Jump to content
URDU FUN CLUB
Shazia Ali

Dr. Huma ڈاکٹر ہما

Recommended Posts

مصنّف
pinkbaby



ڈاکٹر ہما اٹھائیس سال کی ایک بہت ہی خوبصورت اور جوان لڑکی تھی۔ بے حد گوری رنگت، چکنا جسم، چھوؤ تو ہاتھ پھسلتا ہی جائے جسم پر سے، ایسا لگتا تھا کہ جیسے دودھ اور مکھن سے تراشا ہوا جسم ہو اسکا۔مناسب قد ، لمبے سیاہ بال، ہلکی سی نیلی آنکھیں، بےحد خوش مزاج اور ہنس مکھ لڑکی۔ ویسا ہی شوہر اسے ملا تھا ۔انور بھی اپنے حسن اور وجاہت میں اپنی مثال آپ تھا۔ مناسب قد، گورا رنگ، مضبوط جسم اور پیار کرنے والا۔ دونوں کی جوڑی خوب جچتی تھی۔ جو بھی دیکھتا تو دیکھتا ہی رہ جاتا اور انکی جوڑی کی تعریف کیئے بنا نہ رہ سکتا تھا۔ اگرچہ ڈاکٹری کی ت***م مکمل کر چکی تھی اورشادی کو بھی ڈیڑھ سال ہو چکا تھا مگر دیکھنے میں ابھی بھی ایک کمسن معصوم سی لڑکی ہی لگتی تھی ۔ دل کی بہت اچھی تھی ۔ غرور اور بدمزاجی تو اسکے مزاج میں دور دور تک نہیں تھی ۔ کسی کو تکلیف دینے کاتووہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔ دوسروں پر بہت جلدی اعتبار کر لینے اور انکی باتوں میں آجانے والی نیچر تھی ہما کی۔ تعلق اسکا ایک متوسط گھرانے سے تھا جو کہ انتہائی شریف لوگ تھے۔ والد اسکے ایک سرکاری ملازم تھے۔ اپنی زندگی میں پیسہ سے زیادہ انہوں نے عزت ہی بنا ئی تھی۔ ت***م مکمل ہونے کے بعد جب ہما کی شادی کی بات چلی تو انکے ایک بہت جگری دوست نے اپنے بیٹے کا رشتہ پیش کیا جسے ہما کے والد نے بخوشی قبول کر لیا۔ اپنے والد کے فیصلے کو مانتے ہوئے اس نے ڈاکٹری کی ت***م مکمل کرنے کے بعد اپنے ابو کے دوست کے بیٹے سے شادی کو ہاں کر دی تھی ۔ اسکے ابو کے دوست کا بیٹا انور ایک فرم میں انجینئر تھا۔ اچھی جاب تھی۔ انور کے والد گاؤں میں ہی رہتے تھے اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کے لیے اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ۔ کبھی دل کرتا تو شہر میں آجاتے کچھ دن انور کے پاس رہنے کے لیےاور پھر واپس چلے جاتے۔ ساٹھ پینسٹھ سال کی عمر میں بھی چوہدری کرامت مکمل فٹ آدمی تھے۔ بڑا بیٹا عابد بھی پڑھا لکھا تھا مگر اب اپنے باپ کے ساتھ گاؤں میں ہی رہ گیا ہوا تھا اور اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ ہما بھی اس خاندان میں آکر بہت ہی خوش تھی۔ ساس اسکی تھی نہیں جس سے کسی بات پر اونچ نیچ ہوتی اور سسر تو تھے ہی بہت اچھے انسان ۔
ہما اپنے شوہر انور کے ساتھ بہت خوش تھی۔ وہ اسکا بہت خیال رکھتا تھا۔دونوں شہر میں ایک بلڈنگ کی چوتھی منزل کے فلیٹ میں رہتے تھے۔ اس سے اوپر کی منزل ابھی زیر تعمیر تھی جس میں بلڈنگ کے سیکورٹی گارڈ رہتے تھے۔ ہما شادی کے ایک سال بعد تک ہما گھر پہ ہی رہی مگر شوہر کے ڈیوٹی پر چلے جانے کے بعد اسکا دل نہیں لگتا تھا۔ آخر اس نے جاب کرنے کا فیصلہ کیا۔ انور نے بھی خوشدلی سے اسے اجازت دے دی۔ کیونکہ وہ بھی اپنی خوبصورت بیوی کی خوشی میں ہی خوش تھا۔
اپنی سہولت اور وقت کو دیکھتے ہوے ہما نے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں کام کرنے کا ارادہ کیا۔ اسے شہر کے ایک اچھے پرائیویٹ ہسپتال میں نوکری مل گئی۔ مناسب تنخواہ تھی جس کی دونوں کو ہی کوئی خاص فکر نہیں تھی کیونکہ وہ تو صرف اپنا ٹائم ہی پاس کرنا چاہتے تھے۔ ہسپتال میں ظاہر ہے کہ تینوں شفٹوں میں کام ہوتا ہے تو اسکی ڈیوٹی بھی تبدیل ہونے لگی۔ سوٹ تو انکو صبح کی ڈیوٹی ہی کرتی تھی اور رات کے لیے بھی دونوں نے فیصلہ کیا کے کام چلایا جا سکتا ہے۔ مگر شام کی ڈیوٹی سے ہما نے باہم مشورہ سے انکار کر دیا۔ ہسپتال کی انتظامیہ نے بھی زیادہ زور نہیں دیا اور جیسے وہ ڈیوٹی کرنا چاہتی تھی اسے کرنے کی اجازت دے دی۔ آخر ہسپتا ل بھی ہما جیسی ایک خوبصورت لیڈی ڈاکٹر کو کیسے جاب سے فارغ کر سکتے تھے۔ بس اب اسی طرح کام چلنے لگا کہ ہما ہسپتا ل میں صرف مارننگ اور نائیٹ ڈیوٹی کرتی۔ رات کو انور خود آکر اسے چھوڑ جاتا اور صبح کو آکر واپس لے جاتا۔
ہما کوڈیوٹی کرتے ہوے تین ماہ ہوے تو ایک لیڈی ڈاکٹر جاب چھوڑ گئی اور اسکی جگہ ایک نوجوان ڈاکٹر نے جوائن کیا۔ ڈاکٹر زمان ایک خوبصورت اور بہت متاثر کن شخصیت کا مالک تھا۔ امیر گھرانے کا تھا اور صرف شوق سے اس ہسپتال میں پرائیویٹ ڈیوٹی کرنے لگا تھا۔ ڈاکٹر ہما سے وہ عمر میں چھوٹا تھا اور ویسے بھی دو سال جونیئر ہی تھا۔ مگر دونوں میں اچھی بننے لگی۔
ڈاکٹر زمان کو پہلے دن ہی ہما بہت اچھی لگی اور اسکے دل کو بھا گئی۔ جب اسکو پتہ چلا کہ وہ شادی شدہ ہے تو بھی اسکو کوئی مایوسی یا پریشانی نہیں ہوئی۔ کیونکہ درحقیقت زمان ایک کھلاڑی نوجوان تھا جسکا مشغلہ ہی نوجوان اور خوبصورت لڑکیوں کو اپنے چنگل میں پھنسا کر اپنی ہوس پوری کرنا تھا۔ اور ہما اپنی خوبصورتی اور معصومیت کی وجہ سے ہر طرح سے اسکے میعار پہ پوری اترتی تھی بلکہ اسکی زندگی میں آنے والی تما م لڑکیوں سے بڑھ کر تھی۔ پہلے دن ہما کو دیکھتے ہی زمان نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ ہما کے خوبصورت جسم کا مزہ لے کر رہے گا۔ جیسے بھی ہو وہ اس حسین بدن کو حاصل کرے گا۔
اپنے اس مقصد پر اس نے پہلے دن سے ہی عمل کرنا شروع کر دیا۔ دھیرے دھیرے ہما کے ساتھی دوستی کرنے لگا۔ دونوں ڈکٹرز میں بات چیت یا ہنسی مزاق ہونا کوئی بڑی بات نہیں تھی کیونکہ ایک شفٹ میں وہ دو ہی ڈاکٹرز ہوتے تھے اور باقی کا عملہ الگ ہوتا تھا۔ دونوں کے آفس اگرچہ الگ الگ تھے مگر دونوں اکٹھے بھی بیٹھ سکتے تھےاس پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ ]جب ہما کی نائیٹ ڈیوٹی ہوتی تو وہ بھی اپنی نائیٹ ڈیوٹی ہی لگواتا۔ بس ایک طرح سے ہسپتال میں دو دو ڈاکٹرز کے تین گروپ بنے ہوئے تھے جو کہ ایک ساتھ ہی ڈیوٹی کرتے تھے۔ اسی وجہ سے زمان نے اپنا ساتھی ہما کو بنا لیا تھا۔
پرائیویٹ ہسپتال میں رات کو کام تو اتنا زیادہ نہیں ہوتا تھا بس جیسے ہی وہ اپنے اپنے کام سے یعنی مریض دیکھنے سے فارغ ہوتے اور کسی ایک کے آفس میں بیٹھ کر گپ شپ کرنے لگتے۔ آخر دونوں نے اور کرنا ہی کیا تھا۔ کبھی زمان چائے منگواتا تو کبھی ہما اور کبھی کچھ کھانے پینے کا پروگرام بھی بن جاتا تو وہ بھی چلتا رہتا اور بس ایسے ہی ہنسی کھیل میں ہما کی ڈیوٹی گزرنے لگی۔ وہ اب اپنے فارغ پن سے بھی نجات پا چکی تھی اور زمان کی شکل میں اسے ایک اچھا دوست بھی مل گیا تھا۔
ہما ایک لڑکی تھی تو زمان کی اسکے اندر دلچسپی کو وہ کیسے محسوس نہ کر پاتی۔ اسے بھی احساس ہونے لگا کہ زمان اسکو پسند کرتا ہے اور اسی لیے وہ اسکے اردگرد ہی منڈلاتا رہتا ہے۔ ویسے بھی عورت بھی تو آخر انسان ہی ہوتی ہے نا تو جیسے مرد کا دل باہر نظر آنے والی کسی بھی خوبصورت لڑکی کو دیکھ کر مچل جاتا ہے تو ایسے ہی عورت کا بھی کسی پرائے مرد کو دیکھ کر اس میں دلچسپی لینا بھی کوئی بڑی یا بری بات تو نہیں نا۔ اور یہ اکثر ایسا ہوتا ہے۔ مگر مردوں کے برعکس عورتیں اپنی اس قسم کی پسند کو بڑے سلیقے سے اپنے دل میں ہی چھپا جاتی ہیں۔ کچھ ایسا ہی حال ہما کی بھی تھا۔ اسے بھی زمان اچھا تو لگتا تھا مگر وہ کوئی بھی قدم آگے بڑھانے سے ڈرتی یا جھجکتی تھی۔
ہما لباس کے معاملے میں فیشن کا کافی خیال رکھتی تھی اور جب سے جاب پر آنے لگی تھی زمان کے ساتھ تو اور بھی اپنے پہناوے کا خیال رکھتی تھی۔۔ فیشن کے مطابق ہی کپڑے پہننے کا شوق تھا اسکو۔۔ ہر طرح کے کپڑے پہننے کی اجازت تھی اسکو اپنے شوہر کی طرف سے۔۔ وہ اکثر قمیض، شلوار یا ٹائٹس، لیگی یا جینز پہنتی تھی۔ ہر لباس ہی اسکے کھلتے ہوئے خوبصورت جسم پر جچتا تھا۔۔ جب بھی ٹائٹس پہنتی تو اسکے جسم کے نشیب و فراز دلوں پر بجلیاں ہی گراتے تھے۔ اور ایسی ہی بجلیاں ڈاکٹر زمان کہ گھائل کر چکی ہوئی تھیں۔
ڈیوٹی پر موجود ایک نرس زیب سے ہما کی اچھی دوستی تھی وہ بھی ہما کو چھیڑتی کہ زمان اسکو پسند کرنے لگا ہے ۔
زیب نے اُس وقت یہ بات کی جب زمان ایک مریض کو دیکھنے گیا ہوا تھا۔ اسکی بات سن کر ہما کے گورے گورے چہرے پہ ایک ہلکا سا سرخ رنگ لہرا کر گزر گیا اور وہ دھیرے سے مسکرا کر بولی۔[
تو میں کیا کروں۔
زیب: ڈاکٹر صاحبہ کرنا تو آپکو وہی پڑے گا جو ڈاکٹر زمان چاہیں گے۔
ہما ہنس پڑی اور زیب کی طرف مصنوعی غصے سے دیکھتی ہوئی بولی۔۔ کیا مطلب ہے تمھارا۔۔۔ تم خود کرلو جو کرنا ہے اسکے ساتھ ۔۔ یا جو وہ کہتا ہے۔ ۔زیب مسکرائی۔۔ ہائےےےےے۔۔۔ میں تو فوراََ تیار ہوجاؤں اگر زمان صاحب مجھے ایک بار بھی اشارہ کر دیں۔ ۔
ہما بھی اسکی بات پر ہنسنے لگی ۔۔۔ اور تھوڑی شرماتی ہوئی بولی ۔۔۔ تم تو ایسے کر رہی جیسے تمھارے اندر کوئی بہت ہی زیادہ آگ لگی ہوئی ہو۔ ۔ لگتا ہے کہ تمھارا دل ڈاکٹر زمان پہ آگیا ہے۔۔
زیب ہنسی۔۔۔ کیا کرؤں ڈاکٹر زمان ہیں ہی اتنے ہینڈسم اور سمارٹ کہ ان پہ دل آجانا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔۔۔
ہما۔۔۔ پھر تمھارے اس عاشق کا کیا جو اکثر تمکو ملنے آتا ہے ۔۔۔۔۔ راشد۔۔
زیب۔۔ ہو تو ہے ہی ۔۔۔۔۔۔ پر اس دل کا کیا کرؤں ۔۔۔ زیب اپنے بائیں ممے پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی ۔۔
ہما بھی اس سب بات چیت کو حسبِ معمول انجوائے کر رہی تھی۔۔ تو پھر کہہ کیوں نہیں دیتی ان سے اپنا حالِ دل۔۔
زیب۔۔ کیا فائدہ کہنے کا ڈاکٹر ہما۔۔ زیب اپنے چہرے پر تھوڑی شرارت اور تھوڑی مایوسی لاتی ہوئی بولی۔
ہما ۔۔ کیوں ۔۔ فائدہ کیوں نہیں۔۔
زیب ہما کو آنکھ مارتی ہوئی بولی۔۔۔ کیونکہ ڈاکٹر زمان کا دل تو آپ پر آیا ہواہے۔۔
ہما بھی شرما کر ہنسنے لگی۔۔ اور بولی۔۔ جی نہیں میں ایک شادی شدہ لڑکی ہوں۔۔ مجھ سے کیا مطلب اسکو۔[
زیب۔۔ ارے ہما جی۔۔۔ زمان صاحب کو جو مطلب ہے وہ تو ایک شادی شدہ لڑکی بھی پورا کر سکتی ہے۔۔
ہما شرماتی ہوئی۔۔ جی نہیں مجھے کسی کا کوئی مطلب پورا نہیں کرنا۔۔ میں اپنے میاں جی کے ساتھی ہی خوش ہوں
زیب ہنسی۔۔ ڈاکٹر ہما آپکی شرماہٹ بتا رہی ہے کہ آپکے دل میں بھی کچھ کچھ ہوتا ضرور ہے زمان صاحب کو لے کر۔۔ اور ہوتا بھی ہے تو کیا ہوا۔۔ ان شادی شدہ مردوں کی طرح ایک شادی شدہ لڑکی کو بھی پوری اجازت ہے اور حق ہے کہ وہ بھی اپنے من پسند مرد سے انجوائے کر سکے ۔۔
ہما ہنسنے لگی ۔۔۔ تو مجھے گھر سے نکلوائے گی زیب ۔۔ زیب بھی اس بات پر ہنسنے لگی ۔
زیب۔۔ ڈاکٹر ہما ۔۔ ایک بات کہوں ۔۔ ویسے آپ ہو بہت لکی۔
ہما مسکرائی۔۔ وہ کیسے۔
زیب۔۔ وہ ایسے کہ آپکو شوہر ملا تو بہت خوبصورت اور اسکے بعد عاشق ملا تو وہ شوہر سے بھی بڑھ کر۔۔
ہما اسکی بات پر شرما گئی اور ہنسنے لگی۔۔۔ دونوں ہنس رہی تھیں کہ زمان آفس میں داخل ہوا اور دونوں کو ہنستے ہوئے دیکھ کر بولا ۔۔ کیا بات ہے ۔۔ آپ لوگ کس بات پر ہنس رہے ہو جی۔۔ما اور زیب دونوں ایکدوسری کو دیکھ کر مسکرانے لگیں۔۔
ہما۔۔ نہیں کوئی خاص بات نہیں تھی ڈاکٹر زمان آپ آئیں بیٹھیں۔۔
زمان ایک صوفے پر بیٹھ گیا تو زیب اپنی جگہ سے اُٹھی اور آفس سے باہر جاتی ہوئی بولی ۔۔ آپ لوگ گپ شپ کرئیں میں روم 7 کے مریض کو دیکھ کر آتی ہوں۔
باہر کو جاتے ہوئے زیب نے ہما کو دیکھ کر آنکھ ماری شرارت سے مسکرائی اور آفس سے باہر نکل کر دروازہ بھی بند کر گئی۔۔[
ہما فوراََ بولی۔۔ ارے زیب دروازہ تو کھلا رہنے دہ۔ مگر زیب دروازہ بند کر کے جاچکی تھی۔۔
زمان مسکرایا ۔۔ ارے ڈاکٹر ہما ۔۔ کیوں گھبرا رہی ہیں دروازہ صرف بند ہوا ہے لاک تو نہیں ہوا نہ۔۔ ویسے بھی آپکو میرے سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔میں آپکو کاٹنے تو نہیں لگا نا۔۔
ہما اسکی بات پہ مسکرا دی اور تھوڑا شرما بھی گئی۔۔ لیکن ایسے اچھا تو نہیں لگتا نا کہ ہم آفس بند کر کے بیٹھے ہوں کوئی دیکھے تو کیا سوچے گا نا۔۔
زمان۔۔ ارے ڈاکٹر ہما رات کے ساڑھے بارہ بج رہے ہیں اس وقت سارے مریض سو چکے ہوئے ہیں آپ انکی فکر نہیں کریں۔۔ کوئی ہمیں یہاں نہیں دیکھے گا ایک ساتھ بیٹھے ہوئے۔
ہما مسکرائی ۔۔ ڈاکٹر زمان آپ دن بہ دن ناٹی نہیں ہوتےجا رہے؟
زمان ۔۔ اور آپ بھی تو دن بہ دن خوبصورت ہوتی جارہی ہیں۔۔
ہما۔۔ زمان میں ماروں گی آپکو۔۔
زمان۔۔ مار لیں آپ پھر اسکے بعد میں بھی ماروں گا ۔۔ زمان نے ہما کو آنکھ ماری۔۔
ہما شرمائی۔۔ بہت بدتمیز ہو تم نا۔۔
زمان ایک لمبی آہ بھرتے ہوئے بولا ۔۔ بس آپ کے حسن اور بے نیازی نے بدتمیز بننے پر مجبور کر دیاہے۔
ہما ہنسی ۔۔۔ زمان یار کیا تم کسی تھرڈ کلاس عاشق کی طرح بی ہیو کر رہے ہو۔۔
زمان مسکرا کہ اپنی جگہ سے اُٹھا اور ہما کے قریب ہی صوفے پر آتا ہوا بولا۔۔ چلو آج آپ نے ہمیں اپنا عاشق تو تسلیم کیا نا۔۔
ہما تھوڑا گھبرائی، تھوڑا شرمائی اور تھوڑا اپنی جگہ پہ سمٹی۔۔ زمان۔۔ تم سمجھتے کیوں نہیں ہو یار۔۔ میں ایک شادی شدہ لڑکی ہوں ہمارے درمیاں یہ دوستی والا سلسلہ نہیں چل سکتا نا۔۔
زمان ہما کے تھوڑا اور قریب سرکا ۔۔ دھیرے سے ہما کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور بولا ۔۔ مجھے بھی پتہ ہے کہ آپ شادی شدہ ہیں ۔۔ مگر ہم دوستی تو کر سکتے ہیں نا ۔۔ اور اس میں کوئی بھی حرج نہیں ہے ۔۔ میں بھی بس آپ سے دوستی ہی چاہتا ہوں نا کوئی آپکو اپنے شوہر سے الگ ہونے کو تو نہیں کہہ رہا نا۔۔
ہما دھیرے سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرتی ہوئی بولی ۔۔ لیکن یہ سب ٹھیک نہیں ہے نا۔۔ اگر میرے شوہر کو پتہ چل گیا تو۔۔
زمان نے ہما کا ہاتھ اوپر اٹھایا ۔۔ اور اسکے گورے گورے ہاتھ کو چوم لیا۔ ہما نے فوراََ اپنا ہاتھ پیچھے کرنا چاہا مگر زمان نے اسکا ہاتھ نہیں چھوڑا بلکہ اسکے ہاتھ کو آہستہ سے جھٹکا دے کر اپنی طرف کھینچا ۔۔ تو ہما زمان کے اور قریب آگئی۔۔ دونوں کے چہرے ایکدوسرے کے بلکل قریب آگئے۔ دونوں کی نظریں ملی ہوئی تھیں ۔۔ ہما کی سانسیں تیز ہونے لگیں۔۔ اسکے ہونٹ پھڑپھڑانے لگے۔۔ دھیرے دھیرے ہونٹ کھلنے لگے۔۔ زمان جیسے خوبصورت اور ہینڈسم مرد کو اپنے اتنے قریب پا کر اسکی اپنی حالت بھی بے قابو ہونے لگی تھی۔۔ آنکھوں میں عجیب سا نشہ سا اترنے لگا تھا۔۔ ۔ زمان کی گرم گرم سانسیں اسے اپنے چہرے پر محسوس ہورہی تھیں۔۔۔
آخر زمان نے درمیانی فاصلہ طے کرتے ہوئے اپنے ہونٹ بہت ہی آہستگی کے ساتھ ہما کے ہونٹوں پر رکھ دیئے اور اسکے گلاب کی پنکھڑیوں جیسے ہونٹوں کو چوم لیا۔۔۔ ہما کا تو پورا جسم ہی تھرا اٹھا۔۔۔ کانپ کر رہ گئی۔۔ مگر اپنے ہونٹوں کو زمان کے ہونٹوں سے جدا کرنے کا خیال اسکے دل میں آیا اور نہ ہی ہو پیچھے ہٹ سکی۔۔ زمان نے بھی اب آہستہ آہستہ ہما کے ہونٹوں کو بار بار چومنا شروع کر دیا ۔۔ پھر اسکے نچلے ہونٹ کو اپنے ہونٹوں میں لیا اور اسے چوسنے لگا ۔۔۔ اسکے دونوں ہاتھ اب ہما کے دونوں بازؤں پر تھے۔۔ جو کے اسکی ہاف سلیو شرٹ میں سے باہر تھے۔ ۔ وہ آہستہ آہستہ ہما کے گورے گورے ننگے بازؤں کو سہلانے لگا۔ ہما کے ملائم چکنے جسم پر اسکے ہاتھ پھسل رہے تھے اور اوپر سے اسکے ہونٹ ہما کے ہونٹوں کا رس پی رہے تھے۔۔ آج اسکی بہت دنوں کی خواہش پوری ہو رہی تھی اور اسے ہما کے اتنے قریب آنے ، اسکے جسم کو چھونے اور اسکو کس کرنے کا موقع مل گیا تھا۔۔۔ وہ تو خود کہ ہواؤں میں اڑتا ہوا محسوس کر رہا تھا ۔۔۔ ہواؤں میں اڑتا ہوا تو ہما بھی محسوس کر رہی تھی۔۔۔ اور اب بنا کسی مزاحمت اور روک ٹوک کے زمان کو اپنے ہونٹ چومنے اور چوسنے دے رہی تھی۔۔۔۔
کچھ دیر تک ایسے ہی ایک دوسرے کو چومنے کے بعد ہما کو تھوڑا ہوش آیا تو اس نے جلدی سے خود کو زمان سے الگ کیا ۔۔۔ زمان پلیز ۔۔ ایسا نہیں کرو۔۔ یہ سب ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔ اگر کوئی اندر آگیا نا تو بہت برا ہو گا۔۔۔
زمان ۔۔ ارے ہما کیوں ڈرتی ہو ۔۔ کوئی بھی اندر نہیں آئے گا ۔۔ صرف سٹاف زیب ہی تو جاگ رہی ہے ۔۔ اور وہ بھی اپنے عاشق کے ساتھ فون پر لگی ہو گی ۔۔ تم کوئی فکر نہیں کرو کسی کی ۔۔ بس انجوائے کرو آج کا دن۔ ۔ اپنی بات پوری کرتے ہی زمان نے اس بار ہما کو اپنی طرف کھینچ کر اپنی باہوں میں بھر لیا۔۔ اور اپنے سینے سے بھینچ لیا۔۔ ہما اسکے سینے کے ساتھ لگ کر مست سی ہونے لگی۔۔ عجیب سی کیفیت ہونے لگی۔۔ عجیب سا مزہ آنے لگا۔۔
زمان کے ہاتھ ہما کی کمر پر تھے۔۔ اوپر نیچے کو پھسل رہے تھے۔۔ اسکی کمر کو سہلا رہا تھا۔۔ ہما کی بریزیر کے سٹریپس اور ہک اپنے ہاتھوں سے محسوس کر رہا تھا ۔۔۔ اور ایسے ہی دوبارہ سے اسکے ہونٹوں کو چومنے لگا۔۔۔ ہما کے سڈول اور سالڈ ممے زمان کے سینے سے لگے ہوئے تھے۔۔ اور وہ انکی سختی کو آسانی سے محسوس کر پا رہا تھا۔۔ ہما کے ہونٹوں کہ چومتے ہوئے۔۔ چوستے ہوئے۔۔ اسکے ہونٹوں کی لپ اسٹک چراتا جا رہا تھا۔۔
دونوں نئے نئے لوورز ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے تھے کہ اچانک دروازہ کھلا اور سٹاف زیب اندر داخل ہوئی ۔۔ مگر اندر کا منظر دیکھ کرفوراََ ہی رک گئی ۔۔ اسے دیکھتے ہی دونوں جلدی سے ایکدوسرے سے الگ ہوگئے۔۔
زیب۔۔ اوہ۔۔ سوری۔۔ سوری۔۔ مجھے ناک کرکے آنا چاہیے تھا ۔۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ آپ لوگ۔۔ آئی ایم سوری ۔۔۔ وہ دراصل۔ روم 4 والی مریضہ بلوا رہی تھی ڈاکٹر ہما کو۔۔ یہ کہہ کر زیب کمرے سے باہر نکل گئی۔۔
ہما غصے سے زمان کو دیکھنے لگی۔۔ بس ہو گیا نا سب کچھ غلط۔۔ میں نے کہا بھی تھا کہ یہ سب نہیں کرو۔۔ اب پتہ نہیں زیب کیا کیا باتیں بنائے گی۔۔
زمان۔۔ آئی ایم سوری ڈاکٹر ہما ۔۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ وہ ایسے ہی منہ اٹھا کر اندر آجائے گی۔۔
ہما اپنی جگہ سے اٹھی ۔۔ اس وقت میں روک تو رہی تھی تم کو مگر تم کسی کی سنتے بھی ہو۔۔
زمان بھی اٹھا اور دوبارہ ہما کو پکڑتے ہوئے بولا۔۔ بس کیا کروں تم کو اپنی باہوں میں پا کر ہوش ہی نہیں رہا
ہما۔۔ چھوڑو مجھے اب ۔۔ جانے دو اسے دیکھنے کے لئے۔
زمان۔۔ پہلے وعدہ کرو کہ واپس آؤ گی۔۔
ہما ہنسی۔۔ واپس ہی آنا ہے نا میں نے کونسا اس مریض کے پاس ہی بیٹھے رہنا ہے۔۔ یا پھر گھر بھاگ جانا ہے
آدھی رات کو۔
زمان نے ہما کو ایک بار پھر سے بھینچا اور اسکے گال کو چوم کر چھوڑ دیا۔ ہما نے زمان کے چوڑے سینے پر ایک مکہ مارا اور کمرے سے باہر نکل گئی مسکراتی ہوئی۔
باہر کاؤنٹر پر سٹاف زیب کھڑی تھی جو ہما کو اپنی طرف آتا ہو دیکھ کر مسکرانے لگی اور ہما شرمیلی سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنی نظروں کو جھکا کر کاؤنٹر کے آگے سے گزرنے لگی تو زیب نے آواز دی۔
زیب۔۔ ڈاکٹر صاحبہ۔۔ ذرا رکیئے تو۔۔
ہما رک گئی اور زیب کی طرف دیکھنے لگی۔۔
زیب ۔۔ ڈاکٹر صاحبہ مریض کو دیکھنے جانے سے پہلے تھوڑا اپنا حلیہ درست کر لیں ۔۔ یہ بکھری بکھری زلفیں، یہ گالوں کی لالی اور ہونٹوں پہ پھیلی پھیلی لپ اسٹک صاف صاف بتا رہی ہے کہ آپ کسی کی باہوں میں سے نکل کر آرہی ہیں ۔۔
ہما شرما گئی۔۔ اور کاؤنٹر کے پیچھے دیوار پر لگے ہوئے واش بیسن کے آئینے میں خود کو دیکھنے لگی۔۔ اپنے بال جلدی جلدی ٹھیک کیئے اور پھر اپنے لبوں پر لپ اسٹک کو درست کیا اور زیب پر ایک شرمیلی سی نظر ڈالتی ہوئی مریض کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
ہما مریض کو دیکھ کر واپس آئی تو زیب کے پاس ہی کاؤنٹر پر رک گئی اور کچھ ہدایات دینے لگی۔ اسکی نظر بار بار آفس کے بند دروازے کی طرف جا رہی تھی۔ زیب نے بھی نوٹ کیا تھا مسکرا کر بولی۔ ڈاکٹر ہما اُدھر آفس میں کوئی نہیں ہے۔ ڈاکٹر زمان اوپر سیکنڈ فلور پر آپکا انتظار کررہے ہیں۔
ہما۔۔ سیکنڈ فلور؟؟ لیکن سیکنڈ فلور پر تو کوئی بھی مریض نہیں ہے۔
زیب مسکرائی۔۔ اسی لیے تو اوپر گئے ہیں تاکہ کوئی بھی ڈسٹرب نہ کر سکے ۔ آپ بھی جائیں اوپر میں نیچے کا دھیان رکھوں گئی کوئی پریشان نہیں کرے گا آپکا۔ زیب نے ہما کو آنکھ ماری۔
ہما تھوڑا شرمائی۔۔ نہیں نہیں ۔۔ مجھے نہیں جانا اوپر۔۔ یہ سب ٹھیک نہیں ہے یار
زیب۔۔ ارے کیوں گھبرا رہی ہیں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔۔ آپکی زندگی ہے اسے اچھے سے انجوائے کریں۔۔
ہما۔۔ لیکن یار۔۔ وہ میرے ہسبنڈ۔۔۔
زیب ہما کو لفٹ کی طرف دھکیلتی ہوئی بولی۔۔ کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا۔۔ آپ جاؤ مزے کرو۔۔
زیب نے لفٹ کھولی اور ہما کو اندر دھکیل کر باہر ہی رہی اور سیکنڈ فلور کا بٹن دباتی ہوئی بولی۔۔ جا سمرن ۔۔ جی لے اپنی زندگی۔۔
اسکی اس بات پر ہما ہنسی۔۔ اور دروازہ بند ہوتے بولی۔۔ زیب تم مرواؤ گی مجھ ساتھ ہی لفٹ کا دروازہ بند ہوا اور لفٹ ہما کو لے کر سیکنڈ فلور کی طرف چڑھنے لگی جہاں ڈاکٹر زمان ہما کا انتظار کر رہا تھا۔

ڈاکٹر ہما لفٹ سے باہر نکلی اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ہوئی آفس کی طرف بڑھی۔ پورے فلور پر ہُو کا عالم تھا کیونکہ اوپر کے تمام کمرے خالی تھے کوئی بھی مریض نہیں تھا۔ آفس کا دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی

تھا کہ دروازہ کھل گیا اور زمان سامنے کھڑا تھا۔ ہما کو دیکھ کر خوش ہو گیا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اندر کھینچ لیا اور دروازہ بند کر کے کنڈی لگادی۔


ہما۔۔ زمان یہ کیا کر رہے ہے۔۔ دروازہ بند نہیں کرو۔۔
ہما تھوڑا شرمائی۔۔ نہیں نہیں ۔۔ مجھے نہیں جانا اوپر۔۔ یہ سب ٹھیک نہیں ہے یار
زیب۔۔ ارے کیوں گھبرا رہی ہیں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔۔ آپکی زندگی ہے اسے اچھے سے انجوائے کریں۔۔
ہما۔۔ لیکن یار۔۔ وہ میرے ہسبنڈ۔۔۔
زیب ہما کو لفٹ کی طرف دھکیلتی ہوئی بولی۔۔ کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا۔۔ آپ جاؤ مزے کرو۔۔
زیب نے لفٹ کھولی اور ہما کو اندر دھکیل کر باہر ہی رہی اور سیکنڈ فلور کا بٹن دباتی ہوئی بولی۔۔ جا سمرن ۔۔ جی لے اپنی زندگی۔۔
اسکی اس بات پر ہما ہنسی۔۔ اور دروازہ بند ہوتے بولی۔۔ زیب تم مرواؤ گی مجھ ساتھ ہی لفٹ کا دروازہ بند ہوا اور لفٹ ہما کو لے کر سیکنڈ فلور کی طرف چڑھنے لگی جہاں ڈاکٹر زمان ہما کا انتظار کر رہا تھا۔

ڈاکٹر ہما لفٹ سے باہر نکلی اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ہوئی آفس کی طرف بڑھی۔ پورے فلور پر ہُو کا عالم تھا کیونکہ اوپر کے تمام کمرے خالی تھے کوئی بھی مریض نہیں تھا۔ آفس کا دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی

تھا کہ دروازہ کھل گیا اور زمان سامنے کھڑا تھا۔ ہما کو دیکھ کر خوش ہو گیا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اندر کھینچ لیا اور دروازہ بند کر کے کنڈی لگادی۔


ہما۔۔ زمان یہ کیا کر رہے ہے۔۔ دروازہ بند نہیں کرو۔۔

 

زمان ۔۔ نہیں پھر نہ کہیں وہ نرس اندر آجائے اور ہمیں ایسی ویسی حالت میں دیکھ لے 


ہما مسکرائی۔۔ یاد رکھنا میں کچھ بھی ایسا ویسا کرنے کے لیے نہیں آئی اوپر۔۔ بس گپ شپ کریں گے اور کچھ نہیں ۔۔ آئی سمجھ

زمان مسکرایا اور جھٹکے سے ہما کو اپنے سینے سے لگاتے ہوئے بولا ۔۔ جی میڈم جی سب سمجھ گیا ہوں کہ مجھے کیا کرنے کی اجازت ہے اور کس بات کی نہیں۔

یہ کہتے ہوئے زمان نے ہما کو اپنے سینے کے ساتھ بھینچتے ہوئے اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے اور اسکو چومنے لگا۔ ہما نے ہلکی سی مزاحمت کی مگر دھیرے دھیرے اسکی مزاحمت ختم ہونے لگی اور وہ زمان کا ساتھ دینے لگی۔۔ دھیرے دھیرے اپنے ہاتھ زمان کے بالوں میں ڈالے اور اسکے بالوں کہ سہلانے لگی۔ اور اسکے چہرے کو اپنی طرف کھینچنے لگی۔۔ اسکے ہونٹ بھی زمان کے ہونٹوں کہ چوم رہے تھے اور دوسری طرف زمان کے ہاتھ ہما کی کمر کو سہلانے لگے تھے۔۔

زمان اپنے ہاتھوں کو نیچے لایا اور ہما کی گانڈ کو آہستہ آہستہ سہلانے لگا۔۔ ہما کی خوب اُبھری ہوئی اور سڈول گانڈ زمان کے ہاتھوں میں تھی جسکو وہ بڑے مزے سے دبا رہا تھا ۔۔ لذت میں آکر اس نے ہما کی گانڈ کو زور سے دبا دیا تو ہما درد کے مارے اچھل ہی پڑی۔۔

ہما ۔۔۔ اُوئی ئی ئی۔۔۔۔۔ کیا کرتے ہو ۔۔ دھیرے نہیں کر سکتے کیا ۔۔ میں بھاگی جا رہی ہوں کیا کہیں۔۔

زمان نے مسکراتے ہوئے ایک بار پھر سے ہما کے ہونٹوں کو چوما اور بولا ۔۔ سوری سوری ۔۔ میری جان۔۔ بس برداشت ہی نہیں ہوا یہ مزہ۔۔

ہما مسکرائی۔۔ نہیں برداشت کر سکتے تو ہٹ جاؤ۔۔ کوئی زبردستی تو نہیں ہے نا۔۔
زمان نے ہما کا ہاتھ پکڑا اور اسے ایک سائیڈ پر بچھے ہوئے کاوچ پر لے آیا۔۔ ہما کو اس پر لٹایا اور خود بھی اس پر ایک سائیڈ سے جھک گیا اور اپنا چہرہ اسکے چہرے پر جھکاتے ہوئے اسے چومنے لگا۔۔ اسکا ہاتھ ہما کے ممے پر آگیا ۔۔ جسے اس نے آہستہ آہستہ سہلانا شروع کر دیا ۔۔ اور آہستہ آہستہ دبانے لگا۔۔ انکی گولائیوں کو محسوس کرنے لگا۔۔ نیچے سے پہنا ہوا ہما کا بریزیئر صاف محسوس ہو رہا تھا اسکو۔ اپنے مموں کو سہلائے جانے کی وجہ سے ہما بھی گرم ہونے اور زمان کا ساتھ دینے لگی۔۔ وہ بھی زمان کے ہونٹوں کو چوم رہی تھی۔۔۔ زمان نے اپنی زبان ہما کے منہ کے اندر ڈالی تو ہما نے اسے چوسنا شروع کردیا۔۔ زمان کے ہاتھ نے ہما کے مموں پر سے نیچے کی طرف کا سفر شروع کر دیا۔۔ ہما کے سڈول پیٹ پر سے ہوتا ہوا اسکی چوت کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔

نیچے ہاتھ لے جا کر زمان نے ہما کی شرٹ کو اوپر کی طرف پلٹتے ہوئے اسکی ٹائٹ لیگی میں ایکسپوز ہوتی ہوئی اسکی ٹانگوں اور رانوں کو اپنی نظروں کے سامنے کر لیا۔۔ اپنا ہاتھ ہما کی سڈول ران پر رکھا اور آہستہ آہستہ اسکی رانوں کو سہلانے لگا۔۔۔ اسکا ہاتھ ہما کی چوت کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔ جسکے دونوں لب اسکی ٹائٹ لیگی میں سے صاف صاف نظر آرہے تھے۔۔ جیسے ہی زمان کے ہاتھ نے ہما کی لیگی کے اوپر سے اسکی چوت کو چھوا تو ہما کا جسم تڑپ اٹھا۔۔ اسکے منہ سے ایک سسکاری سی نکل گئی ۔۔۔ اور پورا جسم کانپ کر رہ گیا۔۔ اسکی حالت کو دیکھ کر زمان مسکرایا اور اسکی چوت کے دونوں لبوں کو اپنی انگلیوں کے بیچ میں پکڑلیا۔۔ اور آہستہ آہستہ مسلنے لگا ۔۔۔ ہما کی حالت خراب ہونے لگی ۔۔۔ وہ مچلنے لگی۔۔ زمااااااااااااااااان ن ن ن ن ن نہیں کرو پلیززززززززززز۔۔۔ مگر زمان کہاں سننے والا تھا۔۔ وہ تو بے دردی سے اسکی چوت کے لبوں کو مسل رہا تھا ۔۔۔ اور اسے ہما کی چوت میں سے اسکا چوت کا پانی رِس رِس کر باہر آکر اسکی لیگی کو گیلا کرتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ پھر زمان نے اپنی ایک انگلی ہما کی چوت کے لبوں کے درمیان بن رہی ہوئی لکیر پر پھیرنی شروع کر دی ۔۔۔ اوپر سے نیچے ۔۔ اور نیچے سے اوپر کی طرف۔۔۔ لذت کے مارے ہما کا برا حال ہو رہا تھا۔۔۔

زمان نے ہما کو سیدھا کرکے بیٹھایا اور اسکی شرٹ کو پکڑ کر اوپر کی طرف کھینچنے لگا۔۔ ہما نے ایک بار زمان کی آنکھوں میں دیکھا اور پھر اپنی دونوں بازو اوپر اٹھا دیئے۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے زمان نے اسکی شرٹ اسکے جسم پر اوپر کی طرف سرکنے لگی۔۔ دھیرے دھیرے ہما کا جسم ننگا ہونے لگا۔۔ سب سے پہلے اسکا گورا گورا ۔۔ سپاٹ ۔۔ شفاف پیٹ ننگا ہوا۔۔ اور پھر شرٹ کے اور اوپر کی طرف سرکنے پر ہما کی گوری گوری چھاتیوں پر لپٹی ہوئی۔۔ بلکہ چپکی ہوئی۔۔ گلابی کلر کی برا ننگی ہو گئی۔۔ ہما کی بہکتی ہوئی سانسوں کے ساتھ اسکی چھاتیاں اوپر نیچے ہو رہی تھیں۔۔۔ اب زمان سے بھی اور برداشت نہیں ہو رہا تھا۔۔ اس نے ایک ہی جھٹکے میں ہما کی شرٹ اسکے سر سے باہر نکال کر کاؤچ پر ایک طرف پھینک دی۔۔

زمان آنکھیں کھول کر ہما کے ہوشربا حسن اور حسین جسم کو اپنے سامنے نیم برہنہ حالت میں دیکھتا رہ گیا۔۔ اسکی ہوسناک نظریں اوپر سے نیچے تک ۔۔ ہما کے جسم کا جائزہ لینے لگیں۔۔۔ شرم کے مارے ہما اپنے آپ میں ہی سمٹ گئی۔۔ اپنے بازو اپنے سینے کے ابھاروں پر لپیٹ کر خود کو زمان کی نظروں سے بچانے کی کوشش کرنے لگی۔۔ اسکی برا کے کلر کی طرح اسکے گالوں کا رنگ بھی گلابی ہو رہا تھا۔۔
زمان۔۔ واہ میری جان ۔۔ ہما جان۔۔ کیا غضب کا جسم ہے آپکا جسے آپ آجتک ہم سے چھپاتی رہی ہو۔۔

ہما نے شرما کر اپنا جسم موڑا اور زمان کی طرف اپنی پیٹھ کر دی۔۔۔ اپنی طرف سے تو اس نے خود کو زمان کی نظروں سے بچا لیا تھا۔۔ مگر اب ایک اور ہی ۔۔ الگ ہی نظارہ زمان کا منتظر تھا۔۔۔ ہما کی گوری گوری ۔۔ بے داغ کمر پر اسکی گلابی برا کے سٹریپس اور ہکس۔۔ زمان کی آنکھوں کے سامنے تھے۔۔ اس سے نیچے ہما کی پتلی سی بل کھاتی ہوئی کمر تھی۔۔ جس میں پتلی سی ۔۔ گہری سی ایک لکیر بن رہی تھی جو کہ ایک ندی کا منظر پیش کر رہی تھی۔۔ اس سے نیچے۔۔ ٹائٹس میں پھنسی ہوئی ہما کی ابھری ہوئی ۔۔ سڈول گانڈ کا ابھار۔۔ اُف ف ف ف ف ف۔۔۔ کیا قیامت کا منظر تھا۔۔۔ ہوش اُڑا دینے والا۔۔۔

زمان زیادہ دیر تک خود پر قابو نہیں رکھ سکا ۔۔ اس نے ایک ہی جھٹکے میں اپنی ٹی شرٹ اتار پھینکی۔۔ اور آگے بڑھ کر اپنے بازو اسکی کمر سے آگے کو لے جاتے ہوئے ہما کے پیٹ پر کس دیئے۔۔ ہما کی پوری ننگی کمر زمان کے ننگے سینے سے چپک گئی۔۔

جیسے ہی ہما کا ننگا جسم ۔۔ زندگی میں پہلی بار ۔۔ کسی غیر مرد کے ننگے جسم سے لگا تو اسکا جسم کانپ گیا۔۔ لیکن اسکے ساتھ ہی اسکے پورے جسم میں ایک عجیب سی لہر دوڈ گئی۔۔ لذت سے بھرپور۔۔ جس نے اسکے پورے کے پورے جسم کو گرم کر دیا۔۔ جیسے ہی زمان نے اپنے تپتے ہوئے ہونٹ ہما کے ننگے کاندھے پر رکھے اور اسکو کس کیا تو۔۔ ہما کا جسم زمان کی بانہوں میں کانپنے لگا۔۔ آخر اسکی زندگی کا پہلا موقع تھا کہ وہ کسی غیر مرد کی بانہوں میں تھی ۔۔ اور وہ بھی نیم برہنہ حالت میں۔۔ اسکی آنکھیں بند ہونے لگیں ۔۔ جیسے جیسے زمان اسکے ننگے جسم کو چومے جا رہا تھا ویسے ویسے ہی ہما کی حالت خراب ہوتی جا رہی تھی۔۔

ہما کے پیٹ پر سے اسکے ہاتھ اوپر کو جانے لگے۔۔ اور اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو ہما کی برا کے اوپر سے اسکی چھاتیوں پر رکھ دیا۔۔ اور جیسے ہی انکو آہستہ سے دبایا تو ہما کے منہ سے سسکاری نکل گئی۔۔۔ سی ی ی ی ی ی ۔۔۔۔ ہما کے خوبصورت مموں کو زندگی میں پہلی بار ہاتھوں میں لے کر زمان بھی پاگل ہو رہا تھا۔۔ وہ انکو کبھی زور سے اور کبھی ہولے ہولے دبانے لگا ۔۔ نیچے سے اسکی پینٹ میں اکڑتا ہوا اسکا لوڑا ہما کی گانڈ پر چبھ رہا تھا۔۔ جسے زمان نے خود بھی آہستہ آہستہ ہما کی گانڈ پر رگڑنا شروع کر دیا ۔۔ ہما کو بھی یہ سب محسوس ہورہا تھا۔۔ مگر وہ کچھ بھی نہیں کر پارہی تھی۔۔

زمان کا ایک ہاتھ ہما کی ایک چھاتی پر سے نیچے کی طرف سرکنے لگا۔۔ نیچے اسکی ٹائٹس پر آکر رک گیا۔۔ اور ہما کے پیٹ کو اندر کی طرف دباتے ہوئے زمان نے اپنا ہاتھ ہما کی ٹائٹس کے اندر سرکانا چاہا۔۔ مگر ہما نے فوراََ ہی اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔ مگر زمان نے اپنے دانت ہما کے ننگے کاندھے پر گاڑتے ہوئے اسکو آہستہ سے کاٹا تو ایک سسکاری کے ساتھ ہی ہما نے زمان کا ہاتھ چھوڑ دیا۔۔ اور زمان نے اپنا ہاتھ ہما کی ٹائٹس میں گھسا دیا۔۔ اسکا ہاتھ نیچے کو سرکنے لگا۔۔ ہما کی چوت کی طرف۔۔ ہما کے منہ سے نکلنے والی سسکاریاں تیز ہوتی جا رہی تھیں۔۔

جیسے ہی زمان کی انگلیاں ہما کی ٹائٹس کے اندر پیٹ کے نچلے حصے پر سرکنے لگیں تو اسے احساس ہونے لگا کہ ہما کی چوت پر ایک بھی بال نہیں ہے ۔۔ اور اسکی چوت بلکل ملائم اور چکنی ہے۔۔ زمان نے ایک ہی بار میں ہما کی چوت کو اپنی مٹھی میں بھر لیا۔۔ اور اسے زور سے بھینچ دیا۔۔ تو ہما تڑپ اُٹھی۔۔ سسک اُٹھی۔۔

زمان۔۔ اُف کیا چکنی چوت ہے آپکی ہما جی۔۔۔

ہما اچانک سے زمان کی بانہوں میں گھوم گئی ۔۔ اور اپنی بانہیں زمان کے گلے میں ڈال کر اس سے لپٹ گئی۔۔ اور اسکے ہونٹوں کو چومنے لگی۔۔ اسکو اپنی بانہوں میں بھینچتے ہوئے۔۔ اب ہما پر بھی ہوس سوار ہونے لگی تھی۔۔ ایک جوان غیر جسم کا لمس اسے سب کچھ بھلا رہا تھا۔۔ وہ بھولتی جا رہی تھی کہ وہ شادی شدہ ہے۔۔ وہ بھول رہی تھی کہ اسکا ایک بہت ہی خوبصورت اور بہت پیار کرنے والا شوہر ہے۔۔ وہ بھول رہی تھی کہ وہ اس وقت کہاں ہے ۔۔ وہ بھول رہی تھی کہ وہ جو بھی کر رہی ہے نیچے بیٹھی ہوئی سٹاف نرس کو وہ سب پتہ ہے۔۔ سب بھول رہی تھی۔۔ یاد تھا تو بس اس مرد کا جسم جسکی وہ بانہوں میں تھی ۔۔ جس مرد کا لوڑا اسکی چوت کی کھڑکی پر دستک دے رہا تھا۔۔ اس سے اندر داخلے کیااجازت مانگ رہا تھا۔۔

زمان نے ہما کی کمر کو سہلاتے ہوئے اسکی برا کا ہک کھول دیا۔۔ اور ہما کی ٹائٹ برا اسکے جسم پر جھول گئی۔۔ زمان نے اپنے جسم کو اس سے تھوڑا سا دور کرتے ہوئے اسکی برا کو بھی اسکے جسم پر سے الگ کر دیا ۔۔ اور ہما کی ننگی چھاتیوں کو اپنے سینے سے لگا لیا۔۔ اور اسکے ہونٹوں کو چومنے لگا۔۔ ہما کی تیز سسکاریاں زمان کے ہونٹوں میں دفن ہوتی جا رہی تھیں ۔۔۔۔ ہما کے تنے ہوئے نپل زمان کے سینے میں پیوست ہورہے تھے۔۔

کچھ دیر ایسے ہی کھڑے رہ کر ایک دوسرے کو چومنے کے بعد زمان نے ہما کے نڈھال ہوتے ہوئے جسم کو کاؤچ پر دھکیلا اور خود بھی اس پر جھک کر اسکے ایک نپل کو اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگا۔۔ کبھی اپنے دانتوں سے آہستہ آہستہ کاٹنے لگا۔۔ ہما کا تو اب بے چینی سے برا حال ہو رہا تھا ۔۔۔ اسکی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔۔

آخر زمان نے ہی اسکی مشکل دور کی اور نیچے کہ سرک کر اسکی ٹانگوں کے بیچ میں آگیا۔۔ اس نے ہما کی ٹانگوں کو پورا چوڑا کیا ۔۔ تو ہما کی چوت پر سے اسکی ٹائیٹس کھنچ گئیں۔۔ زمان نیچے جھکا۔۔ اپنے دانتوں کو ہما کی ٹائیٹس کے کپڑے پر رکھا۔۔ اور اس سے پہلے کہ ہما کچھ سمجھ سکتی اس نے اپنے دانتون سے ہما کی ٹائٹس کو اسکی چوت کے اوپر سے پھاڑ لیا۔۔ اور پھر اپنی انگلیا ں اندر ڈال کر اس سوراخ کو کافی بڑا کر دیا۔۔ جس سے ہما کی گوری گوری چکنی چوت زمان کی آنکھوں کے سامنے ننگی ہو گئی۔۔۔

زمان کو ہما کی چوت میں سے پانی رستا ہوا نظر آرہا تھا۔۔ زمان نیچے جھکا اور اپنے ہونٹ ہما کی گرم گرم پانی چھوڑتی ہوئی چوت پر رکھ دیئے۔۔ اور اپنی زبان کو جیسے ہی اسکی چوت پر چلایا تو ہما نے تڑپ کر اپنا ہاتھ اسکے سر پر رکھا اور اسکے سر کو اپنی چوت پر دبا لیا۔۔ زمان اب بنا رکے ۔۔ بنا اپنا منہ اٹھائے۔۔ لپالپ ہما کی چوت کو چاٹ رہا تھا ۔۔ کسی کتے کی طرح ۔۔ اور ہما کی چوت میں سے بہتے ہوئے امرت کو پیتا جا رہا تھا۔۔ ہما اپنی آنکھیں بند کر کے سسک رہی تھی۔۔ اسکے ہاتھوں کے ناخن زمان کے کاندھوں میں پیوست ہو رہے تھے۔۔ مگر زمان کو تو کسی قسم کے درد کا احساس نہیں ہو رہا تھا۔۔۔

زمان نے اسی حالت میں ہی اپنے ہاتھ نیچے لے جاکر اپنی پینٹ کھولی ۔۔ اور اسے انڈرویئر سمیت نیچے سرکا دیا۔۔ اسکا اکڑا ہوا لوڑا آزاد ہو گیا۔۔ کچھ دیر اور ہما کی چوت کو چاٹنے اور اپنے لوڑے کو سہلانے کے بعد زمان اوپر کو سرکنے لگا۔۔ اس نے اوپر آکر اپنے ہونٹ ہما کے ہونٹوں پر رکھے ۔۔ اور نیچے سے اپنا لوڑا ہما کی پھٹی ہوئی ٹائیٹس میں سے گھسا کر ہما کی چوت پر رکھا ۔۔اور اسے آہستہ آہستہ اسکی چوت پر گھسنے لگا ۔۔ اسکا لنڈ ہما کی چوت کے پانی کی وجہ سے پھسلتا جا رہا تھا ۔۔۔ زمان نے اپنا لوڑا ہما کی چوت کے سوراخ پر ٹکایا ۔۔ اور اسے چوت کے اندر دھکیلنے لگا۔۔ بے چین ہما نے بھی اچانک سے اپنی دونوں ٹانگوں کو اُٹھا کر زمان کی کمر کے گرد لپیٹا اور اسے اپنی طرف کھینچا ۔۔۔ زمان کا پورا لوڑا ایک ہی جھٹکے کے ساتھ ہما کی چوت میں اتر گیا۔۔ اور ہما کے منہ سے ایسی سسکاری نکلی ۔۔ جیسے اسے نجانے کتنا سکون مل گیا ہو ۔۔۔

ہما کی کمر کے نیچے ہاتھ ڈال کر زمان آہستہ آہستہ حرکت کرتے ہوئے اپنے لوڑے کو ہما کی چوت کے اندر باہر کرنے لگا ۔۔۔ زمان کا پورا لوڑا ۔۔ ہما کی چوت کی گہرائی تک جاتا ۔۔ اور ہما کا مزے سے برا حال ہو جاتا ۔۔ وہ بے قابو ہو کر زمان کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی ۔۔۔ اور زمان بھی دھنا دھن اپنے لوڑے کو ہما کی چوت کے اندر باہر کرتے ہوئے ہما کی چوت کو چود رہا تھا۔۔ ہما اتنی گرم ہو چکی ہوئی تھی زمان کے جسم کے لمس اور اسکی چدائی سے کہ وہ تیزی سے اپنی منزل کی طرف بڑھنے لگی تھی۔۔ اور کچھ ہی دیر میں اسکی چوت نے پانی چھوڑ دیا۔۔ زمان کو ہما کی چوت اسکے لوڑے کو دباتی اور بھینچتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔ وہ رک گیا ۔۔ اس نے کھسے مارنے بند کر دیئے ۔۔ اور ہما کو اپنی منزل اور لذت پوری طرح سے پا لینے کا ٹائم دیا ۔۔ اور دھیرے دھیرے اسکے ہونٹوں کو چومنے لگا۔۔ ہما کا جسم آہستہ آہستہ ڈھیلا ہونے لگا۔۔ اور اس پر جیسے غنودگی سی چھانے لگی ۔۔ اب ایک بار پھر زمان نے اپنے لوڑے کو اندر باہر کرتے ہوئے اپنا پانی بھی ہما کی چوت میں نکالنا شروع کر دیا۔۔ ہما کو تو جیسے اور بھی سکون مل گیا ہو ۔۔ وہ تو وہیں پر ہی ڈھے سی گئی۔۔ اور اسے پتہ بھی نہیں لگا کہ اسی غنودگی کی حالت میں اسکی آنکھ لگ گئی۔

Share this post


Link to post

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ تاکہ یہ گناہ جاریہ نہ بنے ۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر سے بھی شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین بھی ہو سکتا ہے۔ ڈیٹا شیئر کرنے والہ ممبراس بات کا عملی اقرار کرے گا کہ وہ بروز قیامت فورم انتظامیہ، سٹوری رائیٹر اور فورم ایڈمن کے تمام گناہوں کا اکلوتا وارث ہو گا ۔ اور بروز قیامت اپنی تمام نیکیاں (جو بھی اس کے نامہ اعمال میں ہوئیں ) بروز قیامت مجھے دینے کا پابند ہو گا۔ اگر کوئی ممبر اب بھی ایسا کرتا ہے اور گناہ جاریہ کا سبب بنتا ہے ۔ تو اس شرط کو ایگری کرتے ہوئے شیئر کر سکتا ہے ۔ فورم کو اس ایگری منٹ پر اجازت دینے میں کوئی اعتراض نہیں ۔ ایڈمن اردو فن کلب

قسط نمبر ٢

 

ڈاکٹر ہما کی زمان کی بانہوں میں آنکھ لگ چکی تھی۔۔ چند منٹ تک زمان بھی اپنے سانس بحال کرنے کے لیے لیٹا رہا ۔۔ اور پھر آہستہ سے وہ کاؤچ سے نیچے اُترا۔۔ اور اپنے سامنے صرف پھٹی ہوئی ٹائٹس میں ننگی لیٹی ہوئی ڈاکٹر ہما کو دیکھتا رہا۔۔ ہما کا گورا گورا شفاف بدن اسکی آنکھوں کے سامنے تھے۔۔ جو اسے نہ صرف دعوتِ نظارہ دے رہا تھا بلکہ دوبارہ سے اپنی طرف بلا رہا تھا۔۔ ہما کی ننگی چھاتیاں ۔۔ اسکی سانسوں کے ساتھ اوپر نیچے ہو رہی تھیں ۔۔ اسکی آنکھیں بند تھیں ۔۔ اور چہرے پر سکون ہی سکون تھا۔۔ زمان کا بھی دل چاہ رہا تھا کہ وہ ایک بار پھر سے اس حسین جسم کے مزے لے۔۔ مگر وہ اپنے گھر پہ نہیں ہسپتال میں تھا۔۔ اور وہ بھی ڈیوٹی پر۔۔ اس لیے زمان نے کپڑے پہنے اور ہما کو سوتا ہوا چھوڑ کر۔۔ آہستہ سے دروازہ کھول کر آفس سے باہر نکل آیا۔۔

نیچے آیا تو سٹاف نرس زیب اسی کا ہی انتظار کر رہی تھی۔۔ زمان کو نیچے آتا دیکھا تو وہ مسکراتی ہوئی معنی خیز نظروں سے اسکی طرف دیکھنے لگی۔۔ زمان نے بھی ایک بار مسکرا کر اسکو دیکھا اور اپنے آفس کی طرف بڑھنے لگا۔۔

زیب۔۔ ڈاکٹر زمان۔۔ ڈاکٹر ہما نہیں آہیں ۔۔ ٹھیک تو ہیں نا وہ اوپر۔۔

زمان۔۔ ہاں ۔ ہاں ۔۔ بلکل ٹھیک ہیں ۔۔ بس آنکھ لگ گئی ہے انکی۔۔

زیب مسکرائی۔۔ کمال کے مرد ہیں آپ بھی ڈاکٹر زمان۔۔ بھلا پہلی رات میں بھی کوئی اپنی دلہن کو سونے دیتا ہے کیا۔۔

زیب کی بات پر زمان جھینپ سا گیا۔۔ پہلی رات۔۔ کیسی پہلی رات ۔۔ اور کون دلہن۔۔ کہنا کیا چاہتی ہیں آپ۔۔

زیب مسکرائی۔۔ مجھے تو لگتا ہے کہ آپ نے کچھ کرنے کی بجائے بات چیت میں ہی ٹائم گذار دیا ہے ۔۔ ورنہ اتنی جلدی نیند نہ آتی ڈاکٹر ہما کو۔۔

زمان چپ رہا۔۔ وہ اب آگے سے کیا کہتا۔۔ اچانک اسکے دماغ میں ایک خیال آیا۔۔ کیوں نا اس پر بھی ٹرائی ماری جائے۔۔ زمان نے ایک نظر زیب پر ڈالی۔۔ وہ اپنی لائٹ پنک کلر کی یونیفارم میں تھی۔ جو کہ تھوڑی ٹرانسپیرنٹ۔۔ یعنی کہ تھوڑے پتلے کپڑے کی تھی۔۔ جس میں سے اسکا جسم تھوڑا تھوڑا جھانکتا تھا۔۔ اور اسکی برا تو ہمیشہ ہی صاف اسکی کمر پر نظر آتی رہتی تھی۔۔ اس وقت چونکہ رات کافی ہو چکی ہوئی تھی تو وہ اپنا دوپٹہ بھی اتار کر بیٹھی ہوئی تھی اور ایسے ہی اب ڈاکٹر زمان کے سامنے کھڑی تھی۔۔

ڈاکٹر زمان بولا۔۔ سٹاف جی۔۔ آپ کیا چاہتی ہو کہ آپکو وہی سین دوبارہ دکھاؤں یا پریکٹیکل کرکے دکھاؤں۔۔

زمان کی بات سن کر اب شرمانے کی باری زیب کی تھی۔۔ وہ مسکرا دی۔۔ ہماری ایسی قسمت کہاں ۔۔ اور ویسے بھی میرے لیے میرا اپنا منگیتر ہی کافی ہے۔۔

زمان اب زیب کے نرسنگ کاؤنٹر کے قریب آگیا ۔۔ پھر کیا ہوا مس زیب ۔۔ ایسے تو ڈاکٹر ہما کے ہسبنڈ بھی ہیں ۔۔ اور میرے خیا ل میں تو یہ ہسبنڈ اور منگیتر کا رشتہ تو ہاسپٹل سے باہر ہی رہ جاتا ہے نا۔۔ یہاں ہم سب ایک الگ ہی فیملی ہوتے ہیں ۔۔ کیوں کیا کہتی ہو آپ ۔۔

زیب مسکرائی۔۔ میں ذرا دیکھ کر آؤں کہ کیا حالت کر دی ہے آپ نے ڈاکٹر ہما کی ۔۔

زمان ۔۔ ہاں ہاں ۔۔ دیکھو جا کر ۔۔ مگر اس بیچاری کی نیند ڈسٹرب نہیں کرنا ۔۔ بلکہ میں بھی چلتا ہوں آپکے ساتھ۔۔

زیب۔۔ نہیں نہیں ۔۔ آپ تو رہنے ہی دیں نا۔۔ میں خود ہی دیکھ آتی ہوں۔۔

زیب مسکراتی ہوئی لفٹ سے اوپر کو چلی گئی ۔۔

زیب سیکنڈ فلور پر آکر آفس میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ ڈاکٹر ہما بے سدھ سو رہی ہے ۔۔ اسکا جسم ابھی بھی ننگا ہی تھا۔۔ جسم کے نچلے حصے پر انکی لیگی ابھی بھی موجود تھی ۔۔ جو کہ کافی ساری پھٹی ہوئی تھی ۔۔۔ جسے دیکھ کر زیب مسکرا اٹھی ۔۔ اوپری جسم بلکل ننگا تھا۔۔ گورا گورا چکنا جسم ۔۔ اور خوبصورت سینے کے ابھار ۔۔ گول گول سڈول ممے ہما کی سانسوں سے اوپر نیچے ہو رہے تھے ۔۔۔ ہما کے چہرے پر سکون ہی سکون تھا ۔۔ ہما سے بھی یہ سب دیکھ کر نہیں رہا گیا۔۔ وہ کاؤچ پر ہما کے ساتھ آہستہ سے بیٹھ گئی ۔۔ اور نیچے جھکتے ہوئے آہستہ سے اپنے ہونٹ ہما کے ہونٹوں پر رکھ دیئے اور اسکے ہونٹوں کو چومنے لگی ۔۔ ہما نیند کی غنودگی میں تھی ۔۔ اسکی نیند بھی کھلنے لگی ۔۔ مگر اس نے اپنی آنکھیں نہیں کھولیں ۔۔ اسکی بند آنکھوں کے سامنے کچھ دیر پہلے ہوئی اسکی چدائی کا منظر گھوم رہا تھا ۔۔ جو اس نے ڈاکٹر زمان کے ساتھ کی تھی ۔۔ اسے ابھی بھی یہی لگ رہا تھا کے زمان ہی دوبارہ اسکے ساتھ شروع ہے ۔۔ ہما نے بھی اسکی کسنگ کا جواب دیتے ہوئے اسکا ساتھ دینا شروع کر دیا ۔۔۔

زیب نے اپنا ایک ہاتھ ہما کی چھاتی پر رکھا اور اسے دباتی ہوئی ۔۔ اسکے نچلے ہونٹ کو چوسنے لگی ۔۔ پھر اپنی زبان ہما کے منہ کے اندر داخل کی اور اسکی زبان کے ساتھ چھیڑخانی کرنے لگی ۔۔ ہما کو زیب کے نرم نرم ہونٹ محسوس ہو رہے تھے ۔۔ مگر ابھی بھی وہ کوئی فرق محسوس نہیں کر پا رہی تھی ۔۔ بس وہ بھی زیب کی زبان کو چوسنے لگی ۔۔ بند آنکھوں کے ساتھ ہی ہما نے اپنا ایک ہاتھ اٹھایا ۔۔ اور زیب کی کمر پر رکھ دیا ۔۔ اور اسکی کمر کو آہستہ آہستہ سہلانے لگی ۔۔

یہ کیا ۔۔۔ یہ تو ۔۔۔ ہما کے دماغ میں ایک کوندا سا لپکا جب اسکی کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسکا ہاتھ زیب کی کمر پر اسکی برا کی ہک اور اسٹریپس سے ٹکرایا۔۔ اس نے پھر سے انکو محسو س کیا ۔۔ اور پھر اپنی آنکھیں کھولیں تو حیران رہ گئی کہ اسکے ہونٹوں کو چومنے والا زمان نہیں بلکہ سٹاف زیب تھی ۔۔ ہما نے جلدی سے اسکو پیچھے ہٹانا چاہا اور اُٹھنے کی کوشش کرنے لگی تو زیب نے اسکے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسے دباتے ہوئے نیچے لیٹے رہنے کا اشارہ کیا ۔۔ ہما نے اپنے دونوں ہاتھوں کہ اپنی ننگی چھاتیوں پر رکھ کر انکو چھپانے کی کوشش کی ۔۔ تو زیب نے مسکرا کر ہما کے ماتھے پر سے اسکے بالوں کو ہٹاتے ہوئے اسکے ماتھے کو چوما اور بولی ۔۔ ہما جی ۔۔ ڈاکٹر زمان کو اپنا سب کچھ دے دیا ۔۔ اور ہمیں اپنا اتنا پیارا جسم دیکھنے بھی نہیں دے رہیں۔۔ ہما کے چہرے پر بھی ایک ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی ۔۔

زیب نے ہما کے ہاتھوں کو ہٹایا اور ہما کی چھاتیوں کو ننگا کر لیا ۔۔ اور اپنا ایک ہاتھ ہما کی ایک چھاتی پر رکھ کر اسکو ڈھانپ لیا ۔۔ اور اسے آہستہ آہستہ دبانے لگی ۔۔ پھر ہما کے ایک گلابی نپل کو اپنی انگلی اور انگوٹھے کے بیچ میں لے کر مسلنے لگی ۔۔۔ سی ی ی ی ی ی ی ی ی ی ی ۔۔۔ ہما کی سسکاری نکلی ۔۔۔

ہما ۔۔ سی ی ی ی ی ی ی ی ی ی ۔۔۔۔ زیب ب ب ب ب ب ب ب ب ب۔۔۔ نہیں کرو نا پلیززززززز ۔۔۔۔۔۔۔

زیب ۔۔ کیوں میرا ہاتھ اچھا نہیں لگ رہا کیا ۔۔۔

ہما ۔۔ نہیں یہ بات نہیں ہے ۔۔۔ کچھ ہونے لگتا ہے یار ۔۔۔۔۔۔ اور پھر تمھارے ساتھ ۔۔

زیب نے نیچے جھک کر ہما کی چھاتی کو چوما اور اسکے نپل کو اپنی زبان سے چھیڑا اور بولی ۔۔ ڈاکٹر ہما ۔۔ کیا آپ نے کبھی کسی دوسری لڑکی کے ساتھ مزہ نہیں لیا ۔۔ سچ سچ بتایئے گا۔۔۔

ہما ۔۔ نہیں یار سنا ضرور ہے ۔۔ لیکن کبھی ایسا کچھ کیا بلکل بھی نہیں ۔۔۔

زیب ۔۔ چلو پھر آج میں آپکو لیسبو سیکس کا مزہ بھی دیتی ہوں ۔۔ لوڑے کا مزہ تو آپ لے ہی چکی ہو نا ۔۔ یہ کہتے ہوئے زیب نے اپنے ہونٹ ہما کے نپل پر رکھ دئے اور انکو چوسنے لگی ۔۔۔ نیچے اسکا ہاتھ ہما کی چوت کی طرف سرکنے لگا ۔۔

ہما کے نپل کو چوستی ہوئی بولی ۔۔۔ ڈاکٹر ہما ۔۔ مزہ آیا کہ نہیں ڈاکٹر زمان کے ساتھ ۔۔

ہما مسکرائی ۔۔۔ ہاں آیا تو ہے ۔۔۔ مگر ۔۔ یہ سب ٹھیک تو نہیں ہے نا ۔۔

زیب ۔۔ کیوں ۔۔ یہ ٹھیک کیوں نہیں ہے ۔۔

ہما ۔۔ یہ تو انور کے ساتھ دھوکہ ہے نا ۔۔ چیٹنگ ہے اسکے ساتھ ۔۔

زیب ہما کی چوت کو سہلاتی ہوئی بولی ۔۔ ارے ڈاکٹر ہما ۔۔۔ آپکو نہیں پتہ کیا کہ یہ مرد حضرات ہم عورتوں کے ساتھ کتنی چیٹنگ کرتے ہیں ۔۔ کتنے انکے افیئرز ہوتے ہیں جو وہ ہم سے چھپاتے ہیں ۔۔ تو پھر ہم کیوں نہیں ۔۔ ہمارے ہی مزے لینے پر پابندی کیوں ۔۔۔

ہما مسکرائی ۔۔۔ نہیں یار ۔۔ انور ایسا نہیں ہے ۔۔۔ وہ کبھی بھی میرے ساتھ دھوکا نہیں کر سکتا ۔۔

زیب مسکرائی ۔۔ بہت بھولی ہو آپ بھی نا ۔۔۔ چیلنج کروں آپ کو کیا ۔۔

ہما ۔۔ کیسا چیلنج ۔۔۔
زیب ۔۔ چیلنج یہ کہ میں آپکے شوہر کو اپنے جال میں پھنسا کر اسکے ساتھ سیکس کر کے دیکھاؤں تو؟؟؟؟؟؟

ہما ۔۔ نہیں ۔۔ وہ کبھی بھی نہیں کرے گا ۔۔ تم ہار جاؤ گی ۔۔

زیب ۔۔ لگی پھر شرط ۔۔۔؟؟؟

ہما مسکرا کر ۔۔۔ چلو لگ گئی ۔۔۔ پر شرط کیا ہو گی ۔۔

زیب مسکرائی ۔۔ وہ بعد میں بتاؤں گی ۔۔ بس یہ سمجھ لو کہ آپکو میری بات ماننی ہو گی ۔۔

ہما مسکرائی ۔۔ اچھا ٹھیک ہے ۔۔ چلو اب تو اٹھنے دو نا ۔۔

زیب مسکرا دی ۔۔۔۔

2.     

3.   
ڈاکٹر ہما کی زمان کی بانہوں میں آنکھ لگ چکی تھی۔۔ چند منٹ تک زمان بھی اپنے سانس بحال کرنے کے لیے لیٹا رہا ۔۔ اور پھر آہستہ سے وہ کاؤچ سے نیچے اُترا۔۔ اور اپنے سامنے صرف پھٹی ہوئی ٹائٹس میں ننگی لیٹی ہوئی ڈاکٹر ہما کو دیکھتا رہا۔۔ ہما کا گورا گورا شفاف بدن اسکی آنکھوں کے سامنے تھے۔۔ جو اسے نہ صرف دعوتِ نظارہ دے رہا تھا بلکہ دوبارہ سے اپنی طرف بلا رہا تھا۔۔ ہما کی ننگی چھاتیاں ۔۔ اسکی سانسوں کے ساتھ اوپر نیچے ہو رہی تھیں ۔۔ اسکی آنکھیں بند تھیں ۔۔ اور چہرے پر سکون ہی سکون تھا۔۔ زمان کا بھی دل چاہ رہا تھا کہ وہ ایک بار پھر سے اس حسین جسم کے مزے لے۔۔ مگر وہ اپنے گھر پہ نہیں ہسپتال میں تھا۔۔ اور وہ بھی ڈیوٹی پر۔۔ اس لیے زمان نے کپڑے پہنے اور ہما کو سوتا ہوا چھوڑ کر۔۔ آہستہ سے دروازہ کھول کر آفس سے باہر نکل آیا۔۔

نیچے آیا تو سٹاف نرس زیب اسی کا ہی انتظار کر رہی تھی۔۔ زمان کو نیچے آتا دیکھا تو وہ مسکراتی ہوئی معنی خیز نظروں سے اسکی طرف دیکھنے لگی۔۔ زمان نے بھی ایک بار مسکرا کر اسکو دیکھا اور اپنے آفس کی طرف بڑھنے لگا۔۔

زیب۔۔ ڈاکٹر زمان۔۔ ڈاکٹر ہما نہیں آہیں ۔۔ ٹھیک تو ہیں نا وہ اوپر۔۔

زمان۔۔ ہاں ۔ ہاں ۔۔ بلکل ٹھیک ہیں ۔۔ بس آنکھ لگ گئی ہے انکی۔۔

زیب مسکرائی۔۔ کمال کے مرد ہیں آپ بھی ڈاکٹر زمان۔۔ بھلا پہلی رات میں بھی کوئی اپنی دلہن کو سونے دیتا ہے کیا۔۔

زیب کی بات پر زمان جھینپ سا گیا۔۔ پہلی رات۔۔ کیسی پہلی رات ۔۔ اور کون دلہن۔۔ کہنا کیا چاہتی ہیں آپ۔۔

زیب مسکرائی۔۔ مجھے تو لگتا ہے کہ آپ نے کچھ کرنے کی بجائے بات چیت میں ہی ٹائم گذار دیا ہے ۔۔ ورنہ اتنی جلدی نیند نہ آتی ڈاکٹر ہما کو۔۔

زمان چپ رہا۔۔ وہ اب آگے سے کیا کہتا۔۔ اچانک اسکے دماغ میں ایک خیال آیا۔۔ کیوں نا اس پر بھی ٹرائی ماری جائے۔۔ زمان نے ایک نظر زیب پر ڈالی۔۔ وہ اپنی لائٹ پنک کلر کی یونیفارم میں تھی۔ جو کہ تھوڑی ٹرانسپیرنٹ۔۔ یعنی کہ تھوڑے پتلے کپڑے کی تھی۔۔ جس میں سے اسکا جسم تھوڑا تھوڑا جھانکتا تھا۔۔ اور اسکی برا تو ہمیشہ ہی صاف اسکی کمر پر نظر آتی رہتی تھی۔۔ اس وقت چونکہ رات کافی ہو چکی ہوئی تھی تو وہ اپنا دوپٹہ بھی اتار کر بیٹھی ہوئی تھی اور ایسے ہی اب ڈاکٹر زمان کے سامنے کھڑی تھی۔۔

ڈاکٹر زمان بولا۔۔ سٹاف جی۔۔ آپ کیا چاہتی ہو کہ آپکو وہی سین دوبارہ دکھاؤں یا پریکٹیکل کرکے دکھاؤں۔۔

زمان کی بات سن کر اب شرمانے کی باری زیب کی تھی۔۔ وہ مسکرا دی۔۔ ہماری ایسی قسمت کہاں ۔۔ اور ویسے بھی میرے لیے میرا اپنا منگیتر ہی کافی ہے۔۔

زمان اب زیب کے نرسنگ کاؤنٹر کے قریب آگیا ۔۔ پھر کیا ہوا مس زیب ۔۔ ایسے تو ڈاکٹر ہما کے ہسبنڈ بھی ہیں ۔۔ اور میرے خیا ل میں تو یہ ہسبنڈ اور منگیتر کا رشتہ تو ہاسپٹل سے باہر ہی رہ جاتا ہے نا۔۔ یہاں ہم سب ایک الگ ہی فیملی ہوتے ہیں ۔۔ کیوں کیا کہتی ہو آپ ۔۔

زیب مسکرائی۔۔ میں ذرا دیکھ کر آؤں کہ کیا حالت کر دی ہے آپ نے ڈاکٹر ہما کی ۔۔

زمان ۔۔ ہاں ہاں ۔۔ دیکھو جا کر ۔۔ مگر اس بیچاری کی نیند ڈسٹرب نہیں کرنا ۔۔ بلکہ میں بھی چلتا ہوں آپکے ساتھ۔۔

زیب۔۔ نہیں نہیں ۔۔ آپ تو رہنے ہی دیں نا۔۔ میں خود ہی دیکھ آتی ہوں۔۔

زیب مسکراتی ہوئی لفٹ سے اوپر کو چلی گئی ۔۔

زیب سیکنڈ فلور پر آکر آفس میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ ڈاکٹر ہما بے سدھ سو رہی ہے ۔۔ اسکا جسم ابھی بھی ننگا ہی تھا۔۔ جسم کے نچلے حصے پر انکی لیگی ابھی بھی موجود تھی ۔۔ جو کہ کافی ساری پھٹی ہوئی تھی ۔۔۔ جسے دیکھ کر زیب مسکرا اٹھی ۔۔ اوپری جسم بلکل ننگا تھا۔۔ گورا گورا چکنا جسم ۔۔ اور خوبصورت سینے کے ابھار ۔۔ گول گول سڈول ممے ہما کی سانسوں سے اوپر نیچے ہو رہے تھے ۔۔۔ ہما کے چہرے پر سکون ہی سکون تھا ۔۔ ہما سے بھی یہ سب دیکھ کر نہیں رہا گیا۔۔ وہ کاؤچ پر ہما کے ساتھ آہستہ سے بیٹھ گئی ۔۔ اور نیچے جھکتے ہوئے آہستہ سے اپنے ہونٹ ہما کے ہونٹوں پر رکھ دیئے اور اسکے ہونٹوں کو چومنے لگی ۔۔ ہما نیند کی غنودگی میں تھی ۔۔ اسکی نیند بھی کھلنے لگی ۔۔ مگر اس نے اپنی آنکھیں نہیں کھولیں ۔۔ اسکی بند آنکھوں کے سامنے کچھ دیر پہلے ہوئی اسکی چدائی کا منظر گھوم رہا تھا ۔۔ جو اس نے ڈاکٹر زمان کے ساتھ کی تھی ۔۔ اسے ابھی بھی یہی لگ رہا تھا کے زمان ہی دوبارہ اسکے ساتھ شروع ہے ۔۔ ہما نے بھی اسکی کسنگ کا جواب دیتے ہوئے اسکا ساتھ دینا شروع کر دیا ۔۔۔

زیب نے اپنا ایک ہاتھ ہما کی چھاتی پر رکھا اور اسے دباتی ہوئی ۔۔ اسکے نچلے ہونٹ کو چوسنے لگی ۔۔ پھر اپنی زبان ہما کے منہ کے اندر داخل کی اور اسکی زبان کے ساتھ چھیڑخانی کرنے لگی ۔۔ ہما کو زیب کے نرم نرم ہونٹ محسوس ہو رہے تھے ۔۔ مگر ابھی بھی وہ کوئی فرق محسوس نہیں کر پا رہی تھی ۔۔ بس وہ بھی زیب کی زبان کو چوسنے لگی ۔۔ بند آنکھوں کے ساتھ ہی ہما نے اپنا ایک ہاتھ اٹھایا ۔۔ اور زیب کی کمر پر رکھ دیا ۔۔ اور اسکی کمر کو آہستہ آہستہ سہلانے لگی ۔۔

یہ کیا ۔۔۔ یہ تو ۔۔۔ ہما کے دماغ میں ایک کوندا سا لپکا جب اسکی کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسکا ہاتھ زیب کی کمر پر اسکی برا کی ہک اور اسٹریپس سے ٹکرایا۔۔ اس نے پھر سے انکو محسو س کیا ۔۔ اور پھر اپنی آنکھیں کھولیں تو حیران رہ گئی کہ اسکے ہونٹوں کو چومنے والا زمان نہیں بلکہ سٹاف زیب تھی ۔۔ ہما نے جلدی سے اسکو پیچھے ہٹانا چاہا اور اُٹھنے کی کوشش کرنے لگی تو زیب نے اسکے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسے دباتے ہوئے نیچے لیٹے رہنے کا اشارہ کیا ۔۔ ہما نے اپنے دونوں ہاتھوں کہ اپنی ننگی چھاتیوں پر رکھ کر انکو چھپانے کی کوشش کی ۔۔ تو زیب نے مسکرا کر ہما کے ماتھے پر سے اسکے بالوں کو ہٹاتے ہوئے اسکے ماتھے کو چوما اور بولی ۔۔ ہما جی ۔۔ ڈاکٹر زمان کو اپنا سب کچھ دے دیا ۔۔ اور ہمیں اپنا اتنا پیارا جسم دیکھنے بھی نہیں دے رہیں۔۔ ہما کے چہرے پر بھی ایک ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی ۔۔

زیب نے ہما کے ہاتھوں کو ہٹایا اور ہما کی چھاتیوں کو ننگا کر لیا ۔۔ اور اپنا ایک ہاتھ ہما کی ایک چھاتی پر رکھ کر اسکو ڈھانپ لیا ۔۔ اور اسے آہستہ آہستہ دبانے لگی ۔۔ پھر ہما کے ایک گلابی نپل کو اپنی انگلی اور انگوٹھے کے بیچ میں لے کر مسلنے لگی ۔۔۔ سی ی ی ی ی ی ی ی ی ی ی ۔۔۔ ہما کی سسکاری نکلی ۔۔۔

ہما ۔۔ سی ی ی ی ی ی ی ی ی ی ۔۔۔۔ زیب ب ب ب ب ب ب ب ب ب۔۔۔ نہیں کرو نا پلیززززززز ۔۔۔۔۔۔۔

زیب ۔۔ کیوں میرا ہاتھ اچھا نہیں لگ رہا کیا ۔۔۔

ہما ۔۔ نہیں یہ بات نہیں ہے ۔۔۔ کچھ ہونے لگتا ہے یار ۔۔۔۔۔۔ اور پھر تمھارے ساتھ ۔۔

زیب نے نیچے جھک کر ہما کی چھاتی کو چوما اور اسکے نپل کو اپنی زبان سے چھیڑا اور بولی ۔۔ ڈاکٹر ہما ۔۔ کیا آپ نے کبھی کسی دوسری لڑکی کے ساتھ مزہ نہیں لیا ۔۔ سچ سچ بتایئے گا۔۔۔

ہما ۔۔ نہیں یار سنا ضرور ہے ۔۔ لیکن کبھی ایسا کچھ کیا بلکل بھی نہیں ۔۔۔

زیب ۔۔ چلو پھر آج میں آپکو لیسبو سیکس کا مزہ بھی دیتی ہوں ۔۔ لوڑے کا مزہ تو آپ لے ہی چکی ہو نا ۔۔ یہ کہتے ہوئے زیب نے اپنے ہونٹ ہما کے نپل پر رکھ دئے اور انکو چوسنے لگی ۔۔۔ نیچے اسکا ہاتھ ہما کی چوت کی طرف سرکنے لگا ۔۔

ہما کے نپل کو چوستی ہوئی بولی ۔۔۔ ڈاکٹر ہما ۔۔ مزہ آیا کہ نہیں ڈاکٹر زمان کے ساتھ ۔۔

ہما مسکرائی ۔۔۔ ہاں آیا تو ہے ۔۔۔ مگر ۔۔ یہ سب ٹھیک تو نہیں ہے نا ۔۔

زیب ۔۔ کیوں ۔۔ یہ ٹھیک کیوں نہیں ہے ۔۔

ہما ۔۔ یہ تو انور کے ساتھ دھوکہ ہے نا ۔۔ چیٹنگ ہے اسکے ساتھ ۔۔

زیب ہما کی چوت کو سہلاتی ہوئی بولی ۔۔ ارے ڈاکٹر ہما ۔۔۔ آپکو نہیں پتہ کیا کہ یہ مرد حضرات ہم عورتوں کے ساتھ کتنی چیٹنگ کرتے ہیں ۔۔ کتنے انکے افیئرز ہوتے ہیں جو وہ ہم سے چھپاتے ہیں ۔۔ تو پھر ہم کیوں نہیں ۔۔ ہمارے ہی مزے لینے پر پابندی کیوں ۔۔۔

ہما مسکرائی ۔۔۔ نہیں یار ۔۔ انور ایسا نہیں ہے ۔۔۔ وہ کبھی بھی میرے ساتھ دھوکا نہیں کر سکتا ۔۔

زیب مسکرائی ۔۔ بہت بھولی ہو آپ بھی نا ۔۔۔ چیلنج کروں آپ کو کیا ۔۔

ہما ۔۔ کیسا چیلنج ۔۔۔
زیب ۔۔ چیلنج یہ کہ میں آپکے شوہر کو اپنے جال میں پھنسا کر اسکے ساتھ سیکس کر کے دیکھاؤں تو؟؟؟؟؟؟

ہما ۔۔ نہیں ۔۔ وہ کبھی بھی نہیں کرے گا ۔۔ تم ہار جاؤ گی ۔۔

زیب ۔۔ لگی پھر شرط ۔۔۔؟؟؟

ہما مسکرا کر ۔۔۔ چلو لگ گئی ۔۔۔ پر شرط کیا ہو گی ۔۔

زیب مسکرائی ۔۔ وہ بعد میں بتاؤں گی ۔۔ بس یہ سمجھ لو کہ آپکو میری بات ماننی ہو گی ۔۔

ہما مسکرائی ۔۔ اچھا ٹھیک ہے ۔۔ چلو اب تو اٹھنے دو نا ۔۔

زیب مسکرا دی ۔۔۔۔

>رات کے 2 بجے ہما اپنی پھٹی ہوئی ٹائیٹس کے ساتھ ڈاکٹر زمان کی کار میں بیٹھ کر ہاسپٹل سے نکل گئی ۔۔۔ اور زیب انکو جاتے ہوئے مسکرا کر دیکھتی رہی ۔۔ ڈاکٹر زمان کی کار جیسے ہی سنسان سڑک پر دوڑنے لگی تو اس نے سی ڈی پلیئر پر ایک رومینٹک سا گانا لگا دیا ۔۔ اور مسکرا کر ہما کی طرف دیکھنے لگا ۔۔ اور اپنا ہاتھ بڑھا کر ہما کا ہاتھ تھام لیا۔۔ ہما نے بھی اس سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوئی کوشش نہیں کی ۔۔۔ بلکہ مسکرا کر اسکی طرف دیکھنے لگی ۔۔اور بولی ۔۔

ہما ۔۔ زمان جی ۔۔ ہم کوئی لوورز نہیں ہیں یاد ہے نا آپ کو ۔۔ یہ سب تعلق بس یونہی ہے ۔۔

زمان مسکرایا۔۔ اور ہما کی طرف جھک کر ہما کے گال کو چوم لیا ۔۔ ہما گھبرا کر پیچھے ہٹی ۔۔ ارے ارے گاڑی چلاؤ سیدھی طرح ۔۔ ٹھوکو گے کیا ۔۔

زمان مسکرایا ۔ ۔ اور ہما کی ران کو سہلاتے ہوئے بولا ۔۔ ہا ں ٹھوکوں گا تو سہی۔۔ پر گاڑی کو نہیں آپکی اس پیاری سی چوت کو ۔۔۔ یہ کہتے ہوئے زمان نے ہما کی پھٹی ہوئی لیگی میں ہاتھ ڈال کر ہما کی چوت پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔۔ ہما نے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکھ دیا ۔۔

ہما ۔۔ بس بس۔۔ اب ہر وقت یہی نہیں چلنے والا ۔۔ سمجھے ۔۔

زمان اپنی ایک انگلی کو ہما کی چوت کے اندر ڈالتے ہوئے بولا۔۔ اب تو آپ کو چودے بنا چین کہاں ملے گا ہما جی ۔۔۔

ہما اپنی سیٹ پر تھوڑی آگے کو سرک گئی ۔۔ زمان کے ہاتھ کو اور بھی آسانی دینے کے لیے ۔۔ اور زمان بھی اسکی چوت کے اندر باہر اپنی انگلی کرنے لگا۔۔۔ اچانک زمان نے کار روک دی ۔۔۔ ہما نے اپنی آنکھیں کھولکر دیکھا تو وہ کے ایف سی کے پارکنگ میں کھڑے تھے ۔۔ اردگرد کوئی نہیں تھا ۔۔۔ زمان ہما کے اوپر جھک گیا ۔۔۔ اور اسکے گالوں اور ہونٹوں کو کس کرنے لگا۔۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ہما اسکا ساتھ دینے لگی ۔۔۔ زمان کا ایک ہاتھ ہما کی چوت پر تھا اور دوسرے ہاتھ سے وہ ہما کے ایک ممے کو سہلا رہا تھا ۔۔۔۔ مسل رہا تھا۔۔۔ دبا رہا تھا۔۔ اور ہما کے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں ۔۔۔ جو کبھی تو کار کے اندر کی فضا میں پھیل جاتیں ۔۔ اور کبھی زمان کے منہ کے اندر ہی جذب ہو جاتیں ۔۔۔ اچانک زمان کو ایک کپل دور سے پارکنگ کی طرف آتا ہوا نظر آیا تو وہ ہما سے الگ ہو گیا۔۔ اور پھر دونوں ہی کار سے اتر کر کے ایف سی کے اندر داخل ہوگئے۔۔

دونوں نے اِدھر اُدھر دیکھا ۔۔۔ اندر بہت زیادہ رش تو نہیں تھا۔۔ مگر ابھی بھی کافی لگ بیٹھے تھے ۔۔ اور زیادہ تر ینگ کپلز ہی تھے ۔۔ لوو برڈز۔۔ جو رات کے اس پہر ایک دوسرے سے ملنے کے لیے نکلے ہوئے تھے ۔۔۔ ہما نے ہی ایک کاؤنٹر سے دور اندر کے راستے کے پاس ہی ایک ٹیبل کا انتخاب کیا۔۔ ٹیبلز کچھ اس طرح کی تھیں کہ وہاں بیٹھنے کے بعد کوئی اور دور سے انکو نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔

ہما۔۔ اس وقت بھی بہت لوگ ہیں یہاں پر تو۔۔

زمان ۔۔ سب لوگ ہی ڈیٹ پر آئے ہوئے ہیں یہاں ۔۔ ہماری طرح ۔۔

زمان کی اس بات پر ہما کا چہرہ سرخ ہو گیا۔۔

ہما ۔۔ مجھے بہت عجیب سا لگ رہا ہے ۔۔ پہلی بار میں یوں کسی کے ساتھ اتنی رات گئے باہر آئی ہوں ۔۔

زمان ۔۔ لیکن مجھے تو بہت اچھا لگ رہا ہے ۔۔ آپکے ساتھ اسطرح سے باہر آنا اور آپکے ساتھ بیٹھنا۔۔ یہ کہتے ہوئے زمان نے ایک بار پھر ہما کا ہاتھ پکڑلیا۔۔ ہما نے اپنا ہاتھ چھڑوانا چاہا۔۔ مگر زمان نے اسکا ہاتھ نہیں چھوڑا۔۔

ہما ۔۔ کیا کرتے ہو یار۔۔ سب لوگ ہیں یہاں پر ۔۔۔

زمان ہما کا ہاتھ تھام کر اسکو چومتا ہوا بولا ۔۔ ارے یار وہ سب بھی یہی کچھ کر رہے ہیں ۔۔ کیون انکی ٹینشن لیتی ہو ۔۔

ہما مسکرائی۔۔ ڈاکٹر زمان آپ ایک بار پھر بھول رہے ہو کہ میں آپکی لوور نہیں ہوں ۔۔

زمان مسکرایا اور ہما کا ہاتھ سہلاتے ہوئے بولا ۔۔ لیکن میری گرل فرینڈ تو ہو نا۔۔ بولو ہو یا نہیں ۔۔

ہما نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلا دیا۔۔ لیکن یار یہ سب کچھ عجیب سا لگ رہا ہے ۔۔ ایک شادی شدہ لڑکی ہوتے ہوئے یوں کسی اور کے ساتھ یہ سب کچھ کرنا ۔۔

زمان ۔۔ ڈاکٹر ہما پتہ نہیں آپ کس زمانے کی سوچ رکھتی ہو۔۔ آپکو احساس ہونا چاہیے کہ آپ کس زمانے میں رہ ہی ہیں آجکل۔۔ آپکو تو پتہ ہی ہے کہ یہ سب کچھ اب بہت ہی عام سی بات ہو چکی ہوئی ہے ۔۔

ہما مسکرائی اور بولی ۔۔ لیکن اگر میرے شوہر کو پتہ چل گیا تو۔۔؟؟؟

زمان نے ہما کا دوسرا ہاتھ بھی اپنے ہاتھ میں لیا اور ہما کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔۔ کیوں پریشان ہوتی ہو۔۔ کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا۔۔ آپ بس اپنی لائف کو انجوائے کرو۔۔

اتنے میں ویٹر انکا آرڈر لے کر آگیا ۔۔ اور دونوں ادھر اُدھر کی باتیں کرتے ہوئے اپنا اپنا برگر کھانے لگے ۔۔ ساتھ کی ٹیبل پر ایک نوجوان جوڑا بیٹھا ہوا تھا ۔۔ یہ دونوں بار بار انکو ہی دیکھ رہے تھے ۔۔ لڑکا بار بار اپنے ہاتھ سے برگر لڑکی کی طرف بڑھاتا جسے وہ بڑے پیار سے کاٹ لیتی۔۔ زمان نے اپنی نظروں سے ہما کو وہ دیکھنے کا اشارہ کیا اور پھر اگلی بار اپنا برگر ہما کے ہونٹوں کی طرف بڑھا دیا۔۔ ہما نے مسکرا کر زمان کی آنکھوں میں دیکھا۔۔ اور پھر اسکے ہاتھ سے ایک بائٹ لے لی ۔۔۔

ہما ۔۔ بس ۔۔ اب خوش۔۔ تم بھی نہ بس۔۔

تھوڑی دیر میں دونوں نے اپنا برگر ختم کیا اور پھر زیب کے لیے بھی ایک برگر پیک کروا کر اپنی گاڑی میں ہاسپٹل واپسی کے لیے نکل پڑے۔۔ واپس آئے تو زیب نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ دونوں کا استقبال کیا ۔۔

زیب۔۔ تو آگئے آپ لوگ اپنی پہلی ڈیٹ سے ۔۔

ہما مسکرائی اور شرمائی بھی ۔۔ جی نہیں کوئی ڈیٹ ویٹ نہیں تھی ۔۔ بس ایسے ہی تو گئے تھے ۔۔

زیب۔۔ چلیں جی ۔۔ آج نا سہی ۔۔ پھر کسی دن چلے جائیے گا باقائدہ پلان کر کے ڈیٹ مارنے۔۔

سب ہنسنے لگے۔۔ زیب بھی انکے سامنے بیٹھ کر اپنا برگر کھانے لگی ۔۔ زیب اور ہما ایک ہی صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے ۔۔ جبکہ زمان الگ بیٹھا تھا ۔۔ کافی دیر تک سب لوگ گپ شپ کرتے رہے ۔۔ اور پھر زیب بولی۔۔ مجھے تو اب نیند آرہی ہے ۔۔ آپ لوگ تو شائد آج رات ایک ہی کمرے میں سوئیں گے نا ۔۔ یا الگ الگ۔۔

ہما کے چہرے پر سرخی دوڑ گئی ۔۔

زمان اٹھا اور بولا۔۔ نہیں میں اپنے کمرے میں ہی جاؤں گا۔۔ آپ دونوں ہی سوئیں یہاں ۔

زیب اور ہما بھی کھڑے ہو چکے تھے ۔۔ زمان جانے لگا تو زیب بولی ۔۔ ارے ڈاکٹر زمان آپکو تو بلکل بھی کوئی ادب آداب کا نہیں پتہ ۔۔

زمان ۔۔ کیوں کیا ہوا۔۔

زیب مسکرائی ۔۔ ارے اپنی نئی نویلی گرل فرئینڈکو گڈنائٹ تو بول دیں ۔۔ یہ کہتے ہوئے زیب نے ہما کوزبردستی زمان کی بانہوں میں دھکیل دیا۔۔ اور خود باہر نکل گئی ۔۔

زمان نے ہما کو ایک بار پھر اپنی بانہوں میں جکڑ لیا اور اسکے گالوں اور ہونٹوں کو چومنے لگا۔۔ اسکے ہونٹوں کو چوسنے لگا۔۔ ہما کے ممے زمان کے سینے سے دب رہے تھے ۔۔ اور ہو اسکی کمر کو بھی سہلا رہا تھا ۔۔ کبھی اسکی گانڈ کو دبانے لگتا۔۔

زمان ۔۔ ہما جی ۔۔ میں تو کہتا ہوں کہ آپ میرے روم میں ہی آجائیں سونے کے لیے ۔۔

ہما مسکرائی ۔۔ تم نے سونے کب دینا ہے جو میں وہاں آؤں ۔۔

دونوں مسکرانے لگے ۔۔ اور ایک بار پھر سے ایک دوسرے کی بانہوں میں سما گئے ۔۔ اتنے میں زیب بھی آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر آگئی ۔۔ اور چپکے سے دونوں کو دیکھنے لگی ۔۔ ہما کی نظر اس پر پڑی تو جلدس سے زمان سے الگ ہوگئی۔۔ اور پھر زمان دوسرے کمرے میں چلا گیا۔۔

ڈاکٹر زمان کے جانے کے بعد زیب نے دروازے کی کنڈی لگائی ۔۔ اور جھٹ سے اپنی پتلی سی گلابی رنگ کی شرٹ اتار دی ۔۔

ہما ۔۔ ارے ارے یہ کیا کر رہی ہو ۔۔ یہ کپڑے کیوں اتارنے لگی ہو اپنے ۔۔

زیب مسکرا کر اپنی شرٹ ایک کھونٹی پر ٹانگتی ہوئی بولی ۔۔ آپکا ریپ کرنے کے لیے۔۔ اب زیب اپنے پاجامے اور گلابی رنگ کی برا میں تھی جو کے اسکی چھاتیوں سے لپٹی ہوئی تھی۔۔

اپنی شرٹ لٹکا کر زیب ہما کی طرف آئی اور اسکی شرٹ کو بھی نیچے سے پکڑ کر اوپر اُٹھانے لگی تو ہما بولی ۔۔ نہیں پلیز رہنے دو نا ۔۔ مجھے سونا ہے

زیب۔۔ مجھے بھی تو سونا ہی ہے ۔۔ پکا کہ کچھ بھی اور نہیں کروں گی بس آپ کے ساتھ آج ایسے ہی سونے کو دل چاہ رہا ہے ۔۔ یہ کہتے ہوئے زیب نے ہما کی شرٹ بھی اوپر اُٹھا دی اور اس بار ہما نے بھی اس سے تعاون کرتے ہوئے اپنی شرٹ اتروا لی ۔۔ اب دونوں جوان خوبصورت حسین لڑکیوں کے اوپری بدن صرف برا میں تھے ۔۔ دونوں بیڈ پر لیٹ گئیں اور زیب نے فوراََ ہی ہما کو اپنے سینے سے لگا لیا ۔۔ دونوں کے ممے اور ہونٹ جڑ گئے ۔۔ زیب کے ہاتھ ہما کی ملائم کمر کو سہلانے لگے ۔۔ اور ہما بھی آہستہ آہستہ زیب کی ننگی کمر کو سہلا رہی تھی ۔۔ ایسے ہی ایک دوسری کو کسنگ کرتے ہوئے دونوں سو گئیں ۔۔

ہما گیٹ تک ہی پہنچی تھی کہ اندر سے ڈاکٹر زمان تیزی سے باہر آیا اور جلدی سے ہما کے شوہر انور سے ہاتھ ملایا۔۔ اور بولا۔
زمان۔۔ ڈاکٹر ہما ۔۔ پلیز وہ روم نمبر 7 کے بارے میں تو بتاتی جائیں اور ایک نظر اسے دیکھ بھی لیں ۔۔

ہما نے حیرانی سے اسکی طرف دیکھا ۔۔ اور پھر انور کی طرف دیکھنے لگی۔۔

انور۔۔ جاؤ یار دیکھ آؤ جا کر میں ویٹ کرتا ہوں ۔۔

ہما واپس اندر چلی گئی ۔۔ اندر جاتے ہی جیسے ہی وہ انور کی نظروں سے اوجھل ہوئی تو زمان نے اسکا بازو پکڑ کر اسے اپنی بانہوں میں گھسیٹ لیا ۔۔ اور اپنے ہونٹ ہما کے ہونٹوں پر رکھ دیئے ۔۔ اور اسکو چومنے لگا۔۔

ہما ۔۔ اُوووووںںںںںںں۔۔۔ کیا کرتے ہو ۔۔ یہ کیا شرارت ہے ۔۔

زمان ۔۔ بس کیا کرؤں تم کو اسکے ساتھ جاتے ہوئے دیکھ کربرداشت نہیں ہوا تو تم کو بہانے سے اندر بلا لیا۔۔۔

ہما مسکرائی ۔۔ اے مسٹر۔۔ ہی از مائی ہسبنڈ۔۔ اس لیے اسکو مجھے لے جانے کا پورا پورا حق ہے ۔۔

زمان ہما کے ہونٹوں کو ایک بار پھر چومتا ہوا بولا ۔۔ اور میرا حق۔۔؟؟؟

ہما نے مسکرا کر زمان کے ہونٹوں کو چوما اور بولی ۔۔ تمھارا جو حق بنتا تھا وہ تم کو رات کو مل گیا ہے نا ۔۔ اور صبح کو بھی ۔۔ پھر بھی تمھارا دل نہیں بھرا کیا ۔۔

زمان ہما کو اپنی بانہوں میں کستے ہوئے بولا ۔۔ ہاں نہیں بھرتا دل ۔۔ کیا کرؤں اسکا۔۔

زیب بھی انکی طرف آگئی اور انکو دیکھ کر بولی ۔۔ ارے ڈاکٹر زمان اب جانے بھی دیں ڈاکٹر ہما کو ۔۔ آپ تو ایسے کر رہے ہیں جیسے کہ رات کو دوبارہ یہ آپکو نہیں ملیں گئیں۔۔

ہما اسکی بات سن کر مسکرا دی اور پھر زما ن کی بانہوں سے نکل کر خود کو تھوڑا ٹھیک کیا اور باہر کی طرف چلی گئی ۔۔ انور کار میں بیٹھا ہما کا انتظار کر رہا تھا اور اسکے آتے ہی دونوں گھر کو روانہ ہو گئے۔۔

انور کا ذہن ابھی بھی زیب کی طرف ہی تھا۔۔ اور اسکے ساتھ بیٹھی ہوئی اسکی بیوی ہما زمان کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔۔ اتنے میں اسکے موبائل پر میسج کی بیپ ہوئی ۔۔ ہما نے اپنا موبائل دیکھا تو اس پر زمان کا میسج تھا۔۔ پڑھا تو لکھا تھا ۔۔ شکریہ ڈاکٹر ہما ۔۔

ہما نے دھیرے سے مسکرا کر اسے جواب دیا۔۔ کس بات کا؟؟؟ حالانکہ اسے پتہ تھا کہ زمان کا اشارہ کس طرف ہے ۔۔

فوری ہی زمان کا جواب آیا۔۔ اس سب کا جو آپ نے مجھے دیا ہے ۔۔

ہما کی مسکراہٹ گہری ہو گئی ۔۔ اس نے جواب دیا ۔۔ بس بھی کر دو اب تم ۔۔

شکر ہوا کہ انور کا دھیان ہما کی طرف نہیں تھا ۔۔ اسکی نظروں کے سامنے تو پتلے سے کپڑے کی شرٹ میں ملبوس زیب کھڑی تھی جسکا برا بھی اسکی شرٹ کے نیچے سے جھانک رہا تھا ۔۔ زیب کی دعوت انگیز نظریں انور کو مست کر رہی تھیں ۔۔ ہما نے انور کی طرف دیکھا تو اسے کسی خیال میں کھویا ہوا دیکھ کر سمجھ گئی کہ وہ زیب کے بارے میں ہی سوچ رہا ہو گا۔۔ ہما کی نظریں انور کی گود کی طرف گئیں تو اسے وہاں اسکا لوڑے کا ابھار نظر آیا۔۔ ہما مسکرا دی ۔۔ اور اپنا ہاتھ بڑھا کر اسکا اکڑا ہوا لنڈ پکڑ لیا اور بولی ۔۔

ہسبنڈ جی کیا بات ہے آج تو یہ صبح صبح ہی تیار ہو گیا ہے ۔۔ آج آپکے ارادے خطرناک لگ رہے ہیں ۔۔

انورکی تو جیسے کوئی چوری پکڑی گئی ہو ۔۔ وہ جھینپ گیا۔۔ اور بولا ۔۔ ہاں بس ایسے ہی ۔۔


اپنی بلڈنگ پر پہنچے تو رات والا گارڈ ابھی بھی ڈیوٹی پر موجود تھا اسی نے دروازہ کھولا اور انور نے کار اندر داخل کر دی ۔۔ ہما کار سے اُتر گئی اور انور گاڑی پارک کرنے چلا گیا۔۔ کار پارک کر کے انور بھی آگیا تو دونوں لفٹ کے ذریعے اوپر اپنے فلور پر آگئے ۔ ہما نے جلدی سے ناشتہ بنایا اور انور اپنے آفس کے لیے نکل گیا۔۔ انور کے جانے کے بعد ہما کو خیال آیا کہ وہ تو نہائی بھی نہیں ہے زمان سے چدوانے کے بعد۔۔ ہما مسکرائی اور باتھ روم کی طرف چلی گئی ۔۔ اندر جا کر اس نے اپنے تما م کپڑے اتارے اور نہانے لگی ۔۔ اچھے سے اپنے جسم کو صاف کرتی ہوئی ۔۔

نہا کر ہما نے اپنے لیے چائے بنائی اور بیڈ پر بیٹھ کر پینے لگی ۔۔ اور رات کے ہوئے تمام واقعات کو سوچنے لگی ۔۔ ۔ ہما اپنے اس نئے ریلیشن کو انجوائے کر رہی تھی ۔۔۔ یہ حیرت کی بات تھی کہ جو کچھ اس نے پچھلی رات میں کیا تھا ۔۔۔ جو بےوفائی اس نے اپنے شوہر کے ساتھ کی تھی اس پر اسے کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔۔ نہ ہی کوئی گناہ کا احساس ہو رہا تھا۔۔۔ بلکہ اس سب کو یاد کر تے ہوئے اسے اچھا لگ رہا تھا ۔۔ اور اسکا ہاتھ خود سے ہی اپنی چوت پر بھی چلا گیا تھا ۔۔ جو کہ اسے تھوڑی تھوڑی گیلی ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔۔ ہما نے آنکھیں بند کیں اور زمان کا چہرہ اپنی نظروں کے سامنے لاتے ہوئے اپنی چوت کو سہلانے لگی ۔۔

اُدھر ہما کے جانے کے بعد ایک ایمرجنسی مریض آیا۔۔ ڈاکٹر زمان اور زیب دیکھنے لگے۔۔ زمان چیک کر رہا تھا تو زیب بلکل اسکے قریب کھڑی تھی ۔۔ اسکا جسم زمان سے بہت قریب تھا۔۔ ایک بار تو زمان کی کہنی زیب کی چھاتی سے ٹکرائی ۔۔ مگر زیب نے کوئی بھی حرکت نہیں کی ۔۔ بلکہ کچھ ہی دیر کے بعد خود سے آہستہ سے اپنی چھاتی کو ڈاکٹر زمان کی بازو سے چھونے لگی ۔۔ دونوں کو احساس ہو رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے ۔۔ مریض کے جانے کے بعد زیب نرسنگ کاؤنٹر پر کھڑی تھی کہ پیچھے سے زمان بھی وہیں آیا اور زیب کے پیچھے سے گزرتے ہوئے بے خیالی کے انداز میں اپنا ہاتھ زیب کی گانڈ سے سہلا دیا۔۔ زیب نے چونک کر زمان کی طرف دیکھا ۔۔ اور مسکرا دی۔۔ زمان بھی مسکرا دیا۔۔ اور آہستہ سے بولا ۔۔ سوری۔۔

زیب۔۔ کوئی بات نہیں ۔۔ ویسے آجکل آپکے ہاتھ بہت بے قابوہو رہے ہیں ۔۔ جہاں کوئی خوبصورت لڑکی دیکھتے ہیں تو بہکنے لگتے ہیں ۔۔

زمان نے اسکی طرف سے اجازت دیکھتے ہوئے دھیرے سے اپنا ہاتھ اب اسکی ابھری ہوئی گانڈ پر رکھ دیا۔۔ اور اسے اپنے ہاتھ میں دبوچ کر زور سے دباتا ہوا بولا۔۔ کیا کروں برداشت ہی نہیں ہوتا نا۔۔

زیب۔۔ آؤچ چ چ چ چ چ چ۔۔۔۔۔ سی ی ی ی ی ی ی ی ۔۔۔ دھیرے نا۔۔۔

زمان نے جب زیب کو اپنے قابو میں آتے ہوئے دیکھا تو اسکا ہاتھ پکڑا اور ساتھ ہی موجود اپنے آفس میں اسے کھینچ کر لے گیا۔۔ زیب بھی کھل کھلا کر ہنستی ہوئی اسکے ساتھ اندر آگئی ۔۔۔ اندر جاتے ہی زمان نے زیب کو اپنی بانہوں میں بھر لیا اور اپنے ہونٹ اسکے ہونٹوں پر رکھ دیئے ۔۔۔ زیب تو پہلے سے ہی زمان پر فریفتہ تھی ۔۔ فوراََ ہی اس سے لپٹ گئی ۔۔ اور خود بھی زمان کے ہونٹوں کو چومنے لگی ۔۔۔ اپنی زبان کو زمان کے منہ کے اندر ڈالنے لگی ۔۔ زمان نے اسکی زبان کو چوستے ہوئے اپنے ہاتھوں سے اسکے جسم کو سہلانا شروع کر دیا۔۔ زیب کی کمر پر اسکی برا کی اسٹریپس اور ہک زمان کے ہاتھوں کو محسوس ہو رہے تھے ۔۔ زمان نے زیب کی شرٹ کے نیچے سے اپنا ہاتھ ڈالا اور اسکی ننگی کمر پر رکھ دیا۔۔ زیب تڑپ اٹھی ۔۔ اور اپنے مموں کو زمان کے سینے میں گھسانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔ دوسرا ہاتھ زمان نے زیب کی یونیفارم کے پاجامے میں ڈالا اور اسکی ننگی گانڈ کو سہلانے لگا۔۔ زمان کا قد زیب سے لمبا تھا۔۔ اس نے اپنا ہاتھ اسکی گانڈ سے نیچے لے جا کر اسکی چوت کو سہلانا شروع کر دیا۔۔ زیب کے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں ۔۔ زمان بھی کبھی اسکے گالوں کو چومنے لگتا۔۔ تو کبھی اسکی گوری گوری گردن کو کس کرنے لگتا۔۔ اسکا لوڑا ایک بار پھر سے اکڑ چکا تھا ۔۔ اور زیب کے پیٹ سے ٹکرا رہا تھا۔۔ آخر زمان نے خود ہی زیب کا ہاتھ پکڑ کر اپنی پینٹ کے اوپر سے ہی اپنے لوڑے پر رکھا اور زیب نے اسکے لنڈ کو سہلانا شروع کر دیا۔۔

جب زیادہ دیر برداشت نہیں ہو سکا تو زمان نے زیب کی شرٹ کو اتارنا چاہا۔۔ زیب نے اسے روک دیا۔۔ نہیں پلیز ڈاکٹر زمان ابھی نہیں ۔۔ رات کوکر لیجیئے گا جو کرنا ہے ۔۔

زمان۔۔ کیوں ۔۔ ابھی کیوں نہیں۔۔ رات کو تو ہما بھی ہو گی ۔۔

زیب زمان کے سینے پر ہاتھ پھیرتی ہوئی ایک ادا سے بولی ۔۔ تو کیا ڈاکٹر ہما کے سامنے ہم سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتے آپ ۔۔؟؟؟؟

زمان زیب کے ممے کو سہلاتا ہوا بولا نہیں نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ۔۔ میں تو تم دونوں کو ایک ساتھ چودنا چاہتا ہوں ۔۔ لیکن پہلی بار کے لیے صرف ہم دو ہی ہوں تو زیادہ اچھا ہے نا۔۔

زیب زمان کے ہونٹوں کو چوم کر بولی ۔۔ اگر یہ بات ہے تو پھر کہیں باہر لے چلیں مجھے ۔۔

زمان زیب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا ۔۔ چلو گی؟؟؟

زیب نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے اسکے لوڑے کو مٹھی میں دبایا اور بولی ۔۔ اسکے لیے تو کہیں بھی چلوں گی۔۔۔

زمان ہنس پڑا۔۔ ٹھیک ہے ڈیوٹی ختم کر کے میرے ساتھ چلو۔۔ میرا ایک گھر ہے وہاں چلتے ہیں ۔۔

زیب۔۔ اوکے ڈیئر۔۔

زمان نے ایک بار پھر اسے کس کیا اور دونوں باہر آگئے ۔۔

8 بجے دونوں کی ڈیوٹی ختم ہوئی تو زمان زیب کو اپنی کار میں لے کر ہاسپٹل سے نکل پڑا۔۔ جیسے ہی کار ہاسپٹل سے نکلی تو زمان نے اپنا ہاتھ زیب کی رانوں کے درمیان رکھ دیا۔۔ زیب نے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ کے اوپر رکھا ۔۔ اور بولی ۔۔ آپکے ساتھ ہی جا رہی ہوں ۔۔ اتنی بے صبری کیوں ہو رہی ہے جی۔۔

زمان ہنس پڑا اور اسکے ممے کو بھی ایک بار دبا دیا۔۔ اور اسکا ہاتھ کھینچ کر اپنی پینٹ کے اوپر سے ہی اپنے اکڑے ہوئے لوڑے پر رکھ دیا۔۔ زیب اسکی حالت کو دیکھ کر مسکرا دی۔۔

زیب۔۔ کمال ہے ڈاکٹر زمان ۔۔ ساری رات ڈاکٹر ہما جیسی خوبصورت لڑکی کے ساتھ گزارنے کے بعد بھی آپکی یہ حالت ہے ؟؟؟؟

زمان ۔۔ یہ تو تمھارے حسن کی گرمی ہے میری جان ۔۔

زیب مسکرائی ۔۔ اور اسکے لوڑے کو زور سے اپنی مٹھی میں دباکر بولی ۔۔ آج میں اسکی ساری گرمی نکال دوں گی ۔۔

زمان مسکرایا۔۔ تھوڑی رات کو ہما کے لیے بھی رہنے دینے یار۔۔

زمان کی اس بات پر دونوں ہنسنے لگے ۔۔

زیب بولی ۔۔ ڈاکٹر زمان ۔۔ ویسے آپ نے زبردست لڑکی پٹا لی ہے ۔۔ سچ بتا رہی ہوں میں آپکو وہ کبھی بھی ایسی نہیں رہیں ۔۔ مگر آپکے ساتھ یہ سب کچھ کرنے پر پتہ نہیں کیسے تیار ہوگئی۔۔ اور اب آپکی ہوگئی ہے تو آپکے تو مزے ہی مزے ہیں ۔۔

دونوں مسکرانے لگے ۔۔ زمان زیب کو ایک اچھے سے ریسٹورنٹ میں لے آیا۔۔ وہاں انہوں نے ناشتہ کیا۔۔ اور پھر وہ اسے اپنے ایک الگ سے لیے ہوئے چھوٹے سے گھر پر آگیا۔۔ چھوٹا سا مگر صاف ستھرا گھر تھا۔۔ اور اچھا سجا ہوا تھا۔۔ امارت نظر آتی تھی۔۔ زیب نے اپنا ہینڈ بیگ صوفے پر رکھا اور اپنا دوپٹہ بھی اتار کر بیٹھ گئی ۔۔ اتنے میں زمان اندر سے دو گلاس اور شراب کی بوتل لے آیا۔۔

زیب نے اسکے ہاتھ میں شراب کی بوتل دیکھی تو مسکرا کر بولی ۔۔ اچھا تو یہ شوق بھی کرتے ہیں آپ۔۔

زمان اسکے قریب بیٹھ کر دونوں گلاسوں میں شراب ڈالتے ہوئے بولا۔۔ جی ہاں سبھی شوق ہیں جناب۔۔

زمان نے زیب کی طرف شراب کا گلاس بڑھایا تووہ مسکرا کر بولی ۔۔ آپ کو کیسے یقین ہے کہ میں بھی پیتی ہوں گی ۔۔

زمان زیب کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا ۔۔ تمھاری آنکھوں سے جو شراب چھلک رہی ہے اس سے ہی مجھے یقین ہو رہا ہے میری جان ۔۔ یہ کہتے ہوئے زمان نے اپنا گلاس اسکے ہونٹوں سے لگا دیا۔۔ اور زیب نے پہلا گھونٹ لے لیا۔۔ اور پھر اپنا گلاس بھی اسکے ہاتھ سے پکڑ لیا۔۔ زمان نے ایک ہاتھ میں اپنا گلاس لیا۔۔ اور دوسرا بازو زیب کی گردن کے پیچھے سے ڈالکر اسے اپنے ساتھ چپکا لیا۔۔ اسکا ہاتھ اسکے کندھے پر سے اسکے سینے کے ابھار پر آگیا۔۔ اور وہ اسکو سہلاتے ہوئے پینے لگا۔۔

ایک ایک پیگ پینے کے بعد زمان نے دونوں گلاس رکھے اور پھر زیب کو اپنی بانہوں میں کھینچ لیا۔۔ وہ بھی اسکے سینے پر لڑھک سی گئی ۔۔ زمان نے اسکے ہونٹوں کو چومنا شروع کر دیا۔۔ اور اسکے ہاتھ زیب کی کمر کو سہلانے لگے ۔۔ زمان نے اسکی شرٹ کو اوپر کی طرف کھینچنا شروع کیا تو زیب نے سیدھی ہو کر اپنی شرٹ نیچے سے پکڑ کر اوپر اٹھائی اور اپنے جسم سے الگ کر دی ۔۔ اب اسکا گورا گورا اوپری بدن بلکل ننگا تھا ۔۔ سوائے اسکی کالے رنگ کی برا کے ۔۔ جو کہ اسکے گورے گورے جسم پر بہت ہی جچ رہی تھی ۔۔ زمان نے فوراََ ہی اپنے دونوں ہاتھ زیب کی کالی برا کے اوپر سے ہی اسکی چھاتیوں پر رکھ دیئے ۔۔

زمان ۔۔ بہت دنوں کی حسرت انکو دیکھنے کی ۔۔

زیب مسکرائی۔۔ تو کہہ دیتے ۔۔

زمان ۔۔ بس ہمت ہی نہیں ہوئی چانس مارنے کی ۔۔ یہ کہتے ہوئے زمان نے اسکی برا کو نیچے کو کھینچ دیا۔۔ اور اسکے گورے گورے ممے ننگے کر دیئے ۔۔ گول گول ممے ۔۔ جن کے سروں پر گلابی نپل تنے ہوئے تھے ۔۔ ہما کے مموں سے چھوٹے ہی تھی ۔۔ مگر خوبصورت ویسے ہی لگ رہے تھے ۔۔ زمان نے اسکے نپلز کو اپنی انگلیوں میں لے کر مسلا ۔۔ اور پھر اپنے ہونٹ اسکے ایک نپل پر رکھ کر اسے چوسنے لگا۔۔ چوستے ہوئے اسکو اپنی زبان سے رگڑنے بھی لگا۔۔ چوستے ہوئے اسکے نپل کو کھینچتا اپنے ہونٹوں سے ۔۔ اور پیچھے سے اسکا ایک ہاتھ زیب کی ننگی کمر کو سہلا رہا تھا ۔۔

تھوڑی دیر تک دونوں ایک دوسرے کو اسی طرح چومتے اور چوستے رہے ۔۔ پھر زمان نے اسے صوفے پر سیدھا کر کے لٹایا ۔۔ اور خود نیچے کھڑے ہو کر اسکا پاجامہ بھی کھینچ کر اتاردیا۔۔۔ زیب کی خوبصورت چوت اسکے سامنے ننگی تھی۔۔ زمان نے اسکی ٹانگوں کو کھولا اور نیچے بیٹھ کر اپنے ہونٹ اسکی گلابی چوت پر رکھ دیئے ۔۔ زیب کے منہ سے سسکاری نکل گئی ۔۔ زمان نے اپنی زبان اسکی چوت پر چلاتے ہوئے اسکی چوت کو چاٹنا شروع کردیا۔۔ کبھی اپنی زبان کو اسکی چوت کے اندر لے جاتا ۔۔ اور اندر سے چاٹنے لگتا۔۔ اور کبھی اسکی چوت کے دانے کو اپنی زبان کی نوک سے سہلانے لگتا۔۔ زیب کا لذت کے مارے برا حال ہو رہا تھا۔۔ وہ زمان کے سر کو اپنی چوت پر دبا رہی تھی ۔۔ اسکے بالوں کو کھینچ رہی تھی ۔۔ اور اپنی ٹانگوں کو اسکے پیچھے لپیٹ رہی تھی ۔۔ اسکے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں ۔۔۔

زمان کھڑا ہوا ۔۔ اور اپنی پینٹ کھولنے لگا۔۔ پینٹ کو اپنے جسم سے نیچے سرکانے کے بعد اپنا انڈرویئر بھی اتار دیا۔۔ اسکا لوڑا زیب کے سامنے لہرانے لگا۔۔ زیب فوراََ ہی اُٹھ کر بیٹھ گئی ۔۔ بنا اسکے لنڈ کو چُھوئے اسکی ٹوپی کو چوما۔۔ اور پھر اپنا منہ کھول دیا۔۔ زمان نے آہستہ سے اپنا لنڈ اسکے منہ کے اندر رکھ دیا۔۔ زیب نے اسکی ٹوپی کے نچلے حصے پر اپنی زبان پھیرنی شروع کر دی ۔۔ زبان کی نوک سے لنڈ کے نچلے حصے کو سہلانے لگی ۔۔ زمان نے بھی آہستہ آہستہ اپنا لوڑا زیب کے منہ کے اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔ خود کو آگے پیچھے کرتے ہوئے ۔۔ زیب نے اپنے ہونٹوں کو اسکے لوڑے کے گرد بند کر لیا اور اسکے لنڈ کو چوسنے لگی ۔۔ اپنے منہ کو آگے پیچھے کرتی ہوئی ۔۔ اسکا دوسرا ہاتھ زمان کے ٹٹوں کو سہلانے لگا۔۔ ان سے کھیلنے لگا۔۔ زمان نے اپنا ہاتھ زیب کے سر پر رکھا اور اپنا لوڑا اسکے منہ کے اندر باہر کرنے لگا۔۔ لنڈ کی ٹوپی زیب کے حلق سے جا کر ٹکراتی۔۔

چند منٹ تک زیب کو اپنا لوڑا چسوانے کے بعد زمان نے اسے صوفے پر ہی سیدھا کیا۔۔ اور اسکی ٹانگوں کو پھیلا کر اپنے لوڑے کو اسکی چوت پر رگڑنے لگا۔۔ اوپر نیچے کو گھسنے لگا۔۔ اسکی چوت کے دانے کو سہلانے لگا۔۔ زیب کے تھوک سے زمان کا لوڑا گیلا ہو رہا تھا۔۔ اب اسکی چوت کا پانی بھی اسکے لوڑے کو گیلا کرنے لگا۔۔

زیب۔۔ ڈال دو اندر اب پلیز۔۔ اور نہیں تڑپاؤ۔۔۔

زمان مسکرایا۔۔ اور اپنے لوڑے پر دباؤ بڑھا تے ہوئے اپنے لوڑے کی ٹوپی کو اسکی چوت کے اندر سرکا دیا۔۔ زیب کے منہ سے ایک سسکاری نکل گئی ۔۔ اب زمان نے بنا رکے اپنا لوڑا اسکے چوت کے اندر پورے کا پورا اتار دیا۔۔ دونوں کے بال ایکدوسرے سے ٹچ ہونے لگے ۔۔ زمان نے اپنا لوڑا اب زیب کی چوت میں اندر باہر کرتے ہوئے اسے چودنا شروع کر دیا۔۔ زیب بھی اپنی ٹانگیں اٹھائے اس سے چدوا رہی تھی ۔۔ اسکے منہ سے آہ ۔۔ آہ ۔۔ اُوووووو۔۔۔ کی آوازیں نکل رہی تھیں ۔۔۔ زمان کا موٹا لوڑا جڑ تک زیب کی چوت کے اندر باہر ہو رہا تھا ۔۔ زمان نے زیب کی ٹانگوں کو ہوا میں اٹھا کر دھنا دھن اسے چودنا شروع کر دیا۔۔ کچھ دیر کے بعد اسے صوفے پر ہی گھوڑی بنایا ۔۔ اور پیچھے سے اپنا لوڑا اسکی چوت کے سوراخ پر رکھا ۔۔ اور اسکی گانڈ کو پکڑ کر اپنا لنڈ اسکی چوت کے اندر ڈال دیا۔۔ زیب نے ایک لمبی آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ کے ساتھ اسکا پورا لوڑا اپنی چوت میں لے لیا۔۔ زمان نے اب اسکی کمر کو اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر پیچھے سے گھسے مارنے لگا۔۔ ایک ہی دن میں دو نئی چوتیں پا کر زمان کا لوڑا پاگل ہو رہا تھا ۔۔۔ کبھی زمان اسکی کمر کو چھوڑ کر اپنے ہاتھ آگے لے جا کر اسکے مموں کو پکڑ کر دھکے مارنے لگتا۔۔ قریب 15 منٹ تک زمان اسکی چُدائی کرتا رہا۔۔ اس دوران زیب کی چوت نے دو بار پانی چھوڑ دیا۔۔ اور آخر کار زمان کے لنڈ نے بھی اپنا پانی زیب کی چوت میں نکال دیا۔۔ دونوں صوفے پر ایکدوسرے کی بانہوں میں لیٹ گئے ۔۔

زمان اسکے نپل سے کھیلتے ہوئے بولا۔۔ تم بھی کنواری نہیں ہو۔۔؟؟؟ وہ نرسز کے بارے میں ٹھیک ہی کہتے ہیں نا پھر کہ نرس کنواری نہیں ہوتی ۔۔

زیب مسکرائی ۔۔ کیوں ۔۔ آجکل تو آپکی لیڈی ڈاکٹرز بھی کنواری نہیں ہوتیں جناب۔۔

زمان مسکرایا۔۔ ہاں یہ تو ہے ۔۔

زیب۔۔ ویسے زمان صاحب ۔۔ آج کے دور میں تو کنواری ۔۔ سیل پیک چوت تو بس قسمت والوں کو ہی ملتی ہے ۔۔

دونوں مسکرانے لگے ۔۔ تھوڑی دیر ریسٹ کرنے کے بعد زمان نے ایک بار پھر زیب کو چودا اور پھر وہ اسے ہوسٹل چھوڑ آیا۔


ہاسپٹل جانے کے لئے آج تو ہما سپیشل تیار ہو رہی تھی ۔۔ اس نے ایک خوبصورت سا شلوار قمیض نکال کر پہنا ۔۔ جسکا گلا بھی تھوڑا گہرا ہی تھا ۔۔ اور بنا جھکے ہی اسکی چھاتیوں کی درمیانی لکیر نظر آتی تھی ۔۔ اور جھکنے پر تو اسکے مموں کا کچھ حصہ بھی آسانی سی دیکھا جاسکتا تھا ۔۔ نیچے سے اس نے ٹائٹ سا برینڈڈ برا پہنا تھا ۔۔ ہاف کپ ۔۔ جسکی لائننگ اسکی پتلی شرٹ کے اوپر سے صاف دکھ رہی تھی ۔۔ اور صاف پتہ چلتا تھا کہ اسکی برا نے اسکے آدھے مموں کو ڈھانپا ہوا ہے ۔۔ روٹین سے زیادہ اس نے میک اپ بھی کیا تھا ۔۔ اور آج تو ہما قیامت ہی لگ رہی تھی ۔۔ اسکے ہونٹوں کی سرخی دیکھ کر کسی کا بھی دل انکو چومنے کے لیے مچلنے سے نہیں رہ سکتا تھا ۔۔ تیار ہو کر خود کو آئینے میں دیکھا تو ہما مسکرا دی ۔۔ اور خود سے ہی بولی ۔۔ ہما ڈارلنگ ۔۔ آج تو تم چدنے سے نہیں بچ سکتی ۔۔ اور ہما خود کونسا بچنا چاہتی تھی ۔۔ اب وہ جس راہ پر چل نکلی تھی وہ اسکو انجوائے کرنے لگی تھی ۔۔

رات کو جب انور نے ہما کو ہاسپٹل میں ڈراپ کیا تو ہما کے ذہن میں ایسے ہی خیال آٰیا کہ اسکا شوہر خود اسے ایک دوسرے مرد کے ساتھ سیکس کرنے کے لیے چھوڑ کر جا رہا تھا ۔۔ ایک لمحے کے لیے ہما کو تھوڑی شرمندگی محسوس ہوئی اور خود کو غلط پایا۔۔ لیکن پھر اسے خیال آٰیا کہ انور بھی تو ذرا سا موقع ملنے پر یہی سب کچھ کرنے والا ہے نا ۔۔ تو پھر میں ایسا کیوں نا کروں ۔۔ یہ خیال آتے ہی اس نے اپنی شرمندگی کو جھٹک کر دور کیا اور پھرہاسپٹل کے اندر چلی گئی ۔۔

زیب آچکی ہوئی تھی ۔۔ جیسے ہی اس نے ہما کو دیکھا تو اپنے ہونٹ سکیڑ کر سیٹی بجائی ۔۔ جسے سن کر ہما شرما گئی ۔۔

زیب ۔۔ ڈاکٹر ہما ۔۔ آج تو لگتا ہے کہ مکمل تیاری کر کے آئی ہوئی ہیں ڈاکٹر زمان کو پورے پورے مزے دینے کے ۔۔ میرا تو دل کر رہا ہے کہ ان سے پہلے میں خود آپکے ان رسیلے ہونٹوں کا رس چوس لوں ۔۔

ہما اسکے خطرناک ارادوں کو دیکھ کر فوراََ وہاں سے کھسک گئی ۔۔ اور اپنے کمرے میں آگئی ۔۔ ڈاکٹر زمان شاید ابھی نہیں آیا تھا ۔۔ وہ اپنے آفس میں صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی کہ رشید صفائی کرنے کے لیے آگیا۔۔ رشید بھی اس ہاسپٹل کا ایک کریکٹر تھا۔۔ 40- 35 سال کا ہٹا کٹا مرد تھا ۔۔ درمیانہ قد ۔۔ لیکن مضبوط بھاری بھرکم جسم۔ کالا سیاہ رنگ۔۔ ایک کان میں چاندی کی بالی پہنی ہوئی تھی ۔۔ پان اور سگریٹ اسکی عادت تھی ۔۔ ۔ موٹے کالے ہونٹ ۔۔ اور سیاہ چہرہ ۔۔ بہت ہی بد صورت آدمی تھا یہ رشید۔۔ جیسا اسکا حلیہ تھا ویسی ہی اسکی نوکری تھی ۔۔ ہاسپٹل میں کلینر کی نوکری کرتا تھا ۔ یعنی جمعدار۔۔ سرکاری جاب بھی تھی یہاں نائٹ پر پارٹ ٹائم ڈیوٹی کرتا تھا۔۔ سرکاری ہسپتالوں کا یہ نچلا عملہ تو بس شکاری ہی ہوتا ہے ۔۔ جیسے ہی کوئی خوبصورت لڑکی نظر آئی اسکے اردگرد منڈلانے لگتے ہیں اور اکثر اوقات تو یہ لوگ کامیاب بھی ہو جاتے ہیں اپنا شکار قابو کرنے میں ۔۔ رشید بھی ایسی ہی چیز تھا۔۔ بہت ہی ٹھرکی اور ہوس سے بھرا ہوا۔۔ کسی بھی لڑکی کو تاڑنے سے باز نہیں رہتا تھا ۔۔ چاہے وہ کوئی نرس ہو یا کوئی لیڈی ڈاکٹر۔۔ اور ڈاکٹر ہما تو اس کی پسندیدہ لڑکی تھی ۔۔ وہ ہمیشہ ہی اسکی خوبصورتی پر اپنی لاڑ ٹپکاتا رہتا تھا ۔۔ ہما کو بھی اس بات کا احساس تھا۔۔ اسی لیے وہ اسکو نا پسند کرتی تھی ۔۔ اسے دیکھتے ہی اسکے ماتھے پر بل پڑ جاتے تھے ۔۔ کیونکہ اسکی نظریں اسکے جسم کو ناپتی رہتی تھیں ۔۔ اسی وجہ سے ہما اس سے نفرت کرتی تھی ۔۔

اب بھی کمرے میں صفائی کرنے آیا تو ہما کو دیکھنے لگا۔۔ اسے بھی احساس ہوا کہ آج ہما ہر روز سے کچھ زیادہ ہی خوبصورت لگ رہی ہے ۔۔ اسکی نظریں بار بار ہما کی ننگی ہو رہی ہوئی گوری گوری پنڈلیوں پر جا رہی تھیں ۔۔ صفائی کرتے ہوئے وہ رہ نہیں پایا اور بول ہی پڑا۔۔ میڈم جی ۔۔ آج تو آپ بہت پیاری لگ رہی ہو ۔۔

ہما نے چونک کر اسکی طرف دیکھا ۔۔ اور ناگواری سے بولی ۔۔ تم کو اس سے کیا مطلب ؟؟؟ تم اپنے کام سے کام رکھو۔۔

رشید۔۔ وہ میڈم جی میں تو ویسے ہی کہہ رہا تھا ۔۔۔ جو سچ بات ہے میں نے کہہ دی بس۔۔

ہما۔۔ اپنی اوقات میں رہا کرو ۔۔ سمجھے ۔۔ اور آئندہ میں تمھارے منہ سے ایسی بات نہ سنوں

رشید چپ کر گیا۔۔ اور اپنا کام کرنے لگا۔۔ مگر اسکی ہوسناک ٹھرکی نظریں کہاں باز آنے والی تھیں ۔۔ وہ ابھی بھی بار بار ہما کے جسم کو ہی تاڑ رہی تھی ۔ ۔ آخر اس کا کام مکمل ہوا اور وہ کمرے سے نکل گیا۔۔ تھوڑی دیر میں ہما کو ایک سینئر ڈاکٹر کے ساتھ آپریشن تھیٹر جانا پڑ گیا۔۔ اس نے اپنے آفس میں اپنے کپڑے اتارے اور انکو کھونٹی پر لٹکا کر آپریشن تھیٹر کا لباس پہن لیا اور اندر چلی گئی ۔۔ رشید نے بھی ہما کو آپریشن تھیٹر جاتے ہوئے دیکھا تو ماحول سازگار دیکھ کر وہ ہما کے آفس میں کھسک آیا۔۔ وہاں اسے ہما کا لباس نظر آیا۔۔ وہ فوراََ آگے بڑھا۔۔ اور اسے کھونٹی پر سے اتار لیا۔۔ اسے اپنے ہاتھوں میں لے کر انکی خوشبو سونگھنے لگا۔۔ ہما کے لباس کی خوشبو کو سونگھتے ہی رشید کی آنکھیں بند ہونے لگیں ۔۔ بہت ہی پیاری اور مست خوشبو آرہی تھی ۔۔ ہما کے جسم کی خوشبو بھی اس میں تھی اور اسکے پرفیوم کی بھی ۔۔

رشید نے ہما کی شلوار کو پکڑا اور اسکی چوت والے حصے کو اپنی ناک سے لگا کر سونگھنے لگا۔۔ وہاں پر تو صرف ہما کی چوت کی خوشبو تھی ۔۔ بھینی بھینی ۔۔ مست کر دینے والی ۔۔ جتنا وہ سونگھتا جاتا اتنی ہی اسکی ہوس بڑھتی جاتی ۔۔ اسکا لوڑا بھی اکڑنے لگا تھا ۔۔ اس نے اپنا لوڑا باہر نکالا اور ہما کی شلوار کو اپنے کالے لوڑے پر لپیٹ کر اسے رگڑنے لگا۔۔ ملائم شلوار کی رگڑائی سے اسے بے حد مزہ آرہا تھا ۔۔ لوڑے پر سے کپڑا پھسلتا جا رہا تھا ۔۔۔ اور رشید دوسرے ہاتھ سے ہما کی قمیض کو سونگھ رہاتھا۔۔ اسے احساس تھا کہ اگر اسکا پانی ڈاکٹر ہما کے کپڑوں پر لگ گیا تو اسکے لیے اچھا نہیں ہو گا۔۔ آخر اس نے خود پر قابو پایا اور پھر ہما کے کپڑے واپس لٹکا کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔ ہما واپس آئی اور آکر اپنے کپڑے پہننے لگی تو اسے احسا س ہوا کہ اسکے کپڑوں پر کافی سلوٹیں پڑی ہوئی ہیں ۔۔ ہما کو کچھ سمجھ نہیں آئی ۔۔ وہ اپنے کپڑوں کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگی ۔۔ اپنی شلوار پر ایک جگہ اسکو ایک چھوٹا سا سرخ سرخ نشان نظر آیا۔۔ وہ حیران ہوئی اور اسے دیکھنے لگی کہ یہ کس چیز کا نشان ہو سکتا ہے ۔۔ کوئی بلڈ ہے یا کچھ اور۔ ۔ جب کچھ سمجھ نہیں آیا تو اس نے خاموشی سے اپنے کپڑے پہنے اور باہر آگئی ۔۔ باہر آئی تو رشید پھر اسکو دیکھ رہا تھا ۔۔ اسکا لوڑا یہ سوچ کر ہی ٹائٹ ہونے لگا کہ ابھی کچھ دیر پہلے وہ ڈاکٹر ہما کی چوت کی خوشبو سونگھ چکا ہے ۔۔ اور اسکی شلوار سے اپنی مٹھ بھی ماری ہے ۔۔ ہما نے جب رشید کو پان چباتے ہوئے دیکھا تو ایک لمحے کے لیے اسے خیال آیا کہ کہیں یہ اسکے پان کا نشان تو نہیں ہے ۔۔ ہو بھی سکتا ہے کہ اس کمینے نے اندر جا کر میرے کپڑوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ہو ۔۔ ہما کی نظروں میں خود بخود ہی اسکے لیے غصہ آگیا۔۔ مگر وہ اسے کچھ نہ بولی ۔۔ آخر کہتی بھی کیا۔۔ کیونکہ اسے خود یقین نہیں تھا ۔۔

رات کے 2 بجے تو سب طرف سکون ہی سکون ہوگیا۔۔ رشید بھی حسب معمول کہیں پڑ کر سو چکا تھا۔۔ مگر ڈاکٹر ہما، زمان اور زیب جاگ رہے تھے ۔۔ زمان نے ہما کا ہاتھ پکڑا اور آج پھر سیکنڈ فلور کی طرف لے جانے لگا۔۔ ہما نے کوئی اعتراض نہیں کیا اور مسکراتی ہوئی اسکے ساتھ چل پڑی ۔۔ لفٹ کے اندر جاتے ہی زمان نے ہما کو اپنی بانہوں میں بھر لیا۔۔ ہما کسمسائی ۔۔ تھوڑا صبر تو کرو نا ۔۔ میں کہیں بھاگی تو نہیں جا رہی نا۔۔ تمھارے ساتھ ہی جارہی ہوں نا۔۔ مگر زمان کہاں اسے چھوڑنے والا تھا۔۔ اتنی سی دیر کے لیے بھی اسکو چومتا رہا۔۔

اندر کمرے میں جاتے ہی اس نے ایک بار پھر سے ہما کو اپنی بانہوں میں لیا اور اسکی کمر کو سہلاتے ہوئے اسکی گانڈ کو دبانے لگا۔۔ پھر اس نے ہما کی شرٹ کو پکڑ کر اوپر کو اُٹھاتے ہوئے اسے اتار دیا۔۔ ہما کا اوپری جسم ننگا ہو گیا۔۔ اسکے ممے آدھے اسکی برا میں سے چھلک رہے تھے ۔۔ جیسے ہی زمان کی نظر ان پر پڑی تو وہ نیچے جھک کر اسکی چھاتیوں اور انکے درمیان کی لکیر کو چومنے لگا۔۔ ہما نے بھی اسکا سر اپنے سینے پر دبا لیا۔۔ اور لذت سے آنکھیں بند کر لیں ۔۔ زمان نے ہما کی برا کے ایک کپ کو نیچے کھینچا اور اسکا ایک مما ننگا کر لیا۔۔ اور اسکے گلابی نپل کو منہ میں لے کر چوسنے لگا۔۔ پھر اپنے دانتوں کے بیچ میں لیا اور انکو آہستہ آہستہ کاٹنے لگا۔۔ ہما کا مزے سے برا حال ہو رہا تھا ۔۔ کچھ ہی دیر کے بعد ہما نے بھی اپنا ایک بازو زمان کی گردن کے پیچھے ڈالا اور دوسرا ہاتھ نیچے لے جاکر اسکے لوڑے کو پکڑ لیا۔۔ اور اسکی پینٹ کے اوپر سے ہی اسکو سہلانے لگی۔۔ جب اسکی تسلی نہیں ہوئی تو اس نے زمان کی پینٹ کی بیلٹ کھولی اور اسکی پینٹ کو نیچے سرکا دیا۔۔ اور اپنا ہاتھ اسکے انڈرویئر کے اندر ڈال کر اسکے لوڑے کو پکڑ کر باہر کھینچ نکالا۔۔ اور اپنی مٹھی میں لے کر اسکے اکڑے ہوئے لوڑے کو مسلنے لگی ۔۔

زمان نے ہما کے مموں پر سے اپنا منہ ہٹایا۔۔ اور ایک بار پھر ہما کے ہونٹوں کو چومنے لگا۔۔ پھر اسکے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسے نیچے کو بٹھانے لگا۔۔ ہما اسکا مطلب سمجھ رہی تھی ۔۔ وہ بھی بنا مزاحمت کیے نیچے بیٹھ گئی ۔۔ اب زمان کا اکڑا ہوا لنڈ ہما کے چہرے کے سامنے لہرا رہا تھا۔۔ ہما نے مسکرا کر زمان کی آنکھوں میں دیکھا اور اسکے گورے چٹے لوڑے کو اپنے ہاتھ میں پکڑلیا۔۔ اور اپنے ہونٹ آگے لے جاکر اسکے ٹوپے کو چوم لیا۔۔ پھر اپنی زبان باہر نکال کر اسے چاٹنے لگی۔۔ ہما نے زمان کے لوڑے کی ٹوپی کو چاٹنے کے بعد اسے نیچے سے اوپر تک اپنی زبان سے چاٹنا شروع کر دیا۔۔ اسکے لوڑے کو اپنے تھوک سے گیلا کرنے لگی۔۔ کبھی اسے منہ کے اندر لیتی اور اپنا سر آگے پیچھے کو کرتی ہوئی اسکا لوڑا اپنے منہ میں اندر باہر کرنے لگتی ۔۔ اسکے حلق اور منہ سے اسکا گاڑھا گاڑھا تھوک نکل نکل کر اسکے لوڑے پر لگ رہا تھا ۔۔ اور ہماکی مستی بھی بڑھتی جا رہی تھی ۔۔ وہ بار بار اسکے لوڑے کو اپنے منہ میں لیتی اور اسے چوستی ۔۔ کبھی کبھی زمان دھکا لگاتا تو اسکا لوڑا ہما کے حلق سے بھی ٹکراتا۔۔ تھوڑی ہی دیر میں دونوں اپنے اپنے لباس سے بے نیاز ہو کر چُدائی میں مصروف ہو گئے ۔۔ آج پھر ہما کو بے حد مزہ آیا تھا۔۔

ہما کو چودنے کے بعد زمان نے کپڑے پہنے اور کمرے سے نکل کر نیچے آگیا۔۔ کچھ دیر تک آرام کرنے کے بعد ہما نے بھی اُٹھ کر اپنے کپڑے پہنے اور اپنا حلیہ درست کر کے باہر نکل آئی ۔۔ جیسے ہی وہ لفٹ کی طرف بڑھی تو اسے برامدے کے آخر میں رشید کھڑا نظر آیا۔۔ جیسے ہی ہم کی نظر اس پر پڑی تو وہ ٹھٹک گئی ۔۔ گھبرا گئی ۔۔ اسکے چہرے کا رنگ ہی جیسے اُڑ گیا۔۔ اور دور کھڑا رشید ہما کو دیکھ کر اپنے پیلے پیلے دانت نکال کر مسکراتا رہا۔۔ ہما نے اپنی ہمت اکٹھی کی اور جلدی سے لفٹ میں داخل ہو کر نیچے اتر آئی ۔۔ اسکا دل بڑی بری طرح سے دھڑک رہا تھا ایک انجانے خوف سے ۔۔


زیب نے ڈاکٹر ہما کی اُڑی اُڑی رنگت اور گھبرایا ہوا چہرہ دیکھا تو فوراََ اس سے پوچھنے لگی ۔۔

زیب۔۔ کیا ہوا ڈاکٹر ہما ۔۔ آپ اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہیں ۔۔

ہما۔۔ نہیں نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ۔۔

زیب مسکرائی ۔۔ کہیں ڈاکٹر زمان نے کچھ زیادہ ہی زور سے گھسے تو نہیں مار دیئے ۔۔

اسکی اس بات پر ہما مسکرائی اور اسکے بازو پر ایک ہلکی سی چپت ماری۔۔ بڑی بے شرم ہو تم نا۔۔

زیب مسکرا کر ہما کی گانڈ کو سہلاتی ہوئی بولی ۔۔ یہ بھی ٹھیک کہی آپ نے ۔۔ ڈاکٹر زمان سے چدوا کر آپ خود آ رہی ہو اور بے شرم میں ہو گئی ۔۔ اچھا انصاف ہے جی آپ کا ۔۔

اسکے اس انداز سے بات کرنے پر ہما ہنسنے لگی ۔۔ اسے رشید والی بات بھولنے لگی ۔۔ اور وہ نارمل ہونے لگی

زیب۔۔ ڈاکٹر ہما ۔۔ ویسے میرے پاس بھی ایک بات ہے آپکو بتانے والی ۔۔

ہما۔۔ ہاں ہاں بتاؤجلدی۔۔

زیب تھوڑا جھجکنے کی اداکاری کرتی ہوئی ۔۔ وہ آج صبح میں نے بھی کر لیا۔۔

ہما خوش ہوتی ہوئی ۔۔ واؤ۔۔ زبردست ۔۔ اپنے منگیتر کے ساتھ ۔۔۔

زیب۔۔ نہیں ۔۔ کسی اور کے ساتھ ۔۔

ہما۔۔ جلدی بتاؤ نا کس کے ساتھ کیا ہے تم نے ۔۔

زیب۔۔ آپ ناراض تو نہیں ہونگی نا ۔۔

ہما حیرانگی سے ۔۔ بھلا میں کیوں ناراض ہونے لگی ۔۔ جلدی بتاؤ کون ہے وہ لکی جس نے تمھاری لی ہے ۔۔

زیب۔۔ وہ بھی وہی ہے جس نے آپ کی لی ہے ڈاکٹر ہما ۔۔

ہما نے ایک لمحے کے لیے سوچا۔۔ اووووووووووو ۔۔۔ واؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤ۔۔۔۔۔ یعنی کہ زمان کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔ زبردست۔۔۔۔۔۔

زیب۔۔ جی ڈاکٹر ہما ۔۔ ڈاکٹر زمان کے ساتھ ۔۔ آپ ناراض نہیں ہوئیں کیا۔۔

ہما اسے اپنے بانہوں میں بھرتی ہوئی بولی ۔۔ ارے میں بھلا کیوں ناراض ہونے لگی ۔۔ مزے کرنے پر تو سب کا ہی حق ہے نا ۔۔ جیسے تم مجھے کہتی ہوتی ہو۔۔

یہ کہتے ہوئے ہما نے زیب کے ہونٹوں کو چوم لیا۔۔ زیب نے بھی ہما کو اپنی بانہوں میں بھر لیا۔۔ اور اسکو چومنے لگی ۔۔۔

چند لمحوں کے بعد ہما نے اسے پیچھے ہٹایا۔۔ اور بولی ۔۔ چلو اب مجھے بتاؤ کیسے ہوا یہ سب اور کہاں ۔۔

زیب نے ہما کو ساری بات تفصیل سے بتا دی ۔۔

ہما ۔۔ تو تم اسکے گھر پر گئی تھی اسکے ساتھ ۔۔

زیب نے ہاں میں سر ہلایا۔۔

ہما کو ایک بار پھر سے رشید کا خیال آٰیا۔۔ ہاں باہر ہی ٹھیک ہے ویسے ۔۔ یہاں روز روز کرنے سے کسی کو پتہ بھی تو چل سکتا ہے نا ۔۔

زیب ۔۔ ڈاکٹر ہما ۔۔ آپ چلو گی ڈاکٹر زمان کے گھر پر ۔۔

ہما ۔۔ سوچوں گی یار۔۔

زیب نے ہما کے نپل پر چٹکی کاٹی ۔۔ چوت میں تو ابھی بھی آپکے کھجلی ہو رہی ہو گی اور نخرے دیکھو ذرا آپ ۔۔

ہما اس بات پر ہنسنے لگی ۔۔ اور دونوں ایکبار پھر ایک دوسرے کی بانہوں میں سما گئیں ۔۔ اتنے میں زمان اندر داخل ہوا۔۔ اور دونوں کو ایکدوسری کی بانہوں میں دیکھ کر مسکرانے لگا۔۔ دروازہ بند کر کے انکی طرف بڑھا۔۔ دونوں الگ ہو چکی تھیں ۔۔ زمان نے دونوں کے درمیان صوفے پر اپنے لیے جگہ بنائی اور انکے بیچ میں بیٹھ گیا۔۔ اور اپنے بازو دونوں طرف پھیلا کر دونوں کو اپنے ساتھ چپکا لیا۔۔ نہ ہما نے کوئی مزاحمت کی اور نہ ہی زیب نے ۔۔ زمان نے اپنے ہونٹ ہما کی طرف کیے اور اسکے ہونٹوں کو چوم لیا۔۔ ہما بھی اسکا ساتھ دینے لگی ۔۔ اور دونوں ہی ایک دوسرے کو کس کرنے لگے ۔۔۔ زیب دونوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔ اور اسکا ہاتھ زمان کی ران کو سہلا رہا تھا ۔۔۔ کچھ دیر تک ہما کو کس کرنے کے بعدزمان نے اپنا منہ اس سے ہٹایا اور اب زیب کی طرف متوجہ ہو گیا۔۔ اور اپنے ہونٹ اسکے ہونٹوں پر رکھ کر اسے چومنے لگا۔۔ ہما نے اپنا ہاتھ بڑھا کر زیب کے ممے پر رکھ دیا ۔۔ اور اسے آہستہ آہستہ دبانے لگی ۔۔ اسکی نظریں بار بار دروازے کی طرف جارہی تھیں ۔۔ کہ کوئی آنہ جائے ۔۔

زمان نے زیب کی یونیفارم کی شرٹ کے بٹن کھولے ۔۔ اور اپنا ہاتھ اندر ڈال کر اسکے ممے کو سہلانے لگا۔۔ زیب کی آنکھیں بند ہونے لگیں ۔۔ ہما بھی زمان کے ساتھ چپکی ہوئی ان دونوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔ اسکا ہاتھ اب زمان کی پینٹ کے اوپر سے ہی اسکے لوڑے پر تھا ۔۔ جو اکڑا ہوا تھا اور وہ اسے سہلانے لگی ۔۔ زیب نے بھی اپنا ہاتھ زمان کے لوڑے پر رکھا اور اسکی زپ کھول کر اسکا لنڈ باہر نکال لیا۔۔ زمان کا لوڑا ننگا ہوتے ہی ہما نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔۔ اور ہاتھ کو اوپر نیچے کرتے ہوئے اسکو سہلانے لگی ۔۔ زمان نے اپنا ہاتھ ہما کے سر کے پیچھے رکھا اور اسکا سر نیچے کو کھینچ لیا۔۔ ہما نے بنا کوئی مزاحمت کیے اپنا منہ نیچے لے جا کر زمان کے لوڑے کو چوم لیا۔۔ اور اسکے ٹوپ پر زبان پھیرنے لگی۔۔ اتنے میں زمان نے زیب کا چہرہ بھی اپنے لوڑے پر ہی جھکا دیا۔۔ اس نے بھی اپنا ہاتھ زمان کی ران پر رکھا اور اسکے لوڑے کے نچلے حصے کو اپنی زبان سے چاٹنے لگی ۔۔ نیچے سے اوپر تک ۔۔۔ اور اوپر سے نیچے تک۔۔ ہما نے زمان کے لوڑے کی ٹوپی کو چومتے ہوئے اسے اپنے منہ میں لیا اور چوسنے لگی ۔۔ پھر اسے اپنے منہ سے نکال کر زیب کی طرف بڑھا دیا۔۔ جسے زیب نے فوراََ ہی اپنے منہ میں لیا اور چوسنے لگی ۔۔ ہما اسکے لوڑے کو سہلاتی ہوئی زمان کی طرف دیکھنے لگی ۔۔ مسکراتی ہوئی ۔۔ زمان نے اسکے ہونٹوں کو چوم لیا۔۔

کچھ دیر تک ہما اور زیب باری باری زمان کے لوڑے کو چوستی رہیں ۔۔ اور اس سے پہلے کے بات کچھ آگے بڑھتی ۔۔ دروازے پر دستک ہوئی ۔۔ سب چونک اُٹھے ۔۔ اور جلدی جلدی اپنا اپنا حلیہ درست کرنے لگے ۔۔ زمان اُٹھا اور اپنی پینٹ کی زپ کو بند کرتا ہوا دروازے کی طرف بڑھا اور جا کر دروازہ کھول دیا ۔۔ سامنے رشید کھڑا تھا ۔۔۔

زمان نارمل انداز میں بولا۔۔ کیا بات ہے رشید۔۔

رشید۔۔ سر وہ ایک ایمرجنسی آئی ہے اسے چیک کر لیں ۔۔

رشید کی آواز سن کر ہما ایک بار پھر سہم گئی تھی ۔۔ مگر اس نے کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیا۔۔ زمان اور زیب باہر آگئے ایمرجنسی مریض کو دیکھنے کے لیے ۔۔ اور ہما اندر ہی رہ گئی۔۔

اسے اکیلا دیکھ کر رشید اندر آگیا۔۔ اور اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے کپڑے سے ٹیبل صاف کرنے لگا۔۔ اور ساتھ ہی ساتھ پان سے لال پیلے ہو رہے اپنے دانت نکال کر مسکراتا ہوا ہما کو دیکھنے لگا۔۔ ہما بھی اسکی نظروں کو محسوس کر رہی تھی ۔۔ مگر چُپ تھی ۔۔

وہیں رُکے رُکے رشید نے اپنی جیب میں سےسگریٹ نکالی اور اسے ماچس سے جلا کر کش لگانے لگا۔۔

ہما کو اسکی اس حرکت پر غصہ آیا۔۔ یہ کیا بدتمیزی ہے رشید۔۔ میں نے کتنی بار تم کو منع کیا ہے کہ میرے سامنے اور آفس کے اندر آکر سگریٹ نہ پیا کرو۔۔

رشید نے ایک لمبا کش لیا اور دھواں فضا میں چھوڑتا ہوا بولا۔۔ میڈم جی ۔۔ سگریٹ تو ڈاکٹر زمان صاحب بھی پیتے ہیں ۔۔ انکو تو آپ نے کبھی نہیں روکا۔۔

رشید کے منہ میں پان بھی تھا جسے وہ چبا بھی رہا تھا۔۔ اور ہما کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔

ہما غصے سے ۔۔ تمکو زمان سے کیا مطلب۔۔ تم اپنی اوقات میں رہا کرو۔۔ ورنہ ۔۔

رشید پھر ہنستا ہوا بولا۔۔ ورنہ کیامیڈم جی ۔۔۔ مجھے نکلوا دیں گی کیا آپ یہاں سے ۔۔ ہاں ہاں نکلوا دیں مجھے ۔۔ تاکہ آپکا راستہ صاف ہوجائے ۔۔

ہما۔۔ کیا بکواس کر رہے ہو۔۔ کونسا راستہ ۔۔ ہما نے اس سے سختی سے نپٹنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔۔ وہ اسے خود پر سوار نہیں ہونے دینا چاہتی تھی ۔۔

رشید مسکرایا۔۔ وہی میڈم جی ۔۔ اوپر والے آفس میں جانے کا راستہ ۔۔ زمان صاحب کے ساتھ ۔۔

ہما اپنی جگہ سے اُٹھی ۔۔ اور رشید کی طرف بڑھی ۔۔ اور اپنا ہاتھ اُٹھا کر اسے تھپڑ مارنے لگی ۔۔ رشید نے اپنی طرف آتا ہوا اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔۔ اسکی کلائی سے ۔۔ اور ہنستے ہوئے بولا۔۔

رشید۔۔ نا ۔ نا۔۔ میڈم جی ۔۔ ایسا نہیں کرنا ۔۔ ہاتھ نہیں اُٹھانا میرے پر ۔۔ یہ بات مجھے بہت بُری لگتی ہے ۔۔ یہ کہتے ہوئے رشید نے اپنا چہرہ ہما کے چہرے کے قریب لاتے ہوئے سگریٹ کا دھواں اسکے چہرے پر چھوڑ دیا اور پھر اسے چھوڑ کر دفتر سے باہر جانے لگا۔۔

ہما تو اسکی اس حرکت سے ساکت ہو چکی تھی ۔۔ اسکے پیچھے سے بولی ۔۔ کل ہی میں کمال صاحب سے تمھاری شکائت کروں گی ۔۔

رشید دروازے پر رکا۔۔ ٹھیک ہے کر دیں ۔۔ مگر کمال صاحب سے پہلے تو آپکے شوہر نے آنا ہے نا ۔۔
یہ کہہ کر رشید مسکراتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔۔ اور ہما وہیں صوفے پر اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی ۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کرے ۔۔

صبح جب ہما انور کے ساتھ جانے کے لیے ہاسپٹل کے گیٹ پر آئی تو اسکے پاؤں جیسے زمیں نے جکڑ لیے ہوں ۔۔ سامنے اسے کار سے نکل کر کھڑا ہوا انور نظر آیا۔۔ اور اسکے سامنے رشید کھڑا اس سے کچھ باتیں کر رہا تھا ۔۔ یہ دیکھ کر ہما کا تو جیسے دل ہی اُچھل کر اسکے حلق میں آگیا۔۔ انور اور رشید نے بھی ہما کو دیکھ لیا تھا۔۔ مگر وہ اسکی طرف دیکھتے ہوئے باتیں کرتے رہے ۔۔ ہما کو لگا کہ رشید اسکے شوہر کو سب کچھ بتا رہا ہے اسکے اور زمان کے بارے میں ۔۔ یہی خوف اسکو کھائے جا رہا تھا ۔۔۔ انور نے ہما کو آنے کا اشارہ کیا۔۔ ہما بوجھل قدموں کے ساتھ انکی طرف بڑھی ۔۔۔ انکے پاس پہنچی تو رشید نے ہاتھ اپنے ماتھے پر رکھ کر اسے سلام کیا۔۔

رشید۔۔ سر مجھے اپنا کارڈ دے دیں ۔۔ میں آپ کو فون کر دوں گا۔۔

انور نے اپنی جیب سے کارڈ نکال کر اسے دے دیا۔۔ ہما خاموشی سے یہ سب دیکھ رہی تھی ۔۔ حالانکہ اسے یہ سب ٹھیک نہیں لگ رہا تھا۔۔ اس نے انور کے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔ مگر اسے اسکے چہرے پر کوئی غصے کے آثار نظر نہیں آئے ۔۔ ہ

انور۔۔ چلوجلدی چلیں ۔۔ آج پھر نا ڈاکٹر زمان آجائیں تمکو بلانے کے لیے ۔۔

رشید نے ہما کی سائیڈ کا دروازہ کھولا اور ہما کار میں بیٹھ گئی تو رشید نے دروازہ بند کیا اس دوران اسکی نظریں ہما کی نظروں سے ملیں ۔۔ اور اس نے مسکرا کر اپنی ایک آنکھ دبا دی ۔۔ ہما نے فوراََ ہی اپنا چہرہ دوسری طرف کر لیا۔۔ اورانور نے گاڑی آگے بڑھا دی ۔۔

ہما کا دل گھبرا رہا تھا کہ پتہ نہیں رشید نے انور کو کیا بات کی ہے ۔۔۔ وہ اس سے پوچھنا چاہ رہی تھی ۔۔ مگر ہمت نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔ آخر رہ نہیں پائی ۔۔

ہما ۔۔ کیا کہہ رہا تھا رشید۔۔ ہما نے بڑے ہی نارمل سے انداز میں پوچھا۔۔

انور۔۔ کچھ نہیں یار۔۔ بس کہہ رہا تھا کہ کوئی کام ہو تو بتائیں وہ پارٹ ٹائم کرنا چاہتا ہے ۔۔

ہما نے انور کے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔ جیسے اندازہ لگانا چاہ رہی ہو کہ وہ کچھ چھپا تو نہیں رہا۔۔ مگر وہ کچھ بھی اندازہ نہ لگا سکی ۔۔۔

گھر آکر انور بیڈ رومیں چلا گیا۔۔ اور ہما لباس تبدیل کرکے کچن میں آگئی چائے بنانے کے لیے ۔۔ اسکا دل ابھی بھی مطمئن نہیں ہو رہا تھا ۔۔ آخر اس نے اپنا فون اُٹھایا۔۔ اور رشید کا نمبر ملانے لگی ۔۔ دوسری بیل پر ہی رشید نے فون اُٹھا لیا۔۔

رشید۔۔ جی میڈم جی ۔۔ ہمیں کیسے یاد کر لیا آپ نے ۔۔ آج تو ہماری قسمت ہی جاگ پڑی ہے ۔۔

ہما بنا ادھر اُدھر کی بات کیے سیدھی بات پر آتی ہوئی بولی ۔۔ تم انور سے کیا باتیں کر رہے تھے ۔۔؟؟؟

رشید ہنسا۔۔ اوہ ۔۔ ہو۔۔۔۔ تو آپ اس وجہ سے پریشان ہیں ۔۔۔ بے فکر رہیں میڈم جی میں نے کوئی بھی ایسی ویسی بات نہیں کی ۔۔ اگر آپ چُپ رہیں گی تو میں بھی چُپ رہوں گا۔۔ یہ میرا وعدہ ہے آپ سے ۔۔ یعنی کہ سب کچھ آپکے تعاون پر ہی ہے میڈم جی ۔۔۔۔ ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔ وہ ہنسنے لگا۔۔

ہما ۔۔ یو شٹ اپ ۔۔۔ باسٹرڈ۔۔۔ یہ کہتے ہوئے ہما نے فون بند کر دیا۔۔ اسے ایک بات کی تو تسلی ہو گئی تھی کہ انور کو رشید نے کوئی بھی بات نہیں کی تھی ۔۔ لیکن ابھی اسے اس بات کا بھی یقین نہیں تھا کہ وہ کیا کچھ جانتا ہے اسکے اور زمان کے بارے میں ۔۔۔ مگر جو بھی ہو ہما نے


ہاسپٹل جانے کے لئے آج تو ہما سپیشل تیار ہو رہی تھی ۔۔ اس نے ایک خوبصورت سا شلوار قمیض نکال کر پہنا ۔۔ جسکا گلا بھی تھوڑا گہرا ہی تھا ۔۔ اور بنا جھکے ہی اسکی چھاتیوں کی درمیانی لکیر نظر آتی تھی ۔۔ اور جھکنے پر تو اسکے مموں کا کچھ حصہ بھی آسانی سی دیکھا جاسکتا تھا ۔۔ نیچے سے اس نے ٹائٹ سا برینڈڈ برا پہنا تھا ۔۔ ہاف کپ ۔۔ جسکی لائننگ اسکی پتلی شرٹ کے اوپر سے صاف دکھ رہی تھی ۔۔ اور صاف پتہ چلتا تھا کہ اسکی برا نے اسکے آدھے مموں کو ڈھانپا ہوا ہے ۔۔ روٹین سے زیادہ اس نے میک اپ بھی کیا تھا ۔۔ اور آج تو ہما قیامت ہی لگ رہی تھی ۔۔ اسکے ہونٹوں کی سرخی دیکھ کر کسی کا بھی دل انکو چومنے کے لیے مچلنے سے نہیں رہ سکتا تھا ۔۔ تیار ہو کر خود کو آئینے میں دیکھا تو ہما مسکرا دی ۔۔ اور خود سے ہی بولی ۔۔ ہما ڈارلنگ ۔۔ آج تو تم چدنے سے نہیں بچ سکتی ۔۔ اور ہما خود کونسا بچنا چاہتی تھی ۔۔ اب وہ جس راہ پر چل نکلی تھی وہ اسکو انجوائے کرنے لگی تھی ۔۔

رات کو جب انور نے ہما کو ہاسپٹل میں ڈراپ کیا تو ہما کے ذہن میں ایسے ہی خیال آٰیا کہ اسکا شوہر خود اسے ایک دوسرے مرد کے ساتھ سیکس کرنے کے لیے چھوڑ کر جا رہا تھا ۔۔ ایک لمحے کے لیے ہما کو تھوڑی شرمندگی محسوس ہوئی اور خود کو غلط پایا۔۔ لیکن پھر اسے خیال آٰیا کہ انور بھی تو ذرا سا موقع ملنے پر یہی سب کچھ کرنے والا ہے نا ۔۔ تو پھر میں ایسا کیوں نا کروں ۔۔ یہ خیال آتے ہی اس نے اپنی شرمندگی کو جھٹک کر دور کیا اور پھرہاسپٹل کے اندر چلی گئی ۔۔

 

Share this post


Link to post

قسط نمبر ٣

 


زیب آچکی ہوئی تھی ۔۔ جیسے ہی اس نے ہما کو دیکھا تو اپنے ہونٹ سکیڑ کر سیٹی بجائی ۔۔ جسے سن کر ہما شرما گئی ۔۔

زیب ۔۔ ڈاکٹر ہما ۔۔ آج تو لگتا ہے کہ مکمل تیاری کر کے آئی ہوئی ہیں ڈاکٹر زمان کو پورے پورے مزے دینے کے ۔۔ میرا تو دل کر رہا ہے کہ ان سے پہلے میں خود آپکے ان رسیلے ہونٹوں کا رس چوس لوں ۔۔

ہما اسکے خطرناک ارادوں کو دیکھ کر فوراََ وہاں سے کھسک گئی ۔۔ اور اپنے کمرے میں آگئی ۔۔ ڈاکٹر زمان شاید ابھی نہیں آیا تھا ۔۔ وہ اپنے آفس میں صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی کہ رشید صفائی کرنے کے لیے آگیا۔۔ رشید بھی اس ہاسپٹل کا ایک کریکٹر تھا۔۔ 40- 35 سال کا ہٹا کٹا مرد تھا ۔۔ درمیانہ قد ۔۔ لیکن مضبوط بھاری بھرکم جسم۔ کالا سیاہ رنگ۔۔ ایک کان میں چاندی کی بالی پہنی ہوئی تھی ۔۔ پان اور سگریٹ اسکی عادت تھی ۔۔ ۔ موٹے کالے ہونٹ ۔۔ اور سیاہ چہرہ ۔۔ بہت ہی بد صورت آدمی تھا یہ رشید۔۔ جیسا اسکا حلیہ تھا ویسی ہی اسکی نوکری تھی ۔۔ ہاسپٹل میں کلینر کی نوکری کرتا تھا ۔ یعنی جمعدار۔۔ سرکاری جاب بھی تھی یہاں نائٹ پر پارٹ ٹائم ڈیوٹی کرتا تھا۔۔ سرکاری ہسپتالوں کا یہ نچلا عملہ تو بس شکاری ہی ہوتا ہے ۔۔ جیسے ہی کوئی خوبصورت لڑکی نظر آئی اسکے اردگرد منڈلانے لگتے ہیں اور اکثر اوقات تو یہ لوگ کامیاب بھی ہو جاتے ہیں اپنا شکار قابو کرنے میں ۔۔ رشید بھی ایسی ہی چیز تھا۔۔ بہت ہی ٹھرکی اور ہوس سے بھرا ہوا۔۔ کسی بھی لڑکی کو تاڑنے سے باز نہیں رہتا تھا ۔۔ چاہے وہ کوئی نرس ہو یا کوئی لیڈی ڈاکٹر۔۔ اور ڈاکٹر ہما تو اس کی پسندیدہ لڑکی تھی ۔۔ وہ ہمیشہ ہی اسکی خوبصورتی پر اپنی لاڑ ٹپکاتا رہتا تھا ۔۔ ہما کو بھی اس بات کا احساس تھا۔۔ اسی لیے وہ اسکو نا پسند کرتی تھی ۔۔ اسے دیکھتے ہی اسکے ماتھے پر بل پڑ جاتے تھے ۔۔ کیونکہ اسکی نظریں اسکے جسم کو ناپتی رہتی تھیں ۔۔ اسی وجہ سے ہما اس سے نفرت کرتی تھی ۔۔

اب بھی کمرے میں صفائی کرنے آیا تو ہما کو دیکھنے لگا۔۔ اسے بھی احساس ہوا کہ آج ہما ہر روز سے کچھ زیادہ ہی خوبصورت لگ رہی ہے ۔۔ اسکی نظریں بار بار ہما کی ننگی ہو رہی ہوئی گوری گوری پنڈلیوں پر جا رہی تھیں ۔۔ صفائی کرتے ہوئے وہ رہ نہیں پایا اور بول ہی پڑا۔۔ میڈم جی ۔۔ آج تو آپ بہت پیاری لگ رہی ہو ۔۔

ہما نے چونک کر اسکی طرف دیکھا ۔۔ اور ناگواری سے بولی ۔۔ تم کو اس سے کیا مطلب ؟؟؟ تم اپنے کام سے کام رکھو۔۔

رشید۔۔ وہ میڈم جی میں تو ویسے ہی کہہ رہا تھا ۔۔۔ جو سچ بات ہے میں نے کہہ دی بس۔۔

ہما۔۔ اپنی اوقات میں رہا کرو ۔۔ سمجھے ۔۔ اور آئندہ میں تمھارے منہ سے ایسی بات نہ سنوں

رشید چپ کر گیا۔۔ اور اپنا کام کرنے لگا۔۔ مگر اسکی ہوسناک ٹھرکی نظریں کہاں باز آنے والی تھیں ۔۔ وہ ابھی بھی بار بار ہما کے جسم کو ہی تاڑ رہی تھی ۔ ۔ آخر اس کا کام مکمل ہوا اور وہ کمرے سے نکل گیا۔۔ تھوڑی دیر میں ہما کو ایک سینئر ڈاکٹر کے ساتھ آپریشن تھیٹر جانا پڑ گیا۔۔ اس نے اپنے آفس میں اپنے کپڑے اتارے اور انکو کھونٹی پر لٹکا کر آپریشن تھیٹر کا لباس پہن لیا اور اندر چلی گئی ۔۔ رشید نے بھی ہما کو آپریشن تھیٹر جاتے ہوئے دیکھا تو ماحول سازگار دیکھ کر وہ ہما کے آفس میں کھسک آیا۔۔ وہاں اسے ہما کا لباس نظر آیا۔۔ وہ فوراََ آگے بڑھا۔۔ اور اسے کھونٹی پر سے اتار لیا۔۔ اسے اپنے ہاتھوں میں لے کر انکی خوشبو سونگھنے لگا۔۔ ہما کے لباس کی خوشبو کو سونگھتے ہی رشید کی آنکھیں بند ہونے لگیں ۔۔ بہت ہی پیاری اور مست خوشبو آرہی تھی ۔۔ ہما کے جسم کی خوشبو بھی اس میں تھی اور اسکے پرفیوم کی بھی ۔۔

رشید نے ہما کی شلوار کو پکڑا اور اسکی چوت والے حصے کو اپنی ناک سے لگا کر سونگھنے لگا۔۔ وہاں پر تو صرف ہما کی چوت کی خوشبو تھی ۔۔ بھینی بھینی ۔۔ مست کر دینے والی ۔۔ جتنا وہ سونگھتا جاتا اتنی ہی اسکی ہوس بڑھتی جاتی ۔۔ اسکا لوڑا بھی اکڑنے لگا تھا ۔۔ اس نے اپنا لوڑا باہر نکالا اور ہما کی شلوار کو اپنے کالے لوڑے پر لپیٹ کر اسے رگڑنے لگا۔۔ ملائم شلوار کی رگڑائی سے اسے بے حد مزہ آرہا تھا ۔۔ لوڑے پر سے کپڑا پھسلتا جا رہا تھا ۔۔۔ اور رشید دوسرے ہاتھ سے ہما کی قمیض کو سونگھ رہاتھا۔۔ اسے احساس تھا کہ اگر اسکا پانی ڈاکٹر ہما کے کپڑوں پر لگ گیا تو اسکے لیے اچھا نہیں ہو گا۔۔ آخر اس نے خود پر قابو پایا اور پھر ہما کے کپڑے واپس لٹکا کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔ ہما واپس آئی اور آکر اپنے کپڑے پہننے لگی تو اسے احسا س ہوا کہ اسکے کپڑوں پر کافی سلوٹیں پڑی ہوئی ہیں ۔۔ ہما کو کچھ سمجھ نہیں آئی ۔۔ وہ اپنے کپڑوں کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگی ۔۔ اپنی شلوار پر ایک جگہ اسکو ایک چھوٹا سا سرخ سرخ نشان نظر آیا۔۔ وہ حیران ہوئی اور اسے دیکھنے لگی کہ یہ کس چیز کا نشان ہو سکتا ہے ۔۔ کوئی بلڈ ہے یا کچھ اور۔ ۔ جب کچھ سمجھ نہیں آیا تو اس نے خاموشی سے اپنے کپڑے پہنے اور باہر آگئی ۔۔ باہر آئی تو رشید پھر اسکو دیکھ رہا تھا ۔۔ اسکا لوڑا یہ سوچ کر ہی ٹائٹ ہونے لگا کہ ابھی کچھ دیر پہلے وہ ڈاکٹر ہما کی چوت کی خوشبو سونگھ چکا ہے ۔۔ اور اسکی شلوار سے اپنی مٹھ بھی ماری ہے ۔۔ ہما نے جب رشید کو پان چباتے ہوئے دیکھا تو ایک لمحے کے لیے اسے خیال آیا کہ کہیں یہ اسکے پان کا نشان تو نہیں ہے ۔۔ ہو بھی سکتا ہے کہ اس کمینے نے اندر جا کر میرے کپڑوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ہو ۔۔ ہما کی نظروں میں خود بخود ہی اسکے لیے غصہ آگیا۔۔ مگر وہ اسے کچھ نہ بولی ۔۔ آخر کہتی بھی کیا۔۔ کیونکہ اسے خود یقین نہیں تھا ۔۔

رات کے 2 بجے تو سب طرف سکون ہی سکون ہوگیا۔۔ رشید بھی حسب معمول کہیں پڑ کر سو چکا تھا۔۔ مگر ڈاکٹر ہما، زمان اور زیب جاگ رہے تھے ۔۔ زمان نے ہما کا ہاتھ پکڑا اور آج پھر سیکنڈ فلور کی طرف لے جانے لگا۔۔ ہما نے کوئی اعتراض نہیں کیا اور مسکراتی ہوئی اسکے ساتھ چل پڑی ۔۔ لفٹ کے اندر جاتے ہی زمان نے ہما کو اپنی بانہوں میں بھر لیا۔۔ ہما کسمسائی ۔۔ تھوڑا صبر تو کرو نا ۔۔ میں کہیں بھاگی تو نہیں جا رہی نا۔۔ تمھارے ساتھ ہی جارہی ہوں نا۔۔ مگر زمان کہاں اسے چھوڑنے والا تھا۔۔ اتنی سی دیر کے لیے بھی اسکو چومتا رہا۔۔

اندر کمرے میں جاتے ہی اس نے ایک بار پھر سے ہما کو اپنی بانہوں میں لیا اور اسکی کمر کو سہلاتے ہوئے اسکی گانڈ کو دبانے لگا۔۔ پھر اس نے ہما کی شرٹ کو پکڑ کر اوپر کو اُٹھاتے ہوئے اسے اتار دیا۔۔ ہما کا اوپری جسم ننگا ہو گیا۔۔ اسکے ممے آدھے اسکی برا میں سے چھلک رہے تھے ۔۔ جیسے ہی زمان کی نظر ان پر پڑی تو وہ نیچے جھک کر اسکی چھاتیوں اور انکے درمیان کی لکیر کو چومنے لگا۔۔ ہما نے بھی اسکا سر اپنے سینے پر دبا لیا۔۔ اور لذت سے آنکھیں بند کر لیں ۔۔ زمان نے ہما کی برا کے ایک کپ کو نیچے کھینچا اور اسکا ایک مما ننگا کر لیا۔۔ اور اسکے گلابی نپل کو منہ میں لے کر چوسنے لگا۔۔ پھر اپنے دانتوں کے بیچ میں لیا اور انکو آہستہ آہستہ کاٹنے لگا۔۔ ہما کا مزے سے برا حال ہو رہا تھا ۔۔ کچھ ہی دیر کے بعد ہما نے بھی اپنا ایک بازو زمان کی گردن کے پیچھے ڈالا اور دوسرا ہاتھ نیچے لے جاکر اسکے لوڑے کو پکڑ لیا۔۔ اور اسکی پینٹ کے اوپر سے ہی اسکو سہلانے لگی۔۔ جب اسکی تسلی نہیں ہوئی تو اس نے زمان کی پینٹ کی بیلٹ کھولی اور اسکی پینٹ کو نیچے سرکا دیا۔۔ اور اپنا ہاتھ اسکے انڈرویئر کے اندر ڈال کر اسکے لوڑے کو پکڑ کر باہر کھینچ نکالا۔۔ اور اپنی مٹھی میں لے کر اسکے اکڑے ہوئے لوڑے کو مسلنے لگی ۔۔

زمان نے ہما کے مموں پر سے اپنا منہ ہٹایا۔۔ اور ایک بار پھر ہما کے ہونٹوں کو چومنے لگا۔۔ پھر اسکے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسے نیچے کو بٹھانے لگا۔۔ ہما اسکا مطلب سمجھ رہی تھی ۔۔ وہ بھی بنا مزاحمت کیے نیچے بیٹھ گئی ۔۔ اب زمان کا اکڑا ہوا لنڈ ہما کے چہرے کے سامنے لہرا رہا تھا۔۔ ہما نے مسکرا کر زمان کی آنکھوں میں دیکھا اور اسکے گورے چٹے لوڑے کو اپنے ہاتھ میں پکڑلیا۔۔ اور اپنے ہونٹ آگے لے جاکر اسکے ٹوپے کو چوم لیا۔۔ پھر اپنی زبان باہر نکال کر اسے چاٹنے لگی۔۔ ہما نے زمان کے لوڑے کی ٹوپی کو چاٹنے کے بعد اسے نیچے سے اوپر تک اپنی زبان سے چاٹنا شروع کر دیا۔۔ اسکے لوڑے کو اپنے تھوک سے گیلا کرنے لگی۔۔ کبھی اسے منہ کے اندر لیتی اور اپنا سر آگے پیچھے کو کرتی ہوئی اسکا لوڑا اپنے منہ میں اندر باہر کرنے لگتی ۔۔ اسکے حلق اور منہ سے اسکا گاڑھا گاڑھا تھوک نکل نکل کر اسکے لوڑے پر لگ رہا تھا ۔۔ اور ہماکی مستی بھی بڑھتی جا رہی تھی ۔۔ وہ بار بار اسکے لوڑے کو اپنے منہ میں لیتی اور اسے چوستی ۔۔ کبھی کبھی زمان دھکا لگاتا تو اسکا لوڑا ہما کے حلق سے بھی ٹکراتا۔۔ تھوڑی ہی دیر میں دونوں اپنے اپنے لباس سے بے نیاز ہو کر چُدائی میں مصروف ہو گئے ۔۔ آج پھر ہما کو بے حد مزہ آیا تھا۔۔

ہما کو چودنے کے بعد زمان نے کپڑے پہنے اور کمرے سے نکل کر نیچے آگیا۔۔ کچھ دیر تک آرام کرنے کے بعد ہما نے بھی اُٹھ کر اپنے کپڑے پہنے اور اپنا حلیہ درست کر کے باہر نکل آئی ۔۔ جیسے ہی وہ لفٹ کی طرف بڑھی تو اسے برامدے کے آخر میں رشید کھڑا نظر آیا۔۔ جیسے ہی ہم کی نظر اس پر پڑی تو وہ ٹھٹک گئی ۔۔ گھبرا گئی ۔۔ اسکے چہرے کا رنگ ہی جیسے اُڑ گیا۔۔ اور دور کھڑا رشید ہما کو دیکھ کر اپنے پیلے پیلے دانت نکال کر مسکراتا رہا۔۔ ہما نے اپنی ہمت اکٹھی کی اور جلدی سے لفٹ میں داخل ہو کر نیچے اتر آئی ۔۔ اسکا دل بڑی بری طرح سے دھڑک رہا تھا ایک انجانے خوف سے ۔۔

زیب نے ڈاکٹر ہما کی اُڑی اُڑی رنگت اور گھبرایا ہوا چہرہ دیکھا تو فوراََ اس سے پوچھنے لگی ۔۔

زیب۔۔ کیا ہوا ڈاکٹر ہما ۔۔ آپ اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہیں ۔۔

ہما۔۔ نہیں نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ۔۔

زیب مسکرائی ۔۔ کہیں ڈاکٹر زمان نے کچھ زیادہ ہی زور سے گھسے تو نہیں مار دیئے ۔۔

اسکی اس بات پر ہما مسکرائی اور اسکے بازو پر ایک ہلکی سی چپت ماری۔۔ بڑی بے شرم ہو تم نا۔۔

زیب مسکرا کر ہما کی گانڈ کو سہلاتی ہوئی بولی ۔۔ یہ بھی ٹھیک کہی آپ نے ۔۔ ڈاکٹر زمان سے چدوا کر آپ خود آ رہی ہو اور بے شرم میں ہو گئی ۔۔ اچھا انصاف ہے جی آپ کا ۔۔

اسکے اس انداز سے بات کرنے پر ہما ہنسنے لگی ۔۔ اسے رشید والی بات بھولنے لگی ۔۔ اور وہ نارمل ہونے لگی

زیب۔۔ ڈاکٹر ہما ۔۔ ویسے میرے پاس بھی ایک بات ہے آپکو بتانے والی ۔۔

ہما۔۔ ہاں ہاں بتاؤجلدی۔۔

زیب تھوڑا جھجکنے کی اداکاری کرتی ہوئی ۔۔ وہ آج صبح میں نے بھی کر لیا۔۔

ہما خوش ہوتی ہوئی ۔۔ واؤ۔۔ زبردست ۔۔ اپنے منگیتر کے ساتھ ۔۔۔

زیب۔۔ نہیں ۔۔ کسی اور کے ساتھ ۔۔

ہما۔۔ جلدی بتاؤ نا کس کے ساتھ کیا ہے تم نے ۔۔

زیب۔۔ آپ ناراض تو نہیں ہونگی نا ۔۔

ہما حیرانگی سے ۔۔ بھلا میں کیوں ناراض ہونے لگی ۔۔ جلدی بتاؤ کون ہے وہ لکی جس نے تمھاری لی ہے ۔۔

زیب۔۔ وہ بھی وہی ہے جس نے آپ کی لی ہے ڈاکٹر ہما ۔۔

ہما نے ایک لمحے کے لیے سوچا۔۔ اووووووووووو ۔۔۔ واؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤ۔۔۔۔۔ یعنی کہ زمان کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔ زبردست۔۔۔۔۔۔

زیب۔۔ جی ڈاکٹر ہما ۔۔ ڈاکٹر زمان کے ساتھ ۔۔ آپ ناراض نہیں ہوئیں کیا۔۔

ہما اسے اپنے بانہوں میں بھرتی ہوئی بولی ۔۔ ارے میں بھلا کیوں ناراض ہونے لگی ۔۔ مزے کرنے پر تو سب کا ہی حق ہے نا ۔۔ جیسے تم مجھے کہتی ہوتی ہو۔۔

یہ کہتے ہوئے ہما نے زیب کے ہونٹوں کو چوم لیا۔۔ زیب نے بھی ہما کو اپنی بانہوں میں بھر لیا۔۔ اور اسکو چومنے لگی ۔۔۔

چند لمحوں کے بعد ہما نے اسے پیچھے ہٹایا۔۔ اور بولی ۔۔ چلو اب مجھے بتاؤ کیسے ہوا یہ سب اور کہاں ۔۔

زیب نے ہما کو ساری بات تفصیل سے بتا دی ۔۔

ہما ۔۔ تو تم اسکے گھر پر گئی تھی اسکے ساتھ ۔۔

زیب نے ہاں میں سر ہلایا۔۔

ہما کو ایک بار پھر سے رشید کا خیال آٰیا۔۔ ہاں باہر ہی ٹھیک ہے ویسے ۔۔ یہاں روز روز کرنے سے کسی کو پتہ بھی تو چل سکتا ہے نا ۔۔

زیب ۔۔ ڈاکٹر ہما ۔۔ آپ چلو گی ڈاکٹر زمان کے گھر پر ۔۔

ہما ۔۔ سوچوں گی یار۔۔

زیب نے ہما کے نپل پر چٹکی کاٹی ۔۔ چوت میں تو ابھی بھی آپکے کھجلی ہو رہی ہو گی اور نخرے دیکھو ذرا آپ ۔۔

ہما اس بات پر ہنسنے لگی ۔۔ اور دونوں ایکبار پھر ایک دوسرے کی بانہوں میں سما گئیں ۔۔ اتنے میں زمان اندر داخل ہوا۔۔ اور دونوں کو ایکدوسری کی بانہوں میں دیکھ کر مسکرانے لگا۔۔ دروازہ بند کر کے انکی طرف بڑھا۔۔ دونوں الگ ہو چکی تھیں ۔۔ زمان نے دونوں کے درمیان صوفے پر اپنے لیے جگہ بنائی اور انکے بیچ میں بیٹھ گیا۔۔ اور اپنے بازو دونوں طرف پھیلا کر دونوں کو اپنے ساتھ چپکا لیا۔۔ نہ ہما نے کوئی مزاحمت کی اور نہ ہی زیب نے ۔۔ زمان نے اپنے ہونٹ ہما کی طرف کیے اور اسکے ہونٹوں کو چوم لیا۔۔ ہما بھی اسکا ساتھ دینے لگی ۔۔ اور دونوں ہی ایک دوسرے کو کس کرنے لگے ۔۔۔ زیب دونوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔ اور اسکا ہاتھ زمان کی ران کو سہلا رہا تھا ۔۔۔ کچھ دیر تک ہما کو کس کرنے کے بعدزمان نے اپنا منہ اس سے ہٹایا اور اب زیب کی طرف متوجہ ہو گیا۔۔ اور اپنے ہونٹ اسکے ہونٹوں پر رکھ کر اسے چومنے لگا۔۔ ہما نے اپنا ہاتھ بڑھا کر زیب کے ممے پر رکھ دیا ۔۔ اور اسے آہستہ آہستہ دبانے لگی ۔۔ اسکی نظریں بار بار دروازے کی طرف جارہی تھیں ۔۔ کہ کوئی آنہ جائے ۔۔

زمان نے زیب کی یونیفارم کی شرٹ کے بٹن کھولے ۔۔ اور اپنا ہاتھ اندر ڈال کر اسکے ممے کو سہلانے لگا۔۔ زیب کی آنکھیں بند ہونے لگیں ۔۔ ہما بھی زمان کے ساتھ چپکی ہوئی ان دونوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔ اسکا ہاتھ اب زمان کی پینٹ کے اوپر سے ہی اسکے لوڑے پر تھا ۔۔ جو اکڑا ہوا تھا اور وہ اسے سہلانے لگی ۔۔ زیب نے بھی اپنا ہاتھ زمان کے لوڑے پر رکھا اور اسکی زپ کھول کر اسکا لنڈ باہر نکال لیا۔۔ زمان کا لوڑا ننگا ہوتے ہی ہما نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔۔ اور ہاتھ کو اوپر نیچے کرتے ہوئے اسکو سہلانے لگی ۔۔ زمان نے اپنا ہاتھ ہما کے سر کے پیچھے رکھا اور اسکا سر نیچے کو کھینچ لیا۔۔ ہما نے بنا کوئی مزاحمت کیے اپنا منہ نیچے لے جا کر زمان کے لوڑے کو چوم لیا۔۔ اور اسکے ٹوپ پر زبان پھیرنے لگی۔۔ اتنے میں زمان نے زیب کا چہرہ بھی اپنے لوڑے پر ہی جھکا دیا۔۔ اس نے بھی اپنا ہاتھ زمان کی ران پر رکھا اور اسکے لوڑے کے نچلے حصے کو اپنی زبان سے چاٹنے لگی ۔۔ نیچے سے اوپر تک ۔۔۔ اور اوپر سے نیچے تک۔۔ ہما نے زمان کے لوڑے کی ٹوپی کو چومتے ہوئے اسے اپنے منہ میں لیا اور چوسنے لگی ۔۔ پھر اسے اپنے منہ سے نکال کر زیب کی طرف بڑھا دیا۔۔ جسے زیب نے فوراََ ہی اپنے منہ میں لیا اور چوسنے لگی ۔۔ ہما اسکے لوڑے کو سہلاتی ہوئی زمان کی طرف دیکھنے لگی ۔۔ مسکراتی ہوئی ۔۔ زمان نے اسکے ہونٹوں کو چوم لیا۔۔

کچھ دیر تک ہما اور زیب باری باری زمان کے لوڑے کو چوستی رہیں ۔۔ اور اس سے پہلے کے بات کچھ آگے بڑھتی ۔۔ دروازے پر دستک ہوئی ۔۔ سب چونک اُٹھے ۔۔ اور جلدی جلدی اپنا اپنا حلیہ درست کرنے لگے ۔۔ زمان اُٹھا اور اپنی پینٹ کی زپ کو بند کرتا ہوا دروازے کی طرف بڑھا اور جا کر دروازہ کھول دیا ۔۔ سامنے رشید کھڑا تھا ۔۔۔

زمان نارمل انداز میں بولا۔۔ کیا بات ہے رشید۔۔

رشید۔۔ سر وہ ایک ایمرجنسی آئی ہے اسے چیک کر لیں ۔۔

رشید کی آواز سن کر ہما ایک بار پھر سہم گئی تھی ۔۔ مگر اس نے کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیا۔۔ زمان اور زیب باہر آگئے ایمرجنسی مریض کو دیکھنے کے لیے ۔۔ اور ہما اندر ہی رہ گئی۔۔

اسے اکیلا دیکھ کر رشید اندر آگیا۔۔ اور اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے کپڑے سے ٹیبل صاف کرنے لگا۔۔ اور ساتھ ہی ساتھ پان سے لال پیلے ہو رہے اپنے دانت نکال کر مسکراتا ہوا ہما کو دیکھنے لگا۔۔ ہما بھی اسکی نظروں کو محسوس کر رہی تھی ۔۔ مگر چُپ تھی ۔۔

وہیں رُکے رُکے رشید نے اپنی جیب میں سےسگریٹ نکالی اور اسے ماچس سے جلا کر کش لگانے لگا۔۔

ہما کو اسکی اس حرکت پر غصہ آیا۔۔ یہ کیا بدتمیزی ہے رشید۔۔ میں نے کتنی بار تم کو منع کیا ہے کہ میرے سامنے اور آفس کے اندر آکر سگریٹ نہ پیا کرو۔۔

رشید نے ایک لمبا کش لیا اور دھواں فضا میں چھوڑتا ہوا بولا۔۔ میڈم جی ۔۔ سگریٹ تو ڈاکٹر زمان صاحب بھی پیتے ہیں ۔۔ انکو تو آپ نے کبھی نہیں روکا۔۔

رشید کے منہ میں پان بھی تھا جسے وہ چبا بھی رہا تھا۔۔ اور ہما کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔

ہما غصے سے ۔۔ تمکو زمان سے کیا مطلب۔۔ تم اپنی اوقات میں رہا کرو۔۔ ورنہ ۔۔

رشید پھر ہنستا ہوا بولا۔۔ ورنہ کیامیڈم جی ۔۔۔ مجھے نکلوا دیں گی کیا آپ یہاں سے ۔۔ ہاں ہاں نکلوا دیں مجھے ۔۔ تاکہ آپکا راستہ صاف ہوجائے ۔۔

ہما۔۔ کیا بکواس کر رہے ہو۔۔ کونسا راستہ ۔۔ ہما نے اس سے سختی سے نپٹنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔۔ وہ اسے خود پر سوار نہیں ہونے دینا چاہتی تھی ۔۔

رشید مسکرایا۔۔ وہی میڈم جی ۔۔ اوپر والے آفس میں جانے کا راستہ ۔۔ زمان صاحب کے ساتھ ۔۔

ہما اپنی جگہ سے اُٹھی ۔۔ اور رشید کی طرف بڑھی ۔۔ اور اپنا ہاتھ اُٹھا کر اسے تھپڑ مارنے لگی ۔۔ رشید نے اپنی طرف آتا ہوا اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔۔ اسکی کلائی سے ۔۔ اور ہنستے ہوئے بولا۔۔

رشید۔۔ نا ۔ نا۔۔ میڈم جی ۔۔ ایسا نہیں کرنا ۔۔ ہاتھ نہیں اُٹھانا میرے پر ۔۔ یہ بات مجھے بہت بُری لگتی ہے ۔۔ یہ کہتے ہوئے رشید نے اپنا چہرہ ہما کے چہرے کے قریب لاتے ہوئے سگریٹ کا دھواں اسکے چہرے پر چھوڑ دیا اور پھر اسے چھوڑ کر دفتر سے باہر جانے لگا۔۔

ہما تو اسکی اس حرکت سے ساکت ہو چکی تھی ۔۔ اسکے پیچھے سے بولی ۔۔ کل ہی میں کمال صاحب سے تمھاری شکائت کروں گی ۔۔

رشید دروازے پر رکا۔۔ ٹھیک ہے کر دیں ۔۔ مگر کمال صاحب سے پہلے تو آپکے شوہر نے آنا ہے نا ۔۔
یہ کہہ کر رشید مسکراتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔۔ اور ہما وہیں صوفے پر اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی ۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کرے ۔۔

صبح جب ہما انور کے ساتھ جانے کے لیے ہاسپٹل کے گیٹ پر آئی تو اسکے پاؤں جیسے زمیں نے جکڑ لیے ہوں ۔۔ سامنے اسے کار سے نکل کر کھڑا ہوا انور نظر آیا۔۔ اور اسکے سامنے رشید کھڑا اس سے کچھ باتیں کر رہا تھا ۔۔ یہ دیکھ کر ہما کا تو جیسے دل ہی اُچھل کر اسکے حلق میں آگیا۔۔ انور اور رشید نے بھی ہما کو دیکھ لیا تھا۔۔ مگر وہ اسکی طرف دیکھتے ہوئے باتیں کرتے رہے ۔۔ ہما کو لگا کہ رشید اسکے شوہر کو سب کچھ بتا رہا ہے اسکے اور زمان کے بارے میں ۔۔ یہی خوف اسکو کھائے جا رہا تھا ۔۔۔ انور نے ہما کو آنے کا اشارہ کیا۔۔ ہما بوجھل قدموں کے ساتھ انکی طرف بڑھی ۔۔۔ انکے پاس پہنچی تو رشید نے ہاتھ اپنے ماتھے پر رکھ کر اسے سلام کیا۔۔

رشید۔۔ سر مجھے اپنا کارڈ دے دیں ۔۔ میں آپ کو فون کر دوں گا۔۔

انور نے اپنی جیب سے کارڈ نکال کر اسے دے دیا۔۔ ہما خاموشی سے یہ سب دیکھ رہی تھی ۔۔ حالانکہ اسے یہ سب ٹھیک نہیں لگ رہا تھا۔۔ اس نے انور کے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔ مگر اسے اسکے چہرے پر کوئی غصے کے آثار نظر نہیں آئے ۔۔ ہ

انور۔۔ چلوجلدی چلیں ۔۔ آج پھر نا ڈاکٹر زمان آجائیں تمکو بلانے کے لیے ۔۔

رشید نے ہما کی سائیڈ کا دروازہ کھولا اور ہما کار میں بیٹھ گئی تو رشید نے دروازہ بند کیا اس دوران اسکی نظریں ہما کی نظروں سے ملیں ۔۔ اور اس نے مسکرا کر اپنی ایک آنکھ دبا دی ۔۔ ہما نے فوراََ ہی اپنا چہرہ دوسری طرف کر لیا۔۔ اورانور نے گاڑی آگے بڑھا دی ۔۔

ہما کا دل گھبرا رہا تھا کہ پتہ نہیں رشید نے انور کو کیا بات کی ہے ۔۔۔ وہ اس سے پوچھنا چاہ رہی تھی ۔۔ مگر ہمت نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔ آخر رہ نہیں پائی ۔۔

ہما ۔۔ کیا کہہ رہا تھا رشید۔۔ ہما نے بڑے ہی نارمل سے انداز میں پوچھا۔۔

انور۔۔ کچھ نہیں یار۔۔ بس کہہ رہا تھا کہ کوئی کام ہو تو بتائیں وہ پارٹ ٹائم کرنا چاہتا ہے ۔۔

ہما نے انور کے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔ جیسے اندازہ لگانا چاہ رہی ہو کہ وہ کچھ چھپا تو نہیں رہا۔۔ مگر وہ کچھ بھی اندازہ نہ لگا سکی ۔۔۔

گھر آکر انور بیڈ رومیں چلا گیا۔۔ اور ہما لباس تبدیل کرکے کچن میں آگئی چائے بنانے کے لیے ۔۔ اسکا دل ابھی بھی مطمئن نہیں ہو رہا تھا ۔۔ آخر اس نے اپنا فون اُٹھایا۔۔ اور رشید کا نمبر ملانے لگی ۔۔ دوسری بیل پر ہی رشید نے فون اُٹھا لیا۔۔

رشید۔۔ جی میڈم جی ۔۔ ہمیں کیسے یاد کر لیا آپ نے ۔۔ آج تو ہماری قسمت ہی جاگ پڑی ہے ۔۔

ہما بنا ادھر اُدھر کی بات کیے سیدھی بات پر آتی ہوئی بولی ۔۔ تم انور سے کیا باتیں کر رہے تھے ۔۔؟؟؟

رشید ہنسا۔۔ اوہ ۔۔ ہو۔۔۔۔ تو آپ اس وجہ سے پریشان ہیں ۔۔۔ بے فکر رہیں میڈم جی میں نے کوئی بھی ایسی ویسی بات نہیں کی ۔۔ اگر آپ چُپ رہیں گی تو میں بھی چُپ رہوں گا۔۔ یہ میرا وعدہ ہے آپ سے ۔۔ یعنی کہ سب کچھ آپکے تعاون پر ہی ہے میڈم جی ۔۔۔۔ ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔ وہ ہنسنے لگا۔۔

ہما ۔۔ یو شٹ اپ ۔۔۔ باسٹرڈ۔۔۔ یہ کہتے ہوئے ہما نے فون بند کر دیا۔۔ اسے ایک بات کی تو تسلی ہو گئی تھی کہ انور کو رشید نے کوئی بھی بات نہیں کی تھی ۔۔ لیکن ابھی اسے اس بات کا بھی یقین نہیں تھا کہ وہ کیا کچھ جانتا ہے اسکے اور زمان کے بارے میں ۔۔۔ مگر جو بھی ہو ہما نے خاموشی اختیا ر کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔۔ وہ بات کو بڑھانا نہیں چاہتی تھی ۔۔ اور آئندہ رشید کو منہ نہ لگانے کا پکا ارادہ کر لیا۔۔

1.     آج چھٹی کا دن تھا تو ہما کو گھر لانے کے بعد انور دوبارہ سے لیٹ گیا تھا۔۔ اور ہما بھی رشید سے بات کرنے کے بعد چائے لے کر بیڈروم میں آگئی ۔۔ دونوں چائے پینے لگے بیڈ کی بیک سے ٹیک لگا کر ۔۔ کچھ دیر بعد ہی چائے پینے کے بعد انور نے ہما کو اپنی بانہوں میں کھینچ لیا۔۔ ہما بھی مسکراتی ہوئی اسکے سینے سے لگ گئی ۔۔ انور نے اسکے ہونٹوں کو چومنا شروع کیا۔۔ ہما بھی نہ چاہتے ہوئے بھی اسکا ساتھ دینے لگی ۔۔ کیونکہ اسکا من نہیں ہو رہا تھا اب سیکس کرنے کو۔۔ ایک لمحے کے لیے تو ہما کو تھوڑا اپنی غلطی اور گناہ کا احساس ہوا۔۔ کہ وہ کیوں اپنے اتنا پیار کرنے والے شوہر سے بےوفائی کرتے ہوئے ایک پلے بوائے کے ساتھ سیکس کرنے لگی ہے ۔۔ جبکہ وہ یہ سب بھی جانتی تھی کہ زمان زیادہ وقت تک ایک ہی لڑکی پر ٹکنے والا لڑکا نہیں ہے ۔۔ اور اسکے شادی شدہ ہونے کو باوجود اس سے جو تعلق بڑھایا ہے تو وہ صرف اور صرف جسمانی ہے ۔۔ اس میں جذبات کا کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے ۔۔ مگر اسکے باوجود بھی وہ زمان کے ساتھ گذارے ہوئے لمحات کو نہیں بھلا پائی تھی ۔۔ اور انور کی بانہوں میں ہوتے ہوئے بھی اسے زمان کا ہی خیال آرہا تھا۔۔ زمان کا چہرہ اور اسکے ساتھ گزارے ہوئے حسین لمحات آنکھوں کے سامنے آتے ہی ہما ایک سسکاری کے ساتھ انور سے لپٹ گئی اور اسکے ہونٹوں کو چوسنے لگی ۔۔ انور بھی ہما کی بے قراری اور والہانہ پن کو دیکھ کر حیران ہو رہا تھا ۔۔ مگر اسے بھی یہ سب اچھا لگ رہا تھا۔۔ اسکے ہاتھ ہما کی کمر پر پھسلنے لگے ۔۔ اس نے ہما کی نائٹی آگے سے کھولی ۔۔ اور اسکے مموں کو ننگا کر دیا۔۔ جیسے ہی ہما کی ننگی چھاتی کو انور نے اپنی مٹھی میں لیا تو ہما سسک پڑی اور اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ کے اوپر رکھ کر اپنے ممے کو دبانے لگی ۔۔ آنکھیں بند کرتے ہوئے ہما نے انور کے سر کو نیچے کی طرف کھینچ لیا اپنے مموں پر ۔۔ انور نے فوراََ ہی اپنی خوبصورت اور سیکسی بیوی کی گوری گوری چھاتی کے گلابی نپل کو منہ میں لیا اور چوسنے لگا۔۔ اور دانتوں سے کاٹنے لگا۔۔ اسکا لوڑا نیچے سے اکڑ کر ہما کی رانوں کے درمیان گھستا چلا جا رہا تھا۔۔ جسے ہما نے اپنی دونوں ٹانگوں کے بیچ دبا لیا۔۔ اور اپنا ہاتھ انور کے سر کے پیچھے رکھ کر اسکے منہ کو اپنے نپل پر دبانے لگی ۔۔ اپنے سینے کو اوپر کی طرف اٹھاتے ہوئے اپنی چھاتی کو اسکے منہ کے اور بھی اندر داخل کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔ انور نے نیچے ہاتھ لے جا کر اپنا پاجامہ کھول دیا۔۔ اور اسے نیچے سرکا دیا۔۔ اور پیروں کی حرکت کے ساتھ اسے اپنے جسم سے الگ کر دیا۔۔ پھر انور نے کروٹ بدلی ۔۔ اور ہما کے اوپر سوار ہوگیا۔۔ اپنے ہونٹوں کو دوبارہ سے ہما کے ہونٹوں پر چپکایا۔۔ اور اپنے لوڑے کی ٹوپی کو ہما کی چوت کے سوراخ پر ٹکا دیا۔۔ ہما گرم ہو چکی ہوئی تھی ۔۔ اور اسکے چوت بھی پانی چھوڑنے لگی تھی ۔۔۔ ہما نے اپنی دونوں ٹانگیں اٹھا کر انور کی گانڈ پر رکھیں اور اسے زور سے اپنی طرف کھینچا۔۔ انور کا لوڑا پھسل کر ہما کی چوت میں اتر گیا۔۔ اور ہما کے منہ سے ایک تیز سسکاری نکل گئی ۔۔۔۔ پیچھے سے ہما نے انور کے جسم کو اپنی ٹانگوں سے دبوچ لیاتھا۔۔ اور اوپر سے اپنے بازو انور کے گلے میں ڈال کر اسے جکڑ رکھا تھا۔۔ انور اسی حالت میں دھیرے دھیرے اپنا لنڈ ہما کی چوت میں اندر باہر کر رہا تھا ۔۔ اور اسے چود رہا تھا ۔۔ آج اپنی بیوی کو چودنے میں اسے الگ ہی مزہ آرہا تھا۔۔ اسکا لوڑا ہما کی چکنی چوت میں اندر باہر ہو رہا تھا ۔۔ اور ہما بھی پوری طرح اسکا ساتھ دے رہی تھی ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں اسکی چوت نے پانی چھوڑ دیاتھا۔۔ مگر انور ابھی بھی نہیں چھوٹا تھا۔۔ بلکہ دھیرے دھیرے ہما کو چود رہا تھا۔۔ ہما آنکھیں بند کر کے لمبے لمبے سانس لیتی ہوئی اپنے شوہر کے ساتھ ہو رہی ہوئی چدائی کا مزہ لے رہی تھی ۔۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اس چدائی کو زمان کے ساتھ کیے ہوئے سیکس سے بھی موازنہ کر رہی تھی ۔۔۔ اور بنا کسی شک کے اسے سمجھ آرہی تھی کہ زمان کے ساتھ ہوئی چدائی میں اسے زیادہ مزہ آیا تھا۔۔ مگر اس وقت تو اسے صرف اور صرف لوڑے کی ضرورت تھی اپنی چوت میں ۔۔ جو اسے مزہ دے ۔۔ اب وہ لوڑا چاہے انور کا ہو یا زمان کا ۔۔ اسے تو بس مزہ ہی لینا تھا ۔۔ جو وہ لے رہی تھی ۔۔۔ آخر کار ہما کی چوت کی گرمی کے آگے انور کا لوڑا بھی ہار گیا۔۔ اور اپنی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے اپنا پانی ہما کی چوت میں گرادیا۔۔ اور ہما کے اوپر ہی نڈھال ہو کر ڈھے گیا۔۔ ہما نے بھی اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا۔۔ اور دونوں سکون کی سانسیں لینے لگے ۔۔

انور ہما کے ساتھ لیٹا ہوا اسکے نپلز سے کھیل رہا تھا۔۔ اپنی انگلیوں سے آہستہ آہستہ انکو مسلتا ہوا بولا۔۔ ہما ڈارلنگ آج تم کو کیا ہو گیا تھا۔۔

ہما شرما کر بولی ۔۔ کیوں کیا ہوا تھا۔۔؟؟؟؟ کچھ بھی تو نہیں ۔۔

انور ۔۔ نہیں آج تم بہت زیادہ گرم ہو رہی تھی ۔۔ اور تمھاری چوت میں لنڈ ڈالتے ہی میرا لوڑا تو جیسے جل ہی گیا تھا۔۔۔

ہما شرما گئی ۔۔۔ تو کیا تمکو مزہ نہیں آیا۔۔۔؟؟؟؟

انور ۔۔ یہ میں نے کب کہا ہے ۔۔ آج تو ہمیشہ سے زیادہ مزہ آیا ہے میری جان مجھے ۔۔ میں تو چاہتا ہوں کہ تم روز ہی ایسے ہی گرم ہوا کرو اور میں ایسے ہی تمکو چودوں ۔۔

ہما نے انور کی ننگی چھاتی پر ایک ہلکا سا مکہ مارا اور اپنا چہرہ اسکے سینے میں چھپا لیا۔۔ ایسے ہی پیار اور سیکس بھری باتیں کرتے ہوئے دونوں کی آنکھ لگ گئی ۔۔ اور وہ سو گئے ۔۔۔

باہر کی بیل کی آواز سے دونوں کی آنکھ کھلی ۔۔ ہما نے کلاک کی طرف دیکھا تو صبح کے 12 بج رہے تھے ۔۔ ہما نے ایک گاؤن اپنے ننگے جسم پر ڈالا اور دروازہ کھولنے چلی گئی ۔۔ انٹر کام پر پوچھا تو پتہ چلا کہ زیب آئی تھی ۔۔زیب کی آواز سنتے ہی اسے اپنا آج کا پروگرام یاد آگیا۔۔ جو اس نے زیب کے ساتھ بنایا تھا۔۔ اس نے جلدی سے جا کر دروازہ کھولا تو زیب اندر آگئی ۔۔ ہما کا شارٹ سا گاؤن دیکھ کرمسکرانے لگی ۔۔۔ ہاتھ بڑھا کر ہما کے گاؤن کے اوپر سے ہی اسکےنپل کو مسلتی ہوئی بولی ۔۔۔
زیب۔۔ ڈاکٹر ہما مجھے تو لگتا ہے کہ آپ ایک راؤنڈ تو گھر پر ہی کھیل چکی ہو۔۔

اسکی بات پر ہما جھینپ گئی ۔۔۔ اور اسے کوئی جواب نہیں دیا۔۔ دونوں اندر لاؤنج میں آگئیں ۔۔

زیب۔۔ چلیں اب جلدی سے تیار ہو جائیں ۔۔ ڈاکٹر زمان ہمارا انتظار کر رہے ہیں ۔۔ کافی کالز آچکی ہوئی ہیں انکی ۔۔

ویسے انور کے ساتھ ہوئی چدائی کے بعد اب اسکا دل نہیں کر رہا تھا کہیں جانے اور کچھ اور سیکس کرنے کا اس لیے اس نے زیب کو انکار کرنا چاہا۔۔

ہما۔۔ زیب تم آج خود ہی چلی جاؤ ۔۔ اب میرا موڈ نہیں ہے ۔۔

زیب۔۔ مجھے پتہ ہے کہ آپ اپنے شوہر کے ساتھ مزے لے چکی ہو مگر یہ آپکو بھی پتہ ہے کہ جو مزہ آپکو زمان نے دینا ہے وہ الگ ہی ہو گا۔۔ بس آپ جلدی سے تیار ہو کے آجاؤ چلتے ہیں ۔۔

ہما ۔۔ نہیں یار۔۔ آج میں تھک گئی ہوں ۔۔آج نہیں جا سکوں گی ۔۔

اتنے میں انور بیڈروم سے باہر آیا۔۔ وہ بھی ایک گاؤن میں ہی تھا۔۔ دونوں کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔۔ یہ آج کہاں جانے کی باتیں ہو رہی ہیں ۔۔

زیب تھوڑا گھبرائی مگر ہما فوراَ بولی ۔۔ مجھے اپنے ساتھ شاپنگ پر لے جانا چاہتی ہےمگر میں نے اسے کہا ہے کہ میں تھکی ہوئی ہوں ۔۔ یہ بات کہتے ہوئے ہما نے مسکرا کر ترچھی نظر سے انور کو دیکھا تو وہ بھی مسکرا دیا۔۔۔

انور۔۔ ارے یار چلی جاؤ نا۔۔ گھنٹہ دو کی ہی تو بات ہے ۔۔ تم بھی انجوائے کر لو گی ۔۔

زیب مسکرا کر بولی ۔۔ دیکھیں نا ڈاکٹر ہما ۔۔ اب تو سر بھی آپ کو اجازت دے رہے ہیں جانے کی ۔۔ کہ جائیں اور مزے کریں۔۔ یہ کہتے ہوئے زیب نے ہما کو آنکھ ماری ۔۔۔ ہما مسکرا دی۔۔

ہما ۔۔ اچھا بابا۔۔ اب آپ دونوں ہی میرے پیچھے پڑ گئے ہو تو ٹھیک ہے چلی جاتی ہوں ۔۔ پہلے میں چائے ناشتہ تو بنا لوں ۔۔

زیب بھی صوفے سے اٹھتی ہوئی بولی ۔۔ نہیں آپ جاؤ میں بنا لیتی ہوں ناشتہ بھی اور چائے بھی ۔۔ یہ کہتے ہوئے زیب کچن میں چلی گئی اور ہما اپنے بیڈروم میں جا کر نہانے لگی ۔۔ زیب نے کچن میں جا کر اپنا دوپٹہ اتار کر کرسی پر رکھا ۔۔ اور ناشتہ بنانے لگی ۔۔

تھوڑی دیر میں انور لاؤنج سے اٹھ کر کچن میں آگیا۔۔ زیب کی کمر انور کی طرف تھی ۔۔ اسکے لائٹ ییلو کلر کے لباس کے نیچے سے اسکی سفید کلر کی برا کی سٹریپس اور ہکس صاف نظر آرہے تھے ۔۔ اسکے کپڑے کافی ٹائٹ تھے ۔۔ نیچے سے اسکی گانڈ بھی تنی ہوئی نظر آرہی تھی ۔۔ انور کچھ دیر تک اسے دیکھتا رہا۔۔ پھر زیب کسی کام سے پیچھے کو مڑی تو اسکی نظر انور پر پڑی ۔۔ تو وہ مسکرا دی ۔۔

زیب ۔۔ ارے سر آپ کب آئے ۔۔

انور ۔۔ بس ابھی آیا تھا ۔۔ سوچا آپکو کچھ مدد کی ضرورت ہو تو کر دوں ۔۔

زیب مسکرائی ۔۔ جی مجھے تو کسی مدد کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ ہاں البتہ اپنی وائف سے جاکر پوچھ لیں انکو کوئی مدد چاہیے ہو تو۔۔

انور اسکی بات سے تھوڑا شرمندہ ہوگیا۔۔ زیب نے بھی یہ بات محسوس کی تو بولی ۔۔ آجائیں آپ بیٹھیں یہاں کرسی پر ۔۔ چاہتا تو انور بھی یہی تھا۔۔ وہ اسکے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا۔۔ اسی کرسی پر جسکی بیک پر زیب نے اپنا دوپٹہ رکھا تھا۔۔۔ زیب کا سامنے کا حصہ اسکی طرف ہوا تو انور کا اندازہ ہوا کہ زیب کی شرٹ کا گلا کافی کھلا ہے ۔۔ جس میں سے اسکے مموں کا اوپری حصہ اور انکی درمیانی لکیر صاف نظر آرہی تھی ۔۔ اور اسی درمیانی لکیر میں ہی انور کی نظر پھنس کر رہ گئی ۔۔ زیب کو اس بات کا احساس ہو گیا تھا ۔۔ مگر اس نے کچھ برا نہی منایا۔۔ اور مناتی بھی کیوں ۔۔ وہ تو آئی ہی اسی کام سے تھی ۔۔ وہ اپنا سیکسی جسم انور کی نظروں کے سامنے لہراتی ہوئی کچن میں ادھر اُدھر پھرتی رہی ۔۔ اور ناشتہ کا کام کرتی رہی ۔۔ اور انور بھی اسکے سیکسی جسم سے اپنی آنکھیں سینکتا رہا ۔۔


تھوڑی ہی دیر میں ہما بھی تیار ہو کر آگئی ۔۔ اس نے ایک ٹائٹ جینز اور ٹی شر ٹ پہنی تھی ۔۔ جس میں وہ بہت ہی سیکسی لگ رہی تھی ۔۔ سب نے وہیں کچن کی ٹیبل پر ہی بیٹھ کر ناشتہ شروع کر دیا۔۔ زیب بنا دوپٹہ کے ہی بیٹھی تھی انور کے بلکل سامنے ۔۔ اور اس طرح بیٹھنے سے اسکے مموں کی درمیانی لکیر کچھ اور بھی گہری ہو گئی تھی ۔۔ اور مموں کا کچھ اور حصہ بھی باہر کو نکلنے لگا تھا۔۔ ہما بھی یہ سب دیکھ رہی تھی ۔۔ اسے انور کی نظریں زیب کے سینے پر جمی ہوئی دکھ رہی تھیں ۔۔ ٹیبل کے نیچے سے ہما نے اپنے پاؤں سے انور کے پاؤں کو ٹھوکر بھی ماری ۔۔ اس نے ہما کی طرف دیکھا تو اس نے انور کو گُھورا اور ساتھ ہی مسکرانے لگی ۔۔۔ اسکی اس ہنسی سے انور شرمندہ ہو گیا۔۔ مگر زیادہ دیر تک وہ اپنی نظروں کو زیب کے سینے کے اُبھاروں سے دور بھی نہیں رکھ سکا۔۔ اور چوری چوری انکو دیکھتا رہا۔۔ مگر ہما نے دوبارہ اسے منع نہیں کیا۔۔ ناشتے کے بعد ہما نے اپنا میک اپ کیا۔۔ اور اپنے حسن کو چار چاند لگا کر زیب کو لے کر اپنی گاڑی پر نکل پڑی ۔۔ اپنے شوہر کو شاپنگ پر جانے کا بتا کر۔۔ اپنے بوائے فرینڈ سے چدوانے کے لیے ۔گاڑی نکالتے ہی ہما بولی ۔۔ زیب تم بہت ہی سیکسی کپڑے پہن کر آئی ہو ۔۔ کیسے اپنے یہ بوبس انور کو دکھا رہی تھی تم ۔۔

زیب مسکرا کر بولی ۔۔ ارے یار ۔۔۔ جو دیکھنے کی چیز ہو اسے لوگوں کو دکھانا ہی چاہیے نا۔۔ چھپانے سے کیا فائدہ۔۔۔

ہما۔۔ کیوں زمان سے چدوا کر دل نہیں بھرا جو اتنی جلدی انور کی طرف ہو گئی ہو۔۔۔۔

زیب۔۔ ارے ہما جی ۔۔۔ یہ جو چوت اور لنڈ ہوتے ہیں نا ۔۔ دونوں ہی ایک جیسے ہی ہوتے ہیں ۔۔ جیسے لنڈ کو ہمیشہ نئی چوت کی تلاش ہوتی ہے نا ایسے ہی چوت کو بھی ہمیشہ نئے لنڈ کی پیاس ہوتی ہے ۔۔ اس لیے بس دل مچل گیا آپ کے اتنے خوبصورت شوہر کو دیکھ کر۔۔۔ ویسے اگر آپ کو کوئی اعتراض ہے تو بتا دیں ۔۔۔ زیب نے آنکھیں نچاتے ہوئے کہا۔۔

ہما اسکی بات پر ہنس پڑی ۔۔ نہیں نہیں ۔۔ تم کرو جو کرنا ہے ۔۔۔

زیب۔۔ ویسے ڈاکٹر ہما ۔۔ جو مزہ ہم کسی دوسرے کے ساتھ لے سکتے ہیں نا وہ اپنے شوہر کے ساتھ کہاں آتا ہے ۔۔۔ وہ آزادی کہاں ملتی ہے ۔۔

ہما مسکرائی ۔۔ ہاں یہ تو ہے ۔۔۔

تھوڑی دیر میں دونوں زمان کے گھر پر پہنچ گئیں ۔۔ زمان نے دروازہ کھولا اور دونوں اندر چلی گئیں ۔۔ اندر آئیں تو دیکھا کہ زمان کے دو دوست بیٹھے تھے ۔۔ دونوں انکو دیکھ کر ٹھٹھک گئیں ۔۔ زمان نے ان سے دونوں کا تعارف کروایا۔۔ اور پھر دونوں دوست اٹھ کر چلے گئے ۔۔ ہما کو معنی خیز نظروں سے دیکھتے ہوئے ۔۔ انکی نظروں سے ہما بھی تھوڑا کنفیوژ ہو گئی ۔۔ دوستوں کے جاتے ہی زمان جا کر شراب کی بوتل لے آیا۔۔ ساتھ ہی تین گلاس اور برف بھی ۔۔ ہما اور زیب کے سامنے بیٹھ کر پیگ بنانے لگا۔۔

ہما ۔۔ پلیز ڈاکٹر زمان ۔۔ میں شراب نہیں پیتی ۔۔

زیب ہنسی ۔۔ جی ہاں ڈاکٹر زمان یہ شراب نہیں پیتیں ۔۔ یہ صرف لوڑے کا پانی پیتی ہیں ۔۔ وہ پلا دیں بس آپ انکو۔۔

اس بات پر سب ہی ہنسنے لگے ۔۔ زمان نے گلاس اٹھایا اور ہما کے پاس ہی آگیا۔۔ اور اسکی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔۔ یار لوڑے کا پانی بھی مل جائے گا تم کو ۔۔ پہلے تھوڑی یہ پی کرتو دیکھو نا ۔۔ یہ کوئی دیسی ٹائپ کی نہیں امپورٹڈ ہے ۔۔ زیادہ نشہ نہیں ہو گا تمکو اور سیکس کے کھیل میں مزہ بھی زیادہ آئے گا۔۔

ہما نے جھجکتے ہوئے گلاس زمان کے ہاتھ سے لے لیا۔۔ اور ایک چھوٹا سا گھونٹ لیا۔۔ ہما کو کوئی تیز سی چیز اپنے حلق سے نیچے اترتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔ مگر جیسے ہے شراب اسکے معدہ میں اتری تو اسے کچھ اچھا لگا۔۔ اور پھر وہ سب کے ساتھ باتیں کرتی ہوئی گھونٹ گھونٹ شراب پینے لگی ۔۔۔ اسے بھی شراب اچھی لگنے لگی تھی ۔۔ اس پر بھی ہلکا ہلکا نشہ سا چڑھنے لگا تھا۔۔ اور اسکے بے باکی میں اضافہ ہونے لگا تھا۔۔

زیب نے زمان کی شارٹس اتار کر اسکے لوڑے کو ننگا کر دیا۔۔ اور خود نیچے کارپٹ پر زمان کی ٹانگوں کے بیچ میں بیٹھ گئی ۔۔ اور اپنے گلاس میں سے شراب کے سپ لیتی ہوئی اسکے لوڑے کو سہلانے لگی ۔۔ جو اسکے ہاتھ میں آکر اور بھی اکڑنے لگا تھا۔۔ اچانک زیب کو پتہ نہیں کہاں سے خیال آیا تو اس نے اپنا گلاس زمان کے لوڑے کے قریب لے جا کر اسکے لوڑے کو اپنے شراب کے گلاس میں ڈبودیا۔۔ ہما حیرانی سے اسکو دیکھنے لگی ۔۔ شراب کے گلاس سے اسکا لوڑا نکال کر زیب نے اسے اپنے منہ میں لیا اور اسے چوسنے لگی ۔۔ ہما اسکی اس حرکت پر مسکرانے لگی ۔۔۔ زیب نے دوبارہ سے زمان کا لوڑا اپنے گلاس میں ڈبویا۔۔ اور اب ہما کو اشارہ کیا۔۔ ہما نے پہلے تو ہنستے ہوئے انکار کیا۔۔ مگر پھر زیب کے اصرار پر نیچے جھک کر زمان کے لوڑے کو اپنے منہ میں لے لیا اور اس پر لگی ہوئی شراب چوس گئی ۔۔ ۔ زمان کو بھی اچھا لگ رہا تھا ۔۔ اس نے اپنے گلاس سے تھوڑی تھوڑی شراب اپنے لوڑے کی ٹوپی پر گرانی شروع کر دی ۔۔ اور ہما اور زیب نے اسے چاٹنا شروع کر دیا۔۔ کچھ شراب نیچے زمان کے ٹٹوں پر پہنچی تو زیب نے اسے بھی چاٹ لیا۔۔ ایسے ہی مستیاں کرتے ہوئے وہ سب شراب پیتے جارہے تھے ۔۔ اور ان پر نشہ چھاتا جا رہا تھا ۔۔

زمان نے ہما کی ٹی شرٹ کر پکڑا اور اسے اوپر کرتے ہوئے اسکے جسم سے الگ کر دیا۔۔ نیچے ہما نے ایک پنک کلر کی برا پہنی ہوئی تھی ۔۔ جو اسکے جسم پر بہت سیکسی لگ رہی تھی ۔۔ زیب نے ہما کی برا بھی کھول کر اسکے جسم سے الگ کر دی ۔۔ اب ہما کا اوپری جسم ننگا ہو گیا تھا۔۔ زیب نے فوراَ ہی ہما کے ممے پر اپنا منہ رکھا اور اسے چوسنے لگی ۔۔۔ دوسرے ممے کو زمان اپنے ہاتھ سے سہلا رہا تھا ۔۔۔ پھر اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے گلاس سے شراب ہما کے ممے پر ڈالی جسے زیب نے چاٹنا شروع کر دیا۔۔ ہما کو گدگدی بھی ہو رہی تھی مگر مزہ بھی آرہا تھا۔۔۔ زمان اور زیب دونوں ہی اب ہما کے مموں پر شراب ڈال کر چاٹ رہے تھے ۔۔ پی رہے تھے ۔۔ زیب نے ہما کی جینز بھی کھول کر اتاردی ۔۔ اور صوفے سے نیچے ہی اسکے ٹانگوں کے بیچ آگئی ۔۔ ہما کی ٹانگوں کو کھولا اور اسکی چوت پر جھک کر اسکی چوت کو چومنے لگی ۔۔ جو بلکل بالوں سے صاف تھی ۔۔ جیسے ابھی ابھی صاف کیے ہوں ۔۔

زیب ہما کی چکنی چوت پر ہاتھ پھیرتی ہوئی بولی ۔۔ ڈاکٹر زمان ۔۔ ہما جی نے ابھی ابھی آپکی خاطر اپنی چوت کو تیار کیا ہے ۔۔ آپ سے چدنے کے لیے ۔۔

زیب کی اس بات پر ہما شرما گئی ۔۔۔ زیب نے اپنی ایک انگلی ہما کی چوت کے اندر ڈالی ۔۔ اور اسی ہاتھ کے انگوٹھے سے ہما کی چوت کے دانے کو رگڑنے لگی ۔۔ ہما کے منہ سے سسکاریاں نکلنے لگیں ۔۔ اسکے ساتھ ہی جیسے ہی زیب نے اپنی زبان ہما کہ چوت کے دانے سے ٹچ کی ۔۔ اور اسے اپنی زبان کی نوک سے رگڑا تو ہما کی گانڈ صوفے سے اوپر کو اٹھنے لگی ۔۔ اور اسکا ہاتھ زیب کے سر کو اپنی چوت پر دبانے لگا۔۔ زمان اب ان دونوں سے الگ ہو چکا تھا ۔۔ اور الگ بیٹھ کر شراب پیتا ہوا دونوں خوبصورت لڑکیوں کو ایکدوسری کے جسم سے کھیلتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ تھوڑی دیر تک ہما کی چوت چاٹنے کے بعد زیب نے اٹھ کر اپنے کپڑے بھی اتار دیئے اور ہما کو بازور سے پکڑ کر صوفے پر سے اٹھایا۔۔ اور خود صوفے پر لیٹ گئی ۔۔ ہما اسکا مطلب سمجھ چکی تھی ۔۔ کہ وہ بھی اب اپنی چوت اس سے چٹوانا چاہتی ہے ۔۔ ہما نے بھی اسے مایوس نہیں کیا۔۔ اسکی ٹانگوں کے بیچ میں آکر اسکی چوت پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے ۔۔ اور اسکی چوت کو چاٹنے لگی ۔۔ ہما کچھ اس انداز میں صوفے پر اپنے گھٹنوں کے بل جھکی ہوئی تھی کہ اسکی گلابی چوت زمان کی طرف تھی ۔۔ زمان کی نظریں بھی ہما کی چوت کے گلابی لبوں پر جم گئیں ۔۔ جن پر ابھی بھی زیب کے زبان کا گیلا پن چمک رہا تھا۔۔ ہما زیب کی چوت پر انگلی پھیرتے ہوئے اسکی چوت کو اپنی زبان کی نوک سے چاٹ رہی تھی کہ اچانک وہ اچھل پڑی اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو زمان نے آگے بڑھ کر اپنا منہ ہما کے چوت سے ٹکا دیا تھا ۔۔ ہما نے اسے مسکرا کر دیکھا ۔۔ اور اپنی ٹانگوں کو تھوڑا پھیلا دیا۔۔ اور اپنی گانڈ کو بھی باہر کو نکال دیا۔۔ زمان نے ہما کی گانڈ پر ہاتھ رکھ کر اسکی چوت کے لبوں کو اپنی زبان سے چاٹنا شروع کر دیا۔۔ اچانک ہما کو اپنی گانڈ کے سوراخ اور چوت پر کچھ ٹھنڈا ٹھنڈا محسوس ہوا۔۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو زمان اسکی گانڈ کے درمیان شراب ڈال رہا تھا جو اسکی چوت پر سے بہتی ہوئی نیچے کو آرہی تھی ۔۔ جسے اس نے چاٹنا شروع کر دیا۔۔ ہما اسکی اس حرکت کو دیکھ کر مسکرانے لگی ۔۔ اسے یہ سب بھی اچھا لگ رہا تھا۔۔ کہ زمان اسکی چوت پر شراب گرا کر چاٹ رہا تھا۔۔

کچھ دیر کے بعد زمان اٹھا اور اپنا لوڑا ہما کی چوت پر رکھا اور اسے اوپر نیچے رگڑنے لگا۔۔ زمان کا لوڑا ہما کی چوت کے دانے کو رگڑ رہا تھا ۔۔ اور ہما کی سسکاریاں نکل رہی تھیں ۔۔۔ اور وہ اور بھی مزے کے ساتھ زیب کی چوت کو چاٹنے لگی تھی ۔۔۔ آخر زمان نے اپنے لوڑے کو ہما کی چوت کے سوراخ پر رکھ کر اندر دھکا مارا۔۔ زمان کا آدھا لوڑا ہما کی چکنی چوت کے اندر چلا گیا۔۔ ہما کے منہ سے ایک سسکاری نکلی ۔۔ جو زیب کی چوت کے اندر ہی جذب ہو گئی ۔۔۔ ساتھ ہی ہما نے پیچھے کو اپنی گانڈ کو دھکیلا ۔۔۔ اور خود سے زمان کا پورا لوڑا اپنی چوت میں لے لیا۔۔۔ اور بنا اسکے دھکوں کا انتظار کیے ۔۔ خود ہی آگے پیچھے کو ہوتی ہوئی زمان سے کے لوڑے سے اپنی چوت چدوانے لگی ۔۔ زمان بھی ہما کے اس انداز سے خوش تھا۔۔ کہ آج ہما خود بھی چدائی میں تعاون کر رہی ہے ۔۔ یہ شائد شراب کا اثر تھا۔۔ مگر جو بھی تھا ۔۔ زمان کو ہما کی چوت سے غرض تھی نا جس میں اسکا لوڑا پورا اندر باہر ہوتے ہوئے مزے لے رہا تھا ۔۔۔ زمان نے زیب کی پتلی کمر کو اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑا اور اپنے لوڑے کو اسکی چوت میں اندر باہر کرتے ہوئے اسے چودنے لگا۔۔ ہما بھی پورا پورا مزہ لیتے ہوئے آگے پیچھے کو ہو رہی تھی ۔۔ خود اسکی اپنی انگلی زیب کی چوت کے اندر باہر ہو رہی تھی ۔۔

دس منٹ تک ہما کو چودنے کے بعد اسکی چوت نے اپنا پانی چھوڑ دیا۔۔ زمان نے ہما کی چوت سے اپنا لوڑا نکالا۔۔ اور اسے پیچھے ہٹا کر نیچے لیٹی ہوئی زیب کے اوپر آگیا۔۔ اور اپنا لوڑا اسکے منہ سے لگا دیا۔۔ زیب نے بنا کسی دیری کے اسکا لوڑا اپنے منہ میں لیا اور اس پر لگا ہوا ہما کی چوت کا پانی چاٹنے لگی ۔۔۔ اور اسے چوسنے لگی ۔۔ پھر زمان نے اپنا لوڑا اس سے چسوانے کے بعد اسکی چوت کے سوراخ پر رکھا۔۔ اور آہستہ آہستہ اندر کرنے لگا۔۔۔ زیب نے اپنی دونوں ٹانگیں ہوا میں اُٹھا رکھی تھیں ۔۔ اور زمان اپنا لوڑا اسکی چوت میں اتارتا جارہا تھا۔۔ پاس ہی بیٹھی ہوئی ہما ان دونوں کی چدائی دیکھ رہی تھی ۔۔۔ اور اپنی چوت کو اپنی ہی انگلی سے سہلا رہی تھی ۔۔۔

زیب کی چوت میں ہی زمان فارغ ہوا ۔۔ کچھ دیر انھوں نے ریسٹ کیا۔۔ اور پھر سے ایک راؤنڈ شروع ہو گیا۔۔ زمان نے تسلی کے ساتھ دونوں کی جی بھر کر چدائی کی ۔۔ تینوں فارغ ہو کر بیڈ پر لیٹے ہوئے تھے ۔۔ زیب زمان کی رانوں پر سر رکھ کرلیٹی ہوئی تھی۔۔ اور زمان کے لوڑے سے کھیلتی ہوئی ۔۔ اسکو چوم رہی تھی ۔۔ اور کبھی کبھی منہ میں لے کر چوس بھی لیتی تھی۔۔ اور ہما انکے قریب ہی لیٹی ہوئی تھی ۔۔ اتنے میں اسکا موبائل بج اٹھا۔۔ اس نے دیکھا تو انور کی کال تھی ۔۔ ایک لمحے کے لیے تو وہ گھبرائی ۔۔ اور پھر ان دونوں کو چپ رہنے کا اشارہ کر کے وہ بیڈ سے اتری اور تھوڑا دور پڑے ہوئے صوفے پر ننگی ہی بیٹھ کر فون سننے لگی ۔۔

انور۔۔ ہیلو۔۔ کب تک واپس آرہے ہو آپ لوگ۔۔ ابھی تک فارغ نہیں ہوئے تم لوگ ۔۔

ہما مسکرائی ۔۔ یار میں تو فارغ ہو چکی ہوں مگر یہ زیب کا ہی دل نہیں بھر رہا ابھی تک۔۔

ہما کی اس ڈبل مطلب والی بات سن کر وہ دونوں بھی ہنسنے لگے ۔۔

انور۔۔ اچھا چلو ٹھیک ہے ۔۔ جیسے ہی زیب فارغ ہو آجاؤ واپس۔۔

ہما ۔۔ ہاں ۔ ہاں ۔ آپ فکر نہیں کرو ۔۔ ہم جلد ہی واپس آرہے ہیں ۔۔

فون بند کیا تو دیکھا کے ایک دو میسج بھی آئے ہوئے تھے ۔۔ ہما انکو دیکھنے لگی ۔۔ ایک میسج نے اسے چونکا دیا۔۔ وہ رشید کا میسج تھا۔۔ ہما نے اسے کھولا تو لکھا تھا۔۔ میڈم جی ۔۔ خوب مزے ہو رہے ہیں نا ڈاکٹر زمان صاحب کے گھر پر ۔۔۔ یہ میسج پڑھ کر ہما تو جیسے اچھل ہی پڑی ۔۔ فوراََ ادھر اُدھر دیکھنے لگی ۔۔ مگر وہاں کوئی ہوتا تو نظر آتا نا۔۔ ہما گھبرا گئی تھی ۔۔ اس نے اب زیب کو بھی جلدی سے چلنے کو بولا۔۔ زیب کچھ دیر اور رکنا چاہتی تھی ۔۔ ایک اور راؤنڈ کے لیے ۔۔ مگر ہما نے اسکی ایک نہ چلنے دی ۔۔ اور اسے جلدی سے تیار ہونے کو کہا اور خود بھی باہر کے کمرے سے اپنے کپڑے لا کر پہننے لگی ۔۔ اور پھر آئینے کے سامنے خود کو ٹھیک ٹھاک کیا۔۔ اور زیب بھی تیا ر ہوگئی ۔۔ ۔ زمان کے گھر پر قریب 4 گھنٹے رکنے اور چدائی کرنے کے بعد ہما اور زیب واپس روانہ ہوئیں ۔۔ہما راستے میں بھی وہ ادھر ادھر دیکھتی آرہی تھی کہ کہیں رشید تو اسکا پیچھا نہیں کر رہا ۔ ۔ زیب نے پوچھا بھی کہ وہ گھبرائی ہوئی کیوں ہے ۔۔ مگر ہما نے اسے ٹال دیا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔ ہما نے زیب کو اسکے ہوسٹل چھوڑا اور خود اپنے گھر کی طرف چل پڑی ۔۔ ۔۔

گھر سے کچھ فاصلے پر رک کر ہما نے کچھ سوچ کر رشید کا نمبر ملایا۔۔ کال جاتی رہی ۔۔ مگر اس نے کال ریسیو نہیں کی ۔۔ ایسے ہی ہما نے 5 بار رشید کو کال کی مگر اس نے کال نہیں ریسیو کی ۔۔ ہما کی گھبراہٹ اور پریشانی بڑھ رہی تھی ۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آخر رشید اسکی کال اٹینڈ کیوں نہیں کر رہا۔۔آخر وہ چاہتا کیا ہے ۔۔۔ آخر ہما نے گاڑی آگے بڑھائی اور گھر پہنچ گئی ۔۔ اوپر اپنے فلیٹ پر پہنچی تو اسکے فلیٹ کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ وہ تھوڑا حیران ہوئی ۔۔۔ پھر اندر داخل ہوئی تو اندر کا منظر دیکھ کر اسکے پیروں کے نیچے سے تو جیسے زمین ہی نکل گئی ۔۔ وہ جہاں کھڑی تھی وہیں کھڑی رہ گئی ۔۔۔ اسکا رنگ پیلا پڑ گیا۔۔ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔۔ اور ہاتھ میں پکڑا ہوا اسکا پرس نیچے فرش پر گر کیا۔۔ اسکی جان ہی جیسے اسکے جسم سے نکل گئی ہو ۔۔

سامنے لاؤنج میں ہی صوفے پر انور بیٹھا ہوا تھا۔۔ اور اسکے سامنے ایک دوسرے صوفے پر ۔۔ رشید بیٹھا ہوا تھا۔۔ جسے دیکھ کر ہما کی جان نکل گئی تھی ۔۔ اور وہ اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔۔ ہما کو لگا کے جیسے رشید نے انور کو سب کچھ بتا دیا ہے ۔۔ ہما آہستہ آہستہ اندر آئی تو رشید اسکو دیکھ کر کھڑا ہو گیا۔۔ اور اسکو سلام کیا۔۔

رشید۔۔ سلام میڈم جی ۔۔۔ میں ادھر سے گذر رہا تھا تو سوچا صاحب کو سلام کرتا جاؤں ۔۔ صاحب بتا رہے تھے کہ آپ شاپنگ پر گئی ہوئی ہیں زیب باجی کے ساتھ ۔۔ رشید کچھ اس انداز میں یہ بات کر رہا تھا کہ جیسے ہما کو جتا رہا ہو کہ وہ سب جانتا ہے ۔۔

ہما نے شرمندگی سے نظریں جھکائیں ۔۔ اور انور کی طرف دیکھتی ہوئی بولی ۔۔ ہاں ۔۔ مگر تم کیوں آئے ہو ۔۔

رشید ۔۔ بس ایسے ہی میڈم جی ۔۔ کوئی کام ہو تو بتا دیں ۔۔

ہما ۔۔ نہیں نہیں کوئی کام نہیں ہے ۔۔۔

ہما بار بار انور کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔ مگر وہ پرسکون بیٹھا ہوا تھا۔۔ اس سےاسے تسلی ہوئی کہ رشید نے کوئی بھی ایسی ویسی بات نہیں کی ہے اسکے ساتھ میرے اور زمان کے بارے میں ۔۔

انور بولا۔۔ یار آپ آ ہی گئی ہو تو رشید کو کچھ ٹھنڈا ہی پلا دو لا کے ۔۔

ظاہر ہے کہ ہما کو جانا ہی پڑنا تھا نا۔۔ وہ اُٹھ کر کچن میں چلی گئی ۔۔ اور الماری میں سے شیشے کے گلاس نکالنے لگی ۔۔۔ ابھی وہ فریج سے کولڈ ڈرنک نکال ہی رہی تھی کہ اسے آہٹ سنائی دی اس نے مڑ کر دیکھا تو کچن کے دروازہ میں رشید کھڑا مسکرا رہا تھا۔۔۔ ہما کا دل یکدم سے ڈر گیا۔۔۔ اس نے خود کو سنبھالا۔۔ اور اپنی آواز میں تھوڑی سختی لاتی ہوئی بولی ۔۔۔ یہاں کیوں آئے ہو۔۔ وہیں بیٹھو جا کر۔۔

رشید۔۔ میڈم جی میں تو یہ پوچھنے آپکے پاس کچن میں آیا ہوں کہ آپ مجھے بار بار فون کیوں کر رہی تھیں

ہما۔۔ جو تم نے میسج میں بکواس کی تھی اس کے بارے میں پوچھنا تھا تم سے ۔۔ تمھیں شرم نہیں آتی کیاایسی غلط باتیں کرتے ہوئے ۔۔۔

رشید۔۔ وہ بات غلط تھی کیا۔۔۔ جو میں نے آپ کو میسج کیا تھا۔۔

ہما نے اپنی نظریں چرالیں ۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا جواب دے ۔۔

آخر ہمت کر کے بولی ۔۔۔ ہاں غلط بات ہے تمھاری ۔۔ میں تو شاپنگ کے لیے گئی ہوئی تھی ۔۔۔ میں ایسی ویسی نہیں ہوں جیسا تم میرے بارے میں سوچ رہے ہو۔۔

رشید۔۔ ٹھیک ہے میڈم جی ۔۔۔ میں جا کر انور صاحب کو بتا دیتا ہوں کہ آپ کہاں تھیں زیب کے ساتھ ۔۔ یہ کہہ کر رشید مڑا واپس جانے کے لیے۔۔

ہما ڈر گئی کہ اب یہ جا کر انور کو سب کچھ بتا دے گا۔۔۔ وہ بولی ۔۔ رشید۔۔ رُکو۔۔

رشید رک گیا۔۔ اور مسکرا کر ہما کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔ جی تو میڈم جی بتائیں پھر میری خبر غلط تھی یا ٹھیک۔۔

ہما شرمندگی سے نظریں جھکا کر تھوک نگلتی ہوئی بولی ۔۔ مگر۔۔۔ تم کو کیسے پتہ چلا۔۔۔؟؟؟

رشیدقہقہہ لگا کر ہنسا۔۔

ہما۔۔ آہستہ ۔۔ انور سن لے گا۔۔۔

رشید۔۔ آپ تو بہت ڈرتی ہیں انور صاحب سے ۔۔۔۔ میڈم جی ہمیں سب پتہ ہوتا ہے ۔۔۔ اور اس دن سے پتہ ہے جب آپ پہلی بار چُدی تھیں ڈاکٹر زمان سے ۔۔۔

ہمانے سر جھکا دیا۔۔ پلیز ایسی باتیں نہیں کرو۔۔ وہ انور۔۔۔

رشید۔۔ ہما میڈم ۔۔ فکر نہ کریں کوئی نہیں سنے گا۔۔ صاحب تو اپنے کمرے میں چلے گئے ہیں ۔۔

ہما یہ سن کر تھوڑا ریلیکس ہوئی ۔۔۔ مگر ابھی بھی وہ رشید سے ایسی باتیں کرتے ہوئے خود کو کمفرٹیبل محسوس نہیں کر رہی تھی ۔۔

رشید۔۔ میڈم جی ۔۔ آپکی تو آنکھیں بہت سرخ ہو رہی ہیں ۔۔۔ لگتا ہے ڈاکٹر زمان نے آپکو ڈرنک بھی کرائی ہے ۔۔۔ ہے نا۔۔

ہما یہ سن کر گھبرا گئی ۔۔۔ نہیں نہیں ۔۔۔ ایسی تو کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔ یہ تو ویسے ہی آنکھوں میں کچھ چلا گیا ہو گااس لیے شائد سرخ ہیں ۔۔ ہما رشید سے نظریں چراتی ہوئی بولی ۔۔

رشید مسکرایا۔۔ میڈم جی ۔۔ ہمیں بھی یہ کام کرتے ہوئے ایک عمر گزر گئی ہے۔۔۔ ہم سے کیا چھپا رہی ہیں ۔۔۔

ہما اب شرمندہ ہوتی ہوئی بولی ۔۔ پلیز ایسی باتیں نہ کرو اور جاؤ یہاں سے ۔۔

رشید۔۔ پہلے ایک بار سچ سچ بتا دیں آپ کہ آپ نے شراب پی تھی نا۔۔

ہما نے بے بسی سے سر جھکا دیا۔۔ اور ہاں میں سر ہلا کر بولی ۔۔ ہاں ۔۔

رشید۔۔ یہ ہوئی نا بات ۔۔۔ مجھے آپ سے بس ایسے ہی تعاون چاہیے ۔۔ کہ میں جو بھی آپ کو پوچھوں آپ اسکا ٹھیک ٹھیک جواب دو گی۔۔۔ اور کوئی مطالبہ نہیں ہے میرا آپ سے ۔۔۔ اب آپ یہ بھی بتا دو کہ زمان صاحب نے آپکو کتنی بار چوداآج۔۔۔

ہما کو غصہ آنے لگا۔۔ اس نے گھور کر رشید کو دیکھا۔۔۔ تو آگے سے وہ دانت نکالتے ہوئے بولا۔۔ نہ نہ ۔۔۔ میں نے کہا ہے نا کہ غصہ نہیں کرنا۔۔۔ ورنہ آپکے شوہر ساتھ کے کمرے میں ہی ہیں ۔۔

ہما کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔۔۔ اپنی نظریں جھکا کر بولی ۔۔ دو بار۔۔

رشید ہنسنے لگا۔۔۔ اور اچانک ہی پان چباتے ہوئے اسکی پچکاری کچن کے فرش پر پھینک دی ۔۔

ہما فوراََ ہی بولی ۔۔ یہ کیا بدتمیزی ہے ۔۔۔

رشید۔۔ اوہ سوری سوری ۔۔۔ میڈم جی بس مجھے خیال ہی نہیں رہا۔۔۔

اسکے بعد رشید نے پان والی بات کو اگنور کر دیا۔۔

رشید۔۔ میڈم جی آج رات تو شائد آپکی چھٹی ہے نا ہاسپٹل سے ۔۔۔

ہما۔۔ ہاں ۔۔

رشید۔۔ تو اسی لیے زمان صاحب نے آج آپکو دن میں ہی بلا لیا تھارات کا کوٹہ پورا کرنے کے لیے ۔۔

ہما۔۔ رشید پلیز۔۔۔۔ مجھے اور ذلیل نہیں کرو۔۔ میں وعدہ کرتی ہوں تمھارے ساتھ کہ آئندہ اسکے ساتھ کچھ بھی نہیں کروں گی ۔۔۔ پلیز تم کسی کو کچھ نہیں بتانا۔۔۔

رشید ہنسا۔۔۔ ارے میڈم جی میں نے آپکو کب روکا ہے کچھ کرنے سے ۔۔۔ وعدہ تو بلکہ مجھے کرنا ہے آپ سے کہ میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گا ۔۔ آپ اپنی مرضی کے مطابق جو چاہو کرتی رہو ۔۔ جس کے ساتھ مرضی کرو۔۔۔ یہ میرا وعدہ ہے ۔۔۔

ہما نے اپنا سر جھکا لیا۔۔۔

رشید۔۔ میڈم جی ۔۔ ایک بات سچ سچ بتائیں اگر میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں تو آپ زمان صاحب کے ساتھ پھر کرو گی نا۔۔۔

ہما نے سر جھکا کر ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔

رشید ہنسنے لگا۔۔۔ اور پھر وہاں سے چلا گیا۔۔۔ ہما کو اس بات کی تسلی ہو گئی کہ اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا اسکے ساتھ ۔۔۔ رشید کے جاتے ہی ہما کی نظر اسی پان کے نشان پر پڑی ۔۔۔ تو اسے پھر غصہ آیا۔۔ جانور کہیں کا ۔۔۔۔ پھر ہما نے خود ہی صفائی والا کپڑا لیا اور فرش کو صاف کرکے بیڈروم میں آگئی ۔۔۔

اگلے رات جب ہما ہاسپٹل گئی تو اس نے سفید رنگ کی شلوار اور سرخ رنگ کی قمیض پہنی ہوئی تھی ۔۔ حسب معمول ہما نے آپریشن تھیٹر جانے کے لیے اپنے کپڑے اتار کر باتھ روم میں لٹکائے اور دوسرا ڈریس پہن کر آپریشن روم میں چلی گئی ۔۔۔

آج بھی اسکے جاتے ہی رشید باتھ روم میں چلا گیا۔۔۔ اور ہما کے کپڑوں کو اٹھا لیا۔۔۔ انکو اپنی ناک کے ساتھ لگا کر ان کی خوشبو سونگھنے لگا۔۔۔ ہما کے لگائے ہوئے پرفیوم کے ساتھ ساتھ ہما کے جسم کی خوشبو بھی آرہی تھی ۔۔۔ کبھی وہ ہما کی شرٹ کی بغلوں کو سونگھنے لگتا۔۔۔ پھر اس نے ہما کی شلوار کو اٹھایا۔۔ اور اسکے چوت والے حصے کو سونگھنے لگا۔۔۔ ہما کی چوت کی خوشبو اسے پاگل کر رہی تھی ۔۔ جب اس سے رہا نہیں گیا تو اس نے ہما کی شلوار کے اس حصے کو اپنے منہ میں ڈالا اور چوسنے لگا۔۔۔ اسکے منہ سے پان والا تھوک ہما کی شلوار پر لگنے لگا۔۔ رشید کی نظر اس پر پڑی تو پہلے تو وہ تھوڑا پریشان ہوا۔۔۔ اور پھر بنا کسی خوف کے اسے اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگا۔۔۔ اور جان بوجھ کر اس پر اپنے پان کی پیک لگانے لگا۔۔ تھوڑی دیر کے بعد اس نے ہما کے کپڑے واپس لٹکا ئے اور باہر آگیا۔۔ جیسے ہی وہ آفس سے نکلا تو سامنے سے ہما آتی ہوئی نظر آئی ۔۔۔ دونوں کی نظریں ٹکرائیں تو رشید شرارت سے مسکرادیا۔۔ اور ہما نے اپنی نظر بدل لی ۔۔۔ اور اسکے قریب سے گزر کر اپنے آفس میں آگئی ۔۔۔ اپنا ڈریس تبدیل کرنے کے لیے ۔۔

ہما اپنے آفس کے باتھ روم کی طرف بڑھی تو اسے شک تھا کہ آج بھی رشید نے کوئی غلط حرکت کی ہوگی اسکے کپڑوں کے ساتھ ۔۔۔ ہما نے اندر جا کر جیسے ہی اپنے کپڑے اُٹھا کر دیکھے تو اسکا چہرہ غصے سے لال ہوگیا۔۔ اپنی شلوار پر اپنی چوت والی جگہ پر پان کے سرخ سرخ نشان دیکھ کر۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کرے ۔۔۔ وہ سوچنے لگی کہ وہ کس طرح ایسے کپڑے پہن سکتی ہے جس پر اسکے نوکر نے پان کھا کر اس پر تھوکا ہوا ہو۔۔۔ اس نے نفرت سے وہ کپڑے واپس لٹکا ئے اور باہر آکر صوفے پر بیٹھ گئی ۔۔۔ اور بیل بجا کر رشید کو بلوایا۔۔۔ جیسے ہی وہ آٰیا تو اس پر برس پڑی ۔۔

ہما ۔۔۔ رشید یہ کیا بدتمیزی ہے ۔۔۔ تم حد سے بڑھ رہے ہو۔۔۔

رشیدبڑے آرام سے بولا۔۔۔ میڈم جی ۔۔۔ پہلی بات تو یہ کہ آپ آہستہ بولیں ۔۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی سن لے ہماری باتیں ۔۔۔ وہ آپکے لیے زیادہ شرمندگی کی بات ہو گی ۔۔۔ اور اپنی آواز کو نیچی رکھ کر بولیں کہ میں نے ایسا کیا کیا ہے ۔۔۔

ہما نرم پڑ گئی ۔۔۔ بلکہ اسکے سخت اور دھمکی آمیز لہجے سے کمزور پڑ گئی ۔۔۔ اور آہستہ سے بولی ۔۔۔ کیوں کیا تم نے میرے کپڑوں کو خراب۔۔۔ وہ پان کے نشان ۔۔۔

رشید مسکرایا۔۔۔ سوری میڈم جی ۔۔۔ بس آپکے کپڑوں میں سے آپکے جسم کی خوشبو نے پاگل کر دیا تھا۔۔ اس لیے وہ سب ہو گیا۔۔ اسکے لیے مجھے معاف کردیں ۔۔ اور جاکر وہ کپڑے پہن لیں۔۔ ٹھیک ہے نا۔۔۔

ہما نے بے بسی سے اسکی طرف دیکھا۔۔ میں وہ کپڑے کیسے پہن سکتی ہوں ۔۔ وہ تو خراب ہو چکے ہیں ۔۔

رشید۔۔ کیوں کیا خرابی ہو گئی ہے ۔۔۔ میں نے کہا نا کہ پہن لیں ایسے ہی ۔۔۔ اور یہ کہہ کر وہ واپس چلا گیا۔۔ اور دروازے پر رک کر بولا ۔۔۔ میں ابھی واپس آؤں گا۔۔ اسکے لہجے میں ابھی بھی سختی تھی ۔۔۔

اسکے جانے کے بعد ہما باتھ روم میں گئی اور خاموشی سے جاکر اپنے کپڑے تبدیل کر لیے ۔۔۔ اور وہی اسکے پان سے گندی ہو رہی ہوئی شلوار پہن لی ۔۔۔ اسے بہت عجیب لگ رہا تھا۔۔ وہ باہر آکر بیٹھی تو رشید آگیا۔۔ چائے کا کپ لے کر ۔۔۔ ہما کو اپنے پہلے والے کپڑوں میں دیکھ کر مسکرایا۔۔۔ اور چائے اسکے سامنے رکھ دی ۔۔۔ اور شکریہ بول کر واپس چلا گیا۔۔۔ سارا وقت ہما کو عجیب سا محسوس ہوتا رہا۔۔ زمان نے اسکو اوپر لے جانا بھی چاہا چدائی کے لیے مگر اس نے انکار کر دیا۔۔ اور زمان زیب کو اوپر لے گیا۔۔ صبح ہما گھر جانے لگی تو رشید گیٹ پر ملا۔۔ اور بولا۔۔ ہما میڈم ۔۔ آپ ٹائٹس میں بہت پیاری لگتی ہو۔۔ امید ہے کہ آج رات کو آپ ٹائٹس ہی پہن کر آؤ گی ۔۔۔ ٹھیک ہے نا۔۔۔

ہما نے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔ مگر کوئی جواب نہیں دیا۔۔ اور اپنی کار کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔

رات کو جب ہما ڈیوٹی پر آنے کے لیے تیار ہونے لگی تو ۔۔۔ اس کے کانوں میں رشید کی آواز گونجی ۔۔ وہ آج ٹائٹس نہیں پہننا چاہتی تھی ۔۔۔ مگر ۔۔۔ رشید کے خوف سے اس نے اپنی لائٹ گلابی رنگ کی لیگی نکال کر پہن لی ۔۔۔ اور اوپر سے ایک لانگ شرٹ ۔۔۔ ہاسپٹل پہنچی تو جیسے ہی رشید نے اسکو دیکھا تو معنی خیز انداز میں مسکرا دیا۔۔۔ اور ہما شرمیلی سی مسکراہٹ کے ساتھ آگے بڑھ گئی ۔۔۔ پتہ نہیں کیوں اسے بھی اس میں مزہ آنے لگا تھا ۔۔۔ رشید کی چھیڑ چھاڑ میں ۔۔۔ جب ہما اپنے آفس میں جا کر کپڑے بدل کر باہر آئی تو آپریشن تھیٹر میں جاتے ہوئے اسکو پھر رشید ملا۔۔ دوسرے کپڑوں میں دیکھ کر وہ مسکرایا۔۔ جیسے اسے بتا رہا ہو کہ اب وہ پھر جا کر اسکے کپڑوں سے مزے لے گا۔۔۔ ہما نے آپریشن تھیڑ کے دروازے سے مڑ کر دیکھا تو رشید اسکے آفس میں ہی داخل ہو رہا تھا ۔۔۔ اور اس نے بھی مڑ کر ہما کو دیکھا اور دونوں کی نظریں ملیں تو ہما اندر چلی گئی ۔۔۔ جیسے رشید کو سب کچھ کرنے کی اجازت دے گئی ہو۔۔

رشید نے جاکر ہما کی لیگی اٹھائی تو وہ بہت ہی چھوٹی ہو گئی تھی سکڑ کر۔۔۔ اسکو دیکھ کر رشید کو آج کچھ زیادہ ہی مستی چڑھ گئی ۔۔۔ اس نے اپنا لوڑا نکالا ۔۔ اور اسے ہما کی لیگی پر اسکی چوت والی جگہ پر رکھ کر رگڑنے لگا۔۔ پھر اسی حصے کو اپنے لوڑے پر لپیٹ کر مٹھ مارنے لگا۔۔۔ ہما کی شرٹ کو سونگھتے ہوئے ۔۔۔ پھر اسے منہ میں لے کر چوسنے لگا۔۔۔ آج اسکو کچھ زیادہ ہی جنون چڑھا ہوا تھا۔۔ ہما کی لیگی میں سے ہما کی چوت کی خوشبو کو سونگھتے ہوئے ۔۔۔ اس نے ہما کی لیگی کی چوت والے حصے کواپنے دانتوں سے کاٹنا شروع کر دیا۔۔ اور اسے احساس تب ہوا جب ہما کی لیگی درمیان سے تھوڑی پھٹ گئی ۔۔ اور اس میں اچھا خاصا بڑا سوراخ ہو گیا۔۔۔ رشید کو پتہ تو چل گیا۔۔ مگر اب کچھ ہو تو سکتا نہیں تھا۔۔ اس نے ہما کے کپڑوں کو واپس رکھا اور باہر آگیا۔۔۔

ہما واپس آئی اور اپنے کپڑے تبدیل کرنے لگی تو آج بھی اس نے دیکھا کہ اسکی لیگی اسکی چوت والے حصے سے پھٹی ہوئی ہے ۔۔ ہما کو یہ دیکھ کر ایک جھٹکا سا لگا۔۔ سوچنے لگی کہ وہ اب کیا کرئے ۔۔۔ اور کوئی حل تو تھا نہیں ۔۔۔ اس نے وہی لیگی پہن لی۔۔ اوپر سے اپنی شرٹ پہن لی ۔۔۔ اسے پھٹی ہوئی لیگی پہن کر عجیب سا احساس ہو رہا تھا۔۔۔ نیچے اس نے گلابی رنگ کی پینٹی بھی پہنی ہوئی تھی ۔۔ مگر پھر بھی اسے اپنی چوت پر اے سی کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔ وہ وہیں ٹیبل کے پیچھے ہی اپنی کرسی پر بیٹھ گئی ۔۔ تاکہ کسی سامنے والی کی نظر اسکی رانوں کے درمیان نہ جائے ۔۔ اور اسکو اس بات کا پتہ نہ لگ سکے کہ اسکی لیگی پھٹی ہوئی ہے ۔۔۔

تھوڑی دیر کے بعد رشید چائے لے کر آگیا۔۔۔ اسکے چہرے پر شرمندگی کے آثار تھے ۔۔۔ اس نے اپنی نظریں جھکائی ہوئی تھیں ۔۔ تھوڑا تو ڈر ہی رہا تھا کہ اس نے تو ہما کی لیگی ہی پھاڑ دی ہے ۔۔ ہما کو بھی اسے دیکھ کر غصہ آیا۔۔ وہ اسکی طرف گھور کر دیکھنے لگی ۔۔۔ مگر جیسے ہی رشید کی نظر ہما سے ملی تو اس نے ایک بار پھر سے اپنی نظر جھکا لی ۔۔۔ ہما کو اسکی اس حرکت پر تھوڑی ہنسی آگئی ۔۔۔ مگر وہ اپنی ہنسی پر کنٹرل کر گئی ۔۔۔ رشید نے چائے ٹیبل پر رکھی اور فوراََ باہر جانے لگا۔۔ ہما بول پڑی ۔۔

ہما۔۔ رُک جاؤ رشید۔۔

رشید رُک گیا۔۔ جی میڈم جی ۔۔

ہما ۔۔ تُم اپنی حرکتوں سے باز نہیں آؤ گے ۔۔۔ آج کتنی غلط حرکت کی ہے تم نے ۔۔ کیوں کرتے ہو تم ایسا۔۔

ہما ٹیبل کے پیچھے سے اُٹھی اور سامنے صوفے پر آکر بیٹھ گئی ۔۔۔

رشید۔۔ وہ مجھے معاف کر دیں میڈم جی ۔۔ بس برداشت نہیں ہوتا نا۔۔۔

رشید کی نظریں بار بار ہما کی رانوں کی طرف جا رہی تھیں جیسے وہ درمیان میں دیکھنا چاہ رہا ہو ۔۔ ہما کی پھٹی ہوئی لیگی کو۔۔

ہما کو تھوڑی مستی سوجی تو اس نے صوفے پر بیٹھے ہوئے ہی اپنی دونوں ٹانگیں پھیلا دیں ۔۔ جان بوجھ کر ۔۔ اور اسکی ٹانگوں کے درمیان سے اسکی پھٹی ہوئی لیگی نظر آنے لگی ۔۔۔ اس کے اندر سے ہما کی گلابی رنگ کی پینٹی بھی جھانکنے لگی ۔۔۔ جیسے ہی رشید کی نظر اس پر پڑی تو اسکے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔۔۔

ہما نے اسے اپنی رانوں کے درمیان جھانکتے ہوئے دیکھا تو اپنی ٹانگوں کو بند کر لیا۔۔۔ بدتمیز کیا دیکھ رہے ہواب ۔۔۔ دیکھ لیا نا کہ کتنا غلط کام کیا ہے تم نے ۔۔۔ اب میں گھر کیسے جاؤں گی ۔۔۔ اور کسی نے دیکھ لیا تو کیا کہوں گی کہ اسے رشید نے پھاڑا ہے ۔۔۔

رشید۔۔ سوری میڈم جی ۔۔۔ تھوڑا دوبارہ دکھائیں نا دیکھوں کہ زیادہ تو نہیں پھاڑ دی میں نے آپ کی ۔۔۔

ہما اسکی ذومعنی بات سن کر مصنوعی غصے سے بولی ۔۔۔ شرم نہیں آتی تم کو ایسی گندی باتیں کرتے ہوئے ۔۔ جاؤ نکلو اب کمرے سے ۔۔۔

رشید جاتے ہوئے دروازے پر رک کر پیچھے دیکھنے لگا تو ہما نے جان بوجھ کر اپنی ٹانگوں کو ایک بار پھر سے کھول دیا تھا ۔۔۔ رشید کی طرف نہ دیکھتے ہوئے ۔۔۔ مگر رشید تھوڑی دیر تک اسکی چوت اور اسکی پینٹی کو ہی دیکھتا رہا۔۔۔

ہما۔۔ گئے نہیں ابھی تم ۔۔۔ جاؤ مجھے سونا ہے ۔۔۔

رشید۔۔ ہاں میڈم جی آج زمان صاحب نہیں ہیں تو آپ اپنی نیند ہی پوری کر لیں ۔۔۔

ہما نے اسے گھورا اور وہ اپنے لال دانت نکالتا ہوا باہر نکل گیا۔۔۔

صبح اُٹھ کر ہما اپنے گھر واپس آگئی انور کے ساتھ ۔۔۔ تھوڑی دیر کے بعد انور اپنے آفس چلا گیاتو ہما نے نہا کر ایک گاؤن پہن لیا۔۔۔ اسکے نیچے اس نے صرف ایک کالے رنگ کی برا اور پینٹی پہنی ہوئی تھی ۔۔۔ وہ اپنے کمرے میں لیٹ گئی ۔۔ اور ٹی وی دیکھنے لگی ۔۔ ہما کو خود پر حیرت ہو رہی تھی کہ وہ یہ سب کچھ کیوں کر رہی ہے ۔۔ ڈاکٹر زمان تک تو سب ٹھیک تھا کہ وہ اسی کے سٹیٹس کا ایک فرد ہے ۔۔ ڈاکٹر ہے ، جوان ہے ، خوبصورت ہے اور شاندار جسم کا مالک ہے ۔۔۔ تو اگر وہ اسکے ساتھ کچھ جسمانی تعلقات رکھ بھی رہی ہے تو ایسا کوئی حرج تو نہیں ہے ۔۔ مگر یہ کیا کہ وہ رشید جیسے گندے انسان کو بھی کُھلی چھوٹ دے رہی ہے ۔۔ اسے اپنے کپڑوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت دے رہی ہے ۔۔ انکو چھونے ، چومنے اور ان پر اپنا تھوک لگانے کی اجازت دے رہی ہے ۔۔ اور پھر اسکی اتنی ہمت ہو رہی ہے کہ وہ اسکو حکم دے رہا ہے کہ وہ وہی کپڑے پہنے ۔۔ اپنی باتوں کا وہ خود ہی جواب دینے لگی خود کو۔۔۔ کہ یہ سب کچھ وہ اپنی مرضی سے تو نہیں کر رہی نا ۔۔ یہ تو وہ اسکو بلیک میل کر کے کروا رہا ہے ۔۔ اسکو سب کچھ پتہ چل چکا ہے اسکے اور زمان کے ناجائز تعلقات کے بارے میں ۔۔ تو اسی لیے وہ اس پر حاوی ہو رہا ہے ۔۔ لیکن آج میں نے کیا کیا ۔۔ میں نے خو د ہی جان بوجھ کر اسکو اپنی پینٹی دکھائی ۔۔ ایسا اس نے تو نہیں کہا تھا نا ۔۔ پھر میں نے ایسا کیوں کیا ۔۔ کیا مجھے بھی مزہ آرہا ہے ۔۔ وہ کمینہ ہے بھی تو ایسا نا کہ دیکھوتو سہی اتنی ہمت کہ میری لیگی ہی پھاڑ کر رکھ دی ۔۔ اس کمینے کو موقع ملے تو وہ تو ایسے ہی میری چوت بھی پھاڑ کر رکھ دے ۔۔۔ اپنی اس بات پر ہما خود ہی ہنسنے لگی ۔۔ میں یہ کیا سوچنے لگی ہوں ۔۔ میں بھلا کیوں اسکو کچھ کرنے دوں گی اپنے ساتھ ۔۔ میں کیوں بھلا اس کو چودنے دوں گی اپنی چوت۔ ۔ ارادہ تو اس کمینے کا کچھ ایسا ہی ہے ۔۔۔ کیسے میرے جسم کو دیکھ دیکھ کر رال ٹپکاتا رہتا ہے ۔۔ ٹپکاتا ہے تو ٹپکاتا رہے ۔۔ مجھے کیا ۔۔ میں بھلا کیوں اسکی خواہش پوری کروں گی ۔۔۔ شکل دیکھی ہے اس نے کبھی اپنی ۔۔ کتنا تو کالا ہے ۔۔ اور جسم کیسا بھدا سا ہے اسکا ۔۔۔ موٹا بے ڈول سا ۔۔۔ اتنا بڑا پیٹ ہے ۔۔ اور اسکا وہ بھی تو ۔۔۔ مطلب اسکا لوڑا بھی تو اسی کی طرح کالا سیاہ ہی ہوگا نا گندہ سا۔۔۔ چھی چھی چھی چھی۔۔ نہ بابا نہ میں تو کبھی بھی اسکو کچھ نہ کرنے دوں اپنے ساتھ ۔۔۔ ۔۔ اور ایسی ہی باتیں سوچتے ہوئے اسکی آنکھ لگ گئی ۔۔

کافی دیر کے بعد ہما کی آنکھ اسکے فلیٹ کی بیل کی آواز سے کھلی ۔۔۔ ہما جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھی اور اپنے گاؤن کی بیلٹ ٹھیک کرتی ہوئی جاکر دروازہ تھوڑا سا کھولا تو سامنے رشید کھڑا پان چبا رہا تھا۔۔۔ ہما اسکو دیکھ کر حیران رہ گئی ۔۔۔۔ دروازہ کھول کر بولی ۔۔

ہما ۔۔۔ تم یہاں کیوں آئے ہو۔۔

رشید نے ہما کے سوال کا جواب دینے کی بجائے دروازہ پورا کھولا اور اندر آگیا۔۔۔ ہما تھوڑا گھبرا گئی ۔۔۔ رشید دروازہ بند کرتے ہوئے بولا۔۔ میڈم جی آپ کیوں گھبرا رہی ہیں ۔۔۔ میں ادھر سے گذر رہا تھا تو سوچا آپ سے ہی ملتا جاؤں اور پوچھ لوں کہ آپکو کوئی کام تو نہیں ہے ۔

ہما ۔۔ نہیں مجھے کوئی کام نہیں ہے ۔۔۔ تم بس جاؤ یہاں سے ۔۔

ہما پچھلی رات کی اسکی شرارتوں اور حرکتوں کی وجہ سے اسکے ساتھ اکیلے میں رہنے سے گھبرا رہی تھی ۔۔۔

وہ اندر آگیا۔۔ اور صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا ۔۔ میں تو اب نہیں جاؤں گا۔۔

ہما گھبرا رہی تھی ۔۔۔ رشید تم ایسا کیوں کر رہے ہو۔۔ پلیز چلے جاؤ ۔۔ اگر کسی نے دیکھ لیا تو بہت برا ہو گا۔۔ کسی نے انور کو بتا دیا تو۔۔۔

رشید۔۔ میڈم جی ہم کونسا یہاں پر کوئی غلط کام کر رہے ہیں ۔۔۔ جو آپ ڈر رہی ہو۔۔ اور انور صاحب کو تو میں خودبتا دیتا ہوں نا ۔۔۔ یہ لیں ابھی ۔۔۔

یہ کہہ کر رشید نے اپنا موبائل نکالا اور کوئی کال ملانے لگا۔۔۔ ہما گھبرا گئی ۔۔۔ کیا کر رہے ہو ۔۔۔

رشید۔۔ میں انور صاحب کو کال کر رہا ہوں نا۔۔۔ میں خود انکو بتا دیتا ہوں کہ میں ہما میڈم کے پاس آیا ہوا ہوں ۔۔۔

ہما آگے بڑھی ۔۔۔ نہیں پلیز۔۔ کال نہیں کرو انور کو۔۔۔ رک جاؤ ۔۔ ہما رشید کی طرف آئی اور جھک کر اس سے اسکا موبائل چھیننے لگی ۔۔۔ نیچےجھکنے سے ہما کے گاؤن کا گلا تھوڑا اور ڈھیلا ہو گیا۔۔ اور اسکی چھاتیوں کے درمیان کی لکیر نظر آنے لگی ۔۔۔ رشید ہما سے اپنا موبائل بچانے لگا۔۔ ہما کے ہاتھ رشید کے ہاتھوں سے ٹکرا رہے تھے ۔۔ اور اسکی گوری گوری ٹانگیں رشید کی ٹانگوں سے ٹکرا رہی تھیں ۔۔۔

اچانک ہی رشید کو پتہ نہیں کیا سوجھی کہ اس نے صوفے پر پیچھے کو گرتے ہوئے ہما کو بھی اپنے اوپر ہی گرا لیا۔۔ اور اپنے کال کالے موٹے بازو ہما کی کمر کے گرد کس لیے ۔۔۔ ہما تو حیران ہی رہ گئی اس بات پر ۔۔ اس نے اٹھنا چاہا ۔۔۔ مگر دوسری طرف سے انور نے کال اٹھا لی ۔۔۔ رشید ایک بازو ہما کی کمر کے گرد رکھ کر اسے اپنے جسم پر لٹائے ہوئے ہی انور سے بات کرنے لگا۔۔ اور ہما کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔۔ ہما ڈر کے مارے وہیں دُبک گئی ۔۔۔ اسکے جسم پر ہی لیٹی ہوئی تھی ۔۔ جیسے ہی وہ اٹھنے کی کوشش کرتی تو وہ اس کی کمر کو دبا لیتا ۔۔ اور وہ کوئی آواز نہ نکالنے کے چکر میں وہیں لیٹی رہ جاتی ۔۔۔ اس نے اپنے سستے سے موبائل کا سپیکر آن کر لیا تھا ۔۔ اور ہما بھی انور کی باتیں سن رہی تھی ۔۔۔ رشید نے موبائل کو ہی ہما کے گورے گورے گالوں پر پھیرنا شروع کر دیا۔۔۔ ہما نے غصے سے اپنا سر ادھر ادھر ہلایا۔۔۔ اور اسکو غصے سے دیکھنے لگی ۔۔۔۔ رشید کی نظریں ہما کے ڈھیلے ہو رہے ہوئے گاؤن میں سے جھانکتی ہوئی اسکی چھاتیوں پر تھیں ۔۔۔ گاؤن مزید ڈھیلا ہو کر اسکی کالی برا کا کچھ حصہ بھی دکھا رہا تھا ۔۔۔ اور دونوں مموں کے درمیان کی گہری لکیر تو بلکل صاف نظر آرہی تھی ۔۔۔۔

ہما نے جیسے ہی رشید کی نظروں کو اپنے مموں پر دیکھا تو وہ اٹھنے لگی ۔۔۔ مگر رشید نے اسے روک دیا۔۔۔ ہما کو اپنی ٹانگوں کے نیچے ۔۔ رانوں پر رشید کا لوڑا بھی اکڑتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔ ہما کو عجیب لگ رہا تھا ۔۔۔ ایسے اسکے اوپر لیٹے ہوئے ہما کو رشید کے جسم کی گندی بدبو بھی آرہی تھی ۔۔ پسینے اور میل کی بدبو۔۔۔ مگر ہما خود کو چھڑوا نہیں پا رہی تھی ۔۔۔

اچانک ہی انور کے ایک فقرے نے ہما اور رشید کو چونکا دیا۔۔۔ اچھا رشید ۔۔ پھر بات کریں گے ۔۔۔ میں گھر پہنچ گیا ہوں بس اب۔۔۔

ہما کے منہ سے چیخ سی نکلنے والی ہو گئی یہ سن کر ۔۔۔ اس نے بڑی مشکل سے خود کو بولنے سے روکا ۔۔۔ مگر رشید نے اسکے دل کی بات پوچھ لی ۔۔۔

رشید۔۔ صاحب جی آج جلدی کیوں گھر جا رہے ہیں آپ ۔۔۔خیریت تو ہے نا ۔۔۔؟؟؟؟

انور۔۔ بس یار آج طبیعت خراب ہے اس لیے کام نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔ اس لیے گھر میں آرام کروں گا اب تھوڑا۔۔ اسکے بعد فون بند ہو گیا۔۔

رشید نے اب ہما کو چھوڑ دیا۔۔۔ اور خود بھی صوفے سے اٹھ گیا۔۔۔

ہما غصے سے بولی ۔۔ تم کو منع بھی کیا تھا کہ چلے جاؤ یہاں سے مگر تم نہیں مانے میری بات۔۔ چلو اب جلدی دفع ہو جاؤ یہاں سے ۔۔۔ انور کسی بھی وقت آسکتا ہے ۔۔

رشید بھی تھوڑا گھبرا گیا ہوا تھا۔۔ وہ بھی جلدی سے دروازے کی طرف بڑھا۔۔ اور اسے سے پہلے کہ وہ دروازہ کھولتا تو بیل بج گئی ۔۔۔ دونوں گھبرا گئے ۔۔۔۔ ہما کے لیے بڑی پریشانی کی بات تھی کہ وہ کیسے انور کا سامنا کرے گی کہ رشید اسکے گھر میں ہے اسکی غیر موجودگی میں ۔۔۔ ہما کی تو حالت رونے والی ہو رہی تھی ۔۔۔ اسکو اور تو کچھ نہیں سوجھی ۔۔۔ اس نے جلدی سے رشید کو گیسٹ روم میں دھکیل دیا۔۔ اس کمرے میں کوئی بھی نہیں جاتا تھا ۔۔۔

ہما ۔۔ جاؤ اس کمرے میں دفع ہو جاؤ اور تمھاری کوئی آواز باہر نہیں آنی چاہیے ۔۔۔

رشیدفوراََ ہی اندر بھاگ گیا۔۔ اسے خود بھی بہت گھبراہٹ ہو رہی تھی ۔۔۔ کہ اگر انور صاحب نے اسے یہاں دیکھ لیا تو پتہ نہیں اسکے ساتھ کیا سلوک کریں گے ۔۔۔ رشید نے اندر کمرے میں جا کر دروازہ بند کر لیا۔۔

ہما نے دروازہ کھولا تو سامنے انور کھڑا تھا۔۔ ہما نے مسکرا کر اسے اندر آنے کا راستہ دیا۔۔ ہما کی رنگت اُڑی اُڑی سی لگ رہی تھی ۔۔۔ وہ گھبرائی ہوئی تھی ۔۔ اور آخر گھبراتی بھی کیوں نا ۔۔ اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں وہ اکیلے گھر میں ایک غیر مرد کے ساتھ تھی ۔۔۔ اور وہ بھی اسکے ہاسپٹل کا نوکر۔۔۔ درجہ چہارم کا ملازم۔۔۔ وہ کیسے جواب دے پاتی کہ وہ اسکے گھر پر کیوں ہے ۔۔ اور اب دوسرے کمرے میں رشید کو چھپا کر تو وہ اور بھی مشکوک اور قصوروار بن چکی تھی ۔۔ اسی لیے وہ گھبرائی ہوئی تھی ۔۔ پھر بھی وہ پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ انور کو خوش آمدید کہہ رہی تھی ۔۔۔

ہما ۔۔ ارے آج آپ اتنی جلدی آگئے ۔۔ خیریت تو ہے ۔۔

انور نے دروازہ بند کرتے ہی ہما کو اپنی بانہوں میں بھر لیا اور اپنے سینے سے لگا لیا۔۔۔ ارے میری جان بس تمھاری یاد آرہی تھی تو سب کام کاج چھوڑ کر آگیا تمھارے پاس۔۔

تھا توانور ہما کا شوہر اور پہلے بھی وہ ہما کو گھر میں داخل ہوتے ہی اپنی بانہوں میں بھر لیتا تھا۔۔ مگر آج ہما کو اس بات سے گھبراہٹ ہو رہی تھی ۔۔ کیوں کہ اسے پتہ تھا کہ وہ اندر سے ضرور انکو دیکھ رہا ہوگا۔۔ ہما نے خود کو چھڑوانے کی کوشش کی مگر انور نے اسکو نہیں چھوڑا اور اسکے گالوں کو چومنے لگا۔۔

ہما۔۔ ارے کیا ہو گیا ہے آپ کو۔۔ کیوں آتے ہی شروع ہو گئے ہو ۔۔۔

انور۔۔ بس تم کو دیکھ کر برداشت نہیں ہوتا نا ۔۔۔ اور اوپر سے تم ہو بھی ایسے سیکسی ڈریس میں کہ دل کرتا ہے کہ بس شروع ہی ہوجائیں ۔۔۔

انور ہما کو لے کر لاؤنج کے صوفے پر آگیا۔۔ اور صوفے پر بیٹھ کر ہما کو اپنی گود میں بٹھالیا۔۔۔ ہما کی نظریں باربار رشید والے کمرے کے دروازے کی طرف جا رہی تھیں ۔۔۔ جو کہ انور کی پیٹھ کے پیچھے تھا مگر چونکہ ہما اسکی گود میں بیٹھی ہوئی تھی تو ہما کے بلکل سامنے تھا۔۔۔ ہما کو دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا محسوس ہوا۔۔ جیسے اندر سے رشید باہر جھانک رہا ہو ۔۔۔ ہما کو بہت شرم آرہی تھی ۔۔ وہ انور کو سمجھانا چاہ رہی تھی ۔۔ اسے روکنا چاہ رہی تھی ۔۔۔ مگر وہ تو باز ہی نہیں آرہا تھا۔۔

ہما۔۔ اچھا اندر تو چلو بیڈروم میں ۔۔۔

انور ہما کے گاؤن کی بیلٹ کھولتے ہوئے بولا۔۔ نہیں آج یہیں کروں گا۔۔ اور تمکو کتنی بار میں نے کہا ہے کہ گھر میں کم سے کم کپڑے پہنا کرو ۔۔ مجھے اچھا لگتا ہے تم کو ایسے دیکھنا۔۔

ہما دروازے کی طرف دیکھتی ہوئی ۔۔۔ نہیں نہیں پلیز ۔۔ اسے نہیں اتارو ۔۔ میں نے نیچے کچھ نہیں پہنا ہوا۔۔

انور۔۔ یہ تو اور بھی اچھی بات ہے پھر۔۔ چلو اتارو جلدی ۔۔۔۔

یہ کہتے ہوئے انور نے ہما کی بیلٹ کھول کر اسکا گاؤن اسکے کاندھوں سے نیچے سرکا دیا۔۔ اور ہما کا اوپری بدن ننگا ہو گیا۔۔۔ اسکے اوپری بدن پر صرف ایک کالے رنگ کی برا تھی ۔۔۔ ہما کو بہت زیادہ شرم محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔ کیونکہ سامنے رشید اب بڑے کھلے انداز میں ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ ہما رشید سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی ۔۔ وہ خود کو انور کے ساتھ چپکانے لگی خود کو رشید کی نظروں سے بچانے کے لیے ۔۔۔ اور انور سے آہستہ سے بولی ۔۔ اچھا چلو اندر چلتے ہیں ۔۔۔

انور ۔۔ میں نے چائے بھی پینی ہے ۔۔۔

ہما ۔۔ ہاں مجھے چھوڑو ۔۔۔ اور تم اندر چلو۔۔ میں بنا کر لاتی ہوں چائے تمھارے لیے ۔۔۔

انور نے اسے اپنے اوپر سے کھڑا کیا ۔۔ اور خود کھڑے ہونے سے پہلے اس نے ہما کے جسم پر سے اسکا گاؤن پورا کھینچ کر اتار دیا۔۔ اور ہما جلدی سے سمٹ کر خود کو چھپانے کی ناکام کوشش کر نے لگی ۔۔۔

ہما ۔۔ انور ۔۔ پلیز میرا گاؤن مجھے دے دو۔۔

انور ۔۔ یار تم تو ایسے کر رہی ہو کہ جیسے یہاں تمھارے اور میرے علاوہ کوئی اور بھی ہو تمکو دیکھنے والا ۔۔۔ میں تمھارا گاؤن لے کر اندر جا رہا ہوں اب تم ایسے ہی چائے بنا کر لاؤ گی میرے لیے ۔۔

انور یہ کہہ کر اپنی جگہ سے اُٹھا اور بیڈروم میں بھاگ گیا۔۔ اور اندر سے کنڈی لگا لی ۔۔ ہما وہیں پر سمٹ کر صوفے پر بیٹھ گئی ۔۔۔ ایک نظر دروازے پر دیکھا تو رشید ابھی بھی باہر ہی دیکھ رہا تھا۔۔ ہما کو اتنی شرم آرہی تھی کہ اسکا دل چاہ رہا تھا کہ وہ کہیں غائب ہوجائے ۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں رشید کمرے سے نکل کر باہر آیا۔۔ اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا ہما کے قریب آگیا۔۔

ہما اسکو اپنے سامنے دیکھ کر گھبرا گئی ۔۔۔ رشید پلیز چلے جاؤ یہاں سے اب تم ۔۔ انور اگر باہر آگیا تو بہت برا ہو گا۔۔۔ ہما بہت ہی دھیمی آواز میں سہمی سہمی اور سمٹی ہوئی سی اسکو کہہ رہی تھی۔۔۔ مگر وہ رشید کہاں سننے والا تھا۔۔۔ اتنی خوبصورت لڑکی اسکے سامنے ننگی حالت میں تھی تو وہ کیسے اسکو چھوڑ کر جا سکتا تھا۔۔۔ اس نے جانے سے انکار کر دیا۔۔۔ اور ہما کے قریب ہی صوفے پر بیٹھ گیا۔۔

رشید۔۔ ہما میڈم ۔۔ آپ تو بہت ہی خوبصورت لگ رہی ہو قسم سے اس ڈریس میں ۔۔

ہما ۔۔ بکواس بند کرو ۔۔۔ اور چلے جاؤ یہا ں سے ۔۔۔

رشید۔۔ نہیں جی ۔۔ میں تو نہیں جا رہا ۔۔

ہما ۔۔ اچھا پلیز اندر ہی چلے جاؤ ۔۔ اگر انور اچانک باہر نکل آیا تو پتہ نہیں کیا ہو جائے گا۔۔ مجھے چائے بنانے جانا ہے ۔۔۔ جاؤ اب تم یہاں سے ۔۔۔

رشید نے صوفے سے اُٹھ کر ہما کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور بولا ۔۔ آئیں میڈم دونوں ملکر چائے بناتے ہیں ۔۔۔ اور اسکو کھینچتا ہوا کچن میں لے گیا۔۔۔

ہما ادھ ننگی حالت میں ہی رشید کے ساتھ کھینچتی ہوئی کچن میں آگئی ۔۔۔ اندر آکر رشید نے ہما کو چھوڑ دیا ۔۔ اور خود ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔۔ ہما کو رشید پر غصہ بھی آرہا تھا۔۔ مگر وہ اسکا کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی ۔۔ رشید کو یہ بھی پتہ چل چکا تھا کہ وہ اب چلا بھی نہیں سکتی ۔۔۔

اچانک ہی رشید نے ہما کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ۔۔ اور اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا۔۔ ہما گھبرا گئی ۔۔۔ اور بہت ہی آہستہ آواز میں بولی ۔۔۔ کمینے ۔۔۔ کتے ۔۔ چھوڑو مجھے ۔۔ ورنہ میں شور مچادوں گی ۔۔۔

رشید نے ہما کے چہر ے کو ایک ہاتھ سے پکڑا اور اسکےگلابی گلابی ہونٹوں کو اپنے کالے موٹے ہونٹوں سے چوم کر بولا ۔۔۔ میڈم جی مچاؤ شور ۔۔۔۔ خوب مچاؤ ۔۔ تاکہ ابھی تمھارا شوہر آئے اور آ کر تم کو میرے ساتھ اس حالت میں دیکھے ۔۔۔

یہ ہما کو بھی پتہ تھا کہ وہ شور نہیں مچا سکتی ۔۔ ۔ مگر پھر بھی وہ رشید کو مکے مار رہی تھی ۔۔ اور خود کو اس سے چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔ ۔ مگر رشید نے ہما کی کمر کے گرد اپنی بانہوں کو مضبوطی سے باندھ رکھا تھا۔۔ اور اب اپنا منہ ہما کے مموں کے درمیان رگڑ نے لگا تھا ۔۔۔۔ ہما کو بہت عجیب لگ رہا تھا ۔۔۔ رشید کے کھردرے موٹے کالے ہاتھ ہما کی ننگی ملائم کمر کو سہلا رہے تھے ۔۔۔ آگے سے وہ ہما کی چھاتیوں کو اپنے ہونٹوں سے رگڑتے ہوئے انکو چوم بھی رہا تھا۔۔۔۔ پتہ نہیں کیوں ہما کی آنکھیں بند ہونے لگیں ۔۔۔ سی سی سی سی سی ۔۔۔۔ ہما کے منہ سے ایک سسکاری سی نکل گئی ۔۔۔۔ پلیز رشید۔۔۔ چلے جاؤ۔۔۔۔ پلیز ایسے نہیں کرووووووووو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رشید۔۔ میڈم جی ۔۔۔ یہ کالی برا تو آپ کے گورے گورے جسم پر بہت ہی سیکسی لگ رہی ہے ۔۔۔ کیسے روک لوں خود کو میں ۔۔۔

ہما ۔۔۔ سی سی سی سی ۔۔۔۔ رشید ایسی باتیں نہیں کرو ۔۔۔ مجھے شرم آتی ہے ۔۔۔۔۔ چلے جاؤ پلیززززززز

رشید۔۔ چلا جاؤں گا میڈم جی ۔۔۔ بس تھوڑی دیر اور کھیل لینے دو اپنے ان دودھ سے بھرے ہوئے پیالوں سے ۔۔۔ اور انکا رس تو پی لینے دو نا میڈم جی ۔۔۔۔

رشید نے ہما کی کمر کو سہلاتے ہوئے ہی ہما کی برا کی ہک کھول دی ۔۔۔ اور اسکی برا اتار کر کاؤنٹر پر پھینک دی ۔۔۔

ہما ۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رشید۔۔ یہ کیا کیا تم نے ۔۔۔۔۔۔ پلیز نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مگر رشید نے ہما کو تھوڑا سے پیچھے کو ہٹا کر ہما کے خوبصورت مموں کو ۔۔۔۔ جن کو وہ ہمیشہ ہی کپڑوں کے اوپر سے ہی دیکھتا رہا تھا ۔۔۔۔ آج اپنی آنکھوں کے سامنے ننگا دیکھنے لگا۔۔۔۔

رشید۔۔ واہ میڈم جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا بات ہے آپ کے دودھ کی ۔۔۔ کتنے مست ہیں نا آپ کے ممے ۔۔۔

یہ کہتے ہوئے رشید نے اپنے کالے سیاہ ہاتھ سے ہما کے گورے گورے ممے کو سہلایا ۔۔۔اور اسے اپنی مٹھی میں بھر کر بھینچ دیا۔۔۔ ہما کے منہ سے سسکاری نکل گئی ۔۔۔۔۔۔۔ سی سی سی سی سی سی ۔۔۔۔ دھیرےےےےےےےےےےےےےےےےے ۔۔۔۔ کیا کرتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درد کر دیا نا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمینے ۔۔۔۔

رشید ہنسا۔۔۔ سوری میڈم جی ۔۔۔ سوری ۔۔۔

ہما غصے سے ۔۔۔ سوری کے بچے ۔۔۔ چھوڑو مجھے اور دفع ہو جاؤ یہاں سے ۔۔۔

رشید اپنے پیلے پیلے دانت نکالتا ہوا بولا ۔۔۔ کیسے چلاجاؤں میڈم جی ۔۔۔ آپکے ان خوبصورت سفید مموں اور انکے گلابی نپلز کو چوسے بنا کیسے چلاجاؤں ۔۔۔ یہ کہہ کر رشید نے اپنا منہ ہما کے ایک ممے پر رکھ دیا ۔۔ اور اسکا گلابی نپل منہ میں لے کر چوسنے لگا۔۔۔ چوستے ہوئے اس نے اپنی زبان ہما کے نپل پر پھیری ۔۔ اور دوسرے ہاتھ سے ہما کا دوسرا نپل رگڑا تو ہما نے تڑپ کر رشید کا سر اپنی چھاتی پر دبا لیا۔۔۔ اور ایک زور دار سسکاری کے ساتھ اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔

ہما ۔۔۔ پلیزززززززززززززززز۔۔۔ رشیددددددددددد ۔۔۔۔ بس کرو ۔۔۔۔ مجھے کچھ ہونے لگا ہے ۔۔۔ اور یہ سچ بھی تھا کیوں کہ ہما کو اپنی چوت گیلی ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔ عجیب بات یہ تھی کہ اسے یہ سب گندہ تو لگ رہا تھا مگراس سب میں اسے مزہ بھی آرہا تھا ۔۔۔ وہ کمینہ رشید ۔۔ ایک سوئیپر ۔۔۔ کبھی اپنی ڈاکٹر ہما کے ایک نپل کو چوس رہا تھا تو کبھی دوسرے کو ۔۔۔ اور اسکی کمر پہ بھی ہاتھ پھیر رہا تھا ۔۔ ہما کی گوری گوری ننگی ٹانگیں رشید کی ٹانگوں پر تھیں ۔۔ ہما کو بھی مست ہوتے ہوئے دیکھ کر رشید نے اپنے ہونٹ ہما کے نپل پر سے ہٹائے اور ہما کے گلابی ہونٹوں پر رکھ دیئے اور انکو چومنے لگا۔۔۔ ہما نے بھی پتہ نہیں کیوں اسکا ساتھ دینا شروع کردیا۔۔۔ رشید نے اپنی زبان ہما کے منہ کے اندر گھسائی ۔۔۔ اور اسکے منہ کے اندر گھمانے لگا۔۔۔ ہما نے فوراََ ہی اسکی زبان چوسنا شروع کردی ۔۔۔ اسکے منہ میں رشید کے پان کا ذائقہ گھلنے لگا۔۔۔ ہما کو بُرا بھی لگ رہا تھا ۔۔۔ اور اچھا بھی ۔۔۔۔ پھر پتہ نہیں کیوں اور کیسے ہما نے اپنی زبان رشید کے منہ میں ڈال دی ۔۔۔ اور رشید نے فوراََ ہی اسے چوسنا شروع کر دیا۔۔۔ اپنا ایک ہاتھ نیچے لا کر رشید نے ہما کی چوت پر رکھا اسکی پینٹی کے اوپر سے ۔۔۔ تو ہما سسک اُٹھی ۔۔۔ اور اپنے بازو رشید کی گردن کے گرد ڈال کر سخت کر لیے ۔۔۔ اور اسے اپنے ساتھ چپکا لیا۔۔۔۔ اتنے میں بیڈروم کی کنڈی کھلنے کی آواز سنائی دی ۔۔ دونوں گھبرا کر ایکدوسرے سے الگ ہوئے ۔۔۔ ہما ادھر اُدھر دیکھنے لگی ۔۔۔ کہ رشید کو کہاں چھپائے ۔۔۔ کچن میں ہی ایک طرف ایک چھوٹی سی پینٹری یا چھوٹا سا سٹور تھا۔۔ کچن کا سامان رکھنے کے لیے ۔۔ اس نے رشید کو وہاں جا کر چھپنے کا اشارہ کیا۔۔۔ اور رشید فوراََ ہی اندر جا کر چھپ گیا۔۔۔ ہما اور رشید دونوں کے دل بُری طرح سے دھڑک رہے تھے ۔۔۔ خوف کے مارے ۔۔۔ رشید کچن کے سٹور میں چھپا ہوا تھا ۔۔ اور ادھر ہما کچن میں صرف ایک پینٹی پہن کر کھڑی تھی ۔۔۔ اور انور کچن کی طرف بڑھ رہا تھا ۔۔۔

 

جیسے ہی انور کچن میں داخل ہوا تو ہما کو صرف ایک پینٹی پہن کر چائے بناتے ہوئے دیکھا تو حیران ہو کر بولا۔۔ ارے یہ کیا ۔۔ تم تو برا بھی اتار کر کھڑی ہو ۔۔۔

ہما زبردستی مسکرائی اور طنزیہ انداز میں بولی ۔۔۔ ہاں جی ۔۔ میں نے سوچا کہ باقی کپڑے تو آپ نے اتار ہی دیئے ہیں تو میں برا بھی اتار دیتی ہوں اور پھر ہی آپکے لیے چائے لے کر جاؤں گی ۔۔۔ تاکہ آپ اور بھی خوش ہو سکیں مجھے ننگی دیکھ کر ۔۔۔

انور مسکرایا۔۔۔ لگتا ہے ناراض ہو گئی ہے میری جان میری اس بات سے ۔۔۔

ہما مسکرائی ۔۔۔ نہیں ۔۔ ایسی کوئی بات نہیں ۔۔ آپ چلیں بیڈروم میں میں چائے لاتی ہوں ۔۔

انور نے ہما کے ننگے جسم کو اپنی بانہوں میں بھر لیا۔۔۔ اور اسکے ہونٹوں کو چومنے لگا۔۔۔ ہما کے ننگے جسم پر ہاتھ پھیرنے لگا۔۔۔ ہما کے ننگے جسم کو دیکھ کر انور اور بھی بےقابو ہونے لگا تھا ۔۔۔ اسکے ہاتھ ہما کی چھاتیوں کو دبا رہے تھے ۔۔ ہما جو ابھی تھوڑی دیر پہلے رشید کی بانہوں میں تھی ۔۔ اور اسکے ہاتھوں کی شرارتوں سے گرم ہو گئی ہوئی تھی ۔۔۔ اب انور کی وجہ سے اور بھی گرم ہونے لگی ۔۔ ہما نے انور کو ایسے اپنے سامنے کیا تھا کہ وہ پینٹری کا دروازہ نہ دیکھ سکے ۔۔۔ اور انور کی کسنگ کے دوران بھی ہما کی نظریں رشید کی طرف ہی تھیں ۔۔ انور کے اس طرح خود کو بانہوں میں لے کر چومنے سے ہما کو تھوڑی ندامت بھی ہو رہی تھی ۔۔۔ کہ وہ اپنے اتنا پیار کرنے والے شوہر کے ساتھ بےوفائی کر رہی ہے ۔۔ اور وہ بھی رشید جیسے گھٹیا آدمی کے ساتھ ۔۔۔ مگر عجیب بات یہ تھی کے بے وفائی کا سوچتے ہوئے بھی اسکے ذہن میں زمان کے ساتھ سیکس کرنے کا خیال نہیں آرہا تھا ۔۔ بلکہ صرف رشید کے ساتھ کی ہوئی حرکتوں پر ہی اسے شرم آرہی تھی ۔۔ وہ اب نہیں چاہتی تھی کہ رشید اسکے ساتھ کچھ کرے یا اسکو اس طرح ننگی حالت میں دیکھے ۔۔۔ ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں ہما نے دیکھا کہ رشید دروازے میں سے جھانک رہا ہے ۔۔۔ ہما نے اسے ہاتھ کے اشارے سے اندر جانے کا اشارہ کیا ۔۔۔ مگر وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلا۔۔ بلکہ وہ انور کو ہما کے جسم سے کھیلتے ہوئے دیکھتا رہا۔۔ ہما کو اب رشید سے شرم بھی آرہی تھی ۔۔ اور اس پر غصہ بھی آرہا تھا۔۔ ہما اپنے جسم کو انور کے جسم کے ساتھ چپکانے لگی ۔۔ اپنے ننگے جسم کو انور کے جسم کی آڑ میں چھپاتے ہوئے ۔۔ تاکہ رشید اسکے ننگے جسم کو نہ دیکھ سکے ۔۔۔

ہما انور سے لپٹتے ہوئے بولی ۔۔۔ انور چلو بیڈروم میں چلتے ہیں ۔۔۔ یہاں نہیں ۔۔۔

انور۔۔ اچھا یار ۔۔ چلے جائیں گے ۔۔۔ تھوڑا سا پیار یہاں ہی کر لینے دو نا ۔۔

ہما کو احساس ہو رہا تھا کہ انور کی دست درازیاں بڑھتی جارہی ہیں ۔۔ اور وہ اسکے اپنے ساتھ لپٹنے کا غلط مطلب لیتے ہوئے اپنی حرکتوں کو تیز کرتا جا رہا ہے ۔۔۔ ہما کے ہونٹوں کو چومتے ہوئے انور نے اپنے ہاتھ ہما کی گانڈ پر رکھے اور اسکو سہلانے لگا۔۔۔ اسکی پینٹی کے اوپر سے ہی ۔۔ اور پھر ہما کی پینٹی کے اندر ہاتھ ڈال کر ہما کی ننگی گانڈ کو سہلانے لگا۔۔ دبانے لگا۔۔۔ ہما کو یہ سب اچھا بھی لگ رہا تھا ۔۔۔ مگر یوں یہ سب کچھ رشید جیسے گندے انسان کے سامنے کرنا اسے ٹھیک نہیں لگ رہا تھا۔۔۔ وہ انور کو بیڈرہم میں لے جانا چاہتی تھی ۔۔ مگر انور کا تو جیسے آج کچھ الگ ہی ارادہ تھا۔۔۔ ہما کی نظریں بار بار رشید کی طرف جا رہی تھیں ۔۔ جو دروازے میں سے جھانک کر ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ ہما کی نظر اسکے ہاتھوں کی حرکت پر گئی تو اسکو حیرت کا ایک جھٹکا لگا۔۔ کیوں کہ رشید نے اپنا لوڑا باہر نکالا ہوا تھا اور اپنے ہاتھ میں لے کر اسے مسل رہا تھا۔۔۔ ہما نے فوراََ ہی اپنی نظر ہٹا لی وہاں سے۔۔۔ مگر چند لمحوں کے بعد ہی اسکی نظر پھر وہیں چلی گئی ۔۔ رشید کے کالے سیاہ لوڑے پر ۔۔۔ یہاں انور کا لوڑا اسکی چوت سے ٹکرا رہا تھا ۔۔۔ اور وہاں سامنے رشید کا لوڑا اسکی آنکھوں کے سامنے لہرا رہا تھا۔۔۔ ہما پھر سے خود کو ملامت کرنے لگی کہ وہ اس کمینے کے لوڑےکو کیوں دیکھ رہی ہے ۔۔۔ اور وہ بھی تو ہما کو اپنی طرف دیکھتے ہوئے پا کر اور بھی اپنے لوڑے کو رگڑنے لگا تھا۔۔۔

ہما پھر سے انور سے بولی ۔۔ انور پلیز اندر چلتے ہیں ۔۔۔

مگر انور نے ہما کی پینٹی کو اسکی گانڈ پر سے نیچے کو سرکا دیا۔۔ ہما گھبرا گئی ۔۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنی پینٹی کو پکڑتی یا انور کے ہاتھوں کو روکتی ۔۔ انور اسکی پینٹی کو نیچے سرکا چکا تھا۔۔ مگر اسکا جسم انور کے جسم کی آڑ میں تھا ۔۔۔ اس لیے رشید اسکی ننگی گانڈ کو نہیں دیکھ پا رہا تھا۔۔ اب انور نے ہما کو ایک جھٹکے کے ساتھ گھمایا۔۔۔ اور اسکو کچن کی شیلف پر جھکا دیا۔۔ ہما نا چاہتے ہوئے بھی خود کو گرنے سے بچانے کے لیے شیلف پر جھک گئی ۔۔۔ تب بھی وہ اسکو منع کر رہی تھی کہ پلیز یہ نہیں کرو ۔۔۔ مگر انور کہاں ماننے والا تھا۔۔ ہما کو شیلف پر جھکا کر وہ خود نیچے بیٹھ گیا ۔۔۔ اور ہماکی گانڈ کو کھولتے ہوئے اپنا منہ ہما کی چوت پر لگا دیا۔۔۔ اپنی زبان باہر نکالی اور ہما کی چوت کو چاٹنے لگا۔۔ انور کے اس طرح سے اپنی چوت کو چاٹنے پر ہما تڑپ اٹھی ۔۔ اور یکدم سے اپنی گانڈ کو پیچھے کو دھکیل دیا۔۔ سی سی سی سی سی سی سی ۔۔۔۔۔ کی ایک سسکاری کے ساتھ ہی ہما کی آنکھیں بند ہو گئیں ۔۔۔ وہ یہ سب کچھ یہاں نہیں کرنا چاہتی تھی مگر ۔۔ انور سب کچھ یہیں پر ہی کرنے پر تُلا ہوا تھا۔۔ وہ آج ہما کو یہیں کچن میں ہی چودنا چاہ رہا تھا۔۔۔

انور کی زبان ہما کو چوت کو چاٹ رہی تھی ۔۔۔ کبھی وہ اپنی زبان کو ہما کی چوت کے اندر لے جانے لگتا۔۔ ہما کی چوت پانی پانی ہو رہی تھی ۔۔۔ اندر سے گاڑھا ۔۔ چکنا پانی چھوڑ رہی تھی ۔۔۔ جو رستا ہوا اسکی چوت سے باہر آرہا تھا ۔۔۔ اور انور کے منہ میں جا رہا تھا ۔۔۔ ہما کی حالت خراب ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔ اس سے برداشت نہیں ہو پا رہا تھا ۔۔۔ اسکی چوت کی آگ تیز ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔ بڑھتی ہی جارہی تھی ۔۔۔ اسکا دل چاہ رہا تھا کہ بس اب انور اپنا لوڑا اسکی چوت کے اندر ڈالکر اسکی چدائی شروع کر دے ۔۔۔ مگر دوسری طرف اسے رشید کی فکر کھائے جا رہی تھی کہ وہ کمینہ تو یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اندر چھپا ہوا۔۔ اور یہ وہ کیسی مصیبت میں پھنس چکی تھی کہ آج وہ اپنی ایک نوکر کے سامنے ننگی ہو کر اپنے شوہر سے سیکس کر رہی تھی ۔۔۔

کچھ ہی دیر میں انور اپنی جگہ سے اٹھا ۔۔ اور اپنا پاجامہ بھی نیچے کو سرکا کر ننگا ہو گیا۔۔ اسکا گورا گورا لوڑا اکڑا ہوا تھا ۔۔۔ اس سے پہلے کہ ہما سیدھی ہو کر انور کو روکتی ۔۔ انور نے اپنا ایک ہاتھ ہما کی کمر پر رکھا ۔۔۔ اور نیچے سے اپنا لوڑا ہما کی گیلی ہو رہی ہوئی چوت پر ٹکا دیا۔۔۔ اور اسکی چوت کے دانے کو اپنے لوڑے کی ٹوپی سے سہلانے لگا۔۔۔

ہما ۔۔۔ آآآآآآآآ ہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سی سی سی سی سی سی سی انوررررررررر ۔۔۔۔۔۔۔ پلیززززززززززززززز ۔۔۔۔۔۔۔ اندر چلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب برداشت نہیں ہو رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہ ہ ہ ہ ہ ہ

انور ۔۔۔ ابھی لو میر ی جان ۔۔۔ یہ کہتے ہوئے انور نے ایک دھکا مارا اور اپنا لنڈ ہما کی چوت کے اندر گھسا دیا۔۔۔ ہما ایک سسکاری کے ساتھ آگے کو جھک گئی ۔۔۔۔ اپنی آنکھیں بند کر لیں اور اپنی گانڈ کو آگے پیچھے کو ہلاتی ہوئی خود بھی اسکے لوڑے کو اپنی چوت کے اندر باہر لینے لگی ۔۔۔۔ انور ہما کی کمر پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اسے چود رہا تھا ۔۔۔ اور ہما اپنے اطراف سے بے خبر اب بس انور سے چُدوا رہی تھی ۔۔۔ اچانک اسے رشید کا خیال آیا۔۔۔ ہما نے اپنی آنکھیں کھولیں اور دروازے کی طرف دیکھا تو رشید اب بھی چھپ کر انکو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ ہما کو اپنی طرف دیکھتا ہوا دیکھ کر رشید نے اپنے ہاتھ سے ۔۔ فنٹاسٹک ۔۔ کا اشارہ کیا۔۔۔ تو ہما شرما گئی ۔۔۔ اور اپنا چہرہ جھکا لیا۔۔۔ ہما کی چوت کی آگ اور بھی دھکنے لگی تھی ۔۔۔ وہ اب پوری طرح سے گرم ہو چکی ہوئی تھی ۔۔۔ اس نے رشید کی موجودگی کو بھلا کر اپنی منزل حاصل کرنے کا ارادہ کر لیا۔۔ اور ایک بار پھر اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔ اور انور کے دھکوں کا ساتھ دینے لگی ۔۔۔ انور کا لوڑا تیزی کے ساتھ ہما کی چوت میں اندر باہر ہو رہا تھا ۔۔۔ ہما کی چوت کی دیواروں کو رگڑتے ہوئے ۔۔

تھوڑی دیر تک اسی پوزیشن میں ہما کو چودنے کے بعد انور نے اپنا لوڑا ہما کی چوت میں سے نکالا ۔۔۔ اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے ڈائینگ ٹیبل پر لے آیا۔۔۔ اسے وہاں پر سیدھا لٹا دیا۔۔۔ خود اسکی ٹانگوں کے بیچ میں آکر اسکی ٹانگوں کو کھولا ۔۔۔ اور اپنا لوڑا اسکی چوت کے سوراخ پر رکھ کر ایک ہی دھکے میں اندر کر دیا۔۔۔ ہما کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکل گئی ۔۔۔۔ مگر انور نے ایک بار پھر سے اپنا لوڑا ہما کی چوت کے اندر باہر کرتے ہوئے اسے چودنا شروع کردیا۔۔۔ ہما بھی چاہ رہی تھی کہ وہ بھی اسکے ساتھ ہی اپنی منزل کو پہنچ جائے ۔۔ اس لیے اپنی آنکھیں بند کر کے اسکا پورا پورا ساتھ دے رہی تھی ۔۔۔۔ ہما نے اپنی دونوں ٹانگیں انور کی کمر کے گرد لپیٹ کر اسے اپنے جسم کے ساتھ کس لیا۔۔۔ انور نے اسی حالت میں ہی ہما کو چودنا شروع کردیا۔۔۔۔ ہما جو چاہتی تھی وہ نہیں ہو سکا۔۔۔ اور ہما کی چوت کا پانی نکلنے سے پہلے ہی انور کے لوڑے کی بس ہو گئی ۔۔۔۔ اس نے اپنا پانی ہما کی چوت کے اندر ہی نکالنا شروع کردیا۔۔۔۔ انور نڈھال ہونے لگا۔۔۔ کچھ دیر تک اپنا لوڑا انور نے ہما کی چوت کے اندر ہی رکھا۔۔۔۔ اور پھر اپنا لوڑا اسکی چوت سے نکال کر اپنا پاجامہ نیچے سے اٹھایا۔۔ اور بیڈروم کی طرف جاتے ہوئے بولا۔۔۔ اچھا جان میں نہا نے جا رہا ہوں ۔۔ تم نے دوبارہ چدوانا ہو تو آجانا باتھ روم میں ۔۔۔۔

 

Share this post


Link to post
15 minutes ago, Ch azaan said:

nice story dear keep it up good work

Thank you Chaudhry Sahib! Please stay connected with the story and enlighten me with your comments. Than you once again 

Share this post


Link to post
On 1/14/2021 at 3:05 PM, Johnson65 said:

 

 

On 1/10/2021 at 7:39 AM, Shazia Ali said:

قسط  نمبر  ٤۔۔

 

ہما نے غصے سے اسکو جاتے ہوے دیکھا ۔۔۔ ہر پھر خود سے ہی اسکا ہاتھ اپنی چوت پر چلا گیا۔۔۔ اس نے اپنی چوت کو سہلانا شروع کردیا۔۔۔ اور پھر بھی تسلی نہیں ہوئی تو ہما نے اپنی ایک انگلی اپنی چوت کے اندر ڈالی اور انگلی کو اندر باہر کرتے ہوئے خود اپنی چوت کا پانی نکالنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔ اس آخری لمحات میں وہ رشید کی موجودگی کو بلکل بھول چکی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔اسے فکر تھی تو بس اپنی چوت کا پانی نکالنے کی ۔۔۔۔
رشید نے ہما کو تڑپتے ہوئے دیکھا تو اس چھوٹے سے سٹور سے باہر نکل آیا۔۔ اور ہما کی طرف بڑھا ۔۔۔ ہما کے قریب پہنچا تو وہ قیامت خیز منظر اتنے قریب سے دیکھ کر وہ تڑپ اٹھا۔۔۔ اس سے صرف ایک قدم کے فاصلے پر ۔۔۔ ہما جیسی خوبصورت لڑکی کا گورا گورا حسین جسم بلکل ننگا پڑا تھا ۔۔۔ ہما کی ٹانگیں کھلی ہوئی تھیں ۔۔۔ مگر اسکی آنکھیں بند تھیں ۔۔۔ اور اسکی ایک انگلی اسکی چوت کے اندر تھی جسے وہ تیزی سے اپنی چوت میں اندر باہر کر رہی تھی ۔۔۔ اسکے ماتھے پر سو سو بل پڑ رہے تھے ۔۔۔ جیسے وہ اپنی منزل کی طرف بڑھنے کے لیے بہت زیادہ کوشش اور تگ و دو کر رہی ہو ۔۔۔ مگر اسے اپنی منزل کہیں بھی مل نہ رہی ہو ۔۔۔۔
 
رشید سے برداشت نہیں ہوا تو اس نے اپنا کالا سیاہ ہاتھ بڑھایا۔۔۔ اور ہما کی گوری گوری ملائم ران پر اسکی چوت کے بلکل قریب رکھ دیا۔۔۔ ہما نے تڑپ کر اپنی آنکھیں کھول دیں ۔۔۔

ہما کو آنکھیں کھول کر اپنی طرف دیکھتا ہوا دیکھ کر رشید بولا۔۔۔ میڈم جی ۔۔ یہ چوت کی آگ اس انگلی سے نہیں بجھے گی ۔۔۔۔ اس آگ کو بجھانے کے لیے ایک طاقتور لوڑا چاہیے ۔۔۔ جو آپ کے اس خادم کے پاس موجود ہے ۔۔۔ رشید نے اپنا لوڑا پکڑ کر ہما کے سامنے لہراتے ہوئے کہا ۔۔۔

رشید کے ننگے جسم کو اپنے ننگے جسم کے اتنا قریب دیکھ کر ہما کچھ زیادہ ہی شرما گئی ۔۔۔۔ اور اپنی دونوں رانوں کو بند کرتی ہوئی اپنی ننگی چوت کو رشید کی نظروں سے چھپانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔حالانکہ اسکا پورے کا پورے جسم رشید کی نظروں کے سامنے بلکل ننگا تھا۔۔۔۔

اپنی ٹانگوں کو بند کر کے اسکا ہاتھ پیچھے کرنے کی کوشش کرتی ہوئی بولی ۔۔۔ نہیں رشید ۔۔۔ پلیز دور چلے جاؤ۔۔۔ یہ سب ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔

رشید نے نیچے جھک کر ہما کی ٹانگ کو چوما ۔۔۔ اور بولا ۔۔۔ کچھ بھی غلط نہیں ہے میڈم جی ۔۔۔ غلط ہے تو وہ جو انور صاحب نے کیا ۔۔۔ یعنی آپ جیسی خوبصورت لڑکی کو اس طرح پیاسا چھوڑ گیا ہے ۔۔۔۔ اور اپنے جسم کی پیاس کو بجھانا کوئی غلط بات نہیں ہے ۔۔۔ یہ کہتے ہوئے رشید نے ہما کی رانوں کو چومنا شروع کر دیا۔۔ اسکی ملائم ٹانگوں پر کس کرنے لگا۔۔۔ انکو اپنے کالے ہاتھوں سے سہلانے لگا۔۔۔ ہما کی نظریں اپنی رانوں پر رینگتے ہوئے رشید کے کالے ہاتھوں پر ٹکی ہوئی تھیں ۔۔۔ رشید کے کالے کالے ہاتھ اسکو اپنے گورے گورے جسم پر بہت عجیب لگ رہے تھے ۔۔۔ مگر اسکے ہاتھ ۔۔ اس کے جسم میں بھڑک رہی ہوئی آگ کو اور بھی بھڑکا رہے تھے ۔۔۔ وہ آگ جو اسکا شوہر اسکے جسم میں جگا گیا تھا۔۔۔ اور اپنا پانی نکال کر اسے کچن کی ٹیبل پر ننگی حالت میں تڑپتا ہوا چھوڑ گیا تھا۔۔۔ ایک دوسرے مرد کی کے دیکھنے کے لیے ۔۔۔
رشید نے تھوڑا زور لگاتے ہوئے ہما کی ٹانگوں کو کھولا ۔۔ تو ہما کی ننگی چوت ایک بار پھر اسکے سامنے آگئی ۔۔۔ جس میں سے انور کے لنڈ کا پانی بہتا ہوا باہر کو آرہا تھا ۔۔۔۔سفید سفید۔۔ گاڑھا گاڑھا ۔۔ رشید نے نیچے فرش پر پڑی ہوئی ہما کی پینٹی اُٹھا کر ہما کی چوت کو صاف کرنے لگا ۔۔ اسکی چوت کو پینٹی سے رگڑتے ہوئے ۔۔۔ اور پینٹی کو ہی اپنی انگلی پر لپیٹ کر اسکی چوت کے اندر ڈالتے ہوئے اندر سے صاف کرنا چاہا تو ہما کے منہ سے سسکاری نکل گئی ۔۔۔۔ اس نے اپنا ہاتھ بڑھا کر رشید کے ہاتھ پر رکھ دیا۔۔۔ اور سسکی ۔۔ پلیززززززززززززز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رشیددددددددددددددد۔۔۔۔

رشید مسکرایا۔۔۔ اور نیچے جھک کر ہما کی گوری گوری چھاتی کو چوم لیا۔۔۔ اور اسکے گلابی نپل کو اپنے کالے ہونٹوں میں لے کر چوسنے لگا۔۔۔ ہما اسکے سر کو پیچھے کو دھکیل کرہی تھی مگر وہ کہاں ماننے والا تھا۔۔۔ پلیزززززززز رشید نہیں کرو۔۔۔۔۔ انور کسی بھی وقت باہر آسکتا ہے ۔۔۔ پلیززززززززززززززز ۔۔۔۔ہما کی حالت خراب ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔ جسم کی گرمی سے بھی ۔۔۔ اور انور کے خوف سے بھی ۔۔۔

رشید نے ہما کی دونوں ٹانگوں کو کھول دیا ہوا تھا ۔۔۔ اور اس کے اوپر جھکتے ہوئے اسکے مموں کو چوس رہا تھا ۔۔۔ اور دوسرے ہاتھ سے اپنا لوڑا پکڑ کر ہما کی چوت پر رگڑ رہا تھا ۔۔۔ دھیرے دھیرے اسکی چوت کو اپنے لوڑے سے سہلا رہا تھا ۔۔۔۔ ہما کی چوت سے نکلنے والا پانی رشید کے لوڑے کو چکنا کر رہا تھا ۔۔۔ رشید کا گرم گرم لنڈ اپنی جلتی ہوئی چوت پر محسوس کرتے ہوئے ہما کی تڑپ میں اضافہ ہوتا جارہا تھا ۔۔۔ منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں ۔۔۔ اور اسکی آنکھیں ایک بار پھر سے بند ہوتی جا رہی تھیں ۔۔۔۔ سانسیں تیز ہوتی جارہی تھیں ۔۔۔۔ دل تو اسکا بھی چاہنے لگا تھا کہ اب ایک بار پھر ایک لوڑا اسکی چوت کے اندر داخل ہوجائے ۔۔۔ جہ اسکی چوت کی گہرائیوں میں اتر جائے ۔۔۔ اور اسکی چوت کی آگ بجھا دے ۔۔۔ اب بھلے ہی وہ لوڑا اسکے شوہر کا نہ سہی اسکے نوکر کا ہی کیوں نہ ہو ۔۔۔ مگر جیسے ہی ہما کو انور کا خیال آتا تو اسے یہ سب برا لگنے لگتا ۔۔۔۔

رشید ہما کے ممے کو چھوڑ کر تھوڑا اور اوپر آیا ۔۔۔ اور اپنے ہونٹ ہما کے ہونٹوں پر رکھے ۔۔۔ اور اسکو چوم لیا۔۔۔ نیچے سے رشید نے اپنے لوڑے کی ٹوپی کو ہما کی چوت کے سوراخ پر ٹکایا۔۔۔ اور ایک زور کا دھکا مار دیا۔۔۔ انور کا موٹا لوڑا ہما کی چکنی چوت میں پھسلتا ہواپورے کا پورا ۔۔۔ ہما کی چوت میں اتر گیا۔۔۔۔ جڑ تک۔۔۔ مگر اسکے ساتھ ہی ہما کے منہ سے ایک زور دار چیخ نکل گئی ۔۔۔۔ جس سے سارا گھر گونج اٹھا۔۔۔ ہما نے ایک مکہ رشید کے کاندھے پر مارا۔۔۔ اور دوسرے ہاتھ سے اپنا منہ بند کرنے لگی ۔۔۔ رشید بھی اپنا لوڑا ہما کی چوت کے اندر ہی رکھ کر رکا ہوا تھا ۔۔۔۔ہما درد کے مارے تڑپی ۔۔۔ پلیزززززززز ۔۔۔۔۔ رشیدددددددددددددددددد ۔۔۔۔۔۔۔۔ نکالو اسکو۔۔۔۔۔۔۔۔ باہرررررررر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر رشید نے کچھ نہیں سنا ۔۔۔۔

مگر کیا ہوا کہ اندر سے بیڈ روم کا دروازہ کھلا۔۔۔ اور انور کی آواز آئی ۔۔۔۔ ہما کیا ہوا۔۔۔ دونوں گھبرا گئے ۔۔۔ رشید نے اپنے لوڑا ہما کی چوت سے نکالا ۔۔۔ اور واپس اپنی پناہ گاہ میں بھاگ گیا۔۔۔۔ اور اندر چھب گیا۔۔۔۔ ہما بھی ٹیبل سے نیچے اتری ۔۔۔ اور جب انور کچن میں داخل ہوا تو وہ نیچے کو جھک کر اپنا پیر پکڑ کر کھڑی تھی ۔۔۔

انور ۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔ کیوں چیخی تھی اتنی زور سے ۔۔۔

ہما ۔۔ کچھ نہیں ۔۔۔ وہ میں ٹیبل سے اترنے لگی تو میرا پاؤں مڑ گیااچانک ۔۔۔ اس لیے میری چیخ نکل گئی ۔۔۔

انور نے ہما کا ہاتھ پکڑا اور اندر بیڈروم کی طرف لے جانے لگا۔۔۔ چند قدم لڑکھڑا کر چلنے کے بعد ہما ٹھیک ہوگئی ۔۔۔ اور انور اسے لے کر باتھ روم میں گھس گیا۔۔۔ اور دونوں ہی ایک ساتھ نہانے لگے ۔۔۔ ہما کے جسم پر ٹھنڈ ا ٹھنڈا پانی پڑ رہا تھا تو اسکے جسم کی گرمی کچھ کم ہو رہی تھی ۔۔۔ مگر انور تو پھر دوبارہ سے اسکے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہا تھا ۔۔ اسکو نہلا بھی وہ خود رہا تھا ۔۔۔ اسکے چوت کو رگڑتے ہوئے صاف کر رہا تھا ۔۔۔ کبھی اسکے مموں کو مسلنے لگتا شاور کے نیچے ۔۔۔ ہما کی عجیب ڈبل کیفیت ہورہی تھی ۔۔۔ ایک طرف ٹھنڈا پانی اسکے جسم کو تھوڑا سکون پہنچاتا تو دوسری طرف انور دوبارہ سے اسکے جسم کو گرم کرنے لگتا۔۔۔۔ اتنے میں بیڈروم میں پڑے ہوئے انور کے موبائل کی بیل بجی ۔۔۔ انور نے ٹاول لیا ۔۔۔ اور اپنا جسم صاف کرتا ہوا باہر آگیا۔۔۔ اور اپنی کال سننے لگا۔۔۔ ہما اپنا باتھ مکمل کرنے لگی ۔۔۔ اسکا دھیان بار بار اپنے گھر میں چھپے ہوئے رشید کی طرف جا رہا تھا ۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اس سے کیسے اپنی جان چھڑوائے ۔۔۔ کیونکہ اسے لگ رہا تھا کہ جتنا آگے تک وہ پہنچ چکاہے اس سے پیچھے ہٹنے والا اب وہ نہیں ہے ۔۔۔۔ نہا کر ہما نے اپنا ٹاول لیا اور اپنا جسم صاف کرکے وہی تولیہ اپنے جسم پر لپیٹ کر باہر آگئی ۔۔۔ تولیہ ہما کے مموں کے اوپر سے لے کر اسکی آدھی رانوں تک تھا۔۔۔ ہما کے آدھے آدھے ممے اور نیچے سے آدھی رانیں اور پوری ٹانگیں ننگی ہو رہی تھیں ۔۔۔ ہما جیسے ہی باہر آئی تو دیکھا کہ انور اپنی پینٹ شرٹ پہن کر تیار ہو چکا ہوا ہے ۔۔۔ اور برش کر رہا بس۔۔۔

ہما حیرانی سے ۔۔۔ اب کہاں کی تیار ی ہے ۔۔۔

انور ۔۔ کہیں نہیں یار۔۔ بس وہ یاسر کا فون آیا ہے اسی کے ساتھ جا رہا ہوں ۔۔۔ رات تک آجاؤں گا۔۔ تم فکر نہیں کرو۔۔۔

ہما حیران پریشان اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

انور ۔۔ چلو اب دروازہ بند کر لو میرے ساتھ آکر ۔۔۔

ہما ۔۔ مجھے کپڑے تو پہننے دونا ۔۔۔

انور ۔۔ یار آجاؤ ایسے ہی دروازہ بند کر کے آکے پہن لینا ۔۔۔ یہاں کونسا کوئی اور ہے تم کو اس حالت میں دیکھنے والا ۔۔ انور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر لے آیا۔۔۔ ہما دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ اب اسکو کیا پتہ کہ گھر میں کون ہے جو تمھاری بیوی کو ننگا دیکھ چکا ہے ۔۔۔ بلکہ تقریباََ چود بھی چکا ہے ۔۔۔

فلیٹ کے دروازے پر پہنچ کر انور نے جھک کر ہما کے کلیویج اور اسکے ننگے سینے پر کس کیا ۔۔۔ اور پھر باہر نکل گیا۔۔۔ ہما نے دروازہ لاک کیااور جیسے ہی واپس اپنے بیڈروم میں جانے کے لیے مڑی تو کچن سے رشید نکل کر باہر آگیا۔۔ وہ اس وقت بلکل ننگا تھا ۔۔۔ رشید کا کالا سیاہ ننگا جسم دیکھ کر ہما کی ساری کی ساری ہوس اتر گئی ۔۔۔ اسے رشید کے جسم سے کراہیت سی ہونے لگی ۔۔۔ وہ خاموشی سے اپنے بیڈروم کی طرف بڑھی ۔۔ کہ اندر جاکر دروازہ بند کر لے گی ۔۔۔ مگر رشید نے شائد اسکے دل کی بات پڑھ لی تھی ۔۔اس نے ہما کو کچھ نہ کہا ۔۔۔ بس دیکھتا ہی رہا۔۔۔ مگر جیسے ہی ہما اپنے بیڈروم میں داخل ہوئی تو اسکے دروازہ بند کرنے سے پہلے ہی رشید بھی اندر داخل ہوگیا۔۔۔

ہما ۔۔ پلیز اب چلے جاؤ۔۔۔

رشید کہاں جانے والا تھا۔۔۔ جسکے منہ کو خون لگ چکا ہو ۔۔۔ وہ کیسے اپنا شکار چھوڑ کر جا سکتا تھا ۔۔۔ وہ آگے بڑھنے لگا ہما کی طرف ۔۔۔ ہما جی جو کام شروع کیا تھا وہ تو پورا کرنے دو نا ۔۔۔۔

ہما ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ مجھے کچھ نہیں کرنا تمھارے ساتھ ۔۔۔

رشید مسکرا کر اپنے ننگے لوڑے کو سہلاتا ہوا بولا ۔۔۔ میڈم جی ۔۔ آپکا گورا گورا سیکسی جسم اس تولیہ میں تو اور بھی سیکسی لگ رہا ہے ۔۔۔

ہما کے چہر ے پر سے ایک رنگ سا آکر گزر گیا۔۔۔ انور ہما کے قریب آیا۔۔۔ اسکے پیچھے کھڑا ہو گیا۔۔۔ اپنے دونوں ہاتھوں کو اسکے کندھوں پر رکھا ۔۔۔ اور اسے دھکیلتا ہوا آئینے کے سامنے لے گیا۔۔ ہما نے آئینے میں اپنا اور رشید کا عکس دیکھا تو اسے بہت عجیب لگا۔۔۔ رشید نے اپنی ایک انگلی سے ہما کا تولیہ کھول دیا۔۔۔ جو ایک ہی لمحہ میں نیچے گر گیا۔۔۔ اور ہما آئینے کے سامنے بلکل ننگی کھڑی تھی ۔۔۔ ہما نے فوراََ اپنے دونوں ہاتھ اپنے ننگے مموں پر رکھ دیئے ۔۔۔ رشید اسکے پیچھے کھڑا تھا ۔۔۔ اسکا کالا سیاہ لوڑا ہما کی گوری گوری گانڈسے ٹکرا رہا تھا ۔۔۔ بلکہ رشید اسے بار بار آگے کو دھکا دے رہا تھا ۔۔ہما کے گیلے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا ۔۔ جو اسکے کاندھے پر گر رہا تھا۔۔۔ رشید نے نیچے کو جھک کر اپنے ہونٹ ہما کے کندھوں پر رکھے اور اسکو چوم لیا۔۔۔ اور اپنے ہونٹوں کے ساتھ ہما کے کندھے پر ٹپکے ہوئے اسکے بالوں کو پانی کوچوس لیا۔۔۔ ہما تڑپی ۔۔ اور اسکے پورے جسم میں ایک کپکپی سی دوڑ گئی ۔۔۔ رشید نے اپنے دونوں ہاتھوں کو ہما کی بازؤں کے نیچے سے نکال کر اسکے مموں پر رکھ دیا۔۔ ہما کی دونوں چھاتیوں کو اپنی مٹھیوں میں لے لیے ۔۔۔ انکو آہستہ آہستہ دبانے لگا تو ہما سسکی ۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔ پلیزززززززززز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رشیدددددددددددددددددددددد نہیں کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چلے جاؤ پلیزززززززززززززززززززززز زز۔۔۔۔۔۔۔

مگر رشید نے ہما کی ننگی کمر کو اپنے ننگے سینے سے چپکا لیا تھا ۔۔ اور اسکے نپلز کو اپنی انگلی اور انگوٹھے کے بیچ میں لیکر رگڑنے لگا۔۔۔۔ نیچے سے اسکا لوڑا ہما کی رانوں کی درمیانی دراڑ میں گھستا جارہا تھا ۔۔۔۔ اپنے لوڑے کو پیچھے سے ہی ہما کی رانوں کے بیچ میں پھنسا کر اسے آگے پیچھے کرنے لگا ۔۔۔۔ ہما کو عجیب سا احساس ہونے لگا۔۔۔ وہ اپنی اس کیفیت کو کنٹرول کرنا چاہ رہی تھی ۔۔ جو اسکے کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی تھی ۔۔۔ رشید کا کالا سیاہ مگر گرم لوڑا اسکی چوت کی جلتی بجھتی آگ کو تیز کررہا تھا ۔۔۔۔۔ ہما کی نظر آئینے میں اپنے پیچھے کھڑے رشید کے بدصورت چہرے اور جسم پر پڑتی تو اسے برا لگتا ۔۔۔ مگر جیسے ہی نیچے سے اسکا لوڑا ہما کی چوت کو چھوتا تو اسکی کیفیت ہی بدل جاتی ۔۔۔ آخر ہما نے اپنی آنکھیں ہی بند کرلیں ۔۔۔ رشید اپنا لوڑا ہما کی رانوں کے درمیان رگڑتا ہوا اسکی گردن کو چوم رہا تھا ۔۔۔ اور اپنی زبان سے اسے چاٹ بھی رہا تھا ۔۔۔۔ رشید کی زبان تو جیسے جلتی پر تیل کا کام کر رہی تھی ہما کے لیے ۔۔۔ اسکے منہ سے نکلنے والی سسکاریوں کی آواز تیز ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔۔

اچانک رشید نے ڈاکٹر ہما کے ننگے گورے جسم کو اپنے کالے مضبوط بازوؤں میں اُٹھا لیا اور ہما کے بیڈ کی طرف بڑھنے لگا ۔۔۔ ہما نے ایک لمحے کے لیے اپنی آنکھیں کھولیں ۔۔۔ اور پھر سے بند کر لیں ۔۔۔ رشید نے چلتے ہوے ہما کے گال کو چوما ۔۔۔ اور پھر اسے لے جاکر بیڈ پر لٹا دیا۔۔۔ اور خود اسکی ٹانگیں کھول کر بیچ میں لیٹ گیا۔۔۔ ہما کی گلابی چوت رشید کی نظروں اور ہونٹوں کے بلکل سامنے تھی ۔۔۔۔ چند لمحوں تک تو رشید اس ادھ کِھلے گلابی پھول کو دیکھتا رہا ۔۔۔ اور پھر اپنے ہونٹ اسکی چوت پر رکھ کر اسے چوم لیا۔۔۔ ہما کا پورا جسم ہی لرز اٹھا۔۔۔ رشید نے اپنا ہاتھ ہما کی چوت پر رکھا اور اسے سہلانے لگا ۔۔ ہما کی چوت کا دانہ بھی اسکے ہاتھ کے نیچے رگڑا جا رہا تھا ۔۔۔ جس سے ہما کے پورے جسم میں کرنٹ سا پیدا ہو رہا تھا ۔۔۔۔ ہما کی چوت کے دانے کو رگڑتے ہوئے رشید نے اپنی ایک انگلی ہما کی چوت کے اندر دال دی ۔۔۔ اور اسے تیزی سے اندر باہر کرنے لگا ۔۔۔ ہما کی آنکھیں بند ہوگئیں ۔۔۔ مگر منہ پورے کا پورا کھل گیا۔۔۔

ہما کے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں ۔۔۔ ہما اپنی گانڈ کو اٹھا کر اپنی چوت کو گُھما رہی تھی ۔۔۔ جیسے وہ رشید کی انگلی کو اپنی چوت کے ار بھی اندر تک لینا چاہ رہی ہو ۔۔۔۔ رشید نے نیچے کو جھک کر اپنا منہ ہما کی چوت کے گلابی لبوں پر رکھ دیا۔۔ اور اسے دھیرے دھیرے چومنے لگا۔۔۔ اسکی زبان منہ سے نکلی اور سرکتی ہوئی ہما کی چوت کے سوراخ کے اندر گُھس گئی ۔۔ رشید اپنی زبان کو ہما کی چوت کے اندر باہر کرنے لگا۔۔۔ اپنی زبان کی نوک سے ہما کی چوت کے اندر کے حصے کو چاٹنے لگا۔۔۔ پھر رشید نے اپنی زبان کی نوک ہما کی چوت کے لبوں کے درمیان اسکی چوت کے چھوٹے سے دانے پر رکھی اور اسے چاٹنے لگا۔۔۔ اپنی زبان کی نوک سے سہلانے لگا۔۔۔ ہما کی حالت خراب ہو رہی تھی ۔۔۔ اسکے اندر کی آگ پوری طرح سے بھڑک اٹھی تھی ۔۔۔ جس میں اسکا پورا جسم جل رہا تھا ۔۔۔

چند منٹ تک رشید ہما کی چوت کو چاٹتے ہوئے ہما کو بےچین کرتا رہا ۔۔۔ اسکی طلب کو بڑھاتا رہا ۔۔۔ اسکی بے قراری کو دیکھتا رہا ۔۔۔ پھر اس نے ہما کی چوت سے اوپر کو اٹھ کر اسکی گہری ناف کو چوما ۔۔۔ اپنی زبان کو اسکی گہرائی میں گھمایا۔۔ اور اندر سے چاٹا۔۔ اور پھر اسکے پیٹ کی درمیانی لکیر کو چاٹتا ہوا اوپر کو جانے لگا۔۔ اسکے سینے کے ابھاروں کی طرف۔۔۔ ہما کی دونوں چھاتیوں کے بیچ کے گورے حصے کو اپنے کالے ہونٹوں سے چومنے لگا۔۔ اپنے دونوں ہاتھوں کو ہما کی چھاتیوں پر رکھ کر دونوں کو اندر کی طرف دبایا۔۔ اور اپنا چہرہ بیچ میں دبانے لگا۔۔ پھر اس نے ہما کے ایک نپل کو چوم لیا۔۔۔ اور ہما کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی زبان کے ساتھ اسکو سہلانے لگا۔۔۔ جیسے ہی ہما کی نظر رشید کی نظر سے ملی تو ہما نے شرما کر اپنا چہرا گھما لیا۔۔۔ رشید ہما کے تنے ہوئے گلابی نپل کو اپنی زبان سے سہلا رہا تھا ۔۔۔ جس سے اسکے پورے جسم میں کرنٹ سا دوڑ رہا تھا ۔۔

رشید نے ڈاکٹر ہما کے نپل کو اپنے دانتوں میں لیا اور اسکو آہستہ آہستہ کاٹنے لگا۔۔ دانتوں کے درمیان دبانے لگا۔۔۔ ہما سے اب برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو رشید کے سر پر رکھا ۔۔ اور اسکے بالوں کو اپنی دونوں مٹھیوں میں دبوچ لیا۔۔۔ مگر اسکے سر کو اپنے ممے پر سے ہٹانے کی کوئی کوشش نہیں کی ۔۔۔ ایسے ہی رشید نے ہما کے دوسرے نپل کو بھی چوسا اور کاٹا۔۔۔ اور ہما کو بے چین کرنے لگا۔۔۔

پھر رشید اوپر کو ہما کے چہرے کی طرف جانے لگا۔۔۔ ہما اسکی آنکھوں میں ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔ رشید نے جیسے ہی اپنے ہونٹ ہما کے ہونٹوں پر رکھ کر اسکے ہونٹوں کو چوما تو ہما نے فوراََ ہی اپنا منہ پرے ہٹا لیا۔۔ نہیں ۔۔۔۔ پلیزززززز۔۔۔۔ رشیددددددددد ۔۔۔۔۔۔ ایسے نہیں ۔۔۔۔ یہ نہیں ۔۔۔۔ پلیزززززززززز ۔۔۔۔۔۔۔۔

رشید تقریباََ ہما کے اوپر سوار تھا۔۔۔ اسکا لوڑا ہما کی رانوں کے ساتھ رگڑ کھا رہا تھا ۔۔۔ انکو سہلا رہا تھا۔۔ گرم گرم لوڑے کا لمس ہما کو اپنی رانوں پر کسی گرم راڈ کی طرح لگ رہا تھا۔۔۔ رشید نے اپنے لوڑے کو ہما کی چوت کا راستہ دکھایا۔۔۔ اسے ہما کی چوت کے سوراخ پر رکھ کر رگڑنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔ تھوڑی دیر کے بعد ہی رشید ہما کے اوپر سے اُٹھ گیا۔۔ مگر اسکی رانوں کے درمیان سے نہیں اٹھا۔۔۔ رشید نے ڈاکٹر ہما کی دونوں رانوں کو پھیلا دیا۔۔ اور اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر آگے کو ہو کر اپنا لوڑا ہما کی چوت پہ ٹکا دیا۔۔ اور آہستہ آہستہ آگے پیچھے کو ہوتے ہوئے اسکی پوری چوت کو اپنے لنڈ سے سہلانے لگا۔۔۔ ہما کی چوت کا دانہ بھی اسکے لوڑے کو نیچے رگڑا جارہا تھا۔۔ کبھی کبھی وہ اپنے لوڑے کی ٹوپی کو ہما کی چوت کے دانے پر رکھ کر دباتا ۔۔ ہلکا ہلکا دھکا لگاتا تو ہما کی تو جیسے جان ہی نکل جاتی ۔۔۔ ہما اب تڑپ رہی تھی کہ کب رشید اپنا لوڑا اسکی چوت کے اندر ڈال دے ۔۔ اور اسکی پیاس کو بجھا دے۔۔۔ مگر وہ تو اسکی پیاس کو بجھانے کی بجائے اور بڑھائے جا رہا تھا ۔۔۔ ہما کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ۔۔۔۔

ہما رشید کو کچھ کہنا چاہ رہی تھی ۔۔ مگر کہہ نہیں پا رہی تھی ۔۔۔ مگر اپنی نظروں سے اسکو پیغام دے رہی تھی کہ وہ اب اپنا لوڑا اسکی چوت کے اندر ڈال دے ۔۔۔ مگروہ تو سن ہی نہیں رہا تھا ۔۔۔ جب رشید کا بھی دل برداشت سے باہر ہوا تو اس نے اپنے لوڑے کو آہستہ سے ہما کی چوت کے اندر سرکا دیا۔۔۔ مگر صرف اپنے لوڑے کی ٹوپی کو اسکی چوت کے اندر کیا۔۔ اور مزید اندر نہیں ڈالا۔۔۔ لوڑے کا اگلا حصہ چوت کے اندر جانے سے ہما کی بےچینی اور بھی بڑھ گئی تھی ۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کرے ۔۔۔ اسے اپنے سے دور کرے ۔۔۔ یا اسے اپنی طرف کھینچ لے ۔۔۔ ایک لمحے کے لیے ہما کو اپنے شوہر کا خیال آیا تو اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اسکے سینے پر رکھا اور اسے پیچھے کو دھکیلنے کی کوشش کی ۔۔

 

Share this post


Link to post

قسط  نمبر ٥ 

 

 ہما ۔۔۔ رشیددددددددد۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پلیزززززززززززززززز ۔۔۔۔۔۔ نکالو اسکو ۔۔۔۔۔۔۔۔ پلیززززززززززز اندر نہیں کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رک جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے نہیں کرنا کچھ بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 ۔۔ رشید نے ہما کو بگڑتا ہوا دیکھ کر اپنے دونوں ہاتھ ہما کے دونوں مموں پر رکھے اور ایک زور دھکے کے ساتھ اپنا پورا لوڑا ہما کی چوت کے اندر گُھسا دیا۔۔۔ ہما کی ایک زور دار چیخ نکل گئی ۔۔۔ جو پورے گھر میں گونج گئی ۔۔۔ جیسے کچن میں ہوا تھا۔۔ اور انور آگیا تھا اسکو دیکھنے تو رشید کو اپنا لوڑا اسکی چوت سے نکالنا پڑا تھا ۔۔۔ اور ہما کی جان اس سے چھوٹ گئی تھی ۔۔۔ مگر اس بار ایسا کچھ نہیں ہوا۔۔ اب اسکی مدد کو آنے والا گھر میں کوئی نہیں تھا ۔۔۔ اور رشید کا پورا لوڑا ہما کی چوت کے اندر اترا ہوا تھا ۔۔۔ جڑ تک۔۔۔ ہما کی چوت کی گہرائی میں ۔۔۔ رشید کا لوڑا انور اور زمان کے لوڑے سے موٹا تھا ۔۔۔ مگر لمبا نہیں تھا ۔۔۔ اسکے لوڑے کی موٹائی نے ہما کو دوسری بار چیخنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔۔ اسے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے رشید نے کوئی گرم گرم موٹی راڑ اسکی چوت کے اندر ڈال دیا ہو ۔۔۔ ہما کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے تھے ۔۔۔ درد سے اسے اپنی چوت پھٹتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔ ہما نے رشید کے سینے پر مکے مارتے ہوئے اسکو اپنے اوپر سے پیچھے ہٹانے کی کوشش کی مگر۔۔۔ وہ سانڈھ اسکے اوپر سے اترنے والا نہیں تھا ۔۔۔ رشید نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ہما کے کندھوں کو نیچے بیڈ پر دبایا۔۔۔ اور نیچے سے دھکے مارنے لگا۔۔۔ رشید کا لوڑا ہما کی چوت میں اندر باہر ہونے لگا۔۔۔ ہما کی عجیب سی کیفیت ہو رہی تھی ۔۔۔ اسکی چوت گرم ہو رہی تھی ۔۔۔ رشید کے لوڑے کی گرمی سے ۔۔۔ مگر موٹے لوڑے کے دھکوں کے ساتھ ہما کی چیخیں نکل رہی تھیں ۔۔۔ وہ اسکی گرفت کے نیچے تڑپ رہی تھی ۔۔۔ سسک رہی تھی ۔۔۔ مگر رشید اسکی ایک نہیں سن رہا تھا ۔۔۔ دھیرے دھیرے ہما کی چوت کو رشید کے لوڑے کی عادت ہونے لگی ۔۔۔ اور وہ اسے برداشت کرنے لگی ۔۔۔۔ سی سی سی سی سی سی سی سی سی س۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوووووووووووووووووو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آآآآآآآآآآآآآہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
 رشید کے موٹے لوڑے کی چدائی نے ہما کو آخر اپنی منزل پر پہنچا دیا۔۔۔ اور وہ اپنی آنکھیں بند کر کے جھڑنے لگی ۔۔۔۔ اسکی چوت نے گاڑھا گاڑھا پانی رشید کے لوڑے پر چھوڑنا شروع کردیا۔۔۔ اسکی چوت رشید کے موٹے لوڑے کو دبا رہی تھی ۔۔۔۔ بھینچ رہی تھی ۔۔۔۔ رشید کے لوڑے نے بھی کچھ ہی دھکوں کے بعد پانی چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔ اور وہ بھی نڈھال ہو کر ہما کے اوپر ہی لڑھک گیا۔۔۔۔ مگر تب تک ہما کو کچھ ہوش آچکا تھا ۔۔۔ اس نے رشید کو اپنے بدن کے اوپر سے نیچے دھکیل دیا۔۔۔ اور وہ بھی اسکے ساتھ ہی اسکے بیڈ پر لیٹ گیا۔۔۔ اور دونوں لمبی لمبی سانسیں لیتے ہوئے اپنے اوسان بحال کرنے لگے ۔۔۔
  کس وقت ہما کی آنکھ لگ گئی یہ اسکو بھی پتہ نہیں چلا۔۔۔ مگر کمینے رشید کو کہاں نیند آنے والی تھی ۔۔۔ وہ تو بس اپنے پہلو میں لیٹی ہوئی اس حور کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ جو اسی کے ہاسپٹل کی ایک ڈاکٹر تھی ۔۔۔ ایک حسین اور خوبصورت ڈاکٹر ۔۔ جس کو کبھی اس نے اپنے سپنوں میں بھی نہیں چودا تھا۔۔۔ مگر آج حقیقت میں وہ اس خوبصورت حسینہ کو چود چکا تھا۔۔۔ اسکے حسین جسم کا لطف اٹھا چکا تھا۔۔۔ اور اب بھی وہ بلکل ہی ننگی حالت میں اسکے پہلو میں تمام حالات سے بے خبر سو رہی تھی ۔۔۔ اسکے چہرے پر سکون ہی سکون تھا ۔۔۔ جیسے پتہ نہیں کتنے دنوں کے بعد اسکو ایسا سکون ملا ہو ۔۔۔ رشید ہما کے ننگے گورے جسم کو دیکھتے ہوئے خود پر قابو نہیں رکھ سکا ۔۔۔ اور اپنا ہاتھ ہما کے جسم پر پھیرنے لگا۔۔۔ آہستہ آہستہ اسکے جسم کو سہلانے لگا ۔۔ اتنی آہستہ کہ کہیں اس حسن کی دیوی کی نیند نہ خراب ہو جائے ۔۔ دھیرے دھیرے اسکے ہاتھ ہما کی چھاتیوں تک پہنچے ۔۔ جو اسکی سانسوں کے ساتھ اوپر نیچے ہو رہی تھیں ۔۔ وہ ہما کے سینے کے ابھاروں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔۔۔ انکی سختی کو محسوس کرنے لگا۔۔۔ اسکے نپل ایک بار پھر اسکے ہاتھوں کے لمس سے اکڑتے جا رہے تھے ۔۔ سینے کے ابھاروں سے رشید کے ہاتھ ہما کے بلکل سپاٹ اور ملائم پیٹ پر آگئے ۔۔ وہ اسکو سہلانے لگا۔۔۔۔ پیٹ پر سے اسکا ہاتھ اور نیچے کو گیا۔۔ ہما کی ناف سے نیچے اور چوت کے اوپر کے حصے پر۔ اور اسکی چوت کے اوپر کے حصے کے زیر ناف بالوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔۔۔ ہما کی چوت کے اوپر کے حصے کے بالوں پر ہاتھ پھیرنا بھی اسے بہت اچھا لگ رہا تھا۔۔۔ بہت مزہ آرہا تھا اسے ۔۔۔ وہاں سے کبھی اسکا ہاتھ ہما کی چکنی رانوں کو سہلانے لگتا
 
 ہما کی ٹانگیں تھوڑی کھلی ہوئی تھیں ۔۔ ہما کی رانوں کے اندر کے حصے کو سہلاتے ہوئے اسکے ہاتھ ہما کی چوت کی طرف بڑھ رہے تھے۔۔۔ اسکی چوت کے لب آپس میں جڑے ہوئے تھے ۔۔۔ رشید ہما کی چوت کے لبوں پر انگلی پھیرنے لگا ۔۔ اوپر سے نیچے کی طرف ۔۔۔ لائن میں ۔۔۔ ہما کی چوت پر انگلی پھیرتے ہوئے بھی رشید کو یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنا کالا سیاہ لوڑا اس چوت میں ڈال کر اسے چود چکا ہے ۔۔۔ اس خوبصورت چوت کی ٹائٹنیس کو محسوس کر چکا ہے ۔۔۔ رشید کا لوڑا دوبارہ سے اکڑ رہا تھا ۔۔۔ جسے وہ ہما کی رانوں سے رگڑ رہا تھا۔۔۔ ڈاکٹر ہما کی ملائم گوری رانوں کے ساتھ اپنا کالا لوڑا سہلانا اسے اچھا لگ رہا تھا ۔۔۔
 
 آخر جب رشید سے مزید برداشت نہ ہو سکا تو اس نے اوپر کو اٹھ کر ہما کے ایک نپل کو اپنے منہ میں لے لیا۔۔ اور اسے چوسنے لگا۔۔۔ نپل کو منہ میں لیتے ہی اس میں وحشیانہ پن آتا جا رہا تھا ۔۔۔ اس نے زور زور کے ساتھ اسکے نپل کو چوسنا اور دوسرے نپل کو اپنی انگلیوں سے مسلنا شروع کردیا۔۔۔ کچھ ہی دیر میں ہلکے ہلکے درد کی وجہ سے ہما کی آنکھ کھل گئی ۔۔۔ اس نے رشید کو اپنے اوپر جھک کر اپنے ممے کو چوستے ہوئے دیکھا تو کچھ دیر پہلے ہوئی چدائی کا سارا منظر اسکی آنکھوں کے آگے گھوم گیا۔۔۔ جیسے ہی اسے اس لذت اور مزے کا خیال آیا جو رشید کے لنڈ نے اسے دیا تھا تو بے اختیار ہما نے اپنا ہاتھ رشید کے سر کے بالوں میں رکھا ۔۔ اور اسکے بالوں کو سہلانے لگی ۔۔۔ پھر اسکے بالوں کو اپنی مٹھی میں لے کر کھینچ کر اسکے سر کو اپنی چھاتی پر سے اوپر اٹھانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔ رشید نے بھی اسکے کھینچنے کے ساتھ ہی اپنا سر اوپر اٹھا دیا۔۔۔ اور ہما کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔۔۔ ہما نے بھی اس کی آنکھوں میں دیکھا ۔۔ اور بولی ۔۔۔ آہستہ کرو نا ۔۔ انکو توڑنا ہے کیا ۔۔۔
 
 رشید ہما کی اس بات پر ہنس پڑا ۔۔۔ اور ایک بار پورے زور سے ہما کے نپل کو مسل دیا۔۔۔ جس سے ہما کا پورا جسم ہی تڑپ اٹھا۔۔۔ اور اسکی چیخ نکل گئی ۔۔۔ ہما نے غصے سے رشید کو ایک مکہ مارا۔۔ رشید ہنستا ہوا اسکے اوپر سے اٹھ گیا۔۔۔ اور ایک جھٹکے سے اسکی ٹانگوں کو کھول کر درمیان میں آگیا۔۔
 
 ہما نے اسکے موٹے لوڑے کو اکڑتے ہوئے دیکھا تو اپنا ہاتھ اپنی چوت پر رکھ کر اسکو چھپاتی ہوئی بولی ۔۔ بس بس۔۔ اب کچھ نہیں کرنے دوں گی میں ۔۔۔ ایک بار جو مل گیا بس اسی کو کافی سمجھو اور یہاں سے جاؤ اب۔۔
 
 لیکن اگر کوئی بات مان لی تو رشید نے ہی مان لی ۔۔۔ اس نے ہما کا ہاتھ اسکی چوت پر سے ہٹایا۔۔ اور اپنے کالے لوڑے کی ٹوپی اسکی چوت کے سوراخ پر رکھ دی ۔۔۔ اور ہما کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔۔ ہما اب ایک زور دار دھکے کے لیے خود کو تیار کر رہی تھی ۔۔۔
 
 رشید ہما کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔۔ میڈم جی ۔۔۔ زور سے یا آہستہ ۔۔۔ ؟؟؟
 
 ہما اسکو آنکھیں نکالتی ہوئی بولی ۔۔۔کرنا ہی ہے تو پھر انسانوں کی طرح کرنا ۔۔ جانور نہ بن جانا پہلے کی طرح ۔۔
 
 رشید ہنسا۔۔۔ میڈم جی ۔۔۔ آپ کی چوت جیسی چکنی چوت کو آرام سے چودا تو کیا چودا ۔۔۔
 
 ہما ہنس پڑی ۔۔ بکواس نہیں کرو۔۔۔ اور نہ ہی ایسی گندی زبان ۔۔
 
 رشید نے آہستہ آہستہ اپنا لوڑا ہما کی چوت کے اندر سرکانا شروع کردیا۔۔۔ تھوڑا سا اندر ڈالتا پھر اسے باہر کو کھینچتا ۔۔۔ اور پھر پہلے سے زیادہ اندر ڈال دیتا۔۔۔ رشید کے لوڑے کی رگڑ سے ہما کو مزہ آنے لگا۔۔ اسکی آنکھیں بند ہونے لگیں ۔۔۔ سسکاری سی نکلنے لگی اسکے منہ سے ۔۔۔
 
 
 ہما ۔۔۔ ااااااااااااااااااااااااا اااااااا ُاُف ف ف ف ف ف ف ف ف ف ۔۔۔۔۔۔ کتنا موٹا ہے تمھارا یہ کمینے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
 رشید پورا لوڑا ہما کی چوت کے اندر اتار کر ۔۔ اپنے لوڑے کو بالوں کو ہما کی چوت کے بالوں کے ساتھ ملاتا ہوا بولا ۔۔۔ میڈم جی ۔۔ کیا میرا لوڑا زمان صاحب کے لوڑے سے بھی موٹا ہے ۔۔۔
 
 ہما کا رنگ اسکی اس بات سے سرخ ہو گیا۔۔۔ باتیں نہیں کرو۔۔۔ اور جو کر رہے وہ کام کرو۔۔۔
 
 رشید مسکرایا۔۔۔ اور اپنے دونوں ہاتھ ہما کے دونوں مموں پر رکھتے ہوئے بولا ۔۔۔ یعنی کہ صرف آپ کی چدائی کروں ۔۔۔ باتیں نہیں ۔۔۔ تو پھر ابھی لیں میں پسٹن سٹارٹ کرنے لگا ہوں اب آپ خود ہی سنبھالیئے گا۔۔۔۔
 
 یہ کہتے ہوئے رشید نے دھکوں کی رفتار میں تیزی کر دی ۔۔۔ دھنا دھن اسکی چوت کو چودنے لگا۔۔۔ اپنا لوڑا تیزی سے اسکی چوت کے اندر باہر کرنے لگا۔۔۔ رشید کا موٹا لوڑا ابھی بھی پھنستا ہوا ہما کی چوت میں جا رہا تھا ۔۔۔۔ اور ہما کو بھی درد کے ساتھ ساتھ لذت بھی مل رہی تھی ۔۔۔۔ اسکے منہ سے لذت اور درد کے ملی جلی سسکاریاں بھی نکل رہی تھیں ۔۔۔ ہما کو اس قدر مزہ مل رہا تھا کہ رشید کی چند منٹ کی چدائی کے ساتھ ہی اسکی چوت نے پانی چھوڑ دیا۔۔۔
 
 تھوڑی دیر تک رشید ہما کو ایسے ہی چودتا رہا ۔۔۔ اور پھر اپنا لوڑا اسکی چوت سے نکال لیا۔۔ ہما نے بھی سُکھ کا سانس لیا کہ رشید نے اسکی جان چھوڑ دی ہے ۔۔۔ مگر کہاں جی ۔۔۔ اس نے ہما کو کروٹ دے کر الٹا کیا ۔۔ پھر اسکے پیٹ کے نیچے ہاتھ ڈال کر اسکے جسم کو اوپر کو اٹھایا۔۔۔ اور ہما کو گھوڑی بنا دیا۔۔۔ ہما نےمڑ کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔ اور بولی ۔۔ اب کیا مصیبت ہے تمکو۔۔۔ بس بھی کرو
 
 رشید اپنے لوڑے کو ہما کی گوری گوری گانڈ پر رگڑتے ہوئے بولا۔۔۔ میڈم جی اپنا پانی تو نکلوا لیا ہے ۔۔ اب میرا بھی تو نکلنے دو نا ۔۔۔۔
 
 ہما نے اسکی بات سن کر مسکرا کر اپنے منہ آگے کر کے اپنا ماتھا تکیے پر ٹکا دیا۔۔۔ پیچھےسے رشید نے ہما کی ٹانگوں کو تھوڑا کھولا اور اپنا لوڑا پیچھے سے ہما کی چوت کے سوراخ پر رکھ دیا ۔۔۔ اور ہما کی پتلی کمر کو اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر ایک ہی دھکے میں اپنا پورا لوڑا ہما کی چوت میں اتار دیا۔۔۔ اس پوزیشن میں رشید کا لوڑا زیادہ گہرائی تک گیا۔۔ اور ہما کی زور دار چیخ بیڈروم میں گونج گئی ۔۔۔ ہما نے غصے سے مڑ کر رشید کی طرف دیکھا ۔۔ مگر اس نے تو ہما کی کوئی بھی پرواہ کیے بنا ہی دھنا دھن ہما کی چوت کو چودنے لگا۔۔ ہما کی چیخیں نکلنے لگیں ۔۔ مگر رشید نہیں سن رہا تھا ۔۔۔ اس پر تو جیسے کوئی جنون سوار تھا۔۔۔ بے دردی اور بے رحمی کے ساتھ ہما کی چوت پر حملے کر رہا تھا ۔۔۔ اسکے دھکوں کے پریشر سے ہما نیچے ہی گر پڑی ۔۔۔ پیٹ کے بل۔۔ مگر رشید نے پھر بھی نہیں چھوڑا ۔۔۔ اور اپنے دونوں ہاتھوں کو ہما کی گانڈ پر رکھ کر اسکو کھولتے ہوئے اپنا لوڑا اسکی چوت میں ڈالنے لگا۔۔۔ ہما کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے درد کے مارے ۔۔۔ مگر اسکی چوت تو جیسے ایسے ہی دھکوں کی اور ایسے ہی لوڑے کی منتظر تھی ۔۔۔ جس نے ایک بار پھر سے اپنا پانی چھوڑ دیا تھا ۔۔ رشید نے ہما کی گانڈ کے دونوں چوتڑوں کو کھولا ہوا تھا ۔۔ اور ہما کی گانڈ کا ہلکے براؤن رنگ کا سوراخ رشید کی آنکھوں کو سامنے تھا۔۔۔ رشید سے برداشت نہیں ہوا تو اس نے تھوڑا سا جھک کر ہما کی گانڈ کے سوراخ پر تھوک دیا۔۔ اور اپنے انگوٹھے سے تھوک کو ہما کی گانڈ کے سوراخ پر ملنے لگا۔۔ جیسے ہی ہما کی گانڈ کو سوراخ کو رشید نے سہلایا تو ہما کو ایک الگ سا ہی مزہ آٰیا۔۔ رشید نے تھوڑا سا دباؤ بڑھایا۔۔۔ تو رشید کو انگوٹھا ہما کی گانڈ میں اتر گیا۔۔ صرف اگلا حصہ ہی ۔۔ ہما کی درد کے مارے ایک اور چیخ نکل گئی ۔۔ رشید نے اپنے لوڑے کو ہما کی چوت میں اندر باہر کرتے ہوئے اپنا انگوٹھا اسکی گانڈ کے اندر ہی گھمانا شروع کردیا۔۔ ہما کی حالت عجیب ہونے لگی ۔۔۔ ایسا کسی نے بھی اسکے ساتھ پہلی بار کیا تھا ۔۔ پہلی بار کچھ اسکی گانڈ کے تنگ اور کنوارے سوراخ کے اندر گیا تھا ۔۔ جس کی وجہ سے اسکی گانڈ میں درد ہونے لگا تھا ۔۔ ۔ مگرا س سے مزہ بھی اسے آیا تھا۔۔ رشید کا لوڑا اسکی چوت کے اندر باہر بھی ہو رہا تھا ۔۔ جو اسکی چوت کے پانی کی وجہ سے اور بھی چکنی ہو رہی تھی ۔۔ ہما نے اپنی گانڈ کو تھوڑا اوپر کو اٹھا دیا۔۔ تاکہ اسکی گانڈ کا درد کچھ کم ہو ۔۔ اور اس کا لوڑا پورے کا پورا اسکی چوت کے اندر اتر سکے ۔۔ ۔۔ تھوڑی دیر کے بعد آخر رشید بھی اپنی منزل کو پہنچ گیا۔۔۔ اور اسکے لوڑے نے بھی اپنا پانی ہما کی چوت میں اُگل دیا۔۔ رشید کے لوڑے سے منی کا فوارہ ہما کی چوت کے اندر چھوٹ رہا تھا ۔ ۔۔ گرم گرم منی کی گرمی سے اسکی چوت نے ایک بار پھر سے پانی چھوڑ دیا۔۔ تین چار بار کے پانی چھوڑنے اور رشید کی بے درد اور وحشیانہ چدائی کی وجہ سے ہما تو جیسے بے ہوش ہی ہو چکی تھی ۔۔۔ اس میں اُٹھنے یا سیدھا ہونے کی کوئی سکت باقی نہیں رہی تھی ۔۔ رشید نے اپن لوڑا ہما کی چوت سے نکالا تو اس پر تھوڑا خون لگا ہوا تھا ۔۔ ہما اوندھی ہی لیٹی ہوئی تھی ۔۔ بے ہوش۔ ۔ ۔ اپنے لوڑے پر ہما کی چوت کا خون اور ہما کو نڈھال اور نیم بے ہوش دیکھ کر رشید تھوڑا ڈر گیا۔۔۔ اس نے جلدی جلدی اپنے کپڑے پہنے اور ہما کے فلیٹ سے نکل گیا۔۔۔ جانے سے پہلے اس نے یہ تسلی ضرور کر لی تھی کہ ہما کی سانسیں چل رہی ہیں ۔۔
 
 کوئی دو گھنٹے کی نیم بے ہوشی کی نیند کے بعد ہما کی آنکھ کھلی تو اس نے اٹھنے کی کوشش کی ۔۔ مگر درد کی ایک لہر اسکی چوت سے شروع ہو کر پورے جسم میں پھیل گئی ۔۔ بے اختیار اسکا ہاتھ اپنی چوت پر چلا گیا ۔۔۔ اس نے اپنی چوت کو آہستہ آہستہ دبایا۔۔۔ تو کچھ سکون ملا۔۔۔ پھروہ سیدھی ہو کر اٹھی ۔۔ اپنے ہاتھ پر نظر پڑی تو اس پر خون لگا ہوا تھا ۔۔۔ ہما چونک پڑی ۔۔ فوراََ ہی بیڈ پر دیکھا تو جہاں وہ لیٹی ہوئی تھی وہاں بھی خون کا نشان پڑا ہوا تھا ۔۔۔ ہما گھبرا گئی ۔۔۔ فوراََ باتھ روم میں گئی ۔۔ اور اپنی چوت کو دھونے لگی ۔۔۔ اچھے سے اندر اور باہر سے دھوکر وہ باہر آئی اور اپنی چوت کے خون سے گندی ہو رہی ہوئی بیڈ شیٹ کو اُٹھا کر کمرے سے باہر آگئی ۔۔۔ اسے لانڈری میں واشنگ مشین میں ڈال کربیڈ روم میں واپس آگئی ۔۔ دوبارہ باتھ روم میں جا کر باتھ ٹب کو نیم گرم پانی سے بھرا اور اسکے اندر بیٹھ گئی ۔۔ اپنی چوت کی ٹکور کرنے کے لیے ۔۔ گرم پانی میں بیٹھ کر اسکو اپنی چوت کے درد میں کمی کا احساس ہوا۔۔ گرم پانی کے ٹب میں بیٹھ کر ٹب کی بیک سے اپنا سر ٹکا کر وہ کچھ دیر پہلے گذرے ہوئے لمحات کو یاد کرنے لگی ۔۔ کبھی اسکو اس سب پر غصہ بھی آتا اور خود پر شرم بھی آتی ۔۔ مگر جو مزہ آج رشید کی وحشیانہ چدائی کی وجہ سے آٰیا تھا وہ اسے نہ کبھی انور کے ساتھ آیا اور نہ ہی زمان کے ساتھ ۔۔ کیوں کہ آج تک ان دونوں نے اسے بہت ہی پیار کے ساتھ چودا تھا ۔۔ مگر رشید نے تو بلکل ہی جانور بن کر اسکی چوت کی چدائی کی تھی ۔۔ اور وہ بھی اتنی کہ اسکی چوت سے خون نکل آیا تھا ۔۔ اور اب گرم پانی کی ٹکور سےاسے تھوڑا سکون ملنے لگا۔۔۔
 
 کچھ دیر نہانے کے بعد ہما نے کپڑے پہن لیے ۔۔۔ اس نے نے ایک سفید رنگ کی لیگی اور شرٹ پہن لی جسکے سامنے بٹن لگے ہوئے تھے ۔۔ شرٹ اسکی ہاف تھائیز تک تھی ۔۔ اور سائیڈوں سے چاک بھی کھلے تھے ۔۔ جسکی وجہ سے ہما کی سڈول ٹانگیں اور رانوں اور گانڈ کے کٹاؤ صاف نظر آرہے تھے ۔۔ اور بہت ہی سیکسی لگ رہے تھے ۔۔ سفید لیگی اسکی گانڈ سے لے کر نیچے اسکی ٹانگوں تک اسکے جسم کے ساتھ چپکی ہوئی تھی ۔۔۔ 8 بجے کے قریب بیل ہوئی تو ہما نے دروازہ کھولا ۔۔۔ انور آیا تھا ۔۔۔ اور اسکے ساتھ اسکا دوست یاسر بھی تھا ۔۔۔ دونوں اندر آگئے ۔۔ یاسر نے ہما کو ایسے سیکسی لباس میں دیکھا تو اسکی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔ ۔ ہما نے بھی اسکی نظروں کو محسو س کر لیا۔۔ اور دل ہی دل میں مسکرا دی۔ ۔۔ ہما نے دونوں کو چائے لا کر دی تو بھی یاسر ہما کے کھلے گلے میں جھانکنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔ اسکے مموں کا نظارہ کرنے کے لیے ۔۔۔ اور اسکو ایک جھلک ملی بھی ۔۔۔ ہما کو بھی ہمیشہ سے احساس تھا کہ یاسر اسکے لیے غلط خیالات رکھتا ہے ۔۔۔ مگر اس نے کبھی بھی اسکی حوصلہ افزائی نہیں کی تھی ۔۔۔ آخر وہ انور کا دوست تھا ۔۔۔ تو وہ ایسے اپنی ازدواجی زندگی کو خراب نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔ آج بھی ہما کو یاسر کی نظریں ۔۔ یاسر کی بھوکی نظریں اپنے جسم پر محسوس ہو رہی تھیں مگر وہ آج بھی اسے نظر انداز کر رہی تھی ۔۔۔ لیکن یہ بھی تھا کہ ہما کو یاسر کو ٹیز کر کے ۔۔ تڑ پا کے مزہ آتا تھا ۔۔۔ اس لیے وہ ہمیشہ اسکو ستاتی رہتی تھی ۔۔ مگر اس انداز میں کہ اسکو کبھی ایسا نہ لگے کہ وہ جان بوجھ کر اسکو اپنے جسم کا نظارہ کروارہی ہے ۔۔

 

Share this post


Link to post

 

قسط نمبر ٦

 
 دونوں کو چائے دے کر ہما بھی انکے سامنے ہی بیٹھ گئی۔ ۔ کچھ اس انداز میں کے اپنی ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر اس طرح رکھا کہ اسکی پوری کی پوری ران اور ٹانگ اور گانڈ یاسر کی نظروں کے سامنے آگئے ۔۔ ہما بولی ۔۔ یہ آپ دونوں آج صبح سے کہاں نکلے ہوئے ہو ۔۔۔؟؟؟
 
 انور ۔۔ ارے یار ۔۔ وہ شمع بھابھی اپنے میکے گئی ہوئی ہیں نا تو بس ادھر ادھر گھومنے نکل گئے ہم ۔۔
 
 ہما مسکرائی ۔۔ اچھا تو شمع بھابی کے جانے کے بعد عیاشی کی جارہی ہے ۔۔ آنے دیں یاسر بھائی شمع کو میں انکو سب بتاؤں گی ۔۔۔
 
 یاسر ہما کے مموں اور اسکی ٹائٹ لیگی میں اسکی رانوں کو دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔ ارے بھابی جی ۔۔ سب کچھ نہ بتائیے گا پلیز۔۔۔ وہ تو میرا حشر کر دے گی ۔۔
 
 ہما اسکی نظروں اور اسکی بات کو سمجھ گئی ۔۔۔ کہ اسکا اشارہ کس طرف ہے ۔۔ یاسر کی طرف دیکھتی ہوئی ایک ادا سے بولی ۔۔ اتنا ہی ڈرتے ہیں شمع بھابی سے تو پھر ایسی حرکتیں نہ کیا کریں نا
 
 یاسر ہما کی طرف دیکھ کر آنکھ مارتے ہوئے بولا ۔۔۔ بس کیا کریں بھابی جی ۔۔ رہا بھی تو نہیں جاتا نا تھوڑی عیاشی کرنے سے ۔۔ کیوں انور ۔۔
 یاسر کی بات پر انور بھی ہنسنے لگا۔۔۔ اور وہ بھی ان دونوں کے ساتھ ہی ملکر ہنس پڑی ۔۔ قریب ایک گھنٹہ بیٹھنے اور ہما کے جسم کے نظارے کرنے کے بعد یاسر اپنے گھر چلا گیا۔۔۔
 
 10 بجے ہما انور کے ساتھ ہاسپٹل کے لیے روانہ ہو گئی ۔۔ آج اسکا ہاسپٹل جانے کا ارادہ تو نہیں ہو رہا تھا ۔۔ مگر آج ڈاکٹر زمان کی بھی چھٹی تھی تو اس لیے اسکا جانا ضروری تھا ۔۔ ہاسپٹل میں جا کر وہ زیب سے ملی اور پھر مریضوں کو چیک کرنے کے بعد اپنے آفس میں بیٹھ گئی ۔۔
 
 تھوڑی دیر کے بعد ۔۔ قریب 11:30 بجے اسکے آفس کے دروازے پر دستک ہوئی تو ہما نے اندر آنے کی اجازت دی ۔۔ دروازہ کھلا اور رشید ہاتھ میں چائے کا کپ لے کر داخل ہوا ۔۔ اور دروازہ بند کر دیا۔۔ جیسے ہی ہما کی نظر رشید پر پڑی تو ہما کو غصہ آگیا۔۔ اور وہ غصے سے ہی اسکی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔ جبکہ رشید زیرِ لب مسکرا رہا تھا ۔۔۔
 
 رشید۔۔ میڈم چائے ۔۔۔
 
 ہما ۔۔۔ میں نے منگوائی ہے کیا تم سے چائے ۔۔ جو لے آئے ہو تم ۔۔
 
 رشید مسکرایا۔۔۔ میڈم جی لگتا ہے کہ آپ ناراض ہیں میرے سے ۔۔
 
 ہما ۔۔ کیوں تم کو میری ناراضگی کی فکر کب سے ہونے لگی ۔۔۔
 
 رشید۔۔ نہیں ۔۔ نہیں ۔۔ میڈم جی ۔۔ ایسی تو کوئی بات نہیں ۔۔۔ مجھے تو ہر وقت آُپکی ناراضگی کی فکر ہوتی ہے ۔۔
 
 ہما غصے سے بولی ۔۔ میری ناراضگی کا تمکو اتنا ہی خیال ہوتا تو میری وہ حالت کرتے کیا ۔۔۔ کتنا روکا تھا میں نے تم کو ۔۔۔ مگر تم ۔۔۔ تم تو ہو ہی جانور۔۔۔
 
 رشید دھیرے سے مسکرایا۔۔۔ میڈم جی کیا ابھی بھی درد ہے آپکو ۔۔۔
 
 ہما ۔۔۔ تمکو کیا اس سے ۔۔۔ تم تو اپنی طرف سے مجھے مار ہی آئے تھے نا ۔۔۔ میری جان نکال ہی آئے تھے ۔۔۔
 
 رشید۔۔ سوری میڈم جی ۔۔۔ بس آپ کو اپنے نیچے پا کر مجھے ہوش ہی نہیں رہا۔۔ اس لیے اس انداز میں آپکو چودا۔۔ آئندہ خود پر کنٹرول رکھوں گا آپکو چودتے ہوئے ۔۔
 یہ کہتے ہوئے رشید نے ہما کے قریب آکر ہما کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔
 
 ہما نے اپنا ہاتھ اس سے چُھڑوانے کی کوشش کی۔۔۔ اور بولی ۔۔ خبردار آئندہ کبھی میرے قریب آنے کی کوشش کی تو ۔۔
 
 رشید نے مسکراتے ہوئے ہما کے ہاتھ کو ایک جھٹکا دیااور اسے اپنی طرف کھینچ کر اپنی بانہوں میں بھرتے ہوئے بولا ۔۔ ارے میڈم جی ۔۔ آپ جیسی خوبصورت حسینہ کو ایک بار چودنے کے بعد کون کافر آپ سے دور رہ سکتا ہے ۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے رشید نے ایک ہاتھ سے ہما کی گانڈ بھی دبا دی ۔۔۔ ہما خود کو اس سے چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔
 
 ہما ۔۔۔ چھوڑ دو مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کمینے ۔۔۔۔۔۔۔ کوئی آجائے گا۔۔۔
 
 رشید۔۔ نہیں چھوڑوں گا۔۔ آنے دو جو بھی آتا ہے ۔۔۔
 
 ہما ۔۔۔ پلیز رشید چھوڑ دو مجھ کو ۔۔۔
 
 رشید مسکراتے ہوئے اسکی گانڈ کے ایک حصے کو دباتے ہوئے بولا ۔۔۔ چھوڑ دوں گا ۔۔ مگر میری پہلے ایک بار اپنے ان پیارے پیارے ہونٹوں کی شراب پی لینے دو۔۔
 
 ہما رشید کے اسطرح اپنی تعریف کرنے پر جھینپ گئی ۔۔۔ نہیں مجھے نہیں کرنا کوئی کس وس تم کو ۔۔ دور ہٹو میرے سے ۔۔
 
 رشید نے ہما کو زور سے اپنے سینے سے لگایا۔۔ آپ کو نہ سہی مجھے تو کس کرنا ہی ہے نا میڈم جی ۔۔ یہ کہتے ہوئے رشید نے اپنے ہونٹ ہما کے ہونٹوں پر رکھ دیئے ۔۔ اور اسکو چومنے لگا۔۔ اسکے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لیا اور انکو چوسنے لگا۔۔۔ اپنی زبان سے اسکے گلابی ہونٹوں کو گیلا کرتا ہوا اسے چوس رہا تھا ۔۔ اور ساتھ ہی ساتھ اسکی گانڈ کو دبا رہا تھا ۔۔۔ ہما نے تھوڑی دیر تو اِدھر اُدھر سر مارتے ہوئے اپنا منہ اسکے منہ سے چھڑوانے کی پوری کوشش کی ۔۔۔ مگر آخر کار اسکی مزاحمت بھی ختم ہو گئی ۔۔۔ اور اس نے رشید سے جان چھڑوانے کے لیے اسے ایک بار کس کرنے کی اجازت دے دی ۔۔۔ تھوڑی دیر بعد رشید نے ہما کو چھوڑا تو ہما نے اسکے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اسے دھکا دیا۔۔ چلو جاؤ اب دفع ہو جاؤ یہاں سے ۔۔
 
 رشیدمسکرایا۔۔۔ ٹھیک ہے میڈم جی ۔۔ جاتا ہوں میں ۔۔۔ مگر میرا دل نہیں بھرا ابھی ۔۔۔
 
 ہما غصے سے ۔۔ تمھارا دل تو کبھی بھی نہیں بھرتا کمینے ۔۔۔ نکلو یہاں سے ۔۔۔
 
 اور رشید مسکراتا ہوا ہما کے آفس سے چلا گیا۔۔۔ رات کو رشید سے بچنے کے لیے ہما نے زیب کو اپنے ساتھ ہی کمرے میں سلایا۔۔ اور بیچارے رشیدکو مٹھ مارکر ہی گذارہ کرنا پڑا۔۔
 
 ہما ایسے ہی دن گذارنے لگی ۔۔ جب موقع ملتا تو وہ زمان کے ساتھ ٹائم بیتا لیتی۔۔۔ اور رشید سے ہر ممکن بچنے کی کوشش کرتی ۔۔۔ لیکن کبھی کبھی ایسی صورتحال بن جاتی کہ اسے رشید کے آگے ہتھیار ڈالنے ہی پڑتے ۔۔ لیکن تب بھی اسے کوئی خاص برا نہ لگتا ۔۔ کیوں کہ اسے رشید کے ساتھ کچھ الگ سا مزہ آتا تھا ۔۔ ہما نے ان دونوں کو اس بات کے لیے تیار کر لیا ہوا تھا کہ وہ کبھی بھی اسکی ذاتی زندگی کو خراب نہیں کریں گے ۔۔۔ اور جب تک ہو سکے گا وہ یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔۔
  ہما گھر پہنچ تو گئی کسی نہ کسی طرح مگر اس کی حالت خراب ہو رہی تھی ۔۔ آخر اپنی زندگی میں پہلی بار وہ ایک ہی وقت میں دو مردوں سے چدئی تھی ۔۔ جنہوں نے ایک ہی وقت میں اسکی چوت اور گانڈ میں اپنے اپنے لوڑے ڈالے تھے ۔۔ مگر ایک لذت کا احساس بھی تھا کہ وہ اپنے پسندیدہ مردوں سے چُدی ہی ۔ ۔ اسکی گانڈ میں بہت درد ہو رہا تھا ۔۔ اس وقت تو وہ لذت میں اور جسم کی گرمی میں سارا درد برداشت کر گئی تھی مگر اب اسے اپنی گانڈ جیسے پھٹی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔۔ آج سے پہلے اس نے یہ ڈبل کا سین صرف بلیو فلموں میں ہی دیکھا تھا ۔۔ اور سوچتی تھی کہ کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی عورت ایک ہی وقت میں دو دو مردوں کے لن اپنے اندر لے سکے ۔۔ مگر آج اسے یقین ہوگیا تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے کیونکہ آج وہ خود یہ کام کر کے آئی تھی ۔۔ اپنے درد کو کم کرنے کے لیے ہما نے گرم پانی کے ٹب میں بیٹھ کر آج پھر اس نے اپنی چوت اور گانڈ کی ٹکور کی ۔۔ اور اپنی چوت کو سہلاتے ہوئے کچھ دیر پہلے ہوئے تما م واقعہ کو یاد کرنے لگی ۔۔۔ پھر نہا کر باہر آئی اور ننگی ہی بیڈ پر لیٹ کر سو گئی ۔۔
 
 سو کر اُٹھنے کے بعد کی وہی روٹین تھی ۔۔ انور کے آنے کے بعد کھانا کھایا دونوں نے ۔۔ اور ادھر اُدھر کی بات چیت میں ٹائم گزرتا گیا ا ور اسکی ڈیوٹی کا وقت ہو گیا۔۔ انور اسے لے کر ہاسپٹل آگیا چھوڑنے کے لیے ۔۔ ہما کار سے اُتری اور ہاسپٹل میں داخل ہو گئی ۔۔ انور نے گاڑی واپس موڑی اور واپس جانے لگا تو ہاسپٹل کے ساتھ ہی فٹ پاتھ پر کھڑی ہوئی ایک لڑکی پر اسکی نظر پڑی ۔۔ جس نے نقاب کیا ہوا تھا ۔۔ انور کو وہ لڑکی کچھ جانی پہچانی سی لگی ۔۔ وہ بھی انور کی طرف ہی دیکھ رہی تھی ۔۔ انور نے اسکے قریب گاڑی آہستہ کی تو اسے پتہ چلا کہ یہ لڑکی تو نرس زیب ہے۔۔ انور نے گاڑی اسکے پاس روک دی ۔۔ زیب نے انور کو دیکھا تو گاڑی کے پاس آگئی ۔۔ انور نے اسکو گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔ زیب نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اندر بیٹھ گئی ۔۔ اپنے چہرے پر سے نقاب ہٹایا اور مسکرا کر انور کو دیکھنے لگی ۔۔

 

Share this post


Link to post

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×
×
  • Create New...