Jump to content
Private Cloud Activation Last Date 01-10-2020 After Last Date Not include Previous Purchase in your Private Cloud ×
URDU FUN CLUB
Private Cloud Activation Last Date 01-10-2020 After Last Date Not include Previous Purchase in your Private Cloud
athra jutt

سپنوں کا سوداگر از جٹ صاحب

Recommended Posts

♥♥♥♫♫☻»سپنوں کا سوداگر «♥♥♥♫♫☻

بچپن والدین کی گود میں گزرتا ہے پھر ماں کی گود سے اتر کر زمین کی گود میں آتا ہے ، گردو پیش کے ماحول پے نظر پڑتی ہے تو اچھے برے کی تمیز ہوتی ہے یوں زندگی آگے بھرتی ہے اب ضروری تو نہیں کے جو والدین کی سوچ ھو ووہی بچے کی بھی ھو ، یہی اختللاف ہے مجھے اپنے اور اپنے گھر والوں سے چوبیس کمروں پے مشتمل یہ دو منزلہ کوٹھی جیسس کے ہر کمرے پے لاکھوں روپے تزئین آرائش پے خرچ ہوے ہوں گے اپنے دامن میں ایک وسیع لان بھی رکھتی ہے جیسس کی ہریالی کو برقرار رکھنے کے لئے ہر سال کمو بیش ہزاروں روپے کی سالانہ کھاد بھی ڈالی جاتی ہے .
اپنے ملکوں سے زیادہ نوکروں کی ایک فوج کو اپنے اندر سماے رکھنے والا یہ گھر آشیانہ ک نام سے موسوم ہے مجھے اسس نام سے اختلاف ہے کیوں کے آشیانہ ایک نرم و نازک نام ہے دیں بھر کی شخت دھوپ میں ،خراب موسم میں ؛ تلاش رزق میں سرکرداں مصوم پرندے جب تھک ہار کر جب درختوں میں آ کر چھپتے ہیں تو قدرت بھی ان کی معصومیت پے فریفتہ ہو جاتی ہو گی ، ان پرندوں کے گھونسلے آشیانہ کے نام سے موسوم ہوتے ہیں لیکنحضرت انسان نے ان سے یہ نام بھی چھین لیا چوبیس کمروں کی اس کوٹھی کو یہ نام کیوں دیا گیا ،
اسی بات پے مجھے اختلاف ہے کیوں کے اصولاً اس گھر کا نام قانون گھر یا لا ہاوس ہونا چاہے تھا معاشرے کے جتنے کرخت لیکن معزز ترین لوگ اس گھر میں رهتے ہیں اس گھر میں داخل ہوتے ہی نہ جانے وو مصوم سی چڑیاں بننے کی کوشش کیوں کرتے ہیں ، میں نے غلط نہیں کہا تفصیل سن لیجئے ،

والد صاحب قبلہ جن کا نام سید حیدر جمال شاہ تھا چنگیزیت کے سب سے بڑھے علمبدار تھے وو محکمہ پولیس سے آئی جی کےعہدے سے ریٹریڈ ہوے تھے وو پوری دنیا کو قانون کی نظر سے دیکھتے ذاتی آنکھوں پے انہوں نےہمیشہ کالے شیشوں کا چشمہ لگے رکھا محکمے نے ان کی ملازمت پوری ہونے ک بعد ان کو ریٹریڈ کر دیا اس میں گھر والو کا کیا قصور مگر وو ہمیشہ گھر والو کو ایک بگھڑا ہوا معاشرہ سمجھا اور گھر والو کو یہ حکم جاری کیا ان کو بسس آئی جی پولیس ہی سمجھا جاتےاگر کسسی نے کوئی رشتہ قائم کرنے کی کوشش کی تو اسسے پھانسی پے چڑھا دیا جاتے گا

کیوں کے پولیس ڈیپارٹمنٹ کے سرے اصول یہاں لاگو ہیں ان کے بعد آتے ہیں نمبر دو پر جج امجد شاہ والد صاحب سوری آئی جی صاحب کے سب سے بارے جانشین .......یعنی کے وو حماقت کے رشتے سے میرےسب سے بھرے بھائی ان ک برے میں بس اتنا ہی کہوں گا وو جج ہیں اور ان سے والد صاحب کو کوئی اختلاف نہیں اس ایک ہی جملے میں ان کی پوری تعریف آ جاتی ہے ،
نمبر تین ایس پی پولیس طارق حسسیں شاہ والد صاحب کے محکمے سے متعلق اور پوری تارہا والد صاحب کے تربیت یافتہ

چوتھا نمبر تھا عشرت حسین کا اگر گھر میں کسی کو خدا نے کچھ انسانیت دی تھی تو وو یہی تھے عشرت حسین جو ایک قبل وکیل تھے جو بھائیوں کے سامنے تو ویسے ہی رهتے لیکن تنہائی میں انسانوں جیسی باتیں کرتے یہی غنیمت تھا ،
اب آتے ہیں میری طرف پانچویں نمبر پے یہ خاکسار آتا تھا اور چٹھے نمبر پے ہم سب کی اکلوتی اور میرے علاوہ پورے گھر کی صفات کا مجموعہ یعنی لالارخ میری بہن اگر ہلاکو خان خانم ہوتا تو بلکل لالارخ جیسا اور ہٹلر اگر عورت ہوتا تو لالارخ اس کا نمونہ تھی جو خامخواہ آئی جی بننے کی کوشش کرتی اس کے بعد شهوھر پرست والدہ صاحب تھیں پر مذاق بھابھیاں جو غیر خاندان کی تھیں لیکن ٹھیک ہی تھیں گھر میں اپنا کردار کامیابی سے نبھا لیتی

گھر بھر کی لعن تانکا اگر کوئی شکار تھا تو وو اکیلا یہ خاکسار پر تقھیر جو دھن کا پکا تھا اور قول کا سچا جو تہیہ کے ہوے تھا ک اس گھر کے قوانین کو تسلیم نہیں کری گا ماننے کی جو بات ہوتی وو مان لی جاتی اب یہ تو ضروری نہیں کے کسی کی خوایش پے اپنی پوری زندگی کا جغرافیہ ہی بدل لیا جاتے ایم .اے کر لیا تھا ایل ایل بی کر لیا تھا کافی تھا باہر تعلیم ک لئے جانے سے میں نے انکار کر دیا تھا مجھےیورپ کی برتری قبول نہیں تھی اپنے وطن میں جو کچھ تھا کافی ہے ،آئندہ زندگی میں کیاکرنا چاھتے ہو جج صاحب امجد حسین نے پوچھا میں نے کہا کچھ سوچتا ہوں کیا کرنا ہے وو بولے آشیانے میں جج ہیں وکیل ہیں پویس ہے تم ایسا کوئی کام نہیں کرو گے جیسس سے ہماری بدنامی ھو میں نے کہا جی بھائی صاب پاسس بیٹھی ہوئی بھابھی عصمت نے کہا شارق تم سدھر کیوں نہیں جاتے میں نے کہ جیسے آپ کا حکم بھابھی جان یہ کہ کر اپنی بائیککی چابی پکڑی اور استاد خیر دین کے اکھاڑنے کی طرف ان سے میں کچھ پہلوانی داؤ پیچ سیکھتا تھا وہاں سے فری ہو کر میں جم جاتا اور پھر گھر آج میں جیسے ہی گھر میں داخل ہوا مجھے بھابھی شفق نے بتایا ( آپ کو یہ بتا دوں شفق بھابھی نصرت حسین کی بیوی تھی اور عصمت بھابھی جج صاب کی اور چوٹی بھابھی ایس پی صاب کی ) ہاں تو بھابھی شفق نے بتایا اجج کھلی عدالت لگی ہے اور تم کو پیش کرنے کا حکم ہے آئی جی صاب کا میں نے کہا کوئی بات نہیں میں ان کے کمرے میں گیا وہاں سب ہی بٹہے تھے اب مجھے پوچھا ڈیڈیجان نے ہاں تو شارق کیا سوچا ہے تم نے آگے کا میں نے کہا جو اپپ کا حکم ڈیڈی جانوو بولے گڈ توکل سے تم نصرت کے ساتھ اس کے چمبر میں بیٹھوں گے اور وکالت کرو گے میں نے کہا جی ٹھیک ہے ڈیڈی حضور اور پھر ہم سب خانے کی میز پے آ گے اب ک لالارخ نے کہا بھی نصرت ذرا اس کا دھیان رکھیے گا یہ بھاگ نہ جاتے اپپ ک چمبر سے تو بھی نصرت نے کہا نہیں جاتا اب کہیں بھی اور یوں میں نے اب بھی جان کے ساتھ جانے لگا ان کے دفتر میں ایک بوھت پیاری اور خوبصورت سی ایک لیڈی سیکٹری تھی

جس کا کس ہوا بدن مجھے اچھا لگا پہلے دن سےہی میں اس کو پیار بھری نظرو سے دیکھنے لگا وو بھی اب مجھے ادائیں دکھانے لگی ایک دیں میں پہلے چلا گیا کیوں کے بھائی جان کو آج اسلام آباد سپریم کورٹ میں پیش ہونا تھا ، میں جب دفتر میں پوہنچاتو صرف ابھی تک کرن ہی ائی تھی ابھی کوئی اسسٹنٹ نہیں اۓ تھے بھائی کے ساتھ پانچ اور چوتھے وکیل بھی تھے جو ان کو اسسٹ کرتے تھے کرن نے مجھے دیکھ کر ایک میٹھی سی سمائل دی اور کہا آپ نہیں گے سر کے ساتھ میں نے کہا نہیں میں نے سوچا آج آپ سے کچھ سکھ لیا جاتے وو بولی سر مجھے کیا آتا ہے میں نے کہا اندر آ جاؤ بھائی صاحب نے ایک جدا سے کمرہ بنا رکھا تھا اپنے دفتر میں جہاں جب وو تھک جاتے تو آرام کرتے میں کرن کو لے کر

اس کمرے میں آ گیا وہاں ایک صوفے پے بیٹھ گے ہم کرن نے کہا سر کیا سیکھنا ہے مجھے آپ سے میں نے کہا آج میں تم کو یہ سکھوں گا کے محبت کیسے کرتے ہیں کبھی کی ہے تم نے وو بولی سر کوئی آ جاتے گا میں نے کہا نہیں آتا اب میں اپنا ایک ہاتھ اس کی رانوں پے پھیرنے لگا آہستہ آہستہ سے اپنا ہاتھ اس کے پیٹ پے لے آیا کرن ایک کافی خوبصورت جسم کی مالک تھی
میرا قد کوئی سارھے چھے فٹ کے قریب تھا میرا لنڈ 9 انچ لمبا اورتین انچ موٹا تھا اب میں نے اسسے بیڈ کی طرف لے جانے کا سوچا,میں نے اسکے چہرے کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اسکے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی کس کی اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ پھر میں نے اسکے ممے پر ہاتھ رکھ دیا وہ ایکدم کسمسا اٹھی۔ اب مجھ سے برادشت نہ ہوا اور میں نے اسکو دونوں ہاتھوں سے جکڑ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ میں حیران رہ گیا جب میں نے محسوس کیاکہ کرن نے بھی مجھے اپنے دونوں ہاتھوں سے جکڑ لیا ہے اور مجھے اپنے سینے میں بھینچ رہی ہے۔ میری خوشی کی انتہا نہ رہی کیونکہ میرا آدھے سے زیادہ کام تو ہوچکا تھا۔

میں نے مزید وقت ضائع کیئے بغیر اسکی قمیض میں ہاتھ ڈالا اور اسکے ممے کو پکڑ لیا اور دبانے لگا اسکی سانسیں تیز ہونے لگی تھیں۔ اور اسکے ہونٹ کپکپا رہے تھے۔ وہ میری جانب دیکھ رہی تھی اسکی آنکھوں کے ڈورے سرخ ہونے لگے تھی اور آنکھیں آدھی کھلی اور آدھی بند تھیں۔ میں نے ایک بار پھر اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے مگر اس بار میں نے ایک لمبی کس کی اور اسکے ساتھ ساتھ اسکے دونوں مموں کو دباتا رہا جس سے وہ کافی گرم ہو گئی تھی تقریباً چدنے کے لیے تیار۔ اب میں نے مزید آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ۔ بیڈ کے پاس پہنچ کر میں نے اسکو کھڑا کیا اور اسکو اپنے ساتھ لپٹا لیا اور اسکی کمر پر ہاتھ پھیرتے پھیرتے اسکے کولہوں تک لے گیا اور انکا مساج کرنے لگا.اس نے اپنے کولہے سکیڑ کر سخت کر لیے۔ پھر میں نے اسکے گالوں پر کسنگ کی اس نے جو قمیض پہنی تھی اسکی زپ پیچھے کی طرف تھی میں نے واپس کمر تک ہاتھ لے جاکر اسکی زپ کھولی اور اسکی قمیض کو ڈھیلا کردیا۔ اسکی قمیض اسکے شانوں سے ڈھلک کر نیچے آگئی تھی۔ اور اسکا بریزر صاف نظر آرہا تھا جس میں سے اسکے بڑے بڑے دودھیا رنگ کے ممے اپنی بہار دکھا رہے تھے۔ میں نے اسکی قمیض کو اسی پوزیشن میں چھوڑ کر اسکی شلوار پر حملہ کیا اور میری حیرانی کی انتہا نہ رہی جب دیکھا کہ وہ شلوار میں الاسٹک استعمال کرتی ہے۔ میرے لیے تو اور آسانی ہوگئی تھی۔ میں نے ایک ہی جھٹکے سے اسکی پوری شلوار زمین پر گرا دی وہ خاموش کھڑی صرف تیز تیز سانسیں لے رہی تھی مگر کچھ نہ کہہ رہی تھی اور نہ ہی مجھے روک رہی تھی۔ اب میں نے اسکی قمیض کو بھی اسکے بدن سے الگ کیا وہ صرف برا میں رہ گئی تو اسکو اس تکلف سے بھی آزاد کردیا اب وہ پوری ننگی میرے سامنے ایک دعوت بنی کھڑی تھی میں نے اسکے پورے بدن پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا۔اسکا بدن ایکدم چکنا اور بھرا بھرا تھا اسکا جسم کافی گرم ہو چکا تھا۔ میں نے آہستہ آہستہ ہاتھ اسکی چوت کی جانب بڑھایا اور اپنی انگلی جیسے ہی اسکی چوت میں ڈالی وہ گیلی ہوگئی اسکا مطلب وہ کافی آگے جاچکی تھی اب مجھے اپنا کام کرنا تھا میں نے اسکو بیڈ پر چلنے کو کہا۔وہ خاموشی سے بیڈ پر لیٹ گئی اور مجھے دیکھنے لگی ۔ میں نے انتظار نہیں کیا اور میں بھی بیڈ پر چڑھ گیا اور اسکے اوپر لیٹ کر اپنا لنڈ اسکی ٹانگوں کے بیچ اسکی چوت کے منہ پر پھنسا دیا۔ اور اسکو چوت پر رگڑنے لگا۔
وہ بے حال ہو رہی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ پہلے کبھی اس نے سیکس کیا ہے اس نے کہا ہاں ایک بار میں خوش ہوگیا کیونکہ اب زیادہ پریشانی نہیں تھی۔ میں نے بیٹھ کر اسکی ٹانگیں کھولیں اور اسکی چوت کے منہ پر لنڈ کو سیٹ کیا میرا لنڈ اسکی چوت کے پانی سے گیلا ہو کر چکنا ہوچکا تھا اور اندر جانے کو بے تاب تھا۔ میں نے تنے ہوئے لنڈ کو ایک زور دار جھٹکا لگایا اور میرا لنڈ اسکی چوت میں داخل ہوگیا اور اسی لمحے کرن کا سانس ایک لمحے کو رکا پھر تیز تیز چلنا شروع ہوگیا۔ میں نے تھوڑا سا لنڈ باہر نکالا کیونکہ پورااندر جانے کے لیے اسے تھوڑا سا پیچھے ہٹنا ضروری تھا۔ بس میں نے تھوڑا سا پیچھے کیا لنڈ کو اور ایک زور دار جھٹکا مارا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا پورا لنڈ اسکی چوت کے اندر داخل ہوگیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب اسکے منہ سے آہیں نکل رہی تھیں۔ اسکو اپنے جسم میں میرا سخت تنا ہوا لنڈ محسوس ہوا تو وہ نشے میں بے حال ہونے لگی اور بے تحاشہ مجھے چومنے لگی اور آہستہ سے میرے کان میں کہا مجھے چودو جلدی۔۔۔۔۔۔۔۔ بس یہ سننا تھا میری اندر بجلی دوڑ گئی اور میں نے لنڈ کو اندر باہر کرنا شروع کردیا۔ اور وقت کے ساتھ ساتھ میری رفتار میں اضافہ ہوتا رہا وہ جلدی جلدی چھوٹ رہی تھی۔ اب میں نے آہستہ آہستہ سے چودنا شروع کیا۔ مگر وہ چاہتی تھی کہ میں اپنی رفتار تیز کروں اور وہ تڑپتی رہی کہ میں اسکو پہلے والی رفتار سے چودوں ۔میرا لنڈ مکمل سخت ہے اور لاوا اگلنے کے موڈ میں نہیں ہے میں نے اپنی رفتار بڑھا دی اور بے تحاشہ جھٹکوں سے اسے چودنے لگا۔ وہ بے حال ہو رہی تھی اسکی آہوں سے زیادہ چیخیں نکل رہی تھیں اور وہ مجھے روکنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ مگر میں اب رکنے والا تھا بھی نہیں۔بہرحال وہ اس دوران تین بار فارغ ہوئی اس کی ہمت جواب دے رہی تھی میں نے اپنا لنڈ باہر نکالا اور کہا ابھی میں فارغ نہیں ہوا ہوں تم گھوڑی بنو اسکو اسکا تجربہ نہیں تھا۔

اس نے میری جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا تو میں نے اسے بتایا کیسے گھوڑا بننا ہے وہ سمجھی تھی میں شاید پیچھے کی طرف سے اسکی چوت میں لنڈ داخل کرونگا جیسے ہی وہ گھوڑی بنی میں نے اپنا لنڈ اسکی گانڈ پر رکھا اور پوری طاقت سے اسکو اندر داخل کردیا میرا لنڈ کسی پسٹن کی طرح چکنا اور گیلا تھا اور اسکی گانڈ بھی اسکی چوت سے بہہ کر آنے والے پانی سے گیلی تھی میراپورا لوڑا اسکی گانڈ میں ایک ہی بار میں گھس گیا اور وہ درد سے بلبلا اٹھی مگر میں باز آنے والا کب تھا۔ میں نے اسکو جکڑ لیا اور وہ کوشش کرتی رہی میری گرفت سے نکلنے کی مگر میں نے اسکو نہیں چھوڑا ذرا دیر بعد میں نے اس سے پوچھا کہ تکلیف کم ہوئی اس نے کہا ہاں مگر آپ اس کو نکال کر وہیں ڈالیں جہاں پہلے تھا۔ مگر میں نے انکار کردیا اور کہا ابھی نہیں تھوڑی دیر میں وہ خاموش ہوگئی اس نے خود کو پورا میرے حوالے کیا ہوا تھا۔ بس میں نے اسکی رضامندی دیکھ کر اپنا کام شروع کردیااور جھٹکے دینا شروع کیے اور پھر پوری رفتار میں ایکبار پھر سے اآگیا اسکے ممے بری طرح سے ہل ہل کر اسکے چہرے سے ٹکرا رہے تھےاور وہ بھی پوری ہل رہی تھی اس نے کہا ایسے مزہ نہیں آرہا ہے بہت ہل رہی ہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو میں نے اس سے کہا چلو نیچے زمین پر اسکو زمین پر لاکر میں نے پیٹ کے بل اسکو بیڈ پر اسطرح لٹایا کہ اسکے گھٹنے زمین پر تھے اب میں بھی اسی پوزیشن میں آگیا اور پھر سے لنڈ اسکی گانڈ میں داخل کیا اب میں نے پورا لنڈ اندر ڈال کر مزید اسکی گانڈ کو گہرا کرنے کی کوشش کی اور اندر لنڈ کو رکھ کر ہی دباؤ ڈالا ۔ جس سے ایک بار پھر اسکی چیخیں نکلنا شروع ہوگئی تھیں۔ بالاخر میرا وقت پورا ہونے لگامیں نے اس سے کہا میں تمہاری گانڈ میں ہی منی نکال رہا ہوں نہیں تو تم ماں بن سکتی ہو۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا میں نے جیسے ہی وقت آیا پورا لنڈ اسکی گانڈ میں گھسیڑا اور میرے لنڈ نے منی اگلنا شروع کردی۔ وہ میری منی کے ہر ہر شاٹ پر کپکپا رہی تھی۔ اور اس نے کہا یہ تو بہت گرم ہے مجھے بخار لگ رہا ہے۔ میں نے کہا ایسا نہیں ہے یہ گرمی ہے اسکو انجوائے کرو۔ یہ گرمی پیدا بھی تو تم نے ہی کی تھی۔ پھر آخر میں نے لنڈ باہر نکالا اور وہ سیدھی ہو کر مجھے حیرت سے دیکھنے لگی ۔ اس نے کہا آپ انسان تو نہیں لگتے پہلے جب میں نے سیکس کیا تھا تو اتنا وقت تو نہیں لگا تھا جتنا آپ نے لگایا ہے یہ کہہ کر وہ اٹھی اور مجھ سے لپٹ کر مجھے چومنے لگی ۔ اسکے بعد وہ میرے لنڈ کی دیوانی ہوگئی۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

اردو فن کلب کے پریمیم ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔ سینکڑوں صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے پریمیم کلب میں شامل کر دی گئی ہے۔

janab bohat achi sotry hai

agr mujhay paata hot awaqalat main ye sab hot ahai to main engenirng na karta

Share this post


Link to post
Share on other sites

part 2

اس دیں میں بھائی سحاب ک ساتھ ہی ان کے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا جب دو خواتین اندر داخل ہوئیں ان میں سے ایک تو کوئی بیس سال کی لڑکی تھی اور ساتھ میں ایک عمر رسیدہ ان دونوں کے چہرے پے گم کے گھنے چھاے تھے اس عمر رسیدہ خاتوں اور لڑکی کے چہرے برے دکھی تھے
فرمائیے!:نصرت حسین نے ان کی طرف دیکھتے ہوے کہا ،آپ شاید مجھے پہچان نہیں سکے وکیل صاحب، میں مسز عباسی ہوں راحیل عباسی کی ماں یہ میری بیٹی ثنا عباسی ہے ، اوہ میں پہچان گیا ہوں آپ کو ،فرمائیے میں کیا خدمت کر سکتا ہوں آپ کی نصرت کا لہجہ بدلہ سا تھا اب میں بھی ان کی باتوں میں دلچپی لینے لگا ،نصرت صاحب آپ بوھت برے آدمی ہیں بوھت بڑھا خاندان ہے آپ کا ھمارے اس چوتھے سے خاندان پے رحم کھائیں .وکیل صاحب اس خاندان میں بس چار لوگ ہیں بس چار یہ کہتے ہوے اس کا لہجہ بھیگ گیا اس کی آواز آنسو،وں میں ڈوب گی ، میں سمجھا نہیں آپ کی بات بھائی نے ان سے کہا راحیل ہمارا اکلوتا بیٹا ہے وو اس لڑکی کا بدنصیب بھائی ہے جس نے ابھی دنیا میں کچھ نہیں دیکھا ہم زندہ درگور ہو گے ہیں رحم کریں ہم پے وکیل صاحب رحم کریں بزرگ خاتوں کی سسکیاں شروع ہو گیں تھی اب بھائی نے کہا میں وکیل ہوں خاتوں کوئی جج نہیں وو بولی جج صاحب بھی آپ کے بھائی ہیں جن کے پاس یہ کیس ہے نصرت صاحب نے ghusy سے کہا گویا آپ مجھ پے الزام لگا رہی ہیں کے میں اپنے جج بھائی کے ساتھ مل کر آپ کے بیٹے کو پھانسی کی سزا دلا رہا ہوں وو بزرگ خاتوں تڑپ کے بولی میں یہ نہیں کہ رہی آپ پلز ایذا احمد کی طرف سے کیس نہ لڑیں اب کے بھائی صاب نے کہا کیوں نہ لڑوں وو روٹی ہویی اب بھائی صاحب کے آگے ہاتھ جوڑ ک بولی آپ ایک ماں کی دیوانگی دیکھیں آپ یہ کیس ہار جایئں اسے اپنی آنا کا مثلا نہ بنیں خدا آپ کو بوھت کچھ دے گا خدارا ہم پے رحم کریں
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
عجیب بہتی کر رہی ہیں آپ وو بھی تو انسان تھی جس لڑکی کو برہمی سے آپ کے بیٹے نے عزت لوٹکر قتل کر دیا ہے وو خاتوں اب بیساختہ تارو کے بولی نہیں وکیل صاب میرے بیٹے نے اس لڑکی کو قتل نہیں کیا وو ایسا کر ہی کیسے سکتا ہے اس کی اپنی جوان بہن گھر میں مجود ہے میری تربیت اتنی گھٹیا نہیں ہو سکتی اگر وو قاتل ہوتا میں کبھی نہ آتی اس کے پیچھے نصرت صاب نے کہا وو جب عدالت کا کام ہے دیکھنا اسے وو گناہ گار ہے میں اسسے ہر حال میں پھانسی دلوا کے رہوں گا ایاز صاحب میرے دوست ہیں جن کی بھتیجی کو اس نے قتل کیا ہے وو عورت ضرو قطاررونے لگی نہیں میرے بیٹے کو بچا لیں اس کی اب ہچکیاں بندھ گیں تھیں اب کی بار اس لڑکی نے کہا چلو ماں کن پتھروں سے سر پھوڑرہی ھو جو بس دولت کو دیکھتے ہیں اور اپنی ماں کا ہاتھ پکڑا اور پتھریلی نظروں سے ہم کو دیکھتی ہوئی بھر نکل گی اب بھائی صاحب نے کہا شارق چاے پیو گے سر میں درد لگا دیا ہے ایسے لوگ بھی مل جاتے ہیں کبھی کبھی مجھے اس لڑکی کا آخری الفاظ نہیں بھول رہے تھے ، میں نے دل میں تہیہ کر لیا تھا کچھ نہ کچھ ضرور کروں گا ان ک لئے میں نے اب بھائی سے سری صورت حال پوچھی اس نےبتایا ایاز صاحب کا قالینو کا بوھت برا کاروبار ہے اور وو بھائی کے دوست ہیں ان کی بھتیجی کا قتل ہوا ہے پہلے اسکا ریپ کیا گیا پھر ایک تیز دھار آلے سے قتل کر دیا گیا تھا میں نے کہا بھائی آپ یہ کیس چھوڑ دو وو بولے ترا دماغ تو ٹھیک ہے میں پانچ لاکھ روپے فیس لے چکا ہوں اب میں چپ کر گیا مجھے پتا تھا میرے گھر والوں کے لئے پیسا بوھت بری چیز ہے اب میں نے چپکے سے کرن سے کہ کر اس کیس کی فائل کی کوپی کروا لی اور گھر لے آیا رات کو اپنے کمرے میں پڑھے writing table پے بیٹھ کے اس کو اچھی تارہا پڑھا مجھے اس میں کافی کمیاں نظر آییں اب میں نے اگلے دیں ٹھنے جانے کا سوچا اور کچھ پوائنٹ تیار کے اگلے دیں میں نے اپنے بھائی ایس پی سے کہا مجھے تھانہ صدر میں ایک کام ہے آپ وہاں کے ایس ایچ او کو کہ دیں وو تعاون کرے وو بولے ok میں کہ دوں گا میں اب اپنی روٹین کے مطابق پہلوانکے اکھاڑنے میں گیا اپنی ورزش کی پھر جم سے ہو کر واپس گھر آیا اور ناشتہ کرنے کے بعد سیدھا راحیل عباسی کے گھر کو چل دیا میں نے دروازے پے دستک دی تو احتشام عباسی جو کے راحیل کے والد تھے انہوں نے دروازہ کھولا مجھے کہا جی کن سے ملنا ہے میں نے کہا میں نصرت حسین وکل کا بھائی ہوں وو بولے جی آپ اندر آ جایئں اندر میں ایک صوفے پے بیٹھ گیا تو راحیل کی والدہ صاحب نے کہا جی اب کیا حکم ہے ھمارے لئے میں نے کہا دیکھیں انٹی میں چاہتا ہوں آپ مجھے سری تفصیل بتا دیں وو بولی بیٹا آپ کا بھائی ھمارے خلاف وکل ہے اور آپ ہم سے تفصیل پوچنے آ گے ہیں
------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
میں نے کہا دیکھیں اگر آپ مجھ پے یقین کر سکیں تو کر لیں میں پوری کوشش کروں گا آپ کا بیٹا اگر بیگناہ ہوا تو وو باہر آے گا اب بھی وو چپ رہی تو میں نے ghusy سے کہا چلیں آپ کی مرضی ہے اور اٹھ کھڑا ہوا اب کے ایک کمرے سے ثنا نکل کے آیی اور کہا ماں جی بتا دیں ان کو بھی سری بات کیا پاتا یہ ہی کچھ کر سکیں ہم تو اب بےبس ہو گے ہیں تو مجھے سری تفصیل بتانے لگی اس نے بتایا کے راحیل نے بی .ایس سی کیا ہے میں ایک سرکاری ادارے میں ملازم تھا ایک حدسے میں میری ایک ٹانگ کٹ گی اور راحیل کو اپنی پڑھائی ادھوری چھوڑ کر ملازمت کرنی پڑھی یہ لڑکی جس کا قتل ہوا ہے یہ ایذا کی سگی بھتیجی نہیں یہ ایاز کے ایک دوست کی بیٹی تھی اس کا نام ندرت تھا وو راحیل سے کافی متاثر تھی ھمارے گھر بھی آتی جاتی رہتی تھی اب کے ثنا نے کہا شارق صاب وو راحیل کو پسند کرتی تھی وو اس سے شادی تک کرنے کو تیار تھی اسی نے بتایا تھا مجھے کے اس قالینوں کے کاروبار میں اس کے والد صاحب کا بوھت سارا پیسا لگا ہے اور اور اس شوروم میں وو تین حصوں کی ملک ہے اور ایک حصہ ایاز صاب کا ہے وو کہتی تھی مجھے لگتا ہے ایاز صاب اس کاروبار میں کافی گھپلے کر رہے ہیں اسی نے ایذا صاب کو کہ کر راحیل کو منیجر کی پوسٹ دلوائی تھی اب میں کچھ کچھ سمجھنے لگا تھا صورتحال میں نے اب کہا او کے میں اب تھانے جا رہا ہوں آپ کو کچھ ہی دنو میں خوشخبری سناؤں گا وو سب خوش ہو گے ثنا مجھے چھوڑنے باہر دروازے تک آیی میں نے کہا بےفکر رہو سب ٹھیک ہو جاتے گا وو کہنے لگی چلیں دیکھتے ہیں اور میں اب تھانے کی طرف چل دیا میرے پاس اپنا بائیک تھی میں اسسے ہی زیادہ استمال کرتا تھا میں تھانے میں گیا تو مجھے پتا چلا ایس ایچ او صاحب اپنے کمرے میں ہی ہیں میں نے ان سے اپنا تعارف کروایا وو بولا جی سر مجھے ایس پی صاحب نے کہا دیا تھا آ پ حکم کریں سر میں نے کہا میں آپ سے راحیل عباسی کے کیس کا پوچھنا چاہتا ہوں کیا وو آپ کانظر میں قاتل ہے وو کچھ دیرتو چپ رہا پھر بولا سر ہم بھی انسان ہی ہوتے ہیں مجھے وو لڑکا کہیں سےبھی قاتل نہیں لگا لیکن ثبوت اس کے خلاف جاتے ہیں میں نے کہا کیا وو اتنا ہی پاگل تھا کے ایک چھری قتل کے بعد اپنی چاٹ پے پھینک دیتا اور اپنے کپڑے گھر سے باہر کہیں چھپا دیتا جہاں سے پولیس کو فورن مل جایئں وو چپ رہا اور بولا سر اب آپ سے کیا چھپانا ہم کو ایک ڈی .ایس .پی نے کہا تھا اس کیس کو جلدی سے مکمل کرو اور ملزم کو جیل میں چھوڑ آؤ
---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
پھر میں نے کچھ دن میں ہی سارا کچا چٹا پتا کر لیا اپنے ایک دو دوستو کی مدد سے یہ قتل ایاز کے بیٹے نے کیا تھا جو مجھے اتفاق سے پتا چل گیا ہوا یوں کے میرے ایک دوست کے گھر ایک پارٹی تھی میں بھی وہاں گیا تو ایک روزی نامی لڑکی سے میرا تعارف ہوا اسے ایاز کا بیٹا جمیل لے کر آیا تھا جو میرے اس دوست کا جاننے والا تھا اب میں اور روزی ایک ہی میز پے بٹہے تھے صاب ہی شراب پی رہے تھے سواے میرے وو مجھ سے پوچنے لگی آپ اس طرح کی محفلوں میں آ کر بھی شراب نہیں پیتے میں نے اسے بتایا میں ڈرنک نہیں کرتا وو حیران رہ گی اب اس سے باتوں کی سلسلہ چل نکلا تو اس نے بتایا اس کا بھائی جمیل کا دوست ہے اور اسی کو ملنےکے بہانے یہ میرے گھر آتا تھا اور اس نے ایک دو دفع مجھے نہتے میں دیکھ لیا اور میری تصویریں بنا لیں اب یہ مجھےبلیک میل کرتا ہے میرے بھائی کو اس نے نشے پے لگا دیا ہے اسے نہیں پتا ان باتوں کا اب میں نے اس کے گھر کا پتا پوچھا اور اسے کہا میں کل اوں گا تم سے ملنے اگلے دیں میں روزی کے گھر گیا اسی نے دروازہ کھولا وو ابھی ابھی نہا کے نکلی تھی شاید اسے کے بال گیلے تھے اور اس کے کپڑے اس کے جسم سے چپٹے ہوے تھے اس کے مممے کافی برے برے تھے میری نظر ان پے ہی گی پہلے کیوں کے اس نے دوپٹہ نہیں لیا ہوا تھا اب میں اس کے ساتھ گھر میں داخل ہوا اور ہم لوگ ایک کمرے میں بیٹھہ گے وو بولی میں آپ کے لئے کولڈ ڈرنک لے کر آتی ہوں وو جب اٹھ کے کچن کی طرف جانے لگی تو اس کے بھاری بھاری کولھے ایک دوسرے سے رگڑ رہے تھے یہ سین دیکھ کر میرا تو لن کھڑا ہو گیا تھا وو کچی دیر میں کولڈ ڈرنک لے کر آیی اور نیچے جھک کر وو میرے سامنے میز پے رکھی تو مجھے اس کے صاف شفاف مممے نظر آ گے جو کالے رنگ کے بریزر میں قید تھے اور آزاد ہونے کی ناکام کوشش کر رہے تھے اب میں نے کولڈ ڈرنک پینے لگا وو بولی شارق میں ذرا اپنے بال سکھا لوں آپ بیٹھو اور اپنے روم کی طرف چل دی میں جاتے ہوے اس کے مٹک مٹک کر چلتی ہویی چال سے محفوظ ہونے لگا ،کچھ دیر بعد وو میرے پاس آ کربیٹھ گی میں نے کہا تم بوھت پیاری لگ رہی ھو وو بولی چھوڑو بھی ایسے ہی کہ رہے ھو میں تو عام سی ہوں پھر میں نے اس سے کہا گھر میں کون ہے وو بولی بس میں اور تم اب ہم دونوں میں مل کر ایک انڈین مووی دیکھنے لگے اس میں ایک کس سین آیا و میں نے وو اگے کیا وو بولی رہنے دو نہ آج دیکھتیھیں کیسی کس کرتے ہیں یہ مووی میں میں نے اسسے دیکھتے ہوے کہا ایسے کیسے سمجھ آ سکتی ہے کسی کو جب تک خود نہ وو پرکٹکلی کرے وو یہ سن کے شرما گی اور کہا نہیں ایسے ہی ٹھیک ہے اس کی آنکھیں اب کچھ لال ہو گیں تھیں کیوں کے وو کس سین کافی سیکسی تھا میں نے اب دھیرے سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر سہلانا لگا وو کچھ نہ بولی
میں نے کہا روزی میں ایک کس کر لوں تمہارے ان شہد سے بھرے ہونٹوں پے


وہ شرما گئی شرم سے اس کا چہرہ سرخ اور کان گرم ہورہے تھے وہ تھوڑا پیچھے ہٹنے لگی مگر میں نے ہاتھ سے کھینچ کر اس کو مزید اپنے قریب کرلیااور اس کے چہرے کو پکڑ کر اس کے ہونٹوں پر کس کردیا اور پھر اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے پہلے تو اس نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی مگر تھوڑی دیر بعد وہ بھی مست ہوگئی میں نے اس کا نچلا جبکہ اس نے میرا اوپر والا ہونٹ چوسنا شروع کردیا اب میرا ایک ہاتھ اس کی گردن میں جبکہ دوسرا ہاتھ اس کی چھاتی پر تھا میں اس کے مموں کو آہستہ آہستہ سے دبا رہا تھا کچھ دیر میں وہ بھی مست ہوتی گئی میں نے اس کی قمیص کے نیچے سے ہاتھ ڈال کر اس کے مموں کو پکڑنا چاہا تو جیسے اس کو کرنٹ لگا اس کے ممے تھے تو چھوٹے مگر تھے بہت ٹائٹ‘ میں نے ان پر ہاتھ رکھا پہلے توروزی بہت تلملائی مگر میں نے اس کے نپل کو سہلایا تو اس پر مزید مستی آنے لگی چند لمحوں میں اس نے اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ دیا اور تقریباً لیٹ ہی گئی تھی اب میں نے اس کی قمیص اوپر کی اور بریزئیر کے نیچے سے اس کے ممے باہر نکال لئے واہ 32 سائز کے سانولے ممے اور ان کے اوپر گلابی رنگ کے چھوٹے چھوٹے سے نپل میں نے دونوں مموں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا تو ایسے لگ رہا تھا کہ میرے ہاتھوں میں دنیا کی قیمتی ترین چیز آگئی ہے پھر میں نے اپنے ہونٹوں سے ایک نپل کو چھوا تو اس کے منہ سے سسکاری سی نکل گئی میں نے پہلے ایک ممے اور پھر دوسرے ممے کے نپل کو منہ میں لیا اور آہستہ آہستہ سے چوسا وہ مسلسل نہ کرو نہ کرو کے لفظ بول رہی تھی اور اس کے ساتھ ہی اس کے ہاتھوں کی میرے جسم پر گرفت بھی مضبوط ہورہی تھی پھر میں نے اس کو اٹھا کر بٹھایا اور اس کی قمیص اتارنے لگا

پھر اس کی قمیص اور بریزیئر اتار دیاس کے نپلز پر کسنگ کرنے لگا اس نے میرے بالوں کو پکڑ رکھا تھا جب اس کا مزہ بڑھ گیا تو میرے بال نوچنے لگی میں اس کی شلوار اتارنے لگا میں نے دیکھا چھوٹی سی پھدی پر چھوٹے چھوٹے بال آئے ہوئے تھے میں نے اپنے ہاتھ کی پوری ہتھیلی سے اس کی پھدی کو ڈھانپ دیا اور اس کو آہستہ آہست سے دبانا شروع کردیا اب اس کے منہ سے اس س س س س س س س ‘ ام م م م م م ف ف ف ف ف ف ف ف ف ف ف کی آواز نکل رہی تھی میں نے اس کی رانوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا تو اس نے میری بازو زور سے پکڑ لئے تھوڑی دیر کے میں نے بھی کپڑے اتار دئےے اب میں نے اس کی دوبارہ کسنگ شروع کردی پہلے ہونٹوں پھر کانوں پھر گردن پھر مموں کے ارد گرد اور پھر نپلز کو چوسا اس کے بعد میں نے اس کے پیٹ پر اپنی زبان پھیرنا شروع کردی جب اس کی ناف کے ارد گرد میری زبان چلنے لگی تو وہ سمٹ گئی اور میری ساتھ چمٹ کر کہنے لگی ش ش ش ش ش اب بس کرو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا لیکن میں نے اپنا کام جاری رکھا جب اس کی رانوں پر اپنی زبان پھیرنا شروع کی تو اس نے مستی سے اپنی گردن ادھر ادھر مارنا شروع کردی اب میں نے اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان میں آگیا اور اس کی پھدی کا جائزہ لینے لگا جو مجھے صاف نظر آرہی تھی ننھی منی پھدی سے پانی نکل رہا تھا میں نے اپنا لن اس کے اوپر رگڑنا شروع کیا تو وہ شدت مستی سے چلانے لگی ش ش ش ش ش ش ش ش ناں کرو اب بس کرو اس کے ساتھ اس کے ہاتھ میری کمر پر سخت سے سخت ہوتے جارہے تھے تھوڑی دیر کے بعد وہ مکمل ہوگئی اور مجھ سے کہنے لگی کہ اب بس بھی کرو میں اس کو تھوڑا سا ریسٹ دینے کے لئے اس کے اوپر ہی لیٹ گیا تو کہنے لگی شارق تم کتنے اچھے ہو کیا ہمیشہ اسی طرح مجھ سے پیار کرتے رہو گے میں نے اثبات میں سر ہلایا تو مجھے چومنے لگی میں بھی اس کا ساتھ دے رہا تھا میرے پہلے سے کھڑے ہوئے لن میں مزید سختی آگئی تھوڑی دیر کے بعد وہ دوبارہ گرم ہوگئی میں اس کی ٹانگوں کے درمیان آگیا اور اپنا لن اس کی پھدی پر دوبارہ رگڑا جب پانی نکلنے سے پوری طرح گیلی ہوگئی تو میں نے اس کو اندر کرنے کے لئے تھوڑا سا زور لگایا تو وہ درد سے چلانے لگی ن ن نہیں میں نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے اور تھوڑا سا مزید زور لگایا مگر میرا آٹھ انچ کا لن اس کی ننھی سی پھدی کے سامنے بالکل بے بس نظر آرہا تھا میں نے اس کی چیخوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کو ایک جھٹکا مارا تو میرا ٹوپا اس کے اندر گھس گیا اس نے میرے ہونٹ اپنے ہونٹوں سے ہٹائے اور زور زور سے چلاتے ہوئے کہنے لگی مر گئی ی ی ی ی ی ی ی میں نے اس کو کہا کہ آہستہ تو کہنے لگی مجھے نہیں پتا اس کو باہر نکالو وہ میری کوئی بھی بات سننے کو تیار ہی نہیں تھی میں نے مزید زور نہ لگایا اور اس کے اوپر ہی لیٹ گیا تھوڑی دیر کے بعد اس کا درد کم ہوا تو میں نے اٹھ کر ایک اور زور دار جھٹکا مار دیا جس سے میرا آدھے سے زیادہ لن اس کی چوت کے اندر چلا گیا اب کی بار اس کے منہ سے نکلنے والی چیخیں شائد پہلے سے زیادہ اونچی آواز میں ہوتی اگر میں اس کے منہ پر اپنا ہاتھ نہ رکھ لیتا وہ درد کی وجہ سے بے حال ہوئے جارہی تھی میں ایک بار پھر اس کے اوپر لیٹ گیا اور تھوڑی دیر کے بعد اٹھ کر ایک اور جھٹکا دے مارا جس کے ساتھ ہی اس کے منہ سے اوووووووووووں کی آواز اور آنکھوں سے آنسو نکل آئے اب میں نے اپنے لن کو آہستہ آہست سے اندر باہر کرنا شروع کردیا اور تقریباً پندرہ منٹ میں فارغ ہوگیا جب میرا لن لاوا اگلنے لگا تو میں نے اسے باہر نکال لیا

اورروزی
کے پیٹ پر لاوہ پھینک دیا چدائی کے دوران تمام وقت درد سے بے حال رہی جب میرا لن اس کی پھدی سے نکلا تو اس کو سکون ملا
اب میں تھوڑی دیر ایسے ہی اس کے ساتھ لیٹا رہا ہم اب باتیں کرتے رہے میں نے اسے بتایا مجھے اس سے کام ہے اور سری تفصیل اسے بتا دی وو کہنے لگی شارق وو لڑکی جس کا قتل ہوا ہے میں اس کے برے میں صاب جانتیھاؤں اسے جمیل نے ہی مرا ہے مجھے میرے بھائی ٹونی نے بتایا تھا اس رات وو بوھت ڈرا ہوا تھا اس نے میرے پوچنے پے سری بات مجھے بتا دی تھی میں دل ہی دل میں خوش ہوا کے چلو اتففاق سے ہی میری روزی سے دوستی ہو گی اس نے بتایا وو قمیص اور چھری راحیل کی نہیں ہے وو قمیض ٹونی نے ہی راحیل کی چاٹ پے پھینکی تھی اور چھری بھی میں نے اب پھر اسسے چومتے ہوے کہا جانو تم نے میرا پہلا کیس حل کر دیا اور یہ کہ کر اسسے دوبارہ سے چومنے لگا اب ہم نے دوبارہ سے وو کھیل سٹارٹ کر دیا تھا

اس کے بعد میں نے اس کے ساتھ کھیل شروع کردیا جس میں وہ میرے ساتھ برابر کا ساتھ دے رہی تھی جبکہ کئی موقعوں پر تو وہ مجھ سے بھی آگے نکل گئی جب وہ مکمل طورپر تیار ہوگئی تو میں نے اس کی ٹانگوں کو اوپر اٹھا کر جب جھٹکا دے کر لن کو اندر کیا تو اس کے منہ سے اوی ی ی ی ی ی آہستہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ کی آواز نکلی میں نے اپنا پورا لن اس کے اندر کردیا اور اس کے اوپر لیٹ گیا پھر اس سے پوچھا کہ اب تو تکلیف نہیں ہورہی تو کہنے لگی ہوئی ہے مگر کم مگر تم آہستہ کرنا میں نے کہا کہ ٹھیک ہے اور اپنے لن کو اندر باہر شروع کردیا اب اس کے منہ سے آوازیں نکل رہی تھیں مگر یہ آوازیں تکلیف کی نہیں بلکہ مزے کی تھی وہ ام م م م م م م م م م م س س س س س س س س س س ف ف ف ف ف ف ف ف کررہی تھی وہ میرا بھر پور ساتھ دے رہی تھی جب میرا لن اس کے اندر پورا جاتا تو مجھے محسوس ہوتا کہ اندر کسی چیز کے ساتھ ٹکرارہا ہے جب وہ باہر آتا تو میں پھر جھٹکا دے کر اس کے اندر کردیتا میری کمر سے پکڑ کر مجھے مزید آگے کرنے کی کوشش کرتی مجھے محسوس ہورہا تھا کہروزی کا دل کرتا ہے کہ میں مزید تھوڑا سا اور اندر کردوں جب میں جھٹکا دیتا تو میرے ٹٹے اس کی گانڈ کے ساتھ ٹکراتے تھے پانچ منٹ کی چدائی کے بعد وہ چھوٹ گئی اس وقت اس کی پھدی کی میرے لن پر پکڑ سخت ہوگئی اور پھر آہستہ اور پھر تیز اور پھر آہستہ جب وہ چھوٹ رہی تھی تو اس نے اپنے ناخن میری کمر میں گاڑ دیئے اور ف ف ف ف ف ف ف ف ف ف ف کرکے رہ گئی اس نے مجھے پکڑ کر اپنے اوپر لٹا لیا جبکہ میں ابھی فارغ نہیں ہوا تھا میں نے دوبارہ اپنے لن کو اندر باہر کرنے کی کوشش کی تو اس نے مجھے اشارہ کرکے روک دیا اور لمبے لمبے سانس لینے لگی میرا لن اس کی پھدی میں ہی رہا تھوڑی دیر کے بعد میں نے خود کو اس سے چھڑایا اور پھر سے گھسے مارنے شروع کردیئے اب کی بار بھی وہ تقریباً پانچ منٹ بعد فارغ ہوگئی اور مجھے روکنا چاہا مگر میں نہ رکا اور مسلسل بیس منٹ تک جھٹکے مارتا رہا اس دوران وہ مزید 2 بار چھوٹی جس سے صوفے پر ہی اس کا پانی گرا اور صوفہ گیلا ہوگیا جبکہ اس کی پھدی بھی بری طرح گیلی ہو گئی تھی اب میرے جھٹکوں سے تھپ تھپ کی آوازیں آرہی تھیں جبکہ اس کے علاوہ اس کے منہ سے نکلنے والی سکیسی آوازیں بھی آرہی تھی جس سے کمرے کا ماحول مزید سیکسی ہورہا تھا جب بھی میں تیزی سے جھٹکا مارنے کی کوشش کرتا تو کہتی شارق پلیز آہستہ مجھے بھی مزہ لینے دو 20 منٹ کے بعد میں چھوٹنے والا ہوگیا میں نے اپنا لن اس کے اندر سے نکالا اور پاس پڑی اس کی پھٹی قمیص پکڑ کر اس کو لن پر رکھ کر فارغ ہوگیا فارغ ہونے کے بعد میں دوسری طرف ہوکر لیٹ گیا اور وہ میری پہلو میں آکر لیٹ گئی اس نے میری ایک بازو اپنے سر کے نیچے رکھ لی اور میرے سینے کے بالوں سے کھیلنے لگی جبکہ میں اس اس کے نپلز کو پکڑ کر ان کو کبھی دبا دیتا اور کبھی ان کو مروڑتا بیس منٹ کے بعد میرا لن دوبارہ تناﺅ میں آنا شروع ہوگیا تو میں نے اس سے کہا کہ ایک بار پھر ہوجائے تو کہنے لگی نہیں اب بس مزید کچھ نہیں کرنا جو کرلیا اسی کے مزے میں رہنے دو کہیں یہ مزہ بھی نہ جاتا رہے اس کے بعد وہ اٹھ کر باتھ روم چلی گئی

میں نے بھی بعد میں اپنے جسم کو صاف کیا اور روزی سے کہا مجھے تمہارے بھائی کی ہیلپ کی ضرورت پرے گی وو بولی وو کبھی نہیں ہیلپ کرے گا وو جمیل کا سایہ بنا ہوا ہے میں نے اب اسے کہا کوئی بات نہیں پھر کچھ دیر بعد میں اس سےاجازت لے کر باہر آیا اور کچھ سوچ کر دوبارہ سے تھانے کی طرف چال دیا وہاں آج ایک ایس .ای سے میری ملاقات ہوئی میں نے اس سے کہا مجھے باتیں راحیل عباسی کا کیس کس کے پاس ہے وو بولا میرے ہی پاس ہے اس کا نام وقاص تھا وو ایک سب انسپکٹر تھا میں نے اسے اپنا بتایا وو بولا شارق صاحب میں آپ کو جانتا ہوں آپ حکم کریں میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں ابمیں نے اسے کہا یار مجھے اس کیس کا بتاؤ وو مجھے خاص خاص نکتے بتانے لگا اب میں نے اسے کہا کیا تم میری مدد کرو گے اس لڑکے کی بیگناہی ثابت کرنے ک لئے وو بولا سر اس میں برے برے لوگ ملوث ہیں میں مرا جاؤں گا ،میں سمجھ گیا یہ کچھ نہیں کرے گا اب میں ایس ایچ او کے کمرے کی طرف گیا تو وہاں آج ایک خشک چہرے والا ایک انسپکٹر بیٹھا تھا میں نے اس سے ایس ایچ او کا پوچھا وو کہنے وو آج چھٹی پے ہے مجے یہ بندہ کچھ کام کا لگا میں نے کہا مجھے ایک ہیلپ کی ضرورت ہے اور سری تفصیل اسے بتا دی ساتھ میں اپنا تعارف بھی کروا دیا وو بولا ہمیں لوگ غالب کہتے ہیں اگر آپ کا بندہ بیگناہ ہے تو میں اس کے لئے سب کر جاؤں گا شارق صاحب پھر ہم نے اسی دیں ٹونی کو ایک جگہ سے پکڑا

اور غالب نے اسے کچھ دیر ہی پولیس والی مخصوس چھترول کی تو وو سب ماں گیا اب میں اس کے سامنے گیا وو بولا دیکھو آپ کو نہیں پتا جمیل کے بوھت برے برے افسروں سے تعلق ہیں وو آپ کو معطل کروا دے گا میں اس کا خاص آدمی ہوں اب میں نے غالب سے کہا ذرا باہر جو یار آپ اور ٹونی سے کہا تم مجھے سب صاف بتاؤ دو میں خود ہی دیکھ لوں گا جمیل ک تعلق کو وو بولا آپ کوکس نے بٹے تھا میں جانتا ہوں اس کیس کے برے میں میں نے کہا اس کی بہنا روزی نے وو بولا آپ اسے کیسے جنتیھیں تو میں نے جب اسے ساری تفصیل بتائی وو مجھے گھسے سے دیکھ کر بولا دیکھو صاحب اگر یہ جھوٹ ہوا تمیں تم کو قتل کر دوں گا میں نے اسے اپنے ساتھ لیا اور اس کے گھر آ گیا جب روزی نے مجھے اس کے ساتھ دیکھا تو وو سمجھ گی میں نے کہا اسسے بتاؤ کے تم کو کیا بنا دیا ہے اس کے دوست نے اب روزی نے رو کر اسے بتایا وو اسے کیسے بلیکمیل کرتا ہے تو ٹونی ghusy سے کانپنے لگا اور کہا میں اس حرام زادے کو مار ڈالوں گا میں نے اسے سمجھایا کے اسے مار کے خود پھانسی چڑھ جو گے تم ایسا مت کرو بس مجھے ساری بات تفصیل سے بتا دو


پھر میں نے راحیل کے وکیل فاروقی صاحب سے رابطہ کیا وو ایک بزرگ وکیل تھے جنہوں نے ترس کھا کر تھورے سے پیسوں میں ہی راحیل کا کیس لے لیا تھا میں اپنے بھائی کے بارے میں جان گیا تھا وو ایک زہین ترین وکیل تھے اور کام ہی وکیل ان کے آگے تک پاتے میں نے فاروقی صاحب سے کہا میں ایک دفع راحیل سے ملنا چاہتا ہوں وو مجھے لے کر جیل گے اور راحیل سے ملوایا وو ایک خوش شکل نوجوان تھا اسے دیکھ کر مجھے اور بھی یقین ہو گیا کے وو قتل نہیں کر سکتا اس نے مجھے بتایا ندرت اس کے ساتھ اگلے مہینے شادی کرنے والی تھی اس نے ایاز صاحب کو بھی بتا دیا تھا جو یہ سن کے ناراض ہوے تھے پر ندرت نے کہا یہ میری مرضی ہے آپ کچھ نہ بولیں پھر ہم جیل سے واپس آگے میں پروقی صاحب کے ساتھ ہی ان کے گھر میں گیا جہاں ایک بیٹھک میں بیٹھ کر وو اپنا کام کرتے تھے میں نے کہا فاروقی صاحب ایک میز میرے لئے بھی یہاں ہی لگا لیں میں آپ کے ساتھ پراکٹس کرنا چاہتا ہوں ووبولے بیٹا آپ اتنے بارے وکیل کے بھائی ھو یہ میں کیا سن رہا ہوں میں نے کہا
فاروقی صاحب وو بس میرا دل کرتا ہے آپ کے ساتھ بیٹھوں وو بولے جیسے آپ کہو بیٹا اب میں نے ان سے کہا آپ تیاری کر لیں ہم نے اس تاریخ پے ہی ضمانت کروانی ہے راحیل کی وو بولے کیسے ہو گا یہ سب میں نے کہا آپ بےفکر ہو جایئں پھر میں اپنے گھر آ گیا ابرات کے کھانے کے بعد نصرت بھائی مجھے اپنے ساتھ لے گے اپنے کمرے میں اور کہا تم راحیل عباسی کی فیملی سے ملی ھو میں نے کہا جی بھائی وو بولے کیوں میں نے کہا اس لئے کے راحیل بیگناہ ہے اور میں اسے بچانا چاہتا ہوں وو ہنس دیے اور کہا یہ کوئی بچوں کا کھیل تھوڑا ہی ہے پھر مجھے بھائی امجد جو کے جج ہیں ان کے پاس لے گے اور کہا ان کو بتائیں بھائی صاب کیا راحیل بچ سکتا ہے ،امجد بھائی نے کہا شارق سرے ثبوت اس کے خلاف ہیں میں نے کہا بھائی جان وو ثبوت جھوتے ہیں وو بولے یار یہ پولیس کا کام ہے تفتیش کرنا ہمارا نہیں ان کی بات سن کے میں نے کہا واہ کیا بات کہی آپ نے اگر کوئی وکیل بھی تفتیش کر لیا کرے تو کمال ہی ہو جاتے گا وو مجھے عجیب سی نظر سے دیکھنے لگے اور کہا تم کہنا کیا چاہتے ہو میں نے کہا بھائی میں راحیل کا کیس لڑنا چاہتا ہوں تو نصرت بھائی نے کہا بچے ابھی تم کو بار کی طرف سے لائسنس بھی ملا میں نے کہا بھائی آپ پلیز میری خاطر ہی یہ کیس چھوڑ دن وو بولے تم نہ سمجھ ہو ابھی جو سو جاؤ میں نے کہا ٹھیک ہے بھائی اب میں پھر فاروقی صاحب کے ساتھ پرکٹس کروں گا وو طنزیہ لہجے میں بولے وو بیچارہ تو میرے سامنے بولنے کی ہمت نہیں کرتا کورٹ میں وو کیا یہ کیس لڑے گا میںنے کہا ٹھیک ہے اب آپ سے بھائی جان کورٹ میں ہی ملاقات ھو گی

jaari hai

Share this post


Link to post
Share on other sites
jutt sahib ap nay ye kehani dosray forum main bahi lakhi di ha?

انتظامیہ اس بات سے بخوبی واقف ہے۔لہذا اس پر بات کرنے کی ضرورت نہیں۔جو ممبر صرف اردو فن کلب کے لیئے لکھتا ہے۔اسے انتظامیہ خصوصی رینک اور ایکسٹرا پوائنٹ سے نوازتی ہے۔شکریہ

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×
×
  • Create New...