Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
Guru Samrat

انا

Recommended Posts

اس کہانی میں زندگی کے ایک ایسے پہلو کو اجاگر کیا گیا ہے ، کہ اگر یہ بڑھنے پر آئے تو اسکی لپیٹ میں پورا گھر برباد ہو جاتا ہے ، اور کبھی دو بول ہی اسکی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے کافی ہوتے ہیں ، رشتہ چاہے جتنا مرضی گہرا ہو اسکو برقرار رکھنے کے لئے قربانی دینی ہی پڑتی ہے ، تھوڑا سا ہٹ کر ہے شاید آپ لوگوں کو پسند نہ آئے اب یہ اچھا ہے یا برا یہ تو آپ لوگ بتائیں گے ۔ سب کی رائے کا انتظار رہے گا۔شکریہ

Share this post


Link to post

اردو فن کلب کے پریمیم ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔ سینکڑوں صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے پریمیم کلب میں شامل کر دی گئی ہے۔

وہ اپنے آفس میں کام میں مصروف تھا کہ اسکے موبائل پر انٹرنیشنل کال آئی وہ کال سنتے ہی بہت پریشان ہوگیا۔ اور پھر جواب میں بولا کہ میں آج رات ہی آنے کی کوشش کرتا ہوں اور پھر اس نے اسی وقت ٹریول ایجنسی میں فون کر کے لندن کے لئے ایک ٹکٹ بک کروائی ، اپنا کام بند کرکے ایمرجنسی چھٹی کے لئے درخواست دی اور اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔

**********

گاڑی چلا تے وقت اس کا ذہن اپنے ماضی میں چلا گیا ۔ حرا سے اسکی شادی محبت کی شادی تھی اور وہ دونوں پاکستان میں ایک شادی کی تقریب میں ملے تھے ، اور پھر ان کے درمیان دوستی کی فضا پیدا ہو گئی اور وہ دوستی آہستہ آہستہ کب پیار میں تبدیل ہوئی کہ دونوں کو پتہ بھی نہیں چلا اور پھر بلا آخر دونوں کی فیملیز کو ان کی محبت کے سامنے ہار ماننی پڑی اور ان کی شادی ہو گئی، جس سے دونوں بہت خوش تھے

**********

لندن کے پرائیوٹ ہسپتال کے ایک کمرے میں ایک لڑکا داخل ہوا اور بیڈ پر لیٹی ہوئی لڑکی سے مخاطب ہو کر بولا آپی میں نے بھائی کو کال کر دی ہے ، احمد نے اپنی بڑی بہن حرا کو دیکھتے ہوئے بولا ، حرا کے ہونٹوں پر کوئی حرکت نہیں ہوئی پر اسکی آنکھوں سے بے اختیار آنسو امنڈ پڑے ، اور وہ سامنے دیوار کو دیکھتے ہوئے اپنے ماضی کے دریچوں میں کھو گئی کتنے پیارے وہ دن تھے جب وہ رخصت ہو کر لندن سے اپنے پیا کے گھر دبئی آئی تھی اور وہ ہواوں میں اڑتی پھرتی تھی کہ جس سے اس نے پیار کیا اس ہی کو پا لیا ۔

اور پھربہت سے مہینے بے فکری اور ہنستے مسکراتے ہوئے گزر گئے اسے ابھی بھی یاد تھا جب وہ ایک بار اسی طرح بیمار ہوئی تھی تو وہ کیسے اس کی کیئر کرتا تھا، کس طرح اسکو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتا تھا، اور اگر کچھ دیر کے لئے بھی دوا لینے میں تاخیر ہو جاتی تو وہ کتنا ڈانتا تھا، اور وہ دل ہی دل میں اپنے آپ کو کتنا خوش قسمت سمجھتی تھی، کہ اسکو کتنا پیار کرنے والا شوہر ملا ہے پر پھر کسی کی نظر لگی اس کے ہستے بستے گھر کو کسی کو پتہ نہیں چلا اور وہ ایک چھوٹی سے مس انڈرسٹنڈنگ کو اپنی ضد اور انا کا مسلئہ بنا کر لمحوں میں اپنا گھر، اتنا پیار کرنے والا شوہر اور سب کچھ چھوڑ کر واپس اپنے ماں باپ کے پاس لوٹ آئی اور انا کی اتنی بڑی دیوار دونوں کے درمیان کھڑی ہو گئی کہ جس کے اس پار اسکی زندگی کا ساتھی کھو گیا جسکی کمی وہ ہر لمحہ محسوس کرتی تھی جس کے بغیر وہ جینا کیا، جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی اور یہی پچھتاوا اور شوہر سے جدائی ہی تھی جس کی وجہ سے وہ اس حالت میں پہنچ گئی جہاں سے لمحہ لمحہ وہ موت کی منہ جا رہی تھی۔

**********

گھر پہنچ کر اسے نے پہلے پاکستان فون کیا اور بولا امی حرا کی طبیعت بہت خراب ہے اور وہ ہسپتال میں داخل ہے ، اس لئے میں لندن جا رہا ہوں۔ تم وہاں جا کر کیا کرو گے اسکی امی بولیں وہ تو تم کو چھوڑ کر اپنے ماں باپ کے گھر چلی گئی ہے ، وہ بولا آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں ، پر مجھے پتہ ہے اسے اس وقت میری ضرورت ھے، وہ چاہے نہ بھی بولے مجھے پتہ چل جاتا ہے ، آپ کو پتہ تو ہے وہ بہت ضدی ہے ، کبھی اپنے منہ سے نہیں بولے گی ، اسکی امی بولی اچھا بیٹے جاؤ اور خیریت بتاتے رہنا۔

اس نے اپنا ٹریول بیگ نکلا اور جلدی میں جو کپڑے نظر آئے اس نے ڈالے اور بند کر دیا آج رات اس کی فلائٹ تھی اس نے احمد کو فون کر کے بتایا کہ وہ آج رات کو امارات ائیر لائن سے آ رہا ہے ۔ اب اسے دبئی سے لندن 5 گھنٹے کا مسلسل سفر کرنا تھا۔

جاری ہے

Share this post


Link to post

ڈاکڑ رپورٹ دیکھتے ہوئی بولی اب یہ بہتر ہے حرا کے والد بولے کیا ہم حرا کو گھر لے جا سکتے ہیں ۔ڈاکڑ بولی ہاں پر اسکو مکمل کیئر کی ضروت ہے اس کے ساتھ نرس کو 24 گھنٹے رہنا پڑے گا وہ حرا کو دیکھتے ہوئی بولی کہ بہت کمزرو ہو گئی ہے اسکے کھانے کا بہت خیال رکھیں ۔ اس کو کوئی دکھ اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہے آپ اس سے پوچھیں اسکو کیا مسلئہ ہے۔ پھر ڈاکڑ نے کچھ ہدایات دے کر، حرا کو گھر جانے کی اجازت دے دی

**********

دسمبر کی سردیوں میں ہفتے کی صبح جب وہ ہتھرو ائیرپورٹ پر اترا تو ہر طرف دھند کے بادل چھائے ہوئے تھے، اور سردی اتنی تھی کے اسکا لیدر کا کوٹ بھی ایسی سردی کو جسم میں داخل ہونے سے روک نہیں پا رہا تھا۔ جب وہ ائیرپورٹ سے فارغ ہو کر باہر نکلا تو احمد کو اپنا منتظر پایا، اس سے ملنے کے بعد وہ گاڑی میں سوار ہوئے اور گھر کی طرف روانہ ہو گئے ابھی انہیں چیرنگ کراس تک پہنچنے میں مزید 2 گھنٹے درکار تھے ۔ اس نے احمد سے پوچھا کہ کیسی ہے حرا اب، احمد بولا اب کچھ بہتر ہے ہم اسکو گھر واپس لے آئے ہیں ، پر وہ بہت کمزور ہو گئ ہے ، کمرے سے باہر ہی نہیں نکلتی، نہ کسی سے بات کرتی ہے۔ کسی کو اپنے پاس بھی نہیں آنے دیتی صرف اسکی نرس ہے ۔جو 24 گھنٹے اس کے ساتھ رہتی ہے ۔ حرا ہر وقت پتہ نہیں کیا سوچتی رہتی ہے۔ یہ سب سن کے اسے چہرے پر فکر کی ایک گہری لہر آئی اور لوٹ گئی گھر پہنچ کر وہ سب سے ملنے کے بعد اوپر اسکے کمرے میں آیا اور دروازہ کٹکھٹایا ۔

**********

حرا بازؤں سے آنکھوں کو بند کئے نہ جانے کن خیالوں میں گم تھی کہ اس کے کمرے کا دروازہ کسی نے کٹکھٹایا ۔جب وہ خیالوں سے واپس آئی۔ نرس نے دروازہ کھولا تو وہ ایک لمحے کے لئے ساکت ہو گئی ، سانس لینا بھول گئی ،اس کی نظریں دروازے پر مرکوز تھیں جہاں اس کا میسحا، اس کی خوشی اور غم کا ساتھی کھڑا تھا جو نرس سے اندر آنے کی اجازت طلب کر رہا تھا، نرس نے ایک لمحے کے لئے حرا کی طرف دیکھا تو حرا نے نگائیں جھکا لیں، تو نرس راستے سے ہٹ گئی ۔وہ جونہی کمرے میں داخل ہوا تو رائیل رساسی کی خوشبو جو وہ ہمیشہ استعمال کرتا تھا اور اسکی مخصوص پہچان تھی پورے کمرے کے چاروں سو پھیل گئی ، حرا کو وہ خوشبو اپنے جسم کے اندر داخل ہوتی محسوس ہوئی۔

**********

جب وہ کمرے میں داخل ہوا تو اس کے دل کو ایک دھچکا لگا، جب اس نے بیڈ پر ایک انتہائی لاغر سی لڑکی کو لیٹے دیکھا ، وہ اپنی حرا کو دیکھ کر ایک دم پریشان ہو گیا، وہ صرف یہ سوچ رہا تھا کہ کیا یہ وہی حرا ہے جس کا چہرا ماہ نور کی طرح چمکتا تھا، اور جسکی آنکھوں میں اسے ہمیشہ زندگی کی چمک دکھائی دیتی تھی اور جس کے ہونٹوں پر وقت مسکراہٹ بکھری رہتی تھی وہ بس اسے کھڑا دیکھتا رہا اور اس کو آنکھوں سے آنسو بہتے رہے۔

کچھ لمحوں میں اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور کمرے میں ادھر ادھر نگاہ ڈورائی تو نیم تاریک بند کمرہ اسکو بہت عجیب سا لگا، حرا کو تو وہ یہ سب بالکل پسند نہیں تھا وہ تو ہمیشہ روشن اور کھلے اور ہوا دار کمروں میں رہے والی تھی ۔

سب سے پہلے اس نے نرس کو بول کر وہیل چئیر کو کمرے سے اٹھوایا اور پھر خود جا کر کھڑکی کے پردے ہٹائے اور کھڑکی کھولی تو سردیوں کی میٹھی دھوپ لمحوں میں پورے کمرے میں پھیل گئی ۔

**********

وہ بس اسے تکتی جا رہی تھی ، کتنے ہی مہینوں بعد اسکو دیکھا تھا، ویسا ہی لاپروا سا، بکھرے بکھرے بال اور بلیو جینز اور وائٹ شرٹ میں ہمیشہ کی طرح بہت پر اعتماد اور مار دینے کی حد تک پیارا لگ رہا تھا، اسے کے دل سے یہ آواز مسلسل آ رہی تھی کہ یہ لمحہ یہیں رک جائے

وہ کمرے کی سیٹنگ تبدیل کر رہا تھا، جو کہ کتنی دفعہ حرا کے گھر والوں نے تبد یل کرنے کی کوشش کی تھی پر ہر دفعہ وہ ان کو منع کر دیتی تھی ، نرس حیران تھی کہ یہ کون ہے کہ جس کے کسی کام پر نہ تو حرا کچھ بول رہی ہے اور نہ ہی غصہ کر رہی ہے۔

**********

کمرے کی سیٹنگ تبدیل کرنے کے بعد اس نے ایک لمحہ حرا کو دیکھا اور پھر نرس سے مخاطب ہوا آپ جائیں اب آپ کی ضرورت نہیں ہے ، نرس نے حیرانگی سے حرا کی طرف دیکھا اور جب اسکو خاموش پایا تو چپ چپ کمرے سے نکل گئی ۔ وہ بیڈ کی سائیڈ پر آیا اور حرا کی میڈیکل روپوٹس اور فوڈ کی ہدایات پڑھ کر کھڑکی کے پاس جا کر کھڑا ہو کر اپنے ذہن میں سارا ٹائم ٹیبل بناتا رہا، اس کو کمرے میں آئے تقریبا 2 گھنٹے سے زیادہ ہو چکے تھے۔ پر وہ ایک بار بھی حرا سے مخاطب نہیں ہوا تھا ۔

**********

وہ اسکو دیکھے جا رہی تھی پھر اسنے جب نیچے امی کو آواز دے کر حرا کے ناشتے کا بولا تو وہ پریشان ہو گئی کیونکہ ناشتہ کرنے کو اس کا بالکل بھی دل نہیں تھا ، لیکن وہ سوچ رہی تھی اگر اس نے اپنے ہاتھوں سے کھلانا شروع کر دیا تو وہ پھر اسکو روک نہیں پائے گی، حرا کو بہت بے چینی ہو رہی تھی ، کہ وہ اس سے بات کیوں نہیں کر رہا،۔ وہ اس کے ہر موڈ سے بخوبی واقف تھی اسے پتہ تھا کہ اس چپ کے پیچھے بہت بڑا طوفان ہے۔ اس وقت اگر اسکو کسی بھی کام سے روکا تو پھر وہ طوفان نہیں تھمے گا ، بس حرا نے اپنے آپ کو سمجھایا کہ وہ جو بھی کرے اسکو کرنے دیا جائے۔

جلد ہی ناشتہ کمرے میں پہنچا دیا گیا۔ وہ کچھ دیر سوچتا رہا پھر اسکا ہاتھ پکڑ کر باتھ روم تک لے گیا اور خود باہر انتظار کرنے لگا ، کچھ لمحوں بعد جب وہ باہر نکلی تو تب تک وہ بیڈ پر ناشتہ لگا چکا تھا، حرا آہستہ سے بیڈ کی سائیڈ پر بیٹھ گئی ، پھر اس نے ایک لمحے حرا کو دیکھا اور ایک نوالہ بنا کر اس کی طرف بڑھا دیا۔

**********

حرا کی آنکھیں اس پر مرکوز تھیں جب اسے نے نوالہ اس کی طرف بڑھایا تو حرا نے چپ چاپ اپنا منہ کھول دیا، وہ نوالے بنا بنا کر کھلاتا جا رہا تھا، اور وہ کھاتی جارہی تھی، اس کے ہر نوالے پر حرا کو نئی زندگی مل رہی تھی ، وہ خود حیران تھی کہ جتنا ناشتہ آج اس نے کیا ہے ، پچھلے کئی مہینے سے نہیں کیا، اب مزید کھانے کو دل نہیں کر رہا تھا وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ کیسے منع کرے ، کہ اس نے اپنا ہاتھ روک لیا، ایک خفیف سی مسکراہٹ حرا کے لبوں پر پھیل گئی ، ایسا ہمیشہ ہوتا رہا تھا ۔ جب وہ کسی چیز کو ختم کرنے کا سوچتی اسے پہلے پتہ چل جاتا ، اور حرا کو اسےکچھ بولنا نہ پڑتا وہ اس کی ہر سوچ کو پڑھ لیتا تھا ، حرا کا بہت دل کیا کہ وہ بھی اسکے ساتھ ناشتہ کرے پر انا کی دیوار اتنی اونچی تھی کے وہ پار نہ کر پائی اور اسکی سوچ سوچ بن کر رہ گئی ۔ وہ اسکو لفظوں میں ڈھال نہ پائی

جب وہ حرا کو ناشتہ کروا کر فارغ ہوا تو وہ حرا کی وڈارب کی طرف گیا اور اپنی پسند کا ایک سوٹ ہمیشہ کی طرح بلیک کلر کا نکالا اور جا کر باتھ روم میں لٹکا دیا، وہ سب دیکھ رہی تھی اور اسکو پتہ تھا کہ اس کا کیا مطلب ہے ، وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اٹھی اور باتھ روم میں گھس گئی ۔بلیک سوٹ پہن کر جب نکلی تو وہ اس کو دیکھتا ہی رہ گیا۔بلیک کلر اس پر بہت جچ رہا تھا، گو بیماری نے اس کا حسن مانند کر دیا تھا پر وہ اسکو جس نگاہ سے دیکھ رہا تھا، وہ بالکل اپسرا لگ رہی تھی۔

جاری ہے

Share this post


Link to post

بہت ہی عمدہ گرو جی، آپ کے انداز بیان کی کیا ہی بات ہے

Share this post


Link to post

اس نے سارا دن حرا کے کمرے میں گزارہ ، وہ بیڈ پر بیٹھ کر اسے دیکھتی رہی ، وہ اس کو اگنور کر رہا تھا، جب حرا کو کسی چیز کی ضرورت پڑتی وہ اتنا قریب ہو جاتا کہ وہ اسکی سانسیں محسوس کر لیتی پر پھر دوبارہ اتنا انجان بن جاتا کہ جیسے جانتا ہی نہ ہو، بہت ناراض تھا۔

کیوں نہ ہو ایک چھوٹی سی بات پر وہ سب کچھ چھوڑ آئی ، اس کے بارے میں کچھ بھی نہ سوچا ۔حرا کو اپنے کئے پر آج کچھ زیادہ ہی افسوس تھا۔، اسے رہ رہ کر اپنے پر غصہ آ رہا تھا کہ وہ اس شخص کا دل توڑ کر آئی تھی ۔جو صرف یہ سن کر کہ حرا بیمار ہے ، اتنے گھنٹوں کی مسافت طے کر کے اسکے پاس آیا ہے۔ حرا کی نظر بار بار اسکی طرف اٹھتی پر ہر دفعہ ناکام لوٹتی، وہ کھڑکی کے پاس کوئی کتاب کھولے پڑھ رہا تھا، حرا کا دل کرتا کہ وہ دوڑ کے جائے اور اسکے قدموں میں جا کر اسے معافی مانگ لے، پر انا کی دیوار اتنی اونچی تھی کہ وہ اپنی پوری کوشش کے باوجود اسے پار نہ کر پائی

**********

کتنے دنوں بعد آج رات وہ دونوں ایک ہی کمرے میں اکٹھے تھے ان کے درمیان اتنا قریبی رشتہ تھا پھر بھی وہ انجان تھے ، جب رات کو حرا سو گئی تو وہ اسکے بیڈ کے پاس آیا اور کتنی ہی دیر اسکو دیکھتا رہا۔ اپنی حرا کو تلاش کرتا رہا، جو کہ اس بیماری میں نجانے کہاں کھو گئی تھی ان حالات میں نیند کا تو کو ئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا نیند تو اسکو ویسے بھی نہیں آتی تھی تو ان حالات میں کب آنے والی تھی، سو یونہی پلکیں جھپکاتے اور اسے دیکھتے صبح ہو گئی ،اور وہ اپنی کرسی سے اٹھا اور صبح کی نماز کے لئے چلا گیا

**********

جب حرا صبح بیدار ہوئی تو اس نے اپنے آپ کو بہت ہلکا محسوس کیا، گزری ہوئی رات میں بہت عرصے بعد وہ گہری نیند سوئی، جیسے وہ پہلے اس کے ساتھ رہتے ہوئے سوتی تھی ، اسطرح کئی دن اور کئی راتیں گزر گئیں وہ اور حرا آپس میں بات چیت نہیں کرتے تھے۔ پر وہ اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتا تھا، اسکو ٹائم پر کھانا کھلاتا ، دوائی دیتا، کبھی کبھی وہ اسکا ہاتھ پکڑ کے نیچے لان میں بھی لے جاتا ، حرا کو اس کے ساتھ چلنا بہت اچھا لگتا تھا، حرا کو ہمیشہ پورے چاند کو دیکھنا بہت اچھا لگتا تھا اور جب وہ اسکے ساتھ تھی تب وہ دونوں ساری رات کھڑکی کے پاس کھڑے ھو کر چاند کو دیکھ دیکھ کر گزارتے تھے آج کی رات بھی چاند کی چودھویں تھی وہ آیا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر کھڑکی کو طرف لے گیا اور پاس پڑی کرسی پر بیٹھا دیا سردیوں کے دنوں میں تو لندن کا موسم ویسے ہی بہت سرد اور ابرآلود ہوتا ہے اور چاند کم ہی نظر آتا ہے پر آج رات ہر چیز صاف صاف نظر آ رہی تھی پورا آسمان تاروں سے بھرا پڑا تھا، لیکن حرا کو اسکی آغوش کے بغیر کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔

**********

دن گزرتے گئے اور آہستہ آہستہ حرا تندرست ہوتی گئی اب اس نے نیچے جانا اور گھر والوں کے ساتھ کھانا کھانا بھی شروع کر دیا تھا ، وہ اپنی زندگی میں واپس لوٹ رہی تھی بس اسکو فکر تھی تو صرف یہ کہ وہ اس سے بات کرے ، اس سے لڑئے اپنا غصہ نکالے ، لیکن اس نے بھی اپنے لبوں پر چپ کی مہر لگائی ہوئی تھی۔

وہ بھی انتہا کا ضدی تھا

**********

جب اس نے محسوس کیا کہ حرا پھر نارمل زندگی میں واپس آرہی ہے اپنے بھائیوں سے ماں باپ سے ملتی ہے ، لان میں بھی جاتی ہے اور چلنے پھرنے کے قابل بھی ہو گئی ہے تو پھر ایک دن جب سب کھانے کے ٹیبل پر تھے ۔ اچانک وہ حرا کے ماں باپ سے مخاطب ہوا اور بولا کہ اب یہ ٹھیک ہو گئی ہے اور مجھے نہیں لگتا اسکو اب میری ضرورت ہے ، اب مجھے واپس جانا چاہئے ، یہ سن کر حرا کے تو جسم سے جیسے جان ہی نکل گئ اور اسکے ہاتھ میں شیشے کا گلاس فرش پر گر کر چکنا چور ہو گیا جب اس نے حرا کی طرف دیکھا تو اسکی آنکھوں سے آنسو کی لڑی رواں تھی وہ اسے زیادہ دیر تک دیکھ نہیں سکا اور دوبارہ اسکے والد سے مخاطب ہوا اور واپس جانے کی اجازت مانگی ، حرا کے والد نے غمگین لہجے میں بولے کہ بیٹے مجھ پتہ ہے کہ حرا ناداں ہے پر اسکو اسکی غلطی کی اتنی بڑی سزا تو نہ دو، لیکن وہ خاموش رہا پھر کچھ دیر بعد بولا کہ انکل آپ جمعرات کی شام کو میری واپسی کی ٹکٹ کنفرم کرا دیں ۔ یہ بول کر وہ اٹھا اور اوپر روم میں آچلا گیا۔

**********

حرا کو اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہوئی آج بدھ کا دن تھا اور وہ کل جا رہا تھا، اسکی کی زندگی کا ساتھی ، ہر دکھ ، ہر خوشی میں ساتھ دینے والا

اسے بے اختیار کسی شاعر کے بول یاد آنے لگے۔

وجہ زندگی جب بھی پوچھا اس نے

لبوں پر خاموشی ، آنکھوں میں تھا چہرہ اسکا

اتنا سنگدل تھا ، کہ جان کر بھی جان نہ پایا

سینے میں دہڑکتا ، پر دل تھا اسکا

حرا نے کتنی ہی بار سوچا کہ وہ اسکو روک لے اس سے اپنی تمام غلطیوں کی معاف مانگ لے ،پر انا کی دیواروں نے دل اور دماغ کو اتنا جکڑ لیا تھا کہ اسکے پاس جانے کی اس کی ہمت نہ ہوئی ۔ اور اب ہر گزرتی گھڑی حرا کے لئے ایک نیا امتحان تھی۔

**********

رات کی تاریکی میں اس نے حرا کے والد کے کمرے کا دروازہ کٹکھٹایا اور انکو بولا کہ انکل آپ حرا کی سیٹ بھی میرے ساتھ کنفرم کروا دیں اور ان سے حرا کو نہ بتانے کا وعدہ لے کر وہ کمرے میں لوٹ آیا۔

**********

بدھ کی رات تھی، لندن میں اسکی آخری رات تھی ۔اگلے دن اسکو واپس دبئی واپس جانا تھا ۔باہر برف باری نے ہر چیز کو سفید چادر کی مانند بنا دیا تھا، وہ جانتی تھی کہ اس کا ہمیشہ سے خواب تھا برف باری میں دور تک اکھٹے چلنا ، وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ وہ اس کی طرف آیا اور اپنا ہاتھ حرا کی طرف بڑھا دیا ، جس کو اس نے بے اختیار تھام لیا وہ اس کو گھر سے باہر لے آیا اور دور تک ہاتھ تھامے چلتا گیا ، اور ایک تاریک سٹرک جہاں دور دور تک کوئی نظر نہیں آ رہا تھا ان دونوں کے علاوہ اس سرد موسم میں کوئی پاگل ہی گھر سے باہر آ سکتا تھا، ہاں وہ بھی تو پاگل ہی تھے ، ایک دوسرے کو اتنا چاہنے کے باوجود صرف اپنی ضد اور انا کے لئے زندگی کے سنہری پل اسطرح گنوا رہے تھے ۔حرا کو اس کے قرب میں ذرا بھی سردی محسوس نہیں ہو رہی تھی وہ تو چاہتی تھی کہ وہ اس میں سما جائے لیکن اپنی سوچ کو عملی جامعہ نہ پہنا سکی اور پھر وہ دونوں رات گئے واپس آگئے حرا سو گئی پر وہ نہیں سویا ، اسکو یہی سوچ پریشان کر رہی تھی کہ پتہ نہیں وہ دوبارہ حرا سے مل سکے گا کہ نہیں، اسکو کو دیکھ سکے گا کہ نہیں پھر وہ دیر گئے تک حرا کے چہرے کو دیکھتا رہا ، اور اپنی آنکھوں میں بساتا رہا

**********

اور پھر جمعرات کا دن آیا وہ رخصت ہونے والا تھا، اپنا سامان پیک کر رہا تھا اور حرا سامنے بیٹھی رو رہی تھی ، وہ کتنے ہی ہفتے اس کے پاس رہا اس کا خیال رکھا پر اس نے حرا سے ایک لفظ نہ بولا اس نے یہ بھی نہ پوچھا کہ وہ کیسی ہے پر جس طرح اس نے اسکا خیال رکھا، شاید شوہر سے بڑھ کر کوئی نہیں رکھ سکتا تھا۔

پھر اس نے ٹھہر کر ایک لمحہ حرا کی طرف دیکھا اور دیکھتا رہ گیا، اسکی آنکھیں بول رھی تھی کہ حرا میرے ساتھ چلو اپنی دنیا میں میں واپس چلیں لیکن اسکے لب خاموش تھے وہ بھی بلا کا ضدی تھا وہ بس یہی چاھتا تھا کہ حرا خود اپنے منہ سے بولے کے مجھے ساتھ لے چلو مگر ایسا کچھ نہیں ھوا اور اسکی ساری امیدیں دم توڑ گئی اور پھر وہ کمرے سے نکل گیا تو حرا ایک دم نڈھال ھو کر بیڈ پر گر گئی۔

**********

کتنے ہی لمحے وہ ایسے پڑی رہی پھر وہ اچانک اٹھی اور بھاگتی ہوئی نیچے گئی وہ جا رہا تھا۔ حرا پیچھے سے اس سے لپٹ گئی اور روتے ہوئے بولی مجھے چھوڑ کر مت جاؤ، مت جاؤ وہ دھاڑیں مار کر رو رہی تھی ، اپنی غلطیوں کا اعتراف کر رہی تھی اور معافی مانگ رہی تھی ، پر وہ چپ چاپ کھڑا سب سنتا رہا کچھ نہیں بولا پھر وہ چلا گیا . دروازے پر پہنچ کر وہ مڑا اور حرا سے مخاطب ہوا۔ وہ جو کہ پچھلے 8 ہفتوں سے چپ تھا صرف اتنا بولا حرا چلو اپنے گھر چلیں ۔

ختم شد

Share this post


Link to post

Zaberdast Guru ji eik bahtreen topic per khani lehki haiya ana bhi hamein bhut se logoun se door ker deti hai

eik achi khani lekhne per bhut bhut shukriya

Share this post


Link to post

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...