Jump to content
URDU FUN CLUB
Last Chance ! Private Cloud Activation Last Date 15-11-2020 After Last Date Not include Previous Purchase in your Private Cloud
Sign in to follow this  
irfan1397

گشتی + شرمندگی

Recommended Posts


 نوید پچیس سال کا ایک بھرپور جوان لڑکا تھا ، چھ فٹ کے قریب قد ، رنگ گورا ، چوڑی چھاتی  اور  دیکھنے میں بہت خوبصورت تھا - لڑکیاں پہلی نظر میں ہی اس پر فدا ہونے کو تیار ہو جاتی تھیں لیکن وہ خود بہت شرمیلا تھا اسلئے آج تک وہ کسی کنواری چوت سے مستفید نہیں ہو سکا تھا - نوید بچپن میں ہی بری صحبت کا شکار ہو گیا تھا  اور بری صحبت نے اس پر خوب رنگ جمایا تھا  ،  رنڈی بازی کا بہت شوقین تھا وہ اپنے شہر کے سارے کوٹھوں سے واقف تھا، اس کی سارے دوست عیاش طبعیت کے مالک تھے اسلئے وہ خود بھی عیاشی کا دلدادہ  تھا،  لیکن گھر میں اس کا امیج بہت اچھا تھا کیونکہ وہ سارے پنگے دن کو ہی  نمٹاٹا تھا اور رات کو جلد ہی گھر آ جاتا تھا  - بکرا عید قریب آ رہی تھی اس کا والد بہت مصروف تھا اور اس کے پاس قربانی کا جانور لینے کے لئے بھی وقت نہیں تھا اس لئے اس نے نوید کو پچیس ہزار دئیے کہ بیٹا بکرا منڈی سے قربانی کے لئے بکرا لیتے آنا -
نوید نے سعادت مندی سے سر ہلایا اور پیسے پکڑ لئیے -
دوپہر ایک بجے کے قریب گھر سے بکرا لینے کی غرض سے نکلا تو راستے میں اسے راشد مل گیا - یہ راشد ہی تھا جس نے نوید کو رنڈی بازی کی طرف مائل کیا تھا ،نوید راشد سے : ابے سالے کہاں سے آ رہا ھے ؟
ریشم بائی کے کوٹھے کے پاس سے گزر رہا تھا تو ھیلو ہائے کے لئے اندر چلا گیا ، وہاں تو اک پری چہرہ دیکھ کر دنگ ہی رہ گیا ، کیا زبردست پٹاخہ لڑکی ھے ، گورا رنگ ، لمبا قد اور چھاتی ! . . . چھاتی تو قیامت ھے قیامت ،  دیکھ کر لن میں ہلچل ہونے لگی تھی ، راشد نے نوید کو بتایا تو نوید کے منہ میں بھی پانی بھر آیا -
یار پھر تم نے اس کی پھدی لی ؟ نوید نے راشد سے پوچھا -
یار وہ  مزے لے لے کر چودنے والی چیز ھے ، چار پانچ گھنٹے کے لئے  اسے بک کر کے چودوں گا ابھی میرے پاس پندرہ سو تھے پانچ گھنٹے کے دس ہزار لیتی ھے  راشد نے نوید کو بتایا تو نوید کے لن نے بھی انگڑائی لی اور ان دیکھی حسینہ کی چوت  لینے کا ارادہ بنا لیا -
یار راشد اس وقت میرے پاس پچیس ہزار ہیں لیکن میں بکرا خریدنے جا رہا ھوں لیکن تم نے جتنی تعریفیں کی ہیں تو میرا دل کر رہا ھے بکرے کی جگہ اس حسینہ کی چوت لے لوں -     
      نوید نے کہا تو راشد نے کہا چل یار ابھی چلتے ہیں اس کے پاس صبر مجھ سے بھی نہیں ہو رہا  ، دس ہزار تم مجھ سے کل لے لینا اور بکرا بھی کل لے لینا،  نوید نے بھی اپنی رضامندی دے دی  اور وہ دونوں ریشم بائی کے کوٹھے /اڈے کی طرف چل دئیے -
راشد اور نوید ریشم بائی  کے کوٹھے میں داخل ہوئے تو سامنے تین چار لڑکیاں بیٹھی تھیں ، نوید ان سب سے واقف تھا اور ان سے سیکس بھی کیا ہوا تھا ، تھیں تو  وہ بھی اچھی شکل صورت کیں لیکن ان کے انداز و اطوار گشتیوں جیسے تھے ، مطلب چہرے کے تاثرات میں مصنوعی پن تھا جسے دیکھ کر ہی پتا چل جاتا ھے کہ یہ گشتیاں ہیں  - نوید نے راشد کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا کہ کہاں ھے وہ لڑکی جس کی تعریف میں تم زمین آسمان کے قلابے ملا رہے تھے ؟
راشد نے وہاں بیٹھی ہوئی ایک گشتی سے پوچھا جو نئی لڑکی ادھر آئی ھے وہ کہاں ھے ؟
گشتی مسکراتے ہوئے: لگتا ھے دل میں اتر گئی ھے نیلم ؟ وہ واش روم میں ھے ابھی آتی ھے - اسی اثنا میں ریشم بائی بھی ایک کمرے سے نکل کر آتی ھے اور نوید کو دیکھ کر کہتی ھے ، " سوھنیو  بہت عرصے بعد ادھر کا چکر لگایا ھے آج " -
بس جی آنے کا وقت ہی نہیں ملا ، نوید نےکہا تو راشد درمیان میں بول پڑا، آج بھی میں ہی اسے لے کر آیا ھوں ، نئی لڑکی دیکھ کر صبر نہیں ھو رہا تھا -ریشم بائی: نیلم ھے ہی ایسی جو اسے دیکھ لے رات اسے نیند ہی نہیں آتی - نیلم کے آگے تو پریاں بھی پانی بھرتی نظر آئیں -
ریشم بائی نئی آنے والی لڑکی کی تعریفوں کے پل باندھ رہی تھی کہ اسی اثنا میں نیلم ایک طرف سے آتی دیکھائی دی جسے دیکھ کر نوید کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی - معصوم شکل ، گورا رنگ ، اونچا قد ، جسم کے نصیب و فراز غضب ڈھا رہے تھے ، اونچی چھاتیاں ، نیلم قیامت تھی  قیامت ! راشد اور ریشم بائی کی تعریف سے بڑھ کر حسین تھی نیلم -
نیلم کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ  اس کے چہرے پر گشتیوں والی کوئی بات نہ تھی اس کے چہرے پر کسی قسم کا کوئی میک اپ نہیں تھا حتی کہ ہونٹوں پر لپ سٹک بھی نہیں تھی اور  وہ ایک مکمل گھریلو لڑکی نظر آ رہی تھی  اور نوید کے دل میں اس کی خوبصورتی اور سادگی گھر کر گئی -
اس نے دونوں سے ایک مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ ملایا اور ایک طرف جا کر بیٹھ گئی -
راشد نے ریشم بائی سے کہا کہ ہم نیلم کے ساتھ بیٹھنا چاہتے ہیں تو اس نے کہا ایک ٹائم کا پندرہ سو اور نائٹ کا پچیس ہزار -
راشد نے کہا کہ ہم اسے چار پانچ گھنٹوں کے لئے لے جانا چاہتے ہیں ،

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

اردو فن کلب کے پریمیم ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔ سینکڑوں صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے پریمیم کلب میں شامل کر دی گئی ہے۔


 راشد اس سے پہلے بھی نائٹ پروگرام کے لئے ریشم بائی سے لڑکیاں لے جا چکا تھا اور ریشم کو اس پر مکمل اعتماد تھا اسلئے اس نے ساتھ بھیجنے میں کوئی تامل نہ کیا اور راشد سے کہا پانچ گھنٹوں کے پندرہ ہزار روپے ہونگے -
راشد نے کہا ریشم جان اب تم مجھ سے بھی بھاؤ تاؤ کرو گئی ، میں نے آج تک کسی لڑکی کو اس کی خوبصورتی سے کم پیسے نہیں دئیے ، اس کے فائنل میں دس ہزار دوں گا اور شام سات بجے سے پہلے واپس گھر پہنچا بھی دوں گا - ریشم بائی اور راشد کے درمیان بات بارہ ہزار میں طے پا گئی اور راشد اور نوید اسے راشد کے ایک خالی مکان میں لے گئے -
راشد اور نوید دونوں کو ہی نیلم بہت پسند آئی تھی اسلئے دونوں پہلے نیلم سے سیکس کرنا چاہتے تھے- اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ دونوں پہلے سیکس کرنے پر باضد ہو جائیں اس بار  دونوں ہی تنگ دلی کا مظاہرہ کر رہے تھے نیلم  پر دونوں میں سے کوئی بھی کمپرو مائز کرنے کو تیار نہیں تھا ،  نیلم اس دوران ان دونوں کی طرف دلچسپی سے دیکھ رہی تھی اور مسکرا رہی تھی ، جب کافی دیر کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تو نیلم کہنے لگی ، آپ دونوں اگر اسی طرح بحث کرتے رہے تو کوئی بھی مجھ سے سیکس نہیں کرسکے گا کیونکہ وقت ایسے بحث میں ہی گزر جائے گا ، آپ دونوں ٹاس کیوں نہیں کر لیتے ؟ نیلم کی تجویز پر وہ دونوں ٹاس کے ذریعے فیصلہ کرنے پر رضامند ہو گئے ،  
ٹاس ہوا اور نوید جیت گیا ، دونوں میں طے یہ پایا کہ ساڑھے چار بجے تک نوید سیکس کرے گا اور پھر سات بجے تک راشد ، راشد بعد میں نیلم کو ریشم بائی کے پاس چھوڑ آئے گا - نوید نیلم کے ساتھ ایک کمرے میں چلا گیا جبکہ راشد دوسرے کمرے میں جا کر  ٹی وی دیکھنے لگا -
نوید اور نیلم کمرے میں جا کر بیڈ پر بیٹھ گئے ، نوید نے نیلم سے پوچھا کہاں کی رہنے والی ہو تو اس نے کہا  فیصل آباد کی ،
آج سے میں فیصل آباد کے حسن کا قائل ہو گیا ھوں بہت حسین ہو تم ، تم سے ملاقات زندگی بھر نہیں بھلا پاؤں گا کیونکہ ایسا حسن میں نے آج تک نہیں دیکھا نوید نے کہا تو نیلم نے کہا اب ایسی بھی بات نہیں - نوید : ایسی ہی بات ھے اور یہ کہتے ہوئے اسے اپنی بانہوں میں لے لیا اور نیلم کو  اپنے سینے سے لگا لیا ،نیلم کی چھاتیاں نوید کے سینے سے لگی تو اس کے سینے میں سرور کی ایک لہر دوڑ گئی اور اس نے بے اختیار نیلم کو اپنے سینے  میں مزید بھینچ لیا اور اپنے ہونٹ نیلم کے گلاب کی پنکھڑیوں جیسے نرم اور سرخ ہونٹوں سے ملا دئیے اور انھیں بیتابی سے چومنے اور چوسنے لگا ، نوید کی بیتابی دیکھ کر نیلم نے بھی بھرپور رسپانس دینا شروع کر دیا اور اس نے اپنی زبان نوید کی منہ میں گھمانا شروع کر دی نیلم اپنی زبان اس کے منہ میں کر کے واپس کھینچ لیتی اور نوید کی زبان اس کا تعاقب کرتے ہوئے نیلم کے منہ میں چلی آتی ، دونوں ہی ایکدوسرے کی زبان اور ہونٹ چوس رہے تھے ، چاٹ رہے تھے اور چوم رہے تھے - نوید کو ایسے لگ رہا تھا کہ وہ پہلی بار کسی لڑکی سے کسنگ کر رہا ھے اس سے پہلے اتنا بھرپور ساتھ کسنگ میں کسی گشتی نے نہیں دیا تھا ، نوید کے لئے یہ مزا نیا اور انوکھا تھا ، نوید نے چومتے چومتے نیلم کو بیڈ پر لٹا لیا اور اس کے اوپر آ کر اسے چومنے لگا ، اس کے گالوں ، ہونٹوں اور گردن کو بڑی بے صبری  سے چوم اور چاٹ رہا تھا اور جب نیلم کی گردن کو  نوید کے ہونٹ چھوتے تو نیلم کے منہ سے ایک لذت بھری سیکسی سی سسکاری نکلتی جس کی آواز نوید کے جوش کو مزید بھڑکا دیتیاور وہ مزید جوش سے دیوانہ وار نیلم کو چومنا شروع کر دیتا ، اس دوران نوید کا لن کھڑا ہو چکا تھا اور تھوڑا تھوڑا پانی نیلم کی چوت بھی چھوڑنا شروع ہو گئی تھی ، نوید نے نیلم کی قمیض اوپر کی تو نیلم نے اسے اتار ہی دیا ، کیا دودھیا سفید جسم تھا اور اس پر کالی برا بہت زبردست منظر تھا - بھرپور جاندار چھاتیاں کالے برا میں قید تھیں جسے نوید نے فوری قید سے رہائی دلوا دی ، کھڑی پنک نپلز  دیکھ کر نوید سے صبر بالکل بھی نہیں ہو سکا اور اس نے انہیں اپنے ہاتھوں کے پیالوں میں تھام لیا اور سہلانا شروع کر دیا ، نوید جیسے جیسے اس کی چھاتیاں سہلا رہا تھا نیلم کے جسم میں مستی کی لہریں گردش کرنا شروع ہو گئی تھیں اور اس کی سانسیں تیز ہو گئیں ، نوید نے نیلم کی نپل جیسے ہی منہ میں لی تو اس کے منہ سے لذت بھری سسکاری نکلی ، نوید نے اس کی چھاتی پر زبان پھیرنا شروع کر دی اور کبھی دانتوں سے دباتا جس سے نیلم کو بھی بہت مزا آرہا تھا - نوید کا لن اب مکمل تناؤ کی حالت میں آ چکا تھا ، اب اس سے مزید صبر نہیں ہو رہا تھا ، اس نے نیلم کی شلوار پر ہاتھ ڈالا اور اسے اتار دیا ، نیلم کی گوشت سے بھرپور پھولے ہوئے لپس والی پھدی نوید کے سامنے تھی ،

 

Share this post


Link to post
Share on other sites


نوید جب سے جوان ہوا تھا وہ گشتیوں/رنڈیوں کو ہی چودتا آیا تھا لیکن نیلم اس کی زندگی میں آنے والی پہلی گشتی تھی جس میں گشتیوں والی کوئی بات نہیں تھی ،   نیلم کی پھدی گھریلو لڑکیوں کی طرح تھی ، پھولی ہوئی اور لپس آپس میں جڑے ہوئے ، نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے نیلم کی چوت پر بے اختیار کس (kiss) کر دی ، اس سے پہلے کہ نوید اپنی زبان اس کی چوت میں کرتا کہ نیلم نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے کا چہرہ اپنی پھدی سے پرے کر دیا ، نوید نے سوالیہ نظروں سے نیلم کی طرف دیکھا تو نیلم نے اس سے کہا ،
" آج بہت عرصے بعد کسی کی آنکھوں میں اپنے لئے چاہت دیکھی ھے ، تمہارا میری طرف والہانہ نظروں سے دیکھنا مجھے میرا ماض یاد دلا رہا ھے ، تم میں اپنائیٹ ھے تم دوسرے کسٹمزر کی طرح نہیں ہو ، میں تمہیں اپنی چوت نہیں چاٹنے دوں گی کیونکہ بہت سارے گھٹیا لوگوں کا گند اس میں آیا ھے اور  گند پہ ایک عاشق منہ مارے یہ اسے زیب نہیں دیتا اور نہ ہی مجھ سے یہ برداشت ہو گا " -
 پھدی سامنے تھی اور لن کھڑا تھا ، جذباتی باتیں وہ بھی ایک گشتی کے منہ سے نوید کو زیادہ متاثر نہ کر سکیں ، نوید صرف اس کی باتوں پہ مسکرا کے رہ گیا اور اس نے نیلم کی ٹانگیں کھولیں اور اپنا لن اس کی پھدی کے لپس کے درمیان ایڈجسٹ کیا اور اھستگی سے لن آگے کرنے لگا ، لن بنا کسی رکاوٹ کے چوت کی گہرائیوں میں اترنے لگا اور آہستہ آہستہ جڑ تک چوت میں اتر گیا ، نیلم کی چوت بھی عام گشتیوں کی طرح تھی جس میں لن آسانی سے  چلا جاتا ھے ، اوپر سے مس ورلڈ اور نیچے سے گاؤں کی وہ لوفر لڑکی جس نے گاؤں کے ہر لڑکے کی جوانی میں اہم کردار ادا کیا ہو - فرق صرف یہ تھا کہ نیلم کی چوت گیلی تھی اور اس نے فورپلےforeplay انجوائے کیا تھا جو کہ عام گشتیاں نہیں کرتیں وہ سیکس کو ڈیوٹی سمجھ کر کرتی ہیں اسلئے دل سے نہیں کرتیں جبکہ نیلم تو مزے سے چدوا رہی تھی ، نوید نے لن اندر باہر کرنا شروع کر دیا ، اور اپنی سپیڈ آہستہ آہستہ بڑھانے لگا ، لن اب تیزی سے وادئ چوت کی سیر کرنے لگا اور نیلم کے منہ سے اس سیر کی نشانیاں آہ . . . . آہ . . . . . اں . . . . او . . . . آں . . . . . اہ . . . . . . آھ . . . .  ظاہر ہونے لگیں ، جنھیں سن کر نوید کا لن اور تیزی سے  بھاگنے لگا اور اس کی تیزی کے ساتھ ساتھ نیلم کے منہ سے نکلنے والی لذت سے بھرپور  سسکاریاں بھی  بلند ہونے لگیں ،سامنے سے کرنے سے پھدی کھلی ہوئی محسوس ہوتی ھے اور پیچھے سے تھوڑا پھنس کر جاتا ھے شاید یہ سٹائل کا اثر ہوتا ھے نوید کو پہلے بھی اس چیز کا احساس تھا اس لئے وہ کھلے پھدے والی گشتیوں پر ڈوگی سٹائل ضرور آزماتا تھا ،  نوید نیلم کے کولہوں کو مضبوطی سے تھامے ہوئے اس کی پھدی میں زوردار جھٹکوں سے لن اندر باہر کر رہا تھا ، لن اور گانڈ کے ٹکرانے سے ٹھک ٹھک کی آوازیں پیدا ہو رہیں تھیں ساتھ ہی نیلم کے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں ، لن تیزی سے نیلم کی چوت کے اندر باہر ہو رہا تھا اور دونوں گناہ اور مزے کی داستان رقم کر رہے تھے ، نوید کو تو مزا آ ہی رہا تھا لیکن نوید کے جاندار جھٹکے نیلم کو بھی مزا دے رہے تھے اسلئے جب نوید اپنا لن ایک جھٹکے سے اندر کرتا تو نیلم اپنی گانڈ سے پیچھے کو جھٹکا لگاتی تھی اسطرح لن پھدی میں ایک زوردار سٹ مارتا تھا جس سے نیلم مزے کی اتھا گہرائیوں میں ڈوب جاتی - یہ کھیل چند منٹ مزید جاری رہا اور نیلم مزے کی تاب نہ لاتے ہوئے ڈسچادج ہو گئی اور پھر کچھ جھٹکوں کے بعد نوید بھی ڈسچادج ہو گیا ، یہ ایک بھرپور اور مزے دار چدائی تھی جس کو نوید اور نیلم دونوں نے بھرپور انجوائے کیا تھا

Share this post


Link to post
Share on other sites

story ka 1st. part ap ne read kia . ap k comments se pata chaly ga k story read ker k ap ko maza b aya k nahi ?

dear administration 3 stories ka wada tha to os silsily ki pehli story hazir hai . kaisi lagi batayie ga zaroor

Share this post


Link to post
Share on other sites

Story achi hey please continue or koshish karen key timely update ho jaey. Thanks for sharing

Share this post


Link to post
Share on other sites
آپڈیٹ جلدی کرنا

update daily ho ge aur 3 updates mein kahani makamal .

mst tari g , ap ne kahani per comments ni kiye ?

Share this post


Link to post
Share on other sites


 کہانی کافی انٹرسٹنگ ہے۔اپڈیٹ کا انتظار ہے۔امید ہے اسے مکمل بھی کیا جائے گا۔بہت بہت شکریہ کہ اسے آپ نے شیئر کیا ۔



Share this post


Link to post
Share on other sites
Ú©Ûانی کاÙÛŒ انٹرسٹنگ Ûے۔اپڈیٹ کا انتظار Ûے۔امید ÛÛ’ اسے مکمل بھی کیا جائے گا۔بÛت بÛت Ø´Ú©Ø±ÛŒÛ Ú©Û Ø§Ø³Û’ آپ Ù†Û’ شیئر کیا Û”

thanks for ur interest in story . aj rat update ho jaye ge .

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...