Jump to content
URDU FUN CLUB
asad_malik

میرے گھر کی باتیں

Recommended Posts

السلام علیکم دوستو کیا حال چال ہے امید ہے آپ ٹھیک ہوں گے میرا نام اسد ہے ہے اور اس وقت میری عمر تقریبا 16 سال ہے مہینے میں پنجاب کے علاقے سرگودھا کا رہنے والا ہوں. حال ہی میں نے اپنی میٹرک کی تعلیم مکمل کی ہے اور اپنی دکان کو دیکھتا ہوں ہو جو کہ میرے والد صاحب کی بھی ہے. دکان کے علاوہ آج کل وقت ہونے کی وجہ سے میں کرکٹ کھیلتا ہوں کچھ دن پہلے میں نے یہاں پہلی بار کہانی پڑھیں تو سوچا میں بھی ایک کا نہیں لکھو جو میں نے بچپن سے لے کے اب تک دیکھی ہے امید ہے آپ لوگوں کو پسند آئے گی اس میں تڑکا تھوڑا کم ہوگا کیونکہ یہ حقیقت جو میں نے آنکھوں سے دیکھا ہے اور جو میں نے سنا ہے سب بیان کروں گا اس میں لوگ بھی کم ہوں گے جو کہ میرے گھر کے ہی ہوں گے امید ہے آپ لوگوں کو پسند آئے تو شروع کرتے ہیں.املا کی غلطیوں کو نظرانداز کیجئے گا کیونکہ میں پہلی بار کسی جگہ پر کچھ لکھ رہا ہوں معذرت ہے اس کے لئے پیش کی

 

Share this post


Link to post

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ تاکہ یہ گناہ جاریہ نہ بنے ۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر سے بھی شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین بھی ہو سکتا ہے۔ ڈیٹا شیئر کرنے والہ ممبراس بات کا عملی اقرار کرے گا کہ وہ بروز قیامت فورم انتظامیہ، سٹوری رائیٹر اور فورم ایڈمن کے تمام گناہوں کا اکلوتا وارث ہو گا ۔ اور بروز قیامت اپنی تمام نیکیاں (جو بھی اس کے نامہ اعمال میں ہوئیں ) بروز قیامت مجھے دینے کا پابند ہو گا۔ اگر کوئی ممبر اب بھی ایسا کرتا ہے اور گناہ جاریہ کا سبب بنتا ہے ۔ تو اس شرط کو ایگری کرتے ہوئے شیئر کر سکتا ہے ۔ فورم کو اس ایگری منٹ پر اجازت دینے میں کوئی اعتراض نہیں ۔ ایڈمن اردو فن کلب

تو چلے سب سے پہلے تعارف کر لیتے ہیں میرے دانت کی ایک کنال زمین تھی اور ان کے دو بیٹے تھے میرے تایا اور میرے ابو تو آدھی آدھی کنال دونوں کو دونوں کے حصے میں آئی تو اب 10 مرلے پہ ہمارا گھر بنا ہوا ہے اور اسی کے ساتھ بالکل دس مرلے کا گھر بنا ہوا ہے یہ تب کی بات ہے جب فور کلاس میں پڑھتا تھا میرے گھر میں میں امی اور ابو تھے اور تایا کے گھر میں دائی تایا اور ان کی چھوٹی بیٹی تھی تھی جو کہ تری کلاس میں پڑھتی تھی. اور تقریبا میری ہم عمر تھے ہم دو گھروں میں بہت پیار تھا ہم اکثر بچے بھی دوسرے کے گھر میں آتے جاتے رہتے تھے اور دونوں کے گھروں میں کے بیچ میں ایک دروازہ تھا جس سے آسانی سے اندر جا سکتے تھےمیرے تایا سرکاری کرکے وہ میرے ابو شیخوپورہ میں اس وقت سرکاری ملازم تھے.جبکہ میرے تایا سرگودھا میں ہیں سرکاری ملازم تھے تو دونوں کا سامان تایا ہی لاتے تھے زیادہ تر جب ابو گھر نہیں ہوتے تھے. یہ تھا میرے چھوٹے سے خاندان کا تعارف

تو چلئے دوستو شروع کرتے ہیں ہیں پہلے بھی آپ لوگوں سے عہد کرتا ہوں کہ جو لکھوں گا سچ لکھوں گا. یہ بات ان دنوں کی ہے جب ابو چھٹیوں پہ آئے ہوئے تھے تقریبا گرمیوں کے دن تھے اور جس طرح آپ کو معلوم ہے گرمیوں میں آرام کرتے ہیں دوپہر کے وقت کھانا کھانے کے بعد, میں اور امی ایک ہی چارپائی پہ لیٹے ہو ہوئے تھے میں ان کے آگے لیٹا ہوا تھا اور انہوں نے مجھے جبیں  ڈالی ہوئی تھی اور اس وقت کو مجھ سے ون ٹو تری سن رہی تھی اور ابو سامنے دوسری چارپائی پر لیٹے ہوئے ٹی وی دیکھ رہے تھے. ابو نے مجھے کہا جاؤ تایا لوگوں کے گھر  کھیل آؤ .میں نے کہا نہیں مجھے نہیں کھیلنا. ابو نے کہا اچھا چلو اب سو جاؤ. امی نے اپنا دوپٹہ میرے اوپر ڈال دیا اور مجھے سلانے کی کوشش کیکرنے لگی میں اس دوپٹے سے آر پار دیکھ سکتا تھا. امی میرے پیچھے لیٹی ہوئی تھی اور مجھے لوری دیتے ہوئے کہنے لگی سوجا منا سوجا. تھوڑی دیر گزری. تھوڑی دیر گزری تو ابو نے امی سے کہا کہ سو گیا ہے. امی نے کہا پتہ نہیں, ابو نے امی سے کہاں چل پھر آجا, امی نے کہا ادھر آ جاؤ یہ جاگ  جائے گا تو ابو اپنی چارپائی سے اٹھ کے امی کے پیچھے آگے لیٹ گئے اور امی نے مجھے لوری دینا بند کر دیں . اور امی نے مجھے جب بھی ڈال دیں اور تھوڑا سا آگے ہوگی شاید ابو کے لیے جگہ بنا رہی تھی. کیونکہ انہوں .نے مجھے بھی تھوڑا آخر کو گھسیٹا میں بالکل چپ چاپ لیٹ رہا جیسے میں سو گیا ہوں میں نے  
 ابو کی آواز سنی جو امی کو کہہ رہے تھے کہ ناڑا کھول کچھ دیر گزری تو مجھے پیچھے سے جھٹکے لگنا شروع ہو ہوگئے. میں تھوڑا سا ہلا تو امی نے مجھے پکڑ لیا تاکہ میں اٹھنا سکا. مجھے اتنا پتا تھا کہ ابو امی کے پیچھے لیٹے ہوئے ہیں لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ جھٹکے کیوں لگ رہے ہیں تھوڑی دیر ایسے ہی چلتا رہا اور پھر ایک دم سے سب رک گیا میں بھی چپ لیٹ رہا. میں نے دیکھا تو ابّو اٹھ کے جا رہے تھے تھے اور وہ صحن کی طرف چلے گئے تھوڑی دیر بعد وہ واپس آئے تو اپنی چارپائی پے لیٹ کے ٹی وی دیکھنے لگے گے آگے اور اس کے بعد میری آنکھ لگ گئی شام کے وقت میں اٹھا تو امی اور ابو سے پیسے نہیں تھے امی گھر کے کام کر رہی تھی اور ابو باہر چلے گئے

Share this post


Link to post

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×
×
  • Create New...