Jump to content
ALL SEX SECTION WILL CLOSED IN RAMADAN ×
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
Guru Samrat

کوا چلا ہنس کی چال

Recommended Posts

"اچھا میری بات غور سے سنو"۔ عامر اپنی نئی نویلی دلہن ایمن کو "سمجھاتے ہوئے بولا!
"تمھیں آج سے بہت سے نئے سبق سیکھنا ہوں گے۔ یہاں جاب پر لوگ تمھاری خوبصورتی کی تعریف کریں گے تو برا مان کر چانٹا مت مار دینا اور نہ ہی بدلے میں یہ کہنے لگ جانا پلیزکہ " گھر میں تمھاری ماں بہنیں نہیں ہیں کیا وغیرہ وغیرہ " ۔
وہ ایمن کو بہت رسان سے نئے ملک میں رہنے کے طریقے سمجھا رہا تھا۔
"دیکھو یہ امریکہ ہے اور یہاں کا سسٹم بالکل الٹ ہے پاکستان سے، یہاں بات بات میں دوسرے کی تعریف کرنےکا بہت رواج ہے ۔اس تعریف میں مرد و عورت کی کوئی تخصیص نہیں ہوتی نہ ہی تمھاری تعریف کرنے والے کا مطلب تم سے کوئی فلرٹ کرنا ہو گا ، بس یہ لوگ یوں ہی ہر خوبصورت چیز کی تعریف کر دیتے ہیں اور چونکہ تم بہت خوبصورت ہو تو پہلے سے اسکے لئے ذہنی طور پر تیار رہو۔ تمھیں جواب میں مسکرا کر صرف سب کو شکریہ کہنا ہے اور کچھ نہیں ۔ اگر اس ملک میں سروائیو کرنا چاہتی ہو تو تمھیں اپنے آپ کو بہت بدلنا پڑے گا اور یہی تمام امریکی مینرز تمھیں فوراً سیکھنے ہونگے" ۔

وہ ذرا سا سانس لینے کو رکا اور اسے پیار سے دیکھتے ہوئے دوبارہ گویا ہوا۔

"مجھے دبو قسم کی جی حضوری کرنے والی لڑکیاں بالکل پسند نہیں۔۔ میں چاہتا ہوں مجھے تم پر اور تمھارے اپنی ذات پر اعتماد سے فخر محسوس ہو اور سب لوگ میری بیوی کی تعریف کریں۔ ویسے بھی اصل اہمیت تو یہاں صرف تمھارے کام کی ہی ہو نے والی ہے ، تمھاری صورت کی نہیں کیونکہ وہ سب ثانوی باتیں ہیں تو گیند تمھارے کورٹ میں ہے اب اور دیکھنا یہ ہے کہ تم کونسے کونسے نئے سبق کتنی جلدی سیکھتی ہو"۔


٭٭٭٭٭٭٭٭

عامر ایک اینٹرنیشل کمپنی میں کام کرتا تھا۔ وہ بہت زیادہ اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ عورت صلاحتیوں میں مرد کے برابر ہے اور اِسے اسکے اظہار کا پورا پورا موقع ملنا چاہیئے، اسی لئے وہ کھبی بھی کسی بھی موقعے پر خود کو بہت جدت پسند کہلوانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا اور خود اپنی بیوی پر بے جا پابندیوں کا قائل بھی ہرگز نہیں تھا۔



آج وہ اپنی بیوی کو اپنے آفس میں کام کرنے کے طریقے بتا رہا جسے وہ اپنے آفس میں خالی ہونے والی ویکینسی کے انٹرویو کے لئے لایا تھا اور اتفاق سے وہ فوراً ہی اسکے آفس میں اسی دن اپائینٹ بھی کر لی گء تھی گو کہ ان دونوں کا ڈیپارٹمنٹ الگ الگ تھا مگر انکے آفس ساتھ ساتھ تھے اور بیچ میں شیشے کی دیواریں تھیں۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو سن تو نہیں سکتے تھے مگر سارا دن اشاروں کی زبان اور چہرے کے اتار چڑھاؤ کی مدد سے ایک دوسرے کی حالت سے باخبر رہا کرتے تھے
٭٭٭٭٭٭٭٭
شروع شروع میں ایمن کو بہت مشکل ہو رہی تھی کیونکہ وہ پاکستان میں ایک قدامت پسند فیملی سے تعلق رکھتی تھی مگر اسکو زندگی بھر یہی بتایا گیا تھا کہ اسے ایک مشرقی بیوی کی طرح آنکھیں بند کر کے صرف اپنے شوہر کا کہا ماننا ہے۔ ایمن خود کو اس نئے معاشرے میں ڈھالنے کے لئے اور اپنے شوہر کی خوشی کی خاطر یہ سب نا پسندیدہ کام بھی کرتی جا رہی تھی اور تیزی سے خود کو اسی جدید طرز زندگی کا عادی بنا رہی تھی ۔
آفس میں کوئی بھی مرد یا عورت ایسا نہ تھا جس نے ایمن کی حسن اور ذہانت کی تعریف نا کی ہو اور سب لوگ بار بار عامر کو بہت خوش قسمت بھی کہتے جسکی بیوی نہ صرف بہت ذہین و فطین اور خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ بہت خوش اخلاق تھی بلکہ بچوں کی طرح جاب پر عامر کا خیال بھی رکھتی تھی۔ کبھی اسکے لئے کام کے دوران کچن سے چائے بنا کر لا دیتی اور کبھی لنچ گرم کر کے ٹرے میں رکھ کر اسکے آفس میں رکھ آتی ۔ سب لوگ عامر کا مذاق اڑاتے تھے کہ ایمن تمھاری بیوی سے ذیادہ تمھاری بےبی سٹیر لگتی ہے۔ کتنے لکی ہو تم! کاش ہم کو و بھی ایسی بیوی مل سکتی لائف میں مگر امریکن کلچر میں یہ تو ناممکن ہے۔

عامر یہ سب سن کر خوشی سے پھولے نا سماتا اور بہت غرور سے اپنی پیاری بیوی کو دیکھتا جو اسکی پسند تھی اور کتنی قربانیاں دینے کے بعد اسکو ملی تھی۔ پورے خاندان کو ناراض کرنے کے بعد کہیں اسکو پا سکا تھا۔ اب وہ ڈھیروں خوشیاں ایمن کی گود میں بھر دینا چاہتا تھا اور پہلا ثبوت یہی تھا کہ اس نے ایمن کو اپنے آفس میں بالکل اپنی برابری کی سطح پرلا بٹھایا تھا اور اب پورے عالم میں ایمن کی شکل میں اسکی پسند کا ڈنکا بج رہا تھا اس لئے اسکا فخر کرنا اتنا بےجا بھی نہیں تھا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
عامر نے ایمن کی وارڈروب امریکن کپڑوں سے بھر دی اور صبح شام اسے امریکن لہجے میں انگلش بولنا سیکھا رہا تھا۔ کھبی تو خود اسکو لڑکیوں والے کپڑے پہن کر اٹھنا بیٹھنا اور چلنا سیکھاتا اور کھبی کسی ماڈل کی طرح فائلیں پکڑے امریکن لہجے میں انگلش بول بول کر آداب گفتگو سمجھانے کی کوشش کرتا۔

کھبی ایمن سنجیدگی سے عامر کو سنتی اور کھبی اسکی ایسی حرکتوں پر ہنستے ہنستےلوٹ پوٹ ہو جاتی۔ ایک دن ایسے ہی صبح صبح جب ان دونوں کے علاوہ آفس میں ابھی کوئی بھی نہیں آیا تھا اور موقع سے فائدہ اٹھا کر وہ اسکو ایکہ ہاتھ میں فائل پکڑے اور دوسرے میں کافی کے کپ میں پانی بھر کے اس کپ کو بڑی ادا سے پکڑے آہستگی سے چلتے ہوئے ارد گرد بیٹھے لوگوں کو مسکرا مسکرا کر گڈ مارننگ کہنا سیکھا رہا تھا کہ جذبات میں بظاہر سامنے نظر نا آنے والی شیشے کی دیوار کو خالی جگہ سمجھ کر دھم سے ٹکرا گیا اور کافی کے کپ والا سارا پانی بھی اسکے کپڑوں پر گر گیا اور خود بھی چاروں شانے چت ہو گیا۔

ایمن کو پہلے تو سمجھ نا آیا کہ اس بات پر ہنسے یا جا کر اسکو اٹھائے ۔ پہلے تو وہ جی بھر کے ہنستی رہی اور پھر جب عامر کی تکلیف کا احساس ہوا تو اسکو اٹھانےکے لئے بھاگی اور جب نیچے جھکی تو اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولی۔
"عامر ! یہ مت بھول جانا کہ کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم پاکستانی ہیں اور ہمیشہ پاکستانی ہی رہیں گے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کونسے ملک کے کپڑے پہنیں اور کونسے لہجے میں انگلش بولیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔"۔


جاری ہے

Edited by Administrator

Share this post


Link to post

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ تاکہ یہ گناہ جاریہ نہ بنے ۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے کسی گروپ یا اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر ثانی سے شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین کر دیا جائے گا ۔ اور دوبارہ ایکٹو بھی نہیں کیا جائے گا ۔ اکاؤنٹ کینسل ہونے پر کسی بھی سیئریل کی نئی اپڈیٹس کے لیئے ممبر کو دوبارہ قسط 01 سے ممبرشپ حاصل کرنا ہو گی ۔ اور ڈیٹا شیئر کرنے والہ ممبراس بات کا بھی عملی اقرار کرے گا کہ وہ بروز قیامت فورم انتظامیہ، سٹوری رائیٹر اور فورم ایڈمن کے تمام گناہوں کا اکلوتا وارث ہو گا ۔ اور بروز قیامت اپنی تمام نیکیاں (جو بھی اس کے نامہ اعمال میں ہوئیں ) بروز قیامت فورم ایڈمن اور کہانی رائٹر کو دینے کا پابند ہو گا۔ اگر کوئی ممبر اب بھی ایسا کرتا ہے اور گناہ جاریہ کا سبب بنتا ہے ۔ تو یہ سب رولز اس پر خود بخود لاگو ہوں گے ۔ ۔ ۔ ایڈمن اردو فن کلب

Buhat achay andaz me ek acha sabaq dia ha or waqaee hum jitni bhi koshish ker lain apni Saqafat apna Culture nahi badal saktay na hi bhula saktay han

Share this post


Link to post

بہت خوب گرو سمراٹ جی بہت خوب!۔

ایک اچھے موضوع پر کہانی لکھی گئی ہے۔

جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔

ایسی ہی اچھی اچھی اور چھوٹی چھوٹی مناسب کہانیاں پوسٹ کرتے رہا کریں۔

Share this post


Link to post
Buhat achay andaz me ek acha sabaq dia ha or waqaee hum jitni bhi koshish ker lain apni Saqafat apna Culture nahi badal saktay na hi bhula saktay han

بہت خوب گرو سمراٹ جی بہت خوب!۔

ایک اچھے موضوع پر کہانی لکھی گئی ہے۔

جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔

ایسی ہی اچھی اچھی اور چھوٹی چھوٹی مناسب کہانیاں پوسٹ کرتے رہا کریں۔

Dears Mujhy afsoos hai k app main se koi kahani ko samjh nahin saka :( kahani to abhi start main hai :P agy agy dekhin hota hai kia :P

Share this post


Link to post

دن تیزی سے پر لگا کر اڑنے لگے۔ اب تو ایسا لگتا تھا جیسے عامر کہیں پس پشت چلا گیا ہے۔ دور بہت دور کہیں پیچھے رہ گیا ہے، پورے آفس میں ایمن کی ذہانت اور خوبصورتی کا سکہ چلنے لگا تھا ۔ وہ صرف اپنی من موہنی صورت سے ہی نہیں بلکہ اپنے اخلاق اور انتہائی محنتی ہونے کی وجہ سے بہت جلدی ترقی کی منزلیں طے کر تے کرتے جب ایک سال بعد ہی عامر کی باس کے عہدے پر فائز ہوئی تو پہلی دفعہ جیسے عامر کے اندر ایک چھناکہ سا ہوا اور اسکی انا اور خود داری کا بت جیسے تڑاخ سے ٹوٹ گیا۔
بجائے خوش ہونے کے وہ اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا کر رہ گیا، وہ یہ بات برداشت نہیں کر سکتا تھا جسکو ہاتھ پکڑ کر قدم قدم چلنا سیکھایا تھا وہی اسکی بیوی جو گھر میں اسکے جوتے پالش کرتی تھی اسکے کپڑے دھوتی تھی اور اکثر اسکے پیروں سے موزے بھی اتارتی تھی-------۔اب وہی بیوی آفس میں باس بن کر اس کو بتانے والی تھی کہ تمہیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں اور کونسا کام کس طرح سے کرنا ہے۔

_______ پیتھیٹیک---------- وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا اور ناراضگی کے اظہار کے طور پر زور سے ایک مکہ میز پر مارا اور دونوں ہاتھوں میں سر تھام کر بیٹھ گیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ بات عامر کی برداشت سے باہر تھی اور وہ کسی بھی طرح خود کو اسکے لئے تیار نہیں کر پا رہا تھا۔ عامر کو ایسا لگتا تھا جیسے پہلے اسکی مردانگی کالے ناگ کے پھن کی طرح بڑے غرور سے پھیلی ہوئی تھی اور وہ خود ایمن جیسی مستانی بین پر مست ہو ہو کر پھنکارا کرتا تھا مگر اب ہر لمحے جیسے وہی مستانی بین ایک بھیانک جوتے کی نوک میں بدل گئی تھی جو ہر گھڑی اس مردانہ پھن کو اپنے اعتماد کے زنانہ بوجھ تلے کچلتی جا رہی تھی ۔ ایمن کا وہی اعتماد جو کھبی اسکے شوہر کی پہلی آرزو ہوتا تھا اب اس کے شوہر پر بار ناتواں بن چکا تھا۔
عامر جتنی بار بھی سوچتا اتنی بار تیز درد کی ایک لہر جیسے دل میں اٹھتی اور ہر بار وآپس جاتے ہوئے ایمن کے لئے اسکے دل میں موجود پرانے پیار کا کچھ حصہ اپنے ساتھ بہا لے جاتی تھی اور اسکے بدلے میں کچھ شکوک و شبہات نفرت اور بےزاری کا جھاڑ جھنکار محبت کے ساحل پر چھوڑ جاتی تھی۔
یہ اذیت ناک عمل دن میں کء بار دہرایا جاتا ۔ وہ جب بھی اپنی تمام تر بچی کھچی ہمت جمع کر کےاپنی انا کے اس پھن کو لہرانے کی کوشش کرتا تو بدلے میں ایسا لگتا جیسے ایمن کی طرف سے ہر بار پہلے سے بھی زیادہ بے دردی سے اس پھن کو اپنے جوتے کی نوک تلے کچلنے کا عمل دہرایا جاتا ہے اور آہستہ آہستہ اب تو عامر کی پرغرور پھنکاریں بھی جیسے کراہوں میں بدلنے لگی تھیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

جاری ہے

 

Share this post


Link to post

گرو جی! آپ کا انویٹیشن ملا تھا تھریڈ وزٹ کرنے کا تو ہم نے سوچا کہ کہانی ختم ہوگئی ہے اور آپ کو کمنٹس کا انتظار ہے۔ لہٰذہ ہم نے آنکھ بند کر کے کمنٹس کر دیے لیکن ہاں آنکھیں ہم نے پوری پوسٹ پڑھنے کے بعد ہی بند کی تھیں (ہی ہی ہی ہی) اور اب آپ نے مزید اس کو آگے جاری رکھا ہے اب یہ سمجھ میں نہیں آرہاکہ کیا لکھوں؟ تعریف تو پہلے ہی کر چکے ہیں اور رہی بات یہ کہ اب یہ کہانی ختم اگر ہو گئی ہے تو نیچے ختم شد کا اضافہ فرما دیں نہیں تو پوسٹ کے آخر میں جاری ہے ضرور لکھا کریں۔ امید ہے آپ برا نہیں منائیں گے۔

Share this post


Link to post

Dears Mujhy afsoos hai k app main se koi kahani ko samjh nahin saka :( kahani to abhi start main hai :P agy agy dekhin hota hai kia :P

Dear Guru g ap ne bhi to ''Jaari ha '' Nahi Likha na and hum ne to Jitni post hoi ha us k mutabiq jo Sabaq nazer aaya us per baat ki ha ab daikhty han aagy kia hota ha

Share this post


Link to post

Guru G Buhat Nice Janb Ap Ne Aik Ache Topic Par Aik Achi Kahani Likhi Hai Nice Janb..

Thats Reallity Ke Hum Apna Asal Nahi Chupa Sakty Chay Kitny Bhi advance Kyu Na Ho Jain...

Thanks For Really Nice Story ...

Waiting For Updates ..

Share this post


Link to post

گرو جی! آپ کا انویٹیشن ملا تھا تھریڈ وزٹ کرنے کا تو ہم نے سوچا کہ کہانی ختم ہوگئی ہے اور آپ کو کمنٹس کا انتظار ہے۔ لہٰذہ ہم نے آنکھ بند کر کے کمنٹس کر دیے لیکن ہاں آنکھیں ہم نے پوری پوسٹ پڑھنے کے بعد ہی بند کی تھیں (ہی ہی ہی ہی) اور اب آپ نے مزید اس کو آگے جاری رکھا ہے اب یہ سمجھ میں نہیں آرہاکہ کیا لکھوں؟ تعریف تو پہلے ہی کر چکے ہیں اور رہی بات یہ کہ اب یہ کہانی ختم اگر ہو گئی ہے تو نیچے ختم شد کا اضافہ فرما دیں نہیں تو پوسٹ کے آخر میں جاری ہے ضرور لکھا کریں۔ امید ہے آپ برا نہیں منائیں گے۔

Dear Guru g ap ne bhi to ''Jaari ha '' Nahi Likha na and hum ne to Jitni post hoi ha us k mutabiq jo Sabaq nazer aaya us per baat ki ha ab daikhty han aagy kia hota ha

thanks dear main khyal rahon ga magar app jesa great writer agr ye na jaan sake k kahani abhi baqi hai ya ...........baat kuch sajmjh nahin aai:(( :((

Share this post


Link to post

thanks dear main khyal rahon ga magar app jesa great writer agr ye na jaan sake k kahani abhi baqi hai ya ...........baat kuch sajmjh nahin aai:(( :((

ڈئیر گرو جی! اجی ہم کہاں کے گریٹ رائٹر!؟؟؟؟؟؟؟

اب آپ ہم کو اتنا سمجھتے ہیں تو یہ آپ کی ذرّہ نوازی ہے ورنہ بندہ کیا چیز ہے؟

ہاں جی تو اب چونکہ کہانی ایسے موڑ پر آکر ختم ہوگئی ہے جہاں پورا پورا احتمال ہے کہ کہانی واقعی ختم ہو گئی ہے گو کہ آپ نے (ختم شد) لکھا تو نہیں لیکن پیرائے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کہانی اب ختم ہو گئی ہے اور عامر کو اچھا خاصہ سبق بھی مل گیا ہے اپنی بیوی کو نئے رنگ میں ڈھالنے کا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا اس کہانی کو آپ اپنے تئیں آگے بڑھاتے ہیں یا اس کو یہیں پر دی اینڈ کا بورڈ لگا دیتے ہیں۔

Share this post


Link to post

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...