Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
(._.)Milestone(._.)

دھوپ ڈھل جائے گی۔

Recommended Posts

دھوپ ڈھل جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نادیہ فاطمہ رضوی

’’رونمائی کا تحفہ پسند آیا مژگان بیگم؟‘‘ سلگتے ہوئے انگارے کی مانند سنسناتا لہجہ اور خنجر کی نوک کی طرح کٹیلے الفاظ‘ جس نے اس کی تمام حسوں کو مفلوج کردیاتھا۔ آنکھوں میں تمسخرانہ رنگ لئے وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے استفسار کررہاتھا اور دوسری جانب مژگان حیدر پتھر کا بت بنی بس ایک ٹک اسے دیکھے جارہی تھی۔ کہ ابھی وہ کہے گا’’ارے مژگان میں تو مذاق کررہاتھا ۔ اوروہ کہے گی کہ یہ کیسامذاق ہے جس نے میری جان ہی نکال دی۔‘‘ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا وہ ہنوز تنفر وتحقیر کے رنگ چہرے پر سجائے کسی فاتح جنرل کی طرح اپنی جیت کے نشے میں ڈوبا مکروہ ہنسی ہنس رہاتھا۔

’’کیا ہوا‘ خوشی سے سکتہ ہوگیا ؟‘‘وہ اس کے قریب آکر انتہائی معصومیت سے آنکھیں پٹپٹا کربولا۔ اس سمے مژگان کے منجمد ذہن نے شعور کی وادی میں قدم رکھا۔ وہ انتہائی تیزی سے پیچھے ہٹتی چلی گئی۔مارے استعجاب وصدمے کے اسے لگا جیسے اس کا سارا جسم شل ہوگیا ہو اور زبان جیسے کٹ گئی ہو۔ مژگان کی ساکت وصامت آنکھوں میں حیرت وبے یقینی اور غم وغصے کے رنگ بیک وقت ابھرے تھے۔

’’یہ…یہ کیا ہے آزرملک؟‘‘انتہائی دقتوں سے اس نے اپنے حلق سے یہ الفاظ نکال کر ہونٹوں کی جانب دھکیلے۔’’مم میرا قصور کیا ہے؟‘‘ ہونٹ ایک بار پھر ساکت ہوگئے۔وہ ابھی تک پھٹی پھٹی نگاہوں سے اپنے ہاتھ میں پکڑے پیپر کو دیکھ رہی تھی۔ اس کا غذ کے پرزے کو رنج وصدمے سے دیکھتی تو کبھی حیرت واستعجاب میں گھر کر سامنے کھڑے آزر ملک کو۔ جو کل رات ہی اسے بیاہ کر اپنے گھر میں لایا اور ساری رات گزرنے کے بعد جب فجر کے وقت کمرے میں قدم رنجہ فرمائے تو رونمائی میں یہ کاغذ کاچھوٹا سا ٹکڑا اسے تھمادیا۔ جس نے اس کی ذات کی دھجیاں بکھیردی تھیں۔ جس نے اسے شدید غم وصدمے کی عمیق وادیوں میں دھکیل دیاتھا اور صرف ایک ہی پل میں اس کی جگنو جیسی آرزوئیں تتلی کی مانند رنگ برنگی خواہشات ‘ وہ سنہرے خواب اور روپہلے ارمان جو وہ اپنے پلّو میں باندھ کر لائی تھی راکھ کاڈھیر بن گئے۔ یہ پرزہ نہیں آگ کا ایسا گولہ تھا جس نے اس کی روح کو پوری طرح سے جھلسا کر رکھ دیاتھا۔ جس نے اسے زمین میں پڑے اس سوکھے پتے کی مانند حقیر کردیاتھا جو لوگوں کے قدموں تلے آکر ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے۔ روح تو اس کی ریزہ ریزہ ہوہی گئی تھی اب وہ اس جسم کو کیسے بچائے گی۔ وہ بخوبی جانتی تھی کہ ایک طلاق یافتہ لڑکی کو معاشرے میں موجود زہریلے ناگ کیسے قدم قدم پر ڈسنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایک طلاق یافتہ لڑکی ’’لڑکی‘‘نہیں رہتی بلکہ ایک انتہائی ترحم آمیز چیز بن جاتی ہے جس سے ہر کوئی بنائوٹی ہمدردی جتا کر اپنے مفاد پورے کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

’’آہ آذر ملک…! تم نے میرے کس گناہ کی اتنی بھیانک سزا دی ہے کہ میری ہستی مٹی بھی ہوجائے گی لیکن یہ سزا ختم نہیں ہوگی۔‘‘ مژگان جو رات بھر آذر کے کمرے میں نہ آنے کی وجہ سے عجیب قسم کے خوف وخدشات میں گھرگئی تھی۔ وہی خوف وخدشات حقیقت کا پیراہن پہنے اس کا مذاق اڑا رہے تھے۔ دکھ کی تند وتیز لہر نے اس کے وجود کو پوری طرح سے لپیٹ میں لے لیا‘ وہ بے تحاشا رودی۔ آذر ملک اسے پھوٹ پھوٹ کے روتا دیکھ کر ایک لمحے کو نادم سا ہوا لیکن اگلے ہی پل انتقام وبدلے کی آگ تیزی سے بھڑک اٹھی۔ جسے مژگان کے آنسو بھی بجھانے میں ناکام رہے۔

’’ہاں… ایسے ہی وہ بھی تو روئی تھی۔ اپنی بربادی پر‘ کتنی بے بسی تھی اس کی آنکھوں میں ‘ کتنی بے چارگی تھی اس کی سسکیوں میں‘ کتنا اذیت ناک کرب تھا اس کے چہرے پر‘ جیسے وہ جان کنی کے عالم سے گزررہی ہو۔‘‘ آذر ملک خودفراموشی کے عالم میں بولتا چلا گیا۔ مژگان نے بے حد چونک کر سراٹھایا۔

آج میرا انتقام پورا ہوگیا مژگان حیدر! جس کی آگ میں‘ میں پورے دوسال سے جل رہاتھا۔ میرا دل سلگتا ہوا انگارہ بن گیا تھا۔ لیکن آج‘ آج میں پرسکون ہوگیا ۔‘‘وہ سرشاری سے بولا۔

’’کون وہ… آذر ملک کون وہ؟ جس کا انتقام تم نے مجھ سے اتنابھیانک لیا۔ آخر کیا بگاڑاتھا میں نے اس کا‘ جس کے جواب میں تم نے مجھے صرف ایک رات بعد ہی طلاق۔‘‘ وہ ہذیانی انداز میں بولتے بولتے چپ ہوگئی۔ آنسوئوں کا گولہ گویاحلق میں پھنس سا گیا۔

’’شکر کرو مژگان حیدر‘ میں نے تمہارے ساتھ کچھ رعایت برتی ہے بلکہ کافی رعایت برتی ہے۔ کیونکہ میں کامران حیدر کی طرح اتنا رزیل اور بدکار آدمی نہیں ہوں‘ اگر ایسا ہوتا تو تمہارے ساتھ اتنا برا سلوک کرتا کہ تمہارے خاندان کی سات نسلیں بھی اسے فراموش نہیں کرپاتیں۔‘‘ وہ تنفرآمیز لہجے میں انتہائی رعونت سے ہنکارا بھرتے ہوئے بولا۔ اس کی سرخ آنکھوں میں گویا شعلے لپک رہے تھے۔

’’کامران بھیا۔‘‘ اس کا وجود جیسے زلزلوں کی زد میں آگیا۔ ’’تم…تمہاری کامران بھیا سے کیا دشمنی تھی؟جس کا تاوان تم نے میری ہستی کی دھجیاں اڑاکے وصول کیا؟‘‘ مژگان حیرت کے سمندر سے بمشکل خود کو نکال کر بولی۔

’’کامران حیدر جومژگان کا سگا بھائی تھا۔ جو دوسال پہلے ہی اپنی خالہ زاد روما سے شادی کرکے آسٹریلیا جابساتھا۔ آخر اس نے ایسا کیا کیا؟ جس کاانتقام آذر ملک نے مجھ سے لیا۔ مژگان کے دماغ میں یہ سوال بری طرح چکرانے لگا۔

Share this post


Link to post

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ تاکہ یہ گناہ جاریہ نہ بنے ۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے کسی گروپ یا اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر ثانی سے شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین کر دیا جائے گا ۔ اور دوبارہ ایکٹو بھی نہیں کیا جائے گا ۔ اکاؤنٹ کینسل ہونے پر کسی بھی سیئریل کی نئی اپڈیٹس کے لیئے ممبر کو دوبارہ قسط 01 سے ممبرشپ حاصل کرنا ہو گی ۔ اور ڈیٹا شیئر کرنے والہ ممبراس بات کا بھی عملی اقرار کرے گا کہ وہ بروز قیامت فورم انتظامیہ، سٹوری رائیٹر اور فورم ایڈمن کے تمام گناہوں کا اکلوتا وارث ہو گا ۔ اور بروز قیامت اپنی تمام نیکیاں (جو بھی اس کے نامہ اعمال میں ہوئیں ) بروز قیامت فورم ایڈمن اور کہانی رائٹر کو دینے کا پابند ہو گا۔ اگر کوئی ممبر اب بھی ایسا کرتا ہے اور گناہ جاریہ کا سبب بنتا ہے ۔ تو یہ سب رولز اس پر خود بخود لاگو ہوں گے ۔ ۔ ۔ ایڈمن اردو فن کلب

’’آذر پلیز‘ مجھے بتائو بھیا نے ایسا کیا کیا تھا جس کے بدلے میں تم نے میری زندگی برباد کردی۔‘‘ وہ انتہائی بے چینی وبے قراری کے عالم میں بولتے بولتے پھر سے رودی۔

’’اونہہ…میں چاہتا تو کامران کو جان سے مار کربھی اپنا انتقام پورا کرلیتا لیکن جو سزا میں نے اسے تمہارے ذریعے دی ہے وہ اسے کبھی سکون سے نہیں رہنے دے گی اوریہی میں چاہتا ہوں کہ اسے قبر میں بھی سکون نہ ملے۔‘‘ وہ زہرخند لہجے میں بولتا ہوا مژگان کو انتہائی سفاک لگا۔ ’’تمہارے بھائی نے دوسال پہلے اپنی کلاس فیلو نشاء کی زندگی برباد کردی۔ اسے محبت کے پرفریب جال میں پھنسا کر اس سے زندہ رہنے کا حق تک چھین لیا اور خود اپنی خالہ زاد سے شادی کرکے آسٹریلیا بھاگ گیا۔‘‘

مژگان کو یوں لگا جیسے کسی نے اس کے جسم پربم باندھ کر اس کے وجود کو اڑا دیا ہو۔

’’وہ کمینہ میری بہن کو ذلت ورسوائی کے اندھیروں میں دھکیل کر خود زندگی کی روشنیوں ورعنائیوں کی طرف پلٹ گیا اور میری معصوم بہن نشاء نے بدنامی کے خوف سے خودکشی…‘‘ بولتے بولتے آذر کی آواز بھرا گئی ’’اور میری ماں جو ہم دونوں کو دیکھ دیکھ کر جیتی تھی اس صدمے سے وہ بھی…‘‘

آذر کے کرب آمیز لہجے میں کتنے ہی آنسوںاور سسکیاں پوشیدہ تھیں۔ اس سمے وہ مژگان کو بہت بکھرا بکھرا سا لگا۔

’’اور تم نے آذر ملک اس نشاء کا بدلہ لینے کے لئے ایک دوسری نشاء کی ذات کا ‘ اس کی پرغرور ہستی کا شیشہ اتنی طاقت سے توڑا کہ جس کی کرچیاں دور دور تک بکھر گئیں لیکن تمہارا شکریہ آذر ملک کہ تم نے میری عزت کے آبگینے پر کیچڑ کا کوئی چھینٹا نہیں مارا۔ وہ آبگینہ ہنوز شفاف وچمکدار ہے لیکن اس بات کا یقین کون کرے گا۔‘‘ وہ دکھ اور بے بسی سے سوچے گئی۔

’’تمہارے اس ذلیل بھائی نے مژگان حیدر…‘‘ آذر کی دھاڑ اسے یک لخت حال کی دنیا میں لے آئی۔ مژگان اسے سہم کر دیکھنے لگی۔’’تمہارے بھائی نے ہمارے ہنستے بستے گھر کو جو خوشیوں کا گہوارہ تھا قبرستان بنا دیا۔ ہماری پر بہار زندگی میں ہمیشہ کے لئے خزاں کے موسم کو ٹھہرادیا۔ اور میری معصوم بہن نشاء جو خواہشوں اورخوابوں کے جھولے میں جھولا کرتی تھی۔ اسے لحد کی اندھیری گود میں سلادیا۔‘‘ وہ ہذیانی انداز میں مژگان کے کندھے جھنجوڑتے ہوئے بولے گیا۔ پھریکدم انتہائی نفرت کے عالم میں اسے دروازے کی طرف دھکیلا۔ ’’نکل جائو‘ ابھی ‘ اور اسی وقت۔‘‘ مژگان اس اچانک افتاد پرسنبھل نہ سکی اور منہ کے بل زمین پر گری ۔آذر مٹھیاں بھینچے اپنے اشتعال پر کنٹرول کرنے کی کوشش کررہاتھا۔مژگان جلدی سے گھبرا کر اٹھی اس وقت وہ بالکل وحشی جانور لگ رہاتھا اور جانور کا کوئی بھروسہ نہیں کہ وہ کس وقت کیا کرڈالے اور جب انسان وحشی بن جائے تو پھر درندے سے بھی زیادہ خطرناک ہوجاتا ہے۔

جائومژگان بی بی جائو…سب کو اپنی پاکدامنی کا یقین دلائو۔ اپنے خاندان کو بتائو کہ تم ایک رات کی ان چھوئی دلہن ہو اور ہاں…اپنے بھیاسے کہہ دینا کہ نکاح کے کاغذ کے عوض آذر ملک نے تمہیں ایک رات کے لئے خریداتھا۔‘‘ مژگان نے اپنا حنائی ہاتھ اپنے ہونٹوں پر سختی سے جماتے ہوئے اپنی چیخوں کا بمشکل گلا گھونٹا۔ آنکھوں سے سیل رواں تھا۔ ’’ویسے میں اس لائسنس کا فائدہ رات کو بخوبی اُٹھا سکتاتھا لیکن…‘‘ وہ انتہائی بے باکی سے بولا۔ مژگان بری طرح کانپ گئی۔ ’’لیکن مائی ڈارلنگ‘ مائی لو فرحین نے مجھے اپنی قسم دے کر روکا۔‘‘ اچانک دھڑکی آواز سے دروازہ کھلا اور ایک انتہائی خوبصورت سی لڑکی نخوت سے ناک چڑھائے پیشانی پر لاتعداد شکنیںسجائے اندر آئی۔

’’آذر! تم نے اسے ابھی تک فارغ نہیں کیا؟‘‘ وہ رعونت بھرے لہجے میں تنک کر بولی۔

’’بس ڈارلنگ ۔‘‘ وہ لگاوٹ آمیز لہجے میں بولا۔

اب یہاں کھڑے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ رسوائیاں خود اس کے پاس آکر اس کے گلے لگ گئی تھیں۔ ذلت سے اس کا دامن پر ہوچکاتھا۔ توہین واہانت کی تمام سوئیاں اس کے پورے جسم میں پیوست ہوچکی تھیں۔ وہ چپ چاپ ’’طلاق نامہ‘‘ ہاتھ میں لئے باہر آگئی جہاں آذر کا ڈرائیور اس کا منتظر تھا۔

vvv

’’ارے لڑکیو! جلدی کرو مژگان کا ناشتہ لیٹ ہو رہا ہے۔ وہ بیچاری ہمارا انتظار کررہی ہوگی۔‘‘ مسز حیدر جلدی جلدی سب لڑکیوں سے مژگان کے ناشتہ کے لئے لوازمات تیار کروارہی تھیں۔’’آج میری گڑیا اپنے سسرال میں پہلی بار ناشتہ کرے گی‘ لہٰذا کسی چیز کی کمی نہیں ہونی چاہئے۔‘‘ کل رات ہی تو ان کی ننھی گڑیا اپنے پیا کے سنگ دوسرا جہاں آباد کرنے چلی گئی تھی اور صرف ایک ہی رات میں وہ ان کا آنگن سُونا کرگئی تھی۔ مسز حیدر نے حیدر صاحب کے انتقال کے بعد اپنے تینوں بچوں کو بہت محنت اور شفقت سے پالاتھا۔ دس سال پہلے حیدر صاحب اچانک حرکت قلب بند ہوجانے کے باعث عدم کو سدھار گئے تھے۔اس وقت مہران حیدر اپنی تعلیم سے فارغ ہوچکے تھے۔ جبکہ کامران حیدر میٹرک کا اسٹوڈنٹ تھا اور مژگان چھٹی جماعت میں تھی۔ حیدر صاحب اپنا چلتا ہوا لیدر کا بزنس چھوڑ کر مرے تھے جس کو مہران حیدر نے انتہائی خوش اسلوبی سے سنبھال لیاتھا۔ مسز حیدر نے اپنے شوہر کی زندگی میں ہی مہران حیدر کی شادی اپنی بھانجی عظمیٰ سے کردی تھی جو کافی تیز طرار اور چالاک تھی۔ ساس

اور اپنی چھوٹی نند اسے ہمیشہ تنکے کی مانند آنکھوں میں کھٹکتی تھیں۔ جبکہ مسز حیدر کا سلوک اپنی بہو کے ساتھ شفقت آمیز تھا۔ عظمیٰ بیگم فی الحال مصلحت وخاموشی کی چادر اوڑھے ہوئے تھیں۔ کیونکہ عظمیٰ کے باپ محبوب مرزا نے مہران حیدر کا سرپرست بن کر اس کے بزنس میں اپنا کافی کنٹرول رکھا ہوا تھا۔ عظمیٰ سے چھوٹی روما بھی خاصی مکار تھی۔ نجانے کب اس نے کامران حیدر کو اپنی زلف کے شکنجے میں جکڑ لیاتھا۔ مسز حیدر کو کوئی اعتراض نہیں تھا‘ لہٰذا دونوں کو منگنی کے بندھن میں باندھ دیاتھا۔ اس رشتے سے عظمیٰ بیگم بہت خوش تھی کیونکہ اس طرح گھر میں پورا ہولڈصرف ان کا ہوجائے گا۔ روما اور کامران دوسال پہلے شادی کرکے آسٹریلیا چلے گئے تھے۔ مہران حیدر کی ایک بیٹی عبیر اور بیٹا عمیر تھا۔ جبکہ روما اور کامران فی الحال اس علت میں پڑنا نہیں چاہتے تھے۔ نجانے مسز حیدر کی تربیت میں کیا کمی رہ گئی تھی کہ کامران حیدر ایسے لڑکوں کی صحبت میں بیٹھنے لگا تھا جن کا مشغلہ معصوم اور بھولی بھالی لڑکیوں کو محبت کے پرفریب جال میں پھنسا کر اپنا مقصد پور اکرناتھا۔ کچھ کامران حیدر بھی فطرتا دل پھینک اوررنگین مزاج قسم کا لڑکا تھا۔ یونیورسٹی میں اسے نشاء جیسی معصوم اور پرکشش لڑکی ٹکراگئی حالانکہ کامران روما سے منسوب تھا لیکن باہر کی لڑکیوں کے حسن اور نسوانی کشش سے فائدہ اٹھانا اسے برا نہیں لگتا تھا۔ جبکہ نشاء سچ مچ کامران جیسے آوارہ صفت بھونرے سے محبت کربیٹھی اور کامران حیدر نے اس کی آنکھوں میں محبت وچاہت کی خوشنماپٹی باندھ کر اس کا سب کچھ چھین لیا۔ جب نشاء نے شادی پر زور دیا تو اس نے راستہ بدلنے میں ایک لمحہ نہیں لگایا ۔ اب نشاء کی کشش بھی کامران کے لئے ختم ہوچکی تھی۔ باہر جانے کے لئے وہ کافی عرصے سے کوشش کررہاتھا۔ نشاء سے جان چھڑانے کے لئے وہ روما سے شادی کرکے آسٹریلیا بھاگ گیا اور وہاں کی رنگینیوں میں روما کے ساتھ کھو کر نشاء کو بالکل فراموش کرگیا اور آج وہ دو سال بعد اپنی پیاری سی بہن کی شادی میں پاکستان آیا تھا جس کی گریجویشن کرتے ہی جھٹ پٹ شادی طے ہوگئی تھی۔ آذر ملک کے ساتھ جو بہت بڑے بزنس کا مالک تھا۔بزنس کے سلسلے میں ہی وہ مہران حیدر سے ملا۔ مہران حیدر آذر سے کافی متاثر ہواتھا۔ آذر ملک دو تین بار گھر بھی آیا اور وہیں مژگان کو دیکھ کر اس نے اپنارشتہ پیش کردیا جسے کامران حیدر نے فوراً قبول کرلیا اور آذر ملک نشاء کا بھائی تھا ‘جوکامران حیدر سے بدلہ لینے آیا تھا۔ ان دنوں جب نشاء کے ساتھ یہ حادثہ ہوا لندن میں مقیم تھا۔ بہن پر گزرنے والے سانحہ کا پتہ چلا تو بھاگ کر پاکستان آیا۔ مارے ندامت وشرم کے نشاء بھائی کے سامنے بھی نہیں آئی۔ وہ خود ہی اس کے کمرے میں گیا۔ مسز ملک نے اسے کامران حیدر کے بارے میں سب کچھ بتادیاتھا‘جو انہوں نے نشاء سے پوچھا تھا۔ اسے نشاء پر اس بات کا غصہ تھا کہ وہ کیوں کامران حیدر کے فریب میں آگئی‘ لیکن اس کی اجاڑ صورت اور آنکھوں میں ویرانی دیکھ کر وہ اپنا غصہ بھول گیا اور اسے گلے لگا کر بچوں کی طرح رودیا اور پھر اسی رات نشاء نے بلیڈ سے اپنے ہاتھ کی نس کاٹ ڈالی اور ہمیشہ کے لئے خود کو لمبی نیند سلادیا۔ وہ جونیند کی اتنی کچی تھی کہ ذرا سی آہٹ پر چونک کر اٹھ جاتی تھی۔ مرنے کے بعد بھی اس کے معصوم چہرے پر دکھ واضمحلال کے رنگ اور اضطراب کا عکس نمایاں تھا۔ آذر کو ایسا لگ رہاتھا کہ سختی سے بھینچی ہوئی زندگی سے محروم مردہ آنکھوں میں ابھی بھی آنسو موجود ہیں۔ ان ساکت وصامت ہونٹوں پر بہت سی آہیں اور سسکیاں باہر نکلنے کو مچل رہی تھیں۔ آذر ملک انتقام واشتعال کی زد میںآکر کامران حیدر کوشوٹ ہی کردیتا لیکن نشاء کے صدمے میں مسز ملک کو سخت ہارٹ اٹیک ہوا۔ ڈاکٹروں نے آپریشن کا بتایا تو یوں وہ اپنا انتقام فی الفور ایک طرف رکھ کر ماں کی تیمارداری میں لگ گیا۔ وہ انہیں لندن اپنے ساتھ لے آیا۔ مسز ملک کا آپریشن تو ہوگیا لیکن ان کی صحت دن بہ دن گرتی چلی گئی اور ایک دن خود بھی نشاء کے پاس چلی گئیں۔ ان دو سالوں میں آذر نے کافی ٹھنڈے دماغ سے کامران سے بدلہ لینے کا سوچا اور پھر اسے یہ راستہ سب سے بہترین نظر آیا کہ کامران حیدر کو اسی کی بہن کے ذریعے ایسی سزا دی جائے کہ موت کے بعد بھی اسے سکون نہ مل سکے۔ اور وہ جو سوچے سمجھے پلان کے تحت اس گھر میں آیا تھا‘آج اس کا پلان انتہائی کامیابی سے دوچار ہواتھا۔

vvv

’’ہیلو کامران حیدر اسپیکنگ۔‘‘ کامران مصروف سے انداز میں بولا۔

’’ہیلو کامران میں آذر ملک۔‘‘موبائل سیل سے آذر ملک کی انتہائی سرد سی آواز ابھری۔

’’اوہ آذر! بس ہم نکلنے ہی والے ہیں۔‘‘ کامران خوشدلی سے بولا۔

’’اس کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ خود ہی آرہی ہے۔‘‘ آذر کی آواز میں چٹانوں جیسی سختی کامران نے صاف محسوس کی۔

’’کیوںآذر‘ کوئی پرابلم ہوگئی ہے؟‘‘ کامران یکدم خدشات میں گھر کر گھبرائے ہوئے انداز میں بولا۔

’’میں نے تمہیں صرف یہ بتانے کے لئے فون کیا ہے مسٹر کامران حیدر کہ جو ظلم تم نے دوسال پہلے ایک معصوم لڑکی پر کیا تھا۔ آج اس کے بھائی نے اس کا انتقام لے لیا ہے۔‘‘ آذر کی آواز اتنی سرد اور برفیلی تھی کہ کامران کو اپنا خون رگوں میں جمتا ہوا محسوس ہوا۔

’’میں واپس جارہا ہوں‘ لیکن تمہاری طرح بھاگ کر نہیں‘ میں چاہتا تو تمہارے گھر خود بھی آسکتاتھا اور تمہارا مسخ چہرہ سب کے سامنے بے نقاب بھی کرسکتاتھا لیکن پھر سوچا کہ مژگان یہ کام بخوبی کرسکتی

Share this post


Link to post

ہے۔‘‘

آذر!یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ کامران بھونچکا سا آذر سے استفسار کررہاتھا۔

’’اوہ تو اتنی جلدی بھول گئے نشاء ملک کو۔‘‘

کامران کی سماعت پر جیسے کھولتا ہوا سیسہ آپڑا۔ کامران کے بے جان ہاتھوں سے موبائل چھوٹ گیا اور دوسری طرف آذر نے گہری طمانیت محسوس کرتے ہوئے لائن ڈسکنٹ کردی۔ کامران ٹوٹی ہوئی شاخ کی مانند قالین پر ڈھے گیا۔ آنکھوں کے پردے پر بار بار نشاء اور مژگان کا چہرہ گھومنے لگا۔

vvv

اس نے حیدر ہائوس کے گیٹ کے اندر لرزتے پیروں سے قدم رکھا۔ جہاں ابھی تک برقی قمقموں کی جھالریں لٹکی ہوئی تھیں۔ بڑے سے لان کے چاروں طرف ڈیکوریشن کی کرسیاں الٹی سیدھی پڑی ہوئی تھیں۔ سرخ روش پر جابجا گلاب کے باسی پھول مسلے ہوئے پڑے تھے۔ مژگان کو ا ن پتیوں پر اپنا گمان ہوا۔ وہ اپنے ڈولتے وجود کو جیسے تیسے گھسیٹتی ہوئی اندر لائونج تک آئی۔ جہاں ایک افراتفری کا عالم تھا۔

’’ارے مژگان کوگلاب جامن بہت پسند ہے وہ یاد سے سامان میں رکھو۔‘‘ مژگان کو اپنی امی کی خوشی وسرشاری میں ڈوبی ہوئی آواز آئی۔ جو بیٹی کے سہاگن ہونے کی بے پایاں مسرت واطمینان میں اپنی تمام بیماریوں کو بھلائے کام میں جتی ہوئی تھیں۔ انہیں کافی عرصے سے شوگر اور بلڈپریشر کی شکایت تھی۔

’’ارے یاد آیا آنٹی۔‘‘ مژگان کی چچازاد بہن راحیلہ کی آواز آئی۔ ’’مژگان کو ہم…‘‘ بات کرتے کرتے جونہی اس کی نظر داخلی دروازے کی طرف پڑی یکدم زبان کے آگے بریک لگ گیا۔ کورے دبکے کے کام کا دیدہ زیب سرخ عروسی شرارہ پہنے وہ بلاشبہ مژگان تھی۔ جس کے چہرے پر کوئی انتہائی تکلیف دہ کہانی رقم تھی۔ صرف ایک ہی رات میں اجڑی اجڑی مژگان اس باغ کی مانند لگ رہی تھی جو ایک دن پہلے خوب سرسبزوپھولدارتھا لیکن دوسرے ہی دن ایسی زرد آندھی کی لپیٹ میں آگیا جس نے اس باغ کو تہس نہس کرکے اجاڑ وویران قبرستان میں تبدیل کردیا۔ راحیلہ کو ہونق بنا دیکھ کر روما اور عظمیٰ بیگم نے اس کی نگاہوں کے تعاقب میں نظریں دوڑائیں تو ان کاحال بھی راحیلہ سے مختلف نہ ہوا۔

’’ارے بھئی یہ تم لوگ سب اچانک خاموش کیوں ہوگئے؟‘‘ مسز حیدر حیرت سے بولیں۔

’’مژگان! تم ایسے کیسے آگئیں؟‘‘ سب سے پہلے عظمیٰ بھابی نے ہی اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے مسز حیدر کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔

’’مژگان۔‘‘ مسز حیدر بجلی کی سرعت سے پیچھے پلٹی اور دروازے کے فریم میں تصویر کی مانند ساکت وصامت کھڑی مژگان کو دیکھا جو اس و قت ایسی بے جان وخستہ حال تصویر لگ رہی تھی جس کے تمام رنگ اڑچکے تھے۔

’’ام…امی…‘‘مژگان ماں کی صورت دیکھ کربکھر گئی اور گولی کی تیزی سے ماں سے آکر لپٹ گئی۔

’’امی…امی۔‘‘ مژگان کی زبان اس لفظ سے آگے نہ بڑھ سکی۔ آنسوئوں کا سیلاب بندھ توڑ کر تیزی سے آنکھوں کے رستے بہہ رہاتھا۔ تمام حاضرین پر جیسے سکتہ ساطاری ہوگیا۔ گویا کسی نے جادو کی چھڑی سے انہیں پتھر کا بت بنادیا ہو۔ عظمیٰ اور روما نے بڑی مشکل سے دونوں کو علیحدہ کیا اور زبردستی پانی پلایا۔

’’مژگان میری بچی کیا ہوا ہے؟‘‘ مسز حیدر انتہائی بدحواسی کے عالم میں بولیں تو مژگان نے چپ چاپ وہ کاغذ مسز حیدر کی طرف بڑھادیا جسے انہوں نے بڑی بے تابی سے تھاما تھا۔ چند ثانیئے پھٹی پھٹی نگاہوں سے وہ اپنی بچی کے نصیب کی اس سیاہی کو دیکھتی رہیں اور پھر اگلے ہی لمحے صوفے پر دوسری جانب لڑھک گئیں۔

’’امی!‘‘مژگان بے تحاشہ چلاتے ہوئے ماں کی طرف جھکی لیکن ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کرچکی تھی۔

vvv

’’چہ چہ…بیچاری کو شادی کی اگلی ہی صبح طلاق ہوگئی۔ نجانے ایسی کیا بات ہوئی کہ لڑکے نے صبح ہی صبح اسے طلاق نامہ تھما کر اپنے گھر سے نکال باہر کیا۔ اب بھلا ایک رات کی بیاہی طلاق یافتہ کو کون پوچھے گا۔‘‘ سوئم کے دن خاندان اور محلے کی عورتیں بظاہر افسوس کرتے ہوئے پس پردہ اس پر طنز وتمسخر کے تیربرسارہی تھیں۔

’’ارے بہن تم نہیں جانتی آج کل کی لڑکیاں کتنی بے باک اور بے شرم ہوگئی ہیں کہ لڑکے بھی ان سے پناہ مانگتے ہیں۔‘‘ ایک عورت نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے رائے زنی کی۔

’’ہاں بہن کہتی تو تم ٹھیک ہو‘ اب نجانے ایسی کیا بات ہوئی کہ لڑکے نے صبح ہی…‘‘ ایک کونے میں آنسو بہاتی مژگان مزید نہ سن سکی اور وہاں سے تقریباً بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں آگئی۔

’’امی آپ کیوں چلی گئیں مجھے ایسے لوگوں کے درمیان چھوڑ کے جو مجھے زہرمیں بجھے الفاظ کے تیروں سے چھلنی کرتے رہیں گے روز میرے کردار کے بخیے ادھیڑیں گے۔ میری ذات کی دھجیاں بکھیریں گے۔‘‘ وہ بے تحاشہ رنج والم میں ڈوبی گریہ وزاری کررہی تھی۔

’’لیکن امی ایک طرح سے اچھا ہی ہوا آپ بھلا یہ کیسے دیکھ پاتیں کہ آپ کی لاڈلی بیٹی کے کردار پر کیسے کیچڑ اچھالی جارہی ہے۔وہ خود سے بولتی چلی گئی معاً دروازے پر دستک دے کر کوئی اندر آیا۔ مژگان نے سراُٹھا کر دیکھا کامران حیدر نڈھال نڈھال سامضمحل انداز میں اندر آرہاتھا۔ اچانک مژگان کے اندر نفرت کالاوا پھوٹ پڑا۔

’’بھیا‘ چلے جائو تم میری آنکھوں کے سامنے سے‘ تمہیں دیکھ کر مجھے خود سے گھن آنے لگی ہے کہ میں تم جیسے گھٹیاانسان کی بہن ہوں۔ تم صرف نشاء کے قاتل نہیں بلکہ تم سب کے قاتل ہو‘ نشاء کو برباد کرتے وقت تمہیںاپنی بہن کا خیال کیوں نہیں آیا؟ بولو بھیا۔‘‘ مژگان پھوٹ پھوٹ کر روئے گئی۔

کامران ندامت سے چور انداز میں اس کے قریب دوزانو ہو کر بیٹھ گیا۔

’’پلیز مژگان مجھے معاف کردو۔ آج میری وجہ سے تمہاری یہ حالت…‘‘ اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگیا۔ آنکھیں شدت ضبط سے سرخ ہو رہی تھیں۔

’’اونہہ… آپ معافی مجھ سے کیوں مانگ رہے ہیں‘ معافی تو اس لڑکی سے مانگئے بھیا جسے جینے کی آرزو تھی‘ جس کے خواب وآرزوئیں اس کی زندگی تھے‘ جن کا آپ نے انتہائی سفاکی سے خون کردیا۔وہ بھلا اپنے خوابوں اور آرزوئوں کے بنا زندہ کیسے رہ سکتی تھی اور خود ہی موت کو گلے لگابیٹھی۔ جائیں بھیا‘ پہلے اس سے معافی مانگیے۔‘‘مژگان زاروقطار روئے گئی۔ کامران ندامت وشرمندگی کے سمندر میں ڈوب ابھررہاتھا۔ کافی دیر تک کمرے میں خاموشی چھائی رہی۔ صرف مژگان کی دبی دبی سسکیوں کی گھٹی گھٹی آوازیں کمرے کے ماحول کو وحشت زدہ بنارہی تھیں۔

’مژگان! مجھے تم سے ایک التجا کرنی ہے۔‘‘ کامران اپنی تمام تر ہمتیںجمع کرکے دھیرے سے بولا۔ وہ جو بات مژگان سے کہنے آیا تھا اسے کرنے کی اسے ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی۔ مژگان نے چونک کر اپنا سر گھٹنوں سے اُٹھا کر اسے استفہامیہ نگاہوں سے دیکھا۔

’’مژگان پلیز تم اس بات کا ذکر روما اور بھیا سے مت کرنا۔‘‘ کامران نے اٹک اٹک کر جملہ مکمل کیا۔ مژگان نے اسے انتہائی تاسف سے دیکھا جو اسے اس وقت خود غرضی کے اونچے مینار پربیٹھا نظر آیا۔ کامران مزید شرمندہ ہوگیا۔

’’دیکھو مژگان اس طرح صرف میرا ہی گھر نہیں بلکہ بھیا کا گھر بھی برباد ہوجائے گا۔عظمیٰ بھابی بھلا‘ روما پر یہ ظلم ہوتا دیکھ سکیں گی؟‘‘ کامران اسے رسانیت سے سمجھاتے ہوئے بولا۔

مژگان نے گہری سانس لے کر سر دیوار سے ٹکادیا۔ ٹھیک ہی تو کہہ رہے ہیں بھیا ‘ میں تو برباد ہوہی گئی ہوں‘ اب اپنے دونوں بھائیوں کا گھر کیوں تباہ کردوں نہیں‘ میں بھیا کی طرح خودغرض نہیں ہوسکتی اور ویسے بھی صدیوں سے بہنیں ہی اپنے بھائیوں کی خوشیوں پر قربان ہوتی آئی ہیں۔ میں ‘ان سے مختلف تو نہیں ہوں۔ وہ دل میں سوچے گئی۔

’’ٹھیک ہے بھیا‘ میں کسی سے کچھ نہیں کہوں گی۔ آپ بے فکر رہیں۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ تیزی سے اٹھ کرباتھ روم میں گھس گئی۔ وہ اس وقت کامران حیدر کی شکل دیکھنے کی مزید ہمت کر نہیں پارہی تھی جس نے ایک معصوم اور بھولی بھالی لڑکی کی زندگی کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ کیا کہ اس بیچاری کوموت کی گود میں پناہ لینی پڑی۔

vvv

زندگی کا پہیہ کسی کے جانے سے رکتا نہیں‘ یہ اپنی مخصوص رفتار سے چلتا رہتا ہے اور انسانوں کو اس پہیے کے ساتھ ہی قدم ملا کر چلنا پڑتا ہے۔ مسز حیدر کو گزرے ہوئے دو مہینے ہوچکے تھے۔ مژگان کے دل کا زخم گو کہ تازہ تھا لیکن پھر بھی جینا تو ہر صورت میں تھا۔ چاہے روح زخموں سے چھلنی ہو اور دل پر غموں کے پہاڑ ٹوٹے ہوں‘ لیکن یہ سانسیں تو پھر بھی چلتی رہتی ہیں۔ مژگان زندگی گزارنے کے لئے سانسیں تو لے رہی تھی لیکن وجود قبرستان ہوچکاتھا۔ جہاں اس کی آرزوئیں اس کے ارمان دفن تھے اور کچھ نوزائیدہ خواب بھی اس کھنڈر وجود کے کسی کونے میں پڑے پڑے اپنی موت آپ مرچکے تھے۔ پچھلے مہینے روما اور کامران بھی آسٹریلیا فلائی کرگئے تھے۔ اب گھر میں صرف اور صرف عظمیٰ بیگم کی راج دھانی تھی۔ وہی گھر کے سیاہ وسفید کی مالک تھی۔ مہران حیدر جو پہلے ہی سنجیدہ اور خشک مزاج تھے۔ مژگان کے ساتھ اس حادثے کے بعد انتہائی بدمزاج اور روکھے ہوگئے تھے۔ دیگر لوگوں کی طرح انہیں بھی وہی قصور وار نظر آتی تھی۔ مژگان نے کامران حیدر سے اپنی کہی ہوئی بات نبھانے اور کسی کوبھی اپنی طلاق کی وجہ نہیں بتائی حالانکہ عظمیٰ بھابی اور روما پوچھ پوچھ کر تھک گئیں لیکن اس کی چپ نہ ٹوٹی۔ جاتے سمے روما اس سے سخت خفا ہوکر گئی تھی۔ عظمیٰ بھابی نے بھی کافی ناک بھوں چڑھائی تھی اور درپردہ ایسی باتیں سنائی تھیں کہ وہ مارے شرم کے کٹ سی گئی تھی۔ عظمیٰ بیگم کو ازل سے ہی مژگان اور مسز حیدر سے بیر تھا۔ مسز حیدر کا کانٹا تو صاف ہوگیاتھالیکن مژگان کا روڑا ان کے پیروں پر

Share this post


Link to post

آگیاتھا جسے وہ اپنی ٹھوکر سے بہت دور پھینک دینا چاہتی تھیں۔ مژگان کو ان حادثات کے بعد سے ایسی چپ لگی تھی کہ لب الفاظ ادا کرنا جیسے بھول گئے تھے۔ مہران حیدر کے بزنس ٹور پر جرمنی چلے جانے کے بعد تو گویا عظمیٰ بیگم کو میدان صاف مل گیا۔ وہ باقاعدہ طعنے تشنیع پر اتر آئیں۔ مژگان کی رسوائیاں گھر سے باہر پہنچانے میں انہوں نے بہت نمایاں کردار ادا کیا۔ کچھ دن سے مژگان کی طبیعت نڈھال سی تھی کم کھانے اور کم سونے سے اس کی طبیعت خراب ہوگئی۔ ایک دن یونہی اسے ابکائی آگئی۔ واش روم سے وہ مضمحل سی باہر نکلی تو کمرے میں موجود عظمیٰ نے ٹٹولتی نگاہوں سے اس کے سراپے کا جائزہ لیا کہ مژگان ان کی نگاہوں کامفہوم سمجھ کر کٹ سی گئی۔

’’اونہہ‘ ایک دن کی شادی کا ثمر۔‘‘ اف الفاظ تھے یانوکیلے پتھر جو دھڑادھڑ اس کے وجود پر گر ے تھے۔

’’بھابھی۔‘‘ انتہائی متعجب نگاہوں سے مژگان نے عظمیٰ بیگم کو دیکھا۔

’’ایسی کون سی بات کہہ دی جو تمہاری آنکھیں باہر کو ابل آئیں؟‘‘ عظمیٰ بیگم تنفر سے بولیں۔ بھابی پلیز مژگان کے صبر وضبط کی دیواریں بری طرح ڈھے سی گئیں۔ وہ تیز آواز میں بولی۔

’’ایسا کچھ نہیں ہوا تھا بھابی پلیز آپ میرا یقین کریں۔ انہوں نے مجھے چھوا تک نہیں۔‘‘ کہتے کہتے اس کی آواز بالکل مدھم ہوگئی۔عظمیٰ بھابی استہزائیہ انداز میں زور سے قہقہہ لگاکر ہنسی ان کی آنکھوں کی چبھن مژگان کو کسی نوکدار میخوں کی مانند لگی جو اس کی روح میں شگاف ڈال رہی تھی۔

’’یہ ڈرامے کسی اور کے ساتھ کرنامژگان بی بی … تمہاری خاموشی ہی تمہارے گناہ کااعتراف ہے۔ اور شاید اسی گناہ کی وجہ سے آذر نے تمہیں شادی کی دوسری صبح ہی طلاق دے دی۔‘‘

’’اف‘‘ مژگان نے بے اختیار اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ دیئے۔ عظمیٰ بھابی کے الفاظ اس کی سماعت کو مفلوج کرگئے۔

’’ماما! شمسہ مامی آئی ہیں۔‘‘ اسی دم عبیر اندر داخل ہوئی۔ مژگان بستر پر ڈھے گئی اورعظمیٰ بیگم ہنہ کہہ کر کمرے سے نکل گئی۔ عبیر کومژگان کی دگرگوں حالت دیکھ کر بہت دکھ ہوا لیکن ماں کے ڈر سے وہ صرف دل میں دکھی ہونے کے اور کچھ نہیں کرسکتی تھی۔مجبوراً وہ بھی ماں کے پیچھے چل پڑی۔ مژگان کا پورا جسم ایسے کانپ رہاتھا جیسے سخت سردی میں برف کا پگھلا ہوا پانی اس کے وجود میں ڈال دیا ہو۔ صرف دو ماہ کے اندر اندرمیری زندگی کی کایا ہی پلٹ گئی۔ پہلے یہ زندگی میرے لئے پھولوں کی طرح حسین ومسحور کن تھی۔خواب کی طرح سحر انگیز اور رنگین تھی اب یہی زندگی یک لخت خاردار کانٹوں‘ جلتے صحرائوں اور اماوس کی راتوں کی مانند محض اندھیرا کیوں بن گئی؟ اے میرے مالک… مجھے میری استطاعت سے زیادہ مت آزما وگرنہ میں جی نہیں پائوں گی۔ میں مرجائوں گی۔ وہ خود فراموشی کے عالم میں بولتی گئی۔

عظمیٰ بیگم نے مژگان کا ہر طرح سے ناطقہ بند کررکھا تھا۔ خاندان والے جو اس کی طلاق کا سن کر پہلے ہی اس سے پہلو تہی کرنے لگے تھے۔ مزید رہی سہی کسر بھابی نے اس کی برائیاں کرکے پوری کردی تھی۔ کوئی بھی مژگان سے ملنا پسند نہیں کرتا۔عبیر اور عمیر کو اپنی پھوپو سے ملنے کی قطعا اجازت نہ تھی۔ مہران حیدر جرمنی سے واپس آئے تو عظمیٰ بیگم نے انہیں بھی مژگان کی طرف سے خوب متنفر کردیا۔ البتہ کامران حیدر کا کبھی کبھار فون آجاتا وہ مژگان کے لئے کافی پریشان رہتاتھا۔ لیکن روما بھی عظمیٰ بیگم کی پرتو تھی بھلا کامران کی مژگان پر توجہ کیسے برداشت کرتی۔ اس نے کامران کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنے کاانتظام کرلیا۔ آج کل وہ تخلیق کے مراحل سے گزر رہی تھی۔ کامران بے حد خوش تھا اور روما نے اس موقع سے فائدہ اُٹھا کر اسے خوب اچھی طرح سے اپنی مٹھی میں لیا ہواتھا۔ اس بارمہران حیدر بزنس ٹور پر فارن ممالک گئے تو عظمیٰ بیگم مزید کھل کرسامنے آگئیں۔مژگان ششدر رہ گئی کہ عظمیٰ بھابی نے کتنے عرصے سے اپنے چہرے پر ماسک لگا کر اپنا مکروہ چہرہ پوشیدہ رکھا ہواتھا۔ اس دن تو وہ مارے شرم وخجالت کے زمین میں گڑ گئی جب وہ کھانے کی میز پرآکر بیٹھی اور عظمیٰ بیگم نے ماتھے پر تیوری چڑھا کر ناک سکیڑتے ہوئے کہا۔

’’مہران بیچارے اپنی بیوی اور بچوں کی خاطر پیسہ کمانے کے لئے دنیا بھر کی خاک چھانتے پھررہے ہیں اور طلاق یافتہ بہن صاحبہ مفت کی روٹیاں توڑ رہی ہیں۔‘‘ نوالامژگان کے حلق میںپھنس کر رہ گیا۔ جسے اس نے پانی سے بمشکل نگلا اور کرسی دھکیل کربھاگ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔ وہ اتنی تیز طرار نہیں تھی کہ بھابی کو منہ توڑ جواب دیتی۔ مسز حیدر نے ان خطوط پر اس کی پرورش نہیں کی تھی۔ انہوںنے تو اسے صبروقناعت کا درس دیاتھا اوروہ بھی جیسے ضبط وصبر کے پل صراط سے گزر رہی تھی اور ایک دن تو گویا حد ہی ہوگئی۔ جب عظمیٰ بیگم نے اس کے کمرے میں آکر کہا۔

’’مژگان! تم یہ کمرہ خالی کردو اور انیکسی میں شفٹ ہوجائو۔ میری پھوپی دبئی سے آرہی ہیں۔ وہ یہی رہیں گی۔ شام تک تم یہ کمرہ چھوڑ دینا۔‘‘ وہ آندھی کی طرح آئی اور طوفان کی طرح واپس چلی گئیں۔ مژگان کی خستہ ذات کومزید تنکا تنکا بکھیر کر۔ مژگان بھونچکاہ سی کھڑی رہ گئی۔ پھر نجانے کیا ہوا کہ یکدم غصے واشتعال کی تیز لہر عود کر آئی۔ وہ جو اتنے عرصے سے چپ چاپ سب برداشت کررہی تھی اپنی یہ توہین اسے سخت گراں گزری۔ اس نے انتہائی طیش کے عالم میں اپنے کپڑے بیگ میں ڈالے چند ایک ضرورت کی چیزیں لے کر وہ اس کمرے پر تین حرف بھیج کر باہر نکل آئی۔ سامنے ہی عظمیٰ بیگم انتہائی کروفر سے کھڑی ملازم کو ہدایات دے رہی تھیں۔ وہ تیز تیز قدموں سے ان کی طرف آئی۔

Share this post


Link to post

’’بھابی! آپ مجھے اس کمرے سے کیا نکالیں گی میں خود ہی وہ کمرہ چھوڑ کر جارہی ہوں۔ آج سے میرا آپ سے اور آپ کے اس گھر سے کوئی ناتا نہیں ہے۔ اب اس گھر کا پانی بھی میرے لئے حرام ہے۔‘‘ یہ کہتے کہتے اس کی آواز رندھ گئی۔ آنسوئوں نے یکدم ا س کی آنکھوں پر حملہ کردیا۔

’’لیکن‘ لیکن میں یہ گھر چھوڑ کر نہیں جائوں گی۔‘‘ وہ بمشکل اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے بولی۔ ’’ورنہ آپ سب سے یہی کہیں گی کہ مژگان کسی کے ساتھ گھر چھوڑ کر چلی گئی ہے۔‘‘

’’مژگان ادب سے بات کرو۔‘‘ عظمیٰ بیگم مژگان کی صاف گوئی پراندر ہی اندر جزبز ہو کر اسے ڈپٹ کربولیں۔

’’اونہہ …ادب… اس لفظ کے ہجے سے بھی ناواقف ہیں آپ۔‘‘ وہ دل میں بولی پھر مزید کچھ کہے بنا انیکسی کی جانب بڑھ گئی۔ عظمیٰ بیگم نے فاتحانہ انداز سے اسے جاتے دیکھا۔ انیکسی میں جاتے ہی وہ بلک بلک کر روئی۔ آج کتنی تنہا رہ گئی تھی وہ کہ کوئی اس کے آنسو بھی پونچھنے والا نہ تھا۔ اس وقت مژگان خود ترسی کا شکار ہوگئی۔ خود اپنی ہی حالت پر اسے رحم آرہاتھا۔ جب رو رو کر تھک گئی تو خود ہی اپنے آنسو پونچھ کر اپنے آپ کو تسلیاں دیں اور پھر تکیئے پر آنکھیں موند کر اپنے آپ کو تھپک تھپک کر سلادیا۔

vvv

مژگان نے اپنے پاس جع شدہ رقم سے جو تقریبا ً ۲۰ ہزار کے قریب تھی۔ اس سے کچن کا سامان لیا اور وہیں انیکسی کے ایک کونے پر چھوٹا ساکچن بنالیا۔ جس دن اس نے اپنے ہاتھ سے کھانا بنا کر کھایا اس دن اسے بے حد طمانیت محسوس ہوئی۔ اب وہ پوری تگ ودو سے جاب کی تلاش میں سرگرداں تھی۔ گریجویشن کے بعد اس نے کئی ایک کمپیوٹر کورسز کررکھے تھے اور انگلش بھی وہ روانی سے بول لیا کرتی تھی۔ یہی دو چیزیں آج کل جاب کی ڈیمانڈ تھیں۔ اس کی بے تحاشا کوششوں سے اسے ایک جگہ سے انٹرویو کال آگئی۔ وہ بہت اعتماد کے ساتھ انٹرویو دے آئی اور ٹھیک ایک ہفتے بعد اس کی کال آگئی کہ اسے اپائنٹ کرلیا گیا ہے۔ وہ بہت خوش تھی کہ اسے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا موقع مل گیا ہے۔ مژگان نے سوچ لیاتھا کہ وہ زندگی کی صعوبتیں اور مشکلات کا جو کاتب تقدیر نے اس کی زندگی کی کتاب میں رقم کردی تھیں ان کا سامنا بزدلی سے نہیں بلکہ ہمت وجرأت کے ساتھ کرے گی۔ وہ مطلوبہ جگہ پر ٹائم پر پہنچ گئی۔ اسفر انٹرپرائزز کا یہ آفس انتہائی شاندار اور خوبصورت تھا۔ رشید صاحب نے اسے تمام کام سمجھادیاتھا۔ ذہین تووہ شروع سے تھی‘ فوراً کام سمجھ گئی۔ تمام اسٹاف کو آپریٹو تھا۔سوائے لیلیٰ چوہدری کے جو اسفر کی پرسنل سیکریٹری تھی۔ عجیب نک چڑھی اور مغرور سی لڑکی تھی۔ اسے یہاں کام کرتے ہوئے ایک ہفتہ ہوچکاتھا لیکن اس کی ملاقات اس کمپنی کے مالک یعنی اسفر علی خان سے نہیں ہوئی تھی۔ وہ آج کل بزنس کے سلسلے میں ملک سے باہر گیا ہوا تھا۔ لیلیٰ کا رویہ اس کے ساتھ ہنوز ویسا ہی تھا۔ آتے جاتے طنز کے تیز پھینکنا‘ اسے دیکھ کر نخوت سے منہ پھیر لینا۔ اس کامعمول تھا۔ مژگان اپنی جاب سے کافی حد تک مطمئن سی ہوگئی۔ لیکن یہ اطمینان محض عارضی ثابت ہوا۔ رشید صاحب نے اس دن مژگان سے اچانک یہ سوال کرڈالا۔

’’مس مژگان!آپ طلاق یافتہ ہیں۔‘‘ کی بورڈ پر تیزی سے چلتے ہاتھ یکدم یوں رکے جیسے تیز رفتار گاڑی اچانک ایمرجنسی بریک لگانے پررک جاتی ہے۔ وہ سن سی بیٹھی رہ گئی۔

’’دراصل کل آپ نے اچانک چھٹی کرلی تھی تو میں نے آپ کے گھر فون کیا تھا آپ کی بھابی نے بتایا۔‘‘ چالیس پینتالیس سال کی پکی عمر کے رشید صاحب جن کے سر پر موجود چند ایک بال بس رخصتی کے مراحل میں ہی تھے۔ اپنے لہجے میں افسوس وہمدردی سموتے ہوئے کہہ رہے تھے۔

’’اف بھابی‘ آپ مجھے چین سے زندہ نہیں رہنے دیں گی۔‘‘وہ دکھ سے سوچے گئی۔کل صبح دیر سے آنکھ کھلنے پر وہ ہڑبڑا کر بستر سے اٹھی تو اچانک اس کا پیر بری طرح رپٹ گیا۔ اور پیر میں سخت موچ آگئی جس کے کارن وہ کل کی چھٹی کربیٹھی تھی۔ فون کی سہولت اس کے پاس تو تھی نہیں کہ اطلاع کردیتی۔ اسے گم صم بیٹھا دیکھ کر رشید صاحب گویا ہوئے۔

’’چہ…چہ مجھے بہت افسوس ہوا۔ آپ کی طلاق کا سن کر۔ آپ کتنی کم عمر اور کیوٹ سی ہیں‘ اس عمر میں اتنا بڑا دکھ‘ بڑا ہی بدنصیب شخص تھا جس نے آپ جیسے ہیرے کو شادی کی اگلی صبح ہی…‘‘

’’رشید صاحب پلیز میرے ذاتی معاملات میں آپ کو دخل دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘رشید صاحب کے کہے ہوئے جملوں سے وہ اندر ہی اندر بری طرح جھلس سی گئی۔رشید صاحب اس کے چہرے پر برہمی کی لہریں دیکھ کر فی الحال کھسک گئے۔ اس کے بعد مژگان سے مزید کوئی کام نہ ہوسکا۔

’’مس مژگان! آپ کو سربلارہے ہیں۔ وہ ابھی اپنی سیٹ پرآکربیٹھی تھی کہ پیون نے اسے بتایا۔ اوہ تو اسفر صاحب یعنی کہ باس آچکے ہیں۔ وہ تھوڑی سی نروس ہوگئی۔ اس نے ابھی تک اپنے باس کو دیکھا نہیں تھا۔ اس کاانٹرویو بھی اسفر علی خان کے اسسٹینٹ مشتاق عالم نے لیاتھا۔ وہ اپنے آپ کو مضبوط کرتی ہوئی اسفر علی خان کے روم میں آئی اور آہستگی سے ناک کیا۔

’’یس‘‘ کی آواز پر وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اندر آگئی۔ بلیک کلر کے فل سوٹ میں بلیک ہی ٹائی باندھے ہاتھ میں بیش قیمت گھڑی پہنے جدید طرز کا موبائل کان پر لگائے وہ گفتگو کرتا مژگان کو حیرت سے دوچار کرگیا۔ وہ تو سمجھ رہی تھی کہ اسفر علی خان چالیس پچاس سال کی عمر کا کوئی پکا مرد ہوگا لیکن یہ تو ۳۲۔۳۵ سال کا بے حد پرکشش اور ہینڈسم ساجوان تھا۔ گندمی رنگ ‘ کشادہ پیشانی‘ ہونٹوں کے اوپر

Share this post


Link to post

گھنی مونچھیں‘ اس کے وقار کو مزید بڑھارہی تھیں۔ جبکہ گلابی ہونٹ تیزی سے حرکت کررہے تھے۔

’’ٹھیک ہے پھر کل میٹنگ سیٹ کرلیجئے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے موبائل آف کرکے مژگان کو دیکھا۔

’’بیٹھیے۔‘‘ مژگان تھوڑا سا لڑکھڑاتے ہوئے کرسی پر آکربیٹھ گئی۔ پرسوں کی موچ کی وجہ سے پیرمیں سوجن آگئی تھی۔جس کے باعث وہ ذراسا لنگڑا کر چل رہی تھی۔

’’آئی ہوپ‘ کہ آپ یہاں کے رول اینڈ ریگولیشنز کو اچھی طرح سمجھ گئی ہوں گی اور انہیں فالو بھی کررہی ہوں گی۔‘‘ انتہائی بارعب وسنجیدہ لہجے میں وہ استفسار کررہاتھا۔

’’یس سر۔‘‘ مژگان سرہلا کر بولی۔

’’رشید صاحب نے آپ کو سب کچھ سمجھادیا ہوگا کہ میں کام میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرتا۔‘‘ اسفر علی خان سخت لہجے میں بولا۔

’’جی سر۔‘‘ وہ پھر سرہلا کر بولی۔

’’اوکے‘ آپ کو یہاں کوئی پرابلم تو نہیں۔‘‘ اگلا سوال داغا گیا۔

’’نوسر کوئی پرابلم نہیں۔‘‘ وہ سہولت سے بولی۔

’’کیا آپ شادی شدہ ہیں؟‘‘ انتہائی روانی میں کئے گئے سوال پر اس نے سابقہ انداز میں بے اختیار اثبات میں سرہلادیا۔

’’جی سر‘ بات جب تک اس کے دماغ تک پہنچی وہ ہاں میں سرہلا چکی تھی۔

’’نو‘ نوسر۔‘‘ البتہ زبان سے اس نے انتہائی شدومد کے ساتھ انکار کیا۔ مژگان اندر ہی اندر حیران و پریشان ہوگئی کہ بھلا‘ اس سوال کی کیا تک تھی۔ پھر اس نے خود ہی سچ بتانے کا فیصلہ کرلیا۔ کیونکہ رشید صاحب کے توسط سے یہ بات ان تک پہنچ ہی جاتی۔

’’ایکچولی سر…وہ کچھ اٹک کر بولی۔ مجھے طلاق ہوچکی ہے۔‘‘

’’اوہ۔‘‘ اسفر علی خان کے ہونٹ سیٹی کے انداز میں واہوئے۔

’’اوکے یوسے گو۔‘‘ یہ کہہ کر وہ پھر فون کی طرف متوجہ ہوگیا۔ مژگان سرعت سے اٹھی اور دروازے کی جانب گئی ہی تھی کہ اسفر کے ان الفاظ نے اسے بے تحاشا شرمندہ کرڈالا۔

’’مس مژگان آپ پیدائشی ایسی ہیں یا کوئی حادثہ؟‘‘ مژگان نے گھبرا کر مڑ کر اسے دیکھا ریسیور ہاتھ میں تھامے وہ سحر انگیز شخص اسی کی جانب دیکھ رہاتھا۔

’’نو سر‘ دراصل پرسوں میرے پیرمیں موچ آگئی تھی۔ اس لئے۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ چپ ہوگئی۔ بے ساختہ ایک مسکراہٹ اسفر کے ہونٹوں کے کناروں پر پھیل گئی۔ جسے اس نے فوراً سمیٹ لیا۔ مژگان تیزی سے باہر نکل گئی۔

وہ آج کل بہت پریشان تھی رشید صاحب اس کے سب سے بڑے ہمدرد بن کر ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑگئے تھے۔ حالانکہ وہ پہلے سے شادی شدہ اوردو بچوں کے باپ تھے البتہ بیوی فوت ہوچکی تھی۔ انہوں نے اشاروں کنائیوں میں مژگان کو سہارا دینے کی بات بھی کی جس پرمژگان کا غصہ نقطہ ابال تک پہنچ گیا۔ دل چاہا کہ ایسی کھری کھری سنائے کہ موصوف کی طبیعت درست ہوجائے لیکن اپنا تماشہ بننے کے خوف سے خاموش رہی۔ پھر سوچا کہ سر سے شکایت کردے لیکن دوسرے ہی پل دماغ نے اس خیال کی نفی کردی۔ اگر رشید صاحب نے الٹا اس پر ہی الزام لگادیا تو پھر اسے ہی نوکری سے ہاتھ دھونے پڑجائیں گے۔ وہ ان دنوں سخت پریشان تھی اس پر مستزاد لیلیٰ کا تکلیف دہ رویہ اسے اذیت میں مبتلا کئے رکھتا۔ مژگان یہ بات جان گئی تھی کہ لیلیٰ اسفر کی سیکریٹری کے علاوہ اور بھی بہت کچھ تھی۔ کئی گھنٹے وہ اسفر کے کمرے میں گھسی رہتی‘ دونوں تقریباً روز ہی ساتھ باہر جاکرلنچ کرتے۔ لیلیٰ کا تعلق کھاتے پیتے گھرانے سے تھا وہ محض شوقیہ جاب کررہی تھی اوراسفر علی خان پر دل وجان سے فدا تھی۔ جبکہ اسفر تو آوارہ صفت بھونرا تھا۔ لیکن ایسا بھنورا جوصرف ان چھوئی کلیوں پر ہی منڈلاتا ہے۔ چھوئی ہوئی اور مسلی کلیوں کی طرف وہ نگاہ اٹھا کربھی نہیں دیکھتاتھا۔ اسے دوسروں کی استعمال شدہ چیزوں سے سخت نفرت تھی۔ وہ ہر چیز اپنے استعمال کے لئے برانڈنیو خریدتاتھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ مژگان کی طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا تھا۔ حالانکہ وہ پہلی ہی نگاہ میں مژگان کے سادہ وسوگوار حسن سے متاثر ہوگیاتھا۔ لیکن اس کی ڈائیورس کا سن کر یکدم ذہن سے اس کا خیال جھٹک دیاتھا جبکہ لیلیٰ مژگان کے حسن سے خار کھاتی تھی اسے مژگان کی خوبصورتی اورپرکشش سراپے سے یہ خوف ہوتا کہ کہیں اسفر اس کے حسن اور توبہ شکن سراپے کی بھول بھلیوں میں گم نہ ہوجائے۔ حالانکہ وہ اسفر کی اس عادت سے بخوبی واقف تھی کہ وہ سیکنڈ ہینڈ چیزوں کی طرف ایک نگاہ غلط ڈالنا بھی پسند نہیں کرتا تھا‘ چاہے وہ کتنی ہی دلکش کیوں نہ ہوں لیکن وسوسے اور خدشات اسے ڈسٹرب کرتے رہتے تھے۔

Share this post


Link to post

’’مس مژگان! میرے کمرے میں آئیے۔‘‘ وہ انتہائی انہماک سے اپنے کام میں مصروف تھی جب انٹر کام کے ذریعے اسفر نے اسے بلایا۔ وہ کام یونہی چھوڑ کر اس کے روم میں آئی۔ حسب توقع لیلیٰ چودھری اسفر علی خان کے کمرے میں موجود تھی۔

’’یس سر۔‘‘ وہ رسانیت سے بولی۔

’’یہ فائل آپ نے تیار کی ہے؟‘‘ پرپل کلر کی فائل اسفر نے اس کے سامنے انتہائی طیش کے عالم میں پٹخی۔ مژگان بری طرح سہم سی گئی۔

’’کیا ہوا سر؟‘‘مژگان اٹک اٹک کر بولی۔

’’اب یہ بھی میں بتائوں کہ کیا ہوا۔‘‘ اسفر اس سوال پر مزید تپ گیا۔’’دیکھئے‘ اس فائل کو ایک بھی لائن جو آپ نے درست لکھی ہو۔‘‘ مژگان یہ سن کربری طرح سے اچھل پڑی۔ اس فائل کو مژگان نے پورے دو دن میں انتہائی محنت کے ساتھ تیار کیاتھا۔ کئی بار اس فائل کو پڑھا تھا۔ اس خدشے کے تحت کہ کہیں کوئی غلطی نہ ہوجائے۔ وہ اسفر پراپنا اچھا امپریشن ڈالنا چاہتی تھی۔لیکن یہاں تو سارا معاملہ ہی الٹا ہوگیا تھا۔ اس نے لرزتے کانپتے ہاتھوں سے فائل کو دیکھا۔ جسے دیکھ کر اسے ہزار والٹ کا کرنٹ لگا۔’’یہ تو میں نے نہیں لکھا۔‘‘ وہ دل میں بولی۔

’’لیکن سر۔‘‘

’’جسٹ شٹ اپ مس مژگان!‘‘ وہ اس کی بات کاٹ کر انتہائی کھردرے لہجے میں بولا۔’’جائیں اور دوبارہ فائل بنا کرمجھے آج ہی کی تاریخ میں لاکر دیجئے۔‘‘ مژگان نے انتہائی بے بسی سے یونہی لیلیٰ کی جانب دیکھا جس کے چہرے پر دبی دبی استہزائیہ مسکراہٹ اسے یہ باور کراگئی کہ یہ گھٹیا حرکت کس نے کی تھی۔

’’اوکے سر۔‘‘ وہ اندر ہی اندر آنسو پیتی ہوئی بولی اور فائل اٹھا کر تیزی سے باہرآگئی۔ سیٹ تک آتے آتے اس کا پورا چہرہ آنسوئوں سے اٹ گیا۔ اسفر کا اہانت بھرا انداز اسے سخت ہرٹ کرگیا۔

’’اینی پرابلم مس مژگان؟‘‘ رشید صاحب اس کی میز پر آکر انتہائی متفکرانہ اندازمیں بولے۔ مژگان کا جیسے خون کھول اٹھا۔

’’نومسٹر رشید۔‘‘ وہ تنک کر بولی اور انہیں یکسر نظر انداز کرتے ہوئے کمپیوٹر پر جت گئی۔ اسے دو دن کا کام صرف آدھے دن میں کرنا تھا۔ سو تیزی سے اس کے ہاتھ حرکت میں آگئے۔ رشید صاحب بھی بدمزہ سے ہو کر اپنی سیٹ کی جانب چل دیے۔

vvv

’’یار اسفر…تم تو جانتے ہو کہ حسن میری ازل سے کمزوری ہے۔ میں چھوئی ہوئی اوران چھوئی کی پخ نہیں لگاتا‘ بھئی ہمیں تو کوئی بھی مل جائے لیکن بس شرط اتنی ہے کہ وہ زہد شکن حسن کی مالک ہو۔‘‘ ارباز آصف جو اسفر علی خان کا بزنس پارٹنر اور دوست تھا۔ انتہائی عیاش طبع اور آوارہ صفت انسان تھا حسب وشباب اس کی کمزوری تھے۔اب چاہے وہ حسن پاکیزگی کے پیراہن میں لپٹا ہویا کیچڑ میںلت پت ہو۔ اسے صرف اپنے مقصد سے غرض تھی۔

’’نووے ارباز۔میں تو صرف اسی کلی کو اپنے کالر کی زینت بناتا ہوں جو شاخ سے ٹوٹ کر صرف میرے ہاتھوں میں آئے۔‘‘ اسفر قطعیت سے بولا جبکہ لیلیٰ انتہائی دلنشیں انداز میں مسکرائے جارہی تھی۔ کیونکہ وہ یہ بات اچھی طرح سے جانتی تھی کہ وہ اسفر کے کالر میں لگی ایک ان چھوئی کلی ہے۔

مسلسل جھکے جھکے مژگان کی کمر دکھ گئی تھی کام مکمل کرکے اس نے سر اٹھایا تو گھڑی آٹھ بجے کااعلان کررہی تھی۔ وہ اتنی دیر ہوجانے پر حواس باختہ سی ہوگئی۔

’’اوہ نو‘ اتنی دیر ہوگئی۔‘‘آج کام مکمل کرنے کے چکر میں اس نے دن کالنچ بھی گول کردیاتھا۔ اب پیٹ میں چوہے نہیں بلکہ ہاتھی دھماچوکڑی کررہے تھے۔ وہ انتہائی سرعت سے اٹھ کر اسفرعلی کے کمرے میں ناک کرکے آگئی۔ اندر محفل پورے عروج پر تھی۔ اسفر علی بھی خوشگوار انداز میں محو گفتگو تھا۔ کافی اورسینڈوچ کا دور چل رہاتھا۔ اسفر کے سامنے کوئی اور بھی بیٹھا تھا۔ مژگان نے ارباز اورلیلیٰ کو نظر انداز کرتے ہوئے فائل اسفر کے سامنے دھردی۔

’’سر یہ فائل کمپلیٹ ہوگئی‘ آپ اسے چیک کرلیجئے۔‘‘ وہ تمکنت سے بولی۔کچھ لمحے کو کمرے میں بالکل خاموشی چھاگئی۔ اسفر فائل میں گم ہوگیا اورارباز مژگان میں۔ کتنامکمل حسن تھا اس لڑکی کا انتہائی معطر وپاکیزہ‘ اس پر مستزاد اس کا سوگوار دلکش حسین سراپا۔جس پرارباز کی بے باک نگاہیںالجھ کر رہ گئیں ۔ تھکا تھکا سا گلابی چہرہ‘ تیکھے نقوش‘ بالوںکی اڑتی چند آوارہ لٹیں جو اس کے چہرے کو چوم رہی تھیں۔ اف یہ لڑکی نہیں‘ بلکہ چلتی پھرتی قیامت ہے۔ ارباز دل ہی دل میں بولا۔لیلیٰ ارباز کے چہرے کے اتار چڑھائو سے اس کی اندرونی کیفیت کا بخوبی اندازہ لگا رہی تھی۔ اس کے ہونٹوں پر ایک طمانیت آمیز مسکراہٹ آگئی۔ اچھا ہے ارباز اسے اپنے جال میں پھنسالے گا تو اسفر کا مژگان کی طرف متوجہ ہونا ناممکن ہوجائے گا۔ لیلیٰ دل میں انتہائی مسرور ہو کر سوچنے لگی۔

Share this post


Link to post

’’اس کا انڈکس کہاں ہے؟‘‘اسفر سنجیدگی سے بولا۔

’’اوہ سر۔‘‘ مژگان نے ہاتھ ماتھے پرمارا۔’’وہ میںبنانا ہی بھول گئی۔‘‘ مژگان انتہائی بے چارگی سے بولی۔ وہ بولی تو ارباز کو گمان ہوا جیسے کسی نے ساتوں سر بکھیردیئے ہوں۔

’’جائیں بنا کر لائیے۔‘‘ اسفر رعونت سے بولا تووہ چپ چاپ دوبارہ فائل لے آئی جبکہ ارباز اس کے جانے کے بعد بھی کچھ کھویا سا تھا۔ اسفر اور لیلیٰ اسے یوں کھویا ہوا دیکھ کر ہنس پڑے جس پر ارباز بری طرح سے چونکا اور حال میں لوٹ آیا۔

’’یار اسفر… تمہارے آفس میں یہ طوفان چیز کب آئی اور تمہارے ہاتھوں سے کیسے بچ گئی۔ ارباز کے الفاظ پر لیلیٰ کی بھنوئیں ناگواری سے تن گئی۔ اسفر بھی بدمزہ ہوگیا۔’’تمہیں پتہ نہیں ہے ارباز اسے طلاق ہوچکی ہے۔‘‘ اسفربیزاری سے بولا۔

’’سو وہاٹ۔‘‘ ارباز کندھے اچکا کر لاپروائی سے بولا۔ جبکہ لیلیٰ اندرہی اندر بری طرح کلس رہی تھی۔

’’تمہیں پتہ ہے ارباز… کہ میں جھوٹی پلیٹ چھونا تودرکنار اسے نگاہ اٹھا کر دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا۔‘‘ وہ جو جلدی جلدی انڈکس بنا کر فائل کو مکمل کرکے اسے ہاتھ میں لئے اسفر کے ادھ کھلے دروازے پر ناک کرنے ہی والی تھی کہ ان الفاظ پر اس کا ہاتھ جہاں کا تہاں رک گیا ادھ کھلے دروازے سے اسفر علی خان کی تنفر وحقارت میں ڈوبی آواز صاف آرہی تھی۔

’’اوکے پھر میں ٹرائی کرلیتا ہوں۔‘‘ ارباز کی مکروہ آواز ابھری۔

’’تو یہ ہے تمہاری اصلیت مسٹر اسفر علی خان۔ تم بھی بالکل روایتی مرد نکلے۔ بھونرا صفت۔میں نجانے کیوں تمہیں عام مردوں سے الگ سمجھنے لگی تھی کہ تم نے میرے طلاق یافتہ ہونے کا سن کر مجھ سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش جو نہیں کی تھی‘ لیکن مجھے کیا پتہ تھا کہ تم مجھے ایک ایسی جھوٹی پلیٹ سمجھتے ہو جس پر اک نگاہ ڈالنا بھی تمہاری توہین ہے۔آہ اسفر تمہارے زہر میں بجھے الفاظ نے میری رگوں میں دوڑتے خون کو بھی نیلا کردیا۔ ایک بار پھر وہ اپنے ریزہ ریزہ ہوتے وجود کو دوبارہ جوڑتے ہوئے اندر آگئی۔ ارباز نے اپنی غلیظ نگاہیں اس کے اوپر گاڑ کے اس کی روح تک کو آلودہ کردیاتھا۔ اسفر نے فائل دیکھ کر اسے جانے کی اجازت دی تو وہ مرے مرے قدموں سے باہر نکل آئی۔ انتہائی مضمحل اورملول انداز میں اس نے اپنی چیزیں سمیٹیں ابھی پرس اٹھایاہی تھا کہ ارباز آگیا۔

’’ہیلو مس‘ میں اسفر کا بزنس پارٹنر اوردوست ہوں۔‘‘ اسے سامنے دیکھ کر مژگان کا حلق یوں کڑوا ہوا جیسے کسی نے اسے نیم کا پانی پلادیا ہو۔ تنفر کی ایک تیز لہر اس کے اندر سے اٹھی۔ جس کے اثرات اس کے چہرے پر بھی آگئے۔

’’آئیے میں آپ کو ڈراپ کردوں۔‘‘ وہ دلنشیں انداز میں مسکراتے ہوئے بولا۔

’’نوتھینک یو۔‘‘ وہ روکھے انداز میں کہتی ہوئی باہر نکل گئی۔

’’مس سنیے تو۔‘‘ ارباز بھی پیچھے لپکا لیکن وہ یہ جاہ وہ جا۔ارباز پیچھے ہاتھ ملتا رہ گیا۔ کب تک مجھ سے دامن بچائوگی۔ یہ قدم میری ہی طرف پلٹ کر آئیں گے۔ وہ مکروہ انداز میں خود سے بولا۔

’’اف میرے خدایا۔ پہلے ہی رشید صاحب میری جان کا عذاب بنے ہوئے ہیں اور اب یہ نئی مصیبت۔ ارباز آصف …اف کتنی غلاظت اور پرسراریت تھی۔ اس کی آنکھوں میں۔‘‘مژگان نے سوچتے ہوئے بے ساختہ جھرجھری لی اور اسفر…کتنی حقارت تھی اس کے لہجے میں۔جیسے میں کوئی کوڑھ کی مریض ہوں۔ یا ایسا تعفن زدہ وجود جس کے پاس سے بھی گزرنا اذیت ناک ہو۔ وہ بے آواز روئے چلی گئی۔ جب سے آفس سے آئی تھی وہ ہنوز ایک ہی پوزیشن میں صوفے پربیٹھی ارباز اور اسفر کی باتوں کو سوچتے ہوئے روئے جارہی تھی پھر جیسے تھک کر وہ کھڑکی کے پاس جاکھڑی ہوئی۔ اف یہ کالی رات نجانے مجھے کیوں بزدل اورخوفزدہ کردیتی ہیں۔ میں زندگی کے بوجھ سے تھکنے لگتی ہوں ۔ میرے زخمی پیر آگے چلنے سے انکار کردیتے ہیں اور میرے یہ ہاتھ جو مجھے حوصلہ دیتے ہیں کسی سہمے ہوئے بچے کی مانند میرے وجود کے گرد لپٹ جاتے ہیں۔ یہ رات کیوں آتی ہیں۔ مجھے خوف وتنہائی سے دوچار کرنے کے لئے اف یہ تنہائی! جو ایک سلوپوائزن کی مانند ہوتی ہے۔ آہستہ آہستہ انسان کوموت کی طرف دھکیل دیتی ہیں جو روح کو دیمک کی مانند کھوکھلا کردیتی ہیں۔ وہ آہستگی سے چلتی ہوئی بستر پر دراز ہوگئی۔ آنکھوں کے سوتے خشک ہوگئے تھے۔ اب تو میرے ہونٹوں پر کوئی دعا بھی نہیں آتی‘ نہ آنکھوں میں خواب کا کوئی قافلہ آتا ہے۔ اب ہاتھ بھی اٹھتے ہیں تو بالکل خالی جس میں شاید اب تقدیر کی لکیریں بھی نہیں ہیں۔ اور اس کھنڈر نما دل میں دھڑکن بھی تو کتنی بے زاری سے دھڑکتی ہیں۔ اور اس شکستہ جسم میں سانسیں بھی اکتا اکتا کر چلتی ہیں۔ سب نے میرا ساتھ چھوڑ دیا‘ خوابوں نے‘آرزوئوں وامیدوں نے حتیٰ کہ میری تقدیر نے بھی تو پھر یہ دھڑکن اور سانسیں بھی مجھے کیوں نہیں چھوڑ جاتیں۔ وہ انتہائی آزردگی سے سوچے گئی اس وقت وہ سخت ذہنی دبائو کاشکار تھی۔

مہران حیدر بزنس ٹور سے واپس گھر آچکے تھے۔ نجانے عظمیٰ بیگم نے مژگان کا انیکسی میں رہنے کا ذکر کس رنگ میں پیش کیا تھا کہ وہ الٹا مژگان سے ہی ناراض ہوگئے۔ اور فوراً اس کی طلبی ہوئی۔

’’میں دیکھ رہا ہوں کہ تم حد سے زیادہ بدتمیز اور خودسر ہوگئی ہو۔‘‘مہران حیدر نے تیوری چڑھاتے ہوئے سخت لہجے میں کہا۔

’’بھیا آپ کہاں دیکھ رہے ہیں خود سے دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے آپ کافی عرصے پہلے محروم ہوچکے ہیں۔‘‘مژگان دل میں تلخی سے بولی۔

’’تم دنیا والوں کے سامنے یہ ثابت کرنا چاہتی ہو کہ تمہارے بھیا اور بھابی اتنے ظالم ہیں کہ ایک طلاق یافتہ بہن کا بوجھ نہیں اٹھاسکتے۔ نکل کھڑی ہوئی جاب کرنے اور پہنچ گئی انیکسی میں الگ تھلگ رہنے کے لئے۔‘‘ وہ انتہائی نخوت سے بولے۔ مژگان نے انتہائی دکھ سے اپنے ماں جائے کو دیکھا۔ پہلے ہی وہ کونسا اس کے ہمدرد تھے لیکن آج تو انہوں نے انتہائی سفاکی کا مظاہرہ کیاتھا۔ ’’طلاق یافتہ بہن‘‘ یہ لفظ بار بار اس کے کانوں میں گونج رہاتھا۔ واہ بھیا واہ۔ میرا قصور نہ ہوتے ہوئے بھی ہر طرف سے میری جھولی میں ہی آیا۔ اپنے بھائی کے کرموں کے عوض آذر ملک نے طلاق کا جھومر میری پیشانی پر سجادیا۔ میری پیاری ماں جو میرا واحد سہارا تھی اس کی موت کا ذمہ دار بھی مجھے ہی ٹھہرایا اور ہماری بھابی صاحبہ جنہوں نے رہی سہی کسر بھی اچھی طرح سے پوری کردی۔ ساری دنیا کے سامنے میری عزت کی ردا کو تار تار کردیا۔ میں تو بھیا ‘تیز چبھتی ہوئی دھوپ میں برہنہ پائوں کھڑی ہوں میرا وجود گیلی لکڑی کی مانند سلگ رہا ہے۔ آخر کب تک میں اپنے جلتے وجود پر ہمت وبرداشت اور ضبط وحوصلے کے چھینٹے مارتی رہوں گی بھیا۔ میں تھک جائوں گی۔ میں تھک جائوں گی‘ وہ آزردگی سے سوچے گئی۔

’’میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں مژگان۔‘‘ مہران حیدر کی چنگھاڑتی ہوئی آواز سے وہ جیسے حال کی دنیا میں لوٹ آئی۔

’’آں…ہاں بھیا۔‘‘ وہ گڑبڑا کربولی۔ مہران نے اسے تادیبی اور تیز نگاہوں سے دیکھا پھر چڑ کر باتھ روم کی طرف چل دیا۔ سامنے صوفے پر عظمیٰ بیگم بڑے طمطراق سے بیٹھی اسے تمسخرانہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی وہ خاموشی سے واپس لوٹ آئی۔

vvv

لیلیٰ تین دن کی چھٹی پر اپنے کزن کی شادی اٹینڈ کرنے اسلام آباد گئی ہوئی تھی۔ جس کی بناء پر مژگان کو اس کا کام بھی کرنا پڑرہاتھا۔ اس وقت وہ بری طرح اپنے کام میں غرق تھی جب اسفر کا بلاوا آگیا۔

’’مس مژگان…لیلیٰ آج چھٹی پر ہے لہٰذا آج آپ میرے ساتھ بزنس ڈنر پر چل رہی ہیں۔‘‘ اسفر مصروف سے انداز میں گویا اس سے پوچھ نہیں رہاتھا بلکہ حکم دے رہاتھا۔

’’جی میں…‘‘ مژگان نے اسے نہایت اچنبھے سے دیکھا۔

’’آج رات 8 بجے تیار رہیے گا۔ ‘‘وہ اس کی حیرانی کو خاطر میں لائے بغیر بولا۔ اونہہ بیچاری… اس بات کی توقع نہیں کررہی تھی کہ میں اسے ڈنر پر لے کر جائوں گا۔ وہ مغرور انہ اندز سے اپنے دل میں بولا۔

’’ایم سوری سر‘یہ میری جاب کا حصہ نہیں‘ آپ کسی اور کو لے جائیں۔‘‘ مژگان اسے ٹکاسا جواب دے کر روم سے باہر آگئی۔

’’واٹ۔‘‘ اسفر اپنی سیٹ سے یوں اچھلا جیسے اس کی سیٹ پر ببول کے کانٹے اگ آئے ہوں۔ مژگان کا انتہائی غیر متوقع جواب سن کر اسفر کا دماغ جیسے گھوم سا گیا۔ آخر سمجھتی کیا ہے یہ خود کو۔ یہ لڑکی شاید مجھے جانتی نہیں کہ اسفر علی خان اپنی ضد کا کتنا پکا ہے۔ آج یہ ہر صورت میں میرے ساتھ جائے گی دیٹس اٹ۔وہ اؔپنے آپ سے بولا۔ کہاں تو ایک نظر ڈالنا گوارہ نہیں اور کہاں بزنس ڈنر پرلے جایا جارہا ہے۔ وہ کھولتے ذہن سے سوچے گئی۔ شاباش مژگان تم نے منع کردیا۔ اس نے خود ہی اپنے آپ کو شاباشی دی اورپھر اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔ شام کو آف ٹائم میں اسفر کا پھر بلاوا آگیا وہ اندر ہی اندر خائف سی ہوگئی۔ ایک بار پھر وہ اسفر کے روبرو کھڑی تھی۔

’’جی سر۔‘‘ وہ تمکنت سے بولی۔ اسفر نے اسے آج پہلی بار کافی غور سے دیکھا۔ گوری رنگت پر کالی چمکدار آنکھیں جو کاجل سے بے نیاز تھیں۔ ستواں ناک پر زرقون کی باریک سی لونگ اور لائٹ برائون لپ اسٹک سے رنگے باریک ہونٹ وہ اسے کافی منفرد سی لگی۔

’’میں نے صبح آپ کو ڈنر کے بارے میں بتایا تھا ۔ آپ ریڈی ہیں۔‘‘ وہ یوں استفسار کررہاتھا جیسے وہ صبح اسے ہاں کہہ چکی ہو۔

’’سر! میں نے آپ سے …‘‘

’’میں آپ سے آپ کی مرضی نہیں پوچھ رہا مس مژگان۔‘‘ وہ اس کی بات قطع کرکے انتہائی سخت لہجے میں بولا۔ ’’مژگان محض منمنا کررہ گئی۔

Share this post


Link to post

’’سرمجھے اتنی رات کوباہر جانے کی اجازت نہیں ملے گی۔‘‘ وہ بہانہ بناتے ہوئے بولی اور اس پر یہ بھی جتاگئی کہ وہ اسے لاوارث سمجھ کر ترنوالہ نہ سمجھے۔

’’توٹھیک ہے۔‘‘ وہ کندھے اچکا کر بولا۔ مژگان اس کے اتنی آسانی سے مان جانے پر ابھی ورطہ حیرت میں تھی کہ اگلے جملے نے اسے اندر تک ہلادیا۔’’آج رات آپ یہیں اسی آفس میں‘ اسی کمرے میں آرام سے رہیئے۔‘‘ مژگان ہونق سی شکل بنائے اسے ٹکرٹکر بس دیکھے گئی۔

’’سس…سر یہ کیا مذاق ہے؟‘‘ وہ ہکلا کر بمشکل بولی تھی۔

’’مس مژگان! میرا آپ کے ساتھ کوئی مذاق کا رشتہ نہیں ہے اوکے۔‘‘ وہ کرخت لہجے میں بولا پھر یکدم ’’کھٹاک‘‘ کی آواز پرا س نے بے ساختہ دروازے کی طرف دیکھا۔ اسفر نے آٹومیٹک لاک کے ذریعے دروازہ مقفل کردیا۔ مژگان نے ہراساں ہو کر اسے دیکھا جو بڑے ریلکس انداز میں بیٹھا تھا۔ مژگان کی آنکھوں میں خوف کی پرچھایاں ناچتی دیکھ کر وہ استہزائیہ انداز میں مسکرادیا۔

’’آپ کو مجھ سے خوفزدہ ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں‘ میں استعمال شدہ چیزوں کو چھونا پسند نہیں کرتا۔‘‘ وہ رعونت سے بولا۔الفاظ تھے یا پھر آہنی کوڑا جو اس کی نسوانیت اور پندار پرلگاتھا۔ اس کے اندر کی عورت بلبلا کر رہ گئی۔ اگر کوئی عورت، مرد کی مردانگی کو بھول کر بھی للکاردے تو وہ حیوانیت پر اترنے میں ایک لمحہ ضائع نہیں کرتا اور اگر مرد عورت کی نسوانیت کوچیلنج کردے یا اسے چھونے کے لائق نہ سمجھے تو اس کے اندر بھی قہر کی لہریں اٹھتی ہیں لیکن وہ اپنے بھرپور عورت ہونے کا ثبوت نہیں دے سکتی کیونکہ دونوں ہی طرف سے ہار صرف عورت کے مقدر میںآتی ہے۔ مژگان کا سرخ پڑتا چہرہ اسفر کی نگاہوں کے حصار میں تھا۔ وہ مٹھیاں بھینچے دانت پر دانت جمائے جیسے ضبط کی بلندیوں پر تھی۔ کافی مشکل سے اس نے اپنے آپ کو سنبھالا۔

’’اوکے سر! میں چلتی ہوں۔‘‘ وہ ہار مانتے ہوئے بولی تو ایک فاتحانہ مسکراہٹ اسفر کے کشادہ ہونٹوں کے کناروں سے پھوٹ پڑی۔

vvv

ابھی اس نے انیکسی میں قدم رکھا ہی تھا کہ پیچھے سے آکر عمیر نے اطلاع دی کہ کامران حیدر کا فون آیا ہے۔

’’بھیا کا فون!‘‘ مژگان جوش وخوشی سے اچھل پڑی اور الٹے قدموں واپس باہر آئی پھر یکدم کچھ یاد آنے پر وہ رک گئی۔ کیا میں اس گھر کے اندر جائوں۔ وہ اپنے آپ سے سوال کرنے لگی۔

’’افوہ پھوپو رک کیوں گئیں؟ ‘‘ عمیراسے بت بنا دیکھ کر جھنجلا کر بولا تو اس کی انا اور خودداری کے احساسات پر برادرانہ محبت غالب آگئی۔ وہ ہرسوچ کو جھٹک کر فون سننے چلی گئی۔

’’ہیلو مژگان۔ تم پھر سے پھوپو بن گئی ہو۔‘‘ کامران کی کھنکتی ہوئی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔ یکدم خوشی کی ایک لہر مژگان کے وجود میں دوڑگئی۔

’’آپ کو بہت مبارک ہوبھیا۔‘‘ وہ خوشی سے لبریز لہجے میں بولی۔

’’لیکن مژگان ! تم دعا کرناکہ میری بیٹی کو کبھی بھی کامران حیدر یا آذر ملک جیسا شخص نہ ملے‘ اس کے باپ کا کیا ہوا گناہ اس کی زندگی کو جہنم نہ بنادے۔‘‘ کامران حیدر بھیگی آواز سے بولا تو مژگان دکھی سی ہوگئی۔‘‘ اچھا یہ بتائو‘ اس سے پہلے بھی میں نے تمہیں کتنے فون کئے لیکن تم نے بات ہی نہیں کی۔ کیا اب تک ناراض ہو؟‘‘ کامران پیار بھرا شکوہ کرتے ہوئے بولا۔

’اوہ تو بھابی مجھے بھیا سے بھی بات نہیں کرنے دیتیں۔ دکھ کا بے پایاں احساس اس کے اندر جاگاتھا۔وہ اپنے آنسوئوں کو بمشکل پیتی ہوئی بولی۔

’’وہ بھیا‘ میں نے جاب کرلی ہے تو اس لئے آج کل بہت مصروف ہوگئی ہوں۔‘‘ وہ بات بناتے ہوئے بولی۔

’’اچھا اپنا خیال رکھنا۔‘‘ اتنے عرصے بعد کسی کا اپنائیت بھرا لہجہ سن کر وہ بے آواز سسک اٹھی اور جلدی سے فون رکھ کر واپس اپنی جائے پناہ میں آگئی۔ بھیا دیکھو تمہارے اس گناہ نے میری زندگی کو کس نہج پر لاکھڑا کیا ہے۔ اب میرے ہاتھوں میں کچھ نہیں رہا۔ میرا دامن بالکل خالی ہے‘ میری ذات کا غرور میرا مان سب مٹی میں مل گیا۔ بھیا ‘تمہیں نشاء کی زندگی برباد کرتے وقت اپنی بہن کا خیال کیوں نہیں آیا اور تم نے یہ کیوں نہ سوچا کہ کل کو تم بھی بیٹی کے باپ بنوگے‘ مژگان سوچے گئی۔

vvv

ٹھیک آٹھ بجے اسفر کا ڈرائیور اسے لینے آگیا۔ گلابی جارجٹ کے سوٹ میں جس پر گلابی اور سفید کڑھائی کی ہوئی تھی۔ لائیٹ پنک لپ اسٹک ہونٹوں پر لگائے اور بالوں کی سادہ سی چوٹی بنائے اپنی تیاری کو اوکے کہہ کر وہ گاڑی میںآبیٹھی۔ پی سی کے وسیع ہال کے ایک کونے کی ٹیبل پر اسفر اپنی تمام تر شان کے ساتھ موجود تھا۔گلابی کلر کے کپڑوں میں ملبوس جس کی آنکھیں بھی سوٹ کے ہم رنگ ہو رہی تھیں۔ دھیمے دھیمے قدموں سے چلتی وہ اس کی ٹیبل پر آئی۔ اسفر نے اس کے چہرے پر سوزوحزن کی لہریں بخوبی دیکھی تھیں۔ یہ لڑکی اتنی ڈپرس کیوں رہتی ہے۔ اسفر نے پہلی بار مژگان کے بارے میں ہمدردی سے سوچا۔ تھوڑی ہی دیر میں اسفر کے دوغیر ملکی مہمان بھی آگئے اوراسفر پوری طرح ان کی طرف متوجہ ہوگیا۔ مژگان یہاں آکر اور زیادہ اداس ہوگئی تھی۔ کیونکہ تین سال پہلے ہی وہ کامران

Share this post


Link to post

اور روما کے ساتھ یہاں آئی تھی اور بالکل سامنے والی ٹیبل پر وہ تینوں بیٹھے خوب ہنسی مذاق کررہے تھے۔ مژگان کی آنکھوں میں ماضی کا عکس بہت نمایاں ہوگیا۔وہ ایک ٹک سامنے کی ٹیبل کو دیکھے گئی۔ ذہن کی اسکرین پر ماضی کی فلم جیسے چل رہی تھی۔ اف یہ یادیں کیسے عذاب میں ڈال دیتی ہیں ہمیں ‘بے بس پرندے کی مانند محض پھڑپھڑانے پر مجبور کردیتی ہیں۔ ایک ایسا پرندہ جس کے پر وقت نے کاٹ لئے ہوں وہ ماضی کی گلیوں میں دور تک نکل گئی۔ اسفر کنکھیوں سے اس کی غائب دماغی نوٹ کررہاتھا۔ کبھی اس کے ہونٹوں پر کوئی بھولی بھٹکی مسکراہٹ در آتی اور کبھی شدت کرب سے وہ ہونٹ بھینچ لیتی۔

’’مژگان۔‘‘ وہ بے ساختہ اسے پکار بیٹھا۔ وہ جو نجانے کہاں نکل گئی تھی۔ یک لخت اسفر کی آواز پر حال کی دنیا میں لوٹ آئی۔ اس وقت مژگان کی آنکھوں میںاتنی ناقابل بیان وحشت ‘خوف و بے بسی تھی کہ چند لمحے کو اسفر گنگ سا رہ گیا۔ اچانک اس کے دل میں یہ خواہش ابھری کہ وہ اس کے بازوئوں کو نرمی سے پکڑ کر پوچھے کہ اے اداس لڑکی ‘تم کیوں اتنی وحشت زدہ ہو‘ تمہاری آنکھوں میں یہ خوف و بے بسی کے رنگ کیوں ڈیرہ جمائے ہوئے ہیں؟ پھر یکدم مسٹر جون کی آواز پر وہ حواسوں کی دنیا میں واپس آگیا۔ مژگان نے کھانا بھی بالکل برائے نام کھایا۔ واپسی میں وہ اسفر کی انتہائی لگژری گاڑی میں لب سیئے بیٹھی تھی۔

’’مس مژگان! آپ کی آنکھیں اتنی سرخ کیوں ہو رہی ہیں؟‘‘ اسفر کے ہونٹوں سے یہ الفاظ بے ساختہ نکلے تھے جن پر وہ خود بھی حیران ہواتھا۔ مژگان نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ ’’سر یہ میرے دل کا لہو ہے۔ میرے خوابوں کا خون ہے جو میری آنکھوں سے چھلک رہا ہے وہ دل میں روتے ہوئے بولی۔ البتہ باہر سے چہرہ بالکل پرسکون تھا۔

’’ایکچولی سر‘ میں بہت تھک گئی ہوں اور نیند بھی آرہی ہے تو…‘‘ اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگئی اپنے اندر کے کرب کو چھپانا کتنا مشکل ہوتا ہے ۔اسفر اسے گھر کے گیٹ پر اتار کر گاڑی زن سے لے گیا۔ مژگان دھول اڑاتی گاڑی کو دیکھ کر تلخی سے ہنس دی۔ تمہیں کیا معلوم اسفر علی خان! جب میرے اندر کے آنسو میری آنکھوں میںآنے لگتے ہیں تو ان کو پینے میں‘ میں کتنی بے حال ہوجاتی ہوں یہ کوئی مجھ سے پوچھے۔ وہ خود فراموشی کے عالم میں بولی تھی۔

vvv

’’کامران یہ آپ کو کیا ہوگیا ہے؟ میں دیکھ رہی ہوں کہ جب سے آپ پاکستان سے آئے ہیں کھوئے کھوئے اور بجھے بجھے سے رہنے لگے ہیں۔آخر ایسی کون سی بات ہے جو آپ کو پریشان کررہی ہے؟‘‘ کامران کی آنکھوں میں اضطراب وبے چینی کی لہروں نے مستقل اپنا ڈیرہ جمالیا تھا۔ کامران محض ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا۔

’’روما! میں مژگان کی طرف سے بہت فکرمند ہوں سوچ رہا ہوں کہ اسے یہاں اپنے پاس بلالوں۔‘‘ کامران حتمی انداز میں بولا جسے سن کر روما کے سینے پر سانپ لوٹ گئے۔ لیکن فی الفور وہ بولی کچھ نہیں۔ ضمیر کے کوڑے کھاتے کھاتے وہ تھک سا گیاتھا اور جب سے اس کے گھر بیٹی نے جنم لیا تھا وہ اور زیادہ خوفزدہ اور مضطرب ہوگیاتھا۔

’’میں کل ہی سے کوششیں شروع کردیتا ہوں۔‘‘ وہ تو جیسے سب کچھ طے کئے بیٹھا تھا۔

’’لیکن کامران۔‘‘

’’نہیں روما۔‘‘ کامران اس کی بات کاٹتے ہوئے قطعیت سے بولا ‘روما اندر ہی اندر پیچ وتاب کھا کررہ گئی۔ ’’مجھے پلیز منع مت کرنا۔‘‘ وہ اٹل انداز میں بولا اور روما اس سوچ میں پڑگئی کہ کس طرح کامران کو اس اقدام سے باز رکھا جائے۔

vvv

یہ ٹھنڈی وپرکیف اجالابکھیرتی صبح کتنی حسین ہوتی ہے ۔یہ نیلگوں بیکراں آسمان صبح کے تاب ناک جلوے سے کتنا مسرور اورروشن دکھائی دیتا ہے۔ جیسے کسی دیوانے کا چہرہ اپنے محبوب کے آنے سے یکدم جگمگا اٹھتا ہے‘ صبح کے آنے سے آسمان کے چہرے پر جو روشنیوں کی آبشار بہنے لگتی ہیں‘ یہی روشنی میرے جیسے شکست خوردہ وجود میں بھی زندگی کی ایک نئی توانائی بھر دیتی ہے۔ میرے رکتے قدموں کو دوبارہ چلنے پر اکساتی ہیں۔ سحر کی یہ چار سو پھیلی شوخ سی روشنی مجھے مسکرا کر دیکھتی ہے اور کہتی ہے کہ مت گھبرائو مژگان…میں ہوں نا تمہارے ساتھ اور گلاب کے کھلے یہ نرم ونازک پھول جو رات بھر شبنم کی محبت میں بھیگے مجھے حوصلہ دیتے ہیں کہ میری طرح سر اٹھا کر مان وغرور کے ساتھ جیو اور ان کے ساتھ لگے پھول کے محافظ کانٹے مجھ سے کہتے ہیں کہ اس زمانے کی سردوگرم ہوا سے بچنے کے لئے ہماری طرح تند وتیز بن جائو کہ کوئی تمہارے قریب آنے کی ہمت نہ کرسکے اور یہ بلند وبالا درخت کہتا ہے! مژگان میں بھی تو اکیلا ہوں لیکن میںکتنے طمطراق سے کھڑا ہوں۔طوفانی ہوائوں اور پرزور آندھیوں کا تن تنہا سامنا کررہا ہوں‘ میں تو ہمت نہیں ہارتا تو پھرتم کیوں ہمت ہارنے لگتی ہو۔ فجر کی نماز ادا کرکے مژگان ہرروز لان میں آکر ٹہلنے لگتی تھی۔صبح کا یہ ابتدائی منظر جیسے اسے نئی ہمت وحوصلہ

Share this post


Link to post

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...