Jump to content
URDU FUN CLUB

Recommended Posts

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ تاکہ یہ گناہ جاریہ نہ بنے ۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر سے بھی شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین بھی ہو سکتا ہے۔ ڈیٹا شیئر کرنے والہ ممبراس بات کا عملی اقرار کرے گا کہ وہ بروز قیامت فورم انتظامیہ، سٹوری رائیٹر اور فورم ایڈمن کے تمام گناہوں کا اکلوتا وارث ہو گا ۔ اور بروز قیامت اپنی تمام نیکیاں (جو بھی اس کے نامہ اعمال میں ہوئیں ) بروز قیامت مجھے دینے کا پابند ہو گا۔ اگر کوئی ممبر اب بھی ایسا کرتا ہے اور گناہ جاریہ کا سبب بنتا ہے ۔ تو اس شرط کو ایگری کرتے ہوئے شیئر کر سکتا ہے ۔ فورم کو اس ایگری منٹ پر اجازت دینے میں کوئی اعتراض نہیں ۔ ایڈمن اردو فن کلب

 حیدر ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوا اس کا ایک بھائی تھا جو کہ ااس سے بڑا تھا اس کے والد محنت کر کے دونوں کو پڑھایا لیکن کوئی ملازمت نہ مل سکی۔

اس کے بڑھے بھائی کا امجد تھا جس نے کمپیوٹر سائنسز میں ماسٹرز کیا ہوا تھا ۔ملازمت نہ مل سکی ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھانے لگ گیا۔ساتھ ساتھ اس نے حیدر کو بھی پڑھانا جاری تھا حیدر پڑھائی میں اچھا تھا اس لیے ہر کلاس اچھے نمبروں سے پاس کرتا گیا اور بی ایس میتھ فزکس کر گیا حالات کی تنگی کی وجہ سے اس نے وہ سب نہ کیا جو اس کی کلاس کے باقی لڑکے کرتے تھے جیسے لڑکیوں سے دوستیاں اور سگریٹ نوشی مستی میں گھومنا پھرنا اور اس کے بعض دوست تو اس سب بھی آگے تھے جیسے شراب کباب کی محفلیں سجاتے ڈانس کلب جاتے شیشہ پیتے اور پھر کلاس میں یونیورسٹی میں خوب بڑھا چڑھا کر بیان کرتے جیسے ہر نشئی نشہ کرنے کے بعد اس کی تعریفیں کرتا ہے کہ اصل دنیا ہی یہ ہے جو مزہ اس میں ہے وہ کسی اور چیز میں نہیں حیدر بھی یہ سب دیکھتا اور اس کا بھی دل کرتا کہ اس کی ایک گرل فرینڈہو وہ اس کو اپنی بائیک پر اپنے پیچھے بٹھا کر گھمائے اور ہوٹل میں اس کے ساتھ رات گزارے خوب جم کر اس کی چودائی کرے  حیدر یونیورسٹی کے آخری سال میں پہنچ چکا تھا اور ابھی تک وہ لڑکی کے پرشباب جسم کے لمس کے احساس سے آشنا نہیں ہو پایا تھا ۔

ایک طرف تو اس کی غربت اور دوسری طرف اس کے کلاس فیلوز کی عیاشیاں دونوں نے اس پر عجیب سا اثر ڈالا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس نے جیسے ہی گریجویشن مکمل کیا آگے پڑھنے سے انکار کر دیا اب اس کے پاس ایک جواز بھی تھا کیونکہ اس کے بھائی کی شادی ہو چکی تھی اور اس کے اخراجات بڑھ گئی تھے اس لیے حیدر نے یہ جواز سامنے رکھ کر اپنے ابو کو منا لیا کہ اگر پڑھنے کی بجائے کوئی نوکری کر لوں تو فھر کے حالات بھی بھتر ہو جائیں گے اور ہو سکتا ہے کچھ پیسے بچا کرمیں اپنی پڑھائی کو پھر سے شروع کر دوں اس کے بھائی سرسری سا سمجھانے کی کوشش کی کیونکہ وہ بھی جانتا تھا اب اخراجات نہیں اٹھا سکتااس لیے اس نے بھی حیدر سے اتفاق کیا اور یوں حیدر کو ایک بھی اس کے بھائی نے ایک پرائیویٹ سکول میں میتھ کے ٹیچر جی حیثیت سے رکھوا دیا حیدر کی لاٹری لگ گئی کیونکہ جس سکول میں اس کو ملازمت ملی وہ گرلز تھا 

حیدر اپنی شرمیلے پن کی وجہ سے جو کہ شرمیلہ پن نہیں احساس کمتری تھا بہت جلد انتظامیہ کی نظر میں آگیا۔انتظامیہ نے اس پر بھروسہ کیا اور اس کے حالات دیکھتے ہوے سیکنڈ ٹائم سکول میں ہی اکیڈمی چلانے کی اجازت دے دی جبکہ بچیاں بھی سکول کی تھیں جن کو پڑھانا تھا حیدر کی عمر بیس سال ہو گیاوہ خود ابھی سٹوڈنٹ ایج میں تھا اسی دوران اس کو 16،17 ،18 سال کی لڑکیوں کو پڑھانے کا موقع مل گیا ۔ تو آپ خود سوچو کیا ہونا تھا۔دوسری طرف جیسے ہی اس کے پاس پیسے آنا شروع ہوئے اسکی سوئی ہوئی خواہشات جاگنے لگیں اس نے اہنے کلاس فیلوز سے رابطے شروع کیے اور ان کی محفلوں میں شامل ہونے لگ گیا وہ بھی اکثر ہفتہ کی رات کو ان کے ساتھ محفل کرتا شروع شروع میں بات سادہ سگریٹ تک محدود رہی پھر ان کی دیکھا دیکھی سگریٹ سے شیشہ پھر شیشے سے پکا سگریٹ اور کچھ عرصہ بعد ایک دو جام شراب بھی پینے لگ گیا لیکن یہ سب وہ ہفتہ کی رات کرتا کیونکہ اگلے دن چھٹی ہوتی تھی وہ آرام کرتا ۔

انہیں دنوں گرمیوں کی چھٹیاں ہو گئیں تو سکول بند ہو گئے ۔ چند دن بعد سکول کی پرنسپل نے حیدر کو بلایا اور کہا کہ بچیوں کے والدین اسرار کر رہے ہیں کہ ان کو اکیڈمی پڑھایا جائے آپ اسی ٹائم پر اکیڈمی شروع کر دیں آپ کی آمدنی بھی بہتر ہو جائے گی۔ 

اندھے کیا چاہے دو آنکھیں

وہ تو پہلے ہی پریشان تھا کہ اب رات کی محفلوں کا خرچہ کیسے پورا کرے گا کیونکہ پہلے وہ اکیڈمی کے پیسوں میں سے لگاتا تھا ساری تنخواہ اپنے ابو دے دیتا تھا ۔

بس یہں سے اس کی زندگی نے موڑ کیا اور وہ چدکیا ں کرنے لگ گیا۔ میڈم نے اس سکول کی ایک چابی دے دی کہ آپ سکول کھول کر پڑھا لیا کرنا کچھ دن نارمل چلتا رہا پھر اس کی روٹین بدلنے لگ گئی سیدھا سادھا حیدر جو لڑکیوں سے شرماتا نظر آتا تھا ان کی آنکھوں میں دیکھنے لگ گیا اس کی آنکھیں گہری تھیں ایک طرف شراب نوشی نے بھی اس کی آنکھوں کو نشیلہ کر دیا تھا ۔

لیکن ابھی بھی وہ کوئی ایسی ویسی بات کرنے سے ڈرتا تھا۔اسی عرصہ میں ایک 10کلاس میں پڑھنے کے لیے آتی تھی جس کا نام خوشی تھا ۔ اس کا چھوٹا بھرابھرا جسم لا ل گلابی رنگت چہرے کے نقوش تبت کی عورتوں سے ملتے تھے 10 کلاس میں ہونے کے باوجود اس کا فگر کمال تھا چھوٹی چھوٹی آنکھیں تھیں لیکن جسم کی بناوٹ کچھ ایسی تھی کہ دیکھنے والا بار بار دیکھنے پر مجبور ہو جاتا تھا۔ 38سائز کے ممے 32 کی کمر اور 36 کی باہر کو نکلی ہوئی گانڈ پیٹ بلکل نہ ہونے کے برابر جس کی وجہ سے اس کے ممے دلکش نظارہ پیش کرتے تھے دیکھنے والے دعوت نظارہ دیتے تھے کہ ہیں ہم دیکھنے کی چیز ہمیں بار بار دیکھو 

اور دیکھنے والے کا لن اس کے چلنے پر بے اختیار جھٹکے کھانے لگ جاتا تھا ۔غرض خوشی ایک چلتا پھرتا آگ کا شعلہ تھی ۔

ہوا کچھ یوں کہ سوموار کا دن تھا حیدر بھی روٹین بدل چکی تھی اس نے اپنے سرور کا سامان سکول میں اپنی الماری میں رکھ لیا تھا چابی تو اس کے پاس ہی ہوتی تھی تو اکثر وہ رات کو وہاں اکیلا ہی محفل جما لیتا کبھی کسی سٹوڈنٹ کو سوچ کر کسی بینچ پر مٹھ گرا دیتا تھا ۔

سوموار کا دن تھا اس کی آنکھیں رات کی مہ نوشی کی وجہ سے جل رہی تھیں وہ الگ واشروم کی بجائے کامن واش روم میں چلا گیا کہ آنکھوں پر پانی مار لوں کچھ جلن ختم ہو جائے وہ بیسن پر کھڑا اپنے منہ پر پانی کے چھینٹے مار رہا تھا کہ خوشی آئی اس نے سلام کیا اور اس کی طرف دیکھ کر مسکرائی اور اپنی انگلیا ں چٹکھانے لگ گئی ایک ادا سے اور آہستہ سے بولی سر ۔۔۔۔۔۔۔

حیدر نے سوالیہ انداز سے دیکھا تو بولی سر ۔۔۔ وووہ ہ 

نہ آپ سے سے ایک بات پوچھنی تھی حیدر نے ہاں جی پوچھو اس نے منہ پر پانی کے چھینٹے مارنے چھوڑ کر اپنی ساری توجہ اس کی طرف کر لی۔ 

وہ پھر جھجکتے ہوئے بولی وہ آآآپ پپ کی آنکھیں کیا کہتی ہیں ۔حیدر نے پھر سوالیہ انداز میں پوچھا کیا کہتی ہیں تو کچھ دیر خاموش رہ کر بولی مجھے تو بہت کچھ کہتی ہیں ۔

حیدر کو سمجھ نہ آئی تو اس نے کہا کل آپ کتنے بجے آئیں گے حیدر کیونکہ جلدی آ جاتا تھاکیونکہ اس نے سکول کھلنا ہوتا تھا تواس نے بتا دیا کہ وہ آ پ لوگوں کے ٹائم سے آیک گھنٹا پہلے آ جاتاہے۔

سب کے جانے بعدحیدر نے خوشی کی باتوں پر غور کرنا شروع کیا تو اس کی آنکھوں میں اس کا قیامت خیز فگر گھوم اس کو ہوشیاری آ گئی اس کو ساتھ ہی طلب جام ہو گئی۔اس نے پھر شراب کی بوتل نکالی سکول کے مین گیٹ کو تالا لگایا اور شراب پینا شروع کر دی جیسے جیسے وہ پیتا جاتا اس کی آنکھوں میں خوشی کی تصویر واضح ہوتی جاتی کرتے کرتے اس نے خوشی کو ننگا کر لیا اس کے 38 کے مموں پر ہلکا براؤن رنگ کا چھوٹا سا نپل اس دعوت چوسائی دینے لگا۔وہ بے اختیار ہو کر اس کے مموں پر ٹوٹ پڑا اور کبھی چوستا کبھی کاٹتا کبھی اس کے ایک مماں چوستا کبھی دوسرے سے انصاف کرتا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس کے ان رس بھرے تنے ہوئے جانبازوں سپاہیوں کو اپنے منہ چھپا لے وہ اپنی امیجنیشن میں اسقدر کھو چکا تھا اس پتہ ہی نہ چلا کہ کب اپنا لن نکالا کب مٹھ مارنی شروع کی کب اس نے امیجنیشن میں اس کی ٹانگیں اٹھائی اور اپنا 7,5 انچ کاموٹا لن اسکی گلابی رس بھری میں اتار دیا اور دیوانہ وار ایک سٹائل میں چودتے چودتے اس کی پھدی میں فارغ ہو گیا۔

 

Share this post


Link to post

Acha start liya appnay 

abb agay dekhtay hain kya hota hai

waiting for next

Share this post


Link to post

میں نے 3 گھنٹے لگا کر یہاں پر ہی اپڈیٹ لکھی جب پوسٹ کرنے لگا تو غائب ہو گئی ایڈمنسٹریٹر صاحب کیا کوئی اس کا حل ہو جو لکھی گئی لیکن پوسٹ نہیں ہو پائی کہیں تو سیو ہوئی ہو گی اگر ہو تو پلیز اس کا کچھ کریں ۔

Share this post


Link to post
On 1/30/2021 at 7:07 PM, Rehan979 said:

 

دیوانہ وار چودتے چودتے خوشی کی لیس دار پھدی میں فارغ ہو گیا اس کو کوئی ہوش نہیں تھاکہ وہ کہاں ہے اور کیا کر رہا ہے وہ دنیا و مافیہا سے بیگانہ ہو کر سو گیا اس کو موبائل کی دھاڑ نے ہوش کی دنیا میں لا ٹپکا وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اس کو یہ بھی یاد نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے اور کس حال میں ہے اور کیا کر رہا ہے۔ اس ادھر اُدھر ہاتھ پاؤں مار کر آواز جو سمجھنے کی کوشش کی لیکن تب تک موبائل فون کی گھنٹی بند ہو چکی تھی وہ پھر سے شانت ہو گیا ابھی وہ اپنی دنیا میں واپس پہنچنے ہی والا تھا کہ پھر سے موبائل چیخنے لگ گیا اس نے جلدی سے آواز کی سمت ہاتھ بڑھایا اور موبائل کو اٹھا کر دیکھا اس کو دھندلا سا نظر آیا کہ کسی کی کال آ رہی ہے کیوں کہ اس وقت وہ پوری طرح سے ہوش میں نہیں تھا اس لیے اسکو نظر بھی صحیح نہیں آ رہا تھا اس نے کال ریسیو کی اور موبائل کو اپنے کان سے لگایا اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا اس کے کانوں میں مدھر گیت جیسی کوئل کی کوک جیسی آواز نے رس گھولا وہ آواز کے سحر میں کھو گیا اور بھول گیا کہ اس نے کچھ بولنا بھی ہے ادھر سے وہ سپنوں جیسی کوکو کے گیت جیسی آواز اس کے کانوں میں کسی رومانچک گیت کی طرح بج رہی تھی آواز کے تال میں میں کھو کر وہ بھر سے ہوش سے بیگانہ ہوتا گیا ۔

کچھ دیر بعد اس کی آنکھ کھلی تو اس کو کسی کی کال اور رس بھری آواز کا یاد آیا اب وہ کچھ کچھ سمجھ رہا تھا کہ اس کو کسی نے کال کی تھی کس نے کی تھی کیوں کی تھی کیا بول رہی تھی کس لیے بول رہی تھی یا نہیں تھا یاد تھا تو اس کی آواز کا رس گھولنا اس کے کانوں میں لتا منگیشکر کے سروں جیسا راگ الاپنا۔اس نے پھر سے موبائل ڈھونڈا اور نیم وا آنکھوں سے موبائل کی سکرین کو دیکھتے ہوئے کال بیک کی ابھی آدھی بیل بھی نہیں ہوئی تھی کہ کال ریسیو ہو گئی اس کے کانوں میں پھر سے وہی خوبصورت پیاری سی کسی گائیکا کے شہوت انگیز گیت کی طرح آواز آئی ہیلو کیاہوا تھا پہلے آپ بول نہیں رہے تھے اس کے منہ سے بس یہ ہی نکلا نیند میں تھا تو ادھر سے میٹھی سی آواز میں کہا گیا کوئی بات نہیں آپ سو جاو میں نے آپ کو خوامخواہ میں جگا دیا۔

وہ پھر سے آواز کے سحر میں جکڑ گیا اور اس کی زبان کو جیسے کسی چیز نے جکڑ لیا ہو وہ کچھ نہ بول پایا وہ اس شیریں آواز کی ملکہ سے بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا لیکن بولنے سے قاصر ہو ہو چکا تھا کچھ وہ آواز اس کے کانوں میں رس گھولتی رہی پھر بند ہو گئی اور ادھر تو اس کے ہوش کی بتی پہلے ہی گل ہو چکی تھی۔ 

پھر جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنی اردگرد دیکھنے کی کوشش کی تو حیران ہوا کہ میں کہاں ہوں کافی دیر اپنے بوجھل دماغ پر زور دینے کے بعداس کو کچھ دھندلی سی جھلکیاں دکھائی دیں جیسے سب بچیوں کا جانا اس کا اس ہوش سے بیگانہ کر دینے والے محلول کی بوتل اٹھانا پھر جام بنانا اور کسی کو چودنا حسیں وجمیل چہرہ کشادہ سینہ باہر کو نکلے کولہے ملے لبوں والی پھدی اس میں جاتا لن پھر لن سے نکلتا اس کا مادہ رسیلے ہونٹ لیکن کس کے تھے کیسے تھے کون تھی کیسے آئی کچھ یاد نہیں تھا ۔

اس نے خود کو کوسا پھر اپنے آپ کو سنبھال کر اٹھنے کی کوشش کی تو اس کو سپنی ٹانگوں پر کچھ اکڑا یوا محسوس ہوا اس نے جیسے ہی نیچے دیکھا تو اس کو زور کا جھٹکا لگا کیوں کہ اس کا نچلا دھڑ بالکل ننگا تھا اور اس کی رانوں پر سفید رنگ کا جما ہوا کچھ تھا ہاتھ لگانے پر اس کو احساس ہوا کہ یہ اس کے لن سے نکلنے والی اس کی منی ہے جو رات کسی کی پھدی میں نکالی تھی پھر سے یاد کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکا۔

اس کے سر میں درد شروع ہو گیا لیکن یاد کچھ نہ آیا تو سب کچھ چھوڑ کر وہ اٹھا اور ضروری حاجات سے نبردآزما ہونے کے لیے اسی طرح ننگا ہی واشروم جانے لگا پھر یاد آنے پر اپنے شلوار آٹھائی اور واشروم گھس گیا اچھی طرح اپنے جسم کی صفائی کی اس دوران بھی اس کے دماغ میں رات کے واقعات گھومتے رہے لیکن کچھ واضح طور پر سمجھ نہیں آئی۔

تو اس نے اس سب کو بعد کے لیے چھوڑ دیا اور فریش ہو کر باہر نکل آیا۔ پھر سکول سے باہر آکر اس نے ایک جگہ سے ناشتہ لیا اور واپس آگیا جب اس نے آسمان کی طرف دیکھا تو اس احساس ہوا کہ دوپہر ہونے والی ہے پھر سے سوچ میں ڈوب گیا اسی ظرح سوچوں میں گم واپس آیا دروازہ کھولا اور ایک روم میں بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگ گیا۔ ابھی اس تھوڑا سا ہی ناشتہ کیا ہو گا کہ اس کسی کے دیکھنے کا احساس ہوا جیسے کوئی پوری دلجمعی سے اس کو دیکھ رہا ہے اس نے نظریں اٹھائیں تو پھر واپس آنا بھول گئی اک مہ پروین اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ اپنے سینے پر ہاتھ باندھے کھڑی مسکراتی آنکھوں کے ساتھ اس کی کر طرف ہوشربا انداز سے دیکھنے میں مگن تھی آنکھوں سے آنکھیں ملیں تو جھپکنا بھول گئیں گلابی سوٹ سرخ وسفید رنگت کالا اسکارف اپنے چہرے کے گرد لپیٹے جس سے اس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح دمک رہا تھا ہونٹوں پر قاتلانہ مسکان سجائے دروازے کی چوکھٹ سے اپنی کمر ٹکائے ایک سائیڈ پر گانڈ نکالے پاوں کے اوپر پاوں گزار کر دائیں پاؤں کو ہلکا ہلکا ہلاتے ہوئے اس کے جزبات میں ہلچل مچادی۔ پھر اس پری رو نے اک ادا سے اپنے پاوں کو سیدھا کیا حیدر کے جزبات کو مزید بھڑکایا کیوں کہ اس طرح اس کے گداز سینے میں بھونچال آگیا جیسے دو پہاڑیاں زلزلے سے لرز کر رہ گئی ہوں ۔ پھر اس کے پاؤں میں حرکت ہوئی ادھر اس کے پاؤں حیدد کی طرف اٹھے ادھر حیدر محودبانہ انداز میں اس مرمریں جسم کی مالک کے احترام میں اپنے کانپتے جسم کے ساتھ اٹھنے لگا جیسے جیسے وہ اس کی طرف بڑھتی جا رہی تھی حیدد کے دماغ کی سکرین ہر ایک اور فلم چلتی جا رہی تھی ادھر اس مے سینے کا زیروبم ادھر حیدر کی دھڑکن کا انتشار ادھر اس حسینہ کے ماڈل کی طرح اٹھتے قدم ادھر حیدر کی رکتی سانس جیسے ہی وہ حیدر کے قریب آئی حیدر پھر سے ہوش سے بیگانہ ہو کر گرنے لگا تو اس دلربا کے ہاتھوں نے حیدر کو تھام لیا اس کوشش میں اس حسین جسم کی مالک کے صندلی جسم کا لمس حیدر کے ہواس پر اثر کر گیا اور پھر حیدر ۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post

دیوانہ وار چودتے چودتے خوشی کی لیس دار پھدی میں فارغ ہو گیا اس کو کوئی ہوش نہیں تھاکہ وہ کہاں ہے اور کیا کر رہا ہے وہ دنیا و مافیہا سے بیگانہ ہو کر سو گیا اس کو موبائل کی دھاڑ نے ہوش کی دنیا میں لا ٹپکا وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اس کو یہ بھی یاد نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے اور کس حال میں ہے اور کیا کر رہا ہے۔ اس ادھر اُدھر ہاتھ پاؤں مار کر آواز جو سمجھنے کی کوشش کی لیکن تب تک موبائل فون کی گھنٹی بند ہو چکی تھی وہ پھر سے شانت ہو گیا ابھی وہ اپنی دنیا میں واپس پہنچنے ہی والا تھا کہ پھر سے موبائل چیخنے لگ گیا اس نے جلدی سے آواز کی سمت ہاتھ بڑھایا اور موبائل کو اٹھا کر دیکھا اس کو دھندلا سا نظر آیا کہ کسی کی کال آ رہی ہے کیوں کہ اس وقت وہ پوری طرح سے ہوش میں نہیں تھا اس لیے اسکو نظر بھی صحیح نہیں آ رہا تھا اس نے کال ریسیو کی اور موبائل کو اپنے کان سے لگایا اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا اس کے کانوں میں مدھر گیت جیسی کوئل کی کوک جیسی آواز نے رس گھولا وہ آواز کے سحر میں کھو گیا اور بھول گیا کہ اس نے کچھ بولنا بھی ہے ادھر سے وہ سپنوں جیسی کوکو کے گیت جیسی آواز اس کے کانوں میں کسی رومانچک گیت کی طرح بج رہی تھی آواز کے تال میں میں کھو کر وہ بھر سے ہوش سے بیگانہ ہوتا گیا ۔

کچھ دیر بعد اس کی آنکھ کھلی تو اس کو کسی کی کال اور رس بھری آواز کا یاد آیا اب وہ کچھ کچھ سمجھ رہا تھا کہ اس کو کسی نے کال کی تھی کس نے کی تھی کیوں کی تھی کیا بول رہی تھی کس لیے بول رہی تھی یا نہیں تھا یاد تھا تو اس کی آواز کا رس گھولنا اس کے کانوں میں لتا منگیشکر کے سروں جیسا راگ الاپنا۔اس نے پھر سے موبائل ڈھونڈا اور نیم وا آنکھوں سے موبائل کی سکرین کو دیکھتے ہوئے کال بیک کی ابھی آدھی بیل بھی نہیں ہوئی تھی کہ کال ریسیو ہو گئی اس کے کانوں میں پھر سے وہی خوبصورت پیاری سی کسی گائیکا کے شہوت انگیز گیت کی طرح آواز آئی ہیلو کیاہوا تھا پہلے آپ بول نہیں رہے تھے اس کے منہ سے بس یہ ہی نکلا نیند میں تھا تو ادھر سے میٹھی سی آواز میں کہا گیا کوئی بات نہیں آپ سو جاو میں نے آپ کو خوامخواہ میں جگا دیا۔

وہ پھر سے آواز کے سحر میں جکڑ گیا اور اس کی زبان کو جیسے کسی چیز نے جکڑ لیا ہو وہ کچھ نہ بول پایا وہ اس شیریں آواز کی ملکہ سے بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا لیکن بولنے سے قاصر ہو ہو چکا تھا کچھ وہ آواز اس کے کانوں میں رس گھولتی رہی پھر بند ہو گئی اور ادھر تو اس کے ہوش کی بتی پہلے ہی گل ہو چکی تھی۔ 

پھر جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنی اردگرد دیکھنے کی کوشش کی تو حیران ہوا کہ میں کہاں ہوں کافی دیر اپنے بوجھل دماغ پر زور دینے کے بعداس کو کچھ دھندلی سی جھلکیاں دکھائی دیں جیسے سب بچیوں کا جانا اس کا اس ہوش سے بیگانہ کر دینے والے محلول کی بوتل اٹھانا پھر جام بنانا اور کسی کو چودنا حسیں وجمیل چہرہ کشادہ سینہ باہر کو نکلے کولہے ملے لبوں والی پھدی اس میں جاتا لن پھر لن سے نکلتا اس کا مادہ رسیلے ہونٹ لیکن کس کے تھے کیسے تھے کون تھی کیسے آئی کچھ یاد نہیں تھا ۔

اس نے خود کو کوسا پھر اپنے آپ کو سنبھال کر اٹھنے کی کوشش کی تو اس کو سپنی ٹانگوں پر کچھ اکڑا یوا محسوس ہوا اس نے جیسے ہی نیچے دیکھا تو اس کو زور کا جھٹکا لگا کیوں کہ اس کا نچلا دھڑ بالکل ننگا تھا اور اس کی رانوں پر سفید رنگ کا جما ہوا کچھ تھا ہاتھ لگانے پر اس کو احساس ہوا کہ یہ اس کے لن سے نکلنے والی اس کی منی ہے جو رات کسی کی پھدی میں نکالی تھی پھر سے یاد کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکا۔

اس کے سر میں درد شروع ہو گیا لیکن یاد کچھ نہ آیا تو سب کچھ چھوڑ کر وہ اٹھا اور ضروری حاجات سے نبردآزما ہونے کے لیے اسی طرح ننگا ہی واشروم جانے لگا پھر یاد آنے پر اپنے شلوار آٹھائی اور واشروم گھس گیا اچھی طرح اپنے جسم کی صفائی کی اس دوران بھی اس کے دماغ میں رات کے واقعات گھومتے رہے لیکن کچھ واضح طور پر سمجھ نہیں آئی۔

تو اس نے اس سب کو بعد کے لیے چھوڑ دیا اور فریش ہو کر باہر نکل آیا۔ پھر سکول سے باہر آکر اس نے ایک جگہ سے ناشتہ لیا اور واپس آگیا جب اس نے آسمان کی طرف دیکھا تو اس احساس ہوا کہ دوپہر ہونے والی ہے پھر سے سوچ میں ڈوب گیا اسی ظرح سوچوں میں گم واپس آیا دروازہ کھولا اور ایک روم میں بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگ گیا۔ ابھی اس تھوڑا سا ہی ناشتہ کیا ہو گا کہ اس کسی کے دیکھنے کا احساس ہوا جیسے کوئی پوری دلجمعی سے اس کو دیکھ رہا ہے اس نے نظریں اٹھائیں تو پھر واپس آنا بھول گئی اک مہ پروین اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ اپنے سینے پر ہاتھ باندھے کھڑی مسکراتی آنکھوں کے ساتھ اس کی کر طرف ہوشربا انداز سے دیکھنے میں مگن تھی آنکھوں سے آنکھیں ملیں تو جھپکنا بھول گئیں گلابی سوٹ سرخ وسفید رنگت کالا اسکارف اپنے چہرے کے گرد لپیٹے جس سے اس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح دمک رہا تھا ہونٹوں پر قاتلانہ مسکان سجائے دروازے کی چوکھٹ سے اپنی کمر ٹکائے ایک سائیڈ پر گانڈ نکالے پاوں کے اوپر پاوں گزار کر دائیں پاؤں کو ہلکا ہلکا ہلاتے ہوئے اس کے جزبات میں ہلچل مچادی۔ پھر اس پری رو نے اک ادا سے اپنے پاوں کو سیدھا کیا حیدر کے جزبات کو مزید بھڑکایا کیوں کہ اس طرح اس کے گداز سینے میں بھونچال آگیا جیسے دو پہاڑیاں زلزلے سے لرز کر رہ گئی ہوں ۔ پھر اس کے پاؤں میں حرکت ہوئی ادھر اس کے پاؤں حیدد کی طرف اٹھے ادھر حیدر محودبانہ انداز میں اس مرمریں جسم کی مالک کے احترام میں اپنے کانپتے جسم کے ساتھ اٹھنے لگا جیسے جیسے وہ اس کی طرف بڑھتی جا رہی تھی حیدد کے دماغ کی سکرین ہر ایک اور فلم چلتی جا رہی تھی ادھر اس مے سینے کا زیروبم ادھر حیدر کی دھڑکن کا انتشار ادھر اس حسینہ کے ماڈل کی طرح اٹھتے قدم ادھر حیدر کی رکتی سانس جیسے ہی وہ حیدر کے قریب آئی حیدر پھر سے ہوش سے بیگانہ ہو کر گرنے لگا تو اس دلربا کے ہاتھوں نے حیدر کو تھام لیا اس کوشش میں اس حسین جسم کی مالک کے صندلی جسم کا لمس حیدر کے ہواس پر اثر کر گیا اور وہ اس کے سینے سے جا لگا وہ دلربا پریشانی میں اس کے منہ پر ہاتھ پھیرنے لگ گئی جو اس کی نظر میں حیدر کو ہوش میں لانا تھا لیکن حیدر کے لیے مدہوشی میں اضافے کا باعث بن گیا ایک تو وہ رات بھر مشروب پیتا رہا ابھی تک اس کے نشت میں تھا دوسرا اس پر سب کچھ بھول جانے کی پریشانی کا اثر پھر سب سے بڑھ کر اس حسن جاناں کے صندلی بدن کی مدہوش کر دینے والی خوشبو کا اثر وہ اتنے کچھ کی تاب نہ لا سکا اس کی برداشت جواب دے گئی جس خوبصورت لچکیلے بدن والی مست کر دینے والی خوشبودار مہکتے پھول سینےمیں چھپائے مموں والی ماہ رخ کو وہ پوری رات ہوش سے بیگانہ ہو کر خواب میں چودتا رہا تھا جب وہ اپنی تمام قاتلانہ حسن کے ساتھ اس کے سامنے آئی تو اس کی سوچنے کی صلاحیت مفلوج ہو گئی اس کے دماغ میں اتنی شدت سے رات کے اندھیرے کی واردات کے سین آئے کہ وہ وقتی طور پر ڈگمگا گیا اور اپنی جان کی دشمن کے کومل ہاتھوں میں ڈگمگا گیا پھر اس پری چہرہ مہ جبیں کے جسم کا لمس ملتے ہی ایک جھٹکا لگا جس کا الٹا اثر اسکی ٹانگوں میں لگے اس گوشت کے ٹکڑے نے لیا اور اپنی ازلی فطرت سے اکڑ کر کھڑا ہو گیااور حیدر نے اس موقع کو غنیمت جانا اور اپنے ہاتھ اس حسینہ کے سینے کے ابھاروں پر رکھ دئیے اس کے ہاتھ رکھنے کی دیر تھی اس نازنین کو بھی ہوش آیا جلدی سے حیدر کو کھڑا کیا اور بولی کیا ہوا رات بھی آپ بول نہیں رہے تھے آپںکی طبیعت تو ٹھیک ہے حیدر نے ہکلاتے ہوے کہا وہ نیند آ گئی تھی ابھی ںس ہتہ نہیں کیا تھا خوشی تم دیکھ کر تمہارے حسن کے جلوؤں کی تاب نہ لا سکا بس اور کچھ نہیں خوشی نے شرماتے ہوے کہا اتنی بھی خوبصورت نہیں آج سے پہلے تو کبھی نہیں ہوے تو حیدر بولا میں جانتا یوں کیسے برداشت کرتا تھا تمہارا حسن ایسا قاتلانہ ہے کہ میرے جیسا بندہ تو ایسے ہی جان کی بازی لگا دے ۔ خوشی جب سے تم آئی ہوں اس سکول میں تب سے تمہیں چاہتا ہوں بس کبھی ہمت نہیں کر پایا کہیں اس حسن کے جلوؤں سے محروم نہ جاوں اتنی تعریف سن کر تو کوئی بھی لڑکی ہھدی دینے کو تیا ر ہو جائے پھر یہ تو خود چل کر آئی تھی ابھی تک خوشی نے حیدر کے ہاتھ پکڑ رکھے تھے حیدر نے ہاتھ تھام کر اپنی آنکھوں سے لگائے اور چوم لیے چوشی بھی بے اختیار اس کے سینے سے لگ گئی آہ حیدر جس نے کبھی خواب بھی نہیں دیکھا تھا کہ ایسی سیکسی جسم کی مالک لڑکی اس سے بات بھی کرے گی وہ اس کے سینے سے اپنے مکھن کے پیڑے لگائے کھڑی تھی سینے سے لگنے کی دیر تھی حیدر کا لن کی ناف ہر جا لگا خوشی نے ایک جھرجھری لی اور زور سے اس کو اپنے ساتھ بھیچ لیا۔

حیدر میں بھی ہمت آچکی تھی اس نے اپنے ہونٹ اس کی گردن پر دائیں کان کے قریب لگا دیے ایک جھٹکا کھا کر خوشی مچلی اور ہووووں کیا یہ اس کی رضامندی کا اشارہ تھا حیدر نے اپنے ہونٹوں کا کام جاری رکھا اور ہاتھوں کو اس کے ملائم کمر پر پھیرنا شروع کر دیا کچھ دیر بعد ایک ہاتھ اس کے ممے ہر رکھا ممے اتنے نرم اور ملائم تھے کہ جیسے مکھن کی ڈلی ہاتھ میں دب رہے تھے۔ اس نے مما دبایا خوشی نے سسکاری بھری حیدر نے اپنا منہ آگے کیا تو خوشی ںے اس کے ہونٹ چوم لیے اور بولی آئی لو یو میں آپ سے بہت زیادہ پیار کرتی ہوں حیدر نے اس کی بات کا جواب اسکے شیریں ہونٹوں ہر اپنے لب رکھ کر دیا اور پھر اس کا اوپر والا ہونٹ چوسنے لگ گیا اس نے بھی اپنی گرم جوشی دکھائی نیچے والا ہونٹ سپنے لبوب میں لے چوسنے لگ گئی حیدر کا ایک ہاتھ اس کے ممے پر دوسرا اس کی کمر کی پیمائش کر رہا تھا اور ہونٹ ہونٹوں جو چومنے میں مصروف تھے کن نیچے سے اپنی دوہائی دے رہا تھا پھر کیا تھا کبھی حیدر نیچے والا ہونٹ چوسنے لگ جاتا کبھی خوشی کبھی خوشی اوپر والا ہونٹ چوسنے لگ جاتی اور وہ نیچے والا جب چوم چوم کر ایک دوسرے کے ہونٹوں کا رنگ بدل گیا تو حیدر جس کے ہاتھ نے اس کی قمیض کافی اوپر کر دی تھی تھوڑا آگے بڑھنے کی سوچنے لگا اسی وقت خوشی بولی کوئی آ نا جوئے تو حیدر نے وقت ضائع نہ کرنے کا فیصلاکیا جلدی سے خوشی کو میز ہر لیٹایا اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجتی جلدی سے اس کی شلوار کھینچ کر نیچے کی اور اس کی ٹانگیں اٹھا لیں اور اپنی شلوار کا ناڑا کھول لیا اس لن ایک جھٹکےسے تن کر کھڑا ہو گیا اس کی شلوار نیچے ٹانگوں میں جا گری خوشی نے پھر ہلکا سا احتجاج کرنا اپنا حق سمجھا اور بولی کوئی آ جائےگا لیکن اس کے انداز میں جلدی ڈال دو سئیاں ولی بات تھی جس کو حیدر نے خوب سمجھا اور اور لن کو پکڑ کر اس کی سختی کا اندازہ لگایا اور اس کی رس بھر ی پانی سے لبالب اٹی ہو ئی پھدی کر آپس میں ملے ہوئے ہونٹوں پر رکھ دیا اس کی پھدی کے لب آپس میں ملے ہوئے تھے لیکن ان کے کناروں سے پانی کے قطرے نکل کر اپنی حالت کا رونا رو رہے تھے حیدر نے لن لبوں میں پھنسایا اور اس کی ٹوپی کو گیلا کیا تو خوشی تڑپتے ہوے ایک بار بولی نہ کرو ناں اور ساتھ سئیییی کیا جو اس کے اندر اٹھنے والی شدید خوہش کا اظہار تھا کہ پھاڑ ڈالو آج اس کنواری پھدی کو لیکن حیدر نے کافی گندی فلمیں دیکھ رکھی تھیں اس کو بخوبی اندازہ تھا کہ درد بہت ہوتی ہے لن اتنی آسانی سے کنواری ہھدی میں نہیں جاتا اس کیے اس نے کن کی ٹوپی کو خوب اس کی پھدی سے نکلنے والے پانی سے گیلا کیا اور پھر اپنے ہاتھ ہر تھوک کا گولا پھینک کر اس کو لن پر لگایا جب اس کو تسلی ہو گئی کہ لن خوب گیلا ہے تو وہ اس کے اوپر آیا اور نیچے سے لن اس کی پھدی میں پھنسا کر اپنے ہونٹ اس کے موٹے رسیلے ہونٹوں پر رکھے تو خوشی نے بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو اپنی ہونٹوں میں جکڑ لیا حیدر نے بھی اچھا ریسپانس دیا لیکن پھدی میں گھسانے سے پہلے اس کی ٹانگوں کو پکڑ کر بازو ان کے اوپر سے گزردیے جس سے اس کی ٹانگیں تقریباً اس کے مموں سے جا لگیں اور ہونٹ چوسنے میں خوشی کو مصروف دیکھ کر اپنے لن کو جو پہلے سے ہورا راڈ بنا ہوا تھا اور سخت کر کے اس پر زور لگا کر ایک دھکا لگایا تو لن کی ٹوپی خوشی کی پھدی میں اتر کیونکہ حیدر کے لن کا سائز 8 انچ کے قریب اور کافی موٹی ٹوپی تھی اس لیے خوشی کی آہہہ نکلی جو اس کے ہونٹ میں ہی دب گئی اس نے حیدر کو پیچھے دھکیلنے کی کسشش کی لیکن حیدر اس کا پیلے ہی انتظام کر چکا تھا اس کیے ناکام رہی اور اس کے ہونٹوں کو چوسنا جاری رکھا ساتھ ہی تھوڑا پیچھے ہو کر ایک زور دار گھسا مارو اس کا لن کوئی 5 انچ کے قریب اس کے پردہ بکارت کو پھاڑتے ہوئے اس کی فربہ پھدی میں گھس گیا ساتھ ہی خوشی کا جسم کانپ اٹھا۔ اور اس کی آنکھوں میں درد کی کہریں نظر آنے لگیں اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کے قطرو بھی نکل آئے حیدر کچھ دیر رکا اور اور اپنے دائیں ہاتھ سے اس کے 38 سائز کے مموں کو پکڑ لیا اور اپنی زںان خوشی کے منہ میں داخل کر دی خوشی کے لیے زبان کا ذائقہ ایک انوکھا احساس لیے ہوے تھا اس نے حیدر کی زبان کے گرد اپنی نمکین زبان لپیٹ دی اور اپنی پھدی میں ہونے والے درد کو بھول گئی چند منٹ بعد اس نے اپنی گانڈ کو ہلا کر گرین سگنل دیا تو حیدر نے گرین سگنل ملتے ہی جھٹکے شروع کر دیے لیکن آہہستہ آہستہ اپنی سپیڈ کو بڑھانا شروع کیا پھر دونوں پر مستی چڑھنے لگی خوشی کی بھی آوازوں میں سسکاریاں ابھرنے لگیں آآآآ ہہہہککک سسسسئہیہہجج کی آوزیں کمرے میں گونجنے لگیں آہہہہہہہہہہہہ آہہہہہ ہہہممممممممممم آاااااہہہہہہ اس کی آوزقں میں جب زیادہ شدت آ فئی تو حیدر بھی مزے میں ڈوب گیا اس کا لن جو ابھی تک صرف 5 انچ اندر تھا حیدر نے ایک زور دار جھٹکا مارا اور سارا اس جی نازک پھدی میں جڑ تک اتر گیا اس کی زور دار چیخ نکلی اور اس نے حیدر جو دھکا دے کر خود سے الگ کیا حیدر کا توازن برقرار نہ رہا اور پیچھے ہٹا جیسے ہی وہ پیچھے ہٹا اس کی نظر دروازے ہر پڑی تو اس کی گانڈ پھٹ کر ہاتھ میں آ گئی کیونکہ دروازے پر اس وقت کوئی کھڑا تھا لیکن اسکی ایک جھلک ہی حیدر دیکھ پایا اور وہ غایب ہو گیا حیدر نے حیدر نے خوشی کی طرف دیکھا تو اس کو بھی بت بنے دروزے کی سمت دیکھتے پایا۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×
×
  • Create New...