Jump to content
URDU FUN CLUB

Recommended Posts

 

دوستو! یہ میری اپنی کاوش ہے اگر آپ سب لوگوں کو لگے کہ مجھے لکھنا چاہیے تو میں آگے لکھوں گا یہ کہانی کچھ مرچ مصالحہ لگا کے پیش کرنے کی کوشش کروں گا لیکن زیادہ تر واقعات میری زاتی زندگی سے ہیں بس کچھ ردوبدل کر کے پیش کرنے کی کوشش ہے 

 

میرا تعلق ساہیوال کے ایک گاؤں سے ہے میرا والد گورنمنٹ ملازم تھے۔ہم 3بھائی اور ایک بہن ہیں۔یہ کہانی 90کی دہائی سے شروع ہوتی ہے اس وقت تک ہمارے گاؤں میں بجلی بھی نہیں آئی تھی میں گھر میں سب چھوٹا تھا اور ایک شرارتی قسم کا بچہ تھا۔خیر بات کہیں اور نکل جائے گی۔کہانی کی طرف آتے ہیں۔ہمارا گھر گاوں کے معزز گھرانوں میں شامل ہوتا تھا میرے دادا کا کافی دبدبہ تھا 

جب میری عمر 10سال تھی تو مجھے کچھ سیکس واقعات دیکھنے کو ملے جن سے میرے اندر سیکس کی خواہش پیدا ہونا شروع ہو گئی۔ معزرت میں اپنا تعارف کروانا بھول گیا تو دوستو میرا نام بلو ہے میرے بڑھے بھائی کا نام بوٹا اور اس سے چھوٹے کانام ھاشم اور بہن کا نام رجو ہے نام بدلے گئے ہیں۔

خیر جب میری عمر 8سال تھی اور میں تیسری کلاس میں پڑھتا تھا تو ہم سب کزن اور آس پڑوس کے لڑکے اور لڑکیاں خوب کھیلا کرتے تھے۔ہمارا گھر گاوں ے ایک کونے میں تھا گھر کے ساتھ 2 ایکڑ کماد ہوا کرتا تھا جو لوگ کماد کی فصل کے بارے میں جانتے ہیں ان کو پتہ ہوگا یہ پورے سال می فصل ہوتی ہے۔ تو ہم لکن میٹی کھیلتے ہوے اکثر کماد میں چھپ جایا کرتے تھے۔ایسے ہی ایک دن میں اور ہمارے گوانڈیوں کی کڑی ناہید جو کہ ہماری رستہ دار بھی تھی ہم میں کافی دوستی تھی۔ہم اکثر ایک ساتھ چھپا کرتے تھے۔ ہم اس دن بھی چھپنے کے لیے کماد میں داخل ہوئے اور آگے چلتے گئے ابھی ہم تھڑا ہی آگے گئے تھے کہ ہمیں عجیب سی آوازیں آنے لگیں۔ ہم ڈرتے ڈرتے آگے بڑھے لیکن ناہید تو ڈر کی وجہ سے کانپ رہی تھی اس نے سرگوشی میں کہا کہ بلو مینوں بہت ڈر لگدا پیا ای ایتھے باہرلا(سور) ہونا اے آپاں چلیے میں نے اس کو چپ رہنے کا کہا اور ہاتھ کھینچ کے آگے لے کر جانے لگا۔وہ ڈرتے آگے بڑھی۔ کچھ آوازیں واضح آنے لگیں تو ہم نے غور کیا تو ایسا لگا جیسے کوئی رو رہا ہے۔ہم ٹھٹک کے رک گئے کچھ دیر آواز کی سمت کا تعین کرنے کے بعد پھر دبے پاؤں آگے بڑھنے لگے۔ تو آوازیں کچھ واضح ہونے لگیں جیسے کوئی سسک رہا ہے آہ آہ آہ آہ اوئی ہولی کر وغیرہ ہم لھر ہمت کی اور تھڑا سا آگے کھسک ک دیکھا تو ہماری کمیوں کی ایک جوان اور سیکسی جسم کی مالک لڑکی عاصمہ فل ننگی لیٹی ہوئی ہے اور اس کی 38 سائز کے غبارے جو دودھ سے زیادہ سفید ایسے جیسے ان میں کسی ہوا بھر کے بانھ دیا ہو اور اوپر اڑنے کی کوشش میں دائیں بائیں ہل رہے تھے اور چٹے سفید مموں کے اوپر ان کا گارڈ بڑی شان بےنیازی سے گلابی وردی پہنے بیٹھا تھا۔اور ایک مرد جس کی ہماری طرف کمر تھی اس نے عاصمہ کی ٹانگیں اٹھائی ہوئی تھیں اور ان کے بیچ میں زور زور سے گھسے مار رھا تھا ننگے ممے دیکھ کے اور گھسوں می سپیڈ کی وجہ سے ہمیں سمجھ نہیں آ رھی تھی کہ یہ سب کیا چل رہا ہے۔میں ناہید کے پیچھے کھڑا تھا اور جھک کے دیکھنے کی کوشش میں میرا اگلا حصہ ناہید کی بنڈ سے لگا ہوا تھا کم اتنے محو تھے یہ سب کاروائی دیکھنے میں کہ یہ بھول گئے کہ ہمیں اگر انہوں دیکھ لیا تو کیا ھوگا۔ اچانک عاصمہ کی آواز میں تیز ہو گیئیں وہ عجیب و غریب آوازیں نکالنے لگ گئی ااااااآاااآہہہہااااکککککاااا ہو زور دی ہورررررررر زووووووورررعع دی پاڑ دے میرا اندر ہاں میییییںںںں گئی اور یکدم اچھلی تو اس کے 38 سائز کے مسمیوں نے بھی قلابازیاں کھانی شروع کر دیں کچھ دیر جھٹکے کھانے کے بعد وہ رک گئی تو اس آدمی نے اس کو کو گھمایا جس سے اس کا رخ بدل گیا اب عاصمہ کتیا کی طرع گوڈے مودھے مارکر جھک گئی پیچھے سے اس آدمی نے جیسے ہی لن ھاتھ میں لکڑ کے ڈالنے کے لیے آگے کیا تو ہم دونوں کی نظر میں لن آیا اتنا بڑھا ناہید کے منہ سے ہائے نکل گئی اگر میں اس کے منہ ہاتھ رکھ کے اس کا منہ بند نہ کرتا تو شاید اس کی آواز ان تک پہنچ جاتی میرا منہ بھی حیرت سے کھل گیا۔ لیکن جب اس نے ایک جھٹکےسے اندر ڈالا تو افففففففففف نہ پوچھو کیا مزہ آیا یہ سب دیکھ میری چھوٹی سی للی بھی کھڑی ہو گئ اور ناہید کی گانڈ کی دراڈ میں گھس گئی۔ادھر وہ گھسے مارنا سٹارٹ ہوا ادھر مجگے پتہ نہیں کیا۔ ھوا جیسے اس نے عاصمہ کی گانڈ کو پکڑ رکھا تھا ویسے میں نے بھی ناہید کی گانڈ کو ساہیڈوں سے پکڑ کے گھسے مارنے شروع کر دیے واہا ں عاصمہ کی آہیں آنا شروع ہو گئئں جب ایک لمبا موٹا کالا ناگ پیچھے سے پھدی میں گھستا تھا تو عاصمی کی اوئی مااااااممممااںںں کی آواز آتی لیکن وہ ظالم مرد لگا تا ر گھسے پے گھسا مار رہا تھا ادھر میں بھی لگا ہوا تھا انجانے میں ناہید نے بھی گانڈ میرے ساتھ مزید چپکا لی تھی۔یکدم اس آدمی نے عاصمہ کو اس کی گانڈ سے پکڑ کے گھمایا اور جیسے ہی وہ خود نیچے لیٹنے کے لی عاصمہ کی جگہ آیا تو ہم دونوں کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا کینک وہ کوئی اور نہیں بلکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ میرا بڑھا بھائی تھا جو عاصمہ کی پھدی کا بھرتا بنا رہا تھا میرے تو ٹٹے شاٹ ہو گئے میں جلدی سے ناہید کا بازو کھینچتے ہوے اس کو واپس لے آیا اور باہر نکل آئے جہاں ہمیں ڈھونڈنے والے بچے تھک ہار کر بیٹھے جیسے ہی ہم باہر نکلے تو سب حیران ہوئے اور پوچھنے لگے کہ ہم کیا کرتے رہے میں جلدی سے بولا تم لوگوں ڈہونڈے نہیں گئے تو اب یہ کیسی باتیں کرتے ہو ایک لڑکی تھی چھنو تھی تو وہ بھی ہماری رشتہ دار لیکن اس عمر میں بھی بہت بڑھی توپ تھی وہ مجھے عجیب نظروں سے دیکھتی رہی میں پریشان ہو اور اس سے پوچھا انج اکھا ں پاڑ پاڑ کے کی ویکھی جانی ایں میرے منہ تے کی لگا اے وہ بولی میں سب سمجھنی آں تسی کی کر دے رے او میری تو شلوار گیلی ہونے والی ہو گئی اے سالی نے کدھرے بھا بوٹے نوں تا ں نئیں ویکھ آئی بڑی کتی چیز اے میں وی کچا نہیں سی بولیا نی مطبل تیرا کی کر دے رہے آں اسی اپنا منہ سمبھا کے بول وہ کم نہیں سی تو اپنا بوتھا ویکھیا ای چوہا جیا آ نی ناہید آپاں چلیے آپاں نہیں اینا نال کھیڈنا اے تاں ہیگے ای بتمیز نیں گل کرن دی تمیز نہیں ایناں لیکن ناہید بولی نہیں میں نے ابھی کھیلنا ہے تو جا آگے سے چھنو نے جواب دیا مینوں پتہ تو کی کھیلنا اے میں نے جواب دیا چل بھج جا ایتھوں باندریے جئیے بھج جا ناہید بھی شیر یو گئی وہ بھی بولنے لگ گئی جا جا کر اپنا کم کر 

اسی طرح لڑتے جھگڑتے شام ہو گئی اور ہم اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے ۔۔۔

لیکن شام کو جب بھا بوٹا گھر آیا تو میں اس کی طرف غور سے دیکھنے لگا۔

بھا نے مجھے دیکھ کر کہا کی ویکھی جانا ایں مینے شرمندہ ہو کر کہا کچھ نہیں اس کے بعد کھانا کھایا اور پھر ہم کھیلنے کے لیے ویڑ ے میں اکثھے ہو گئے ہمارا ویڑا بھت بڑا تھا اصل میرے دادا لوگ تین بھائی تھے تینو۔ کر گھروں کے درمیان کوئی دیوار نہیں تھی مطلب کہ ایک ہی صحن تھا کوئی ایک ایکڑ میں تینوں بھائیوں کے گھر تھے۔ناہید بھی آ گئی ہم پھر کھیلنے لگ گئے جب چھپنے کی باری آئی تو میں نے نائید کو اشارہ کیا وہ میرے پاس آ کر بول ہوں کی گل اے میں نے کہا آپاں دونویں اکٹھے چھپاں گے وہ بولی پراں مر مینوں سب پتا اے تو کیوں میرے نال چھپن دی گھل کرنا پیا ایں میں نے کی مظلب تو وی آودے بھرا طراں کریں گا میرے نال جیویں او عاصمی باجی نوں ۔۔۔۔ یہ کہیتے ہوئے وس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔ اور جانے لگی میں اس کھیچا اور ایک طرف چل پڑا کیوں سب چھپ گئے تھے صرف ہم دو ہی رہ گئے تھے جلدی جلدی ہم گھر می بیک سائیڈ ہر گئے جہاں بھینسوں کا باڑہ تھا اور اس سے پہلے چھوٹی دیوار جس ساتھ گندم رکھنے کے لیے بڑولے یعنی دیسی گودام بنے ہوے تھے ہم وہاں پہنچے تو ناہید نے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور بولی دور جا کر چھپ میرے نیڑےنا آئیں میں شرمندہ سا ہو گیا اصل میں میرا ارادہ اس کی نرم ملائم گانڈ کے ساتھ کھیلنے کا تھا دن میں جب میں نے اس کی گانڈ میں اپنی للی رگڑی تھی تو بہت مزہ آیا تھا اب۔ بھی یہ ارادہ لیکن اس سالی کو پتہ نہیں کیا ہوا کہ دور دور ہو گئی میں پھر بھی اس کے قریب کوا اسی وقت جس بچے سر باری تھی اسکی آواز قریب سے آئی تو ناہید جلدی سے میرے پاس ہی آ گئ اور میرے آگے کھڑی ہو کر جھک کر سامنے دیکھنے کی کوشش کر نے لگی چونکہ گاوں میں بجلی نہیں ہوتی تھی چاند کی روسنی ہوتی تھی یا دیوا یا لالٹین سے روشنی کرتے تھےچاند کی روشنی میں نے اس کی بنڈ کے ابھار کو دیکھا تو میری للی ایک بار پھر کھڑی ہو گئی اور میں نے اس کی گانڈ کی پھاڑیوں کو پکڑ لیا افففففففففف کیا مزہ آیا اتنی نرم بنڈ کہ میں  میرا دل کیا اس بنڈ کو چوم لوں لیکن میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ ناہید کی گانڈ کو چوم لوں اچانک اس نے گھوم کے میری طرف دیکھا اور بولی پچھاں ہو کہ کھڑ میں شرمندہ ہو گیا ۔میں بھی کہاں بماپنے ارادے سے باز آنے والا تھا چاہے چھوٹی عمر تھی پر دل تو تھا نہ ایک سین نے میرے اندر ہلچل مچا رکھی تھی میرا بھی بھا کی طرح زور زور سے گھسے مارنے کا دل کر رہا تھا اور تو کچھ ہو نہیں سکتا تھا کیونکہ ناہید کو شک ہو گیا تھا یا کوئی اور بات تھی جو اس نے مجھے لتاڑ دیا اچانک میرے اندر جے شیطان نے مجھے اکسایا بلو پت کجھ کر یہ بھت اچھ موقع کے میں آہستہ آواز میں ناہید کو بلایا جو جھک کر آگگ دیکھ تہی تھی کہ اپنی باری دینا والا میرا کزن بالو ادھر تو نہیں آرھا دوستو بالو میرے چاچے کا بیٹا ہے عمر میں مجھ سے کوئی 2 سال بڑھا لیکن جسامت میں 4گنا تھا ۔

ناہید نے میری بات کا جواب نہ دیا ایسا شو کرایا جیسے اس سنا ہی نہ ہو میں ایک بار پھر آہستہ سے پکارا نہیدی گل سن اس نے کھر جواب نہ دیا تو میں نے آگے بڑھ کر اس کی پتلی کمر کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا کیا بتاؤں کیسا احساس تھا ایسا لگا جیسے میں نے کسی روئی کی کو چھو لیا ہو اتنا نرم وملائم کمر کہ لگا جیسے پانی میں ہاتھ ڈال لیا نیم گرم پانی جس میں شیمپو کی ملاوٹ ہو میرے ہاتھ پھسل رہے تھے دل کیا کہ یہ وقت یہاں ہی رک جائے یہ بس کچھ لمحات کے کیے تھا اس چڑیل نے ڑصے سے میری طرف کر کہا کی اے تینوں بندہ بن کے کھڑ جا میں نے بھی فوری جواب دیا میں می کیتا تینوں کنیاں آوازاں دتیا تو سنیا ای نہیں تو اس نے بول کی گل اے میں نے اپنا منہ اس کے کان کے پاس کیا اور سرگوشی میں بولا آپاں وہ اوہ کھیڈ کھڈیے تو اس نے جواب دیا کونسی میں نے جلدی سے کہا وہی جو بھا اور عاصمہ کھیل رہے تھے اس نے غصے سے مجھے دیکھا اور مجھے دھکا دے کر چلی گئی جیسے ہی وہ باہر گئی۔ بالونے اس کو کاتھ لگایا اور ناکید کی باری آ گئی سب باہر نکل آئے اسی وقت میری دشمن چھنو بھی مٹکتی ہوئی آ پہنچی اس ںے بھی کھیل میں حصہ لینا ہے بولی اب مان گئے ناہید کو ہم نے کہا کہ جا و اس دروازت کو ہاتھ لگا کر آو دوستو بتاتا چلوں کہ کمارے دادا لوگ 3بھائی تھے گھر الگ الگ تھے درمیان میں کوئی دیوار نہیں تھی لیکن دروازے الگ الگ تھے یعنی کہ اگر اگر ایک طرف سے میں داخل ہوں تو دوسری طرف ایک ایکڑ پر تیسرا دروازہ تھا ہمارہ گھر پہلے اس کے بعد میرے دادا کے دوسرے دونں بھائیوں کا گھر تھا کم نے ناہید تیسرے دروازے کو ہاتھ لگانے کو کہا ہم سب چھپنے کے لیے بھاگ کھڑے ہوے سب نے اپنی مرضی کی جگہ پسند کی میں اپنے گھر کی بیک سائیڈ پر گیا جدھر بھینسوں کا بڑا سا کمرہ تھا جو کہ گرمیوں میں رات جو خالی ہوتا تھا دن میں بھینسیں باندھی جاتی تھیں اس میں گھس گیا کہوں کہ وہاں اندھیرا تھا کوئی نہیں آتا تھا اس طرف ابھی مجھے چھپے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ مجھے کسی کی سانسوں می آواز اپنے بھت قریب سے سنائی دی میری تو بنڈ بند ہو گئی ڈر کہ مارے میں بالکل سہم گیا اندھیرے کی وجہ دکھائی تو کچھ دے نیں رھا تھا کچھ دیر بعد جب آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے مے قابل ہوئیں تو میں نے آواز کی سمت ڈرتے ڈرتے دیکھا تو مجھے چھنو دکھائی دی وہ بھی میری طرف دیکھ رہی تھی پھر آہستہ سے چلتی ہوئی میری قریب آئی اور بولی دن نوں اوہدے نال کماد اچ کی کرن گیا سی میں نے کہا کچھ نیں سب کھیل رہے تھے ہم سب بھی چھپ گئے تھے اس نے عجیب حرکت کی آگے بڑھ کر میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی ٹانگوں کے بیچ لگایا مجھے عجیب سا لگا پر مزہ بھی بیت آیا جلدی سے ہاتھ ہٹایا اور اس سے کہا آ کی کردی پئی ایں وہ بولی میں تینوں پیا ر کر دی آں آ جا آپاں پیار کرییے اس عمر میں پیار کا کجھے کچھ پتہ نہیں تھا کہ پیار کیا ہوتا ہے میں نے پوچھا کیسے کرتے ہیں پیار وہ بولی جا اوے کھوتیا تینو ں آ وی نیں پتا میں نے اپنی منڈی ہلائی نہیں اس نے آگے بڑھ کر مری گال چوم لی اور بولی ایسے میں نے بھی ہمت کر کے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس گال پے چمی لے لی اور کہا بس وہ بولی بس کی انج نہیں اس نے مجھے اپنے ساتھ لگایا اور کس کے جپھی ڈال لی میں اس معملے میں جاھل تھا چپ کر کے کھڑا رہا تو اس نے میرامے ہاتھ پکڑ کر اپنی کمر پر لگا لیے جیسے ہی میرے ہاتھ اس کی کمر پر گیی مجھے ناکیڈ کی کمر یا د آ گئی جب کمر یاد آئی تو اس کی پولی پولی بنڈ بھی یاد آئی اس کی بنڈ کی دراڈ بھی جس میں میری للی پھنس گئی تھی اور میں نے گھسے بھی لگائے تھے جب بھا عصمہ کو کماد میں انےواہ چود رہا تھا یہ سوچ آتے ہی میری للی میں ہلچل ہوئی اور للی کھڑی ہو گئی اور چھنو کی ٹانگوں میں گھس گئی لیکن مجھے کوئی تجربہ نہیں تھا میں ایک بار پھر سے اس کے گال چومے اس نے بھی میں نے اپنے ہاتھ آہستہ سے نیچے سرکاے اور اس بنڈ کے ابھار جہاں سے شروع ہوتے تھے جس کو پنجابی میں چھوٹی ڈھوئی کہتے ہیں وہا تک لے آیا اور ایک بار پھر اس کی چمی لی اس نے چھی چمیاں لینی شروع کر دی اسی دوران میرے ہاتھ اس کی گانڈ تک پہیچ گئے جیسے ہی میرے ہاتھ اس کی گانڈ تک پہنچے اس کی گانڈ میں ارتعاش پیدا ہوا کیونکہ دونوں کاتھ نیچے لا رہا تھا جن کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسی ہوئی تھیں اس وجہ سے اس کی گانڈ کی دراڈ میں میرے انگوٹھے لگے کیا مست گانڈ تھی یاروں جیسے کھیر ملائی ہوتی ہے اف گرم گرم کھر لر جیسے نرم نرم دودھ کی ملائی کی جم جاتی ہے جس کو کھانے میں بہت مزہ آتا ہے میں بھی اسی مزے میں کھو گیا اور مجھے پتہ ہی نہ چلا کب میں نے اس کو گھمایا اور پیچھے سے اس کو جپھی ڈال لی وہ بھی چپ کر کے کھڑی رہی میں کچھ دیر رکا رہا تو اس نے گانڈ سے میری للی کو گھسا لگایا تو میں بھی شروع ہو لھر گھسے پے گھسا دہی گھسا مزے میں کھو گیا اور جب میں نے اپنے ہاتھ آگے لے جا کر اس کے سینے لے لگائے تو میرے ہاتھ میں دو چھوٹی چھوٹی گیندیں آئیں میں جللدی سے بولا آ گینداں کس کی ہیں وہ بولی بدھوں آ گینداں نیں نے اہیناں ممے اکھدے نے مجھے کچھ سمجھ نہ پھر بھی کہا اچھا اور اپنا کام جاری رکھا گھسے لگاتا وہ بولی جکدی کر میں بولا کری تاں جاناں پر تینوں آ کیویں پتا کہ پیار انج کری دا اے لیکن وہ تو کہیں اور پہینچی ہوئی تھی اس سسکاریا ں نکلنے لگ گئیں مجھ یکدم عاصمہ یاد آ گئی وہ بھی ایسے ہی آہیں بھر رھی تھی چھنو نے اپنے ہاتھ پیچھے کر مے میری گردن میں ڈال کر مجھے زور سے اپنی طرف کھیچا میرا منہ اس کی گردن پر جا لگا لیلن میں رکا نہیں لگا رہا اس شاید مزہ آ رھا تھا مزہ تو مجھے بھی آ رہا تھا لیکن کیونکہ اس کی عمر ہم سے زیادہ تھی کوئی 13 14 سال کی ہو گی ہم تو ابھی بچے تھے اس لیے مجھے کجھ سمجھ نہیں آ رہی تھی بس یہ اندازہ ہوا وہ بھی عاصمہ کو چدتے دیکھ کر کہ یہ تب ہوتا جب زور زور سے گھسے لگائے جائیں میں نے اپنی سپیڈ تیز کر اس کی سسکاریا ں بھی بڑھ گئیں یکددم وہ اکڑ گئی اور اپنی بنڈ زور سے میری للی کے ساتھ لگا لی میرے چوتڑوں پر ہاتھ رکھ کر مجھ اپنی طرف دھکیلا اور کس لیا مجے چونکہ پتہ نہیں تھا کہ یہ سب کیا ہے اس لیے پریشان ہو اوپر سے سالی نے اتنی زور سے میرے چوتڑ لکڑے ہوے تھے اس کے ناخن چب رہے تھے لیکن میری للی اس کی گانڈ کی دراڈ میں تھی جس کا مجھے مزہ آ رہا اسی دوران اس نے مجھے چھوڑا اور گھوم کر مجھے اپنی باہوں میں بھر لیا اور انےواہ میرا منہ چومنے لگ گیئی اور ایک منٹ بعد باہر سب بچوں کا شور ہوا ججی پکڑا گیا جو کہ میری پھپھو کا بیٹا ہے ۔ اس کے بعد کوئی خاص سین نہ ہوا سب کھیل کر اور کچھ اپنی ماوں کی گالیاں سں کر اپنے اپنے گھر چلے گئیے میں بھی اپنی چارپائی پر لیٹ گیا اور سونے لگا لیکن مجھے کہاں نیند آنےوالی ےھی پاسے بدلتا رہا اور آج کے واقعات مے بارے میں سوچتا رہا کافی ٹائم گزر گیا شاید آدھی رات سے اوپر ٹائم ہو گا مجھے پیشاب کی حاجت ہوئی تو میں پیشاب کرنے کی نیت سے اٹھا اور واشروم کی طرف چل پڑا جو کہ تینوں گھرں میں مشترکہ تھا اور ایک کونے میں تھا اس میں نہانے والا جس کو غسل خانہ کہتے تھے الگ اور لیٹرین الگ تھی اس کے قریب ہی نلکہ لگا تھا میں نے کیٹرین جانے کی زہمت نہیں کی نلکے سے تھوڑا آگے ہو کر جہاں نالی بنی تھی جس سے پانی باہر جاتا تھا گھر کے سامنے بہنے والے کھالے میں میں پیشاب ہی کر دھا تھا کہ میرے کانوں آوزیں آئی ہولی کر آہ آہ آہ آہ آہ اوئیییئیجججج اوئی امااااااااااا آہہہہاہاکااکاہاکااکااکک کچھ خیال کر ہولیںکر میں نے آواز کی سمت کا اندازہ لگایا اور بلی کی چال چلتے ہوے بڑھنے لگا نلکے کے پاس میرے درمیانے دادا یعنی کہ دادا کے بھائی نے بیٹھک بنائی ہوئی تھی اس طرف سے آوازیں آ رہی تھیں وہاں عام طور پر رات کے وقت کوئی نہیں ہوتا تھا سب گھر میں سوتے تھے اپنے اپنے ویہڑے میں میں ہولی ہولی چلتا ہوا آگے بڑھا اور چھپ کر بیٹھک کے ساتھ ہی گیراج تھا جہاں ٹرکثر کھڑا ہوتا تھا بیٹھک اور گیراج کے درمیان ایک چھوٹا سا روشندان تھا جس رات کی وقت دیوا یا لالٹین رکھتے تھے اس وقت وہاں کچھ نہیں تھا میں وہاں گیا اور اند کا سین د یکھنے کی کوشش کی جس میں کامیاب بھی ہوا

میں کیا دیکھتا ہوں کہ میرا بھا بوٹا پھر سے کسی چود رھا تھا اس بار اس ایک ٹانگ اوپر تھی اور بھا اس کی پھدی میں لن کا پمپ ایکشن چلا رہا تھا عجیب ماحول تھا دونوں الف ننگے تھے بھا کی سپیڈ تیز تھی بھا گھسے مرنے کے ساتھ ساتھ آگے کو جھکتا اور مموں و چومتا اس لڑکیچآوازیں کبھ کم کبھی تیز آ رہی تھیں اااووووووہہہہہہہہہہ ہہییییاااااہہہہہہااااا اوئی ماںںںںں آرام ناک نہیں ہندا تیرے توں جیسے کی مینے یہ آواز سنی تو میں حیران رہ گیا کہ یہ تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نجاں لوھاری ہے جو کہ گاؤں کی دوسری نکر ہر رہتی تھی اور اکثر ہم اس کے گھر جاتے تھے کبھی کوئی بنوانے کبھی کوئی میری للی فل سخت کو بکی تھی بھا نے اس کی دونوں ٹانگوں کو اس کے مموں مے ساتھ لگالیا جس سے اس گانڈ مجھے نظر آئی اءک لمح کے لیے یہ گانڈ دیکھ کر میرا ہاتھ للی پر چلا گیا اور میں نے للی مسلنی شروع کر دی ادھر بھا نے اپناگھوڑا نجاں کی کی پھدی میں دوڑانا شروع کر دیا بھا کی آواز بھی آتی چپ کر سالیے کوئی آ گیا تاں اہنے وی تیری مارنی اے پر اس کی آوازوں میں کوئی کمی نہں آ رہی تھی وہ مسلسل سسک رہی تھی آااااآااااااآمممممییییجئئی اہ اہاہاہاہ آہہہآہہہآہہہہہ بھا نے ایک دم اس کو گھمایا اور اور گھڑی بنا لیا اس پہلے کہ وہ سمبھلتی پیچھے سے اپنا لن اس کی پھدی میں گھسا دیا اس کی ایک دم آواز نکلی ہائے میں مر گئ مار دتا ای اوئے ظالماں آاااااہہہہہہککککککککہی کھوانا ایں ایس نوں بھا بولا پھدیاں کھواناںمینے ابھی تک نجاں کی صرف آواز سنی تھی اس کو دیکھا نہیں تھا کوئی تین منٹ بھا اس کو ایسے چدتا رہا پھر بھانے اس کی گردن پر ہاتھ اور پیچھے کھینچا اب سین یہ تھا کہ گانڈ اس کی بھا کے ساتھ لگی اور ممے اس کے اوپر کو اٹھے ہوئے تھی دونں کے منہ میری مخالف سمت تھے بھا نے ایک ہاتھ اس کی گردن میں اور دوسرا ہاتھ اس کے مموں پر رکھ دیا اسی دوراں نجاں کی آواز میں شدت آگئی پھاڑ پھاڑ دے میری سارا اندر دے اندر زور نال یو زور نال کر آہہہہہہہ ںہہہہہہتتتتتت مزہ آ رہیا اے ااااااااآہہہہہااااہۃہہہہہہہہہہہ کر کر کر ککککککررررررررررررر زور نال کر اس کت ساتھ ہی شاید وہ فارغ ہو گئی تھی مجھے فارغ ہونے کا بعد میں پتہ چلا تھا کہ اس کو فارغ ہونا کہتے ہیں کچھ دیر بھا رکا رھا پھر اس کو سیدھا کرنے لگا تو اس نے بھا کو گرایا اور اوپر آ گئی جب وہ اوپر آئی تو میری سانس اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی جب اس کے مموں پر میری نظر پڑی دوستوں میں تو عاصمہ کے ممے دیکھ کر حیران ھو گیا تھا لیکن یہ دیکھنے کے بعد تو میری آنکھیں باہر کو آنے لگیں میرا دل کیا ان سے دودھ پی لوں ابھی

 40سائیز کے ممے شان بے نیازی سے سے اس کے سینے میں اپنی سپنی چوکی پر براجمان تھے۔میں تو نجاں کے ممے دیکھنے میں مگن تھا کہ نیچے سے بھا نے ایک زوردار جھٹکا مارا تو اس کی ان فوم جیسی پہاڑیوں میں جیسے طوفان آگیا وہ دائیں بائیں ایسے بھاگنے لگیں جیسے کسی ہرن کو اگر رسی سے باندھ دیا جائے تو وہ اچھلتا ہے میری تو یہ سین دیکھ کر سانس اٹک گئی ادھر بھا کو روک کر نجاں خود آرام آرام سے اوپر نیچے ہونے لگ گئی ساتھ ساتھ اپنے ممے بھی مسلنے لگی تو بھا نے اس کو اپنے اوپر گرا لیا اور اس کے ہونٹوں اپنے ہونٹ رکھ دیے یہ میرے لیے اک نئی چیز تھی میں ان کی چودائی دیکھنے میں نست اپنی للی کو مسل رھاتھا ادھر بھا ۔۔۔

نجاں کی پھدی میں نیچے سے ٹھوکنا شروع کر چکا تھا کمرے میں پچک پچک کی آواز گونج رہی تھی 5 منٹ بعد بھا اٹھا اور نجاں کو اٹھاکر کیا اور دیوار کے ساتھ اس کی کمر لگا دی ساتھ اس کی ایک ٹانگ اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھ لی ماررررررررر ڈالا ای وے آآاااااااآآآاااااااااائئئئئیییییی یکدم نجاں کی آوز آئی میں تو اس کی پھدی کےد رشن کرنے میں ڈوبا تھامجھے تب پتہ چلا جب بھانے ایک ہی جھٹکے پورا 8انچ لمبا 3 انچ موٹا لوڑا اس کی رس بھر رسیلی آب چودائی سے بھری بھولی ہوئی پھدی میں گسا دیا اس کی اتنی اونچی تھی کہ شاید اندر ویڑے تک بھی گئی تھی اس لیے ایک آواز آئی۔۔۔۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ تاکہ یہ گناہ جاریہ نہ بنے ۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر سے بھی شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین بھی ہو سکتا ہے۔ ڈیٹا شیئر کرنے والہ ممبراس بات کا عملی اقرار کرے گا کہ وہ بروز قیامت فورم انتظامیہ، سٹوری رائیٹر اور فورم ایڈمن کے تمام گناہوں کا اکلوتا وارث ہو گا ۔ اور بروز قیامت اپنی تمام نیکیاں (جو بھی اس کے نامہ اعمال میں ہوئیں ) بروز قیامت مجھے دینے کا پابند ہو گا۔ اگر کوئی ممبر اب بھی ایسا کرتا ہے اور گناہ جاریہ کا سبب بنتا ہے ۔ تو اس شرط کو ایگری کرتے ہوئے شیئر کر سکتا ہے ۔ فورم کو اس ایگری منٹ پر اجازت دینے میں کوئی اعتراض نہیں ۔ ایڈمن اردو فن کلب

On 1/23/2021 at 12:24 AM, اتھرابھٹی said:

 

دوستو! یہ میری اپنی کاوش ہے اگر آپ سب لوگوں کو لگے کہ مجھے لکھنا چاہیے تو میں آگے لکھوں گا یہ کہانی کچھ مرچ مصالحہ لگا کے پیش کرنے کی کوشش کروں گا لیکن زیادہ تر واقعات میری زاتی زندگی سے ہیں بس کچھ ردوبدل کر کے پیش کرنے کی کوشش ہے 

 

میرا تعلق ساہیوال کے ایک گاؤں سے ہے میرا والد گورنمنٹ ملازم تھے۔ہم 3بھائی اور ایک بہن ہیں۔یہ کہانی 90کی دہائی سے شروع ہوتی ہے اس وقت تک ہمارے گاؤں میں بجلی بھی نہیں آئی تھی میں گھر میں سب چھوٹا تھا اور ایک شرارتی قسم کا بچہ تھا۔خیر بات کہیں اور نکل جائے گی۔کہانی کی طرف آتے ہیں۔ہمارا گھر گاوں کے معزز گھرانوں میں شامل ہوتا تھا میرے دادا کا کافی دبدبہ تھا 

جب میری عمر 10سال تھی تو مجھے کچھ سیکس واقعات دیکھنے کو ملے جن سے میرے اندر سیکس کی خواہش پیدا ہونا شروع ہو گئی۔ معزرت میں اپنا تعارف کروانا بھول گیا تو دوستو میرا نام بلو ہے میرے بڑھے بھائی کا نام بوٹا اور اس سے چھوٹے کانام ھاشم اور بہن کا نام رجو ہے نام بدلے گئے ہیں۔

خیر جب میری عمر 8سال تھی اور میں تیسری کلاس میں پڑھتا تھا تو ہم سب کزن اور آس پڑوس کے لڑکے اور لڑکیاں خوب کھیلا کرتے تھے۔ہمارا گھر گاوں ے ایک کونے میں تھا گھر کے ساتھ 2 ایکڑ کماد ہوا کرتا تھا جو لوگ کماد کی فصل کے بارے میں جانتے ہیں ان کو پتہ ہوگا یہ پورے سال می فصل ہوتی ہے۔ تو ہم لکن میٹی کھیلتے ہوے اکثر کماد میں چھپ جایا کرتے تھے۔ایسے ہی ایک دن میں اور ہمارے گوانڈیوں کی کڑی ناہید جو کہ ہماری رستہ دار بھی تھی ہم میں کافی دوستی تھی۔ہم اکثر ایک ساتھ چھپا کرتے تھے۔ ہم اس دن بھی چھپنے کے لیے کماد میں داخل ہوئے اور آگے چلتے گئے ابھی ہم تھڑا ہی آگے گئے تھے کہ ہمیں عجیب سی آوازیں آنے لگیں۔ ہم ڈرتے ڈرتے آگے بڑھے لیکن ناہید تو ڈر کی وجہ سے کانپ رہی تھی اس نے سرگوشی میں کہا کہ بلو مینوں بہت ڈر لگدا پیا ای ایتھے باہرلا(سور) ہونا اے آپاں چلیے میں نے اس کو چپ رہنے کا کہا اور ہاتھ کھینچ کے آگے لے کر جانے لگا۔وہ ڈرتے آگے بڑھی۔ کچھ آوازیں واضح آنے لگیں تو ہم نے غور کیا تو ایسا لگا جیسے کوئی رو رہا ہے۔ہم ٹھٹک کے رک گئے کچھ دیر آواز کی سمت کا تعین کرنے کے بعد پھر دبے پاؤں آگے بڑھنے لگے۔ تو آوازیں کچھ واضح ہونے لگیں جیسے کوئی سسک رہا ہے آہ آہ آہ آہ اوئی ہولی کر وغیرہ ہم لھر ہمت کی اور تھڑا سا آگے کھسک ک دیکھا تو ہماری کمیوں کی ایک جوان اور سیکسی جسم کی مالک لڑکی عاصمہ فل ننگی لیٹی ہوئی ہے اور اس کی 38 سائز کے غبارے جو دودھ سے زیادہ سفید ایسے جیسے ان میں کسی ہوا بھر کے بانھ دیا ہو اور اوپر اڑنے کی کوشش میں دائیں بائیں ہل رہے تھے اور چٹے سفید مموں کے اوپر ان کا گارڈ بڑی شان بےنیازی سے گلابی وردی پہنے بیٹھا تھا۔اور ایک مرد جس کی ہماری طرف کمر تھی اس نے عاصمہ کی ٹانگیں اٹھائی ہوئی تھیں اور ان کے بیچ میں زور زور سے گھسے مار رھا تھا ننگے ممے دیکھ کے اور گھسوں می سپیڈ کی وجہ سے ہمیں سمجھ نہیں آ رھی تھی کہ یہ سب کیا چل رہا ہے۔میں ناہید کے پیچھے کھڑا تھا اور جھک کے دیکھنے کی کوشش میں میرا اگلا حصہ ناہید کی بنڈ سے لگا ہوا تھا کم اتنے محو تھے یہ سب کاروائی دیکھنے میں کہ یہ بھول گئے کہ ہمیں اگر انہوں دیکھ لیا تو کیا ھوگا۔ اچانک عاصمہ کی آواز میں تیز ہو گیئیں وہ عجیب و غریب آوازیں نکالنے لگ گئی ااااااآاااآہہہہااااکککککاااا ہو زور دی ہورررررررر زووووووورررعع دی پاڑ دے میرا اندر ہاں میییییںںںں گئی اور یکدم اچھلی تو اس کے 38 سائز کے مسمیوں نے بھی قلابازیاں کھانی شروع کر دیں کچھ دیر جھٹکے کھانے کے بعد وہ رک گئی تو اس آدمی نے اس کو کو گھمایا جس سے اس کا رخ بدل گیا اب عاصمہ کتیا کی طرع گوڈے مودھے مارکر جھک گئی پیچھے سے اس آدمی نے جیسے ہی لن ھاتھ میں لکڑ کے ڈالنے کے لیے آگے کیا تو ہم دونوں کی نظر میں لن آیا اتنا بڑھا ناہید کے منہ سے ہائے نکل گئی اگر میں اس کے منہ ہاتھ رکھ کے اس کا منہ بند نہ کرتا تو شاید اس کی آواز ان تک پہنچ جاتی میرا منہ بھی حیرت سے کھل گیا۔ لیکن جب اس نے ایک جھٹکےسے اندر ڈالا تو افففففففففف نہ پوچھو کیا مزہ آیا یہ سب دیکھ میری چھوٹی سی للی بھی کھڑی ہو گئ اور ناہید کی گانڈ کی دراڈ میں گھس گئی۔ادھر وہ گھسے مارنا سٹارٹ ہوا ادھر مجگے پتہ نہیں کیا۔ ھوا جیسے اس نے عاصمہ کی گانڈ کو پکڑ رکھا تھا ویسے میں نے بھی ناہید کی گانڈ کو ساہیڈوں سے پکڑ کے گھسے مارنے شروع کر دیے واہا ں عاصمہ کی آہیں آنا شروع ہو گئئں جب ایک لمبا موٹا کالا ناگ پیچھے سے پھدی میں گھستا تھا تو عاصمی کی اوئی مااااااممممااںںں کی آواز آتی لیکن وہ ظالم مرد لگا تا ر گھسے پے گھسا مار رہا تھا ادھر میں بھی لگا ہوا تھا انجانے میں ناہید نے بھی گانڈ میرے ساتھ مزید چپکا لی تھی۔یکدم اس آدمی نے عاصمہ کو اس کی گانڈ سے پکڑ کے گھمایا اور جیسے ہی وہ خود نیچے لیٹنے کے لی عاصمہ کی جگہ آیا تو ہم دونوں کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا کینک وہ کوئی اور نہیں بلکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ میرا بڑھا بھائی تھا جو عاصمہ کی پھدی کا بھرتا بنا رہا تھا میرے تو ٹٹے شاٹ ہو گئے میں جلدی سے ناہید کا بازو کھینچتے ہوے اس کو واپس لے آیا اور باہر نکل آئے جہاں ہمیں ڈھونڈنے والے بچے تھک ہار کر بیٹھے جیسے ہی ہم باہر نکلے تو سب حیران ہوئے اور پوچھنے لگے کہ ہم کیا کرتے رہے میں جلدی سے بولا تم لوگوں ڈہونڈے نہیں گئے تو اب یہ کیسی باتیں کرتے ہو ایک لڑکی تھی چھنو تھی تو وہ بھی ہماری رشتہ دار لیکن اس عمر میں بھی بہت بڑھی توپ تھی وہ مجھے عجیب نظروں سے دیکھتی رہی میں پریشان ہو اور اس سے پوچھا انج اکھا ں پاڑ پاڑ کے کی ویکھی جانی ایں میرے منہ تے کی لگا اے وہ بولی میں سب سمجھنی آں تسی کی کر دے رے او میری تو شلوار گیلی ہونے والی ہو گئی اے سالی نے کدھرے بھا بوٹے نوں تا ں نئیں ویکھ آئی بڑی کتی چیز اے میں وی کچا نہیں سی بولیا نی مطبل تیرا کی کر دے رہے آں اسی اپنا منہ سمبھا کے بول وہ کم نہیں سی تو اپنا بوتھا ویکھیا ای چوہا جیا آ نی ناہید آپاں چلیے آپاں نہیں اینا نال کھیڈنا اے تاں ہیگے ای بتمیز نیں گل کرن دی تمیز نہیں ایناں لیکن ناہید بولی نہیں میں نے ابھی کھیلنا ہے تو جا آگے سے چھنو نے جواب دیا مینوں پتہ تو کی کھیلنا اے میں نے جواب دیا چل بھج جا ایتھوں باندریے جئیے بھج جا ناہید بھی شیر یو گئی وہ بھی بولنے لگ گئی جا جا کر اپنا کم کر 

اسی طرح لڑتے جھگڑتے شام ہو گئی اور ہم اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے ۔۔۔

لیکن شام کو جب بھا بوٹا گھر آیا تو میں اس کی طرف غور سے دیکھنے لگا۔

بھا نے مجھے دیکھ کر کہا کی ویکھی جانا ایں مینے شرمندہ ہو کر کہا کچھ نہیں اس کے بعد کھانا کھایا اور پھر ہم کھیلنے کے لیے ویڑ ے میں اکثھے ہو گئے ہمارا ویڑا بھت بڑا تھا اصل میرے دادا لوگ تین بھائی تھے تینو۔ کر گھروں کے درمیان کوئی دیوار نہیں تھی مطلب کہ ایک ہی صحن تھا کوئی ایک ایکڑ میں تینوں بھائیوں کے گھر تھے۔ناہید بھی آ گئی ہم پھر کھیلنے لگ گئے جب چھپنے کی باری آئی تو میں نے نائید کو اشارہ کیا وہ میرے پاس آ کر بول ہوں کی گل اے میں نے کہا آپاں دونویں اکٹھے چھپاں گے وہ بولی پراں مر مینوں سب پتا اے تو کیوں میرے نال چھپن دی گھل کرنا پیا ایں میں نے کی مظلب تو وی آودے بھرا طراں کریں گا میرے نال جیویں او عاصمی باجی نوں ۔۔۔۔ یہ کہیتے ہوئے وس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔ اور جانے لگی میں اس کھیچا اور ایک طرف چل پڑا کیوں سب چھپ گئے تھے صرف ہم دو ہی رہ گئے تھے جلدی جلدی ہم گھر می بیک سائیڈ ہر گئے جہاں بھینسوں کا باڑہ تھا اور اس سے پہلے چھوٹی دیوار جس ساتھ گندم رکھنے کے لیے بڑولے یعنی دیسی گودام بنے ہوے تھے ہم وہاں پہنچے تو ناہید نے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور بولی دور جا کر چھپ میرے نیڑےنا آئیں میں شرمندہ سا ہو گیا اصل میں میرا ارادہ اس کی نرم ملائم گانڈ کے ساتھ کھیلنے کا تھا دن میں جب میں نے اس کی گانڈ میں اپنی للی رگڑی تھی تو بہت مزہ آیا تھا اب۔ بھی یہ ارادہ لیکن اس سالی کو پتہ نہیں کیا ہوا کہ دور دور ہو گئی میں پھر بھی اس کے قریب کوا اسی وقت جس بچے سر باری تھی اسکی آواز قریب سے آئی تو ناہید جلدی سے میرے پاس ہی آ گئ اور میرے آگے کھڑی ہو کر جھک کر سامنے دیکھنے کی کوشش کر نے لگی چونکہ گاوں میں بجلی نہیں ہوتی تھی چاند کی روسنی ہوتی تھی یا دیوا یا لالٹین سے روشنی کرتے تھےچاند کی روشنی میں نے اس کی بنڈ کے ابھار کو دیکھا تو میری للی ایک بار پھر کھڑی ہو گئی اور میں نے اس کی گانڈ کی پھاڑیوں کو پکڑ لیا افففففففففف کیا مزہ آیا اتنی نرم بنڈ کہ میں  میرا دل کیا اس بنڈ کو چوم لوں لیکن میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ ناہید کی گانڈ کو چوم لوں اچانک اس نے گھوم کے میری طرف دیکھا اور بولی پچھاں ہو کہ کھڑ میں شرمندہ ہو گیا ۔میں بھی کہاں بماپنے ارادے سے باز آنے والا تھا چاہے چھوٹی عمر تھی پر دل تو تھا نہ ایک سین نے میرے اندر ہلچل مچا رکھی تھی میرا بھی بھا کی طرح زور زور سے گھسے مارنے کا دل کر رہا تھا اور تو کچھ ہو نہیں سکتا تھا کیونکہ ناہید کو شک ہو گیا تھا یا کوئی اور بات تھی جو اس نے مجھے لتاڑ دیا اچانک میرے اندر جے شیطان نے مجھے اکسایا بلو پت کجھ کر یہ بھت اچھ موقع کے میں آہستہ آواز میں ناہید کو بلایا جو جھک کر آگگ دیکھ تہی تھی کہ اپنی باری دینا والا میرا کزن بالو ادھر تو نہیں آرھا دوستو بالو میرے چاچے کا بیٹا ہے عمر میں مجھ سے کوئی 2 سال بڑھا لیکن جسامت میں 4گنا تھا ۔

ناہید نے میری بات کا جواب نہ دیا ایسا شو کرایا جیسے اس سنا ہی نہ ہو میں ایک بار پھر آہستہ سے پکارا نہیدی گل سن اس نے کھر جواب نہ دیا تو میں نے آگے بڑھ کر اس کی پتلی کمر کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا کیا بتاؤں کیسا احساس تھا ایسا لگا جیسے میں نے کسی روئی کی کو چھو لیا ہو اتنا نرم وملائم کمر کہ لگا جیسے پانی میں ہاتھ ڈال لیا نیم گرم پانی جس میں شیمپو کی ملاوٹ ہو میرے ہاتھ پھسل رہے تھے دل کیا کہ یہ وقت یہاں ہی رک جائے یہ بس کچھ لمحات کے کیے تھا اس چڑیل نے ڑصے سے میری طرف کر کہا کی اے تینوں بندہ بن کے کھڑ جا میں نے بھی فوری جواب دیا میں می کیتا تینوں کنیاں آوازاں دتیا تو سنیا ای نہیں تو اس نے بول کی گل اے میں نے اپنا منہ اس کے کان کے پاس کیا اور سرگوشی میں بولا آپاں وہ اوہ کھیڈ کھڈیے تو اس نے جواب دیا کونسی میں نے جلدی سے کہا وہی جو بھا اور عاصمہ کھیل رہے تھے اس نے غصے سے مجھے دیکھا اور مجھے دھکا دے کر چلی گئی جیسے ہی وہ باہر گئی۔ بالونے اس کو کاتھ لگایا اور ناکید کی باری آ گئی سب باہر نکل آئے اسی وقت میری دشمن چھنو بھی مٹکتی ہوئی آ پہنچی اس ںے بھی کھیل میں حصہ لینا ہے بولی اب مان گئے ناہید کو ہم نے کہا کہ جا و اس دروازت کو ہاتھ لگا کر آو دوستو بتاتا چلوں کہ کمارے دادا لوگ 3بھائی تھے گھر الگ الگ تھے درمیان میں کوئی دیوار نہیں تھی لیکن دروازے الگ الگ تھے یعنی کہ اگر اگر ایک طرف سے میں داخل ہوں تو دوسری طرف ایک ایکڑ پر تیسرا دروازہ تھا ہمارہ گھر پہلے اس کے بعد میرے دادا کے دوسرے دونں بھائیوں کا گھر تھا کم نے ناہید تیسرے دروازے کو ہاتھ لگانے کو کہا ہم سب چھپنے کے لیے بھاگ کھڑے ہوے سب نے اپنی مرضی کی جگہ پسند کی میں اپنے گھر کی بیک سائیڈ پر گیا جدھر بھینسوں کا بڑا سا کمرہ تھا جو کہ گرمیوں میں رات جو خالی ہوتا تھا دن میں بھینسیں باندھی جاتی تھیں اس میں گھس گیا کہوں کہ وہاں اندھیرا تھا کوئی نہیں آتا تھا اس طرف ابھی مجھے چھپے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ مجھے کسی کی سانسوں می آواز اپنے بھت قریب سے سنائی دی میری تو بنڈ بند ہو گئی ڈر کہ مارے میں بالکل سہم گیا اندھیرے کی وجہ دکھائی تو کچھ دے نیں رھا تھا کچھ دیر بعد جب آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے مے قابل ہوئیں تو میں نے آواز کی سمت ڈرتے ڈرتے دیکھا تو مجھے چھنو دکھائی دی وہ بھی میری طرف دیکھ رہی تھی پھر آہستہ سے چلتی ہوئی میری قریب آئی اور بولی دن نوں اوہدے نال کماد اچ کی کرن گیا سی میں نے کہا کچھ نیں سب کھیل رہے تھے ہم سب بھی چھپ گئے تھے اس نے عجیب حرکت کی آگے بڑھ کر میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی ٹانگوں کے بیچ لگایا مجھے عجیب سا لگا پر مزہ بھی بیت آیا جلدی سے ہاتھ ہٹایا اور اس سے کہا آ کی کردی پئی ایں وہ بولی میں تینوں پیا ر کر دی آں آ جا آپاں پیار کرییے اس عمر میں پیار کا کجھے کچھ پتہ نہیں تھا کہ پیار کیا ہوتا ہے میں نے پوچھا کیسے کرتے ہیں پیار وہ بولی جا اوے کھوتیا تینو ں آ وی نیں پتا میں نے اپنی منڈی ہلائی نہیں اس نے آگے بڑھ کر مری گال چوم لی اور بولی ایسے میں نے بھی ہمت کر کے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس گال پے چمی لے لی اور کہا بس وہ بولی بس کی انج نہیں اس نے مجھے اپنے ساتھ لگایا اور کس کے جپھی ڈال لی میں اس معملے میں جاھل تھا چپ کر کے کھڑا رہا تو اس نے میرامے ہاتھ پکڑ کر اپنی کمر پر لگا لیے جیسے ہی میرے ہاتھ اس کی کمر پر گیی مجھے ناکیڈ کی کمر یا د آ گئی جب کمر یاد آئی تو اس کی پولی پولی بنڈ بھی یاد آئی اس کی بنڈ کی دراڈ بھی جس میں میری للی پھنس گئی تھی اور میں نے گھسے بھی لگائے تھے جب بھا عصمہ کو کماد میں انےواہ چود رہا تھا یہ سوچ آتے ہی میری للی میں ہلچل ہوئی اور للی کھڑی ہو گئی اور چھنو کی ٹانگوں میں گھس گئی لیکن مجھے کوئی تجربہ نہیں تھا میں ایک بار پھر سے اس کے گال چومے اس نے بھی میں نے اپنے ہاتھ آہستہ سے نیچے سرکاے اور اس بنڈ کے ابھار جہاں سے شروع ہوتے تھے جس کو پنجابی میں چھوٹی ڈھوئی کہتے ہیں وہا تک لے آیا اور ایک بار پھر اس کی چمی لی اس نے چھی چمیاں لینی شروع کر دی اسی دوران میرے ہاتھ اس کی گانڈ تک پہیچ گئے جیسے ہی میرے ہاتھ اس کی گانڈ تک پہنچے اس کی گانڈ میں ارتعاش پیدا ہوا کیونکہ دونوں کاتھ نیچے لا رہا تھا جن کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسی ہوئی تھیں اس وجہ سے اس کی گانڈ کی دراڈ میں میرے انگوٹھے لگے کیا مست گانڈ تھی یاروں جیسے کھیر ملائی ہوتی ہے اف گرم گرم کھر لر جیسے نرم نرم دودھ کی ملائی کی جم جاتی ہے جس کو کھانے میں بہت مزہ آتا ہے میں بھی اسی مزے میں کھو گیا اور مجھے پتہ ہی نہ چلا کب میں نے اس کو گھمایا اور پیچھے سے اس کو جپھی ڈال لی وہ بھی چپ کر کے کھڑی رہی میں کچھ دیر رکا رہا تو اس نے گانڈ سے میری للی کو گھسا لگایا تو میں بھی شروع ہو لھر گھسے پے گھسا دہی گھسا مزے میں کھو گیا اور جب میں نے اپنے ہاتھ آگے لے جا کر اس کے سینے لے لگائے تو میرے ہاتھ میں دو چھوٹی چھوٹی گیندیں آئیں میں جللدی سے بولا آ گینداں کس کی ہیں وہ بولی بدھوں آ گینداں نیں نے اہیناں ممے اکھدے نے مجھے کچھ سمجھ نہ پھر بھی کہا اچھا اور اپنا کام جاری رکھا گھسے لگاتا وہ بولی جکدی کر میں بولا کری تاں جاناں پر تینوں آ کیویں پتا کہ پیار انج کری دا اے لیکن وہ تو کہیں اور پہینچی ہوئی تھی اس سسکاریا ں نکلنے لگ گئیں مجھ یکدم عاصمہ یاد آ گئی وہ بھی ایسے ہی آہیں بھر رھی تھی چھنو نے اپنے ہاتھ پیچھے کر مے میری گردن میں ڈال کر مجھے زور سے اپنی طرف کھیچا میرا منہ اس کی گردن پر جا لگا لیلن میں رکا نہیں لگا رہا اس شاید مزہ آ رھا تھا مزہ تو مجھے بھی آ رہا تھا لیکن کیونکہ اس کی عمر ہم سے زیادہ تھی کوئی 13 14 سال کی ہو گی ہم تو ابھی بچے تھے اس لیے مجھے کجھ سمجھ نہیں آ رہی تھی بس یہ اندازہ ہوا وہ بھی عاصمہ کو چدتے دیکھ کر کہ یہ تب ہوتا جب زور زور سے گھسے لگائے جائیں میں نے اپنی سپیڈ تیز کر اس کی سسکاریا ں بھی بڑھ گئیں یکددم وہ اکڑ گئی اور اپنی بنڈ زور سے میری للی کے ساتھ لگا لی میرے چوتڑوں پر ہاتھ رکھ کر مجھ اپنی طرف دھکیلا اور کس لیا مجے چونکہ پتہ نہیں تھا کہ یہ سب کیا ہے اس لیے پریشان ہو اوپر سے سالی نے اتنی زور سے میرے چوتڑ لکڑے ہوے تھے اس کے ناخن چب رہے تھے لیکن میری للی اس کی گانڈ کی دراڈ میں تھی جس کا مجھے مزہ آ رہا اسی دوران اس نے مجھے چھوڑا اور گھوم کر مجھے اپنی باہوں میں بھر لیا اور انےواہ میرا منہ چومنے لگ گیئی اور ایک منٹ بعد باہر سب بچوں کا شور ہوا ججی پکڑا گیا جو کہ میری پھپھو کا بیٹا ہے ۔ اس کے بعد کوئی خاص سین نہ ہوا سب کھیل کر اور کچھ اپنی ماوں کی گالیاں سں کر اپنے اپنے گھر چلے گئیے میں بھی اپنی چارپائی پر لیٹ گیا اور سونے لگا لیکن مجھے کہاں نیند آنےوالی ےھی پاسے بدلتا رہا اور آج کے واقعات مے بارے میں سوچتا رہا کافی ٹائم گزر گیا شاید آدھی رات سے اوپر ٹائم ہو گا مجھے پیشاب کی حاجت ہوئی تو میں پیشاب کرنے کی نیت سے اٹھا اور واشروم کی طرف چل پڑا جو کہ تینوں گھرں میں مشترکہ تھا اور ایک کونے میں تھا اس میں نہانے والا جس کو غسل خانہ کہتے تھے الگ اور لیٹرین الگ تھی اس کے قریب ہی نلکہ لگا تھا میں نے کیٹرین جانے کی زہمت نہیں کی نلکے سے تھوڑا آگے ہو کر جہاں نالی بنی تھی جس سے پانی باہر جاتا تھا گھر کے سامنے بہنے والے کھالے میں میں پیشاب ہی کر دھا تھا کہ میرے کانوں آوزیں آئی ہولی کر آہ آہ آہ آہ آہ اوئیییئیجججج اوئی امااااااااااا آہہہہاہاکااکاہاکااکااکک کچھ خیال کر ہولیںکر میں نے آواز کی سمت کا اندازہ لگایا اور بلی کی چال چلتے ہوے بڑھنے لگا نلکے کے پاس میرے درمیانے دادا یعنی کہ دادا کے بھائی نے بیٹھک بنائی ہوئی تھی اس طرف سے آوازیں آ رہی تھیں وہاں عام طور پر رات کے وقت کوئی نہیں ہوتا تھا سب گھر میں سوتے تھے اپنے اپنے ویہڑے میں میں ہولی ہولی چلتا ہوا آگے بڑھا اور چھپ کر بیٹھک کے ساتھ ہی گیراج تھا جہاں ٹرکثر کھڑا ہوتا تھا بیٹھک اور گیراج کے درمیان ایک چھوٹا سا روشندان تھا جس رات کی وقت دیوا یا لالٹین رکھتے تھے اس وقت وہاں کچھ نہیں تھا میں وہاں گیا اور اند کا سین د یکھنے کی کوشش کی جس میں کامیاب بھی ہوا

میں کیا دیکھتا ہوں کہ میرا بھا بوٹا پھر سے کسی چود رھا تھا اس بار اس ایک ٹانگ اوپر تھی اور بھا اس کی پھدی میں لن کا پمپ ایکشن چلا رہا تھا عجیب ماحول تھا دونوں الف ننگے تھے بھا کی سپیڈ تیز تھی بھا گھسے مرنے کے ساتھ ساتھ آگے کو جھکتا اور مموں و چومتا اس لڑکیچآوازیں کبھ کم کبھی تیز آ رہی تھیں اااووووووہہہہہہہہہہ ہہییییاااااہہہہہہااااا اوئی ماںںںںں آرام ناک نہیں ہندا تیرے توں جیسے کی مینے یہ آواز سنی تو میں حیران رہ گیا کہ یہ تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نجاں لوھاری ہے جو کہ گاؤں کی دوسری نکر ہر رہتی تھی اور اکثر ہم اس کے گھر جاتے تھے کبھی کوئی بنوانے کبھی کوئی میری للی فل سخت کو بکی تھی بھا نے اس کی دونوں ٹانگوں کو اس کے مموں مے ساتھ لگالیا جس سے اس گانڈ مجھے نظر آئی اءک لمح کے لیے یہ گانڈ دیکھ کر میرا ہاتھ للی پر چلا گیا اور میں نے للی مسلنی شروع کر دی ادھر بھا نے اپناگھوڑا نجاں کی کی پھدی میں دوڑانا شروع کر دیا بھا کی آواز بھی آتی چپ کر سالیے کوئی آ گیا تاں اہنے وی تیری مارنی اے پر اس کی آوازوں میں کوئی کمی نہں آ رہی تھی وہ مسلسل سسک رہی تھی آااااآااااااآمممممییییجئئی اہ اہاہاہاہ آہہہآہہہآہہہہہ بھا نے ایک دم اس کو گھمایا اور اور گھڑی بنا لیا اس پہلے کہ وہ سمبھلتی پیچھے سے اپنا لن اس کی پھدی میں گھسا دیا اس کی ایک دم آواز نکلی ہائے میں مر گئ مار دتا ای اوئے ظالماں آاااااہہہہہہککککککککہی کھوانا ایں ایس نوں بھا بولا پھدیاں کھواناںمینے ابھی تک نجاں کی صرف آواز سنی تھی اس کو دیکھا نہیں تھا کوئی تین منٹ بھا اس کو ایسے چدتا رہا پھر بھانے اس کی گردن پر ہاتھ اور پیچھے کھینچا اب سین یہ تھا کہ گانڈ اس کی بھا کے ساتھ لگی اور ممے اس کے اوپر کو اٹھے ہوئے تھی دونں کے منہ میری مخالف سمت تھے بھا نے ایک ہاتھ اس کی گردن میں اور دوسرا ہاتھ اس کے مموں پر رکھ دیا اسی دوراں نجاں کی آواز میں شدت آگئی پھاڑ پھاڑ دے میری سارا اندر دے اندر زور نال یو زور نال کر آہہہہہہہ ںہہہہہہتتتتتت مزہ آ رہیا اے ااااااااآہہہہہااااہۃہہہہہہہہہہہ کر کر کر ککککککررررررررررررر زور نال کر اس کت ساتھ ہی شاید وہ فارغ ہو گئی تھی مجھے فارغ ہونے کا بعد میں پتہ چلا تھا کہ اس کو فارغ ہونا کہتے ہیں کچھ دیر بھا رکا رھا پھر اس کو سیدھا کرنے لگا تو اس نے بھا کو گرایا اور اوپر آ گئی جب وہ اوپر آئی تو میری سانس اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی جب اس کے مموں پر میری نظر پڑی دوستوں میں تو عاصمہ کے ممے دیکھ کر حیران ھو گیا تھا لیکن یہ دیکھنے کے بعد تو میری آنکھیں باہر کو آنے لگیں میرا دل کیا ان سے دودھ پی لوں ابھی

 40سائیز کے ممے شان بے نیازی سے سے اس کے سینے میں اپنی سپنی چوکی پر براجمان تھے۔میں تو نجاں کے ممے دیکھنے میں مگن تھا کہ نیچے سے بھا نے ایک زوردار جھٹکا مارا تو اس کی ان فوم جیسی پہاڑیوں میں جیسے طوفان آگیا وہ دائیں بائیں ایسے بھاگنے لگیں جیسے کسی ہرن کو اگر رسی سے باندھ دیا جائے تو وہ اچھلتا ہے میری تو یہ سین دیکھ کر سانس اٹک گئی ادھر بھا کو روک کر نجاں خود آرام آرام سے اوپر نیچے ہونے لگ گئی ساتھ ساتھ اپنے ممے بھی مسلنے لگی تو بھا نے اس کو اپنے اوپر گرا لیا اور اس کے ہونٹوں اپنے ہونٹ رکھ دیے یہ میرے لیے اک نئی چیز تھی میں ان کی چودائی دیکھنے میں نست اپنی للی کو مسل رھاتھا ادھر بھا ۔۔۔

نجاں کی پھدی میں نیچے سے ٹھوکنا شروع کر چکا تھا کمرے میں پچک پچک کی آواز گونج رہی تھی 5 منٹ بعد بھا اٹھا اور نجاں کو اٹھاکر کیا اور دیوار کے ساتھ اس کی کمر لگا دی ساتھ اس کی ایک ٹانگ اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھ لی ماررررررررر ڈالا ای وے آآاااااااآآآاااااااااائئئئئیییییی یکدم نجاں کی آوز آئی میں تو اس کی پھدی کےد رشن کرنے میں ڈوبا تھامجھے تب پتہ چلا جب بھانے ایک ہی جھٹکے پورا 8انچ لمبا 3 انچ موٹا لوڑا اس کی رس بھر رسیلی آب چودائی سے بھری بھولی ہوئی پھدی میں گسا دیا اس کی اتنی اونچی تھی کہ شاید اندر ویڑے تک بھی گئی تھی اس لیے ایک آواز آئی۔۔۔۔۔۔۔۔

گاؤں سے شہر تک

بھا نے پورے زور سے اس کی پھدی میں گھسہ مارا یہ آواز شاید اندر ویہڑے تک گئی تھی اسی لیے ایک آواز کمینیے ہولی بھوک کوئی آ جائے گا میں تو پریشان ہوگیا کہ لو جی بھا پکڑا گیا لیکن جب مجھے سمجھ آئی تو احساس ہو ا کہ یہ آواز گھر کے اندر سے نہیں بلکہ بیٹھک کے باہر سے آئی تھی ادھر بھا نے اپنی مشین فل سپیڈ سے چلا دی اور نجاں کی بھی آوازوں میںسرور کا اضافہ ہو گیابے ربط آوازیں آنے لگ گئی مجھے بہت عجیب لگا کہ بھا دن میں عاصمہ کو پیار کر رہا تھا اور اب نجاں کو دوستو اس وقت یہ نہیں پتہ تھااس کو چودنا کہتے ہیں اسی لیے بس ایسا سوچ رھا تھا خیر میں چپ کر کے آکر یہ سوچتے ہوے کہ کیا تھایہ سب سو گیا صبح اٹھا تو پتہ چلا کہ ہم شہر شفٹ ہو رہے ہیں کیونکہ شہر میں گھر خرید لیا تھا دوستو جیسا کہ بتایا تھا کہ میرے ابو کے تین بھائی تھے تو ایک شہر شفٹ ہو رہا تھا باقی سب بچے اس کے پاس پڑھنے کے لیے شہر رہنے واکے تھے خیر سب جو تیار شیار کر کے شیر لے گئے دوسرےدن ہمیں وھان کے مشہور سکول میں داخل کروا دیا گیااور ہم پینڈو بچوں کو وہاں کے ممی ڈیڈی بچوں نے خوب مزاق کیے میں تو پہلے دن ہی چالو ہوگیا دوسرا میرا دل بھی نہیں لگ رہا تھا خیر کچھ دن ایسے گزرے مجھے ہر وقت گاؤں کی یاد آتی۔جمعرات والے دن آدھی چھٹی ہوتی اور جمعہ کی پوری ہم جمعرات کو گاؤں آجاتے اور اگلے دن شام کو شہر چلے جاتے اسی طرح 4 سال گزر گئی اور میں 8کلاس میں ہو گیا کوئی خاص نہ ہوا بس گاوں سے شہر اور سکول پھر گاؤں جب 8 کلاس میں تھا تو میرے ابا نے شہر کی مشہور کالونی میں گھر کرائے پر لے لیا اور ہم سب بہن بھائی امی ابو کے ساتھ اس گھر میں شفٹ ہو گئے۔اس کالونی میں سارے شہر کی کریم رہتی تھی اور کافی امیر لوگ رہتے تھے اور ہم پینڈو وہاں آ کر بھت خوش ہوئے کچھ دنوں میں ہی میں وہاں کے بچوں میں رچ بس گیا کچھ اہنے گھر کی وجہ کچھ بھائیوں کے دوستوں کی وجہ سے میرے بھی جافی دوست بن گیے اور ویسے بھی اب میں اتنا بچہ بھی نہیں رھا تھا اس لیے خوب کھیلتے اور مزے کرتے مجھے اکثر کوئی نہ کوئی لڑکا اپنے گھر لے جاتا اور ہم مل کر بلیو پرنٹ دیکھتے تو میری للی جو اب کافی بڑھی ہو گئ تھی کھڑی ہو جاتی لیکن سمجھ نہ آتی کیا کروں بس اوازاری ہوتی رہتی ایک دن دو لڑکے کھڑے باتیں کر رہے تھے کہ مٹھ ماری بڑا مزا آیا مجھے سمجھ نہ آئی یہ مٹھ مارنا کیا ہوتا ہے میرے اندر وہی پینڈووں والا احساس کمتری تھا میں جھجکتا تھا کسی سے پوچھتا بھی نہیں تھا ایک لڑکا جو میرا کافی کلز دوست بن گیا تھا اس کے مل کے میں نیٹ کیفے گیا سچی بات تو یہ تھی کہ میں کبھی کمپیوٹر دیکھا بھی نہیں تھا بھت حیران ہوا وہ سالہ اس کو چلا رہا تھااس نے کچھ بٹن دبائے اور ایک فلم لگا دی میں مزے سے دیکھ رھا تھا کہ اچانک میں نے ساتھ بیٹھے دوست کی طرف دیکھا تو اس نے پینٹ میں سے لن باہر نکالا ہوا تھا اور اس کو زورسے مسل رھا تھا 6انچ تو ہوگا اس وقت میرا اس سے بڑا تھا میں بہت حیران ہو کر اس کو دیکھتا رھا سالا کر جیا رھا یکدم اس کے لن میں سے منی نکلی اور نیچے فرنے لگ اس نے آنکھیں چند کر کے مزہ لیااور لن شلوار میں کر لیا میری طرف دیکھ کر بولا تو نے مٹھ نیں ماری اس وقت مجھے پتہ چلااس کو مٹھ مارنا کہتے ہیں خیراس کے بعد کئی دفعہ کوشش کی لیکن میرے لن میں سے پانی نہ نکلا بلکہ لن درد کرنے لگ جاتا اس پر زخم ہو جاتے اسی دوران چیچہ وطنی میں میرے کزن کی شادی آ گئی اور ہم سب وہاں گئے وہاں ایک لڑکی مجھے بہت غور سے دیکھتی مجھے بھی سمجھ نہ آتی کیوں دیکھتی ہے میرے ایک کزن نے مجھے کہا تم ست ہءار کرتی ہے خط لکھو میں ڈرتا رہا بس شادی مصروف دن میں کھیلتے رات میں عورتوں اور لڑکیوں کے گانے سنتے ان کا ڈانس دیکھتے گرمیں کے دن تھے دوپہر میں سب سو جاتے ہم بچوں کو نںند کہاں آتی تھی کبھی ادھر کبھی ادھر جاتے یہ ھس کزن کی شادی تھی وہ میری خالہ کا بیٹا تھا ان کے شوہر فوت ہوچکے تھے اور میرے ماموں لوگو ں پاس رہتی تھی میرے ماموں کوگ تین بھائی تھے بات لمبی ہو جائے گی اگر ان کا تعارف کروایا تو جیسے جیسے ذکر آئے تعارف ہوتا جائے گا منجھلے مامں کی بیٹی جس کا نام مائرہ تھا ہمارے ساتھ کھیلتی تھی ہم لوگ وہی لکن میٹی کھیلتے رات کو بھی اور گھر میں چھپتے میں اور مائرہ ایسے ہی جلدی میں ایک ہی چارپائی کے نیچے چھپ گئے مائرہ میرے آگے میں اس کے پیچھے میری نظر جب اسکی بنڈ پر پڑی تو بس ہھر کیا تھا لن تن گیاھم چونکہ چارپائی کے نیچے تھے اور اپنے گھٹنوں کے بل پر تھے ایک طرح سے ڈوگی سٹائل میں تھے تو اس کی گانڈ باہر کو نکلی میرے منہ کے بالکل سامنے تھی بھرے بھرے چوتڑ الگ الگ پھاڑیاں نظر آ رہی تھیں نیں تھڑا آگے ہوا اور اپنا ایک ہاتھ اس کی بنڈ کی ایک پھاڑی پر رکھ دیا مجھے ایسا لگا جیسے مخمل کو چھو لیا ہو اتنی نرم جیسے ماسٹر کا مولٹی فوم میرا ہاتھ کیا لگا اسکی پھاڑی پر میں تو جیسے ہوش میں ہی نہیں رہاجھے ایسا لگا جیسے دوودھ کے اوپر تیرتی ملائی کو پکڑ کیا ہومجھے اور تو کچھ نہ سوجا دونوں ہاتھو ں سے اس دلکش و نمکین گانڈ پر مساج شروع کر دیا ا مائرہ کو شاید اچھا کگ رھا تھا اسلیے اس نے کوئی ری ایکشن نہ دیا میں ایسے ہاتھ پھیر رھا تھا جیسے اگر ذرہ بھی سختی کی تو یہ خوبصورت گانڈ کی بے حرمتی ہوجائے گی اس دلکش کوہان کی شان مین گستاخی ہوجائے گی اتنے آرام اور پیار سے ہاتھ پھیر رھا تھا کہ کہیں یہ سختی کرنے سے ٹوٹ نہ جائے۔ہاتھ پھیرتے میں آگے ہوا اور تھوڑا اٹھ کر اس کی لچکدار کمر پر ہاتھ رکھ کر اوپر ہو گیا اور اپنا لن جو اس وقت ایسا سخت ہو چکا تھا کہ اگر اس کو دیوار میں بھی مارتا تو دیوار میں مورا کر دیتا فل تنا ہواا تھا اس کی گانڈ کی دراڑیں پھنسا دیا اس کی دراڈ میں جیسے ہی لن گھسا ایسے لگا جیسے پھولوں کی ٹوکری میں لن لگا ہو اتنی نزاکت اس کی گانڈ میں لن تو مست ہو گیا میب بھی مزے سے چور یہ بھول گیا کہ چارپائی کے نیچے ہیں اور جھیل رہے ہیں میں نے ہلکا سا گھسا مارا تو مائرہ نیچے گر گئ میرا لن اس خوبصورت گانڈ کی ندی میں گھس لیٹ گیا میں تو مزے کی گہرائیوں میں اتر چکا تھا مجھے تو اییسے لگ رھا تھا جیسے ریشم کے بستر پر آ گیا ہوں لن جیسے کسی شہد 🍯 کی نہر میں ڈبکی لگا رگا ہو ایسا مزا جیسے زندگی کا مقصد حاصل ہو گیا ۔

اسی وقت شور ہوا تو مائرہ جلدی سے میرے نیچے سے نکل کر باہر نکل گئی اور میں اپنے کھڑے لن سمیت پیٹ کے بل نیچے گر گیا یہ تو شکر ہے کہ صحن کچا تھا نہں تو میرے لن کی ماں بہن ہو جانی تھی اسی طرح کھیلتے رھے گانے سنتے رہے اسی طرح ڈانس کو روز کی طرح آخر میں سمی ڈالی سب عوتوں لڑکیوں نے مل کر اس کے بعد سو گئے دوسرے دن دوپہر کی بات ہے کہ سب سو رہے تھے مجھے گرمی لگی میں نہانے کے لئے واشروم گھس گیا ابھی میں نے اپنے جسم کو بمشکل گیلا کیا تھا کہ دروازہ کو دھکا لگا دروازہ لکڑی کی پھٹیوں سے بنا تھا جن کے درمیان میں تھوڑی جگہ رہ جاتی ہے میں اس سے دیکھا تو مائرہ کھڑی تھی میں نے دروازہ وہ اندر آگئی میں الف ننگا تھا اس نے بھی کپڑے اتار دیےمیری نا تجربہ کاری اوپر سے بچی کنواری وہ کوڈی ہوئی میں نے پیچھے سے ڈاکنے کی کوشش کی نہ گیا کافی زور لگایا جب نہ گیا تو میں اس سیدھا لٹایا اس کی ٹانگیں اٹھائی اور اس کے اوپر کیٹ گیا اور گھسا مارنے ہی لگا تھا ۔۔۔۔۔

 

جیسے ہی زور سے گھسا مارنے لگا میری نظر مائرہ کے چہرے پر پڑی وہ میری طرف دیکھ رہی تھی مجھے اس پر بہت پیار آیا میں گھسا مارنا بھول کر اس کی جھیل سی بلی آنکھوں میں کھو گیا اسکی کشادہ پیشانی جس پر پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے ستواں ناک 👃 گلابی رسیلے ہونٹ اس طرح جیسے کھلتا گلاب 🌹 اوپر سے لرزتے ہوے کپکپاتے ہوے مجھے دعوت طعام دے رہے تھے کہ آو ہمیں چوم لو ہمارہ رس چوس کر ہمیں شاد کر دو اس گلابی گال جیسے پکا انار ہو اگر تھوڑا سا اور گرم ہوے تو پھٹ جائیں گے میں سب کچھ بھول کر اس حسن کی مورتی میں کھو سا گیا اور بے اختیار صدیوں کے پیاسے کی طرح اس منہ پر ٹوٹ پڑا دیونہ وار چومنے لگ گیا مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ دلکش و حسیں چہرہ میری ضیافت کے کیے ہی ۔۔۔۔۔ والے نے بنایا ہے میری یہ حاکت تھی جیسے کئی دن کا بھوکا ہوں اور کھانے کو لذیذ ڈش مل گئی ہو میں نے چوم چوم کر اس کا منہ اپنے لعاب سے بھر دیا اس کے گالوں پر جا بجا میرا تھوک لگ چکا تھا میں بھر بھی چاٹتا جا رہا تھا اچانک مائرہ نے میرے چہرے کو پکڑ کر پیچھے دھکیلا میری حالت بن پانی کی مچھلی جیسی ہو گئی میں مچلا لیکن اس نے اپنی ٹانگیں میری کنر کے فر کس لیں اور بولی بلو کی کردا پیا واں چھیتی کر کوئی آ جاو گا مجھے تب ہوش آیا مینے ایک بار ہھر کوشش کی گھسا نرا لیکن کنواری پھدی اور میرے جیسا نا تجربہ کار کھلاڑی غلط شارٹ لگا بیٹھا لن پھسل کر اوپر نکل گیا پھر کوشش کی پھر ناکام ایک بار پھر نشانہ لگا کر اس کی آنکھوں دیکھ کر اپنی گانڈ کس کر پوری طاقت لگا کر گھسا مارا تو مائرہ نے زور کی چیخ ماری اور میرے نیچے سے نکل گئی اسی وقت باہر سے کسی کے چلنے کی آواز آئی میری تو بنڈ بندوق ہو گئی میں نے سوچا کے بھئی بلو اج تاں مر گیا توں مائرہ نے پھرتی دیکھائی اور واش روم کے دو دروازے تھے ایک صحن کی ظرف اور دوسرا پیچھے کی طرف تھا اس طرف بیٹھک کی جگہ چھوڑی ہوئی تھی لیکن ابھی بنائی نئی تھی اس دروازے سے نکل گئی اور مجھے اشارہ کیا بند کرلو میں نے جلدی سے دروازہ بند کیا اور پانی کا مگا اپنے اوپر ڈالنا شروع کر دیا تاکہ باہر والے کو کچھ سمجھ نہ آئے میں جلدی جکدی نہا کر باہر نکلا اوع ڈرتے ڈرتے اندر کمرے میں گیا تو سب نارمل تھا گرمیوں کے دن تھے اندر پنکھوں کے شور میں شاید کسی کو پتہ نہیں چلا میں نے شکر ادا کیا اور سو گیا شام تک سویا رھا پھر شام جو اپنے ماموں جے بیٹے اور دوسرے کزنوں جے گراؤنڈ گیا کرکٹ کھیلی واپس آئے کھانا کھایا پھر رات کو لکن میٹی کھیلنے لگ میں نے کوشش کی کہ مئرہ کے ساتھ کوئی سین بن جائے لیکن اس نے مجھے غصے سے دیکھتے ہوئے کہا پراں دفعہ ہو چوہا جیا نہ ہوے تاں مجھے بھی غصہ آ گیا پر میں کر کچھ نہیں سکتا تھا اس جی پھدی تھی وہ دے یا نہ دیے میں ہھر کوشش کی مجھے وہ اکیلی نظر آئی رو میں اس جے پاس پہنچ گیا اور بولا مائرہ کی ہویا انج کیوں کر دی پئی ایں اس کہا تینوں نہیں پتہ تو دن نو کی کیتا سی پتہ وی اے میرے کنی پیڑ ہوئی میں نے کہا انی تاں ہوندی اے پھیر نزہ وی تاں آوندا اےاس نے کہا جا دفعہ ہو مینوں ایہو جیا مجا نہیں چاہیدا میں نے پھر کوشش کی اس کے قریب ہوا اس کو پیچھےم سے جپھی ڈالی کی اس نے خود کو چھڑوایا اور بولی جانا اے کہ نیں شور مچا دیواں سائیں ہوراں نے بشیر ہون اچ ای بہتری سمجھی تے تتر ہو گئے پھر کافی دن رہے وہاں لیکن مائرہ تو ایسی بدظن ہوئی کہ اپنی پوچھ ہی نہیں پکڑاتی تھی خیر شادی ختم ہوئی ہم واپس آئے کچھ دن رہنے کے لیے گاؤں چلے گئے کیونکہ گرمیوں کی چھٹیاں چل رہی تھیں 

ہمیں گاؤں گئیے دوسرا دن تھا کہ میں دن کے ٹائم ایسے ہی جب سب سو گئے تو باہر نکل گیا گلی سے گزر رہا تھا کہ مجھے چھنو نظر آئی اس نے مجھے دیکھ کر آنکھ ماری اور اشارے سے کہا اس طرف چلو اس کا اشارہ جس طرف تھا اس طرف چند گھر چھوڑ کر گندم کی فصل بوئی ہوئی تھی میں اڈھر چلا گیا اور ایک درخت کے سائے میں کھڑا ہو گیا چند منٹوں بعد مجھے دوسری طرف سے چھنو کھیت میں چلتی نظر آئی میں حیران ہوا کہ یہ تو اس طرف تھی ادھر کیسے آ گئی پھر مجھے یاد آیا کہ اس کے چاچے کے گھر کا ایک دروازہ اس طرف کھلتا ہے خیر وہ کھیت کت درمیان میں ایک چھوٹی سی بیری تھی اس کے نیچے آ کر رک گئی میں وہیں کھڑا س کی طرف دیکھ رہا تھا اس نے اشارہ کیا آ وی جا ہن میں تیزی سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کھیت میں گھس گیا اور بیٹھ گئی میں اس کے پاس گیا اس نے مجھے بازو سے پکڑ کر نیچے بٹھایا میں بیٹھتے ہوئے گر گیا تو وہ میرے اوپر اس طرح آئی کہ اس سینہ میرے سینے کے اوپر تھا اور باقی کا جسم نیچے میری آنکھوں دیکھتے ہوے بولی ہن تے شہری ہو گیا ایں سانوں تاں بھل ای گیا ایں میں نے کہا نہیں ایہہ جی کوئی گل نیں اس نے کہا ہو کی اے انے دن ہو گئے مینوں ملن آیا دوستو میں لاجواب کچھ اس کی بات سے اور کچھ اس سینے کے لگنے سے ہوا اس کا سینہ جس پر کبھی چھوٹے چھٹے فروٹر ہواکرتے تھے آج مجھے وہ مسمی لگ رہے تھے مجھے اپنے سینے پر واضح محسوس ہو رہے تھے مجگے پتہ نہیں کیا ہوا کہ میں نے ان ایک سائیڈ سے پکڑ لیا جیسے ہی میرا ہاتھ لگا اس کی ہلکی سی سیی نکل گئی اور وہ اور زور سے میرے اوپر ہو گئی میرے اوپر جھک کر اس نے اپنے ہونٹ میرے یونٹوں کے قریب کیے اور چوم لیے اور بولی بلوتینوں پتہ میں تینوں کناں پیار کر دی آں نیں میں کہں اور پہنچا ہوا تھا میں نے اس کی گردن پر ہاتھ رکھا اور اس کے ہونٹ چوم لیے اس نے جلدی سے میری شلوار نیچے کی اور اپنی بھی اور لیٹ گئی نجھے اپنے اوپر آنے کو کہا میں بھی کسی ترسے ہوے کتے کی طرح دم ہلاتا تیزی سے اس کے اوپر آ گیا اس ںے میری کمر کے گرد ٹانگیں کس لیں اور بولی پا دے بلو اج آودا لل میری پھدی اچ میں اس کی بات سن کر حیران رہ گیا میں پوچھا اے پھدی کی ہوندی اے تو اس نے میرے لن کو پکڑ کر اپنی پھدی لگایا اور بول ایہنوں پھدی آندے نیں جا اوے تینوں پھدی دا وی نہیں پتا میں جلدی سے بولا ایڈی گل نیں مینوں پتہ سی میں اویں تیرا امتحاں لین لئی پچھیا سی اس نے کہا جلدی کر کوئی آ جاو گا میں کہا اچھا میں گھسا مارا وہ اچھلی اور بولی اے کی آ میں نے حیران ہوتے ہوئے اس کی طرف دیکھا تو وہ بولی تو کسے دی لئی نیں حالے میں کوئی جواب نہ دے سکیا شرمندہ ہوگیا تو اس نے ٹانگیں کھولی اور میں پیچھے ہوا تو اس نے اپنی پیشاب کی جگہ پر ہاتھ رکھ کر کہا ایتھے واڑ ایہنوں میں نے پھر کوشش کی پھر وہی ہوا تو اس ںے نیرا لل پکڑا اور اپنی شرمگاہ نیں رکھا اور نجھے کہا آرام نال واڑ دے اندر میں نے زور لگایا تو تھوڑا سا گھس گیا پھر زور لگایا تو آگے نہ ہوا سائیں ہوری پھیر جوش اچ آ گئے اک پھدی ملن دا جوش دوسرا انج وی زور لان دا تھوڑا سا پیچھے ہوا اور ایک زور دار گھسا مارنے لگا تھا کہ یاد آیا کہ مائرہ نے چیخ مار دی تھی آگے کو ہوا اور اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور نیچے سے اپنی بنڈ کی مدد سے زور دار جھٹکا دیا اور میرے لل نے پہلی دفعہ ایک اندھیری سرنگ کی سیر شروع کر دی جیسے ہی اندر ہوا مجھے ایسے لگا جیسے میرا لن کسی آگ کی بھٹھی میں گھس گیا ہو لیکن بھی بہت آ رہا تھا میرا ہاتھ ابھی چھنو کے منہ پر تھا اس نے میرا ہاتھ ہٹایا اور بولی آرام نال آکھیا سی تینوں ہولی نیں کر سکدا سی میری جاں کڈ دتی نیں اسی طرح اوپر لیٹا گیا تو اس نے کہا ہن کی اے میں حیران ہواکہ اب یہ بھی لگتا ہے بھاگ جائے گی میں نے سوالیہ انداز سے اس کی طرف دیکھا تو اس نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔

ہن گھسے مار زور زور دی میں نے نیچے سے اپنی گانڈ ہلانا شروع کر دی جتنا زور لگا سکتا تھا لگا دیا تو اس نے مجھے روکا اور بولی بندیاں طرح کر میں نا سمجھی کے انداز میں اس کی طرف دیکھنے لگا اور سوچا سالی پتہ نہیں کی چاہندی اے پھر خود ہی آرام سے گانڈ کر آگے پیچھے کرنے لگ گیا اس نے مجھے کس کے اپنےاوپر لٹا لیا اور میرے یونٹ چوسنےلگ گئی دوستو میں تو مزے کی بلندیوں پر پہنچ گیا اور میری سپیڈ بھی تیز ہو گئی میں لگاتا ر فھست مار رہا تھا کوئی 5 منٹ ہوئے ہوں گے کہ اس نے بولنا شروع کیا بلو پاڑ دے میری زور نال ہہہہااااااااہہاہاہاآآآیہہہہہہہہہہہ ہو ررررررررررر زوووووورررررررع نالللللللل مارررر مجھے اور جوش آتا اسی طرح کتے اس کا جسم اکڑ گیا اس نے ٹانگیں زور سے سے میری کمر پر کس لیں اور میرے ہونٹوں کو کاٹنے کگ گئی مرا سانس بند ہونے لگ گیا لیکن اس کو یوش کہاں تھا یکدم اس کے جسم نے جھٹکا کھایا اور مجھے یوں لگا جیسے میرا لن کسی نے کس کے پکڑ لیا ہے نیں نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا کیونکہ اس نے اپنی ٹانگوں میں مجھے جکڑ رکھا تھا اسی دوراں مجھے اپنی لل پر گرم گرم کچھ گرنے کا لطیف احساس ہوا اور میں مزے کی وادیوں کھو گیا۔۔۔۔۔

کافی دیر بعد اس نے مجھے چھوڑا اور بولی ہو گیا ایں فارغ میں سیکس کے معاملے میں چٹا ان پڑھ اس کی ظرف دیکھنے لگ گیا تو اس نے کہا چل کر میں پھر ہلنے لگ گیا وہ بولی بکو میں تینوں بہت پیار کر نی آ ویکھ اج میں تینوں دتی وی اے نیں سچ دیندی پئی آں تو وی مینوں پیار کرنا اے ناں پیار دا سن کر مجھے جوش چڑھ گیا اور میں نے اپنی سپیڈ بڑھا دی اور تیز تیز لن گھسانے لگ گیا اس کی بھی آواز آنے لگ آہ آہ آ ہہہہہہہہہہ آاااااہہہہ ہہہہممممممممہہہہااآاااااااااا مزہ آ رہیا اے بلو میری جانننننننننن بببببببلللکککوووو ہو زور نال آآاااااااآہہہہہ ہہہہہہآاااااااا ببببللبببللللووووووووسو اسکی آواز کافی اونچی ہو گئ تھی اور میری سپیڈ بھی کوئی 6 سے 7 منٹ ہوے ہوں گے کہ اس نے پھر سے مجھے جکڑ لیا اس کا جسم اکڑنا شروع ہوگیا اور اس کی بے ربط آوازیں آنے لگ گئی بلو تو میری جان اج پاڑ دے میری مینوں ماں بنا دیمے آہہہہہ ااااہہہہہ بلللللللوووووو میں کککککددددوووووںںںں ددددددددییییییی تینوں دیں نننننووووںںںں ترررررررررر سسسسسسسسسدددی سی اسی کے ساتھ اس ہلکی سی چیخ ماری اور میری کمر میں اپنے ناخن گاڑھ دئیے اس کی رانی نے میرے بھولو کو اپنے قابو میں کر لیا مجھے رکنا پڑا جیسے ہی میں رکا اس نے اکھڑی ہوئی سانس میں کہا مممییییںں۔ گئئئیییی اور جھٹکے سے میرے لن پر پھوارا پڑا جیسے کسی نے گرم پانی ڈال دیا ہو ۔

کچھ دیر جھٹکے کھانے کے بعد وہ رک گئی تو اس کا جسم پسینے سے مکمل بھیگ چکا تھا۔۔۔۔۔۔

اس نے اپنی سانس بحال کی اور مجھے اپنے اوپر سے ہٹایا میں پیچھے ہوا تو اس وہ اٹھ کر بیٹھ گئی جیسے ہی اس کی نظر میری ٹانگوں کے بیچ گئی تو بولی ہالے وی نیں ہویا فارغ نیں نہ سمجھ میں کہا نیں وہ حیران ہوئی اور میں تو پہلے ہی کچھ نہیں سمجھ پا ریا تھا کہ وہ کیا کہہ رہی ہے اس نے کہا ہن کوئی آ نہ جئے تو جا نیں وی جانی آں نیں کیا تھوڑا ہور پیار کرئیے اس نے کہا بکو سمجھ ناں تو کل 10 وجے کھر آ جائیں رج کے کراں گے ٹھیک اے ناں میں نے ناں چاہتے ہوئے بھی ہاں کہا اور شلوار اوپر کی اور آگیا ۔۔۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post
On 1/23/2021 at 12:24 AM, اتھرابھٹی said:

 

دوستو! یہ میری اپنی کاوش ہے اگر آپ سب لوگوں کو لگے کہ مجھے لکھنا چاہیے تو میں آگے لکھوں گا یہ کہانی کچھ مرچ مصالحہ لگا کے پیش کرنے کی کوشش کروں گا لیکن زیادہ تر واقعات میری زاتی زندگی سے ہیں بس کچھ ردوبدل کر کے پیش کرنے کی کوشش ہے 

 

میرا تعلق ساہیوال کے ایک گاؤں سے ہے میرا والد گورنمنٹ ملازم تھے۔ہم 3بھائی اور ایک بہن ہیں۔یہ کہانی 90کی دہائی سے شروع ہوتی ہے اس وقت تک ہمارے گاؤں میں بجلی بھی نہیں آئی تھی میں گھر میں سب چھوٹا تھا اور ایک شرارتی قسم کا بچہ تھا۔خیر بات کہیں اور نکل جائے گی۔کہانی کی طرف آتے ہیں۔ہمارا گھر گاوں کے معزز گھرانوں میں شامل ہوتا تھا میرے دادا کا کافی دبدبہ تھا 

جب میری عمر 10سال تھی تو مجھے کچھ سیکس واقعات دیکھنے کو ملے جن سے میرے اندر سیکس کی خواہش پیدا ہونا شروع ہو گئی۔ معزرت میں اپنا تعارف کروانا بھول گیا تو دوستو میرا نام بلو ہے میرے بڑھے بھائی کا نام بوٹا اور اس سے چھوٹے کانام ھاشم اور بہن کا نام رجو ہے نام بدلے گئے ہیں۔

خیر جب میری عمر 8سال تھی اور میں تیسری کلاس میں پڑھتا تھا تو ہم سب کزن اور آس پڑوس کے لڑکے اور لڑکیاں خوب کھیلا کرتے تھے۔ہمارا گھر گاوں ے ایک کونے میں تھا گھر کے ساتھ 2 ایکڑ کماد ہوا کرتا تھا جو لوگ کماد کی فصل کے بارے میں جانتے ہیں ان کو پتہ ہوگا یہ پورے سال می فصل ہوتی ہے۔ تو ہم لکن میٹی کھیلتے ہوے اکثر کماد میں چھپ جایا کرتے تھے۔ایسے ہی ایک دن میں اور ہمارے گوانڈیوں کی کڑی ناہید جو کہ ہماری رستہ دار بھی تھی ہم میں کافی دوستی تھی۔ہم اکثر ایک ساتھ چھپا کرتے تھے۔ ہم اس دن بھی چھپنے کے لیے کماد میں داخل ہوئے اور آگے چلتے گئے ابھی ہم تھڑا ہی آگے گئے تھے کہ ہمیں عجیب سی آوازیں آنے لگیں۔ ہم ڈرتے ڈرتے آگے بڑھے لیکن ناہید تو ڈر کی وجہ سے کانپ رہی تھی اس نے سرگوشی میں کہا کہ بلو مینوں بہت ڈر لگدا پیا ای ایتھے باہرلا(سور) ہونا اے آپاں چلیے میں نے اس کو چپ رہنے کا کہا اور ہاتھ کھینچ کے آگے لے کر جانے لگا۔وہ ڈرتے آگے بڑھی۔ کچھ آوازیں واضح آنے لگیں تو ہم نے غور کیا تو ایسا لگا جیسے کوئی رو رہا ہے۔ہم ٹھٹک کے رک گئے کچھ دیر آواز کی سمت کا تعین کرنے کے بعد پھر دبے پاؤں آگے بڑھنے لگے۔ تو آوازیں کچھ واضح ہونے لگیں جیسے کوئی سسک رہا ہے آہ آہ آہ آہ اوئی ہولی کر وغیرہ ہم لھر ہمت کی اور تھڑا سا آگے کھسک ک دیکھا تو ہماری کمیوں کی ایک جوان اور سیکسی جسم کی مالک لڑکی عاصمہ فل ننگی لیٹی ہوئی ہے اور اس کی 38 سائز کے غبارے جو دودھ سے زیادہ سفید ایسے جیسے ان میں کسی ہوا بھر کے بانھ دیا ہو اور اوپر اڑنے کی کوشش میں دائیں بائیں ہل رہے تھے اور چٹے سفید مموں کے اوپر ان کا گارڈ بڑی شان بےنیازی سے گلابی وردی پہنے بیٹھا تھا۔اور ایک مرد جس کی ہماری طرف کمر تھی اس نے عاصمہ کی ٹانگیں اٹھائی ہوئی تھیں اور ان کے بیچ میں زور زور سے گھسے مار رھا تھا ننگے ممے دیکھ کے اور گھسوں می سپیڈ کی وجہ سے ہمیں سمجھ نہیں آ رھی تھی کہ یہ سب کیا چل رہا ہے۔میں ناہید کے پیچھے کھڑا تھا اور جھک کے دیکھنے کی کوشش میں میرا اگلا حصہ ناہید کی بنڈ سے لگا ہوا تھا کم اتنے محو تھے یہ سب کاروائی دیکھنے میں کہ یہ بھول گئے کہ ہمیں اگر انہوں دیکھ لیا تو کیا ھوگا۔ اچانک عاصمہ کی آواز میں تیز ہو گیئیں وہ عجیب و غریب آوازیں نکالنے لگ گئی ااااااآاااآہہہہااااکککککاااا ہو زور دی ہورررررررر زووووووورررعع دی پاڑ دے میرا اندر ہاں میییییںںںں گئی اور یکدم اچھلی تو اس کے 38 سائز کے مسمیوں نے بھی قلابازیاں کھانی شروع کر دیں کچھ دیر جھٹکے کھانے کے بعد وہ رک گئی تو اس آدمی نے اس کو کو گھمایا جس سے اس کا رخ بدل گیا اب عاصمہ کتیا کی طرع گوڈے مودھے مارکر جھک گئی پیچھے سے اس آدمی نے جیسے ہی لن ھاتھ میں لکڑ کے ڈالنے کے لیے آگے کیا تو ہم دونوں کی نظر میں لن آیا اتنا بڑھا ناہید کے منہ سے ہائے نکل گئی اگر میں اس کے منہ ہاتھ رکھ کے اس کا منہ بند نہ کرتا تو شاید اس کی آواز ان تک پہنچ جاتی میرا منہ بھی حیرت سے کھل گیا۔ لیکن جب اس نے ایک جھٹکےسے اندر ڈالا تو افففففففففف نہ پوچھو کیا مزہ آیا یہ سب دیکھ میری چھوٹی سی للی بھی کھڑی ہو گئ اور ناہید کی گانڈ کی دراڈ میں گھس گئی۔ادھر وہ گھسے مارنا سٹارٹ ہوا ادھر مجگے پتہ نہیں کیا۔ ھوا جیسے اس نے عاصمہ کی گانڈ کو پکڑ رکھا تھا ویسے میں نے بھی ناہید کی گانڈ کو ساہیڈوں سے پکڑ کے گھسے مارنے شروع کر دیے واہا ں عاصمہ کی آہیں آنا شروع ہو گئئں جب ایک لمبا موٹا کالا ناگ پیچھے سے پھدی میں گھستا تھا تو عاصمی کی اوئی مااااااممممااںںں کی آواز آتی لیکن وہ ظالم مرد لگا تا ر گھسے پے گھسا مار رہا تھا ادھر میں بھی لگا ہوا تھا انجانے میں ناہید نے بھی گانڈ میرے ساتھ مزید چپکا لی تھی۔یکدم اس آدمی نے عاصمہ کو اس کی گانڈ سے پکڑ کے گھمایا اور جیسے ہی وہ خود نیچے لیٹنے کے لی عاصمہ کی جگہ آیا تو ہم دونوں کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا کینک وہ کوئی اور نہیں بلکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ میرا بڑھا بھائی تھا جو عاصمہ کی پھدی کا بھرتا بنا رہا تھا میرے تو ٹٹے شاٹ ہو گئے میں جلدی سے ناہید کا بازو کھینچتے ہوے اس کو واپس لے آیا اور باہر نکل آئے جہاں ہمیں ڈھونڈنے والے بچے تھک ہار کر بیٹھے جیسے ہی ہم باہر نکلے تو سب حیران ہوئے اور پوچھنے لگے کہ ہم کیا کرتے رہے میں جلدی سے بولا تم لوگوں ڈہونڈے نہیں گئے تو اب یہ کیسی باتیں کرتے ہو ایک لڑکی تھی چھنو تھی تو وہ بھی ہماری رشتہ دار لیکن اس عمر میں بھی بہت بڑھی توپ تھی وہ مجھے عجیب نظروں سے دیکھتی رہی میں پریشان ہو اور اس سے پوچھا انج اکھا ں پاڑ پاڑ کے کی ویکھی جانی ایں میرے منہ تے کی لگا اے وہ بولی میں سب سمجھنی آں تسی کی کر دے رے او میری تو شلوار گیلی ہونے والی ہو گئی اے سالی نے کدھرے بھا بوٹے نوں تا ں نئیں ویکھ آئی بڑی کتی چیز اے میں وی کچا نہیں سی بولیا نی مطبل تیرا کی کر دے رہے آں اسی اپنا منہ سمبھا کے بول وہ کم نہیں سی تو اپنا بوتھا ویکھیا ای چوہا جیا آ نی ناہید آپاں چلیے آپاں نہیں اینا نال کھیڈنا اے تاں ہیگے ای بتمیز نیں گل کرن دی تمیز نہیں ایناں لیکن ناہید بولی نہیں میں نے ابھی کھیلنا ہے تو جا آگے سے چھنو نے جواب دیا مینوں پتہ تو کی کھیلنا اے میں نے جواب دیا چل بھج جا ایتھوں باندریے جئیے بھج جا ناہید بھی شیر یو گئی وہ بھی بولنے لگ گئی جا جا کر اپنا کم کر 

اسی طرح لڑتے جھگڑتے شام ہو گئی اور ہم اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے ۔۔۔

لیکن شام کو جب بھا بوٹا گھر آیا تو میں اس کی طرف غور سے دیکھنے لگا۔

بھا نے مجھے دیکھ کر کہا کی ویکھی جانا ایں مینے شرمندہ ہو کر کہا کچھ نہیں اس کے بعد کھانا کھایا اور پھر ہم کھیلنے کے لیے ویڑ ے میں اکثھے ہو گئے ہمارا ویڑا بھت بڑا تھا اصل میرے دادا لوگ تین بھائی تھے تینو۔ کر گھروں کے درمیان کوئی دیوار نہیں تھی مطلب کہ ایک ہی صحن تھا کوئی ایک ایکڑ میں تینوں بھائیوں کے گھر تھے۔ناہید بھی آ گئی ہم پھر کھیلنے لگ گئے جب چھپنے کی باری آئی تو میں نے نائید کو اشارہ کیا وہ میرے پاس آ کر بول ہوں کی گل اے میں نے کہا آپاں دونویں اکٹھے چھپاں گے وہ بولی پراں مر مینوں سب پتا اے تو کیوں میرے نال چھپن دی گھل کرنا پیا ایں میں نے کی مظلب تو وی آودے بھرا طراں کریں گا میرے نال جیویں او عاصمی باجی نوں ۔۔۔۔ یہ کہیتے ہوئے وس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔ اور جانے لگی میں اس کھیچا اور ایک طرف چل پڑا کیوں سب چھپ گئے تھے صرف ہم دو ہی رہ گئے تھے جلدی جلدی ہم گھر می بیک سائیڈ ہر گئے جہاں بھینسوں کا باڑہ تھا اور اس سے پہلے چھوٹی دیوار جس ساتھ گندم رکھنے کے لیے بڑولے یعنی دیسی گودام بنے ہوے تھے ہم وہاں پہنچے تو ناہید نے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور بولی دور جا کر چھپ میرے نیڑےنا آئیں میں شرمندہ سا ہو گیا اصل میں میرا ارادہ اس کی نرم ملائم گانڈ کے ساتھ کھیلنے کا تھا دن میں جب میں نے اس کی گانڈ میں اپنی للی رگڑی تھی تو بہت مزہ آیا تھا اب۔ بھی یہ ارادہ لیکن اس سالی کو پتہ نہیں کیا ہوا کہ دور دور ہو گئی میں پھر بھی اس کے قریب کوا اسی وقت جس بچے سر باری تھی اسکی آواز قریب سے آئی تو ناہید جلدی سے میرے پاس ہی آ گئ اور میرے آگے کھڑی ہو کر جھک کر سامنے دیکھنے کی کوشش کر نے لگی چونکہ گاوں میں بجلی نہیں ہوتی تھی چاند کی روسنی ہوتی تھی یا دیوا یا لالٹین سے روشنی کرتے تھےچاند کی روشنی میں نے اس کی بنڈ کے ابھار کو دیکھا تو میری للی ایک بار پھر کھڑی ہو گئی اور میں نے اس کی گانڈ کی پھاڑیوں کو پکڑ لیا افففففففففف کیا مزہ آیا اتنی نرم بنڈ کہ میں  میرا دل کیا اس بنڈ کو چوم لوں لیکن میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ ناہید کی گانڈ کو چوم لوں اچانک اس نے گھوم کے میری طرف دیکھا اور بولی پچھاں ہو کہ کھڑ میں شرمندہ ہو گیا ۔میں بھی کہاں بماپنے ارادے سے باز آنے والا تھا چاہے چھوٹی عمر تھی پر دل تو تھا نہ ایک سین نے میرے اندر ہلچل مچا رکھی تھی میرا بھی بھا کی طرح زور زور سے گھسے مارنے کا دل کر رہا تھا اور تو کچھ ہو نہیں سکتا تھا کیونکہ ناہید کو شک ہو گیا تھا یا کوئی اور بات تھی جو اس نے مجھے لتاڑ دیا اچانک میرے اندر جے شیطان نے مجھے اکسایا بلو پت کجھ کر یہ بھت اچھ موقع کے میں آہستہ آواز میں ناہید کو بلایا جو جھک کر آگگ دیکھ تہی تھی کہ اپنی باری دینا والا میرا کزن بالو ادھر تو نہیں آرھا دوستو بالو میرے چاچے کا بیٹا ہے عمر میں مجھ سے کوئی 2 سال بڑھا لیکن جسامت میں 4گنا تھا ۔

ناہید نے میری بات کا جواب نہ دیا ایسا شو کرایا جیسے اس سنا ہی نہ ہو میں ایک بار پھر آہستہ سے پکارا نہیدی گل سن اس نے کھر جواب نہ دیا تو میں نے آگے بڑھ کر اس کی پتلی کمر کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا کیا بتاؤں کیسا احساس تھا ایسا لگا جیسے میں نے کسی روئی کی کو چھو لیا ہو اتنا نرم وملائم کمر کہ لگا جیسے پانی میں ہاتھ ڈال لیا نیم گرم پانی جس میں شیمپو کی ملاوٹ ہو میرے ہاتھ پھسل رہے تھے دل کیا کہ یہ وقت یہاں ہی رک جائے یہ بس کچھ لمحات کے کیے تھا اس چڑیل نے ڑصے سے میری طرف کر کہا کی اے تینوں بندہ بن کے کھڑ جا میں نے بھی فوری جواب دیا میں می کیتا تینوں کنیاں آوازاں دتیا تو سنیا ای نہیں تو اس نے بول کی گل اے میں نے اپنا منہ اس کے کان کے پاس کیا اور سرگوشی میں بولا آپاں وہ اوہ کھیڈ کھڈیے تو اس نے جواب دیا کونسی میں نے جلدی سے کہا وہی جو بھا اور عاصمہ کھیل رہے تھے اس نے غصے سے مجھے دیکھا اور مجھے دھکا دے کر چلی گئی جیسے ہی وہ باہر گئی۔ بالونے اس کو کاتھ لگایا اور ناکید کی باری آ گئی سب باہر نکل آئے اسی وقت میری دشمن چھنو بھی مٹکتی ہوئی آ پہنچی اس ںے بھی کھیل میں حصہ لینا ہے بولی اب مان گئے ناہید کو ہم نے کہا کہ جا و اس دروازت کو ہاتھ لگا کر آو دوستو بتاتا چلوں کہ کمارے دادا لوگ 3بھائی تھے گھر الگ الگ تھے درمیان میں کوئی دیوار نہیں تھی لیکن دروازے الگ الگ تھے یعنی کہ اگر اگر ایک طرف سے میں داخل ہوں تو دوسری طرف ایک ایکڑ پر تیسرا دروازہ تھا ہمارہ گھر پہلے اس کے بعد میرے دادا کے دوسرے دونں بھائیوں کا گھر تھا کم نے ناہید تیسرے دروازے کو ہاتھ لگانے کو کہا ہم سب چھپنے کے لیے بھاگ کھڑے ہوے سب نے اپنی مرضی کی جگہ پسند کی میں اپنے گھر کی بیک سائیڈ پر گیا جدھر بھینسوں کا بڑا سا کمرہ تھا جو کہ گرمیوں میں رات جو خالی ہوتا تھا دن میں بھینسیں باندھی جاتی تھیں اس میں گھس گیا کہوں کہ وہاں اندھیرا تھا کوئی نہیں آتا تھا اس طرف ابھی مجھے چھپے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ مجھے کسی کی سانسوں می آواز اپنے بھت قریب سے سنائی دی میری تو بنڈ بند ہو گئی ڈر کہ مارے میں بالکل سہم گیا اندھیرے کی وجہ دکھائی تو کچھ دے نیں رھا تھا کچھ دیر بعد جب آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے مے قابل ہوئیں تو میں نے آواز کی سمت ڈرتے ڈرتے دیکھا تو مجھے چھنو دکھائی دی وہ بھی میری طرف دیکھ رہی تھی پھر آہستہ سے چلتی ہوئی میری قریب آئی اور بولی دن نوں اوہدے نال کماد اچ کی کرن گیا سی میں نے کہا کچھ نیں سب کھیل رہے تھے ہم سب بھی چھپ گئے تھے اس نے عجیب حرکت کی آگے بڑھ کر میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی ٹانگوں کے بیچ لگایا مجھے عجیب سا لگا پر مزہ بھی بیت آیا جلدی سے ہاتھ ہٹایا اور اس سے کہا آ کی کردی پئی ایں وہ بولی میں تینوں پیا ر کر دی آں آ جا آپاں پیار کرییے اس عمر میں پیار کا کجھے کچھ پتہ نہیں تھا کہ پیار کیا ہوتا ہے میں نے پوچھا کیسے کرتے ہیں پیار وہ بولی جا اوے کھوتیا تینو ں آ وی نیں پتا میں نے اپنی منڈی ہلائی نہیں اس نے آگے بڑھ کر مری گال چوم لی اور بولی ایسے میں نے بھی ہمت کر کے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس گال پے چمی لے لی اور کہا بس وہ بولی بس کی انج نہیں اس نے مجھے اپنے ساتھ لگایا اور کس کے جپھی ڈال لی میں اس معملے میں جاھل تھا چپ کر کے کھڑا رہا تو اس نے میرامے ہاتھ پکڑ کر اپنی کمر پر لگا لیے جیسے ہی میرے ہاتھ اس کی کمر پر گیی مجھے ناکیڈ کی کمر یا د آ گئی جب کمر یاد آئی تو اس کی پولی پولی بنڈ بھی یاد آئی اس کی بنڈ کی دراڈ بھی جس میں میری للی پھنس گئی تھی اور میں نے گھسے بھی لگائے تھے جب بھا عصمہ کو کماد میں انےواہ چود رہا تھا یہ سوچ آتے ہی میری للی میں ہلچل ہوئی اور للی کھڑی ہو گئی اور چھنو کی ٹانگوں میں گھس گئی لیکن مجھے کوئی تجربہ نہیں تھا میں ایک بار پھر سے اس کے گال چومے اس نے بھی میں نے اپنے ہاتھ آہستہ سے نیچے سرکاے اور اس بنڈ کے ابھار جہاں سے شروع ہوتے تھے جس کو پنجابی میں چھوٹی ڈھوئی کہتے ہیں وہا تک لے آیا اور ایک بار پھر اس کی چمی لی اس نے چھی چمیاں لینی شروع کر دی اسی دوران میرے ہاتھ اس کی گانڈ تک پہیچ گئے جیسے ہی میرے ہاتھ اس کی گانڈ تک پہنچے اس کی گانڈ میں ارتعاش پیدا ہوا کیونکہ دونوں کاتھ نیچے لا رہا تھا جن کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسی ہوئی تھیں اس وجہ سے اس کی گانڈ کی دراڈ میں میرے انگوٹھے لگے کیا مست گانڈ تھی یاروں جیسے کھیر ملائی ہوتی ہے اف گرم گرم کھر لر جیسے نرم نرم دودھ کی ملائی کی جم جاتی ہے جس کو کھانے میں بہت مزہ آتا ہے میں بھی اسی مزے میں کھو گیا اور مجھے پتہ ہی نہ چلا کب میں نے اس کو گھمایا اور پیچھے سے اس کو جپھی ڈال لی وہ بھی چپ کر کے کھڑی رہی میں کچھ دیر رکا رہا تو اس نے گانڈ سے میری للی کو گھسا لگایا تو میں بھی شروع ہو لھر گھسے پے گھسا دہی گھسا مزے میں کھو گیا اور جب میں نے اپنے ہاتھ آگے لے جا کر اس کے سینے لے لگائے تو میرے ہاتھ میں دو چھوٹی چھوٹی گیندیں آئیں میں جللدی سے بولا آ گینداں کس کی ہیں وہ بولی بدھوں آ گینداں نیں نے اہیناں ممے اکھدے نے مجھے کچھ سمجھ نہ پھر بھی کہا اچھا اور اپنا کام جاری رکھا گھسے لگاتا وہ بولی جکدی کر میں بولا کری تاں جاناں پر تینوں آ کیویں پتا کہ پیار انج کری دا اے لیکن وہ تو کہیں اور پہینچی ہوئی تھی اس سسکاریا ں نکلنے لگ گئیں مجھ یکدم عاصمہ یاد آ گئی وہ بھی ایسے ہی آہیں بھر رھی تھی چھنو نے اپنے ہاتھ پیچھے کر مے میری گردن میں ڈال کر مجھے زور سے اپنی طرف کھیچا میرا منہ اس کی گردن پر جا لگا لیلن میں رکا نہیں لگا رہا اس شاید مزہ آ رھا تھا مزہ تو مجھے بھی آ رہا تھا لیکن کیونکہ اس کی عمر ہم سے زیادہ تھی کوئی 13 14 سال کی ہو گی ہم تو ابھی بچے تھے اس لیے مجھے کجھ سمجھ نہیں آ رہی تھی بس یہ اندازہ ہوا وہ بھی عاصمہ کو چدتے دیکھ کر کہ یہ تب ہوتا جب زور زور سے گھسے لگائے جائیں میں نے اپنی سپیڈ تیز کر اس کی سسکاریا ں بھی بڑھ گئیں یکددم وہ اکڑ گئی اور اپنی بنڈ زور سے میری للی کے ساتھ لگا لی میرے چوتڑوں پر ہاتھ رکھ کر مجھ اپنی طرف دھکیلا اور کس لیا مجے چونکہ پتہ نہیں تھا کہ یہ سب کیا ہے اس لیے پریشان ہو اوپر سے سالی نے اتنی زور سے میرے چوتڑ لکڑے ہوے تھے اس کے ناخن چب رہے تھے لیکن میری للی اس کی گانڈ کی دراڈ میں تھی جس کا مجھے مزہ آ رہا اسی دوران اس نے مجھے چھوڑا اور گھوم کر مجھے اپنی باہوں میں بھر لیا اور انےواہ میرا منہ چومنے لگ گیئی اور ایک منٹ بعد باہر سب بچوں کا شور ہوا ججی پکڑا گیا جو کہ میری پھپھو کا بیٹا ہے ۔ اس کے بعد کوئی خاص سین نہ ہوا سب کھیل کر اور کچھ اپنی ماوں کی گالیاں سں کر اپنے اپنے گھر چلے گئیے میں بھی اپنی چارپائی پر لیٹ گیا اور سونے لگا لیکن مجھے کہاں نیند آنےوالی ےھی پاسے بدلتا رہا اور آج کے واقعات مے بارے میں سوچتا رہا کافی ٹائم گزر گیا شاید آدھی رات سے اوپر ٹائم ہو گا مجھے پیشاب کی حاجت ہوئی تو میں پیشاب کرنے کی نیت سے اٹھا اور واشروم کی طرف چل پڑا جو کہ تینوں گھرں میں مشترکہ تھا اور ایک کونے میں تھا اس میں نہانے والا جس کو غسل خانہ کہتے تھے الگ اور لیٹرین الگ تھی اس کے قریب ہی نلکہ لگا تھا میں نے کیٹرین جانے کی زہمت نہیں کی نلکے سے تھوڑا آگے ہو کر جہاں نالی بنی تھی جس سے پانی باہر جاتا تھا گھر کے سامنے بہنے والے کھالے میں میں پیشاب ہی کر دھا تھا کہ میرے کانوں آوزیں آئی ہولی کر آہ آہ آہ آہ آہ اوئیییئیجججج اوئی امااااااااااا آہہہہاہاکااکاہاکااکااکک کچھ خیال کر ہولیںکر میں نے آواز کی سمت کا اندازہ لگایا اور بلی کی چال چلتے ہوے بڑھنے لگا نلکے کے پاس میرے درمیانے دادا یعنی کہ دادا کے بھائی نے بیٹھک بنائی ہوئی تھی اس طرف سے آوازیں آ رہی تھیں وہاں عام طور پر رات کے وقت کوئی نہیں ہوتا تھا سب گھر میں سوتے تھے اپنے اپنے ویہڑے میں میں ہولی ہولی چلتا ہوا آگے بڑھا اور چھپ کر بیٹھک کے ساتھ ہی گیراج تھا جہاں ٹرکثر کھڑا ہوتا تھا بیٹھک اور گیراج کے درمیان ایک چھوٹا سا روشندان تھا جس رات کی وقت دیوا یا لالٹین رکھتے تھے اس وقت وہاں کچھ نہیں تھا میں وہاں گیا اور اند کا سین د یکھنے کی کوشش کی جس میں کامیاب بھی ہوا

میں کیا دیکھتا ہوں کہ میرا بھا بوٹا پھر سے کسی چود رھا تھا اس بار اس ایک ٹانگ اوپر تھی اور بھا اس کی پھدی میں لن کا پمپ ایکشن چلا رہا تھا عجیب ماحول تھا دونوں الف ننگے تھے بھا کی سپیڈ تیز تھی بھا گھسے مرنے کے ساتھ ساتھ آگے کو جھکتا اور مموں و چومتا اس لڑکیچآوازیں کبھ کم کبھی تیز آ رہی تھیں اااووووووہہہہہہہہہہ ہہییییاااااہہہہہہااااا اوئی ماںںںںں آرام ناک نہیں ہندا تیرے توں جیسے کی مینے یہ آواز سنی تو میں حیران رہ گیا کہ یہ تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نجاں لوھاری ہے جو کہ گاؤں کی دوسری نکر ہر رہتی تھی اور اکثر ہم اس کے گھر جاتے تھے کبھی کوئی بنوانے کبھی کوئی میری للی فل سخت کو بکی تھی بھا نے اس کی دونوں ٹانگوں کو اس کے مموں مے ساتھ لگالیا جس سے اس گانڈ مجھے نظر آئی اءک لمح کے لیے یہ گانڈ دیکھ کر میرا ہاتھ للی پر چلا گیا اور میں نے للی مسلنی شروع کر دی ادھر بھا نے اپناگھوڑا نجاں کی کی پھدی میں دوڑانا شروع کر دیا بھا کی آواز بھی آتی چپ کر سالیے کوئی آ گیا تاں اہنے وی تیری مارنی اے پر اس کی آوازوں میں کوئی کمی نہں آ رہی تھی وہ مسلسل سسک رہی تھی آااااآااااااآمممممییییجئئی اہ اہاہاہاہ آہہہآہہہآہہہہہ بھا نے ایک دم اس کو گھمایا اور اور گھڑی بنا لیا اس پہلے کہ وہ سمبھلتی پیچھے سے اپنا لن اس کی پھدی میں گھسا دیا اس کی ایک دم آواز نکلی ہائے میں مر گئ مار دتا ای اوئے ظالماں آاااااہہہہہہککککککککہی کھوانا ایں ایس نوں بھا بولا پھدیاں کھواناںمینے ابھی تک نجاں کی صرف آواز سنی تھی اس کو دیکھا نہیں تھا کوئی تین منٹ بھا اس کو ایسے چدتا رہا پھر بھانے اس کی گردن پر ہاتھ اور پیچھے کھینچا اب سین یہ تھا کہ گانڈ اس کی بھا کے ساتھ لگی اور ممے اس کے اوپر کو اٹھے ہوئے تھی دونں کے منہ میری مخالف سمت تھے بھا نے ایک ہاتھ اس کی گردن میں اور دوسرا ہاتھ اس کے مموں پر رکھ دیا اسی دوراں نجاں کی آواز میں شدت آگئی پھاڑ پھاڑ دے میری سارا اندر دے اندر زور نال یو زور نال کر آہہہہہہہ ںہہہہہہتتتتتت مزہ آ رہیا اے ااااااااآہہہہہااااہۃہہہہہہہہہہہ کر کر کر ککککککررررررررررررر زور نال کر اس کت ساتھ ہی شاید وہ فارغ ہو گئی تھی مجھے فارغ ہونے کا بعد میں پتہ چلا تھا کہ اس کو فارغ ہونا کہتے ہیں کچھ دیر بھا رکا رھا پھر اس کو سیدھا کرنے لگا تو اس نے بھا کو گرایا اور اوپر آ گئی جب وہ اوپر آئی تو میری سانس اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی جب اس کے مموں پر میری نظر پڑی دوستوں میں تو عاصمہ کے ممے دیکھ کر حیران ھو گیا تھا لیکن یہ دیکھنے کے بعد تو میری آنکھیں باہر کو آنے لگیں میرا دل کیا ان سے دودھ پی لوں ابھی

 40سائیز کے ممے شان بے نیازی سے سے اس کے سینے میں اپنی سپنی چوکی پر براجمان تھے۔میں تو نجاں کے ممے دیکھنے میں مگن تھا کہ نیچے سے بھا نے ایک زوردار جھٹکا مارا تو اس کی ان فوم جیسی پہاڑیوں میں جیسے طوفان آگیا وہ دائیں بائیں ایسے بھاگنے لگیں جیسے کسی ہرن کو اگر رسی سے باندھ دیا جائے تو وہ اچھلتا ہے میری تو یہ سین دیکھ کر سانس اٹک گئی ادھر بھا کو روک کر نجاں خود آرام آرام سے اوپر نیچے ہونے لگ گئی ساتھ ساتھ اپنے ممے بھی مسلنے لگی تو بھا نے اس کو اپنے اوپر گرا لیا اور اس کے ہونٹوں اپنے ہونٹ رکھ دیے یہ میرے لیے اک نئی چیز تھی میں ان کی چودائی دیکھنے میں نست اپنی للی کو مسل رھاتھا ادھر بھا ۔۔۔

نجاں کی پھدی میں نیچے سے ٹھوکنا شروع کر چکا تھا کمرے میں پچک پچک کی آواز گونج رہی تھی 5 منٹ بعد بھا اٹھا اور نجاں کو اٹھاکر کیا اور دیوار کے ساتھ اس کی کمر لگا دی ساتھ اس کی ایک ٹانگ اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھ لی ماررررررررر ڈالا ای وے آآاااااااآآآاااااااااائئئئئیییییی یکدم نجاں کی آوز آئی میں تو اس کی پھدی کےد رشن کرنے میں ڈوبا تھامجھے تب پتہ چلا جب بھانے ایک ہی جھٹکے پورا 8انچ لمبا 3 انچ موٹا لوڑا اس کی رس بھر رسیلی آب چودائی سے بھری بھولی ہوئی پھدی میں گسا دیا اس کی اتنی اونچی تھی کہ شاید اندر ویڑے تک بھی گئی تھی اس لیے ایک آواز آئی۔۔۔۔۔۔۔۔

بھانےپورے زور سے اس کی پھدی میں گھسہ مارا یہ آواز شاید اندر ویہڑے تک گئی تھی اسی لیے ایک آواز کمینیے ہولی بھوک کوئی آ جائے گا میں تو پریشان ہوگیا کہ لو جی بھا پکڑا گیا لیکن جب مجھے سمجھ آئی تو احساس ہو ا کہ یہ آواز گھر کے اندر سے نہیں بلکہ بیٹھک کے باہر سے آئی تھی ادھر بھا نے اپنی مشین فل سپیڈ سے چلا دی اور نجاں کی بھی آوازوں میںسرور کا اضافہ ہو گیابے ربط آوازیں آنے لگ گئی مجھے بہت عجیب لگا کہ بھا دن میں عاصمہ کو پیار کر رہا تھا اور اب نجاں کو دوستو اس وقت یہ نہیں پتہ تھااس کو چودنا کہتے ہیں اسی لیے بس ایسا سوچ رھا تھا خیر میں چپ کر کے آکر یہ سوچتے ہوے کہ کیا تھایہ سب سو گیا صبح اٹھا تو پتہ چلا کہ ہم شہر شفٹ ہو رہے ہیں کیونکہ شہر میں گھر خرید لیا تھا دوستو جیسا کہ بتایا تھا کہ میرے ابو کے تین بھائی تھے تو ایک شہر شفٹ ہو رہا تھا باقی سب بچے اس کے پاس پڑھنے کے لیے شہر رہنے واکے تھے خیر سب جو تیار شیار کر کے شیر لے گئے دوسرےدن ہمیں وھان کے مشہور سکول میں داخل کروا دیا گیااور ہم پینڈو بچوں کو وہاں کے ممی ڈیڈی بچوں نے خوب مزاق کیے میں تو پہلے دن ہی چالو ہوگیا دوسرا میرا دل بھی نہیں لگ رہا تھا خیر کچھ دن ایسے گزرے مجھے ہر وقت گاؤں کی یاد آتی۔جمعرات والے دن آدھی چھٹی ہوتی اور جمعہ کی پوری ہم جمعرات کو گاؤں آجاتے اور اگلے دن شام کو شہر چلے جاتے اسی طرح 4 سال گزر گئی اور میں 8کلاس میں ہو گیا کوئی خاص نہ ہوا بس گاوں سے شہر اور سکول پھر گاؤں جب 8 کلاس میں تھا تو میرے ابا نے شہر کی مشہور کالونی میں گھر کرائے پر لے لیا اور ہم سب بہن بھائی امی ابو کے ساتھ اس گھر میں شفٹ ہو گئے۔اس کالونی میں سارے شہر کی کریم رہتی تھی اور کافی امیر لوگ رہتے تھے اور ہم پینڈو وہاں آ کر بھت خوش ہوئے کچھ دنوں میں ہی میں وہاں کے بچوں میں رچ بس گیا کچھ اہنے گھر کی وجہ کچھ بھائیوں کے دوستوں کی وجہ سے میرے بھی جافی دوست بن گیے اور ویسے بھی اب میں اتنا بچہ بھی نہیں رھا تھا اس لیے خوب کھیلتے اور مزے کرتے مجھے اکثر کوئی نہ کوئی لڑکا اپنے گھر لے جاتا اور ہم مل کر بلیو پرنٹ دیکھتے تو میری للی جو اب کافی بڑھی ہو گئ تھی کھڑی ہو جاتی لیکن سمجھ نہ آتی کیا کروں بس اوازاری ہوتی رہتی ایک دن دو لڑکے کھڑے باتیں کر رہے تھے کہ مٹھ ماری بڑا مزا آیا مجھے سمجھ نہ آئی یہ مٹھ مارنا کیا ہوتا ہے میرے اندر وہی پینڈووں والا احساس کمتری تھا میں جھجکتا تھا کسی سے پوچھتا بھی نہیں تھا ایک لڑکا جو میرا کافی کلز دوست بن گیا تھا اس کے مل کے میں نیٹ کیفے گیا سچی بات تو یہ تھی کہ میں کبھی کمپیوٹر دیکھا بھی نہیں تھا بھت حیران ہوا وہ سالہ اس کو چلا رہا تھااس نے کچھ بٹن دبائے اور ایک فلم لگا دی میں مزے سے دیکھ رھا تھا کہ اچانک میں نے ساتھ بیٹھے دوست کی طرف دیکھا تو اس نے پینٹ میں سے لن باہر نکالا ہوا تھا اور اس کو زورسے مسل رھا تھا 6انچ تو ہوگا اس وقت میرا اس سے بڑا تھا میں بہت حیران ہو کر اس کو دیکھتا رھا سالا کر جیا رھا یکدم اس کے لن میں سے منی نکلی اور نیچے فرنے لگ اس نے آنکھیں چند کر کے مزہ لیااور لن شلوار میں کر لیا میری طرف دیکھ کر بولا تو نے مٹھ نیں ماری اس وقت مجھے پتہ چلااس کو مٹھ مارنا کہتے ہیں خیراس کے بعد کئی دفعہ کوشش کی لیکن میرے لن میں سے پانی نہ نکلا بلکہ لن درد کرنے لگ جاتا اس پر زخم ہو جاتے اسی دوران چیچہ وطنی میں میرے کزن کی شادی آ گئی اور ہم سب وہاں گئے وہاں ایک لڑکی مجھے بہت غور سے دیکھتی مجھے بھی سمجھ نہ آتی کیوں دیکھتی ہے میرے ایک کزن نے مجھے کہا تم ست ہءار کرتی ہے خط لکھو میں ڈرتا رہا بس شادی مصروف دن میں کھیلتے رات میں عورتوں اور لڑکیوں کے گانے سنتے ان کا ڈانس دیکھتے گرمیں کے دن تھے دوپہر میں سب سو جاتے ہم بچوں کو نںند کہاں آتی تھی کبھی ادھر کبھی ادھر جاتے یہ ھس کزن کی شادی تھی وہ میری خالہ کا بیٹا تھا ان کے شوہر فوت ہوچکے تھے اور میرے ماموں لوگو ں پاس رہتی تھی میرے ماموں کوگ تین بھائی تھے بات لمبی ہو جائے گی اگر ان کا تعارف کروایا تو جیسے جیسے ذکر آئے تعارف ہوتا جائے گا منجھلے مامں کی بیٹی جس کا نام مائرہ تھا ہمارے ساتھ کھیلتی تھی ہم لوگ وہی لکن میٹی کھیلتے رات کو بھی اور گھر میں چھپتے میں اور مائرہ ایسے ہی جلدی میں ایک ہی چارپائی کے نیچے چھپ گئے مائرہ میرے آگے میں اس کے پیچھے میری نظر جب اسکی بنڈ پر پڑی تو بس ہھر کیا تھا لن تن گیاھم چونکہ چارپائی کے نیچے تھے اور اپنے گھٹنوں کے بل پر تھے ایک طرح سے ڈوگی سٹائل میں تھے تو اس کی گانڈ باہر کو نکلی میرے منہ کے بالکل سامنے تھی بھرے بھرے چوتڑ الگ الگ پھاڑیاں نظر آ رہی تھیں نیں تھڑا آگے ہوا اور اپنا ایک ہاتھ اس کی بنڈ کی ایک پھاڑی پر رکھ دیا مجھے ایسا لگا جیسے مخمل کو چھو لیا ہو اتنی نرم جیسے ماسٹر کا مولٹی فوم میرا ہاتھ کیا لگا اسکی پھاڑی پر میں تو جیسے ہوش میں ہی نہیں رہاجھے ایسا لگا جیسے دوودھ کے اوپر تیرتی ملائی کو پکڑ کیا ہومجھے اور تو کچھ نہ سوجا دونوں ہاتھو ں سے اس دلکش و نمکین گانڈ پر مساج شروع کر دیا ا مائرہ کو شاید اچھا کگ رھا تھا اسلیے اس نے کوئی ری ایکشن نہ دیا میں ایسے ہاتھ پھیر رھا تھا جیسے اگر ذرہ بھی سختی کی تو یہ خوبصورت گانڈ کی بے حرمتی ہوجائے گی اس دلکش کوہان کی شان مین گستاخی ہوجائے گی اتنے آرام اور پیار سے ہاتھ پھیر رھا تھا کہ کہیں یہ سختی کرنے سے ٹوٹ نہ جائے۔ہاتھ پھیرتے میں آگے ہوا اور تھوڑا اٹھ کر اس کی لچکدار کمر پر ہاتھ رکھ کر اوپر ہو گیا اور اپنا لن جو اس وقت ایسا سخت ہو چکا تھا کہ اگر اس کو دیوار میں بھی مارتا تو دیوار میں مورا کر دیتا فل تنا ہواا تھا اس کی گانڈ کی دراڑیں پھنسا دیا اس کی دراڈ میں جیسے ہی لن گھسا ایسے لگا جیسے پھولوں کی ٹوکری میں لن لگا ہو اتنی نزاکت اس کی گانڈ میں لن تو مست ہو گیا میب بھی مزے سے چور یہ بھول گیا کہ چارپائی کے نیچے ہیں اور جھیل رہے ہیں میں نے ہلکا سا گھسا مارا تو مائرہ نیچے گر گئ میرا لن اس خوبصورت گانڈ کی ندی میں گھس لیٹ گیا میں تو مزے کی گہرائیوں میں اتر چکا تھا مجھے تو اییسے لگ رھا تھا جیسے ریشم کے بستر پر آ گیا ہوں لن جیسے کسی شہد 🍯 کی نہر میں ڈبکی لگا رگا ہو ایسا مزا جیسے زندگی کا مقصد حاصل ہو گیا ۔

اسی وقت شور ہوا تو مائرہ جلدی سے میرے نیچے سے نکل کر باہر نکل گئی اور میں اپنے کھڑے لن سمیت پیٹ کے بل نیچے گر گیا یہ تو شکر ہے کہ صحن کچا تھا نہں تو میرے لن کی ماں بہن ہو جانی تھی اسی طرح کھیلتے رھے گانے سنتے رہے اسی طرح ڈانس کو روز کی طرح آخر میں سمی ڈالی سب عوتوں لڑکیوں نے مل کر اس کے بعد سو گئے دوسرے دن دوپہر کی بات ہے کہ سب سو رہے تھے مجھے گرمی لگی میں نہانے کے لئے واشروم گھس گیا ابھی میں نے اپنے جسم کو بمشکل گیلا کیا تھا کہ دروازہ کو دھکا لگا دروازہ لکڑی کی پھٹیوں سے بنا تھا جن کے درمیان میں تھوڑی جگہ رہ جاتی ہے میں اس سے دیکھا تو مائرہ کھڑی تھی میں نے دروازہ وہ اندر آگئی میں الف ننگا تھا اس نے بھی کپڑے اتار دیےمیری نا تجربہ کاری اوپر سے بچی کنواری وہ کوڈی ہوئی میں نے پیچھے سے ڈاکنے کی کوشش کی نہ گیا کافی زور لگایا جب نہ گیا تو میں اس سیدھا لٹایا اس کی ٹانگیں اٹھائی اور اس کے اوپر کیٹ گیا اور گھسا مارنے ہی لگا تھا ۔

جیسے ہی زور سے گھسا مارنے لگا میری نظر مائرہ کے چہرے پر پڑی وہ میری طرف دیکھ رہی تھی مجھے اس پر بہت پیار آیا میں گھسا مارنا بھول کر اس کی جھیل سی بلی آنکھوں میں کھو گیا اس کشادہ پیشانی جس پر پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے ستواں ناک 👃 گلابی رسیلے ہونٹ اس طرح جیسے کھلتا گلاب 🌹 اوپر سے لرزتے ہوے کپکپاتے ہوے مجھے دعوت طعام دے رہے تھے کہ آو ہمیں چوم لو ہمارہ رس چوس کر ہمیں شاد کر دو اس گلابی گال جیسے پکا انار ہو اگر تھوڑا سا اور گرم ہوے تو پھٹ جائیں گے میں سب کچھ بھول کر اس حسن کی مورتی میں کھو سا گیا اور بے اختیار صدیوں کے پیاسے کی طرح اس منہ پر ٹوٹ پڑا دیونہ وار چومنے لگ گیا مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ دلکش و حسیں چہرہ میری ضیافت کے کیے ہی ۔۔۔۔۔ والے نے بنایا ہے میری یہ حاکت تھی جیسے کئی دن کا بھوکا ہوں اور کھانے کو لذیذ ڈش مل گئی ہو میں نے چوم چوم کر اس کا منہ اپنے لعاب سے بھر دیا اس کے گالوں پر جا بجا میرا تھوک لگ چکا تھا میں بھر بھی چاٹتا جا رہا تھا اچانک مائرہ نے میرے چہرے کو پکڑ کر پیچھے دھکیلا میری حالت بن پانی کی مچھلی جیسی ہو گئی میں مچلا لیکن اس نے اپنی ٹانگیں میری کنر کے فر کس لیں اور بولی بلو کی کردا پیا واں چھیتی کر کوئی آ جاو گا مجھے تب ہوش آیا مینے ایک بار ہھر کوشش کی گھسا نرا لیکن کنواری پھدی اور میرے جیسا نا تجربہ کار کھلاڑی غلط شارٹ لگا بیٹھا لن پھسل کر اوپر نکل گیا پھر کوشش کی پھر ناکام ایک بار پھر نشانہ لگا کر اس کی آنکھوں دیکھ کر اپنی گانڈ کس کر پوری طاقت لگا کر گھسا مارا تو مائرہ نے زور کی چیخ ماری اور میرے نیچے سے نکل گئی اسی وقت باہر سے کسی کے چلنے کی آواز آئی میری تو بنڈ بندوق ہو گئی میں نے سوچا کے بھئی بلو اج تاں مر گیا توں مائرہ نے پھرتی دیکھائی اور واش روم کے دو دروازے تھے ایک صحن کی ظرف اور دوسرا پیچھے کی طرف تھا اس طرف بیٹھک کی جگہ چھوڑی ہوئی تھی لیکن ابھی بنائی نئی تھی اس دروازے سے نکل گئی اور مجھے اشارہ کیا بند کرلو میں نے جلدی سے دروازہ بند کیا اور پانی کا مگا اپنے اوپر ڈالنا شروع کر دیا تاکہ باہر والے کو کچھ سمجھ نہ آئے میں جلدی جکدی نہا کر باہر نکلا اوع ڈرتے ڈرتے اندر کمرے میں گیا تو سب نارمل تھا گرمیوں کے دن تھے اندر پنکھوں کے شور میں شاید کسی کو پتہ نہیں چلا میں نے شکر ادا کیا اور سو گیا شام تک سویا رھا پھر شام جو اپنے ماموں جے بیٹے اور دوسرے کزنوں جے گراؤنڈ گیا کرکٹ کھیلی واپس آئے کھانا کھایا پھر رات کو لکن میٹی کھیلنے لگ میں نے کوشش کی کہ مئرہ کے ساتھ کوئی سین بن جائے لیکن اس نے مجھے غصے سے دیکھتے ہوئے کہا پراں دفعہ ہو چوہا جیا نہ ہوے تاں مجھے بھی غصہ آ گیا پر میں کر کچھ نہیں سکتا تھا اس جی پھدی تھی وہ دے یا نہ دیے میں ہھر کوشش کی مجھے وہ اکیلی نظر آئی رو میں اس جے پاس پہنچ گیا اور بولا مائرہ کی ہویا انج کیوں کر دی پئی ایں اس کہا تینوں نہیں پتہ تو دن نو کی کیتا سی پتہ وی اے میرے کنی پیڑ ہوئی میں نے کہا انی تاں ہوندی اے پھیر نزہ وی تاں آوندا اےاس نے کہا جا دفعہ ہو مینوں ایہو جیا مجا نہیں چاہیدا میں نے پھر کوشش کی اس کے قریب ہوا اس کو پیچھےم سے جپھی ڈالی کی اس نے خود کو چھڑوایا اور بولی جانا اے کہ نیں شور مچا دیواں سائیں ہوراں نے بشیر ہون اچ ای بہتری سمجھی تے تتر ہو گئے پھر کافی دن رہے وہاں لیکن مائرہ تو ایسی بدظن ہوئی کہ اپنی پوچھ ہی نہیں پکڑاتی تھی خیر شادی ختم ہوئی ہم واپس آئے کچھ دن رہنے کے لیے گاؤں چلے گئے کیونکہ گرمیوں کی چھٹیاں چل رہی تھیں 

ہمیں گاؤں گئیے دوسرا دن تھا کہ میں دن کے ٹائم ایسے ہی جب سب سو گئے تو باہر نکل گیا گلی سے گزر رہا تھا کہ مجھے چھنو نظر آئی اس نے مجھے دیکھ کر آنکھ ماری اور اشارے سے کہا اس طرف چلو اس کا اشارہ جس طرف تھا اس طرف چند گھر چھوڑ کر گندم کی فصل بوئی ہوئی تھی میں اڈھر چلا گیا اور ایک درخت کے سائے میں کھڑا ہو گیا چند منٹوں بعد مجھے دوسری طرف سے چھنو کھیت میں چلتی نظر آئی میں حیران ہوا کہ یہ تو اس طرف تھی ادھر کیسے آ گئی پھر مجھے یاد آیا کہ اس کے چاچے کے گھر کا ایک دروازہ اس طرف کھلتا ہے خیر وہ کھیت کت درمیان میں ایک چھوٹی سی بیری تھی اس کے نیچے آ کر رک گئی میں وہیں کھڑا س کی طرف دیکھ رہا تھا اس نے اشارہ کیا آ وی جا ہن میں تیزی سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کھیت میں گھس گیا اور بیٹھ گئی میں اس کے پاس گیا اس نے مجھے بازو سے پکڑ کر نیچے بٹھایا میں بیٹھتے ہوئے گر گیا تو وہ میرے اوپر اس طرح آئی کہ اس سینہ میرے سینے کے اوپر تھا اور باقی کا جسم نیچے میری آنکھوں دیکھتے ہوے بولی ہن تے شہری ہو گیا ایں سانوں تاں بھل ای گیا ایں میں نے کہا نہیں ایہہ جی کوئی گل نیں اس نے کہا ہو کی اے انے دن ہو گئے مینوں ملن آیا دوستو میں لاجواب کچھ اس کی بات سے اور کچھ اس سینے کے لگنے سے ہوا اس کا سینہ جس پر کبھی چھوٹے چھٹے فروٹر ہواکرتے تھے آج مجھے وہ مسمی لگ رہے تھے مجھے اپنے سینے پر واضح محسوس ہو رہے تھے مجگے پتہ نہیں کیا ہوا کہ میں نے ان ایک سائیڈ سے پکڑ لیا جیسے ہی میرا ہاتھ لگا اس کی ہلکی سی سیی نکل گئی اور وہ اور زور سے میرے اوپر ہو گئی میرے اوپر جھک کر اس نے اپنے ہونٹ میرے یونٹوں کے قریب کیے اور چوم لیے اور بولی بلوتینوں پتہ میں تینوں کناں پیار کر دی آں نیں میں کہں اور پہنچا ہوا تھا میں نے اس کی گردن پر ہاتھ رکھا اور اس کے ہونٹ چوم لیے اس نے جلدی سے میری شلوار نیچے کی اور اپنی بھی اور لیٹ گئی نجھے اپنے اوپر آنے کو کہا میں بھی کسی ترسے ہوے کتے کی طرح دم ہلاتا تیزی سے اس کے اوپر آ گیا اس ںے میری کمر کے گرد ٹانگیں کس لیں اور بولی پا دے بلو اج آودا لل میری پھدی اچ میں اس کی بات سن کر حیران رہ گیا میں پوچھا اے پھدی کی ہوندی اے تو اس نے میرے لن کو پکڑ کر اپنی پھدی لگایا اور بول ایہنوں پھدی آندے نیں جا اوے تینوں پھدی دا وی نہیں پتا میں جلدی سے بولا ایڈی گل نیں مینوں پتہ سی میں اویں تیرا امتحاں لین لئی پچھیا سی اس نے کہا جلدی کر کوئی آ جاو گا میں کہا اچھا میں گھسا مارا وہ اچھلی اور بولی اے کی آ میں نے حیران ہوتے ہوئے اس کی طرف دیکھا تو وہ بولی تو کسے دی لئی نیں حالے میں کوئی جواب نہ دے سکیا شرمندہ ہوگیا تو اس نے ٹانگیں کھولی اور میں پیچھے ہوا تو اس نے اپنی پیشاب کی جگہ پر ہاتھ رکھ کر کہا ایتھے واڑ ایہنوں میں نے پھر کوشش کی پھر وہی ہوا تو اس ںے نیرا لل پکڑا اور اپنی شرمگاہ نیں رکھا اور نجھے کہا آرام نال واڑ دے اندر میں نے زور لگایا تو تھوڑا سا گھس گیا پھر زور لگایا تو آگے نہ ہوا سائیں ہوری پھیر جوش اچ آ گئے اک پھدی ملن دا جوش دوسرا انج وی زور لان دا تھوڑا سا پیچھے ہوا اور ایک زور دار گھسا مارنے لگا تھا کہ یاد آیا کہ مائرہ نے چیخ مار دی تھی آگے کو ہوا اور اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور نیچے سے اپنی بنڈ کی مدد سے زور دار جھٹکا دیا اور میرے لل نے پہلی دفعہ ایک اندھیری سرنگ کی سیر شروع کر دی جیسے ہی اندر ہوا مجھے ایسے لگا جیسے میرا لن کسی آگ کی بھٹھی میں گھس گیا ہو لیکن بھی بہت آ رہا تھا میرا ہاتھ ابھی چھنو کے منہ پر تھا اس نے میرا ہاتھ ہٹایا اور بولی آرام نال آکھیا سی تینوں ہولی نیں کر سکدا سی میری جاں کڈ دتی نیں اسی طرح اوپر لیٹا گیا تو اس نے کہا ہن کی اے میں حیران ہواکہ اب یہ بھی لگتا ہے بھاگ جائے گی میں نے سوالیہ انداز سے اس کی طرف دیکھا تو اس نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔

ہن گھسے مار زور زور دی میں نے نیچے سے اپنی گانڈ ہلانا شروع کر دی جتنا زور لگا سکتا تھا لگا دیا تو اس نے مجھے روکا اور بولی بندیاں طرح کر میں نا سمجھی کے انداز میں اس کی طرف دیکھنے لگا اور سوچا سالی پتہ نہیں کی چاہندی اے پھر خود ہی آرام سے گانڈ کر آگے پیچھے کرنے لگ گیا اس نے مجھے کس کے اپنےاوپر لٹا لیا اور میرے یونٹ چوسنےلگ گئی دوستو میں تو مزے کی بلندیوں پر پہنچ گیا اور میری سپیڈ بھی تیز ہو گئی میں لگاتا ر فھست مار رہا تھا کوئی 5 منٹ ہوئے ہوں گے کہ اس نے بولنا شروع کیا بلو پاڑ دے میری زور نال ہہہہااااااااہہاہاہاآآآیہہہہہہہہہہہ ہو ررررررررررر زوووووورررررررع نالللللللل مارررر مجھے اور جوش آتا اسی طرح کتے اس کا جسم اکڑ گیا اس نے ٹانگیں زور سے سے میری کمر پر کس لیں اور میرے ہونٹوں کو کاٹنے کگ گئی مرا سانس بند ہونے لگ گیا لیکن اس کو یوش کہاں تھا یکدم اس کے جسم نے جھٹکا کھایا اور مجھے یوں لگا جیسے میرا لن کسی نے کس کے پکڑ لیا ہے نیں نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا کیونکہ اس نے اپنی ٹانگوں میں مجھے جکڑ رکھا تھا اسی دوراں مجھے اپنی لل پر گرم گرم کچھ گرنے کا لطیف احساس ہوا اور میں مزے کی وادیوں کھو گیا۔۔۔۔۔

کافی دیر بعد اس نے مجھے چھوڑا اور بولی ہو گیا ایں فارغ میں سیکس کے معاملے میں چٹا ان پڑھ اس کی ظرف دیکھنے لگ گیا تو اس نے کہا چل کر میں پھر ہلنے لگ گیا وہ بولی بکو میں تینوں بہت پیار کر نی آ ویکھ اج میں تینوں دتی وی اے نیں سچ دیندی پئی آں تو وی مینوں پیار کرنا اے ناں پیار دا سن کر مجھے جوش چڑھ گیا اور میں نے اپنی سپیڈ بڑھا دی اور تیز تیز لن گھسانے لگ گیا اس کی بھی آواز آنے لگ آہ آہ آ ہہہہہہہہہہ آاااااہہہہ ہہہہممممممممہہہہااآاااااااااا مزہ آ رہیا اے بلو میری جانننننننننن بببببببلللکککوووو ہو زور نال آآاااااااآہہہہہ ہہہہہہآاااااااا ببببللبببللللووووووووسو اسکی آواز کافی اونچی ہو گئ تھی اور میری سپیڈ بھی کوئی 6 سے 7 منٹ ہوے ہوں گے کہ اس نے پھر سے مجھے جکڑ لیا اس کا جسم اکڑنا شروع ہوگیا اور اس کی بے ربط آوازیں آنے لگ گئی بلو تو میری جان اج پاڑ دے میری مینوں ماں بنا دیمے آہہہہہ ااااہہہہہ بلللللللوووووو میں کککککددددوووووںںںں ددددددددییییییی تینوں دیں نننننووووںںںں ترررررررررر سسسسسسسسسدددی سی اسی کے ساتھ اس ہلکی سی چیخ ماری اور میری کمر میں اپنے ناخن گاڑھ دئیے اس کی رانی نے میرے بھولو کو اپنے قابو میں کر لیا مجھے رکنا پڑا جیسے ہی میں رکا اس نے اکھڑی ہوئی سانس میں کہا مممییییںں۔ گئئئیییی اور جھٹکے سے میرے لن پر پھوارا پڑا جیسے کسی نے گرم پانی ڈال دیا ہو ۔

کچھ دیر جھٹکے کھانے کے بعد وہ رک گئی تو اس کا جسم پسینے سے مکمل بھیگ چکا تھا۔۔۔۔۔۔

اس نے اپنی سانس بحال کی اور مجھے اپنے اوپر سے ہٹایا میں پیچھے ہوا تو اس وہ اٹھ کر بیٹھ گئی جیسے ہی اس کی نظر میری ٹانگوں کے بیچ گئی تو بولی ہالے وی نیں ہویا فارغ نیں نہ سمجھ میں کہا نیں وہ حیران ہوئی اور میں تو پہلے ہی کچھ نہیں سمجھ پا ریا تھا کہ وہ کیا کہہ رہی ہے اس نے کہا ہن کوئی آ نہ جئے تو جا نیں وی جانی آں نیں کیا تھوڑا ہور پیار کرئیے اس نے کہا بکو سمجھ ناں تو کل 10 وجے کھر آ جائیں رج کے کراں گے ٹھیک اے ناں میں نے ناں چاہتے ہوئے بھی ہاں کہا اور شلوار اوپر کی اور آگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Edited by اتھرابھٹی

Share this post


Link to post

اسنے کہا کہ کل کھر آجانا پورا مزا کریں گے میں نے نا چاہتے ہوئے ہاں کی اور شلوار اوپر کرکے آگیا۔

گھر آکر وہی روٹین جو گاؤں میں ہوتی تھی کزنوں کے ساتھ کھیلتا رہا شام ہوئی تو سب نے کہا اتنے عرصے بعد اکٹھے ہوے ہیں پرانی یادیں ❤️♥️ تازہ کرتے ہیں رات کے وقت کھیلتے ہیں سب مل کر مزہ کریں کریں دوستو ہم کزن اور کزن لڑکیاں مل کر کوئی 15 لوگ ہو جاتے تھی تو ہمیں کسی کو بلانے کی اور ساتھ شامل کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی خوب ہلاگلا کرتے ہنسی مزاق ہوتا گاؤں کی سب کھیلیں کھیلی جاتی ایک کھیل بہت کھیلتے تھے 

جو زیادہ تر دن کے وقت کھیلا کرتے تھے جس کو ہمارے ہاں چاردانے یا چیرے کہا جاتا ہے بہت مزے کا کھیل تھا دو دو کی ٹیم بنا کر آمنے سامنے کھیلتے جیسے آج کل لڈو ہے اسی طرح کا کھیل ہوتا تھا اب بھی شاید گاؤں میں کچھ لوگ یہ کھیل کھیلتے ہیں بات ہو رہی تھی اس شام کی جس دن میں ناکام چدائی کر کے نامرادلوٹا تھا الجھا بھی بہت تھا کہ مجھے مزہ کیوں نہیں آیا اتنا اور یہ فارغ ہونا کیا ہوتا ہے۔               

میں کیوں اس معاملے میں ابھی تک اپنی اننگز شروع کر رہا تھا اور اور شاید کر چکا تھا اس لیے بلکل کچا کھلاڑی تھا جیسے پنڈوں میں کہتے ہیں آ ہالے کچا اے ایدے توں کھسماں دا لن ہونا اے ایویں ای گھسے مارمور کے ویہلا ہو جانا اے ایہنےبابا جی ہورا دا وی کج اے ای ہال سی  

اک کہاوت یے پنجابی کی ایہنوں کی پتہ وتاوں دی بنڈ کتھے(اسکوکیاپتہ بینگن 🍆 کی گانڈ کدھر ہے)  کچھ ایسے مزاق کا نشانہ بننے سے ڈررہا تھا کہ اگر جسی دوستو کو یا کزن کو پتہ چل گیا تو وہ مجھے گانڈو سمجھیں گے کیوں کہ میرے تقریباً سب کزن اور دوست جو میری عمر کے تھے سب کسی نہ کسی کی لے چکے تھے میں ڈرتا کسی سے نہیں پوچھ رہا تھا یہ سب باتیں کہ وہ کیا سوچیں گے کہ یہ بھی نہیں جانتا اور حقیقت بھی یہ ہی تھی کہ مجھے نہیں پتہ تھا اس سب کا اسی طرح سوچتا رہا میں بھول گیا کہ سب کزن کھیلنے کا پلان بنا رہے ہیں مجھے تب ہوش آیا جب میرا ایک کزن جو میرا جگری بھی تھا فیض عرف فجا اس نے سب سے چھپ کر میری بنڈ میں انگلی چڑھا دی میری تو گانڈ میں مرچیں لگ گئیں ایسا لگا جیسے کسی نے نمک مرچ والا ڈنڈا ڈال دیا ہو میری منہ سے یکدم گالی نکلی تیری بہن دا پھدا ماراں کھڑ جا وہ ہنستا ہوا بھاگ گیا جب سب نے میری طرف دیکھا اور پوچھا کیا ہوا تو میں کھسیا گیا بات کو ٹال گیا تو فجا بولا ہن دس کی ہویا تو گال کیوں کڈی میں نے کہا کج نیں ہویا بس ایویں ای گال نکل گئی  بڑی مشکل سے جان چھڑوائی لیکن میں نے بھی سوچ لیا بدلا تاں پت میں ضرور لینا چیے تیری بنڈ وچ لن ٹھوکنا پیا۔

پھر سب نے کھیلنا شروع کیا اور مجھے موقع ملا میں نے بھی فجے کی بنڈ میں پورا چپا چڑھایا تو اس کی چیخ نکل گئی اور اتنی اونچی تھی کہ ایک بار تو میں بھی ڈر گیا اصل میں بدلے کے چکر میں میں نے ہاتھ کچھ زیادہ ہی سخت ڈال دیا 

اس بعد کچھ خاص نہ ہوا ہم سب اپنے ٹھکانے پر جا کر سوگئے۔

صبح ہوئی ناشتہ وغیرہ کر میں چھنو کی گلی پہنچ گیا اور گانا گنگاتا ہوا 

چھنو کی آنکھ میں اک نشہ ہے ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گزرنے لگا تو وہ باہر آئی مجھے اشارہ کیا ابھی نہیں کچھ دیر بعد آنا ۔

میں آگے نکل دوکان پر گیا اور کچھ ٹافیاں وغیرہ لیں اور کھانے لگ تھوڑی دیر گزری کہ چھنو کی ماں اور چھوٹی بہن ریڑھی پر بیٹھ کر بھینسوں کا چارہ لینے کے لیے میرے پاس سے گزریں جیسے ہی وہ گزریں میں تیزی سے چھنو کے گھر کی طرف گیا تو چھنو مجھے چھت پر نظر آئی اس نے مجھے آنکھ سے آنے کا اشارہ کیا میں اس کے گھر میں بے فکر ہو کر داخل ہوا اس نے مجھے کمرے میں جانے کا اشارہ کیا اور خود دروازہ بند کرنے لگ گئی میں اندر کمرے میں جا کر اڈھر ادھر دیکھنے لگ گیا ۔

کچھ دیر میں چھنو بھی آ گئی اور آتے ہی اس نے مجھے پیچھے سے جپھی ڈال لی اپنے ممے میری کمر میں کس دیے یہ میرے لیے اک نیا احساس تھا میں مزے سے سرشار ہو گیا مجھے اور تو کچھ نہ سوجھا میں نے اپنا ایک ہاتھ ✋ پیچھے کر کے اس کا ایک مما پکڑ لیا 32سائز کا مما پورا سخت میرے ہاتھ میں سما گیا میں نے دبا دیا اس سکے منہ سے سییی کی آواز نکلی میں زور سے دبایا تو اس نے مجھے چھوڑا اور میرا ہاتھ جھٹکے سے ممے سے ہٹا دیا مجھے ایسے لگا جیسے لنگر بٹ رہا ہو سب لے جائیں اور آخر میں جس کی۔ باری آئے اس کو جوب ملے پت ہن مک گیا اے جو شرمندگی اس وقت محسوس ہوتئ اس سے کہیں زیادہ مجھے محسوس ہوئی کہ سالی نے مزہ بھی نہیں لینے دیا اور ہاتھ ✋✋ پیچھے دھکیل دیا ۔

وہ گھوم کر میرے سامنے آئی اور مجھے اپنی باہنوں بھر لیا وہ گاؤں کی دودھ مکھن کی پلی سخت جان میں ڈالڈے گھی کھانے والا دبلہ پتلا اس کی سخت باہوں میں جکڑا گیا کیونکہ اس نے جبھی اتنی گھٹ کے پائی کہ میرا سانس بند ہونے لگ گیا میں تھعڑا کسمسایا تو وہ تھوڑا پیچھے ہوئی اور اپنے بھرے بھے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیے اتنا پیچھے ہوئی کہ بس گردن پیچھے کی اور گرفت ڈھیلی کی جس سے ہمارے ہونٹ ایک دوسرے کے ہونٹوں میں پیوست ہو سکیں اسکے سخت ممے میرے کمزور سے سینے میں دبے ہوئے تھے اس کا پیٹ میرے پیٹ سے لگا۔ ہوا تھا نیچے میرے لن نے بھی اپنے کان کھڑے کر لیے اور اس جے چڈوں میں گھس گیا کیونکہ ہمارہ قد برابر تھا تقریباً 5فٹ قد ھم دونوں کا تھا اس نے انے واہ میرے ہونٹ چوسنے شروع کر دیے تھے میں اس کام سے نا بلد اس کا ساتھ دینے کی کوشش کرنے لگا کئی دفعہ اس کے ہونٹوں پر کاٹ لیا پتہ نہیں اس کو مزے میں احساس نہیں ہوا یا وہ انجان بنی 🐰🐰 رہی چومتے چومتے میرا ہاتھ پھر اسکے مموں پر پہنچ گیا مجھے ایسا لگا جیسے میں نے کوئی کپڑے میں لپٹا سیب پکڑ لیا ہو آہہہہ ہہہ ہ ہ ہا اب مجھے بھی کچھ اچھالگنے لگ گیا اس نے اپنی پھدی میری لن پر رگڑنا شروع کر دی ساتھ ساتھ اس کے ہاتھ حرکت میں آئے اس نے میری قمیض اتار دی بنیان مینے پہنی نہی تھی اس کے ہاتھ۔ میرے جسم ایسے رینگنے لگ گئیے جیسے نرم ریت پر پانی کی لہریں بہتی ہیں میرے لیے ایک ان چھوا احساس تھا میرا لن فل مستی میں آگیا میں نے بھی ہلنا شروع کر دیا اس کی پھدی میں گھوڑے کو دولتی دی اور چلانے لگ گیا لیکن وہ ابھی کسی اور موڈ بھی تھی ابھی تک ہم نے منہ سے ایک بھی لفظ نہیں بولا تھا بس لگے ہوے تھے اس اپنی زبان نکالی اور میری گردن پر پھیرنی شروع کر دی میری حالت بن پانی مچھلی 🎏🐟 جیسی ہوگئی میرا جسم تڑپنے لگ گیا لیکن وہ اپنی زبان کا جادو چلاتی رہی کوئی دو منٹ بعد اس کو مجھ پر ترس آ گیا اس نے اپنی زبان ہٹائی اور پھرمیرے ہونٹوں پر حملہ کر دیا کسی بھوکی شیرنی کی طرح اور ساتھ ہی اس نے میری شلوار میں ہاتھ ڈالا اور نیچے کر دی کیونکہ میں ابھی لاسٹک والی شلوار پہنتا تھا اس لیے اس کوکوئی مشکل پیش نہ آئی اور میری شلوار نیچے ہو گئی تو اس میرا لڑا پکڑ کر مسلنا شروع کر دیا میری حالت پہلے سے بھی پتلی ہو گئی جب اس نے میری حالت دیکھی تو پیچھے ہوئی اور چارپائی کی طرف گئی اور جاتے ہی اپنی شلوار اتا ر کر پھینک دی مجھے کہا آجا میرے جانے تک وہ لیٹ چکی تھی اس نے اپنی قمیض اوپر کی اورٹانگیں کھول کر لیٹ گئی میں اوپر گیا اس نے میرا لن اپنے ہاتھ سے پکڑ کر اپنی پھدی پر رکھا اور مجھے بولی دھکا ما میں دھکا مارا میرا لن ایک ہی جھٹکے میں اندڑ گھس گیا گیا اور ساتھ ہی اس کی آواز مار دتا ای ظالما اے کی کیتا ای مہں میں حیران پریشان ہوگیا پتہ نہیں کیا ہو گیا

 

 

 

 

Share this post


Link to post

Bohat hi Achi story start ki abb regular updates dein takay story zayada say zayada chalay aur aur yeh cheno Ka scene clear Nahi kay yeah kanwari hai ya chudwa chuki hai pehly chudai say you chudai hui lag rahi hai aur cheno Sahi hai hero Kay liye inn dono ko hi pyar hojaye aik dusray say start si hi heroine mil Jaye behtr aur yeh cheno hero ko control Karna janti ho aur agar Kisi aur say bhi chudwaye tou hero ko Kisi tarah mana ley yeh bas hero ko apna deewana Bana dey aur chudai ki adat Dal dey cheno Kay character Mey kafi Jaan hai story mey koi aik hi aisa character hota hai Jo story ki Jaan ho larkion Mey wo character cheno Ka hai

aur yeh Jo asma hai iss ki bhi involvement rakhain story mey

 

waiting for next

Share this post


Link to post
9 hours ago, Romeo R said:

Bohat hi Achi story start ki abb regular updates dein takay story zayada say zayada chalay aur aur yeh cheno Ka scene clear Nahi kay yeah kanwari hai ya chudwa chuki hai pehly chudai say you chudai hui lag rahi hai aur cheno Sahi hai hero Kay liye inn dono ko hi pyar hojaye aik dusray say start si hi heroine mil Jaye behtr aur yeh cheno hero ko control Karna janti ho aur agar Kisi aur say bhi chudwaye tou hero ko Kisi tarah mana ley yeh bas hero ko apna deewana Bana dey aur chudai ki adat Dal dey cheno Kay character Mey kafi Jaan hai story mey koi aik hi aisa character hota hai Jo story ki Jaan ho larkion Mey wo character cheno Ka hai

aur yeh Jo asma hai iss ki bhi involvement rakhain story mey

 

waiting for next

آپ کی رائے کابہت شکریہ۔

آپ کی رائے میری لیے بہت اہمیت کی حامل ہے میرے بھائی آپ نے چھنو کے کردار کا ذکر کیا کہ وہ کنواری ہے یا چدوا چکی ہے تو بتاتا چلوں اس کا خلاصہ بھی اگلی اپڈیٹس میں ہو جائے گا اور عاصمہ کا جو کردار ہے وہ بھی شامل رہے گا کیونکہ عاصمہ کی چدائی دیکھ کر ہی تو بلو میں سیکس کا کیڑا نامی چیز پیدا ہوئی باقی سب کے کردار کے ساتھ پورا پورا انصاف کرنے کی کوشش کروں گا۔

 

Share this post


Link to post

جیسے ہی میں نے جھٹکا مارا اس کی آواز آئی اے کی کیتا ہی ظالما میں حیران ہو کہ پتہ نہیں کیا ہو گیا میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے اشارہ کیا میں نے اپنا لوڑا باہر نکالا اور پھر اسی سپیڈ سے گھسا دیا اس کی آواز منہ میں ہی دب گئی جو کچھ بولنے لگی تھی اور میری حالت بھی عجیب تھی مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے لن ابلتے پانی میں ڈال دیا ہواتنی گرمی تھی اس کی پھدی کہ مجھے لگا جیسے میرا للا جل رہا ہے ادھر چھنو نے ایک اور حرکت کی اپنے ٹانگوں کا شکنجاکس لیا میری کمر کا کڑاکا نکل گیا سالی میں اتنی طاقت سچ میں تھی یا اس وقت جوش میں تھی اس لیے اتنی طاقت آ گئی تھی۔

میں چھنو کے اوپر تھا میرا سینہ اس کے مموں سے لگا تھا مجھے ابھی سیکس کی الف کا بھی نہیں پتہ تھا صرف کچھ بار چدائی ہوتی دیکھی تھی۔

میں شش و پنج میں تھا کہ اب کیا کرنا یے میں نے تو بھا کو عاصمہ کی پھدی میں تیز رفتا روٹر چلاتے دیکھا تھا اور یہ چھنو مجھے بے بس کر اپنی ٹانگوں مے شکنجے میں جکڑ چکی تھی کوئی دو منٹ بعد اس نے میرے ہونٹ چوسنے شروع کر دیے اور ساتھ ہی اپنی ٹانگوں کو ڈھیلا کر دیا اور بولی آرام نال کریں تو تاں میری جان کد دتی سی انج وی کوئی کر دا ات اک واری اکو ای جھٹکے ٹھوک دتا ای میری پھدی دا بیڑا غرق ہو جانا سی ۔

میں سمجھ گیا اب ٹائم آگیا مشین چلانے کا میں نے بھی اپنے ہینڈل کو کس لیا اور آہیستہ آہستہ راڈ کو اندر باہر کرنے لگ گیا ساتھ چھنو کے ہونٹو ں کو چوسنے لگ گیا وہ بھی مست ہونے لگ اس پہلے والی گرمی آنے لگی جو کچھ دیر پہلے راکٹ کے غیر متوقع حملے کی وجہ سے کہیں غائب ہو گئ تھی۔

اس نے دیوانہ وار میرنے لب چوسنے شروع کر دیے اس کی سانسیں میری سانسوں میں گم ہونے لگ گئیں ساتھ اس نت اپنی زبان میرے منہ میں داخل کر دی مجھے تو سمجھو ایسا لگا جیسی دیسی گھی کی برفی کی ڈلی میری منہ میں آگئی ہو میں کھانی شروع کر دی اس کی مستی میں اور اضافہ ہو ا اور میرے راکٹ کے حملے میں بھی اس کی برفی جیسی رسیلی زبان کی چوسائی سے شدت آگئی اس سپیڈ کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کی زبان میرے دانتوں میں آگئی اور اس کو کوئی احساس نہیں تھا اس نے اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر نیچے سے پورالن لینا شروع کر دیا میں بھی اپنی بنڈ کا پورا زور لگانا شروع کر دیا جیسے جیسے میری سپیڈ بڑھتی جا رھی تھی اس کی عجیب حالت ہوتی جا رہی تھی اس کی صرف سانسوں کی آوازیں نکل رہی تھیں اور منہ کس کے بند کیا ہوا تھا۔

مجھے بھی جوش چڑھ گیا ایک چڑھتی جوانی کی طاقت دوسرا ننگی گرم پھدی میں لن ہو تو بندے کی طاقت کئی گنا بڑھ جاتی ہے ۔

میں نے اس طاقت کا استعمال شروع کر دیا اسکی سسکی نکلی ایک پھر دوسری رک رک کر کچھ دیر سسکیاں نکلیں اس کے بعد تو تواتر سے آنے لگیں آہ آہ اۃ آہ آہ آہستہ آہستہ آواز بھی بدلنے لگ گئی آااااااااااہہہککہہہہہہہہہہہ بے ربط سی آوازیں آنا شروع ہوگئیں جو میرے جوش میں اضافے کا باعث بن رہی تھیں ساتھ ہی اس نے بولنا شروع کر دیا بلو پپپپپپووووورررراااا زززززووووقرررر لللاااا کے مار پوووووووررررراااا پپپاااااااامیں اپنے کام میں لگا رہا اس کی آوازوں سے بے نیاز دھے دھکے پے دھکا اس کی آوازوں میں شدت آتی گئی مجھے چودتے ہوئے کوئی 6 منٹ سے اوپر ہو گیا تھا اور ایک ہی پوزیشن میں لگا ہوا تھا اس نے ہاتھ سے اپنی قمیض اوپر کی اور اپنے ممے نکال کر مسلتے ہوئے میرا منہ ان پر رکھ دیا میری نظر اس کے مموں پر پڑی تو مجھے عاصمہ اور نجاں کے ممے یاد آگئے ان کے مقابلے میں اس کے ممے کچھ بھی نہیں تھے ایک بڑا سا نپل اور 32 سائز کے ممے مموں کے سائز کے حساب سے نپل بڑھا تھا کیں کہ مجھے سیکس کا اندازہ نہیں تھا اس کیے سمجھ نہیں سکا میں یہ ہی سوچ رھا تھا کہ اس پھر میرا منہ اپنے مموں پر رکھ دیا اور میں نے اس کے نپل منہ میں لیے اور چوسنے لگ گیا نیچے اس کی پھدی میں کن اوپر ممے منہ میں اس کی حالت بستر مرگ پر تڑپتے نوجوان جیسی ہو گئی اس نے آہوں سے کمرا سر پر اٹھا لیا میں بھی اپنے لن کا پمپ ایکشن پھر سے سٹارٹ کر دیا۔

اس آوازیں اونچی ہوتی گئیں آااااا ااااہہہہہہییییہہہہہہہہ اااااااا بببببللللللوووؤوؤ پاپپپپڑڑڑڑڑڑڑ ددددددےےےےےےےےےے اس کے ساتھ ہی اس نے ایک جھٹکا لیا اور مجھے پھر سے جکڑ لیا میرا لن اس کی پھدی میں جڑ تک اتر گیا اور میرا منہ اس کے مموں پر تھا اس نے اپنے بازوؤں میں جکڑا ہوا تھا مرا سانس رکنے لگ گیا نیچے سے اس نے اپنی ٹانگوں سے میری کمر جو باندھ رکھا تھا میں بے بس تھا اس نے ایک جھٹکا کھایا چند لمحوں بعد دوسرا مجھے اپنے لن پر پر بھی کسی چیز کی گرفت محسوس ہوئی ساتھ ہی لن پر گرم گرم پانی کی ٹکور کا احساس ہوا میرے اندر ایک سرور کی لہر دوڑ گئی۔ لیکن میری سانس اس کی گرفت میں رک رھی تھی اس فارغ ہونے کا انداز وحشیانہ تھا ۔

میں اس کے وحشی پن کا شکار ہو رہا تھا اس سے پہلے کہ میری سانس رک جاتی اور میں پھدی مارتے مارتے پرلوگ سدھا ر جاتا اس ظالم کو ترس آ گیا اس نے اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑا تو میں نے زور سے سانس کی جو کی کہ اس مموں میں ہی نکلی ۔

جیسے ہی فارغ ہوئی اس نے مجھے پیچھے ہونے کو کہا تو میں پہلے بار بولا کی ہویا تو اس نے کہا بس ہن ہور کی انا تھوڑا اے کجھ دیر بعد پھیر کھڑا ہو گیا تا ں کر لا ں گے میں نے لن نکال کر اس کے سامنے کیا اور بولا ویکھ آ تے کھڑا ای اے وہ حیران ہوتے ہوئے بولی تو چھٹیا نئی میں نے بدھوں کے سرداروں کی اس کی طرف دیکھا تو اس نے کہا آ جا فیر پا وچ جلدی چھٹ جا چھائیں میں نے جلدی سے اس کی پھدی میں لن گھسا دیا اور انے واہ ٹھکائی شروع کر دی جیسے بھوکے کو کھیر مل جائے تو وہ ٹوٹ پڑتا ہے میں بھی ایسے ہی ٹوٹ پڑا اس کی آہوں کی پروا کیے بغیر چودتا رہا کوئی 6 ساتھ منٹ بعد اس کی چیخیں پھر سے شروع ہو گئیں آاااااا چو چچچچچچچوووووووددددد ممممیییننننووقووو میری پھھھھھھددددددیییییی پپپپاااااڑڑڑڑڑ دے اااااآآآہہہہہہہہ آاااااووووووووئئئئئئیییییییہ اااممممممیییییی ججججییی ببببلللووووووووووو ماااااررررر زززززوووووورررررر ناااااللللل مااااررررر اس کے ساتھ ہی اس کا جسم اکڑا مجھے پتہ لگ گیا اس مجھے اپنی باہنوں میں لینے کی کوششش کی میں پہلے تجربے سے سیکھ چکا تھا اس لیئے پیچھے ہو گیا اور اپنے ہاتھوں ہر زور ڈال کر کوڈا ہوا تھا اس کی باہوں کی رینج سے باہر تھا لیکن کمر پر اس نے اپنی اپنی ٹانگیں جس لیں مجھے پھر رکنا پڑا کچھ دیر وہ فارغ ہوتی رہی پھر بولی ہن تا ں بس میں نے نفی میں سر ہلایا اس کی آنکھوں میں حیرانی تھی اس نے ہاتھ سے لن پکڑ کر باہر نکالا اور دبا کر دیکھا اور اس کی آنکھوں میں شدید پریشانی تھی میں نے اس کو الٹا ہونے جو کہا وہ بولی نہیں اوتھوں نہیں مینے کچھ نا سنی پکڑ کر الٹا کیا اور پھدی پر لن سیٹ کیا اور اپنی ازکی لا پرواہی سے گھسا دیا اس کی سسکی نکلی ایک تو پھدی دو بار فارغ ہونے کی وجہ سے گیلی تھی دوسرا لن کچھ زیادہ ہی سخت تھا اس کیے اندر گہرائی میں جاکر لگا اس نے پیچھے مڑ کر کہا تو انسان نہیں بن سکدا میں نے سنی ان سنی کی اور سپیڈ سے چودنا شروع کر دیا۔اس کی آہیں چیخیں مکس ہونے لگ گئیں۔ میں نے اایسے چودنا شروع کیا جیسے آج کے بعد مجھے یہ ملنی نہیں اس کی پھدی میں پانی تھا اور دوسرا میں نے اس کو کوڈا کیا ہوا تھا اور قمیض اپنے دانتوں میں دبائی ہوئی تھی میری رانیں اس کی ابھری ہوئی گانڈ پر لگتیں تو تھپ تھپ کی آواز آتی اسی طرح کافی دیر چودنے کے بعد اس کی بس ہو گئی وہ نیچے گر گئ میں اس کے اوپر گرتا گیا لن کیوں کہ نکل اس کے نیچے گرنے کی وجہ سے باہر نکل گیا تھا اس کی پھدی کے پانی سے گیلا تھا میں انے وا اسکے اوپر گرتے ہی گھسا مارا اس کی دلخراش آواز نکلی آہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہ کڈ باہر ایہنوں کتیا آہ کتھے پا دتا ای اس نے رونا شروع کر دیا ۔میری تو چنڈ بندوق ہو گئی مجھے کچھ سمجھ نہ آئی لیکن ڈر گیا اسی وقت زورزور سے دروزہ کھٹکا اس کو بھی ہوش آگیا اس جلدی سے میرے نیچے سے نکل کر اپنی شلوار اٹھائی اور پہن لی اور مجھے کہا ہن بدھواں وانگوں منہ کھول کے کیوں کھڑا ایں جلدی نال شلوار پا کے او بیڈ دے پچھے لک جا میں بھی سمجھ گیا کے بھئی بلو ہن نیں بچدا چھاپا پے گئیا ای اج تیری خیر نیں میں نے جلدی سے شلوار پہنی اس دوران دو دفعہ دروازہ کھڑک چکا تھا ۔چھنو اپنے کپڑے درست کرتی مجھے ایک دفع پھر اشارے سے چھپنے کی جگہ سمجھاتے باہر نکل گئی۔ اس کے پہنچنے تک ایک باہر پھر دروازہ دھڑدھڑ بجا وہ اونچی آواز میں بولی کون ایں  آگے سے بولنے ولے کی آواز سن کر میری گانڈ پھٹ گئی میری ٹانگیں بے جان ہو گئیں ۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور آواز آتی میں بھاگ کر بیڈ کے پیچھے اس جگہ جہاں چھنو اشارہ کر کے گئی تھی چھپ گیا باہر اونچی آواز میں بولنے کی آوازیں آرہی تھیں جو آہیستہ آہستہ آہستہ میرے نزدیک آتی جا رہی تھیں جیسے جیسے وہ آوازیں نزدیک آ رہی تھیں میری سانسیں بند ہوتی جا رہی تھیں میرا پورا جسم کانپ رہا تھا مجھے موت اپنے سر پر نظر آ رہی تھی۔۔۔۔۔

۔۔

 

 

Share this post


Link to post

bohat Achi update thi chenno aur hero ki kya zabardast jori hai abb dekhna hai agay kya hota hai

waiting for next and long update

Share this post


Link to post

Nice story 👌👍

Plz next update jaldi SE de Dy ab .

I m keep waiting

Share this post


Link to post

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×
×
  • Create New...