بیٹھنے کو کہا اور تقریباً دو بجے اس نے مجھے پھر پیچھے سے اپنا پانی پلا دیا ۔۔۔۔ دو دن بعد رات کو جب بلال مجھے الٹا لٹا کر پیچھے سے کر رہا تھا تو میں خود کو خالی خالی تصور کر رہی تھی اسد پچھلے دو روز نہیں آیا تھا بلال پانی چھوڑ کر میرے ساتھ لیٹ گیا اور میری پیاس ابھی باقی تھی ۔۔۔ صبح اسد جب بلال کو لیکر جا رہا تھا تو میں نے مسکرا کر پہلی بار اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔ اسد مسکرا کر پوچھنے لگا دودھ پڑا ہے ایک گلاس ۔۔۔ میں نے مسکرا کر اپنا سر جھکا لیا اور بولی نہیں ۔۔۔۔۔ وہ تھوڑی دیر میں واپس آ گیا تھا دودھ کے ساتھ نیلی ٹیبلیٹ کھا لی اور ہم کمرے میں آ گئے میں نے آج درد کے بغیر انجوائے کیا تھا پورے دن میں دو بار میں نے ہر سٹائل میں اسد سے انجوائے کیا ۔۔۔ رات کو بلال نے مجھے الٹا لیٹنے کو کہا تو میں نے منع کر دیا کہ نیند آ رہی سو جاؤ۔۔۔۔۔ (جاری ہے )

Share this post


Link to post

کلی اور کانٹے

قسط نمبر 5

تحریر زاہد ملک

سچ پوچھیں تو مجھے بلال سے کبھی پیار نہیں تھا سکول میں اس نے لاکھ جتن کئے تھے لیکن اس کی کوئی جال مجھے اپنی لپیٹ میں نہیں لے سکی تھی شکیلہ کی بھیجی موویز نے مجھے بہت دنوں تک پاگل کئے رکھا اور میں خود ہی بلال کی جھولی میں آ گری تھی میں چند ہی دنوں میں اس کی عادی ہو گئی تھی اور اس پاگل پن میں میں اپنا سب کچھ چھوڑ آئی تھی اسد نے پہلے روز اگرچہ مجھے زخمی کر دیا تھا اور انہی ایک دو روز میں مجھے اپنے گھر کی یاد ستانے لگی تھی لیکن بہت جلدی میرا جسم اسد کا طلبگار ہوگیا تھا اور اب مجھے بلال اچھا نہیں لگتا تھا ایک مہینے میں اسد سے میں 20 بار سیکس کر چکی تھی اور بلا کو صرف چار بار ہی لفٹ دی تھی میرا دن بہت اچھا گزرتا تھا اور رات بلال کے ساتھ بہت بور ہوتی وہ سیکس کرتا تھا تو میں خود کو خالی خالی محسوس کرتی تھی میں انہی دنوں سوچ رہی تھی کہ مجھے اسد سے شادی کر لینی چاہیے اور بلال کو بس یہاں سے بھگا دینا چاہیے آج ہمیں یہاں آئے ہوئے 28 دن ہو چکے تھے اسد بلال کو کام پر چھوڑنے کے بعد واپس آیا تو اس کے ساتھ ایک بہت موٹا آدمی بھی ساتھ تھا وہ دونوں ہنستے باتیں کرتے میرے ساتھ بیٹھ گئے تھے اسد نے بتایا کہ یہ بلال کے استاد ہیں جو ان کو فرنیچر کا کام سکھاتے اسد نے گرم دودھ لانے کا بولا میں موٹرسائیکل سے دودھ کا شاپر اتار کر اندر چلی گئی میں سوچ رہی تھی کہ اسد اس بندے کو کیوں لایا ہے میں دودھ کا۔گلاس کے کر ان کی طرف آ رہی تھی جب وہ بندہ اسد سے کہہ رہا تھا یار بہت چھوٹی ہے اسد بولا نہیں ہے چھوٹی کھل کے کھیلنا میں ان کی یہ مدھم گفتگو سن کر سب سمجھ چکی تھی اسد نے گلاس اس بندے کی طرف بڑھا کر نیلی ٹیبلیٹ دی اور اٹھ گیا مجھے بولا میں تھوڑا کام سے جا رہا ہوں شفیق کا خیال کرنا مہمان ہیں یہ آج آپ کے۔۔۔۔۔ وہ چلا گیا اور باہر سے ہی لاک لگا گیا ۔۔۔ شفیق نے مجھے ساتھ بیٹھنے کا بولا میں ذرا سی ہچکچاہٹ کے بعد اس کے پاس بیٹھ گئی وہ باتیں کرنے لگا بولا بلا تو کسی کام کا لڑکا نہیں ہے بہرحال ہم آپ کو ہر طرح سے خوش رکھیں گے کچھ دیر بعد ہم اندر آ گئے اس نے مجھے گود میں لے لیا اور کسنگ کے ساتھ میرے بوبز کو اپنے بڑے ہاتھوں میں بھرنے لگا میں صرف اسی سسپنس میں تھی کہ اس لا ببلو کیسا ہو گا میں گرم ہو چکی تھی اس نے میرے کپڑے اتار دئیے اور باہوں میں اٹھا کر بوبز چوسنے لگا وہ بار بار میری ببلی کے ہونٹ کھول کر اسے دیکھ رہا تھا شفیق نے مجھے چارپائی پر لٹایا اور اپنے کپڑے اتارنے لگا اس کے بال قدرے سفید ہو چکے تھے اور 45 سال کے لگ بھگ معلوم ہوتا تھا قمیض کے بعد اس نے اپنی شلوار اتاری اس کا ببلو لمبائی میں اسد سے چھوٹا تھا لیکن موٹا زیادہ تھا یہ تقریباً سات انچ کا تھا اور اسد کی طرح سخت نہیں لگ رہا تھا وہ فوراً میری ٹانگوں کے بیچ آ گیا شفیق نے میری ٹانگوں کو اپنے کندھوں پر رکھنا چاہا لیکن میرے پاؤں اس کے سینے تک پہنچ پائے شفیق نے اپنے ببلو کی ٹوپی پر تھوک لگایا اور ببلی کی ہونٹوں پر جما کر میرے بوبز دبانے لگا اس نے آہستہ سے آگے بڑھا دیا ببلو کی ٹوپی ببلی کے۔اندر جاتے وقت مجھے تھوڑا درد ہوا پھر مجھے مزے کے ساتھ اپنی ببلی بھرتی ہوئی محسوس ہوئی وہ میرے چہرے کو دیکھتے ہوئے ببلو اندر اتار رہا تھا وہ کا جسم بہت موٹا تھا اور میں ہاتھی کے نیچے چوہی کی مثال تھی پورا ببلو میرے اندر ڈالنے کے بعد وہ مجھے اپنے بڑے پیٹ کے نیچے دباتا ہوا میرے اوپر لیٹتے ھوئے بولا میں تو تمھیں چھوٹی سمجھ رہا تھا ۔ کمال کی چیز ہو وہ آہستہ سے اپنے ببلو کو ہلانے لگا اس کا بھاری جسم مجھے چارپائی میں دبا رہا تھا اسد کے ہڈیوں بھرے جسم کے بعد آج کچھ نیا مزہ مل رہا تھا وہ آہستہ سے ببلو چلا رہا تھا اور میں اسد کے زوردار جھٹکوں کی عادی ہو چکی تھی مجھے مزہ مل رہا تھا لیکن میں تیزی چاہتی تھی ۔۔ میں نے شفیق سے بولا تیز کرو وہ مسکرا کے بولا تم تو پوری رنڈی ہو۔۔۔۔میرے پاؤں میرے سر کی طرف جھک گئے تھے شفیق کے زور کے جھٹکوں سے میری کمر میں درد ہو رہا تھا وہ تقریباً پورا ببلو اندر باہر کر رہا تھا میں مزے میں آگے بڑھتی پانی چھوڑ چکی تھی لیکن اسے روکنا نہیں چاہتی تھی ببلو بہت آسانی سے ایک ہی سپیڈ سے چل رہا تھا کچھ دیر بعد شفیق ہانپتا ہوا رک گیا اور میری ببلی کو پانی سے بھر دیا اور میں بھی دوسری بار اپنی پانی چھوڑ گئی ببلی میں میں نے پہلی بار پانی لیا تھا وہ ابھی تک میری رانوں کو پکڑے ببلو اندر ڈالے بیٹھا تھا کہ ہاہر کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور اسد اندر آ گیا مسکراتے ہوئے شفیق سے پوچھا کیسی لگی نازی۔۔۔؟؟ شفیق نے اپنے ہونٹوں کو دانتوں تلے دبا کر وششششششش کیا پھر بولا بہت کمال کی چیز ہے۔۔۔۔ بس اس لونڈے کو بھگاتے ہیں ۔۔۔۔ اسد نے میری گال پر تھپکی دی اور بولا استاد نے مزہ دیا ؟؟۔ میں مسکرا دی شفیق نے مرجھایا ہوا ببلو باہر۔نکالا تو اسد نے پوچھا مڈی آگے ڈال دی ؟؟ شفیق نے محض ھمممممم کر دیا اسد نے مجھے بولا کہ دودھ لے آؤ میرے لئے اس نے گولی کھائی اور ایک بڑی چادر نیچے کچے فرش پر بچھا کر اس پر۔ایک گڈیلا بچھا دیا ان دونوں نے مجھے اپنے درمیان میں لٹا دیا اور باتیں کرتے ہوئے میرے جسم سے کھیلنے لگے اسد بولا جب پہلے دن آئی تو اس کے بوبز اتنے چھوٹے چھوٹے تھے ۔۔۔ اب دیکھو مست ہو گئے ہیں میں پچھلے چند دن سے محسوس کر رہی تھی کہ میرے ہپس اور بوبز بھاری ہو گئے ہیں اسد کا ببلو ایک بار پھر کھڑا ہو گ۔۔وہ اسد سے بولا تم کر۔لو پھر میں دوبارہ کرتا ہوں اسد اپنے کپڑے اتارتے ہوئے بولا خیر ہے اکٹھے کرتے ہیں ۔۔ شفیق نے اسد سے کہا نہیں درد ہو گا اسے اسد بولا کچھ نہیں ہوتا درد سے مزہ بھی ڈبل آئے گا اس کو مجھے پتا نہیں تھا کہ وہ کیا کرنے لگے ہیں اسد نے شفیق کو لیٹنے کا بولا اور مجھے اشارہ کیا اوپر بیٹھنے میں شفیق کا ببلو پکڑ کر اس پر بیٹھنے لگی شفیق مسکرا کر بولا یار استاد ہو تم ۔۔ میں مان گیا مجھے شفیق کا بھرا ببلو اچھا لگا تھا یہ بغیر درد کے سکون بھرا مزہ دیتا تھا میں نے آرام سے سارا ببلو اپنے اندر بھر لیا اسد نے میری پیٹھ پر ہاتھ لا دباؤ ڈال کر مجھے شفیق کے اوپر لٹا دیا اور میرے ہپس پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنے ببلو میرے پیچھے اتارنے لگے میرے جسم میں کرنٹ دوڑ گیا مجھے درد نے اپنی لپیٹ میں لے لیا جیسے میرا پیٹ پھٹنے لگا ہو ۔۔ اسد بغیر رکے جھٹکے مارنےگا میں درد بھری آوازوں پر دونوں مسکرا رہا تھا مجھے اس جیسا مزہ بھی پہلے نہیں ملا تھا میں نے دو منٹ میں ہی اپنا پانی چھوڑ دیا جب اسد آگے بڑھتا تو اسی لمحے شفیق بھی اپنے ہپس اٹھا کر مجھے ہلکا جھٹکا دیتا میں نے کچھ دیر بوریت محسوس کی اور پھر مزے کی طرف آنے لگی کچھ دیر بعد اسد اپنے لاوا میرے اندر گرا کر الگ ہو گیا اور چارپائی پر جا بیٹھا اور شفیق نے مجھے نیچے لٹایا اور میری ٹانگوں کو پاؤں کے قریب سے پکڑ کر زوردار جھٹکے لگائے لگا میں ایک بار پھر سے ڈسچارج ہونے لگی تھی اور عین میری وائی وائی کی آواز میں ہی شفیق نے وشششششش کی بھاری آواز کے ساتھ ندی کے بہتے پانی میں اپنا پانی شامل کر دیا ۔۔۔ وہ دونوں پانچ بجے چلے گئے تھے اب میرا کوئی دن خالی نہیں جاتا تھا اسد اور شفیق مجھے کھلونے کی طرح جب چاہتے آ جاتے شاید انہوں نے اپنی باریاں مقرر کر لےں تھی تو کبھی وہ دونوں ایک ساتھ آ جاتے مجھے کسی سے کوئی لگاؤ نہیں تھا میں صرف پیاسی مچھلی بن چکی تھی اور سکیس کے بغیر میں خود کو ادھوری تصور کرتی تھی ابھی میں خود بول دیتی کہ کل اکٹھے آ جانا بلال اب بھی کبھی کرتا تو میں الٹی لیٹ جاتی اسے اس سے زیادہ کی طلب نہیں ہوتی تھی اور میں بھی اسے اس تک محدود کر کے ٹال دیتی کبھی کبھی مجھے اس کا حال دیکھ کر ترس آنے لگتا تھا لیکن وہ میری پیاس بجھانے کے لئے کافی نہیں تھا اور میں اب رک نہیں سکتی تھی میرا مہینے میں ایک ہفتہ ہی ریسٹ ہوتا تھا جب مجھے مینسز ہوتے ایک بار میرے دن اوپر ہو گئے شفیق نے پوچھا اور اگلے دن یہ دونوں ایک ساتھ آئے تھے مجھے کوئی ٹیبلیٹس کھلا دیں اور پھر دونوں باریاں لگانے لگے وہ صرف آگے زوردار طریقے سے کرتے رہے ایک ڈسچارج ہو جاتا تو دوسرا میری ٹانگیں پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیتا تھا آج میں بہت بے حال ہو گئی تھی چار بجے تک ان دونوں نے تین تین باریاں لگا لیں تھی میرا نچلا دھڑ شل ہو چکا تھا اور دل متلانے لگا تھا یہ پہلا روز تھا جب مجھے اس کام سے اپنے من میں نفرت محسوس ہونے لگی تھی شام کے پہلے یہ دونوں چلے گئے تھے اور میری طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی اور بلال کے آنے سے پہلے مجھے نیچے سے خون جاری ہو گیا ۔۔۔ اس رات میں بار بار بلال کو دیکھ کر رو دیتی تھی اسے کچھ بتا نہیں سکتی تھی ۔۔۔ بلال مجھے پیار کرنے لگتا اور پوچھتا نازیہ ہم بری طرح پھنس چکے ہیں پانچ ماہ گزر گئے اسد ہمارا مکان بھی نہیں ڈھونڈ رہا اور نہ دوبارہ اس نے زیور یا پیسوں کی بات کی ہے میں بھی بہت نفرت کرنے لگی تھی آج ان دونوں سے میں نے کہا بلال کل اس سے بات کرتے ہیں کہ ہمارے پیسے اور زیور دے دو ۔۔۔ بلال بولا پھر کہاں جائیں گے ؟؟ میں نے کہا بس یہاں سے نکل جاؤ پھر دیکھتے ہیں ۔۔۔ ہم سو گئے تھے ۔۔۔۔ ان دنوں سردی کی شدت بڑھ گئی تھی صبح ہم جلدی اٹھ گئے تھے بلال بولا بس میں آج کام پر نہیں جاتا اور اسد سے اپنا سب کچھ لے کر نکل جاتے ہیں ۔۔۔ مجھے بھی بہت افسوس ہو رہا تھا کہ میں نے ان سب حالات سے بلال کو بے خبر رکھا تھا گزرے دن کے ان دونوں کے ظلم کے بعد مجھے ان دونوں سے گھن آنے لگی تھی ۔۔۔ میں نے بلال سے کہا کہ کچھ دن کام پر جاتے رہو کچھ سوچ کے کرتے جیسے تم بولو گے میں ویسا کرونگی مجھے خطرہ تھا کہ مجھے نہیں تو کم سے کم وہ دونوں بلال کو مار دیں گے اسد کے آنے پر بلال نے صرف اس سے اتنا پوچھا تھا کہ اسد ہمارے مکان کا کیا ہوا ۔۔۔ وہ چند لمحے خاموشی سے ہمیں گھورتا رہا اور پھر بولا مکان کی بات ہو چکی ہے بس ایک ہفتے تک ہو جائے گا ۔۔۔ ہم خاموش رہے ۔۔۔۔ اسد نے آج میرے ساتھ لیٹے ہوئے پوچھا کہ مینسز رکے میں نے نفی میں سر ہلا دیا بولا کل تیار رہنا ہم دونوں آ جائیں گے میں خاموش رہی ۔۔۔ ذہن میں میں سوچ چکی تھی کہ زیور اور پیسے لے کر میں امی کے پاس چلی جاؤں گی اور اس سے معافی مانگ لونگی ۔۔۔ امی کم سے کم مجھے جان سے نہیں مارے گی اور کچھ دنوں میں ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔ رات کو جب اسد چلا گیا تو میں نے اس خوف پر کہ کل یہ دونوں مجھے ایک ساتھ پھر بےحال کریں گے بس میں نے بلال سے کہہ دیا کہ بلال کل اس سے اپنا سب کچھ مانگتے ہیں اور نکلتے ہیں اس ہفتے کا جھوٹ بھی اس کا پورا ہو گیا اور آپ کل سے کام چھوڑ دیں بس جہاں سے نکل جائیں گے ۔۔۔۔ہم باتیں کرتے سو گئے تھے اور صبح ایک نئی امید کے ساتھ آنکھ کھل گئی آج میں اس جنگل میں مٹی کی ان کچی دیوار سے رہائی کے خواب دیکھ رہی تھی ۔۔۔ خود کو ایک بار پھر روشنیوں کے شہر کراچی میں محسوس کرنے لگی تھی میں نے آج بلال کے ہاتھ پکڑ کر دیکھے تھے یہ بہت سخت ہو گئے تھے کبھی اس کے ہاتھ گورے اور نازک ہوا کرتے تھے ۔۔۔۔ اسد نو بجے آ گیا اور آتے ہی بولا بلال جلدی کرو میں آپ کو پہنچا دوں پھر میرا آج کوئی ضروری کام ہے۔۔۔۔۔ میں سر جھکائے بیٹھی تھی بلال ایک لمحے کی خاموشی کے بعد بولا اسد مکان کا تو کچھ نہیں ہوا ؟؟؟ اسد ہمیں گھورتے ہوئے بلال کہ ساتھ بیٹھ گیا بولا کیا جلدی ہے مکان کی آپ کو ؟؟؟ مل جائے گا ۔۔ بلال بولا اسد میں کام نہیں کرنا چاہتا اور ہم یہاں سے جانا چاہتے ہیں ہمیں زیور اور پیسے دے دو ہم آج واپس کراچی جانا چاہتے ۔۔۔ اسد کا چہرہ ایک دم سپاٹ ہو گیا ۔۔۔ بولا کراچی جا کر مرنے سے بہتر ہے یہیں رہو۔۔۔ وہ مجھے گھورتے ہوئے بولا ۔۔۔ نازی اسے سمجھاؤ۔ یہ پاگل ہو گیا اپنے ساتھ تمھیں بھی مروانا چاہتا ۔۔۔۔ میں نے پہلی بار اپنا سر اٹھایا اور بولی بلال ٹھیک کہہ رہا ہم گھر جا کر مرنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔ اسد کچھ دیر حیرانی سے مجھے دیکھتا رہا پھر اپنی مونچھوں کو بل دیتے ہوئے قہقہے لگانے لگا ۔۔۔۔۔۔۔ بولا آپ پھر بھی سوچ لو کہ کیا کہہ رہے ۔۔۔ بلال نے کہا ہم بہت دنوں سے سوچ رہے ہیں اور یہ ہمارا آخری فیصلہ ہے ۔۔۔ اسد نے کال ملا لی اور بولا پار بس ادھر آ جاؤ ۔۔ بلال کام نہیں کرنا چاہتا اور واپس کراچی جانا چاہتے ہیں ۔۔۔ اسد نے شفیق کی بات سن کر تھوڑا مسکرایا اور کال بند کر دی ۔۔۔۔ وہ پھر بھی سمجھاتا رہا کہ بس ایک مہینہ رک جاؤ آپ کا مکان اور شادی بھی کر دیں گے ۔۔۔ لیکن ہم نے صاف انکار کر دیا شفیق کے آنے کے بعد بھی وہ ہمیں سمجھاتے رہے لیکن بلال کے مسلسل انکار پر اسد بولا اچھا پھر آپ چلے جاؤ نازی ہمارے پاس رہے گی ۔۔۔۔ بلال کے سر پر جیسے کسی نے ہتھوڑا مارا ہو وہ ایک دم اٹھا اور بولا شرم آنی چاہیے آپ کو ۔۔۔۔ اسد مسکرا کر بولا شرم کیسی یہ ہماری رنڈی ہے ۔۔ بلال نے نم آنکھوں کے ساتھ میری طرف دیکھا ۔۔ میں نے روتے ہوئے کہا بلال یہ دونوں مجھ پر ظلم کرتے رہے ہیں ۔۔۔ بلال بولا آپ نے مجھے نہیں بتایا ۔۔۔شفیق نے زور کا تھپڑ بلال کو رسید کیا اور بولا بڑا مرد بن رہا ہے آپ کو بتاتی تو بھی آپ کیا کر لیتے اسد اور شفیق نے بلال کو پکڑ کر اس کے کپڑے اتار دئیے اور اس کو چارپائی پر باندھ دیا ۔ اسد بولا اب دیکھ تیری لیلیٰ کے ساتھ ہم ایک ساتھ کیسے کرتے رہے ہیں شفیق اور اسد نے میرے کپڑے اتار دئیے میں زور سے روتی آوازیں دینے لگی اسد بولا نہ تیری آوازیں کوئی سنے گا نہ یہاں آئے گا اسد چارپائی پر لیٹتے ہوئے مجھے اپنے اوپر کھینچ گیا اسد اپنے کپڑے اتار چکا تھا اور اس کا ببلو بھی کھڑا ہو چکا تھا شفیق نے مجھے ہپس سے پکڑ کر اٹھایا اور اسد کے ببلو پر مجھے ٹھونک دیا ۔۔۔(جاری ہے )

Share this post


Link to post

کلی اور کانٹے

قسط نمبر 6

تحریر زاہد ملک

بلال نے روہانسی آواز میں چیختے ہوئے کہا اسد تم کیسے دوست ہو ؟؟ میں نے تم پر اعتماد کیا ۔۔۔ اسد بولا چھوڑو گانڈو تیری میری دوستی بھی ایسی تھی تم میرے پاس بھی مروانے آتے تھے ۔۔۔ بلال رونے لگا تھا ۔۔ میرے سر میں دھماکہ ہوا کیا بلال اتنا گندا لڑکا ہے ؟؟؟ لوہے جیسے سخت راڈ نے مجھے مزہ دینا شروع کر دیا وہ پورا میرے اندر بھرا ہوا تھا میں بلال کے سامنے اس حال میں بہت شرمندگی محسوس کر رہی تھی اس کے دل پر کیا بیت رہی اس کے رونے سے اندازہ ہو رہا تھا وہ ایک بڑی سفید چادر سے بندھا ہوا تھا جو شفیق تقریباً ہر وقت اپنے کندھے پر لٹکائے ہوتا تھا اگر بلال بندھا ہوا بھی نہ ہوتا تو بھی ان کے آگے کچھ نہیں کر سکتا تھا وہ ان کے سامنے ایک بچہ تھا شفیق نے میرے پیچھے اپنا ببلو ڈالتے ھوئے بلال سے کہا دیکھو ایسی کرتی ہے یہ روز ہمارے ساتھ ۔۔۔ ئم اس کو کیسے جانیں دیں گے ڈبل کی اس پوزیشن میں میں بہت جلدی پانی چھوڑ دیتی تھی آج بھی پورے پورے مزے کے ساتھ میں جلدی پانی چھوڑ گئی تھی دو ہاتھیوں کے بیچ دبی میں نے سانس لینے کے لئے اپنے چہرے کو دائیں طرف سے باہر نکالا ۔۔ بلال نیم کھلی آنکھوں سے مجھے دیکھ رہا تھا اس کے چہرے پر مایوسی چھائی تھی اور اس کا ببلو کھڑا ہو چکا تھا ۔۔۔۔ وہ دونوں ہانپتے ہوئے مجھے مسل رہے تھے میں وائی وائی کے ساتھ پھر سے رونے لگی تھی ۔۔ اسد نے شفیق کو اشارہ کیا اور شفیق نے اپنا ببلو نکال کر سائیڈ پر ہو گیا اسد نے مجھے چارپائی پر لٹایا اور میری ٹانگیں اٹھا کر اپنا ببلو میری ببلی میں ڈالا اور مجھ پر لیٹ کر زور کے جھٹکے مارنے لگا۔۔ اور کچھ دیر میں ہی رک گیا اور اپنا لاوا میرے اندر چھوڑ دیا ۔۔۔ چند سیکنڈ بعد وہ اٹھتے ہوئے شفیق سے بولا آگے ڈالو۔۔۔ وہ دونوں جنگلیوں کی طرح مجھے کھینچ کھیچ کے دشمنی نکالتے ہوئے اپنی حوس پوری کر رہے تھے شفیق نے اپنے ببلو کو ایک جھٹکے میں میری ببلی میں اتارا اور اپنے بڑے پیٹ کے نیچے مجھے دباتا ہوا میرے اوپر لیٹ گیا وہ گھوٹ گھوٹ کر جھٹکے مارتا اپنا پانی میرے اندر بھر گیا میرے کانوں میں بلال کی ہلکی وائی کی آواز آئی میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس کا پانچ انچ کا ببلو اس کے پیٹ کی طرف پانی گرا رہا تھا ۔۔۔ اسد اور شفیق نے ایک دوسرے کے ہاتھ سے تالی بجائی اور قہقہے لگانے لگے ۔۔۔۔ وہ بہت بے شرمی سے بلال پر طنز کر رہے تھے اس کا کپڑا کھول کر اسے آزاد کر دیا تھا یہ دونوں چارپائی کے بازو پر بیٹھ گئے اور مجھے دونوں نے اپنی ٹانگوں پر لٹا لیا تھا جیسے کسی بچے کو گود میں بھرا جاتا ہے اس کچے چھوٹے کمرے میں ہم سب ننگے تھے بلال ایک بار پھر ہاتھ جوڑ کر اور رو رو کر ان کی منتیں کر رہا تھا شفیق نے بھی وہی بات کی کہ آپ جا سکتے ہو ہم آپ کو جانے دیتے لیکن نازی کو نہیں جانے دیں گے یہ ہمارے پاس رہے گی ۔۔۔ اسد بولا نہیں بلال بھی یہیں رہے گا ۔۔ یہ جا۔کر کوئی مسئلہ بنا دے گا ہمارے لئے ۔۔۔ بس کام نہیں کرو ادھر گھر میں رہو۔۔۔ اپنی لیلیٰ کو پورا مزہ لیتے دیکھو۔۔۔ دن ایک بجے وہ دوبارہ سے شروع ہو گئے اس وقت بلال کو نہیں باندھا تھا بلال بے بس ہو کر بیٹھا تھا یہ دونوں میرے جسم کو نوچ رہے تھے ۔۔۔ دوسری باری میں بھی بلال کا پانی نکلتے دیکھا میں نے تو مجھے اس کے حال لر بہت رحم آیا ۔۔۔ اسد اور شفیق نے ایک روٹین بنا لی ۔۔ رات کو ایک شفیق ہمارے ساتھ ہوتا اور صبح اسد کے آنے پر وہ چلا جاتا بلال اور میں آپس میں کوئی بات نہیں کر سکتے تھے دس دنوں میں بلال کا پانی جب بھی نکلا صرف مجھے ان کے ساتھ سیکس کرتے ہوئے نکلتا تھا اذیت بھرے ان دس دنوں میں ہم ہر طرح سے جائزہ لے رہے تھے اور ہمیں یہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا میں جب بھی بلال سے نظر ملانے کی کوشش کرتی ہم دونوں کی نظریں جھک جاتی اسد نے صاف کہہ دیا تھا کہ پیسے زیور ختم ہو گئے ہیں اور اسی روز سے بس ہم یہاں سے بھاگنے کا رستہ ڈھونڈ رہے تھے رات کو جب میری آنکھ کھلتی یا تو بلال نیند میں ہوتا یا پھر شفیق جاگ جاتا اس رات اسد دس بجے چلا گیا تھا شفیق نے مجھے اپنے ساتھ سلا لیا آج سردی بہت زیادہ تھی باتھ روم گئی تھی تو دھند اتنی زیادہ تھی کہ وہاں سے کمرہ نظر نہیں آ رہا تھا بارہ بجے شفیق میری ببلی میں پانی چھوڑ کر لیٹ گیا اور پھر اس کے خراٹے بلند ہونے لگے بلال جاگ رہا تھا اس نے مجھے اشارہ کیا کہ بھاگتے ہیں میں نے اسے ابھی سونے کا اشارہ کیا اور آرام سے شفیق کے پاس سے اٹھ گئی میں نے اپنے کپڑے پہنے ہمارے پاس سردی سے بچاؤ کے کوئی گرم کپڑے یا کوٹ نہیں تھے بس گزارا کر لیتے دن کو بھی سردی سے بچاؤ کا واحد سہارا رضائی ہی ہوتا تھا شفیق آج مجھے کچھ گہرے نشے میں لگ رہا تھا اس کے خراٹے تواتر سے چل رہے تھے میں نے اپنا دوپٹہ لپیٹا اور آہستہ قدموں سے چلتی دروازے کے پاس جا کر کنڈی کھولی میں شفیق اور بلال کو دیکھتی باہر آنے لگی اور بلال بھی اپنی چارپائی سے آہستہ سے اٹھنے لگا تھا کمرے سے باہر آ کر میں دروازے سے تھوڑا آگے بلال کا انتظار کرنے لگی ۔۔۔ وہ پانچ منٹ بعد شفیق کا موبائل اٹھائے آہستہ سے باھر آیا اور اس نے دروازے کی باہر سے کنڈی لگا دی ۔۔۔ وہ جلدی سے میرا بازو پکڑ کر مین دروازے کی طرف بڑھا دروازہ کھول کر ہم باہر آ گئے میں جہاں پر آنے کے کئی ماہ بعد اس حویلی سے باہر آئی تھی ۔۔ بلال نے ادھر ادھر سر گھما کر دیکھا اس نے شفیق کے موبائل کو آف کیا اور اپنی جیب میں ڈال کر دائیں طرف مجھے پکڑ کر چلنے لگا ہمیں کچھ نظر نہیں آ رہا تھا بس ہم گھاس میں چل رہے تھے اور ہماری شلواریں گھٹنوں تک پانی پانی ہو چکیں تھی سردی ہمیں بے حال کر رہی تھی لیکن ہم دونوں ہانپتے ہوئے چل رہے تھے ہر طرف خاموشی تھی ہم اگر ایک فٹ دور ہوتے تو ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکتے تھے ہم کس طرف جا رہے تھے ہمیں علم نہیں تھا بلال دکان کی طرف آتا جاتا رہتا تھا لیکن ہم اس وقت اس سے مخالف سمیت میں چل رہے تھے میرے پاؤں سردی سے پتھر بن گئے تھے ہم میں کوئی بات چیت نہیں ہو رہی تھی ہم اپنی سانسوں کی آواز سن رہے تھے اور گھاس پر گھسیٹتے پاؤں سے کچھ آواز پیدا ہو رہی تھی اچانک ہمارے سامنے اونچی اونچی لکڑیوں جیسے کچھ آ گیا بلال نے پہلی بار سرگوشی کی ۔۔ گنے کی فصل ہے ۔۔ اس کے اندر سیدھا جانا ممکن نہیں تھا کچھ لمحے بعد بلال میرے بازو کو پکڑ کر لفٹ سائیڈ پر چلنے لگا میری ٹانگیں جواب دے چکی تھیں اور میں اس گھٹن وقت میں اپنے حوصلے بلند رکھنے کی کوشش کر رہی تھی ہم ایک چھوٹی پگڈنڈی پر چل رہے تھے کبھی کبھی خشک کچی مٹی پر پاؤں سلپ ہو جاتا تھا اور بلال مجھے سنبھال لیتا اور کبھی بلال لڑکھڑا جاتا تو میں اسے پکڑنے کی کوشش کرتی میں درد بھری مدھم آواز کہ ساتھ جھکنے لگی تھی بلال نے مجھے اپنی باہوں میں بھرتے ہوئے سنبھالا اور پوچھا کیا ہوا ۔۔۔ میرا بائیں پاؤں میں شدید درد تھا میں بیٹھنے لگی تھی بلال نے شاید جیب سے شفیق والا موبائل نکالا اور اس کی بیٹری نکال کے شاید سم نکال پھینکی تھی اور اس کے بعد موبائل کو آن کر دیا بلال نے اس کی ٹارچ روشن کی اور میرے پاؤں پر جھک گیا چپل کے اندر سے کانٹے نے میرے پاؤں کو بری طرح کاٹ دیا تھا پاؤں گھاس میں چلتے ہو گیلے اور سردی سے پتھر بنے ہوئے تھے اور اب کانٹے کے درد نے مجھے بےحال کر دیا تھا بلال نے کانٹا نکال پھینکا تھا اور سیدھا ہوتے ہوئے موبائل ٹارچ کو بند کر دیا تھا میری ہمت جواب دے چکی تھی ہم بہت دیر سے چل رہے تھے اور مذید کتنا چلنا تھا ہمیں معلوم نہیں تھا سردی نے میرے جسم کو کاڑ ڈالا تھا اور بلال کی حالت بھی کچھ اس طرح تھی ۔۔ میں نے بلال کو کچھ دیر رکنے کا کہا تو بولا رکنا ٹھیک نہیں ہو گا نازیہ ہمت کرو تھی ۔۔ شفیق کے موبائل پر ٹائم صحیح نہیں آ رہا تھا شاید اس کے بیٹری نکالنے کے بعد ٹائم کی سیٹنگ خراب ہو گئی تھی بلال کا اپنا موبائل ہمارے یہاں آنے کے تین دن بعد ہی اس فرنیچر دکان سے چوری ہو گیا تھا اور ان دنوں مجھے یقین ہو چلا تھا کہ وہ بھی اسد نے چرا لیا تھا تاکہ ہمارا کسی سے کوئی رابطہ نہ رہے میں اپنے پاؤں گھسیٹ کر لنگڑاتی بلال کے ساتھ چلنے لگی تھی چند قدم چلنے کے بعد ہمیں اپنے دائیں طرف سے ایک ہارن سنائی دیا آواز سے انداز ہو گیا کہ مین روڈ ہم سے ہماری دائیں طرف اب بھی کافی فاصلے پر ہے بھاری ہارن کی مدھم سی آواز ہم تک پہنچی تھی بہرحال ہم میں ایک امید کی کرن پیدا ہو گئی تھی دائیں طرف اب بھی گنے کی فصل تھی سو ہم سیدھے آگے چل رہے تھے پانی کے نالے میں بلال داخل ہو چکا تھا اور مجھے ہاتھ سے ادھر ہی روک دیا اس نے آہستہ سے دو مذید قدم اٹھائے اور پھر ایک قدم پیچھے آ کر اس نے دوبارہ سے میرا ہاتھ تھاما اور مجھے آگے کھینچا پانی میرے گھٹنوں تک آ گیا اور ہم پانچ سات قدم اٹھانے کے بعد نالے سے باہر آ گیا یہ راستہ کچہ لیکن ہموار تھا اور دائیں طرف ہی جانے لگا تھا بلال نے مجھے تیز چلنے کا بولا ہم بری طرح سے ہانپتے آگے بڑھ رہے تھے تقریباً بیس منٹ بعد ہمیں ہارن کے ساتھ ایک بڑی گاڑی کی ہلکی آواز سنائی دی اور دھند میں بہت آگے یہ سائید کچھ روشن نظر آئی بلال نے سرگوشی کی کہ ہم روڈ کے قریب ہو رہے شاید یہ کچہ رستہ اسی روڈ کی طرف ہی جا رہا تھا پیچھے سے کچھ روشنی اور موٹرسائیکل کی آواز آنے لگی بلال مجھے کھینچتا ہوا پھر سے دائیں جانب بڑھ گیا شاید ہم دوبارہ اسی نالے کو عبور کر کے گنے کی فصل میں بیٹھ گئے تھے موٹرسائیکل آہستہ سے گزرتا ہوا آگے چلا گیا تھا ماسوائے اس کی لائٹ کے ہم اور کچھ نہیں دیکھ سکے ایک منٹ بعد ہی ہم اٹھ گئے اور نالے کے کنارے پر ہی چلنے لگے ۔۔۔اب ہماری رفتار اس غیر ہموار نالے کے کنارے پر تھی بہت آہستہ ہو گئی تھی کیا یہ اسد کا موٹرسائیکل تھا ؟؟ میں نے بلال سے سرگوشی کی ۔۔۔ تیز لمبی سانسوں کہ بیچ بولا لگتا ایسا ہی ہے ۔۔۔ میں سوچ میں پڑ گئی کہ کیا شفیق روم سے باہر آ گیا تھا ؟؟ مگر کیسے ہمیں وہاں سے نکلے شاید دو گھنٹے سے زیادہ وقت ہو چکا تھا ۔۔۔کچھ ہی دیر بعد موٹرسائیکل واپس آنے لگا تھا ہم ایک بار پھر گنے کی فصل میں بیٹھ گئے تھے اس بار اس کی سپیڈ کچھ زیادہ تھی موٹرسائیکل ایک بار پھر سے پیچھے ا گیا تھا بلال بولا یہ اسد ہی ہے بس اٹھو جلدی چلیں ۔۔۔۔ ہم نالے کے کنارے چلتے آگے بڑھ گئے نالہ بائیں جانب مڑا اور ایک پل میں سے ہوتا ہوا آگے جا رہا تھا پل پر چڑھنے کے بعد بلال نے یہ جگہ پہچان لی تھی وہ روز اس پل پر سے گزر کر دوسری طرف دکان پر جایا کرتا تھا روڈ یہاں سے نزدیک ہے بلال نے سرگوشی کی اور قدرے تیز قدم اٹھانے لگا۔۔۔۔ میں کیسے چل رہی تھی مجھے معلوم نہیں تھا حالانکہ ان چند مہینوں میں میرے ہپس بہت بھاری ہو گئے تھے اور میرا اندر مجھے خالی لگتا تھا جیسے ساری انرجیاں ختم ہو چکی ہوں روشنی اس گاڑی کی آواز نے ہماری ہمت بڑھا دی تھی اور ہم تقریباً بھاگتے ہوئے اس طرف بڑھنے لگے ہم پانچ منٹ میں روڈ پر پہنچ چکے تھے کہیں دور سے روشنی کا آلاؤ محسوس ہونے لگے ہمارا دھیان پیچھے کی طرف بھی تھا یہ اہم اس خطرناک پوائنٹ تھا ہم روشنی کی طرف روڈ کنارے بڑھنے لگے تھے اور اپنی رفتار بڑھا دی تھی روشنی شاید ہماری ہی طرف بڑھ رہی تھی اور ہم اسی طرف بھاگ رہے تھے گیلے کپڑوں کےباوجود بھی ہمارا سردی کا احساس کم ہو گیا تھا ہمیں یہاں سے نکلنا تھا مجھے اس جگہ کے ہوا اور مٹی سے بھی نفرت ہو گئی تھی جس پر میری زندگی مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھی ہم کہاں جا رہے ہیں ؟؟ ہم کیا کریں گے کچھ معلوم نہیں تھا ھمارے پاس ایک روپے کی نقدی موجود نہیں تھی ہم کیسے جائیں گے ہمارے ذہن میں اس پر کوئی سوال نہیں تھا بس ایک ہی جستجو تھی کہ ہمیں یہاں سے نکلنا ہے اور بس۔۔۔ دھند میں لائٹس قریب آ رہی تھی اور گاڑی کا آواز بھی بڑھ رہا تھا سپیڈ اتنی نہیں تھی گاڑی کے قریب آنے پر ہم تقریباً روڈ کے درمیان کھڑے ہو گئے بلال نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا دئیے گاڑی کی رفتار ایک دم کم ہو گئی اور اگلے لمحے ہی وہ تھوڑا کٹ کر کے ہمارے پاس سے ایک ٹرک گزر گیا اور ہم مایوس ہو گئے لیکن بلال نے ایک بار پھر میرا ہاتھ پکڑا اور ہم اسی سمت بھگنے لگے میرے پاؤں بہت درد کر رہے تھے چپل بار بار پھسل رہے تھے گیلے ہونے کے ساتھ ان میں مٹی بھر آئی تھی جس سے کیچڑ سا بن گیا تھا ۔۔۔ ایک روشنی کے ساتھ ہم میں امید بھر آئی اس بار بھی ہم نے اسے روکنے کی کوشش کی وہ آہستہ ہونے کے ساتھ ہم سے گزر گیا اور پھر تھوڑا آگے جا کر رک گیا یہ بھی ٹرک تھا اور اس کی بریک کی آواز سن کر ہم نے اس کی طرف دوڑ لگا دی ۔۔(جاری ہے)

Share this post


Link to post

کلی اور کانٹے

قسط نمبر 7

تحریر زاہد ملک

بلال اور میں بھاگتے ہوئے ٹرک کے پاس پہنچے تو ایک بندہ اس سے پہلے اتر چکا تھا اندھیرے میں اس کا چہرہ صاف نظر نہیں آ رہا تھا ہم دونوں سردی اور خوف سے تھرتھرا رہے تھے وہ پٹھان تھا پشتو لہجے میں بولا کون ہو آپ اور کدھر جانا ہے ۔۔ میں نے بلال سے پہلے بولا انکل پلیز ہمیں یہاں سے لے جائیں ہماری جان کو خطرہ ہے ہم آپ کو سب سچ بتا دیں گے اس آدمی نے ٹرک کے اندر بیٹھے کسی شخص سے پشتو میں بات کی اور کچھ دیر اس سے باتیں کرتا رہا پھر اس نے کھڑکی کھولی اور ہمیں اندر جانے کا بولا بلال کو میں نے آگے جانے کا اشارہ کیا وہ لرزتے جسم کے ساتھ اوپر چڑھنے لگا وہ اندر چلا گیا تھا اور میں اس کھڑکی کے ہینڈل کو پکڑ کر اوپر چڑھنے لگی لیکن میرے ہاتھ اور ٹانگیں میرا وزن اٹھانے سے بے بس ہو چکے تھے دو بار کی کوشش کے بعد بھی میں اپنے کولہے اٹھانے میں کامیاب نہیں ہوئی تو پیچھے کھڑے اس پٹھان نے میرے ہپس کو پکڑ کر مجھے اوپر اٹھایا اس کے سخت بڑے ہاتھ میرے ہپس میں پیوست ہو کر کرنٹ چھوڑ گیا ۔۔۔ پٹھان نے وخ خ خ خ خ کی آواز کے ساتھ گہری سانس لی میں اندر آ چکی تھی اور اس پٹھان کے کھڑکی میں آنے کے ساتھ ہی ٹرک چل پڑا تھا ہمارے کپڑے گیلے تھا اور یہ دیکھتے ہوئے ڈرائیور اور دوسرا بندہ پشتو میں کوئی بات کرتے ہوئے اس بڑی سیٹ کے پیچھے لیٹے کسی تیسرے بندے کو جگانے لگے وہ آنکھیں ملتا حیرت سے ہمیں دیکھتے ہوئے اپنے ساتھیوں سے کوئی بات کرنے لگا تھا اور پھر ہماری طرف آنے لگا اندر جلتی لائٹ میں ان سب کی سرخ آنکھیں اور ڈرونے چہرے دیکھ کر ہم کچھ زیادہ پریشان ہو گئے تھے لیکن تقریر اب ہمارے ساتھ کیا کرنے جا رہی ہے ہمیں معلوم نہیں تھا اور ہم بےبسی کی تصویر بنے بیٹھے تھے ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا ۔۔ ہمارے پاس پیسے نہیں تھے اور ان گیلے کپڑوں کے علاوہ اور کپڑے نہیں تھے ۔۔۔ ان لوگوں نے ہم دونوں سے بولا کہ آپ پیچھے چلے جاؤ۔۔۔ میرے بعد بلال بھی اس تنگ گلی نما جگہ میں آ گیا تھا اس آدمی نے ہمیں کمبل لپیٹنے کا بولا اور ہم فوراً کمبل لپیٹ کر بیٹھ گئے ٹرک کے اندر اتنی ہیٹ تھی کہ ہمیں رفتہ رفتہ سکون ملنے لگا ۔۔۔۔ وہ بہت دیر تک ہمیں دیکھ کر آپس میں باتیں کرتے رہے پھر اسی پٹھان نے جس نے ہمیں ریسیو کیا تھا ہم سے بات کرتے ہوئے بولا کہ آپ ہمیں سچ سچ بتاؤ گے تو ہم آپ کی مدد کریں گے ورنہ آگے ہم آپ کو پولیس کے حوالے کر دیں گے ۔۔۔۔ میرے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی اور میں نے آہستہ سے بلال کو کہنی مار کر اسے بولنے کا اشارہ کیا بلال نے ان کو اتنا بتا دیا کہ ہم پیار کرتے ہیں اور شادی کے لئے کراچی سے نکل آئے تھے اور جہاں دوست کے پاس آئے تو اس نے ہمارا چھ لاکھ اور دس تولے سونا لوٹ لیا اب ہمیں مارنا چاہتا تھا تو ہم بھاگ آئے ۔۔۔ پٹھان نے پوچھا اب آپ کہاں جاؤ گے ؟؟ بلال نے بولا ہم کراچی واپس جانا چاہتے ۔۔۔۔ وہ بہت دیر تک آپس میں لڑنے جیسے انداز میں باتیں کرتے رہے پھر ہمیں بولا کہ ہم باجوڑ جا رہے دو دن بعد واپس کراچی جائیں گے تو آپ کو وہاں چھوڑ دیں گے اگر آپ کہیں اترنا چاہو تو اتر سکتے لیکن آپ پولیس یا کسی اور کے ہتھے چڑھ گئے تو پھر خود ذمے دار ہوں گے ۔۔۔ پٹھان کے اس آپشن پر ہم دونوں مطمئن ہو گئے کہ ہم کہیں اترنا چاہیں تو اتر سکتے ۔۔۔ بلال بولا اگر آپ ن، واپس کراچی جانا ہے تو دو دن کی کوئی بات نہیں ہے ہم آپ کے ساتھ چلیں گے پٹھان نے ہمیں سونے کا بولا دیا کہ آپ کمبل لپیٹو اور سو جاؤ ہمارے کپڑے گیلے تھے لیکن کمبل لپیٹ کر ہم لیٹ گئے اور ہمیں نیند آ گئی۔۔۔۔۔ جب میری آنکھ کھلی تو بلال بیٹھا ان سے باتیں کر رہا تھا باہر ہلکی سی دھند اب بھی موجود تھی لیکن صاف معلوم ہو رہا تھا کہ دن کافی چڑھ چکا ہے میرے اٹھ بیٹھنے پر سب میری طرف متوجہ ہو گئے بلال نے مسکرا کر میری طرف دیکھا حالات نارمل لگ رہے تھے ہم اس مصیبت زدہ علاقے سے کافی دور آ چکے تھے مجھے ان تینوں پٹھانوں کی نگاہوں میں حوس صاف نظر آ رہا تھا لیکن میں پریشان نہیں ہو رہی تھی یہ سب کچھ میں گزار چکی تھی اور میرے دل میں تھا کہ یہ دو تین دن بعد اگر ہمیں کراچی پہنچا دیں تو بھی ان تین کے ساتھ سودا مہنگا نہیں تھا میں بہت عرصے بعد اس قید سے باہر آ چکی تھی اور میں اپنی آنکھوں سے ہر لمحے بدلتے سین دیکھ کر دل میں بہت خوش ہو رہی تھی چھوٹے شہروں اور بستیوں سے گزرتے یہ ٹرک جانے کہاں جا رہا تھا ہمیں معلوم نہیں تھا ہم نے یہ علاقے کبھی خوابوں میں بھی نہیں دیکھے تھے بلال اور میں اس خوش فہمی میں خوش تھے کہ ہم ایک قید سے نکل کر آزاد ہو گئے ہیں اور بس دو چار روز میں کراچی پہنچ جائیں گے ۔۔ کراچی پہنچ کر ہم نے کیا کرنا ہے کہاں جانا ہے ہمیں کچھ معلوم نہیں تھا ٹرک روڈ کنارے ایک جنگل میں رک چکا تھا آسمان پر سورج اب بھی کچھ دھند کی لہروں میں نظر آ رہا تھا سب اس جنگل میں ادھر ادھر پھیل چکے تھے بلال مجھے بھی اتار کر لے گیا تھا کچھ دیر میں واپس آئی اور بلال اور میں ان لوگوں کا انتظار کرنے لگے باری باری یہ تینوں بھی آ گئے تھے۔۔ مجھے ڈرائیور سمیت ان تینوں کی نظریں اپنے ہپس پر چبھتی محسوس ہو رہی تھی اور وہ آپس میں کچھ باتیں کر رہے تھے ٹرک ہمارے سمیت منزل کی جانب چل پڑا تھا ہم دونوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ جب پولیس ناکہ آ جائے تو ہم کمبل لپیٹ کر سو جائیں کوئی اےک گھنٹے بعد ٹرک ایک ہوٹل پر رک چکا تھا ڈرائیور نے اسے باقی گاڑیوں سے الگ تھلگ کھڑا کیا تھا ہمیں اندر رہنے کا بول کر وہ تینوں چلے گئے تھے کچھ دیر بعد ان میں ایک بندہ ہمیں کھانا دے کر واپس چلاگیا تھا ہمیں بھوک لگی ہوئی تھی اور کھانا بھی اچھا تھا سو ہم نے پیٹ بھر کے کھانا کھایا اور آپس میں باتیں کرنے لگے میں نے بلال سے پوچھا کہ کراچی جا کر کیا کریں گے بولا بس اپنے گھروں کو جائیں گے باقی دیکھا جا گا یا ہمیں مار دیں گے یا ہم دونوں کی۔شادی کر دیں گے اگر مر بھی گئے تو اس ستم بھری دنیا میں ذلت سے روز روز کے مرنے سے بہتر ہے ۔۔۔ میں بھی یہی چاہتی تھی سو خاموش رہی شام سے کچھ پہلے پہاڑی سلسلہ شروع ہو گیا تھا نہ تو ہم کسی علاقے خو جانتے تھے اور نہ جاننے کی کوشش کر رہے تھے بس خاموشی سے دیکھتے آگے بڑھ رہے تھے رات دیر سے انہوں نے ٹرک ایک ہوٹل پر روک دیا اور ہمیں بھی اتار کر اس ہوٹل کے ایک کمرے میں لے گئے اس کا اٹےچ باتھ روم بھی تھا ہم فریش ہونے کے بعد یہی بیٹھے رہے اور ایک لڑکا ہمیں کھانا دے گیا ٹرک کا عملہ کہاں تھا ہمیں معلوم نہیں تھا ۔۔۔ کھانے کے کچھ دیر بعد ہم ایک بار پھر سے اپنے انجان سفر کی جانب روانہ ہو گئے رات دیر سے بلال نے مجھے سونے کا کہا اور مجھ پر کمبل ڈال دیا وہ ٹرک کے عملے سے باتیں کر رہا تھا ہمیں اسد کی اس قید سے نکلے تقریباً چوبیس گھنٹے گزر چکے تھے کمبل میں جسم کے گرم ہونے کے ساتھ مجھے نیند آ گئی ۔۔۔ میری آنکھ کھلی تو میں ایک چھوٹے کمرے میں نیچے سوئی ہوئی تھی مجھے چکر آ رہے تھے اور میں نے ایک بار پھر اپنی آنکھیں بند کر گئی جب میں نیند سے پوری طرح بیدار ہوئی تو رات ہی تھی وہی راٹ جس میں میں سوئی تھی یا اس کے بعد والی رات ؟؟ مجھے معلوم نہیں تھا میں نے سر اٹھا کر دیکھا میں قالین پر رضائی میں سوئی ہوئی تھی جبکہ میرے آس پاس تین اور لوگ بھی سو رہے تھے جنہوں نے رضائیاں لپیٹ رکھی تھی ۔ان میں بلال کونسا تھا میں رضائی اٹھا کر کسی کو دیکھ نہیں سکتی تھی میں لیٹ گئی مجھے اب بھی چکر آتے محسوس ہو رہے تھے بہت دیر بعد دور کہیں سے آذان کی آواز آ رہی تھی ۔۔ میں اس چھوٹی کوٹھڑی کے کونے میں لگے ایک سنگل دروازے کی طرف بڑھ گئی یہ باتھ روم تھا میں اس سے واپس آنے کے بعد کچھ پریشان سی ہو گئی تھی آس پاس لیٹے ان تینوں کے جسم بلال سے بہت بڑے لگ رہے تھے اگر بلال ان میں نہیں تھا تو پھر کہاں تھا راستے میں ان لوگوں نے بولا تھا کہ ہم کل دوپہر کو اپنی منزل پر پہنچیں گے میں سو گئی تھی کیا میں میں تھوڑی دیر بعد یعنی فجر سے پہلے اٹھ گئی تھی ؟؟ کیا دوپہر کے پہنچنے کے بجائے ہم ایک گھنٹے میں اسی رات پہنچ گئے تھے ؟؟ یا یہ اس سے اگلی رات ہے کیا میں چوبیس گھنٹے سوتی رہی تھی ؟؟ تو میں ٹرک کے اندر سے یہاں کیسے پہنچی تھی ؟۔ بلال کہاں تھا ۔۔ کیا میں پہلے سے بھی زیادہ مصیبت میں پھنس گئے تھی ؟؟؟ کیا میں ان وحشی شکل والے پٹھانوں میں اکیلی رہ گئی تھی ؟؟؟ افففففف سب کچھ غلط ہو گیا تھا بلال ان میں نہیں تھا تو بلال کہاں رہ گیا میں بیٹھتے ہوئے اٹھی اور دروازے کی طرف بڑھ گئی پردہ ہٹایا تو بھاری تالے نے میرے منہ پر جیسے طمانچہ مارا ۔۔ میں اس کوٹھڑی ک، دھندلے مناظر میں اپنی جگہ پر واپس آنے لگی تھی میں نے اپنے اوپر رضائی تان لی اور بغیر آواز کے اپنی قسمت پر رونے لگی تھی ۔۔۔ بہت دیر بعد کمرے میں کچھ موومنٹ محسوس ہوئی میں نے اپنی آنکھیں صاف کر لیں اور رضائی سے اپنا چہرہ نکال کر باہر کے مناظر دیکھنے چاہیے سرخ آنکھوں اور بکھرے بالوں والا ڈرائیور رضائی سے اپنا چہرہ نکال کر میری طرف دیکھ رہا تھا ۔۔ میں نے باقی دو کی طرف دیکھا تو وہ ابھی سو رہے تھے اس نے مجھے اشارہ کر کے اپنے پاس بلایا میری آنکھوں میں نمی آ گئی اس نے میری رضائی کھینچ کر غصے سے دیکھتے ہوئے کہا اےےےےےے ادھر آ ۔۔۔ میری ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ گئی اور میں کانپتی اس کے پاس چلی گئی اس نے مجھے اپنی رضائی کے اندر کھینچ لیا اس بندے سے کچھ عجیب سی بو آ رہی تھی میں نے پوچھا بلال کدھر ہے وہ میری بات کا جواب دینے کے بجائے مجھے کسنگ کرنے لگا میں نے لرزتے جسم اور کانپتی آواز میں پھر وہی سوال دھرایا ۔۔۔ بولا آ جائے گا ادھر دوسرے کمرے میں ہے وہ وحشیوں کی طرح میرے نرم بھرے ہپس کھینچ کر ہلکی آواز میں وخ خ خ خ خ وخخخخججج کرنے لگا اس نے ایک دم میں قمیض اوپر کر دی اور میرے بوبز سے اپنے منہ کو بھرنے لگا وہ مسلسل میرے ہپس سے اپنے بہت سخت ہاتھوں سے مٹھیاں بھرے جا رہا تھا پھر اس نے میری پیٹھ اپنی طرف پھیر لی اور میری شلوار کو گھٹنوں تک نیچے کیا اور اپنے آپ کو سیٹ کرتا ہوا کوئی بہت موٹی گرم اور سخت چیز لوہے کی طرح میرے ہپس کے درمیان دبانے لگا افففففففف یہ کیا ہے کیا یہ اس کا ببلو ہی میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کرکے اس کو پکڑنا چاہا لیکن اس گندے پٹھان نے میرا ہاتھ پکڑ کر آگے کیا اور میرے ہلس کو پکڑتے ہوئے لوہے کا موٹا راڈ میرے ہول کے اندر دبانے لگا ۔۔ اممممھھھھ اونہہ آئی آئی آئی کی میری آوازیں اس چھوٹی کوٹھڑی میں گونج رہی تھی وہ خود آگے آنے کے بجائے مجھے کھینچ رہا تھا ساتھ میں وخخخخخ آہاہا ووووی وووی وووی کرتا جا رہا تھا اس کا ببلو اسد سے بھی کہیں زیادہ بڑا موٹا اور سخت تھا اور آگے آنے پر میری آوازیں گلے میں پھنس گئیں میری زبان اور آنکھیں باہر آنے لگی لیکن وہ پورا اندر کرنے کے بعد جھٹکوں کی صورت مجھے ہلانے لگا تھا میرا جسم لٹ رہا تھا اور بے حال اس کے ہاتھ کی سخت پکڑ کے ساتھ اچھل کر اس کے ببلو کو اپنی برداشت سے بےقابو ہوتے اندر باہر کر رہی تھی بہت وقت گزر چکا تھا مجھے معلوم نہیں کہ میں پانی چھوڑ چکی تھی یا۔نہیں لیکن ستم کا شکار بنے اس کا کھلونا بنی ہوئی تھی اتنی دیر میں تو اسد بھی اپنا لاوا نکال فیتا تھا لیکن یہ انسان تھا یا کچھ اور ابھی تک ویسی ہی سپیڈ میں مجھے کاٹتا جا رہا تھا پھر وہ رک گیا اور اپنی لفٹ ٹانگ میرے اوپر پھیرتا ہوا مجھے الٹا کر گیا اور میرے اوپر لیٹ کر زور کے جھٹکے مارنے لگا مجھے لگ رہا تھا کہ میری ہڈیاں سرمہ بن جائیں گی میں کچھ بول نہیں سکتی تھی میری آنکھیں مسلسل دکھوں کی وجہ سے اب خشک ہونے لگیں تھی جو چند آنسو بہانے کے بعد خشک ہو جاتی تھیں ۔۔۔ بہت دیر بعد اوی اوی اوی کی آواز کے ساتھ اس نے بہت گرم اور عجیب سی چیز میرے اندر گرا دی تھی اور ساکت ہو گیا تھا اس کا جسم بھٹی کی طرح گرم تھا اور وہ بری طرح ہانپ رہا تھا ساتھ والی رضائی کے اندر سے آنے والی آواز پر وہ پشتو میں الفاظ کو لمبا کر کے مزے سے اسے کچھ بتا رہا تھا میں کیا کروں مجھے کیا کرنا ہے میں نے کروٹ لے کر اپنے ٹوٹے بدن کو سیدھا کیا اور روتے ہوئے ان سے ایک بار پھر پوچھا بلال کہاں ہے ۔۔۔ وہ ہنسنے لگے ۔۔ ہائے او لیلیٰ مجنوں کو بلا لاؤ۔۔۔ وہ ہنستے ہوئے آپس میں باتیں کر رہے تھے پھر میرے قریب والی رضائی سے بھاری آواز میں کسی نے اووووممممم کیا وہ دونوں اس سے ہنس کر ماما او ماما ۔۔ کہہ کر کوئی بات کرتا اور ماما پھر اوووووھھھھم کہہ دیتا اور یہ دونوں پھر سے ہنسنے لگتے ۔۔ جس وحشی نے مجھے اپنی درندگی کا بہت ظلم سے نشانہ بنایا تھا اس نے مجھے تھپڑ مارا اور بولا جاؤ ماما کے پاس جاؤ ۔۔ ماما اس کو مجنوں کا بتاؤ۔۔۔ماما نے پھر سے زیادہ بھاری آواز میں اووووھھھھھمممم کہہ دیا میں رونے لگی اور اسی وحشی نے مجھے اٹھا کر ماما کی رضائی میں بھر دیا تھا ۔۔۔(جاری ہے )

Share this post


Link to post

کلی اور کانٹے

قسط نمبر 8

تحریر زاہد ملک

میں غم اور درد سے چور بے حال سی اس ماما کے پہلو میں پڑی تھی میں اپنی قسمت پر رونا بھی چاہتی تھی تو اب مجھے رونا بھی نہیں آتا تھا لوگ کیسے مر جاتے ہیں میں کیسے مروں گی ؟؟؟ میں مر کیوں نہیں جاتی ؟؟ مجھے کوئی مار کیوں نہیں دیتے مجھے اس وقت اسد اور شفیق ان وحشیوں کے مقابلے میں بہت اچھے لگ رہے تھے بلال بھی میرے ساتھ تھا وہ کوئی بات کر لیتے کچھ وقفہ مل جاتا کبھی ان کے دل میں احساس پیدا ہو جاتا جس کی اب یہاں کوئی امید باقی نہیں تھی بلال کو ان لوگوں نے کہاں کر دیا مجھے کوئی جواب نہیں مل رہا تھا ماما نے اپنے بازو میں بھرتے ہوئے میرے چہرے کو اوپر اٹھا کر اپنے لبوں کے قریب کرتے ہوئے میرے گال کو اپنے دانتوں سے ایسے کاٹا کہ میری چیخ نکل گئی یہ سب قہقہے لگانے لگے ماما میری آواز کی کاپی کرتے ہوئے ووووئی ووووئی وووئی بولتا اور یہ دونوں قہقہے لگانے لگتے ماما نے میرے ہپس کو اپنے ہاتھوں میں دبایا اور پشتو میں کوئی بات کہہ دی تو وہ سب ہنسی میں جیسے ٹوٹ پڑے تھے ماما نے میری قمیض اتار دی اور اس کے بعد اور بریزر بھی اتار کر رضائی سے باہر پھینک دی کمرے میں بیٹھے باقی دو افراد ہنستے ہوئے پشتو میں ایسے پوچھا جیسے وہ کہہ رہے ہوں ماما آج بڑی جنگ لڑنی ہے کیا ؟۔ ماما نے جوش میں کوئی بات کہہ دی وہ دونوں ماما کی ہر بات پر کھلکھلا کر ہنس دیتے تھے ماما میرے بوبز کو جوستے اور ساتھ مدہوشی جیسے کچھ بولتا جا رہا تھا یہ وہی بندہ تھا جس نے ہمیں سب سے پہلے ریسیو کیا تھا میں پہلے سے بھی بڑی مصیبت میں پھنس چکی تھی ماما نے اپنے کپڑے بھی اتار دئیے وہ میرے جسم کے انگ انگ کو پاگلوں کی طرح کاٹ رہا تھا میں نے اسے رحم بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو جوڑ دیا میرے حلق سے کوئی آواز نہیں نکل سکی ۔۔۔ وہ قہقہے لگاتے ہوئے پشتو میں کچھ کہہ رہا تھا جس پر باقی دونوں قہقہے لگانے لگے تھے میں بس آنکھیں بند کرکے بغیر کسی سوچ کے ساکت ہو گئی تھی ماما نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے ببلو پر رکھ دیا یہ پہلے والے وحشی سے موٹائی میں کم تھا لیکن لمبائی میں زیادہ تھا میں نے خود کو ان کے حوالے کر دیا تھا اور سوچ رہی تھی کہ جیسے کوئی موقع ملے گا میں اپنی زندگی کا خاتمہ کر دوں گی ۔۔۔ ماما نے مجھے الٹا لٹاتے ہوئے میرے اوپر سوار ہو گیا اور ببلو کو میرے پیچھے پورا پورا اتار دیا وہ جھٹکے لگانے سے پہلے کچھ بول گیا جس پر باقی دونوں آدمی کھکھلا کر ہنس دئیے ماما مستی میں کچھ بولے جا رہا تھا اور جھٹکے مار رہا تھا مجھے یاد نہیں کہ میں کیا محسوس کر رہی تھی اب مجھے یھ سب کچھ ایک ڈرونا خواب لگتا ہے کچھ دیر بعد اس نے اپنا ببلو باہر نکالا اور میری ببلی میں ڈالنے لگا ساتھ اس نے میری ٹانگوں کو تھوڑا کھول دیا ببلو کے اس طرح میری ببلی میں اندر آنے سے میرا پیٹ آگے سے پھٹنے لگا تھا ماما کچھ دیر میں مستی کی اوی اوی اوی کرتا میرے اندر پانی چھوڑ دیا اب میں نیم بےہوشی کے عالم میں اگلے شکاری کے انتظار میں تھی کہ وہ کب مجھے اپنی حوس کا شکار بنا کر مجھے کچھ دیر سانس لینے کا موقع ملے گا ماما اور وحشی آواز دینے لگے زرولی او زرولی ۔۔۔۔ اس کے بعد پشتو میں کیا بولا کہ وہ اس رضائی کے اندر آ گیا اور ماما دوسری طرف سے باہر نکل گیا میں ویسے ہی الٹی لیتی ہوئی تھی کمرہ کسی بھیانک بو کے ساتھ دھویں سے بھر گیا تھا مجھے ناشتے میں خوب تحفے مل رہے تھے زرولی نے میرے ہپس پر بیٹھتے ہی میرے پیچھے سخت راڈ اتار دیا تھا لیکن مجھے کچھ محسوس نہیں ہو رہا تھا میرا جسم شل ہو چکا تھا بہت دیر بعد وہ بھی میرے پیچھے کوئی پرانی عداوت نکال کر الگ ہو گیا تھا جہاں سردی کی شدت بہت زیادہ تھی رضائی تھوڑی جسم سے اٹھتی تو برف جیسا جھونکا جسم کو پتھرا دیتا تھا ۔۔ زرولی نے میرے اوپر سے رضائی ہٹا دی تھی اور میرے ہپس پر یہ تینوں اپنے ہاتھوں پھیر کر اور تھپکی دے کر کچھ بولتے جا رہے تھے ۔۔۔۔ وہ وقفے وقفے سے باتھ روم جا رہے تھے پھر مجھے بولا اور لیلیٰ نہا لو ۔۔۔۔ میں پڑی رہی بہت دیر بعد میں نے سسکی بھر کر اس ماما سے پوچھا بلال کہاں ہے۔۔۔ بولا وہ تمھیں بیچ گیا ہے ہم پر ایک لاکھ میں ۔۔۔۔۔ دوسرا بولا نہیں وہ ہمیں بولا کہ میری لیلیٰ چھوٹی ہے اسے بڑا کر دو پھر میں لے جاؤں گا تم سے ۔۔ وہ مسلسل مذاق بنا رہے تھے اور مجھے کوئی ایک بات نہیں کر رہے تھے کبھی بولتے وہ گم ہو گیا تھا راستے کے ایک ہوٹل میں ۔۔۔ یہ بات بھی بعید نہیں تھی کہ انہوں نے بلاگنگ کو قتل کر دیا ہو ۔۔۔ ان میں سے ایک آدمی کہیں چلا گیا تھا اور بہت دیر بعد وہ واپس آیا تھا وہ اپنے ساتھ کھانا لایا تھا مجھے یہ لوگ باہر لے آئے کہ آج مزے کی دھوپ نکلی ہے میں صحن میں آئی تو آس پاس بلند پہاڑ تھے اور ان کے بیچ یہ گھر میں اکیلا لگ رہا تھا دیوار کے ساتھ دو چارپائیاں پڑی ہوئی تھی جن پر انہوں نے مجھے اپنے ساتھ بٹھا لیا میرا کھانے کو دل نہیں کر رہا تھا لیکن یہ مجھے مجبور کر رہے تھے ایک ماما اس وحشی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا یہ بہت ظالم بندہ ہے اس سے بچ کے رہنا یہ گدھے کی نسل سے ہے یہ احساس نہیں کرتا ۔۔۔ شام کے بعد وہ وحشی میرے ساتھ سو گیا تھا مجھے نیند آ گئی تھی میرے ہونٹوں سے نکلنے والی درد بھری آواز کے ساتھ میری آنکھ کھل گئی وحشی میرے پیچھے لگا ہوا تھا یہ تینوں مجھے ایک ہفتے تک اس طرح اپنے حوس کا نشانہ بناتے رہے ایک ہفتے بعد وہے ٹرک ادھر آ گیا تھا اس سے بھی تین آدمی اس گھر میں آ گئے تھے یہ چھ افراد شام تک بیٹھے آپس میں باتیں کرتے رہے اور شام کے فوراً بعد ماما وحشی اور زرولی۔ٹرک لے کر چلے گئے تھے اور نئے آنے والے ان تینوں افراد نے بھی میرے ساتھ وہی سلوک برقرار رکھا۔۔۔۔ ایک ہفتے بعد پہلا گروپ واپس آ گیا تھا اور یہ تینوں ٹرک کے ساتھ چلے گئے تھے اب میں سمجھ چکی تھی کہ یہ چھ بندوں کا گروپ ہے یہ سلسلہ چلتا رہا کبھی ایک ہفتے میں تین کبھی دو اور کبھی ایک بندہ ضرور ہوتا اور کبھی کبھی یہ چار بھی ہوتے تھے مجھے کوئی پتا نہیں تھا ہفتے کا کونسا دن ہے مہینہ کونسا چل رہا دن رات کا ہوش نہیں ہوتا تھا کبھی دن کو چند گھنٹے سو جاتی تو کبھی رات کو اذیت بھرے دن کا پل پل مشکل ہو گیا تھا میرا جسم بہت بڑھ گیا تھا میری جلد خراب ہونے لگی تھی رنگت کالی ہو رہی تھی مجھ سے چلا نہیں جاتا تھا میں وقت سے پہلے ایک بڑی عمر کی عورت بن چکی تھی پتا نہیں تھا ماہ گزر گئے یا سال گزر گئے تھے کوئی طوفان بھی نہیں آ رہا تھا جو مجھے اڑا لے جائے کو سیلاب نہیں آ رہا تھا جو مجھے بہا لے جائے ان دنوں میں بہت بیمار ہو گئی تھی مجھے شدید کھانسی کے ساتھ بخار تھا میرے پیٹ میں مڑوڑ اٹھ رہے تھے میرے جسم پر پیپ بھرے دانے نکل آئے تھے میری ہڈیوں میں ایسا درد تھا جیسے انہیں کو آڑے سے کاٹ رہا ہو یہ ظالم پھر بھی اپنی حوس پوری کر رہے تھے بیچ میں میں کھانا پکانے کے ساتھ کپڑے دھونا اور باقی کام بھی سیکھ چکی تھی لیکن اس وقت وہ پھر سے کھانا پتا نہیں کہاں سے لے کر آتے تھے م،حالت بگڑتی دیکھ کر وہ پریشان ہو گئے تھے پچھلے چار روز سے میں ان کے حوس سے بچی ہوئی تھی لیکن میری حالت بگڑتی جا رہی تھی مجھے لگتا تھا میں کچھ وقت کے لئے بےہوش ہو جاتی تھی اس رات یہ چھ اکٹھے تھے اور آپس میں باتیں کرتے جارہے تھے صبح سورج نکلنے کے ساتھ ہی یہ کچھ تیاری کر رہے تھے مجھے بڑی چادر پہنائی اور مجھے اٹھا کر جاتے ہوئے مجھ بولے کہ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں میں مر جانا چاہتی تھی مجھ سے بولا نہیں جا رہا تھا موٹرسائیکل پر مجھے درمیان میں بٹھایا اور یہ دو بندے پہاڑی پر آگے چل پڑے میں کبھی کبھی آنکھیں کھول کر دیکھ لیتی تھی لیکن کہاں جا رہے ہیں مجھے کچھ معلوم نہیں تھا میں تھک چکی تھی اور میری کمر بہت درد کر رہی تھی بہت دیر بعد ایک اور پہاڑی پر چڑھتے اس کچے رستے پر وہ رک چکے تھے آپس میں مدھم سے گفتگو کرتے وہ مجھے اتار چکے تھے اور اس رستے کی ایک سائیڈ پر مجھے لٹا کر میرے اوپر کمبل ڈالا اور موٹرسائیکل کو پیچھے موڑ کر چلے گئے تھے مجھے یقین ہو چکا تھا کہ میں اب کسی کام کی نہیں رہی تھی اور بس مرنے کے قریب تھی مجھے سکون مل رہا تھا کہ۔میں اب اذیت بھری زندگی سے چھٹکارا پا چکی ہوں اور بس اب کسی ظلم کے قابل نہیں رہی ہوں ۔۔۔ دھوپ سے مجھے سکون مل رہا تھا کبھی کبھی میری آنکھیں کھل جاتی تھی شاید دوپہر کے بعد کا ٹائم تھا مجھے اپنے پاس کچھ آوازیں آتی سنائی دیں میں نے اس خدشے کے پیش نظر آنکھیں کھول دیں کہیں وہ ظالم واپس تو نہیں لوٹ آئے ۔۔۔ ایک بزرگ اور ایک خاتون آپس میں باتیں کرتے مجھے اٹھا رہے تھے بزرگ کی اللّٰہ اللّٰہ کی آوازیں مجھے کسی محبت کا احساس دے رہے تھے وہ دونوں مل کر مجھے تقریباً گھسیٹتے ہوئے اس چھوٹے رستے پر پہاڑی کے اوپر گھسیٹتے جا رہے تھے مجھے ایک کمرے میں گھاس کے بنے قالین پر لٹا دیا گیا اور کچھ فاصلے پر آگ جلا دی گئی مجھ پر رضائی ڈال کر بزرگ خاتون میرا سر دبانے لگی۔۔۔۔۔ خاتون چمچ سے مجھے دودھ پلانے لگی تھی مجھے لگا وہ اپنا سب کچھ بھول کر میری خدمت میں لگ گئے تھے کچھ دیر بعد مجھے قہوہ جیسی کوئی بہت کڑوی چیز پلائی اور اس کے کچھ دیر بعد مجھے میٹھا قہوہ پلایا گیا بزرگ ایک چارپائی پر سو گیا تھا اور خاتون میرے ساتھ مجھ میں بولنے کی ہمت نہیں تھی میں کبھی خود کو جاگتا تو کبھی گہری نیند میں اترتا محسوس کر رہی تھی پتھروں کی دیواروں والے اس چھوٹے کمرے کے۔دروازے سے اوپر چوکور چھوٹے سوراخ سے سورج کی روشنی آنے لگی تھی مجھے بدن میں درد کی شدت قدرے کم محسوس ہو رہی تھی ان کی آپس کی گفتگو میں سن تو رہی تھی لیکن سمجھ نہیں پا رہی تھی یہ کوئی عجیب طرح کی پشتو تھی شاید کا کوئی اور پہاڑی زبان تھی ۔۔۔ میں تین دن بعد کافی سنبھل چکی تھی کھیر میکس ٹائپ کی کوئی چیز مجھے دن میں تین بار کھلانے کے ساتھ قہوہ اور اس کے ساتھ وہ بہت کڑوا قہوہ بھی پلایا جا رہا تھا تیسرے دن رات کو مجھے الٹیاں آنے لگیں تھی اور اس کے بعد میں خود کو بہت ہلکا محسوس کر رہی تھی اگلی صبح میں تکیہ کی ٹیک لگ لر ان دونوں میاں بیوی کو محبت کے ساتھ دیکھ رہی تھی بزرگ آج کچھ مطمئن تھا اس نے اپنی بیگم سے کوئی بات کی وہ دونوں محبت سے مجھے دیکھ کر باتیں کر رہے تھے اس سے اگلے روز سے ہی بزرگ کلہاڑی اٹھا کر نکل جاتا اور شام سے کچھ دیر قبل واپس آتا یہ اس کی روزمرہ کی روٹین تھی شاید وہ کچھ دن میرے لئے گھر رکا رہا تھا یہ ظلمت بھری دنیا شاید اس لئے ابھی تک قائم تھی کہ اس میں اس بزرگ جوڑی جیسے لوگ موجود تھے کڑوے قہوے کا ایک کپ مجھے رات کو سونے سے قبل ضرور پلایا جاتا بزرگ خاتون اس کو بہت سی جڑی بوٹیاں ڈال کر بناتی تھی ۔۔۔۔ مجھے اس بزرگ جوڑی میں امی ابو جیسی شفقت نظر آتی تھی لیکن مجھے خود سے گھن آنے لگتی تھی میرا وجود میری نفرت کا سب سے بڑا مرکز تھا اسی وجود کی آگ نے مجھے جیتے جی مار دیا تھا غلطی کس کی تھی ؟؟ ابو کی جس نے مجھے ناسمجھی کی اس عمر میں موبائل دے کر آزاد چھوڑ دیا تھا ۔۔۔۔ امی کی ؟؟؟ س نے مجھ سے کبھی نہیں پوچھا تھا کہ موبائل پر دن رات کیا کرتی رہتی ہو ؟؟؟ میری دوست شکیلہ کی جس نے مجھے موویز سنڈ کر کے مجھ کو پیاسی چڑیل بنا دیا تھا ۔۔۔ بلال کی جس نے سب سے پہلے میرے جسم کے ساتھ کھیلا تھا ۔۔ میری ممانی کی جو میری امی کے ڈاکٹر کے پاس جانے کہ بعد لاپرواہ سو گئی تھی یا خود میری غلطی تھی جو میں چند دنوں میں ہی اتنا غلط فیصلہ کرتے ہوئے اتنا بڑا قدم اٹھا گئی تھی بلال کے دوست اسد کی غلطی تھی یا خود بلال کی غلطی تھی جس نے اس جیسے حوس بھرے انسان پر اتنا بڑا اعتماد کر لیا تھا ۔۔ بلال بھی میری طرح بچہ تھا اور اس دنیا کے فراڈ اور ظلم سے بے خبر تھا ۔۔۔۔ بلال کہاں ہو گا کیا وہ زندہ بھی ہوگا کا ان ظالموں نے اسے بھی مآر دیا تھا بظاہر یہ۔مجھے ماڑ کر ہی درندوں کی خوراک کے طور پر جہاں پھینک گئے تھے مجھے پکا یقین تھا کہ میرے امی ابو میرے ایسے اقدام کے بعد اگر ہارٹ اٹیک سے نہیں مرے ہونگے تو خودکشی کرکے مر گئے ہوں گے اب میرے سارے راستے بند تھے میں کہاں تھی مجھے علم نہیں تھا نہ بزرگ جوڑی میری کوئی بات سمجھتے تھے اور نہ میں انکی کوئی بات سمجھ پاتی تھی گونگے جیسے اشاروں کے بعد ہمارے درمیان مسکراہٹ کا تبادلہ ہوتا اور کام چل جاتا اشاروں سے پوچھنے پر ہی بزرگ خاتون نے چند آنسوؤں کے بیچ بتا دیا تھا کہ اس کے دو بیٹے گلے کٹنے سے شہید ہو گئے کس نے کیسے شہید کیا اس سے آگے میں جان نہیں پائی تھی وہ مجھے ایک بیٹی جتنا پیار دیتے تھے بزرگ خاتون کو میں چںد اشاروں سے بتا چکی تھی کہ میں ظلم کا شکار ہوتے ہوتے آخری سانسوں میں آپ کے ہاتھ لگ گئی تھی شاید ایک سال سے بھی بھی بہت زیادہ میں ان کے پاس رہی میری رنگت نکھر چکی تھی صحت بہت بہتر ہو چکی تھی سیکس کا بھوت جانے کب سے اتر چکا تھا اس گھر سے تھوڑے فاصلے پر پہاڑی پر ہی چند گھر موجود تھے جن کی خواتین کبھی کبھار ادھر آ جاتی تھی اس روز بزرگ خاتون نماز پڑھتے ہوئے بےچین ہوتی گئی اور کچھ دیر میں ہی زندگی کی بازی ہار گئی ۔۔۔(جاری ہے )

Share this post


Link to post

کلی اور کانٹے

قسط نمبر 9

تحریر زاہد ملک

مجھے ایسے لگا جیسے میری سگی ماں مر گئی ہو میں بہت عرصے بعد روئی تھی خود دکھوں سے چور اس خاتون نے مجھے پل پل عزت دی احترام دیا پیار دیا بابا جی بھی بہت اچھے تھے لیکن اس خاتون نے مجھے مرا ہوا اٹھایا تھا اور دیسی ٹوٹکوں سے مجھ میں جان بھر دی تھی میں صحت مند ہو چکی تھی مجھے اماں نے جینا سکھا دیا تھا اور خود مر گئی تھی میں کئی دن تک روتی رہی تھی ان کے گھر محلے داروں کے علاوہ کچھ دور دراز کے مہمان بھی آئے تھے جن میں کچھ خواتین کو باباجی نے روک لیا تھا انہی خواتین میں میری ہم عمر ایک لڑکی آئی تھی جسے کسی حد تک اردو بولنا آتا تھا میں لمبے عرصے سے بولنا بھول چکی تھی اور اب اماں اور بابا کے ساتھ گونگوں والی زندگی گزار رہی تھی جہاں تقریباً ہر بات اشارے اور مسکراہٹ سے ہوتی تھی کچھ روز بعد ہی بابا جی کے گھر کچھ مرد مہمان آئے تو میری دوست اس لڑکی نے جو اردو بول سکتی نے بتایا کہ بابا جی میری شادی کر رہے ہیں وہ چاہتے تھے کہ۔مہمانوں کے جانے سے قبل میں اپنے گھر چلی جاؤں کیونکہ اماں کی وفات کے بعد وہ مجھے اکیلا نہیں رکھنا چاہتے تھے میں ایک بار پھر وسوسوں کا شکار ہو گئی میں نے سوچ رکھا تھا کہ میں یہی اسی گھر میں مر جاؤں گی اور یہاں سے کبھی نہیں نکلوں گی لیکن ایک دم سے حالات نے ایک بار پھر کروٹ لے لی تھی میں بابا جی کو انکار نہیں کر سکتی تھی کیونکہ انہوں نے مجھے زندگی دی تھی بہرحال لفظ شادی اب سے پہلے کی زندگی سے بہت حوصلہ افزا تھا اور میں خاموش رہی ان کی رسم و روایات کے مطابق مجھے دو لاکھ کے عوض میرا ایک مولوی ٹائپ بندے سے نکاح کر لیا تھا مجھے اسی لڑکی نے بتایا تھا کہ میں اب تک وزیرستان کے آخری حصے یعنی افغان بارڈر کے قریب تھی اور اب بیاہ کر بنوں جا رہی تھی بنوں ایسا شہر تھا جس کو نام میں جانتی تھی کراچی میں ہمارے محلے میں ایک کرایہ دار فیملی کا تعلق بنوں سے تھا اور اس گھر کی خاتون میری امی کی دوست رہ چکی تھی اگلی صبح مجھے دو سوٹ کپڑوں کے ساتھ اس گھر سے روانہ کر دیا گیا تھا میں بابا جی سے اور بابا جی مجھ سے حقیقی بیٹی کی طرح تڑپ کر ملے تھے اور ہم بہت دیر روتے رہے تھے میرے میاں کا نام نظام تھا اور میرے ساتھ اس کی دوسری شادی تھی پہلی بیوی سے اس کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا اس کی بڑی بیٹی میری ہم عمر تھی اس کی پہلی بیوی بیمار رہتی تھی اس کا بیٹا میرے سے دوسال بڑا تھا ایک خاتون کے ساتھ میں اپنے میاں نظام کے ساتھ اپنے گھر میں داخل ہوئی تو گھر کے کسی فرد نے مجھے برداشت نہیں کیا نظام کی عمر اس وقت 45 سال تھی اور میں شاید 16 برس کی ہو چکی تھی میں نے پچھلے تقریباً تین سال ایک ڈرونے خواب جیسے گزارے تھے ۔۔۔ مجھ سے ملنے کوئی نہیں آیا اور نظام کے بچوں نے اس سے بھی منہ موڑ لیا وہ اپنی ماں کے ساتھ اس کے کمرے میں ہوتے تھے نظام نے مجھے سمجھایا کے وقت کے ساتھ یہ ٹھیک ہو جائیں گے وزیرستان سے ہمارے ساتھ آنے والی خاتون جو نظام کی بہن تھی شام سے قبل اپنے گھر چلی گئی تھی شام کے بعد نظام بازار سے کھانا لینے گیا تو اس کی پہلی بیوی اپنے بیٹے کے ساتھ میری کمرے میں آ گئی اور اپنے بیٹے سے پشتو میں بات کرتی اور اس کا بیٹا اردو ٹرانسلیشن کے ساتھ مجھے کہتا خہ اےے لڑکی میری امی کہتی ہے یہاں سے بھاگ جاؤ ورنہ میں تیرا قیمہ بنا کے نظام کو ہی پکا کے کھلا دونگی ۔۔ وہ کچھ دیر کھڑے اپنے بازو ہوا میں لہرا کر مجھے دھمکیاں دے رہے تھے نظام کی تینوں بیٹیاں بھی اپنی امی اور بھائی کے ساتھ کھڑی تھی میں سر جھکائے اپنی قسمت پر آنسو بہاتی رہی یہ لوگ میرے اس کمرے سے چلے گئے تھے جس کے تھوڑی دیر بعد نظام آ گیا تھا اس نے مجھے روتا دیکھ کر پوچھا کہ کیا ہوا کسی نے کوئی بات بولی ؟؟ میں نے اس کے بار بار کے اصرار پر بس روتے ہوئے اثبات میں اپنا سر ہلا دیا وہ اٹھ کر کمرے سے باہر چلے گئے اور اس گھر کا۔ماحول جنگ زدہ ہو گیا نظام کے بلند آواز سے باتیں کرنے سے شاید پورا محلہ دھل گیا تھا وہ کچھ دیر بعد غصے سے کانپتا کمرے میں آ گیا تھا میں نے اس کے ساتھ ہلکا سا کھانا کھایا اور اس سے باتیں کرتی رہی نظام کو بابا جی نے بتایا تھا کہ میں ان کو کیسے ملی تھی نظام نے پوچھا تو میں نے اسے بتایا کہ میں کراچی سے اغواء ہوئی تھی اور اغواء کاروں نے مجھے جہاں رکھا تھا میں اسی رات وھاں سے بھاگ نکلی تھی میں زخمی ہو گئی تھی پتھروں سے ٹکراتے ہوئے اور سردی سے بےہوش ہوکر کہیں گری پڑی تھی کہ اس بزرگ جوڑے نے مجھے اٹھایا اور گھر لے گئے نظام بہت بڑی جسامت کے مالک تھے رات کو باتوں کے دوران اس نے مجھے اپنی گود میں بھر لیا تھا میں اس وقت کافی صحت مند ہو چکی تھی میری جلد شفاف ہو گئی تھی پیٹ کم ہو گیا تھا اور جسم میں طاقت بھی محسوس ہوتی تھی اس بزرگ جوڑے نے مجھے بہت پیار سے رکھا تھا میرا علاج بس وہی کڑوا قہوہ تھا جسے امں کاڑھا بولتی تھی جو ایک سال سے بھی زیادہ عرصے تک چلتا رہا اور اماں کی موت تک مجھے ہر رات کو سونے سے قبل اس کاڑھے کا ایک کپ پینا ہوتا تھا ۔۔۔نظام نے مجھے کسنگ شروع کر دی تھی اور وہ کسی منجھے ہوئے کھلاڑی کی طرح آگے بڑھ رہا تھا میرے بوبز پر اس کے چلتے ہاتھوں نے مجھے بہت عرصے بعد مزے کی وادیوں میں دھکیلنا شروع کر دیا تھا وہ میرا سارا لباس اتار کر مجھے بیڈ پر لٹا گیا اور اپنے کپڑے اتار کر تیل کی بوتل کے ساتھ بیڈ پر آ گیا اس کا ببلو تقریباً سات انچ تھا لیکن موٹا کافی تھا مجھے کوئی ٹینشن نہیں تھی کیونکہ اس جیسے بہت سے ببلو میں پہلے گزار چکی تھی اب ایک ہی تھا اور شادی سکون اور فخر کا نام تھا میں نے اب سے کچھ دیر پیدا ہونے والے حالات خو ذہن سے نکال دیا اور اس ماحول کو انجوائے کرنے لگی نظام میری ٹانگوں کے بیچ بیٹھ گیا اور میری ببلی کے ہونٹوں کو اپنے ہاتھ کے انگوٹھوں سے کھول کر دیکھنے لگا میں گھبرا چکی تھی کیونکہ میری ببلی بہت گھٹن حالات کا سامنا کر چکی تھی نظام نے اپنا جھکا سر اوپر اٹھایا اور مسکراتے ہوئے اپنے ببلو پر تیل لگا کر ببلی خے ہونٹوں میں پھیرتا ہوا اندر اتارنے لگا۔۔ مجھے بالکل ویسے درد ہونے لگا جیسے شروع کے دنوں میں اسد کے ساتھ کرتے ہوئے ہوا کرتا تھا ایسا کیوں ہے کیا لمبے عرصے تک سیکس نہ کرنے کے سبب ایسا ہو رہا تھا یا اس دیسی کاڑھے کے سبب ایسا ہوا تھا یس قدرت مجھے شرمندگی سے بچا رہی تھی بالکل میرا کنوارہ پن اتر آیا تھا نظام جیسے ببلو سے بڑے ببلو آسانی سے میری وادی کا سفر کیا کرتے تھے لیکن آج بہت تکلیف کے ساتھ کچھ ایسا مزہ آنے لگا تھا جو اس سے پہلے کبھی نہیں آیا تھا اسد کے ساتھ کچھ عرصہ میں نے انجوائے کیا تھا کیونکہ اس وقت تک حوس کا بھوت مجھ پر ابھی سوار تھا لیکن اس کے جو کچھ میرے ساتھ ہوا وہ دھرانے کے قابل بھی نہیں نظام بغیر رکے اپنا ببلو لبالب مجھ میں بھر گیا میری مستی بھری آوازوں میں وہ میرے اوپر لیٹ کر جھٹکے لگانے لگا مزے کی لہروں میں میں نظام کو اپنی باہوں میں بھر رہی تھی وہ نارمل ٹائم میں اپنا پانی مجھ میں بھر گیا اور کچھ دیر میں مجھ سے الگ ہو کر پھر سے باتیں کرنے لگا نظام مجھ سے مطمئن ہو چکا تھا اور میرے لئے لگایا دو لاکھ روپیہ کارآمد تصور کر رہا تھا رات ایک بجے اس نے دوسرا شاٹ لگایا اور پھر ہم نہا کر سو گئے صبح سے پھر ٹینشن نے گھر میں ڈیرے ڈال لئے نظام اور اس کی بیوی بچوں سے جھڑپیں چلتی رہی محلے کی ایک دو خواتین مجھے دیکھنے آئیں تھی اور یہاں کے رواج کے مطابق کچھ پیسے دے کر گئیں تھیں اگلے روز خواتین کا ہجوم ہمارے گھر امڈ آیا تھا سب مجھے دیکھ کر نظام کی قسمت پر رشک کر رہے تھے میں واقعی بہت حسین ہو گئی تھی بس گزرے دنوں کی جب یاد آتی تو میرا دل تڑپ جاتا اور ٹرک عملے کے ساتھ اسد اور شفیق کےلیے میرے لبوں سے بدعائیں نکل جاتی تھیں بلال کا کچھ معلوم نہ ہو سکا تھا اور وہ ایک بھولی۔داستان بن گیا تھا ٹینشن زدہ ماحول میں میں نے چھ ماہ گزار دئیے تھے محلے کی ایک خاتون مجھے کہہ گئی تھی کھ آپ محتاط رہا کرو کسی دن یہ لوگ تجھے قتل کر دیں گے گھر میں موجود نظام کے بیوی بچے ہمہ وقت مجھ پر۔نظر رکھتے تھے اور ایک روز میں نے تنگ آ کر نظام سے الگ گھر کی فرمائش کر دی وہ مان گیا تھا لیکن کچھ عرصے تک انتظار کا۔بولا ۔۔۔ میں نے گھر والوں کے دل میں اپنی محبت پیدا کرنے کے سو جتن کئے تھے لیکن ناکام رہی اب مجھے ان کی نظروں سے وحشت ہونے لگی تھی مجھے واقعی لگتا تھا کہ یہ مجھے نظام کی غیر موجودگی میں قتل کر دیں گے انہی دنوں نظام کا بیٹا اقبال گھر سے بھاگ گیا تھا اور کسی محلے والی خاتون کو میرے لئے پیغام دے گیا تھا کہ اب میرا انتظار کرنا تمھارے ٹکڑے واپس کراچی پہنچاؤں گا اور اگر میرا باپ بھی رستے میں آیا تو اسے بھی قتل کر دونگا یہ دن بہت اذیت کے تھے کئی دن تک گھر میں فساد برپا رہا نظام اپنی پہلی بیوی کو قصور وار ٹھہرا رہا تھا کہ دوسری شادی میرا حق ہے اور بیٹے کو میرے خلاف بھڑکانے میں اس کا کردار ہے جبکہ اس کی بیوی اس کو قصوروار ٹھہرا رہی تھی میں اب پشتو سمجھ لیتی تھی اور کسی حد بول بھی لیتی تھی نظام بہت دن سے میرے پاس تھا اور کام پر نہیں جا رہا تھا ایک روز نظام کے کچھ رشتے دار گھر آئے اور کئی بار اس کے اور اس کی بیوی کے پاس جاکر اسے سمجھاتے رہے لیکن وہ نہیں مانی اور اس روز رات گئے ان رشتے کے جانے سے قبل نظام کی بیٹیوں نے بھی دھمکی دے دی کہ اگر ہمارے ابو نے اسے نہ چھوڑا تو وہ بھی گھر سے بھاگ جائیں گی بیٹیوں کی اس دھمکی کے بعد نظام بہت پریشان ہو گیا تھا اور ان رشتے داروں کے ہاتھ بیوی بیٹیوں اور بیٹے کو پیغام دیا کہ مجھے ایک ہفتے کا ٹائم دے دو ۔۔۔ اس سے قبل نظام کے یہ رشتے دار اسے الگ لے جا کر کسی بات پر راضی کر چکے تھے نظام کی آنکھوں میں کچھ الجھن میرے لئے خطرے کی گھنٹی تھی میرے ذہن میں ایک ہی سوال تھا اگر نظام نے مجھے طلاق دے دی تو میں کہاں جاؤں گی رات کو لیٹتے ہوئے میرے لبوں سے بےاختیار اونچی آواز میں امی جی نکلا۔۔۔ صبح نظام کہیں چلا گیا تھا اور میں سارا دن لیٹی روتی رہی نظام نے ابھی تک مجھ سے اس پر کوئی بات نہیں کی تھی لیکن بیٹیوں کی دھمکی کے بعد مجھے یقین تھا کہ وہ بےبس ہو چکا ہے اور مجھے چھوڑنے کی تیاری کر رہا ہے ۔۔۔شام سے کچھ دیر قبل نظام واپس آ گیا تھا اور اسی رات نظام نے مجھے اپنے سامنے بٹھا کر بتا دیا کہ وہ مجھے طلاق دینے جا رہا ہے کیونکہ اگر اس کی بیٹیوں میں سے کوئی ایک بھی گھر سے چلی گئی تو وہ کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا اور اس کا گھر مکمل طور پر برباد ہو جائے گا میں پہلے ہی سب کچھ جان چکی تھی اور سارا دن اس پر رو چکی تھی سو میں کوئی رسپانس دئیے بغیر اپنی قسمت کو کوستے ساکت بیٹھی رہی ۔۔۔ بہت دیر بعد میں نے نظام سے پوچھا کہ مجھے بابا کے پاس پہنچاؤ گے ؟؟؟ بولا نہیں میں تمھاری کہیں شادی کر رہا ۔۔۔۔ ویسے بھی میں کیا کر سکتی تھی میں دکھوں کی عادی ہو چکی تھی میں نے اپنے دوپٹے سے سر کو پٹی کی طرح باندھا جیسے بوڑھی خواتین باندھتی ہیں اور میں نظام سے پہلے سو گئی صبح پھر نظام ایک رشتے دار کے ساتھ کہیں چلا گیا اور شام کو واپس آنے پر کچھ مطمئن تھا ۔لیکن مجھ سے کوئی خاص بات نہیں کی دو روز بعد نظام نے مجھے جی بھر کے سیکس کیا لیکن میرا دل اس سے بھی اکتا چکا تھا اور مجھے اس کا یہ سں کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔۔ دوسرے دن اس کے کوئی مہمان آنے تھے اور ان کے گھر میں کھانا تیار ہو رہا تھا اس کی۔بیٹیاں بھاگ بھاگ کے کام کر رہی تھی اور نظام بھی ان کے روم میں بار بار جا رہا تھا اسکی پہلی بیوی نے نیا سوٹ پہنا اور بیٹیوں سے چارپائی میرے کمرے کے سامنے رکھوا کر اس پر بیٹھ گئی اور بار بار مسکرا کر میرے کلیجے پر تیر برسانے لگی مہمان مین گیٹ کے ساتھ والی بیٹھک میں آ چکے تھے کھانے کھلاکے بعد نظام میرے پاس آیا اور مجھے اچھا سوٹ پہن کر آنے کو کہا میں خاموشی سے اپنے کپڑے بدل کر اس کے ساتھ ایسے چل رہی تھی جیسے قربانی کا بیل منڈی جاتے ہوئے اپنے مالک کے پیچھے چلتا ہے بیٹھک میں نظام کے ایک رشتے دار کے ایک رشتے دار کے علاوہ دو اور افراد موجود تھے بڑی مونچھوں والے خوفناک شکل والے اس مرد نے حوس بھری نظروں سے میرا سر سے پاؤں تک جائزہ لیا اور بولا ۔۔۔ھھھھممممممم نام کیا ہے تمھارا ۔۔میں نے کانپتے لبوں سے کہا نازیہ ۔۔۔۔ ساتھ بیٹھے اس کے ساتھی نے اس کو ہلکی سی کہنی ماری تو یہ دوبارہ بولا مجھے پانی پلا دو میں نے ادھر ادھر دیکھا اور ٹیبل پر پڑے جگ گلاس کی طرف بڑھ گئی میں نے اسے پانی سے بھرا گلاس تھمایا اور اس نے گلاس لے کر میری طرف سلام کے انداز میں ہاتھ بڑھایا اور میرے نازک ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں دباتے ہوئے بولا ساڑھے تےن لاکھ ٹھیک ہے نظام صاحب ۔۔۔۔ بس آپ تیاری کریں ۔۔۔۔ نظام بولا بس ٹھیک ہے میں طلاق دے دیتا آپ وہیں اپنے علاقے میں وقت پر نکاح پڑھ لینا۔۔۔۔ میں شام کے فوراً بعد میانوالی کے ایک سوداگر کو بیچ دی گئی تھی اور ایک جیپ میں ان دونوں کے ساتھ بیٹھ کر پانچ سوٹ کپڑوں کے ساتھ روانہ ہو چکی تھی ۔۔۔۔ (جاری ہے )

Share this post


Link to post

کلی اور کانٹے

قسط نمبر 10

تحریر زاہد ملک

جیپ اس شہر سے نکل کر ایک شاہراہ پر گامزن ہو گئی مونچھوں والا بندہ میرا ساتھ بیٹھا تھا ڈرائیونگ کرتے شخص کو جلدی چلنے کی ہدایات دیکر وہ میرے ساتھ باتیں کرنے لگا اس کا نام عزیز تھا جس نے مجھے ساڑھے تین لاکھ میں خریدا تھا اب مجھے اپنی اہمیت ایک بکری سے زیادہ نہیں لگ رہی تھی عزیز نے مجھے اپنی گود میں لٹاتے ہوئے کہا تھوڑا آرام کر لو تھکی ہوئی لگتی ہو اسے کیا معلوم تھا کہ تھکے ہوئے اور ٹوٹے ہوئے انسان میں کیا فرق ہوتا ہے مجھے یہ شخص بالکل اچھا نہیں لگا تھا یہ دونوں اکھڑے لہجے میں بات کرتے تھے شاید ان کی روایات میں شامل تھا یس کچھ اور بولا اس مولوی کے ساتھ کیسے پھنس گئی تھی ۔۔۔ میں خاموش رہی تھی لوگ کتنی آسانی سے مر جاتے ہیں میں کیوں نہیں مرتی تھی نظام نے خود میرے ساتھ اچھا سلوک کیا تھا لیکن ایک وقت میں وہ اپنے گھر والوں سے ہار گیا تھا سب سے اچھا سودا نظام کو پڑا تھا جس نے جائز طریقے سے مجھے چھ ماہ استعمال بھی کیا تھا اور منافع بھی کما لیا تھا مجھے لگ رہا تھا کہ یہ دنیا گوشت کے بھوکے اور بیوپاریوں سے بھری ہوئی ہے عزیز میرے ساتھ کیوں سلوک کرتا ہے کیا وہ شادی کرے گا ؟؟ کیا اس کے گھر والے مجھے برداشت کر کرلیں گے کیا وہ مجھے نظام کی طرح استعمال کرکے منافع پر بیچ دے گا ۔۔ کیا وہ ان پٹھانوں کی طرح مجھے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر کھائے گا میں برائلر مرغی کی طرح ایک پنجرے سے دوسرے پنجرے تک برائے فروخت بن گئی تھی عزیز میری گالوں کو تھپتھپا رہا تھا لیکن مجھے اس کے ہاتھ زہر لگ رہے تھے جیپ تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی مجھے معلوم نہیں تھا مجھے کہاں لے جایا جا رہا ہے یہ دونوں آپس میں پنجابی کی طرح جیسی کسی زبان میں بات کر رہے تھے جس کے الفاظ اور ان کے لہجے کچھ کھدرے سے محسوس ہو رہے تھے مجھے میرے نئے شہر کا نام میانوالی بتایا گیا تھا یہ کیسا شہر ہو گا مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں تھی میں اس سے غرض تھی کہ وہاں میرے ساتھ کیا ہو گا میں تقریباً چھ ماہ نظام کے پاس رہی تھی لیکن میں پریگنٹ نہیں ہوئی تھی لیکن ایسا کیوں نہیں ہوا تھا میں ان باتوں کو سمجھنے سے پہلے میں سب کچھ چھوڑ کر آئی تھی اور کیوں آئی تھی مجھے کیا ہو گیا تھا کاش ۔۔۔ کاش ۔۔۔ میں اپنے گھر میں ہوتی امی کے پاس ہوتی اپنے ابو سے ویڈیو کال پر بات کرتی لیکن افسوس کے وقت بہت پہلے گزر چکے تھے میرے امی ابو زندہ بھی تھے یا مر گئے تھے مجھے کون بتاتا مجھے اپنے محلے کی گلیاں بہت یاد آتی تھی جہاں میں کھیلتی تھی مجھے کھیلنے کے علاوہ خواتین کی باتوں کا علم نہیں تھا کیونکہ میں عورت بننے سے پہلے کسی آگ کے دریا میں خود ہی کود پڑی تھی ۔۔۔ کسی شہر کے مختلف روڈز سے ہوتے ہوئے جیپ ایک گلی میں داخل ہو گئی تھی مجھے علم ہو چکا تھا کہ ہم اپنی منزل پر پہنچ چکے ہیں جیپ ڈرائیور سے باتیں کرتے ہوئے عزیز نے شاید اسے یہی روکنے کا بولا تھا جیپ رک چکی تھی عزیز میرا شاپر اٹھاتے ہوئے جیپ سے اترتے ہوئے مجھے بھی اترنے کا اشارہ کیا میں اتر چکی تھی جیپ اگے چلی گئی تھی اور میں عزیز کے پیچھے چلتی ایک کوچے میں داخل ہو گئی تھی شاےد یہ اس کوچے کا سب سے آخری مکان تھا جسکی بلند دیواریں سفیدی سے ڈھکی ہوئی تھیں گلی کے شروع کے ایک مکان کے آگے لائٹ جل رہی تھی جبکہ باقی کوچے میں اندھیرا چھایا ہوا تھا مکان کا تالہ کھول کر عزیز اندر داخل ھو گیا تھا اور میں خود ہی اس کے پیچھے اس اندھیرے مکان میں داخل ھو گئی تھی یہ ایک چھوٹا مکان تھا جو آس پاس کی بلند عمارتوں کے بیچ جیسے چھپا ہوا تھا موبائل ٹارچ کی روشنی میں عزیز نے مین گیٹ کو لاک کر دیا اور ایک روم کا دروازہ کھولنے لگا موبائل ٹارچ کی روشنی میں مجھے معلوم ہو چکا تھا کہ اس روم کے ساتھ ایک چھوٹی کچن تھی شاید یعنی میں ایک بار پھر اسد یا ان پٹھانوں کے درمیان گزری زندگی کی طرف لوٹ آئی تھی مجھے یقین ہو چکا تھا کہ عزیز اس انداز میں مجھے چھپتے چھپاتے اس اکیلے مکان میں لانے کا مطلب یہی تھا کہ وہ مجھے بطور کھلونا استعمال کرنا چاہتا تھا اور یہاں بھی عزت کی زندگی گزارنا میرے نصیب میں نہیں تھا عزیز نے کمرے کا دروازہ کھول کر لائٹس آن کر دی تھیں برآمدے کے اس کونے میں ایک چھوٹا فریج موجود تھا کمرے کے اندر سے سگریٹ اور چرس جیسی بدبو نے میرا استقبال کیا روم میں ایک ڈبل بیڈ موجود تھا ایک ٹیبل اور چند کرسیاں فرش پر بوسیدہ سا کارپٹ بچھا تھا جسبپر تاش کے پتے بکھرے پڑے تھے درمیان میں ایک بڑا ٹین کا ڈبہ اور سگریٹ کے خالی پیکٹ اس باٹ کا اشارہ دے رہے تھے کہ یہاں بھی پٹھانوں کے اس بدبخت مکان جیسا ماحول تھا میری طرح شاید آپ نے بھی کسی ڈرامے کا وہ سین دیکھا ہو جس میں دہشتگرد کچھ آدمیوں کو ذبح کرتے ہیں اور آدمی اپنی باری پر سرجھکائے آگے آ جاتے بس میں بھی انہی بےبسوں کی طرح اب حالات کے ساتھ ساتھ چلنے لگی تھی عزیز نے مجھے بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود باہر چلا گیا داخلی گیٹ کے ساتھ باتھ روم تھا وہ وہاں سے ہوتا ہوا شاید کچن میں چلا گیا تھا اور کچھ دیر بعد آ کر بولا منہ دھو لو میں کھانا لانے لگا ہوں میں اٹھ کر باتھ روم چلی گئی تھی اور واپس آئی تو ایک پلیٹ میں چاول گرم کئے بیٹھا تھا شاید پہلے سے فریج میں رکھے ہوئے تھے میں اس کے کہنے سے پہلے چاول کھانے لگی تھی وہ باتیں کرتے ہوئے پوچھنے لگا تھے کہ کھانا پکا لیتی ہو میں نے اسے دیکھے بنا اثبات میں سر ہلا دیا میں نے بلا جھجک اس سے پوچھا آپ میری شادی کس سے کریں گے ؟؟۔ وہ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد میری تھوڑی کو انگلی سے اٹھاتے ہوئے مسکرا کر بولا شادی آپ کی میرے ساتھ ہو چکی ہے ۔۔۔ میں خاموش رہی اور کچھ دیر بعد پھر سے بولی آپکی پہلی شادی سے بچے ہیں ۔۔۔ بولا ہاں چار بچے ہیں ۔۔ میں نے پھر پوچھا بیٹیاں کتنی ہیں وہ سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا دو ہیں لیکن تم نے صرف اپنے کام سے کام رکھنا ہے ۔۔۔ میں نے ہاتھ صاف کئے اور کسی زخمی چیل کی طرح اس کو دیکھتے ہوئے پیچھے ہٹ گئی ۔۔۔۔ عزیز نے چاول کی پلیٹ ٹیبل پر رکھی اور باتیں کرنے لگا تھا کہ میں نے اس کی طرف دیکھا اور بولی کوئی کام ہے یا میں سو جاؤں ۔۔۔ وہ کھا جانے والی نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے بولا دیکھو لڑکی میں نے پیسہ لگایا ہے تم پر اور جس مقصد کے لئے لگایا وہ پورا کرونگا تم یہاں سے ہل بھی نہیں سکتی میری مرضی کے بغیر میرا نام سن کر پولیس بھی بھاگ جاتی بہتر ہو گا کہ پیار اور محبت سے رہو۔۔۔۔ میں نے کہا مقصد آپ کا شادی ہے یا۔کچھ اور بولا ۔ بہت سے مقاصد ہیں میں نے کہا آپ اپنے مقاصد پورے کر لینا مقاصد پر استعمال کرنے سے میرا دل میں آپ کی محبت نہیں آ سکتی چاہے مجھے مار ڈالو۔۔ ہاں شادی سے محبت کی توقع رکھی جا سکتی ہے عزت دو گے عزت کا جواب بھی عزت سے دونگی ورنہ معذرت کہ آپ میرے جسم کو کسی اور کے آگے پیش کرو گے تو میں عزت نہیں دے سکوں گی ویسے بھی مجھے اب کسی کی دھمکی پر خوف نہیں آتا کیونکہ میں خود مرنا چاہتی ہوں اور جو موت سے خوف نہ کھائے وہ کسی کی دھمکیوں پر کیا خوف کھائے گی ۔۔۔۔ میں سر اٹھا کر بہت سا بول گئی تھی عزیز کی آنکھوں میں جیسے آگ بھر آئی ہو وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولا مرنے کون دے گا تمھیں پورے ساڑھے تین لاکھ لگائے ہیں اس سے ڈبل نکال کر پھر سوچوں گا تمھیں مار دینے کا۔۔۔ اس نے ایک زوردار تھپڑ میرے گال پر رسید کیا اور سگریٹ میں چرس بھرنے لگا ۔۔۔ میں گال پر ہات رکھے نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی میں نے اپنا رویہ بدل لیا تھا اور دل میں فیصلہ کر چکی تھی کہ میں لفظوں سے اذیت دیتی رہوں گی اسے اور سکون سے رہنے نہیں دونگی ۔۔ وہ خاموشی سے مجھے دیکھتا رہا اور سگریٹ سلگا کر لمبے کش لینے لگا میرا ہاتھ گال سے نیچے ہوا تو تو اس نے ایک اور تھپڑ میرے اسی گال پر رسید کر دیا وہ کچھ بول نہیں رہا تھا عزیز نے میری ٹانگ کھینچی اور مجھے لٹا گیا میں درد کی تصویر بنی اسے دیکھ رہی تھی اس نے ایک ہی جھٹکے میں میری شلوار کھینچی اور گھٹنوں تک لے آیا وہ کچھ بول نہیں رہا تھا پھر اس نے میری شلوار کو اتار کر دور پھینک دیا اور اچانک میں نے جھٹکا لیا اس نے سلگتا سگریٹ میرے ہپس پر۔لگا دیا تھا میری سینے میں دبتی آئی کی آواز کے ساتھ آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی میں جل چکے تھی عزیز نے میرے بالوں سے پکڑ کر مجھے اٹھایا اور میری قمیض اتارنے لگا وہ مجھے ننگا کر کے دیکھ کر سگریٹ پیتا رہا میرا ہاتھ جلے ہوئے اس ہپس کی طرف اٹھ رہا تھا لیکن یہاں انگلی لگانے سے مجھے مذید تکلیف ہوتی تھی ۔۔ اس نے سگریٹ ختم کی اور اپنی انگلی میری ببلی میں ڈالنے لگا پھر فوراً اٹھ کر اپنے کپڑے اتار گیا کہ میرے سے اڑھائی فٹ بڑا تھا اور سخت ہڈیوں سے بھرا جسم اور لمبا سخت ببلو یہ اسد سے زیادہ بڑا اور سخت لگ رہا تھا اور میری ٹانگوں کے بیچ بیٹھ گیا اور اپنے ببلو کو ڈنڈے کی طرح ببلی سے آگے میرے پیٹ پر مارنے لگا مجھے بہت غصہ آ رہا تھا لیکن میں بے بس تھی پھر اس نے میری ٹانگوں کو اٹھایا اور ببلو کو سختی بھرے انداز میں تین جھٹکوں میں ہی پورا اتار دیا مجھے بہت درد ہؤا ایک تو اس کا بہت بڑا اور سخت تھا دوسرا اس نے خشک ببلو ہی ظالمانہ انداز میں میرے اندر اتارا تھا وہ میرے ہپس پر زوردار تھپڑ مار کر جھٹکے مارنے لگا تھا میری وائی وائی کی آواز پر اپنی مونچھیں پھیلا کر بولا لوڑا تو تیرے اندر جائے گا میں جب چاہوں گا اور جس کا چاہوں گا ڈالوا دونگا لیکن پیار سے لو گی تو تکلیف نہیں ہو گی تم کو ۔۔۔۔ میں بےبسی کی تصویر بنی خاموش پڑی تھی وہ جھٹکے لگاتا رہا پھر اس نے مجھے گھوڑی بنا کر ببلی میں اتارتے ہوئے ایک بار پھر زور کا تھپڑ میرے ہلس پر مارا اور میرے ہپس کو پکڑ کر جھٹکوں کے ساتھ مجھے بھی ہلانے لگا ۔۔۔۔ کچھ دیر بعد اس کے جھٹکوں میں شدت آنے لگی اور انہی تیز جھٹکوں میں میری ببلی بھی پانی چھوڑ گئی ۔۔ عزیز نے اکڑتے جسم کے ساتھ اپنا ببلو میری ببلی سے نکالا اور اپنا گرم لاوا میری کمر پر ڈالنے لگا۔۔۔ مجھے بہت خار آئی لیکن بےبس تھی سو خاموش رہی کچھ دیر بعد عزیز نے خود کپڑے سے میری کمر کو صاف کیا اور میں اپنے کپڑے پہن کر سو گئی عزیز بھی ساتھ سو گیا صبح وہ مجھ سے پہلے جاگ چکا تھا پہلی بار روشنی میں اس مکان کا نظارہ کرتی میں باتھ روم چلے گئی تھی واپس آتے ہوئے میں اپنے گیلے بالوں کو نچوڑ کر کمرے کی طرف آ رہی تھی تو عزیز نے مجھے کچن کی طرف بلا لیا ملک پیک تھماتے ہوئے بولا چائے بناؤ اور بسکٹ لے جا کر بیڈ پر بیٹھ جانا میں نہا کر آ رہا ۔۔ میں چائے بنانے لگ گئی چکن میں استعمال کے برتنوں کے علاوہ دیگر سامان بھی موجود تھا میں نے ابھی چائے نہیں بنائی تھی کہ وہ باتھ روم سے نکل کر کمرے میں چلا گیا میں نی گیس کی سپیڈ بڑھا دی اور جلدی سے چائے بسکٹ لیکر کمرے میں چلی گئی ۔۔۔ ناشتے کے بعد عزیز اٹھ گیا میں کام سے جا رہا ہوں اگر گھر میں کھڑی ھو کر چیخیں بھی مارو گی تو کوئی تمھاری مدد کو نہیں آئے گا یہاں میرا سکہ چلتا ہے پولیس یہاں نہیں آئے گی کیونکہ میں نے تمھیں پیسوں سے ۔خریدا ہے اور اس کاغذ پر گواہوں کے دستخط اور انگوٹھے موجود ہیں میں دن کا کھانا لے آؤں گا اور شام کو کچھ بنا لیں گے ۔۔۔ وہ چلا گیا تھا دور کہیں سے ٹریفک چلنے اور ہارنوں کی آواز آ رہی تھی اس مکان کے آس پاس سارے مکان بہت بلند تھے گیٹ کے علاوہ باقی کوئی رستہ موجود نہیں تھا جہاں سے میں نکل کر بھاگ جاؤں دوسری طرف یہ کہ میں بھاگ کر کہاں جاؤں گی کہیں پہلے کیطرح کسی آدھے درجن پٹھانوں کے ہاتھوں پھر کھلونا نہ بن جاؤں ۔۔۔۔ میں صحن میں ٹہل کر کچھ سوچ رہی تھی لیکن میں اب رو نہیں رہی تھی کیونکہ انہی حالات کا مقابلہ کرتےشاید تین برس سے بھی زیادہ کا وقت گزر چکا تھا ۔۔۔ دوپہر کے بعد عزیز لوٹ آیا تھا میں نے کھانا کھایا اور اس کے سامنے ست جھکائے خاموش بیٹھی تھی عزیز بولا شام کے لئے سودا لایا ہوں اور آج ذرا بہتر طریقے سے تیار رہنا شام کو آپ کے ایک مہمان نے آنا ہی ادھر ۔۔ میں خاموش بیٹھی رہی میں نے شام سے پہلے کھانا تیار کر لیا تھا اور عزیز کے کہنے پر میں نہا کر ایک قدرے بہتر سوٹ زیبِ تن کر گئی ۔۔۔ شام کا۔کھانا کھانے کے بعد عزیز ایک بار پھر مجھ سے باتیں کرنے لگا میں ضروری حد تک اس کی باتوں کا جواب دے رہی تھی رات دس بجے عزیز کسی کی کال سنتا گھر سے باہر چلا گیا تھا اور کچھ دیر بعد پینٹ سوٹ میں ملبوس ایک صحتمند شخص اس کے ساتھ آ گیا تھا ۔۔(جاری ہے)

Share this post


Link to post

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×
×
  • Create New...