Jump to content
URDU FUN CLUB
Ch azaan

میری ساس میری سہیلی

Recommended Posts

اردو فن کلب کے پریمیم ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔ سینکڑوں صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے پریمیم کلب میں شامل کر دی گئی ہے۔

 

 

#میری_ساس_میری_سہیلی

#قسط_05

 

بابا ڈینو کچھ بےچین سا لگنے لگا - میں جب ایک جانب جھک کر بالوں کو جھٹکتی تو وہ بھی اسی جانب شاید نادانستگی میں جھک جاتا اب کے میں نے اپنی زلفیں اپنے شانوں پر ڈالیں تو میں نے دیکھا اس نے ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھ دی ہے - میرے ذہن میں فورا اک سوال کیا اس کا کھڑا ہو گیا ہے جسے یہ چھپانے کی کوشش کر رہا ہے اس شیطانی سوچ کے آتے ہی میرے دل میں اسے دیکھنے کی امنگ اٹھی کہ کیسا ہوگا اس کا سائز کیا ہوگا سخت ہو گا یا ڈھیلا ؟ - کچھ خیال آتے ہی میں خود کو ملامت کرنے لگی کہ میں کیا سوچ رہی ہوں کچھ مان مریادہ ہوتی ہے . میں تھوڑا سا شرمندہ ہوئی اور باھر اکر اپنی برتھ پر بیٹھ گئی میں نے دینو کی طرف دیکھنے کی بجاۓ مگزیں اٹھایا اور اوراق پلٹنے لگی میں نے خود سے کہا بس بہت فن ہو گیا اب سونا چاہیے ؛ میں نے بابا دینو سے کہا " بابا اپنی برتھ پر آجاؤ اور سو جاؤ - وہ اٹھ کر باتھ روم چلا گیا اور میں پیٹ کے بل لیٹ کر مگزین پڑھنے لگی الٹا لیٹ کر مطالعہ کرنا میری عادت ہے کچھ دیر بعد دروازہ کھلنے کی آواز آئی - دینو کی انتظار کرنے لگی . کچھ دیر دینو برتھ پر نہ آیا تو اٹھ کے دیکھا تو مجھے ہی تا ڑ رہا تھا میں نے اس کو بولا " بابا دینو ادھر برتھ پر آ کے سو جاؤ اور خود پہلو کے بل لیٹ گئی جس سے میرا بٹ زیادہ نمایاں ہو گیا - میں نے کنکھیوں سے دیکھا تو دینو کی نظروں کو اپنے بووبز پر مرتکز پایا میں بنا برا ؛ بریزیر کے تھی ٹی شرٹ کے اوپر کا بٹن کھلا تھا اس لئے مرے ابھار کافی حد تک دیکھ رہے تھے جو کہ دودھیا کلر کے ہیں - اس کا یوں بے باکی سے دیکھنا مجھے حیران کر گیا . سوچنے لگی کوئی جوان ہوتا تو اب تک اس اکیلی لڑکی سے فیضیاب بھی ہو چکا ہوتا . میں نے دینو کی طرف دیکھا تو اس نے نظریں چُرا لیں اور اپنی برتھ پر بیٹھ گیا جو کہ میری برتھ سے بمشکل ٢ فٹ دور ہوگی - ہماری برتھز آمنے سامنے تھیں اور ان کا درمیانی فاصلہ ٢ فٹ ہوگا میں میگزین دیکھنے لگی اور میرا اک ہاتھ دانستہ یا نادانستہ میرے گریبان کے کھلے بٹن سے کھیلنے لگا . میں کبھی بٹن بند کر دیتی کبھی کھول دیتی جس سے میرے ابھار ہلتے میں نے دیکھا کہ دینو چور نظروں سے کبھی میرے بووبز کی طرف دکھتا کبھی میرے کولہے دیکھتا . میرا ہاتھ بٹن کو چھوڑ کر میرے کولہے پر رینگنے لگا . میں یہ ایسا کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ بے ساختہ لگے خود ساختہ نہیں یونہی ہاتھ پھیرتے پھیرتے میرا ہاتھ رانوں کی اندرونی طرف بھی پھر جاتا - میں نے بابا دینو کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں سمجھی کیونکہ اس کی سانسوں کی ہلچل مجھے سنائی دے رہی تھی . میں نے ٹانگیں ذرا کھول دیں انڈرویر یا پینٹی نہ ہونے کی وجہ سے دیکھنے والا کچھ نہ کچھ کر دیکھ کر اندازہ لگا سکتا تھا اور شاید دینو بابا کو کوئی اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ فورا اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور میری نظر اس کے ابھار جا ٹکی . وہ جلدی سے باتھروم کی جانب بڑھا اور میں اسکی بے بسی پر مسکرا دی . پھر اپنے اپ کو سمجھانے لگی اب بہت ہوگیا لائٹ اف کر کے سو جاؤ اور کوئی شرارت نہیں ہوگی . ok بوس میں نے خود سے کہا اور مگزین ٹیبل پر رکھی اور چادر اپنے اوپر لے کر سونے کی تیاری کرنے لگی - اتنے میں دینو بابا باھر نکل آیا تو میں نے اسے کہا " دینو کمپارٹمنٹ کے دروازے کے باھر جو تختی لگی ہوئی ہے اسے الٹا کر کے دروازہ لاک کر آؤ . نہیں رہنے دو میں خود دیکھ لیتی ہوں .. سوچا کہیں ایسا نہ ہو ڈونٹ ڈسٹرب کو ہی الٹا آئے - شام کو ہمارے ٹکٹ چیک ہو چکے تھے - میں نے دروازہ کھولا اور ڈونٹ ڈسٹرب کا سائن سیدھا کر کے لائٹ آف کی اور اپنی برتھ پر لیٹ گئی - دینو بھی اپنی برتھ پر لیٹ گیا اور پیٹھ میری طرف کر کے سونے لگا . میں خود کو سمجھانے لگی اچھا کیا ہے بُرا کیا ہے ؛ ہر دلیل کے بعد میں ایک کروٹ لے لیتی آخر میں نے ہار مان لی اور خود سے وعدہ کر لیا اب سو جاؤنگی اور نو ہینکی پھینکی . میں نے کروٹ لی سونے کی try کرنے لگی مگر نیند آنکھوں میں ہوتی تو اتی ویسے بھی ٹرین کی کھٹ کھٹ کہاں سونے دیتی میں کروٹ پے کروٹ لیتی رہی رات کے گیارہ بج چکے تھے - میں اٹھ کر بیٹھ گئی دینو بابا پیٹھ کئیے ھوے لیٹا تھا . سویا ہوا وہ بھی نہیں لگتا تھا . میں اٹھ کر باتھ روم گئی مجھے پی لگا تھا - کرنے کے میں نے ٹشو سے صفا کیا تو نجھ ہونی پھدکنے لگی میں نے سوچوں کے دروازے بند کر دئے اور کچھ کر گزرنے کی ٹھان لی - سچ تو یہ ہے کہ میں خود کو دھوکھا دے رہی تھی ورنہ اندر اندر سے میں جسم کی بھوکھ اور پیاس بجھانے کا پختہ ارادہ کر چکی تھی . میں باھر نکلی تو دینو نے کروٹ لی ہوئی تھی اب اس کی پیٹھ دیوار کی جانب تھی اسکی آنکھیں بند تھیں مگر وہ سویا ہوا نہ تھا - میں اگے بڑھنے لگی پھر رک گئی "نوشی سوچ لو غلط قدم اٹھ جاۓ تو اسکی منزل نا معلوم ہی رہتی ہے " میں نے جیسے سنا ہی نہ ہو - کندھے اچکا کر آگے بڑھی اور میں اب دونو برتھز کے درمیان کھڑی فیصلہ کر رہی تھی کہ اپنی برتھ پر جاؤں یا دینو کے اگے جا کر لیٹ جاؤں میں اسی ادھیڑ پن اور شش و پنچ میں الجھی ہوئی کسی بھی فیصلے تک پہنچنے نہیں پا رہی تھی . میں یہ جانتے ہوے بھی کہ یہ ایک غلط قدم ہے جو ایک بار اٹھ گیا تو پھر رکنا مشکل ہوگا مگر میں ایسا کرنے پر مجبور ہوی کیونکہ میرا اپنا نفس مجھے میرے بدن کی ضرورت کا احساس دلا رہا تھا - میرے جذبات مرے قابو سے باھر ہو رہے تھے . میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں دل کی دھڑکنیں دور تک سنائی دے رہیں تھیں . میں نے اک نظر بابا دینو کی طرف ڈالی تو اسے اپنی جانب دیکھتے ہوے میں نے خجالت سی محسوس کی اور اپنے برتھ کی طرف بڑھی مگر دینو نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ؛ میں حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگی وہ مجھے ہی دیکھ رہا رہا تھا میں نے ہاتھ چھڑانے کی براۓ نام کوشش کی مگر اس نے ہاتھ نہ چھوڑا دینو " یہ کیا بدتمیزی ہے " میرے غصہ میں بناوٹ جھلک رہی تھی دینو خاموش رہا اس نے کوئی جواب نہ دیا میں اپنے برتھ کی جانب بڑھی تو اس نے مجھے ایک جھٹکے سے اپنی طرف کھینچ لیا اور میں دیکھتے ہی دیکھتے اس کے اوپر جا گری مجھے ایسی حرکت کی دینو سے بلکل امید نہ تھی . ٢ چار پل یونہی گزر گئے میں دینو کے سینہ سے لگی ہوئی تھی میں نے اپنے آپ کو چھڑاتے ہوے سرگوشی میں دینو سے بولی " یہ کیا کر رہے ہو تم دینو بابا " مجھے چھوڑ دو " بیبی جی " چھوڑنے کے لئے تو نہیں پکڑا ؛ اور وہی تو کر رہا ہوں جو اپ چاہتی ہیں " میں کیا چاہتی ہوں ؟ میں ماتھے پر تیوڑی چڑھا کر بولی بببی جی " در اصل مجھے ٹھنڈ لگ رہی تھی سوچا آپ گر ساتھ سوئیں گی تو ہم دونوں ٹھنڈ سے بچ جایئں گے " دینو بات بناتے ہوے بولا ایسی بات تھی تو مجھ سے بولتے تمھیں کمبل نکال کے دے دیتی . تم نے تو گنواروں کی طرح مجھے اپنے پر گرا دیا " " جی بیبی جی "دینو ممنایا تو میں نے کہا ہاں دینو ٹھنڈ تو ہے مجھے بھی لگ رہی ہے "جی بیبی جی" یہی تو میں کہہ رہا ہوں دینو نے خوش ہو کے کہا " تو کمبل نکال دوں بابا دینو" میں نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا . " جی ٹھیک ہے مگر ٹھنڈ تو اپ کو بھی لگی ہے اور کمبل ایک ہے " دینو بولا ہاں دینو تم ٹھیک کہہ رہے ہو کمبل تو ایک ہی ہے . میں نے اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا . اچھا دینو تھوڑا پڑے ہو میں بھی لیٹ جاؤں تمہارے ساتھ اسے بابا نہ کہتے ہوے میں بولی تو تھوڑا سا پیچھے کھسک گیا مگر برتھ اتنی زیادہ وائڈ ہوتی نہیں کہ دو جی آسانی سے ٹک جائیں . وہ پہلو کے بل لیٹا ہوا تھا اور میں بھی اسکی جانب پیٹھ کر کے لیٹ گئی . اس طرح میرے کولہے اسکی گود کے ساتھ جا لگے - میں نے دینو کو بولا اب آرام سے سو جاؤ رات کے بارہ بجنے والے ہیں . اور مجھے نیند آ رہی ہے "جی بیبی جی " - تھوڑی دیر کے بعد مجھے کولہوں پر کوئی چیز سرکتی ہوئی محسوس ہوئی . میں نے ایک گھٹنا موڑ کر آگے کی طرف کر دیا اور دینو بھی تھوڑا آگے سرکا شاید اس کا کھڑا ہو چکا تھا کیونکہ دینو کے آگے ہونے سے راڈ میری رانوں کے سنگم میں آن ٹکا - میں خاموش انجانے لطف کو ویلکم کہنے کے لئے تیار ہونے لگی . تھوڑی دیر بعد دینو نے ایک ہاتھ مرے کولہے پر رکھ دیا اور ہولے ہولے مساج سا کرنے لگا . میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک دیا اور اپنی ٹانگ ذرا زیادہ آگے کر لی تاکہ اس کا راڈ اور آگے بڑھے تو کچھ اندازہ ہو صاحب کتنے پانی میں ہیں - دینو تھوڑا اگے ہو کر اپنے ہتھیار کو میری ران پر رگڑنے لگا اسکی حرکت اور رگڑ سے اسکی اکڑ اور نارمل لمبائی کا اندازہ تو میں نے کر لیا دینو کے اطیمنان سے ظاھر ہوتا تھا کہ کھلاڑی ہے اناڑی نہیں - کیونکہ ٥ سال قبل رنڈوا ہونے کی بدولت اس کو اب تک میری ٹانگوں میں ہونا چاہیے تھا . میں چاہتی تھی وہ آگے قدم بڑھاۓ مگر وہ شطرنج کی بساط بچھا کر بیٹھ گیا تھا - " دینو یہ مجھے کیا لگ رہا ہے ؟ " یہ کہتے ہوئے میں نے اس کا لن ہاتھ میں لے لیا اس نے ایک جھرجھری سی لی اور میں اُف کر کے رہ گئی اسے تو فورا چھوڑ دیا مگر یہ جان کر کہ شئے ہے بڑی جاندار ؛ ہو سکتا ہے رنگ جما دے آج کی رات ؛ یہ سوچ کر میں د ل ہی دل میں مسکرانے لگی ادھر میری چوت کے لب کھلنے لگے . دینو " تم نے بتایا نہیں یہ کیا ہے " میں رمانٹک ہوتے ہوئے بولی " کیا بیبی جی " دینو نے بھی چیزا لیتے ہوئے پوچھا ؛ میں نے لن کو دبارہ ہاتھ میں لیا اور اچھی طرح دبا کر بولی یہ ؛ میں نے لن پر چٹکی لینے کی ٹرائی کی مگر وہ اتنا سخت تھا کہ مجھے ناکامی ہوئی . " اوہو یہ تو کھلونا ہے بیبی جی " دینو یہ کہہ کر تھوڑا سا ہنسا ؛ میں نے بھی ہنستے ہوئے پوچھا ؛ " دینو یہ کیا بات ہوئی کھلونے سے تو بچے کھیلتے ہیں " " بیبی جی یہ گڑیا رانی کے لئے ہے " وہ ترنت بولا " اچھا تو وہ گڑیا رانی ہے کہاں ؟ میں نے چسکا لیتے ہوئے پوچھا "جی وہ کھلونے کے سامنے ہی تو ہے " دینو بولا ارے کیوں مذاق کرتے ہو یہاں تو نہ کوئی گڑیا ہے نہ کوئی رانی . یہی تو ہے گڑیا بھی اور رانی بھی اس نے میری چوت کو ٹچ کرتے ہوئے کہا اور میرے منہ سے ایک لذت بھری سسکاری سی نکلی . میں نے ٹانگ سیدھی کر کے اس کے ہاتھ کو وہیں دبا لیا ظالم نے ہاتھ سے میری پھدی پر مساج شروع کر دی میں نے ٹانگوں کو مزید کھول دیا . اور پاجامے کو پاؤں کی طرف کھینچا تو دینو نے میری ہیلپ کرتے ہوئے پاجامہ اتار ہی دیا . اور اپنی انگلی سے چوت کی لکیر کو چھیڑنے لگا جو کہ مجھے بہت اچھا لگا میں اس کے لن کو ہاتھ میں لے کر اپنی چوت پر رگڑنے لگی لن اتنا بڑا تو نہ تھا مگر اچھا خاصا موٹا تھا وہ اپنے لن کو چوت پر پھسلانے لگا اور میں نے ٹانگیں بھینچ لیں . " بیبی جی " گڑیا رو رہی ہے " دینو نے میرے کان میں سرگوشی کی . "ارے وہ کاہے کو رونے لگی " میں نے فکر مند لہجے میں استفسار کیا " " بیبی جی " "گر آپکو اعتبار نہیں تو یہ دیکھ لیں " دینو نے میرے رس سے گیلی انگلی مجھے دکھاتے ہوئے کہا " اور پھر شاید اس نے وہ انگلی اپنے منہ میں لی اور مجھ سے کہا " بیبی جی" " اس کا تو سواد بھی آنسوؤں جیسا ہے " " یہ کیسے ہو سکتا میں کیسے مان لوں کہ گڑیا کے آنسو نکلے ہیں " میں بولی دینو نے فورا بڑی انگلی میری چوت میں ڈال دی اور میرے سامنے کر دی ابھی تک میری پیٹھ دینو کی طرف تھی - میں نے گیلی انگلی کو منہ میں لے لیا اور اس کی انگلی چوسنے لگی . اسکی انگلی موٹی اور لمبی تھی اپنا ہی رس انگلی سے چوستے مجھے خمار سا انے لگا . اس نے میری گردن پر بوسہ دیا تو میں نے بیقرار ہو کر اسکی طرف رخ کیا اور اسکی چھاتی سے لپٹ گئی اس کی چھاتی کے بال مرے بووبز کو لگنے لگنے تو میں نے اس کے ہونٹوں کو چوم لیا اس نے میرے ہونٹ ہونٹوں میں لے لئے اور چوسنے لگا اور مجھے بھینچ لیا , اس کے بازو اتنے مضبوط تھے کہ مجھے سانس لینا مشکل ہو گیا اس کا لن میری رانوں میں میری چوت کو سہلا رہا تھا رہا . مجھ سے اب رہا نہیں جا رہا تھا میں چاہتی تھی لن یونہی اندر پھسل جاۓ . میں دینو سے بولی . " تم تو کہتے تھے کہ گڑیا رو رہی ہے تو اس کو کھلونا کیوں نہیں دیتے " کھلونا تو اسی کا ہے ضرور دیں گے اس کو تھوڑا بھیگ جاۓ تو دینو نے مجھے چومتے ہوئے کہا میرے بووبز ہولے ہولے دبانے لگا . جب پاجامہ اتر چکا تھا میں بیٹھ گئی اور شرٹ بھی اتار کر اپنے برتھ پر پھینک دی .. اب میں ننگی دینو کے روبرو تھی اور وہ مجھے ہوسناک نظروں سے تا ڑ رہا تھا . میری زلفوں میں انگلیاں پھرتے ہوئے وہ میرے مموں کو چومنے اور مسلنے لگا کبھی میرے نیپلز کو انگلیوں سے مسلتا کبھی ان کو باری باری چوسنے لگتا . اس کے کھردرے ہاتھ جب جسم پر پھرتے تو میں لطف و انسباط کی وادیوں میں کھونے لگتی اس نے دوبارہ برتھ پر لٹا دیا میری پیشانی چوم کر مر ے گال سرخ کرنے لگا اور میری گردن پر بوسوں کی بارش کر دی ؛ میں اس سے چمٹ گئی وہ پھر میرے مموں کو چومنے چوسنے اور چاٹنے لگا مجھ سے اب برداشت نہیں ہو رہا تھا چوت کی کھجلی نے خوار کر رکھا تھا . دینو میرے مموں سے کھیلتا ہوا میری ناف تک پہنچ گیا زبان کو نوک سے مری ناف کو کھجانے لگا . اس کی انگلیاں میری چوت کے دانے کو مسل رہی تھیں اور میں چوتڑ کبھی اِدھر کبھی اُدھر کرتی - اس سے پہلے میں دینو کی منت کرتی مجھے چودو۔۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post

 

 

#میری_ساس_میری_سہیلی

#قسط_06

 

دینو برتھ سے نیچے اتر گیا اور شلوار اتار کر ایک طرف پھینکی اور مجھے دیکھنے لگا میں اس کے لہراتے ہوے لن میں مگن تھی بہت پیارا اور خوبصورت لگ رہا تھا مچلتا کھیلتا لہراتا لن اسے دیکھ میری چوت پُھدکنے لگی اس کے لب ِکھل کے اس کو اندر لینے کو بے تاب تھے . دینو برتھ کی پائنتی کی طرف بڑھا میں نے اپنی ٹانگیں اور پھیلا لیں کہ وہ ان کے بیچ بیٹھ کر کاروائی ڈالے مگر اس نے مجھے ٹانگوں سے پکڑ کر برتھ کی پائنتی کے کونے پر میرے بٹ پہنچا دئے میرے گھٹنے کھڑے تھے - دینو برتھ کے نیچے بیٹھ گیا - میں سمجھ نہ سکی دینو چاہتا کیا ہے . اس نے میرے گھٹنے کھولے اور میری مُلائم رانوں پر اپنے کھردرے ہاتھ پھیرنے لگا اور پھر رانوں کو چومنا شروع کر دیا وہ اپنے ایک ہاتھ سے میری چوت سہلاتے ہوئے کبھی دانے کو مسلتا کبھی لکیر کو چھیڑتا رانوں کو چومتے چومتے اس نے میری چوت کا بوسہ لے لیا اسکی سانسوں اور ہونٹوں کے ٹچ نے مجھے بے خود کر دیا - پہلی دفعہ کسی نے میری اس جگه کو چوما تھا . اس نے ایک دو بوسے لئے اور میری طرف دیکھا - میری آمادگی پا کر اس نے ہونٹ میری چوت پر رکھ دئے اور اسے زبان کی ٹپ سے کھجانے لگا - میں تڑپنے لگی سر کو بیخودی میں کبھی ادھر کبھی ادھر پھٹکتی - جب اس نے میری چوت کے دانے کو زبان کی نوک سے کھجایا تو میں سمجھی میرا سانس رک جایئگا . میں بیان نہیں کر سکتی اس سنسنی انگیز لطف مزے کا سواد . ایک تو مجھے دینو سے ایسی دلربائی کی توقع نہ تھی مگر اس نے مجھے نئی دنیا کی سیر کروا دی اف نہ جانے ظالم نے یوں ستانا کہاں سے سیکھا تھا جسے میں گنوار سمجھی تھی وہ تو آج کل کے لونڈوں کا استاد نکلا . عاطف اور ارمان نے مزے کی یہ کھڑکی تو کبھی کھولنے کی ٹرائی ہی نہ کی تھی وہ مجھے چاٹ رہا تھا میرا ہاتھ اسکے بالوں سے کھیل رہا تھا میرا دوسرا ہاتھ میرے نیپلز مسل رہا تھا , اور میں بے حال ہوتی جا رہی تھی میں چھوٹنے والی تھی دینو کی زبان اپنا کام کر رہی تھی اور اسکی دو انگلیاں میری چوت کے اندر کھجلی کرنے میں لگی ہوئی تھیں میں نے بے خودی میں ایک چیخ ماری اور اپنا رس دینو کے منہ میں انڈیلتے ہوئے میں نے اپنی ٹانگوں کو بھینچ لیا . دینو میرا رس سرکیاں لگا کر پینے لگا جس کی آواز مجھ تک پہنچ رہی تھی - اپنا تن من بدن سب کچھ دینو پر قربان کرنے کو من چاہنے لگا میں نے دینو کو سر کے بالوں پکڑ کے اپنے اوپر کھینچ لیا اور اس کے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنے لگی . { ہر عورت کو چاہیے جو اس کی خوشی کے لئے اسکی چوت کو چاٹے کم از کم اسکے ہونٹوں سے جوس چوس لیں تاکہ چاٹنے والا بعد میں خجالت نہ محسوس کرے } دینو کے ہونٹ میرے لبوں میں تھے وہ مجھ پر بچھ سا گیا تھا اسکا لن میری چوت کے دھانے پر دستک دے رہا تھا میں نے ہاتھ نیچے لے جا کر اسے پکڑا اور چوت کے منہ پر رکھ کر رگڑنے لگی . دینو میری گردن کے نیچے ایک ہاتھ ڈال کے اسے کھجانے لگا - ادھر اس کا لن اندر جانے کو بچیں ہونے لگا دینو اٹھ کر بیٹھ گیا اور لّن کو میری چوت پر رگڑنے لگا اس نے میری ٹانگوں کو اپنی ٹانگوں سے باہر کی سمت کیا تو میرا سب کچھ اس کے سامنے آگیا اس نے میری گردن میں ہاتھ ڈالا اور خود اپنے لن پر دباؤ ڈالنے لگا . میں نے ہاتھ بڑھا کر لن اندر جانے میں مدد کی - چوت میں تو آبشار آیا ہوا تھا لن پھسلتا گیا ادھر دینو نے ایک جھٹکا لگا یا تو وہ چوت چیرتا ہوا جہاں تک جا سکتا تھا گیا دینو میرے دونو ممے اپنے ہاتھوں سے دبانے لگا میں دینو کو بے ساختہ چومنے لگی میں پیار سے اسے دیکھتی اور چومتی جاتی سواد آج جو دینو دے رہا تھا پہلے ایسا مزہ نہ آیا تھا دینو نے میری ٹانگیں اٹھا کر اپنے شانوں پر رکھ لیں اور لن مزید پھنس پھنس کر جانے لگا جس سے مجھے مستی آنے لگی دینو زور زور سے دھکے مارنے لگا ہر جھٹکے پر یوں لگتا اس کا لن آگے جا کر کسی دیوار سے ٹکراتا ہے اور مجھے بہت زیادہ مزہ اتا . دینو کی سپیڈ بڑھنے لگی اور اسکی ضربوں میں شدت آنے لگی اس سے مجھے بھی محسوس ہونے کہ جھرنے لگی ہوں - دینو نے میری ٹانگیں کندھوں سے اتاریں تو میں نے اسکی کمر کے گرد لپیٹ لیں اب دینو دھکا لگاتا تو میں چوتڑ اٹھا کر دھکے کا جواب دیتی اسی طرح آخری دھکوں کا مقابلہ کرتے ہوے میری بس ہو گئی اور دینو بھی ڈکارتا ہوا اپنا سارا مواد میری چوت میں ڈالنے لگا گرم پرنالے سے گرم شیرہ نے میری گڑوی کو بھر دیا میں نہال ہو گئی . میں نے ایک سکھ کی سانس لی یوں لگا جو کمی محسوس ہوتی تھی اور تشنگی لگتی تھی نہ وہ کمی رہی نہ تشنگی جس کے لئے میں دینو کی ابھارن ہوں . میں دینو کو چومنے لگی جو کہ اب میرے پہلو میں لیٹا تھا - تھوڑی دیر بعد میں باتھروم گئی ٹرین رکی ہوئی تھی شاید روہڑی سٹیشن آگیا تھا - یہاں سے ہمارا گاؤں زیادہ نزدیک تھا مگر ابا جانی نے نہ جانے کیوں کراچی تک بکنگ کروائی تھی ہو سکتا ہے وہاں ان کو کوئی کام ہو . خیر اب تو آگے ہی جانا تھا میں پی کرنے لگی تو آج کی رات جو کچھ ہوا کے بارے سوچنے لگی , سچی اج بہت ہی زیادہ اینجوآئے کیا تھا پہلی بار کسی نے چوت چاٹ کر میرے چودہ طبق روشن کر دئے - سنا ہوا تو تھا کہ چٹوانے کا اپنا ہی مزہ ہے مگر کبھی چٹوائی نہ تھی . ارمان تو خیر کبھی ایسا نہ کریں گے اور عاطف نے کبھی ایسی ٹرائی نہیں کی . ویسے کالج میں جب کبھی لڑکوں کے گروپ کے پاس سے گزرتی تو دبے لفظوں میں ان کے ریمارکس تو سنائی دیتے . " یار کیا پٹاخہ ہے . اس کی تو میں چاٹ بھی لوں " " ارے میں تو سالی کی گانڈ بھی چاٹ سکتا ہوں دے تو سہی " " ارے جو بھی چودے گا وہ خوش قسمت ہوگا " " سالی کا تو پیشاب بھی لوں " اس قسم کے ریمارک تو سنتے ہی تھے ہم مگر ٢ لڑکیاں پیغام لیں لڑکوں کا مگر اپنی طرف شفارش کے طور کہنے لگیں ایک " نوشی فلاں لڑکا چوت چاٹنے میں بڑا ماھر ہے " دوسری " نوشین باجی " " فلاں لڑکا کے پاس جانے سے کسی قسم کا کوئی خطرہ ہی نہیں مال بھی بڑا دیتا اور چوت بھی مارتا چوت چاٹ کر گانڈ مارتا ہے مزے کا مزہ اور کنوار پن بھی نہیں جاتا ." یہ تو کالج کی باتیں تھیں . مگر میں تو اس سوچ میں پڑ گئی ایک چٹا انپڑھ دیہاتی نے جس طرح مجھے چآٹا اور چودہ , کیسے ممکن ہے میں نے اپنے اپ کو دھویا اور اٹھ کھڑی ہوئی میں ننگی آئ تھی واپسی پر تھوڑی شرمائ لجائی سی ایک ہاتھ چوت پر دوسرا ہاتھ مموں پر رکھے دینو کے ساتھ جا کر لیٹی اور لپٹ گئی وہ آنکھیں موندے لیٹا ہوا تھا . اس نے بھی بازؤں میں بھر لیا , میں نے چور آنکھوں سے لن کو دیکھا تو لیٹا ہوا تھا مگر ابھی جاگ رہا تھا .. میں دینو کا چما لیتے ہوئے بولی " دینو ایک بات پوچھوں " ناراض تو نہ ہو گے " پوچھو بیبی جی میں ناراض کیوں ہونے لگا " دینو نے کہا . " تم نے جس طرح میرے نیچے اپنی زبان سے پیار کیا تھا کیا ایسا اپنی بیوی سے بھی کرتے تھے . " " نہیں بیبی جی ہم نے تو کبھی ایسا سوچا بھی نہ تھا " دینو بولا "تو کیا تم نے آج رات پہلی بار میرے ساتھ ایسا کیا " میں نے پوچھا " نہیں بیبی جی ؛ ایک اور ہے جس نے مجھ کو چاٹنا سکھایا " " وہ کون ہے ؟ کیا مجھے نہ بتاؤ گے " میں نے جاننے کی ٹرائی کی " بیبی جی " آپ سے تو کچھ چھپا نہیں سکتا مگر ایک بات کہوں " وہ بولا " ہاں ہاں دینو کہو کیا بات ہے " میں نے اسے کہا تو وہ کہنے لگا " بیبی جی مجھے آپ پر اعتماد ہے پھر بھی آپ بول دیں کہ آپ کسی سے نہ کہیں گی . " " تم فکر نہ کرو میں تمہاری کوئی بات بھی کسی کو نہ بتاونگی " میں نے اسے تسّلی دیتے ہوئے کہا تو دینو بولا " جی اپ سلمیٰ آپا کو تو جانتی ہیں " "ہاں دینو انہیں کون نہیں جانتا " وہی جن کا گھر ہماری پیچھے والے وارڈ میں ہے ". میں نے استفسار کیا " جی بیبی جی وہی والی " دینو بولا تو میں بولی تو " سلمیٰ آپا کو کیا ہوا " " بیبی جی سلمیٰ آپا نے ہی چاٹنا سکھایا ہے " یوں سمجھو دینو نے ایک بم پھینک دیا ہو مجھ پر . " دینو کیا تم سچ بول رہے ہو جانتے ہو کون ہے وہ بہت بڑا نام ہے " "جی جانتا ہوں مگر سچ بول رہا ہوں اور وہی مجھ سے چٹوایا کرتی ہے " سلمیٰ آپا ایک بری مشور سماجی رہنما تھی بڑی نیک نام اور غریب پرور ٤٥ کے قریب یا ٥٠ کی عمر ہوگی اس کا کوئی سکینڈل کبھی نہیں سنا تھا اب دینو سے سن کر تو ہکّا بکّا رہ گئی دینو کو جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی اس کے بارے میں . دینو تم اس سے ملے کیسے ؟ میں نے اک اور سوال کر دیا جی وہ کبھی کبھار بیگم صاحبہ سے ملنے آتی تھیں میں ہی ان کی کار کے لئے گیٹ کھولتا تھا کبھی بیگم صاحبہ اس کے لئے کچھ بھجواتی میرے ہاتھوں . اس طرح سے ملاقات ہوئی . " تو تم کہتے ہو تم نے صرف سلمیٰ آپا کی چوت چاٹی ہے " میں نے پوچھا تو دینو کہنے لگا " جی میں نے یہ تو نہیں کہا ایک اور لیڈی بھی ہیں " میں نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا " وہ کون ہے ؟ " : " جی وہ لیڈی عذرا ہیں سلمیٰ آپا کے ساتھ ہی ہوتی ہیں دینو نے بتا کر حیران کر دیا عذرا بھی سماجی کارکن اور اچھی شہرت رکھنے والی ٤٠ سالہ خاتون ہیں . جو کہ سلمیٰ آپا کو اسسٹ کرتی ہیں . عذرا کی شادی نہیں ہوئی مگر سلمیٰ آپا تو جوان بچوں کی ماں ہیں پکا تو معلوم نہیں سنا تھا کہ شوھر سے علیحدگی ہو گئی تھی . " تم تو چھپے رستم نکلے دینو " میں نے مزاحا کہا اور پھر سوال داغ دیا " کیا وہ جانتی ہیں کہ تم دونوں کو لگا رہے ہو . " جی اصل بات یہ ہے کہ سلمیٰ آپا کرواتے ہوئے چاہتی ہے کہ کوئی اسے دیکھے - عذرا کو وہی لائیں تھیں ؛ عذرا کو چوپا لگانے کا شوق ہے اور چٹوا بھی لیتی ہے مگر کرواتی نہیں ؛ گانڈ مروانے کو تیار رہتی ہے سلمیٰ آپا چٹوانا اور کرواتے ہوئے کسی کا دیکھنے کے لئے موجود ہونا اچھا لگتا ہے " واہ " بڑی انٹرسٹنگ بات ہے "تو عذرا کرواتی کیوں نہیں .؟ میں نے پوچھا تو دینو بولا " اسکی اس جگه " کوئی پرابلم ہے وہ لے نہیں سکتی اندر مگر چٹوا کے مزے لیتی ہے .. میرے کہنے پر دینو سلمیٰ آپا اور عذرا کے ساتھ تعلقات کی تفصیل بتانے لگا ( ٹائم ملا تو آپ لوگوں سے الگ سٹوری میں شئیر کرونگی) مگر دینو نے جو کچھ بتایا وہ مجھے خوار کر گیا میں مست سی ہونے لگی دل چاہتا تھا کہ دینو کو بولوں کہ : " کنڈی نہ کھڑکا سوہنیا سیدھا اندر لنگ آ " یہ شاید نصیبو لال کے گانے کے بول ہیں دینو لیٹا ہوا تھا میں اٹھ بیٹھی اور اس کے لن سے کھیلنے لگی اس میں حرکت ہونے لگی تو اس کی ٹوپی پر اپنی زبان پھیرنے لگی میں سمجھی تھی بوڑھا ہے کچھ وقت لگے گا اٹھنے میں مگر وہ " ابھی تو میں جوان ہوں کہتا ہوا تن کر اور ڈٹ کر کھڑا ہوگیا میں نے جھٹ سے اسے منہ میں لیا اور چوپا لگانے لگی دینو نے اپنے آپ کو ڈھیلا چھوڑ دیا . اس کا ایک ہاتھ میری ران پر دھرا تھا اس ہاتھ سے دینو میری چوت کو سہلانے لگا جو کہ اس کی سٹوری سن کر پہلے سے ہی گیلی تھی - میں نے ٹانگیں چوڑی کر دیں تو دینو نے میری ٹانگوں کو اپنی طرف کھینچا اس طرح اس کا منہ میری ٹانگوں کے بیچ آ گیا اس نے مجھے چاٹنا شروع کر دیا میں مستی میں لن کو ہولے ہولے دندیاں مارنے لگی من کرتا تھا اس کو کاٹ کاٹ کر کھا جاؤں ٦ انچز ہوگا مگر کام کا تھا - دینو کی - میں اگے ہو کت= زبان مجھے چود رہی تھی میں نے لن کو منہ سے نکالا دینو کی طرف مڑی اور اس کے اوپر جا کر میں چوت کو اس کے لن پر رکھا اور چوت کو لن پر مسلنے لگی جب لن گیلا ہو گیا میں نے زور لگایا اور ایک جھٹکے کے پورا لن اندر لے لیا میں نے اگے ہو کے جھک کر دینو کا بوسہ لیا اور پھر لن کے اوپر اچھلنے لگی لن سیدھا تن کر کھڑا تھا اس لئے بہت مزہ آنے لگا میں دینو کے سینہ کے نیپلز کو پیار کرنے لگی انکو بآئیٹ کرتی چوستی تو دینو مستی میں تڑپتا تو اس کا لن بھی چوٹ لگاتا . دینو میرے مموں سے کھیلنے لگا اور پھر شرارت کرتے ہوے مجھے گدگدانے لگا تو میں تڑپ اٹھی میں جو مچلی تو ایک بار تو لن بھی باھر نکل گیا مگر میں نے جلدی اسے پھر اندر لے لیا مجھے کچھ ہونے لگا ایک تشنج سی کیفیت چھانے لگی میرے ہاتھ اور پاؤں اینٹھ گئے اور میں جھڑ گئی - مجھے دیکھ کر دینو کے لن نے بھی میری صراحی بھر دی ہم دونوں اکٹھے ہی فارغ ہوئے ایک د وسرے کو چومنے لگے . کراچی کے آنے میں ٹائم نہ لگا - ابو نے کراچی سے ٢ سیٹس پلین کی کروائی ہوئی تھیں جو کہ ایک بجے کی تھیں , ہم نے ناشتہ وغیرہ کیا اور پھر کراچی میں ٹورسٹ کمپنی کے ساتھ کراچی گھومنے میں تین گھنٹے لگے پھر ایئر پورٹ سے سکھر گئے اپنے گاؤں تک پہنچتے شام ہو گئی - ساس ماں نے اچھا استقبال کیا کھانا وغیرہ کھا کر میں اپنے کمرے میں آ گئی - اسی پر سونے لگی جس پر سہاگ رات منائی تھی .,.. دل میں آئ کاش دینو کو آج بلا سکتی مگر نا ممکنات میں سے تھا ؛ بیتی رات کو یاد کرتے کرتے نہ جانے کب انکھ لگ گئی اور صبح جب اٹھی تو سورج سر کھڑا تھا . تھوڑی دیر بعد دینو کی واپسی ہوئی دل اداس سا ہوگیا - ٢ چار دن کے بعد میں نے بوریت محسوس کرنا شروع کر دی - کیونکہ شادی کے بعد بڑی گہما گہمی تھی اب وہ نہیں رہی تھی - بیگم صاحبہ میری ساس اکثر اوقات دوسرے سماجی کاموں میں باھر رہتی زلیخا اور سمیرا میرے ساتھ ہوتیں گھر کے سارے کام وہی کرتیں - رات کو میں اکیلے کمرے میں ہوتی اب موسم اچھا ہو گیا تھا میں نے مسہری کھڑکی کے ساتھ رکھ لی تاکہ رات کو کھڑکی کھول کر سویا کروں تاکہ تازہ ہوا ملتی رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post

#میری ساس میری_سہیلی
#قسط_07

 

کھڑکی میں جالی لگی ہوئی تھی اس لئے مچھر وغیرہ کا بھی کوئی ڈر نہ تھا - ایک ہفتہ کے بعد رات کو سوتے ہوئے میری انکھ کھل گئی مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کھڑکی کے سامنے سے کوئی گزرا ہو - اس لائن میں ٥ بیڈ روم تھے آگے برآمدہ تھا جو سب بیڈ رومز کو کور کرتا ہے . اور برآمدے کے دونوں کونوں میں ٢ کمرے جو سٹور روم تھے . میں کونے والے سٹور روم کے ساتھ بیڈ روم میں ہوتی اور میری ساس دوسرے کونے والے سٹور روم کے ساتھ والے بیڈ روم میں ہوتی . گر کوئی گیا تھا میری ساس کے بیڈ روم کی طرف گیا تھا . میں نے دروازہ آرام سے کھولا اور برآمدے میں جھانک کر دیکھا تو کوئی نظر نہ آیا - میں ہولے سے باہر نکلی اور ساس کے بیڈ روم کی طرف جانے لگی . قریب پہنچی تو مجھے آوازیں سنائی دیں ایک تو میری ساس تھی دوسرا کون تھا کوئی اندازہ نہ ہو سکا . خوشقسمتی سے ساس کی کھڑکی کی درز سے میں دیکھنے میں کامیاب ہو گئی کہ وہ شیرو تھا جو کہ بیگم صاحبہ کے بعد دوسرے نمبر پر تھا یعنی کار مختار مگر یہ اس وقت بیگم صاحبہ کے کمرے میں کیا کر رہا ہے میرے ذہن میں یہ سوال اٹھا . میں تھوڑا اور نزدیک ہوئی مہلوم ہوا دونو جھگڑ رہے ہیں . بیگم صاحبہ = شیرو میں تم کو پہلے کہہ رکھا ہے کہ جب تک میں نہ کہوں تم رات کو ادھر مت آنا = میری بہو نوشیں نے دیکھ لیا تو قیامت آ جایئگی . شیرو . ٹھیک ہے مگر ایک ہفتہ ہو گیا میں ہاتھ میں لئے پھر رہا ہوں . تم جانتی ہو مجھ برداشت نہیں ہوتا . بیگم صاحبہ اس کا ایک ہی حل ہے بیگم صاحبہ وہ کیا ھل ہے میں بھی سنوں شیرو " میں تمہاری لاڈلی کو زبردستی چود دوں اس کے بعد کسی سے ڈرنے کی ضرورت ہی نہیں یہ سنتے ہی میں پیچھے پلٹی ..... ابھی میں پلٹی ہی تھی کہ مجھے عجیب سی آواز سنائی دی جیسے طمانچہ مارا گیا ہو - میں پھر پلٹی میں سمجھی کہ بیگم صاحبہ نے شیرو کو طمانچہ مارا ہوگا - میں کھڑکی کے نزدیک جا کر درز سے جو دیکھا تو بیگم صاحبہ کا ہاتھ انکے چہرے پر تھا اور ڈبڈبائی نظروں سے شیرو کو غصے سے دیکھ رہی تھیں . بیگم صاحبہ : " شیرو تم کو کئی بار کہہ چکی ہوں چہرے پر مت مارا کر تمہارا ہاتھ بھاری ہے اب نشان رہ گیا تو صبح کیا وضاحت کرتی پھروں گی " شیرو : " بیگم صاحبہ غصہ آ جاۓ تو مجھ پتا نہیں چلتا کہ کیا کر رہا ہوں " کہتے هوئے شیرو نے آگے بڑھ کر بیگم صاحبہ کو اپنے گلے سے لگا لیا . بیگم صاحبہ گلے لگتی ہی رونے لگی . میں حیران پریشان سوچنے لگی یہ ماجرا کیا ہے ! بیگم صاحبہ کا طوطی علاقے میں بجتا ہے ایک رعب اور دبدبہ ہے انکا ؛ سب ان کا احترام کرتے ہیں ؛ شیرو منشی منیم ایک کارندہ یا نوکر ہے انکا . اور اس سے تھپڑ کھا کر بیگم صاحبہ اسی کے سینہ سے لگی کھڑی ہے - ان کے آپس میں تعلقات کا تو اندازہ ہو گیا مگر طمانچہ کھا کر برداشت کرنے کی سمجھ نہیں آئ . میں کھڑکی کے ذرا اور نزدیک ہوگئی تاکہ انکی باتیں سن سکوں ؛ شیرو بیگم صاحبہ کو لپٹآئے کھڑا تھا اور انکی تھوڑی اٹھا کر ان کی آنکھوں کو چومنے لگا بیگم صاحبہ کے آنسوؤں نے انکے گال بھگو دئیے تھے شیرو نے انکے گالوں پر بوسوں کی بارش کر دی . بیگم صاحبہ نے اپنی باہیں شیرو کے گلّے میں ڈال دیں اور اس سے لپٹ گئی . شیرو نے انکی کمر کو بازوؤں میں جکڑ لیا اور اسے اٹھا کر بیڈ پر لٹانے لگا " ٹہر میں نوشین کو دیکھ آؤں " یہ کہتے ہوئے وہ اٹھنے لگیں تو میں ڈر سی گئی ؛ مگر شیرو نے کہا " وہ سو رہی ہے میں اسے سوتا دیکھ کر آ رہا ہوں ." تو بیگم صاحبہ نے اسے کہا شیرو کبھی اس طرف مت جانا ؛ نہیں تو میری طرف سے کسی اچھائی کی امید نہ رکھنا " بیگم صاحبہ سخت لہجے میں کہتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گئی . بیگم صاحبہ " مجھ پر رحم کر ؛ ایسی پابندی نہ لگا - سچ یہی ہے اس کے ہوتے ہم آزادی سے نہ مل سکیں گے ؛ اسے کانا کرنا بہت ضروری ہے - ایک بار ہی سہی " شیرو ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ گزرا . "کچھ شرم کر وہ تمہاری بہو ہے اپنی بہو کے بارے ایسا سوچنا بھی نہیں چاہیے اور تم ارادہ بناۓ بیٹھے ہو " بیگم صاحبہ نے چچ چچ کرتے کہا . " وہ آپکی بہو ہے میری نہیں نہ ہی ارمان میرا بیٹا ہے ؛ وہ مرحوم سردار کامران کا بیٹا ہے . کئی بار میں کہہ چکا ہوں . ارمان میرا بیٹا ہو ہی نہیں سکتا ". شیرو نے بڑے یقین سے کہا , مگر مجھے یقین ہے ارمان تمہارا ہی بیٹا ہے . کامران اور میری شادی کو ٩ سال ہو چکے تھے ہم بے اولاد رہے ؛ مگر پھر جب تمہارے ساتھ سونے کا مجھے موقع ملا تو دوسرے ماہ میں حاملہ ہو گئی تھی . بیگم نے اسے یاد کراتے ہوے کہا شیرو کہنے لگا " ارمان کی پیدایش کے بعد سردار کامران پانچ سال حیات رہے تھے اس عرصہ کے دوران ہم ملتے رہے پھر مجھ سے کوئی مزید اولاد کیوں نہ ہوئی تم تو اس دوران کوئی گولی یا دوائی پر بھی نہ تھیں " " ارے تم جانتے تو ہو کیس خراب ہو گیا تھا اور ڈاکٹر نے بتا دیا اس کے بعد میں ماں نہ بن سکون گی . بیگم نے افسردہ لہجے میں کہا . " شیرو کہنے لگا " کچھ بھی کہو ارمان میرا بیٹا نہیں نہ ہو سکتا ہے اس کی شکل صورت اپنے والد سے ملتی جلتی ہے وہ مجھ سے مشابہ نہیں ؛ پھر ہمارے خاندان میں جنم لینے والے لڑکے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے لن پر کالا تل ہوتا ہے . تم نے میرا تو دیکھا ہوا ہے تل ؛ ارمان کے بچپن میں میں نے چیک کیا تھا کوئی تل نہیں اس کے نفس پر ؛ ہاں خصیوں پر تل تھا مگر ہمارے ہاں ٹوپے پر ہوتا ہے جیسے یہ " ؛ کہتے ہوئے اس نے اپنی دھوتی سے اپنا لن نکال بیگم صاحبہ کو دکھایا . بیگم صاحبہ کہنے لگیں . " دیکھ شیرو , نوشین میری بہو ہے اس ناطے وہ تمھاری بھی بہو لگی , اس لئے اس کے بارے غلط ملط نہ سوچا کر یہ کہتے ہوئے بیگم صاحبہ شیرو کا لن ہاتھ میں لے لیا اور اسے بڑے اشتیاق سے دیکھنے لگیں . کمرے میں ایک لالٹین کی دھیمی روشنی میں میں لن کو نہ دیکھ سکی . مگر جس طرح بیگم صاحبہ نے اسے ہاتھ میں تھا ما ہوا تھا اس سے معلوم ہوتا تھا خاصے کی چیز ہوگی . شیرو " بیگم صاحبہ آپ سمجھ نہیں رہی ہو ؛ میں غلط نہیں سوچ رہا نوشین کو ساتھ ملا کر ہی ہم ایک دوسرے کو مل سکتے ہیں ورنہ ہر وقت پکڑے جانے کا خطرہ رہے گا . ویسے بھی نوشین , ارمان کے بس کی بات نہیں وہ بابو ٹائپ لڑکا اس جٹی کڑی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا مجھے کچھ کرنے کی اجازت دو وہ تمہارے تلوے چاٹتی رہے گی اور ہمارے راستے میں آنے کا سوچے گی بھی نہیں ". یہ کہتے ہوے شیرو بیگم صاحبہ کو چومنے لگا " نہیں کبھی نہیں ایسا کبھی سوچنا بھی نہیں " بیگم صاحبہ ترش لہجے میں بولیں . " ٹھیک ہے بیگم صاحبہ اس پر بات بعد میں کریں گے " . شیرو نے بیگم صاحبہ کو اپنی جانب کھینچتے ہوئے کہا ؛ بیگم صاحبہ : "شیرو جلدی جلدی کر لو کہیں نوشین اٹھ گئی تو کہیں کے نہ رہیں گے " یہ کہتے ہوئے وہ اپنے کپڑے اتارنے لگیں . " بیگم صاحبہ ابھی تو شروع بھی نہیں ہوئے اور آپ کو جلدی کی پڑ گئی ہے . ایک وقت تھا آپ کو دسمبر کی رات چھوٹی لگتی تھی ساری رات نہ سونے دیتیں نہ خود سوتیں " شیرو بیگم صاحبہ کی کپڑے اتارنے میں مدد کرتے ہوئے بولا اور بیگم صاحبہ کی شلوار بھی اتار دی . " ہاں شیرو اب وہ جذبات نہیں رہے عمر کے ساتھ ساتھ بہت کچھ بدلتا جا رہا ہے مجھے بھی یہی محسوس ہوتا ہے جیسے میں ٹھنڈی ہوتی جا رہی ہوں ورنہ اپنے جسم کے تقاضوں کی خاطر میں ساری زندگی خطرات سے کھیلتی رہی ہوں ", بیگم صاحبہ ایک ٹھنڈی آه بھرتے بولیں اور شیرو کی دھوتی کی طرف ہاتھ بڑھایا تو شیرو کھڑا ہو گیا اور اپنی قمیض اتار کر اس نے دھوتی بھی نیچے پاؤں میں گرا دی میں نے سوچا مجھے اب جانا چاہیے کہ یہ اب اپنا پرائیویٹ پروگرام شروع کرنے لگے ہیں اور اخلاقا مجھے یہاں سے ہٹ جانا چاہیے اس سے پہلے کہ میں قدم اٹھائی دفعتا مجھے لن کا سایہ دیوار پر نظر آیا اور میں وہیں ٹھٹھک کر کھڑی رہ گئی شیرو جب کھڑا ہوا تو وہ مجھے نظر نہیں آیا تھا لالٹین کی روشنی اس پر پڑی تو اس کے لن کا سایہ دیوار پر نظر آنے لگا . میں ڈائریکٹ اسے دیکھنا چاہتی تھی اس لئے مزید نزدیک ہو کر میں نے کھڑکی کی درز پر آنکھ ٹکا دی تو دیکھ کر میری چوت میں بھی گدگدی سی ہونے لگی شیرو کا ہتھیار ان سب سے بڑا لمبا اور موٹا دکھ رہا تھا جو اب تک برت چکی ہوں تقریبا ٧ انچ لمبا اور اسکی ٹوپی نہیں نہیں ٹوپا بہت موٹا لگا ٠ اسکی اٹھان اور اکڑ دیکھ کر میرے منہ بھی پانی آ گیا . مجھے اپنی ساس پر رشک انے لگا جو اب اسے ہاتھ میں لے کر دبانے اور چومنے میں لگی ہوئی تھی . وہ چارپائی بیڈ پر بیٹھی ہوئی اور شیرو اس کے سامنے کھڑا تھا . بیگم صاحبہ کے ہاتھ میں اس کا لن تھا جس کے ٹوپے پر بیگم صاحبہ کبھی زبان سے ٹکلنگ کرتی کبھی اسے منہ میں لے لیتی . شیرو نے بیگم صاحبہ کے سر کے پیچھے ہاتھ سے دباؤ دیا تو بیگم صاحبہ نے پورا لن منہ میں لے کر چوپا لگانا شروع کر دیا . شیرو کے منہ سے لذت آمیز آوازیں بیگم صاحبہ کے چوپا لگانے میں اکسپرٹ ہونے کا عندیہ دے رہی تھیں . شیرو نے بیگم صاحبہ کو بازؤں سے پکڑ کر اٹھا لیا اور اس کے ہونٹ اپنے لبوں میں لے کر چوسنے لگا بیگم صاحبہ نے اپنے بازو شیرو کے گلے میں ڈال دئیے اور شیرو نے اسے بھینچ لیا - شیرو کا لن بیگم صاحبہ کی رانوں میں ٹکریں مار رہا تھا اور بیگم صاحبہ ایک ہاتھ سے اسے پکڑ کر اپنی چوت پر مسلنے لگی . بیگم صاحبہ کی بولڈنس نے مجھے بہت متاثر کیا . وہ اس مقولے پر عمل پیرا تھیں کہ " جس نے کیا شرم ؛ پھوٹے اس کے کرم " بیگم صاحبہ اپنے بھاگ جگانے میں لگی ہوئی بہت مسرور لگ رہی تھی - شیرو بیڈ پر بیٹھ گیا اور بیگم صاحبہ اس کی گود میں بیٹھ گئی شیرو نے ایک بازو اس کے گلے میں ڈالا اپنے ہونٹ انکے لبوں پر رکھ کر انہیں چوم لیا بیگم صاحبہ شیرو کا نچلا ہونٹ لبوں میں لے کر چوسنے لگ گئی شیرو رانوں سے لے کر مموں تک بیگم صاحبہ کے جسم پر ہاتھ پھیرنے لگا بیگم صاحبہ شیرو کی گود میں بیٹھی شیرو کے ہتھیار پر اپنی چوت کو مسلنے لگی جس سے لن مزید برانگیختہ ہوا اور شیرو نے بیگم صاحبہ کو بیڈ ( چارپائی ) پر لٹانے کی کوشش کی مگر بیگم صاحبہ اٹھ کر کھڑی ہوئی اور چارپائی کو پکڑ کر گھوڑی بن کر کھڑی ہو گئی - شیرو لہراتے لن کے ساتھ اس کے پیچھے آ گیا اور اسکی پیٹھ چومنے لگا ساتھ ساتھ بیگم صاحبہ کے مموں کو مسلتا رہا پھر شیرو نے کھرے ہو کر بیگم صاحبہ کی چوت پر لن کو مسلا تو بیگم صاحبہ نے اپنی ٹانگیں چوڑی کر لیں اچانک شیرو نے ایک چماٹا تھپڑ بیگم صاحبہ کے دائیں بٹ پر جڑھ دیا بیگم صاحبہ نے اوئی کی اور اس کی بُنڈ اوپر اٹھی اور اسکی کمر میں ایک سیکسی خم سا پڑ گیا . شیرو ہاتھ سے مساج کرتا اور کبھی چومتا اور پھر چوت پر لن کو مسلنے لگا پھر اس نے دوسرا تھپڑ بائیں بٹ پر مارا بیگم صاحبہ کے منہ سے لذت بھری سسکی اف کی صورت نکلی اور شیرو بٹ کو چومنے لگا اور ہاتھ سے مساج کرتا رہا بیگم صاحبہ نے ٹانگیں مزید پھیلا دیں . شیرو نے اس بار چوت پر تھپڑ جمایا تو بیگم صاحبہ کھڑی ہوئی اور پلٹ کر شیرو سے لپٹ کر اسے چومنے لگی . میں سمجھ نہیں سکی بظاہر تو یہی لگتا تھا کہ بیگم صاحبہ کو ہاتھ کی ضربوں سے مزہ آ رہا ہے , میں حیران ہوئی کہ شیرو کے اتنے شدید تھپڑ وہ برداشت کیسے کر رہی ہیں . وہ الٹا اس پر واری نیاری ہو رہی تھیں . شیرو نے ان کو دوبارہ گھوڑی بنایا اک تھپڑ پھر انکی چوت پر مارا بیگم صاحبہ نے ٹانگیں کھول دیں اور شیرو نے اپنا لن چوت پر ٹکایا اور دھیرے دھیرے اندر اترنے لگا . بیگم صاحبہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور اپنی کمر کو لچکاتی ہوئی دہری سی ہوگئی جس سے شیرو کو ڈھیکا مارنے میں آسانی ہو گئی شیرو نے اسکے دونوں کولہوں کو پکڑ لیا اور زور زور سے بیگم کو چودنے لگا بیگم صاحبہ اپنے ہاتھ سے چوت کے دانے کو مسلنے لگی شیرو 5- ٧ جھٹکے لگا کر ایک ٢ تھپڑ بیگم صاحبہ کی بُنڈ ایک چپت رسید کر دیتا جس سے بیگم صاحبہ آہ کرتے ہوئے لچکتی تڑپتی اور پیچھے شیرو کو دیکھتے ہوئے کہتی اور زور سے جانو زور سے مار . شیرو ایک ہاتھ سے بیگم کے ممے ٹٹولنے لگا اور بیگم صاحبہ نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر دبایا اور سر اٹھا کر شیرو کو چومنے کی کوشش کی تو شیرو نے آگے ہو کر اسکے ہونٹ اپنے لبوں میں لئے اور چوسنے لگا بیگم صاحبہ نے ایک جُھر جُھری سی لی اور کانپ سی گئی - بیگم صاحبہ جھڑ چکی تھی . اور کھڑی ہو کر شیرو کو چمٹ کر اسے چومنے لگیں مجھے بھی ایک کپکپی سی محسوس ہوئی میں نے غور کیا تو اپنے ہاتھ  کو اپنی چوت کو مسلتے ہوئے پایا مجھے خبر ہی نہ ہوئی کب میں بھی انکی کشتی میں سوار ہو چکی تھی

Share this post


Link to post

#میریساسمیری_سہیلی
#قسط_08

 

بیگم صاحبہ شیرو کو چومتے چومتے اس کے لن کو ہاتھ میں لئے چارپائی پر دراز ہو گئیں . شیرو ان کے اوپر ہی لیٹ گیا اور اس نے بیگم صاحبہ کی پیشانی گال گردن پر بوسوں کی بارش کر دی . بیگم صاحبہ نے شیرو کو ایک طرف کرتے ہوے اُٹھ کر بیٹھ گئی اور ایک کپڑے سے پہلے اپنی چوت صاف اور خشک کی پھر شیرو کے لن کو پونچھ کر صاف کیا اور شیرو کا لن دیکھتے ہوئے اسے چومنے لگی اور اسکے ٹوپے پر سوراخ کو جیبھ سے ٹکلنگ کرنے لگی جس سے شیرو مستی میں سر دائیں بائیں پٹخنے لگا اور بیگم صاحبہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر لن کو پورا منہ میں لینے کا اشارہ کیا تو بیگم صاحبہ ہولے ہولے پورا لن کو اپنے حلق تک لے گئی اور پھر دھیرے دھیرے لن کو چوپنے لگی شیرو جھرنے لگا تھا وہ بیچینی سے اُٹھا اور بیگم صاحبہ کو نیچے لٹا کر اس کے اوپر لیٹ گیا بیگم صاحبہ نے ٹانگوں کو کھولا اور لن کو پکڑ کر اپنی چوت پر مسلنے لگی . شیرو نے بیگم صاحبہ کی لن کے لئے بے تابی کو دیکھتے ہوئے اٹھ کر اسکی ٹانگوں میں بیٹھ گیا ؛ بیگم صاحبہ نے اپنی ٹانگیں کھول دیں اور شیرو چوت پر لن کو مسلنے لگا جس سے بیگم صاحبہ مچلنے لگی . میری جانب بیگم صاحبہ کے پاؤں اور شیرو کی پیٹھ تھی لالٹین کی مدھم روشنی میں جتنا نظر آنا ممکن تھا میں تجسس لئے غور سے دیکھ رہی تھی - شیرو نے چوت پر لن مسلتے ہوئے ایک زور کے دھکے سے پورا لن اندر کرتے ہوے بیگم صاحبہ کو دہرا کر دیا . ( مجھے ایسے لگا کہ شیرو کا لن میری چوت کو چیرتا ہوا اندر دور تک داخل ہو گیا ہو ) بیگم صاحبہ نے بوسہ لیتے ہوئے شیرو کے گلے میں باہیں ڈال دیں اور اپنی ٹانگیں شیرو کی کمر کے گرد جکڑلیں - شیرو بیگم صاحبہ کی گردن پر ہونٹ رکھے چومتے ہوئے ہولے ہولے لن کے دھکے لگا نے لگا مجھے اس کے جھومتے ہوئے خصیے نظر آ رہے تھے جو بہت بھلے لگ رہے تھے شیرو کے ہر دھکے سے وہ آگے اور پیچھے جھول رہے تھے لن پورا اندر جاتا تو وہ بیگم صاحبہ کی بنڈ پر جا لگتے آواز ضرور نکلتی ہوگی ؛ دور ہونے کی وجہ سے مجھے سنائی نہیں دے رہی تھی ورنہ میرے لاشعور میں کمرے کے اندر بھاری سانسوں کے ساتھ پچک پچک اور چپک چپک آوازیں گونج رہی تھیں . میرا ایک ہاتھ میری چوت کو جو کہ ٹپکنے لگی تھی سہلاتا تو درمیانی انگلی اندر چلی جاتی دوسرے ہاتھ سے میں اپنے نپل کو مسلنے لگی شیرو کی سپیڈ بڑھتی جا رہی تھی .. بیگم صاحبہ سر اٹھا کر کبھی اس کا بوسہ لیتی اور کبھی اس کے سینہ پر دانت گاڑ دیتی . . شیرو زور سے کر اور زور سے لگا . رگڑ کر رکھ دے چوت کو اسکی پیاس بجھا دے جانو . وہ شیرو کے بازؤں کے مسلز کو پکڑے شیرو کے ہر دھکے کا اپنی گاند اٹھا کر جواب دیتی . بیگم صاحبہ کی موننگ لذت بھری آہوں اور آوازوں سے ظاھر ہو رہا تھا کہ وہ پھر منزل ہونے والی ہیں . شیرو نے بیگم صاحبہ کی ٹانگوں کو اپنے شانوں پر رکھ لیا ا ور تابڑ توڑ ڈھیکے لگانے لگا اسکی سانسوں کی تیزی کمرے میں گونجنے لگی لگ رہا تھا کہ وہ کسی وقت بھی آ سکتا ہے . بیگم صاحبہ کے چہرے کے تاثرات لذت کی انتہا چھونے کی بدولت عجیب تاثر دے رہے تھے مجھ میں بھی مزے کی لہر اٹھی میں نے آنکھیں بند کر لیں اور اپنے اپ سے کھیلنے لگی میں مدہوش ہو کر اپنے آپ میں مگن تھی کہ دفعتاً ایسے لگا جیسے شیرو نے مجھے پکارا ہو نوشی . نوشی نوشی ؛ اس کے ساتھ ہی کمرے میں ایک تھپڑ کی آواز گونجی میں نے آنکھیں کھول دیں اور بے خودی میں میرا ہاتھ کھڑکی سے جا لگا اور وہ تھوڑا سا کھل گئی دیکھا تو شیرو اپنے گال پر ہاتھ رکھے بیگم صاحبہ کو دیکھ جا رہا ہے " میں تجھے نوشی لگتی ہوں " بیگم صاحبہ نے بڑے غصہ سے شیرو سے پوچھا . " نہیں بیگم صاحبہ میں نے ایسے کب کہا " شیرو بولا تو مجھے سمجھ ائی کہ جب شیرو چھوٹنے لگا ہوگا تو لذت سے مغلوب ہو کر اس نے میرا نام لیا ہوگا ہو سکتا ہے وہ خیالوں میں مجھے چود رہا ہو , میں یہ سوچ کر دل ہی دل میں مسکرانے لگی مگر مجھے خیال ہی نہیں رہا تھا کہ کھڑکی تھوڑی سی کھل گئی تھی , میں نے جب اندر دیکھا تو بیگم صاحبہ کو اپنی طرف دیکھتے پا کر میں حواس باختہ ہو گئی اور پچھلے پاؤں پیچھے ہٹنے لگی پھر جلدی سے اپنے کمرے میں جا کر دروازہ کو چٹخنی لگائی اور کھڑکی بھی بند کر دی . میرے سانس تیز چل رہے تھے اور میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا میرے ہاتھ اپنی ٹانگوں پر ٹکے تو پاجامہ گیلا سا لگا ؛ میری رانیں اپنے ہی شیرے سے بھیگی ہوئی تھیں میں غسل خانے میں گئی اور پاجامہ اتار کر میں نے بدن پر پانی ڈالا .اپنی ناف سے لے کر نیچے ٹانگوں میں اور ٹانگوں کو اچھی طرح صا ف کیا اور بیڈ روم آ گئی چارپائی پر بیٹھ کر سوچنے لگی اب کیا ہوگا ؟- سوچوں اور گمانوں میں نیند کی دیوی مجھ پر غالب آ گئی . میری آنکھ دروازہ پر ہلکی ہلکی دستک پر کھلی . سوچنے لگی کون ہو سکتا ہے ؛ بیتی رات کا اک اک پل یاد انے لگا دروازہ کھولوں کہ نہیں ؛ کہیں شیرو ہی نہ ہو . ان ہی گمانوں میں مبتلا میں ڈری سہمی یوں ہی بیٹھی رہی . تھوڑی دیر بعد پھر ذرا زور سے دروازہ کھٹکھٹایا گیا اور میں دھڑکتے دل سے دروازہ کھولنے کے لئے اٹھی میں دھڑکتے دل سے دروازہ کھولنے کے لئے اٹھی اور کانپتے ہاتھوں سے چٹخنی کھول دی . سامنے بیگم صاحبہ کھڑی تھیں "سلام بیگم صاحبہ " ان کو دیکھتے ہی میں بے اختیار بول اٹھی " جیتی رہو بیٹی ؛ میں نے سوچا آج ناشتہ یہیں تمہارے کمرے میں کریں " یہ کہتے ہوئے بیگم صاحبہ کمرے کے اندر داخل ہوئیں تو زلیخا ( house incharg ) بھی ناشتہ کی ٹرالی لئے ہوئے ان کے پیچھے تھیں میں نے جلدی جلدی صاف کرسی کو کپڑے سے جھاڑا اور بیگم صاحبہ کو بیٹھنے دعوت دی .. میں اسی وقت سو کر اٹھی تھی مجھے اندازہ نہیں تھا ٹائم کیا ہوگا . میں بیگم صاحبہ سے معذرت چاہتے ہوئے فریش اپ ہونے کے لیۓ غسل خانہ کی طرف بڑھی اور جلدی جلدی اپنے آپ کو سیٹ کرنے لگی " زلیخا اب تم جاؤ میں ناشتہ لگا لونگی " بیگم صاحبہ کو زلیخا سے کہتے ہوئے میں نے سنا " جی بیگم صاحبہ " زلیخا یہ کہتے ہوئے کمرے سے نکل گئی - دروازہ کے بند ہونے کی آواز سے میں نے یہی اندازہ لگایا میں فریش اپ ہو کر غسل خانے سے نکلی تو بیگم صاحبہ میز پر ناشتہ چُن رہی تھیں میں نے اگے بڑھ کر ان کا ہاتھ بٹایا . اور پھر میز کے مختلف سائیڈز پر یعنی آمنے سامنے . میں نے بٹر ٹوسٹ کے ساتھ چاہے لی اور بیگم صاحبہ نے دلیہ پر اکتفا کیا . ہم آہستہ آہستہ ناشتہ کرنے میں مشغول تھیں . ہم دونوں ایک دوسرے سے آنکھیں چراتی خاموش سی کوئی بات کرنے کی بجاۓ اپنے اپنے خیالات میں کھوئی ہوئیں تھیں . صاف ظاھر ہے ہم دونوں بہت کچھ کہنے کے باوجود ہمت نہ یا رہی تھیں یا الفاظ ہمارا ساتھ نہ دے پا رہے تھے . مختلف قسم کے اندیشوں میں گھری اندر ہی اندر میں ایک خوف کی کیفیت محسوس کر رہی تھی . آخر کار ناشتہ ہو گیا تو بیگم صاحبہ اٹھ کر غسل خانہ میں گیں ؛ میں نے اتنے میں برتن ٹرے میں رکھ کر ٹرالی پر رکھ دئیے . بیگم صاحبہ باھر نکلیں اور کرسی پر بیٹھ گئیں ؛ میں بھی سامنے کرسی بیٹھی . " بیٹی ؛ بیگم صاحبہ نظریں جھکاۓ گویا ہوئیں "جی بیگم صاحبہ " میں نے انہیں دیکھتے ہوے کہا " میں جانتی ہوں کل رات تم مرے کمرے کے باھر تھیں " بیگم صاحبہ دھیمی آواز میں بولیں " سوری بیگم صاحبہ میں نے شور سنا تھا تو باھر آئ تھی ؛ آپ اطمینان رکھیں یہ سب کچھ مجھ تک محدود رہے گا " میں نے کہا بیگم صاحبہ کہنے لگیں " تم نہ بھی کہتی تو بھی مجھے تم پر اعتبار ہے تم میری بیٹی جیسی ہو اور ماں بیٹی ایک دوسرے کی دوست اور رازدار ہوتی ہیں . " " مجھے معلوم نہیں کہ تم میری مجبوری سمجھ سکو گی یا نہیں مگر یقین جانو میں مجبور تھی اور مجبور ہوں . بیگم صاحبہ روہانسی ہو کر بولی تو میرا دل بہت دکھا . میں نے ان کا ہاتھ جو کہ میز پر تھا اسے پکڑ لیا اور ان سے کہا کہ " مجھے آپکی مجبوریوں کا بخوبی احساس ہے بیگم صاحبہ اور میں آپکو کوئی دوش نہیں دیتی . میرے دل میں اپ کے لئے جو عزت کل تھی وہی مقام آج بھی ہے . "جیتی رہو بیٹی مجھے تم سے یہی امید تھی سدا سہاگن رہو تم نے میرے سر سے بہت سا بوجھ ہٹا دیا ہے - ورنہ کل رات سے میں بہت زیادہ پریشان تھی " بیگم صاحبه سکوں کا سانس لیتی ہوئی بولیں " آپ بے فکر رہیں بس یہی سمجھیں میں کچھ نہیں جانتی " میں بولی " مجھے تم پر اعتبار ہے مگر فکر مند تو ہوں . شیرو کے لئے یقین مانو اس نے آج تک مجھ سے بے وفائی نہیں کی مگر تمہارے بارے اس کی نیت مجھے اچھی نہیں لگ رہی اس لئے میں فکر مند ہوں . وہ دل کا بہت اچھا ہے مگر ضدی بھی بہت ہے . مجھے بیٹی تم سے یہ کہتے ہوے بہت سُبکی محسوس ہو رہی ہے مگر عورت ہوتے هوئے مجھے جسم کے تقاضوں کا اچھی طرح سے اندازہ ہے . مرد سے دوری ناقابل برداشت ہوتی ہے پھر جوانی میں تو یہ ایک ظلم ہی ہے . بیٹی ارمان تم سے دور ہے اور کب آ پاۓ گا کچھ نہیں کہ سکتے میں تو یہی کہونگی جب بھی بدن کے ارمان جاگیں اور تم ان کے اگے ہارنے لگو تو شیرو کو ارمان کا نعم البدل سمجھنا میری طرف سے تم کو اجازت ہے . گر تم اس کے ساتھ بنا کر نہ رکھنا چاہو اور پسند نہ کرو تو یقین جانو میں ہر حالت میں تمہارا ساتھ دونگی اور میری انتہائی کوشش ہو گی شیرو تمھارے نزدیک نہ پھٹک سکے . میری ساس ایک نآئیکہ کی مانند شیرو کے لئے ورغلا رہی تھی - میں خود بھی شیرو سے چدوانا چاہتی تھی اس کو بیگم صاحبہ کو چودتے ہوئے میں دیکھ چکی تھی - ابھی تک اسکا اکڑا ہوا لن میری نظروں کے سامنے تنا کھڑا تھا اس کے دھیکے جھٹکے مارنا اس کے چودنے کا انداز سب کچھ ہی تو مثالی تھا . میں تو شیرو کو اپنی ٹانگوں میں جکڑنے کے لئے پچھلی رات ہی سے تیار تھی . اب بھی اس سے چدوانے کے تصور سے ہی میری چوت پھدکنے لگی ہے . مگر اس طرح سے نہیں کہ میری ساس مجھے اتنی آسانی سے لے . " کیسی بات کر رہی ہیں آپ بیگم صاحبہ . ایسا سوچیں بھی نہیں میں ارمان کی امانت ہوں جب تک وہ و اپس آ کے اپنی چراگاہ میں نہ چر لے . اس کی حفاظت اپنی جان دے کر بھی کرونگی - مگر اگر شیرو مجھ پر حاوی ہو گیا تو پھر الگ بات ہو گی . بہر حال اپ اسکو تلقین کر دیں اس کی بہتری اسی میں ہے کہ وہ میرا خیال دل سے نکال دے . " میں نے وارننگ دیتے ہوے کہا "میں اسے ضرور سمجھاونگی بیٹی مجھے امید ہے وہ سمجھ جایئگا " بیگم صاحبہ کے لہجے میں بے یقینی عیاں تھی . " بیگم صاحبہ مجھے تو شیرو کوئی اچھا آدمی نظر نہیں آتا آپ اس کے چنگل میں کیسے پھنس گئیں . " میں نے ان سے اپنائیت سے پوچھا یہ ایک لمبی داستان ہے مگر اب وقت نہیں مجھے اب باہر اک میٹنگ میں جانا ہے مگر آج رات کو میں خود یہاں آؤنگی اور اس داستان کا ایک ایک ورق پڑھ کر سناونگی . میں خود کب سے کسی سے سب کچھ بتا دینے کو بے چین ہوں . بیگم صاحبہ نے اٹھتے ہوے کہا . میں نے بیگم صاحبہ کو سی آف کیا بیگم صاحبہ میری پیشانی چومتے ہوئے مجھے اپنا خیال رکھنے کا کہہ کر کمرے سے نکل گئیں - میں اپنے آپ کو کچھ ہلکا پھلکا سا محسوس کرنے لگی . یوں ہی بیڈ پر لیٹی تو آنکھ لگ گئی , پھر دروازے پر ناک ہوئی تو آنکھ کھل گئی ؛ " اندر آ جاؤ دروازہ کھلا ہے " میں نے اونچی آواز میں کہا , سوچا زلیخا ہوگی مگر دروازہ سے اندر آنے والا کوئی اور نہیں شیرو تھا . میں چارپائی پر لیٹی ہوئی تھی . اسے اپنے کمرے میں دیکھ کر میں حواس باختہ سی ہو گئی اور اٹھ کر چارپائی پر بیٹھ گئی . "سلام نوشی جان " ؛ کہتے ہوے شیرو کرسی پر بیٹھ گیا اس کی بیباکی نے متاثر کیا ؛ مگر میں نے سنجیدہ ہوتے ہوئے اس سے کہا " کہئے کیسے آنا ہوا شیر خان " وہ پہلی بار میرے کمرے میں آیا تھا " بس یونہی یہاں سے گزرا تو سوچا آپ کو دیکھتا جاؤں " وہ بولا تھنکس لیکن میں بیمار تو نہیں کہ آپ دیکھنے آئے . ارے بیمار ہوں آپ کے دشمن گر خُداناخواستہ آپ بیمار ہوتیں تو میں پھول بھجوا دیتا خود نہ آتا " شیرو نے عجیب سی بات کی "تیمار داری تو کار ثواب ہے اور آپ تیمار داری سے پرہیز کرتے ہیں " میں نے ذرا طنزا کہا . تو شیرو نے کہا . " ایسی بات نہیں مجھے ہشاش بشاش چہرے اچھے لگتے ہیں جن کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاۓ . جیسے کہ آپ ہیں ترو تازہ . معذرت چاہتا ہوں گر معلوم ہوتا اپ آرام فرما رہی ہیں تو کبھی مخل نہ ہوتا " یہ کہتے ہوے شیرو اٹھ کر کھڑا ہو گیا " ارے کیا اپ بلا وجہ آۓ تھے کوئی کام نہیں تھا ." میں نے حیرانگی سے پوچھا " محترمہ میں نے عرض کی نا آپکو دیکھنے کے لئے دل چاہا تو چلا آیا " شیرو نے بیباکی سے کہا . او کے ؛ " شیر خان" میں نے اسے رخصت کرنے کے انداز میں کہا " نوشی جان مجھے سب شیرو کہتے ہیں آپ بھی شیرو کہا کریں " شیرو بولا ٹھیک ہے شیرو میں اپنے نام سے بلایا جانا پسند کرتی ہوں اور میرا نام نوشین ہے کہتے هوئے میں دروازے کی طرف بڑھی ؛ میں چونکہ نیند سے اٹھی تھی تو میرے بال بکھرے ہوئے تھے شیرو میرے پیچھے تھا ڈھیلے سا پاجامہ اور کھلی شرٹ کے علاوہ میں نے کچھ نہ اوڑھ رکھا تھا . دروازے سے نکل کے ہم برآمدے میں آ گئے تو میں رک گئی تاکہ وہ نکل جاۓ شیرو کہنے لگا . " ارمان کتنا خوش نصیب ہے جس کی آپ شریک حیات ہیں . " " اچھا جی " میں نے یوں ہی اپنی دلچسپی چھپاتے هوئے کہا جی وہ کیا کہتے ہیں " نیند اُس کی ہے، دماغ اُس کا ہے ، راتیں اُس کی تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں

Share this post


Link to post

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×
×
  • Create New...